بھارت نے آزاد کشمیر میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو ڈاکٹر ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے میڈیکل کالج سے ڈگری حاصل کرنے والے طالب علم ہندوستان میں میڈیکل پریکٹس نہیں کرسکتے ہیں ۔ ایم سی آئی نے اس سلسلے میں 10 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کیا کہ پورا جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ تاہم پاکستان نے خطے کے کچھ حصوں پر غیر قانونی اور جان بوجھ کر قبضہ کیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں واقع کوئی میڈیکل کالج اور لداخ کے ان حصوں کو انڈین میڈیکل کونسل ایکٹ 1956 کے تحت تسلیم نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے زیر قبضہ میڈیکل کالج آف کشمیر سے حاصل کردہ ڈگری یافتگان ، میڈیکل کونسل آف انڈیا ایکٹ 1956 کے تحت ہندوستان میں میڈیکل پریکٹس کے لئے اندراج کے اہل نہیں ہوں گے۔
بھارتی وزارت صحت کے ایک سینئر افسر کے مطابق آزاد کشمیر کے کالج سے میڈیکل ڈگری یافتہ ایک شخص نے جموں و کشمیر میڈیکل کونسل سے پریکٹس کی اجازت مانگی تھی ۔ ڈگری کی تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ جس میڈیکل کالج سے اس نے ڈگری حاصل کی تھی ، وہ منظور شدہ نہیں ہے ۔ اسی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

آزاد کشمیر کی میڈیکل ڈگری پر ہندوستان میں پابندی عائد

وزیر خارجہ کا ازبک ہم منصب کوفون، بھارت کی جانب سے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف کے ساتھ بذریعہ ویڈیو لنک رابطہ۔ دونوں راہنماوں کے درمیان اہم معاملات خصوصاکرونا عالمی وبائی صورتحال ،دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین دو طرفہ گہرے برادرانہ مراسم ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کیلئے پر عزم ہے۔ وزیر خارجہ نے کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے موثر اقدامات سے ازبک ہم منصب کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عالمی وبا کے دوران، تاشقند سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کیلئے خصوصی معاونت پر ازبک وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین دو طرفہ سیاسی مشاورتی اجلاس،وبائی صورت حال معمول پر آنے کے بعد جلد اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔ وزیر خارجہ نے اپنے ازبک ہم منصب کو بھارت کی جانب سے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مظلوم، نہتے کشمیری گذشتہ سال 5اگست سے بدترین بھارتی کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کا اغواء، ماورائے عدالت قتل، اور بلاجواز گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں۔ بھارت ڈومیسائل قواعد میں تبدیلی کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے درپے ہے جو سیکورٹی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور 4th جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، اقلیتوں بالخصوص ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو، کرونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیکر ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک روا رکھے ہوئے ہے عالمی برادری کو بھارت کے اس ہتک آمیز رویے کی پھرپور مذمت کرنی چاہیے۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں نہتے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ بھارت کی نفرت پر مبنی پالیسیاں، نہ صرف خطے کیلئے بلکہ عالمی امن کیلئے خطرات کا باعث ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان، مشترکہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے افغان امن عمل میں اپنا مصالحانہ کردار، خلوص نیت سے ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ قطر میں عنقریب شروع ہونیوالے بین الافغان مذاکرات سے افغانستان میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو گی۔
اس موقعہ پر دونوں وزرائے خارجہ کا دوطرفہ تعاون کے فروغ اور علاقائی امن و استحکام کیلئے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہو جب کہ ازبک وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو دورہ ء ازبکستان کی دعوت دی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے، ازبک وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حالات معمول پر آنے کے بعد جلد دورہ ازبکستان کا عندیہ دیا۔

اردو شاعر راحت اندوری انتقال کر گئے
اب نہ میں ہوں نہ باقی ہیں زمانے میرے
پھر بھی مشہور ہیں شہروں میں فسانے میرےعالمی شہرت یافتہ بھارتی اردو شاعر راحت اندوری کا انتقال ہوگیا۔ راحت اندوری کورونا میں مبتلا تھے۔ انہوں نے آج ہی اپنے ٹویٹر پیغام کے ذریعے اپنے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر دی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ کووڈ۔ 19 کے ابتدائی علامات دکھائی دینے پر میرا کورونا ٹیسٹ کیا گیا، جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ جس کے بعد انہیں آربندو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ دعا کیجئے جلد ازجلد اس بیماری کو ہرا دوں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بار بار انہیں یا پھر ان کے گھر والوں کو فون نہ کریں، بیماری کے متعلق اپ ڈیٹ کی اطلاع ٹوئیٹر اور فیس بک کے توسط سے سبھی کو ملتی رہے گی۔
راحت اندوری طویل عرصہ سے سانس کی بیماری سے مبتلا تھے۔ حال ہی میں ان کی کورونا رپورٹ پازیٹیو آنے کے بعد انہیں اربندو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق راحت اندوری کو شوگر اور دل کی بیماریاں بھی تھیں۔ حال ہی میں نمونیا کے سبب ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہوگیا تھا۔ راحت اندوری 4 ماہ سے اپنے گھر سے نہیں نکلے تھے۔ وہ صرف جانچ کے لئے ہی گھر سے باہر نکلتے تھے۔ انہیں چار پانچ دن سے بے چینی ہو رہی تھی۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر پھیپھڑوں کا ایکسرے کرایا گیا تو نمونیا کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس کے بعد سیمپل جانچ کے لئے بھیجے گئے تھے، جس میں وہ کورونا پازیٹیو پائے گئے۔ راحت اندوری کو دل کی بیماری اور شوگر کی شکایت بھی تھی۔ راحت اندوری کے ڈاکٹر روی ڈوسی نے بتایا تھا کہ ان کے دونوں پھپھڑوں میں نمونیا ہے، سانس لینے میں تکلیف کے سبب آئی سی یو میں رکھا گیا تھا، ان کو تین بار دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔

اب یا کبھی نہیں: کشمیریوں کو بھارت کے ہاتھوں نسل کشی سے بچانے کے لئے دنیا کو فوری مداخلت کرنا ہوگی، شہریار آفریدی
پارلیمنٹری کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ جس طرح سے پاکستان نے اپنی اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کا نمونہ مرتب کیا ہے دنیا کو اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
عالمی اقلیتی دن کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز (پی آئی پی ایس) میں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ اس دن کو منانے کا واحد مقصد پوری دنیا کو اقلیتوں کے حقوق کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔ .
آفریدی نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے بھارتی اقلیتوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا آغاز کیا ہے اور نسل کشی کے شیطانی منصوبے کے تحت مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔
آفریدی نے کہا کہ رواں سال فروری میں ، ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ہندووں کے ہجوم نے 36 مسلمانوں کو قاتلانہ حملے میں شہید کردیا تھا جبکہ متعدد مساجد کو بھی زمین بوس کردیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا ، "ہندو دہشت گردوں کی عوامی سطح پر حکمران جماعت کے ارکان پارلیمنٹ نے ہندو دہشت گردی گروپ آر ایس ایس کی حمایت کے ساتھ تعریف کی۔”
انہوں نے کہا کہ بالعموم اقلیتوں اور خاص طور پر کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے بھارتی مظالم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غیرقانونی ہندوستانی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کو حق خود ارادیت کی فراہمی کی ذمہ داری کو نبھانا ہوگا۔
"اب وقت آگیا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا کو کشمیر میں جاری مظالم کی روک تھام کیلئے فوری مداخلت کرنی ہوگی۔ نسل کشی کے منصوبے کے تحت ہندوستان اقلیتوں کو مار رہا ہے اور مسلمان ریاستی دہشت گردی کا ایک خاص ہدف ہیں”۔
آفریدی نے کہا کہ اقلیتیں بھارتی حکومت کا ہدف ہیں جو سیکولر ہونے کا دعوی کرتی ہیں لیکن ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
"اگر آج مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ 1984 میں سکھوں کا قتل عام کیا گیاتھا۔ نشانہ صرف مسلمان نہیں بلکہ دلتوں اور عیسائیوں کو بھی منظم طریقے سے ختم کیا جارہا ہے۔ ہندوستانی بیوروکریٹس اور سیاستدان مسلمانوں کے سرعام قتل عام کو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر فروغ دیتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے میں اقوام عالم کی ناکامی کی وجہ سے پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔
کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ اگر اقوام متحدہ اور خوشحال دنیا ہندوستان میں کشمیریوں کی منظم خونریزی اور نسلی کشی کو روکنے میں ناکام رہی تو کشمیر ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے جس کے اثرات خطے سے باہر بھی جائیں گے۔
آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری معاشرہ بہت ہی ہمدرد ہے اور آزاد جموں و کشمیر میں اقلیتوں کو پوری مذہبی آزادی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حکومت فاشزم کا پرچار اور عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے برخلاف جو اسلام کے نام پر تشکیل دیا گیا تھا ، ہندوستان کو سیکولرازم کے نام پر بنایا گیا تھا۔ تاہم ، انہوں نے کہا ، بی جے پی حکومت نے ہندوستانی مسلمانوں ، عیسائیوں ، سکھوں اور دلتوں کے خلاف دہشت گردی کا راج پیدا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت کشمیریوں کو مارا گیا ، گرفتار کیا گیا ، انھیں نظربند کیا گیا ہے۔
"عالمی برادری کو کشمیریوں کی منظم صفائی کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے ورنک اگلے دو یا تین سالوں میں کشمیری ہی ختم ہوائیں گے”۔
انہوں نے کہا کہ اگر دنیا اس قتل عام میں مداخلت کرنے میں ناکام رہی ہے تو ، کشمیریوں کی نسل کشی کے لئے دنیا آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ اتنی ہی ذمہ دار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنے کے لئے ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کو کشمیر لایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندو ، عیسائی ، سکھ اور دیگر اقلیتیں کشمیری جمہوریت کا لازمی جزو ہیں۔
آزادکشمیر میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے کام کرنے والے سی ڈی آر ایس کے سربراہ اور امریکی شہری ٹوڈ شیہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے میڈیا کی منافقت نے پاکستان کی ایک بہت ہی غلط تصویر کی عکاسی کی ہے۔
انہوں نے کہا ، "جب میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے پاکستان آیا تو مجھے پاکستان کی ایک منفی تصویر دکھائی گئی۔ لیکن پاکستانیوں نے میرے ساتھیوں اور راہبوں کو دوسرے پاکستانیوں کے مقابلے میں زیادہ وقار اور احترام دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں اقلیتوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔”
ٹوڈ شیہ نے کہا کہ یہ قابل افسوس بات ہے کہ سرحد پار سے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان اور خطے کے دوسرے ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ، "اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں پاکستان خطے کے ممالک سے بہت آگے ہے۔ پاکستان ایک عظیم قوم ہے اور اسے دنیا کو بہتر سلوک کرنے کی ضرورت ہے۔”
سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان ایک گلدستہ ہے جس میں ہر طرح کے مذہبی رنگ ، پھول اور خوشبو آتی ہے۔
"قائد اعظم کے وژن نے ملکی آئین کے تحت مساوی حقوق فراہم کیے اور اقلیت کے قانون سازوں کو ایک پاکستانی مسلمان سے زیادہ حقوق حاصل ہیں کیونکہ وہ ہمارے قائدین کے انتخاب کے لئے دو بار ووٹ دیتے ہیں”۔
انہوں نے ہندوستانی اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکی کی مذمت کی اور ترقی یافتہ دنیا پر زور دیا کہ وہ مداخلت کرے اور ہندوستانی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اقلیتوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنائے۔
"اب وہ وقت آگیا ہے کہ اکیسویں صدی میں دنیا اقلیتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی۔اقلیتیں بہتر پاکستانی ہیں اور وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے بنیادی حق کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا ، "اگر مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے تو ، ہندوستان نے 900،000 فوجیں وہاں کیوں رکھی ہیں۔ ایک دن کشمیری بھارتی قبضے سے آزاد ہوجائیں گے ،”
پاکستان کے چرچوں کی قومی کونسل کے صدر بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل نے کہا کہ قائداعظم کا ویژن تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔
"1940 کی دہائی میں پنجاب اسمبلی میں عیسائیوں نے پاکستان کو ووٹ دیا۔ ہم مذہبی آزادی اور حکومت کی طرف سے یکساں سلوک کی ضمانت دیتے ہیں۔
ہم پاکستان کے جھنڈے میں شامل ہیں اور میرے مسیحی بھائیوں نے پاکستان کے لئے جنگیں لڑی ہیں اور قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان میں اقلیتوں کیلئے ہم آہنگی ، بقائے باہمی اور خوشحالی کا ایک نیا ماڈل مرتب کیا جارہا ہے۔
آزاد مارشل نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت میں عیسائی گرجا گھروں کو لوٹنے ، توڑ پھوڑ اور جلانے کے 15000 واقعات ہوئے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا ، "ہم کشمیریوں پر مظالم کی بھی مذمت کرتے ہیں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو جلد ہی بھارت کے قبضے سے رہا کیا جائے۔”
رمیش کمار وانکواانی ایم این اے نے بتایا کہ انہوں نے آزادکشمیر کے پیچ مندر کا دورہ کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کے بھرپور ثقافتی اور مذہبی ورثے کو کس طرح محفوظ کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک قابل فخر پاکستانی ہیں اور وہ ہندوستان کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لئے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اقلیتوں کو پاکستان کا غیر مسلم شہری کہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ریاست مدینہ کے بارے میں تحقیق کی ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ حضور نبی اکرم (ص) کی زندگی انسانیت سے محبت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھارتی بدتمیزی نے سیکولر ملک ہونے کے بھارتی دعوی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
رنجیت سنگھ ایم پی اے نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتیں پاکستان میں مساوی حقوق سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔
"ہم نے حال ہی میں 5 اگست کو یوم سیاہ منایا اور جس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیریوں اور بھارتی فوج کے ذریعہ ہونے والے بھارتی مظالم کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے ، ہم فخر محسوس کرتے ہیں پاکستانی۔ میں ایک قابل فخر پاکستانی ہوں اور میں کشمیری مسلمانوں پر بھارتی مظالم کی بھی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید ہندوستان ہی سکھ برادری ہے۔ پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں اقلیتوں کا دن منایا جاتا ہے۔
جامعہ جنیدیہ کے سربراہ پیرزادہ عدنان قادری نے کہا کہ اسلام ہمیشہ دوسرے مذاہب اور مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے۔
راہول ڈریوڈ کے سامنے گیند بازی کرنا سب سے مشکل
پاکستان کے اپنے وقت کے تیزباولر اور راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف شعیب اختر نے کہا ہے کہ انہیں ہندستان کے خلاف اپنے کیریئر کے دوران مسٹر وال کے نام سے معروف راہول ڈریوڈ کے سامنے گیند بازی کرنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ حالانکہ سابق پیسر کا مقابلہ ہندوستان کے سب سے بڑے بلے بازوں جیسے محمد اظہر الدین، سچن تندولکر، وی وی ایس لکشمن، سورو گنگولی، ایم ایس دھونی سے ہوا تھا۔ لیکن جس بلے باز نے انہیں سب سے زیادہ تکلیف دی وہ کوئی اور نہیں بلکہ تجربہ کار راہول ڈریوڈ تھے۔

شعیب اختر نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے کھلاڑی راہول ڈریوڈ کا سامنا کرنے سے پہلے منصوبے بناتے تھے۔ انہوں نے سابق ہندستانی کرکٹر آکاش چوپڑا کے ساتھ ان کے یوٹیوب شومیں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بیٹسمین راہول ڈریوڈ کی طرح کھیلتا ہے تو ہم اسے لمبی گیند کرتے تھے۔ اسٹمپ کے قریب ہم بیٹ اور پیڈ کے درمیان گیپ کو نشانہ بناتے ہوئے گیند کو پیڈ پر ہٹ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
شعیب اختر نے مزید کہا کہ راہول ڈریوڈ ایک مشکل اور پرعزم بلے باز تھے۔ میرے لئے انہیں آؤٹ کرنا مشکل تھا۔ وہ میرے خلاف آسانی سے کھیلتے تھے۔
83 بھارتی شہریوں کا گروپ آج واہگہ بارڈر کے راستے واپس انڈیا چلا گیا
کورونا وائرس اورلاک ڈاؤن کیوجہ سے پاکستان میں مقیم 83 بھارتی شہریوں کا گروپ آج واہگہ بارڈر کے راستے واپس انڈیا چلا گیا۔ سفارتی ذراٰئع کے مطابق پاکستان میں موجود بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پاکستانی وزارت خارجہ سے 118 بھارتی شہریوں کی واپسی کی درخواست کی گئی ہے۔ تاہم آج 83 افراد بھارت پہنچے۔ بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے واہگہ بارڈر کوایک بارپھر خصوصی طورپرکھولا گیا، کسٹم اور امیگریشن حکام بھی واہگہ بارڈرپر موجود تھے۔
دوسری طرف پاکستان میں مقیم ایسے افراد جو پاکستانی شہری ہیں لیکن بھارت میں شادی ہونے یاپھر دیگر وجوہات کی بناپر پاکستان چھوڑ چکے ہیں اوراب دوبارہ اپنے خاندانوں سے ملنے واپس پاکستان آئے تھے۔ ایسے 350 افراد کی فہرست بھی بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پاکستان کی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی ہے تاکہ ان کی واپسی کا شیڈول بھی طے کیا جاسکے۔ یہ وہ افراد ہیں جو پاکستان چھوڑ کربھارت گئے لیکن انہیں ابھی تک بھارتی شہریت نہیں مل سکی ہے۔ان افرادکو بھارت سے واپس پاکستان آنے کے لئے بھارتی حکومت کی طرف سے نوری ویزا (نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا) دیاجاتا ہے، جس کی مدت سے چالیس سے ستردن تک ہوتی ہے۔ نوری ویزاپرپاکستا ن آنے والوں کی بڑی تعداد سندھ کے مختلف شہروں میں مقیم ہے۔ان میں زیادہ ترہندوبرادری کے لوگ ہیں جبکہ کچھ تعداد مسلمان خواتین کی بھی ہیں جن کی شادیاں بھارت میں مقیم اپنے رشتہ داروں میں ہوئی ہیں اوراب وہ اپنے بھارتی سسرالی ممبران اوربھارتی شہریت کے حامل بچوں کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں۔

اردو بولنے والوں کی اکثریت کے باوجود سرکاری سطح پر اردو زبان نظرانداز
جنوبی ہند کی ریاست تامل ناڈو میں اردو بولنے والوں کی اکثریت موجود ہے۔ ریاست کے کئی تعلیمی اداروں میں اردو پڑھائی جاتی ہے۔ چنئی، وانمباڑی اور دیگر شہروں میں اردو ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کی خاصی تعداد موجود ہے۔ لیکن علاقائی زبان "ٹامل” کے غلبہ کی وجہ سے یہاں اردو اور دیگر اقلیتی زبانوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ گزشتہ 6 سالوں سے اردو اکیڈمی کا تشکیل نہ دیا جانا اس تلخ حقیقت کی ایک مثال ہے۔ تامل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی کے صدر ملک العزیز کاتب نے کہا کہ اردو اکیڈمی کی تشکیل کیلئے موجودہ وزیر اعلی ای کے پلانی سوامی سے دو مرتبہ ملاقات کرتے ہوئے تحریری طور پر یادداشت پیش کی گئی ہے، لیکن حکومت نے اب تک اردو والوں کے اس مطالبہ پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق رکن ملک العزیز کاتب نے کہا کہ ریاست میں2011 میں اردو اکیڈمی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ کمیٹی 2014 تک قائم رہی، لیکن اس دوران حکومت کے بدلنے اور دیگر وجوہات کی بنا پر اردو اکیڈمی سرگرم عمل نہیں رہی۔ سابقہ اکیڈمی کی تین سالہ معیاد کے دوران اردو کا ایک بھی پروگرام منعقد نہیں ہوا۔ ملک العزیز نے کہا کہ سال 2014 سے اردو اکیڈمی کے قیام کیلئے کئی مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں۔ ریاست کی کابینہ میں موجود واحد مسلم وزیر نیلوفر کفیل سے بھی کئی بار درخواست کی گئی ہے، لیکن اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ملک العزیز نے کہا کہ ریاست کی وزیر محنت نیلوفر کفیل اردو علاقے وانمباڑی سے ایم ایل اے منتخب ہوئی ہیں اور وہ خود اردو داں ہیں، لیکن اس کے باوجود اب تک ریاست میں اردو اکیڈمی کا نہ بننا حیرت اور تشویش کا باعث ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں کی خاموشی کے بعد تامل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی نے ایک بار پھر اردو اکیڈمی کے قیام کیلئے مہم شروع کی ہے۔ ریاست کے معروف شاعر اور اردو ادیب علیم صبا نویدی کہتے ہیں کہ حکومت کی سطح پر اردو کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے اردو ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کو کسی بھی طرح کی مدد حاصل نہیں ہے۔

بھارت میں11 پاکستانی ہندو مہاجرین کی پراسرار موت : ذمہ دار بھارتی حکومت
پاکستان ہندو کونسل نے بھارتی شہر جودھ پور میں11 پاکستانی ہندو مہاجرین کی پراسرار موت کا ذمہ دار بھارتی حکومت کو قرار دے دیا۔ سربراہ پاکستان ہندو کونسل ورکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں ہندوتارکین وطن کی پراسرار موت افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان اس اندوہناک واقعے کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ ڈاکٹر رمیش کمارنے کہا کہ ہندو خاندان 2012 میں سندھ سے بھارت نقل مکانی کرگیا تھا۔ افسوس بھارت میں انہیں بے رحم حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متنازع بھارتی شہریت قانون سیکولرازم پر سوالیہ نشان ہے۔ رمیش کمار نے بتایا کہ مرنے والے ہندوخاندان کا تعلق شہدادپور کے گاؤں کی بھیل کمیونٹی سے ہے۔

انڈس واٹر کمیشن اجلاس منعقد کرنے کا معاملہ: بھارت نے پاکستانی تجاویز مسترد کردیں
بھارت کے ساتھ سندھ آبی معاہدے کے تحت زیر التواء امور پر تبادلہ خیال کے لئے پاکستان کی درخواست پر مارچ کے آخری ہفتے میں ایک اجلاس طے کیا گیا تھا لیکن بھارت نے موجودہ وبائی بیماری کورونا کی وجہ سے اجلاس موخر کر دیا اور پاکستان کواس سلسلے میں تحریری طور پر آگاہ کردیا۔ بھارت نےپاکستان کو تجویز دی ہے کہ انڈس آبی معاہدے کے تحت زیر التوا معاملات پر تبادلہ خیال کے لئے کورونا وائرس وبائی بیماری کے پیش نظر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات کی جائے تاہم پاکستانی انڈس کمشنر نے بھارت کو بھیجے گئے اپنے جوابی خط میں تجویز دی کہ واہگہ اٹاری جوائنٹ چیک پوسٹ پر روایتی اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے تاہم بھارت نے پاکستان کی اس تجویز کو بھی مسترد کردیا۔ انڈس کمشنر آف انڈیا نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایک خط میں کہا ہے کہ وبائی امراض کی وجہ سے اٹاری جوائنٹ چیک پوسٹ پر اجلاس منعقد کرنا مناسب نہیں ہے۔ خط میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سفر دوبارہ شروع کرنے اور صورتحال کو معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ہندوستانی کمشنر نے جولائی کے پہلے ہفتے میں ویڈیو کانفرنس یا کسی متبادل ذرائع سے اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔
ہندوستانی کمشنر نے جواب دیا کہ ہندوستان میں صورتحال ابھی بھی اپنے وفد کے سفر اور اٹاری جے سی پی میں اجلاس کے انعقاد کے لئے موزوں نہیں ہے جیسا کہ ان کے ہم منصب نے تجویز کیا تھا اور اٹاری جے سی پی یا نئی دہلی میں اس طرح کی میٹنگ کی اجازت دینے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ بھارتی انڈس کمشنر نے پاکستان سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ زیر التواء اور نئے امور پر تبادلہ خیال کے لئے ورچوئل میٹنگ کے ایک قابل عمل آپشن کے طور پر غور کریں۔
قتل، خود کشی یا اتفاقی حادثہ بھارتی شہر جودھپور میں11 پاکستانیوں کی موت
قتل، خود کشی یا اتفاقی حادثہ بھارتی شہر جودھپور میں پاکستان سے آئے 11 ہندو مہاجرین کی موت معمہ بن گئی۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جودھ پور کے علاقے اچلاوتہ میں تھانہ ڈھیچو کی حدود میں گھر کے ایک ہی کمرے میں ملنے والی 5بچوں، 4عورتوں اور 2 مردوں کی لاشوں نے علاقے میں کہرام مچادیا۔ یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ زہریلی گیس کے اخراج سے دم توڑ گئے کیونکہ یہ واقعہ جس علاقے میں پیش آیا ہے اس میں کیڑے مار ادویات کی بو آ رہی ہے۔ تاہم پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور علاقے کے مکینوں کو کوئی بھی بیان دینے سے روک دیا ہے۔ میڈیا والوں کی وہاں تک رسائی روکنے سے معاملہ مشکوک ہوگیا ہے
یہ خاندان پاکستان کے صوبہ سندھ سے آیا تھا اور ہندوستان میں اپنی شہریت حاصل کرنے کا منتظر تھا۔ گذشتہ رات گھر پر نہ ہونے کے سبب کنبہ کاایک رکن اس سانحے سے بچ گیا۔ مرنے والے تمام افراد 2012 میں سندھ سے بھارت گئے تھے۔










