Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • فلسطین وکشمیر سمیت یمن ، لبنان اور افغانستان و عراق جیسے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جد وجہد ضروری ہے

    فلسطین وکشمیر سمیت یمن ، لبنان اور افغانستان و عراق جیسے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جد وجہد ضروری ہے

    فلسطین وکشمیر سمیت یمن ، لبنان اور افغانستان و عراق جیسے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جد وجہد ضروری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار تیرہ ممالک کے اراکین پارلیمنٹ بشمول پاکستان سے سینیٹر مشاہد حسین، روس سے سرگئی بابورین، ایران سے امیر حسین عبداللہیان، جنوبی افریقا سے نکوسی مینڈیلا، فلسطین سے ھدی نعیم ،ترکی سے حسن توران، ملائیشیا سے سید ابراھیم، عراق سے حامد عباس موسوی، افغانستان سے سینیٹر مولوی عبداللہ قرلق، لبنان سے سیف ابراہیم موسی، شام سے ڈاکٹر نضال عمار، بحرین سے سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر جلال فیروز اور یمن سے وزیر تعلیم یحیٰ بدرالدین الحوثی نے فلسطین فاءونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منگل اور بدھ کی درمیانی شب منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’عالمی صہیونزم کے مقابلہ میں عالمی مزاحمت کی تشکیل‘‘ سے ویڈیو لنک کے ذریعہ سے خطاب کیا ۔ کانفرنس کی میزبانی فلسطین فاءونڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹی جنرل صابر ابو مریم نے کی ۔ مقررین نے فلسطین فاءونڈیشن پاکستان کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کی عالمی آن لائن کانفرنس کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا حل ناگزیر ہے ۔
    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان مظلوم انسانیت کے ساتھ کھڑا ہے اورسر فہرست مظلوم فلسطینی اور کشمیری عوام کی حمایت ہے ۔ روس کے سابق رکن پارلیمنٹ اور صدارتی امید وار سرگئی بابورین نے کہا کہ اسرائیل نسل پرستی کا گڑھ اور خون چوسنے والی جونک ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قیام سے لے کر فلسطینیوں کی آزادی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عالمی صہیونزم اور صہیونی تحریک ہے ۔ ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ کے مشیر امیر حسین عبد اللہیان نے کہا کہ ایران فلسطین و کشمیر سمیت تمام مظلوموں کا حامی ہے ،عرب امارات اور اسرائیل تعلقات کا معاہدہ خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی امریکی سازش ہے ۔ شہدائے فلسطین وکشمیر اور شہید القدس جنرل قاسم سلیمانی کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گے ۔ ترکی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ فلسطین وکشمیر سمیت یمن اور عراق و شام جیسے مسائل پر اقوام متحدہ کی خاموشی ایک مجرمہ فعل ہے اور اقوام متحدہ اپنا کردار ادا نہیں کر رہی لہذا یہ ایک بے وقعت ادارہ ہے ۔ فلسطین سے حما س کی رکن پارلیمنٹ ھدیٰ نعیم کاکہنا تھا کہ فلسطینی اپنے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور کسی بھی عرب ملک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا فلسطینیوں کی خواہشات اور امنگوں کی عکاسی نہیں کرتا اور نہ ہی فلسطینی عوام کی جد وجہد کو روک سکتا ہے ۔ یمن سے انصار اللہ کے رکن پارلیمنٹ اور وزیر تعلیم یحیٰ بدر الدین حوثی نے کہا کہ فلسطین وکشمیر میں جاری ظلم اور بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔ ۔ ملائیشیا کے رکن پارلیمنٹ سید ابراہیم نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے حل کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ لبنان سے حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم موسوی کاکہنا تھا کہ فلسطین وکشمیر میں ظلم و ستم کو روکنے کے لئے تمام ممالک کے اراکین پارلیمنٹ بھرپور کردا ادا کریں ۔ حزب اللہ فلسطین وکشمیر سمیت دیگر مظلوم اقوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ ۔ عراقی حشد الشعبی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ حامد عباس موسوی کاکہنا تھا کہ فلسطینی عوام اور مسلمان اقوام کوعرب اور اسرائیل تعلقات اور قبلہ اول بیت المقدس پر اسرائیلی تسلط کے لئے امریکی سرپرستی میں نئی صہیونی لہر کا سامنا ہے ۔ بحرین کے سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر جلال فیروز نے کہا کہ بحرینی عوام اور اراکین پارلیمنٹ حکمرانوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خلاف ہیں ۔ افغانستان سے سینیٹر مولوی عبد اللہ قرلق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور کشمیر سمیت عراق اور یمن جیسے مسائل کو حل کرنے کے لئے امت مسلمہ کو متحد ہونا پڑے گا ۔ افغانستان مظلوم اقوام کی حمایت کرتا ہے ۔ جنوبی افریقہ کے انقلابی رہنما نیلسن مینڈیلا کے پوتے اوررکن پارلیمنٹ نکوسی مینڈیلاکاکہنا تھا فلسطین فاءونڈیشن پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ فلسطین، کشمیر، لبنان، یمن اور عراق سمیت جنوبی افریقا کے مسائل پر اہم کانفرنس کا انعقاد کیا ہے ۔
    کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ طور پر پیش کی جانے والی قرار داد میں دنیا بھر سے اراکین پارلیمنٹ کا فورم تشکیل دینے اور عالمی صہیونی سازشوں کو ناکام بنانے اور مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ جد وجہد جاری رکھنے کا عزم اور اتفاق کیا گیا ۔

  • کشمیر میں بھارتی ظلم کرفیو کا ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوا مگر حکومت کچھ نہ کر سکی۔ سینیٹر رحمان ملک

    کشمیر میں بھارتی ظلم کرفیو کا ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوا مگر حکومت کچھ نہ کر سکی۔ سینیٹر رحمان ملک

    اسلام آباد میں سینیٹ قائمہ کمیٹی کشمیر افئیرز و گلگت بلتستان کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سینیٹر رحمان ملک نے قرارداد پیش کی جسے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے متفقہ طور پر منظور

    کر لیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ کمیٹی مودی مظالم کی شدید مذمت اور کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور حکومت سے مودی کے مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان بین الاقوامی سطح پر ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ قرار داد میں کہا گیا کہ حکومت مودی کی کشمیر مخالف اقدامات کیخلاف اقوام متحدہ میں قرارداد لائے۔ سینیٹر راجہ ظفرالحق و دیگر ممبران نے سینیٹر رحمان ملک کی تجویز کی بھرپور تائید کی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت موثر انداز سے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کشمیر میں بھارتی ظلم کرفیو کا ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوا مگر حکومت کچھ نہ کر سکی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت اقوام متحدہ سے ایک بھی قرارداد منظور کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ اگر گیمبیا روہینگیا کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جاسکتاہے تو پاکستان کیوں نہیں؟حکومت گیمبیا کی طرح پاکستان بھی مودی کے مظالم کے خلاف عالمی عدالتوں میں جائے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم و وزیرخارجہ سے لیکر او آئی سی و اقوام متحدہ کو مودی کے خلاف کئی خطوط لکھے۔

  • چند روز قبل بھارتی فوج کی بربریت کا شکار ہونے والی خاتون شہید

    چند روز قبل بھارتی فوج کی بربریت کا شکار ہونے والی خاتون شہید

    آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر گوئی سیکٹر کے تتہ پانی علاقے میں چند روز قبل بھارتی فوج کی بربریت اورٹارگٹ فائرنگ کے نتیجہ میں زخمی ہونے والی شہری خاتون شکیلہ

    زوجہ محمد رفیق چوہدری آج صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کوٹلی ہسپتال آزاد کشمیر میں جام شہادت نوش کر گئی۔ مرحومہ کو آج آبائی گاؤں بٹالی گوئی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

  • مقبوضہ کشمیر میں زور دار اندرونی سیاسی تحریک کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، صدر آزاد کشمیر

    مقبوضہ کشمیر میں زور دار اندرونی سیاسی تحریک کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، صدر آزاد کشمیر

    آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں خوفناک جرائم اور آخری مرحلہ میں داخل ہونے والی نسل کشی کا شکار کشمیریوں کی طرف سے ایک زور دار عوامی تحریک کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ کشمیریوں کی اندرونی تحریک ہو سکتی ہے جس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام میں اب یہ احساس زور پکڑ رہا ہے کہ گُھٹ گُھٹ کر زندگی گزارنا شاہد اب ممکن نہیں رہا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ظلم سے لڑتے لڑتے جو اس دنیا سے چلے گئے وہ تو گئے لیکن جو زندہ ہیں وہ بھی زندہ درگور ہیں اور اب اُن کے لیے اپنی وطن کو دشمن کے قبضہ سے دوبارہ حاصل کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔افواج پاکستان کے مجلہ ہلال کے انگریزی ایڈیشنل میں چھپنے والے اپنے ایک خصوصی مضمون میں صدر سردار مسعود خان نے لکھا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں حالات کا رُخ موڑنے کے لیے اپنی صفوں کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو ایک بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے کثیر الجہتی عالمی فورمز کی بے حسی سے مایوس ہو کر بیٹھنے کے بجائے ان فورمز کے دروازوں پر دستک دینے کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھنا ہوگا جب تک وہ اپنے دروازے کھول کر ہماری بات سننے کے لیے تیار نہ ہو جائیں۔ ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر مسلسل زور دیتے رہنا چاہئے کہ وہ اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے حالات کو سازگار بنائے یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب چھ اور سات کے تحت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مشاورت کا نیا سلسلہ شروع کرے۔ ہمیں بین الاقوامی سطح پر موجود اس تاثر کو ختم کرنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر علاقائی تنازعہ ہے یادو ملکوں کے درمیان لین دین کا کوئی معاملہ ہے۔ یہ مسئلہ ایک کروڑ چالیس لاکھ انسانوں کی قسمت کا معاملہ ہے جنہوں نے اپنی منزل کا تعین کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں دنیا کی ایسی با اثر پارلیمانز تک پہنچ کر ان کے ساتھ کام کرنا ہو گا جن کا اثر اور وزن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کے حقوق انسانی کونسل اور بین الاقوامی سول سوسائٹی محسوس کرے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین اوورسیز کشمیریوں اور پاکستانیوں کی طاقت اور اُن کا تیزی سے پھیلتا ہوا نیٹ ورک ہے اور جو نہ صرف اپنے سیاسی و معاشی اثر و سوخ سے عالمی رائے عامہ کو تشکیل دینے کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ وہ حق و انصاف کی حمایت اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی طرف مائل بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں اس طاقت کو کشمیر کاز کے لیے استعمال کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر آزا د کشمیر نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے کہ ہمیں بھارت کے کشمیر سے متعلق جھوٹے بیانیہ کے غبارہ سے ہوا نکا لنے کے لیے حق اور سچ پر مبنی اپنا بیانیہ بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھنا ہو گا اور ہماری کوششیں صرف روایتی اور نئی ابلاغی ذرائع تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں نئی ٹیکنالوجیز کی پورٹلز اور اُن اداروں تک بھی پہنچنا چاہیے جہاں تنقیدی سوچ پرورش پاتی ہے۔ صدر ریاست نے تجویز کیا کہ ہمیں قیادت اور سیادت نوجوان مرد و خواتین کو منتقل کرنی چاہیے جو پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور اُنہیں سیاسی و سفارتی مہم کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی بات کرتے ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اِن مظالم کے ذمہ دار بھارت کے ایک ارب تیس کروڑ عوام ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بھارت میں ایسے پسماندہ اور کچلے طبقات بھی ہیں جن کی اپنی زندگیاں اشرافیہ اور استعماری سوچ رکھنے والوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے دو سو پچاس ملین دلتوں کو کمتر انسان سمجھا جاتا ہے جبکہ بیس کروڑ مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کیا جار ہا ہے اور اِسی طر ح سکھوں، عیسائیوں، قبائلیوں اور معاشی تاریک وطن کو بے ریاستی کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان پسماندہ طبقات کی اکثریت بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتی۔ صدر سردار مسعود خان نے یہ بھی تجویز کیا کہ پاکستان کو سیاسی لحاظ سے مستحکم اور معاشی اعتبار سے مضبوط بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے قلیل المیعاد اور طویل المعیاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کی بی جے پی۔ آرایس ایس حکومت نے بھارت کے سیکولرازم کا نمائشی نقاب اُتار کر اپنے تمام ہمسائیوں خاص طور پر پاکستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے خلاف کثیر المحاذی جنگ چھیڑ دی ہے۔ اب بھارت میں باقی جو کچھ بچا ہے وہ جنگجو ئی، تشدد، نفرت، تفاوت اور استثنیٰ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس زہریلہ مرکب کا سب سے زیادہ شکار ہندوستانی عوام ہوں گے لیکن اس سے پہلے ہندو توا کی تباہ کن طاقت زنجیروں میں جکڑی کشمیری قوم کو تباہ کر چکی ہو گی۔ ایسی تباہی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہو گی۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کا یہ عزم ہے کہ تمام تر حیوانیت کے باوجود وہ ہندوستان سے آزادی حاصل کریں گے کیونکہ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔

  • سماہنی سیکٹر پر بھارتی فورسز کی طرف سے شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ۔ 3 افراد زخمی

    سماہنی سیکٹر پر بھارتی فورسز کی طرف سے شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ۔ 3 افراد زخمی

    کشمیر میں بھارت کی طرف سے فائربندی کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع سماہنی سیکٹر پر بھارتی فورسز نے شہری آبادی کو بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق تین شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کی شناخت زاہدہ بیگم دختر کرم داد ساکن چاہی ڈھیری . محمد ساجد ولد محمد ارشاد ساکن چاہی کھرانی .اور محمد عبداللہ ولد محمد صضیر ساکن ٹھاکرہ موہڑہ چاہی کے طور پر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل ‏کر دیاگیا ہے جہاں ایک زخمی کی حالت تشویش ناک بیان کی جا رہی ہے۔

  • بھارتی جاسوس پکڑا گیا

    بھارتی جاسوس پکڑا گیا

    آزاد کشمیر نکیال پولیس نے راولپنڈی میں خصوصی طور پر کارروائی کر کے بھارت کیلئے جاسوسی کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شخص کا نام جلال بتایا جارہا ہے۔ اس کے قبضے سے حساس اداروں کے بارے میں معلومات، تصاویر اور لائن آف کنٹرول سے متعلق اہم دستاویزات برآمد کر لی گئی ہیں اس کے علاوہ اس کے قبضے سے جعلی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئی ہے۔

  • موگا میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

    موگا میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

    بھارتی پنجاب میں بھی خالصتان تحریک زور پکڑ گئی.پاکستان کے یوم آزادی پر سکھوں نے مشرقی پنجاب کے شہر موگا میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا جس حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ بھارتی میڈیا نے سرکاری دفتر پر خالصتان کا جھنڈا لہرانے کے واقعہ کو انتہائی غیر معمولی واقعہ قرار دیا

  • نئی دہلی میں یوم پاکستان کی تقریب

    نئی دہلی میں یوم پاکستان کی تقریب

    پاکستان کے 74 ویں یوم آزادی کے موقعہ پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر سید علی حیدر نے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔
    تقریب میں مہمانوں کی بڑی تعداد نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ اس موقعہ پر پاکستان کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔
    ہائی کمیشن کے منسٹر پولیٹیکل آفتاب حسن خان نے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔
    قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر سید حیدر شاہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کے لئے کی گئی جدوجہد اور دی گئی قربانیوں کا خاص طور پر ذکر کیا

  • "آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے”

    "آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے”

    خوبصورت گلوکارہ اور میٹھی آواز کی مالک نازیہ حسن کو ہم سے بچھڑے ہوئے 20 سال گزر گئے. ان کی گلوکاری کے دلدادہ آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔ ان کے گائے گانے اب بھی بے حد مقبول ہیں۔
    نازیہ حسن 3 اپریل 1965 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے امریکن کالج آف لندن سے گریجویشن کیا اور پی ٹی وی کے مشہور پروگرام ’’سنگ سنگ چلے‘‘ سے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا۔ نازیہ حسن نے اپنے بھائی زوہیب کے ساتھ مشرقی اورمغربی موسیقی کے ملاپ سے ایسے گیت پیش کیے جو آج بھی شائقین موسیقی میں مقبول ہیں۔ نازیہ حسن نے جو گایا کمال گایا، انہیں اور ان کے بھائی زوہیب حسن کو پاکستان میں پاپ موسیقی کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔
    بھارتی فلم قربانی میں شامل ہونے والے ان کے گیت ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘‘ نے نازیہ حسن کو عالمگیر شہرت دی جب کہ نازیہ اور زوہیب کے البم ’’ڈسکو دیوانے‘‘ نے فروخت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
    نازیہ نے ان لوگوں کیلئے بھی راہیں ہموار کیں، جو 30 سال پہلے موسیقی کے چناؤ کا تصوربھی نہیں کرسکتے تھے۔ نازیہ حسن کو فنی خدمات پر حکومت کی طرف سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ نازیہ حسن جب پھیپھڑوں کے سرطان کے مہلک مرض میں مبتلا ہوئیں تو ان کی ازدواجی زندگی بھی شدید متاثر رہی اور 13 اگست 2000ء کو وہ خالق حقیقی سے جا ملیں ان کی فنی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

  • بنگلور میں توہین رسالت کے واقعےنےمسلمانوں کےجذبات کومجروح کیاہے، شاہ محمودقریشی

    بنگلور میں توہین رسالت کے واقعےنےمسلمانوں کےجذبات کومجروح کیاہے، شاہ محمودقریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت (بنگلور) میں ہونیوالے توہین رسالت کے دل خراش واقعےنےمسلمانوں کےجذبات کومجروح کیاہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو کو پوری امت مسلمہ کودیکھنا چاہیے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا میں آج مسلمان اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ مسجد کوشہید کرکے مندر بنانا قطعی طور پر درست نہیں۔ بھارت میں جذبات بھی مسلمانوں کے مجروح کرتےہیں اور شہادتیں بھی مسلمانوں کی ہوتی ہیں جب کہ مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا گیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہیومین رائٹس واچ، ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیولراسٹیٹ کو تو بھارت کی اس حکومت نےدفن کردیاہے۔ آج بھارت میں ایک ہندو اسٹیٹ جنم لے رہی ہے یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے یہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کو حق حاصل ہے کہ اس معاملے کو اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کل بھارتی ہائی کمیشن کے حکام کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا اور پاکستان کی طرف سے ردعمل کا اظہار کیا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم ہر انٹرنیشنل فورم پر اسلاموفوبیا کےمسئلےکو اٹھارہےہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی کے گذشتہ اجلاس میں کی گئی تقریر میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا تذکرہ موجود ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدرکےسامنےمیں نےیہ ایشواٹھایا۔