قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اسد ملک لاہور میں ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہو گئے۔ اسد ملک کی صاحبزادی بھی ان کے ہمراہ تھیں جنہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ کل دوپہر 1:30 بجے جناح پارک بوہار والی مسجد شیخوپورہ میں ادا کی جائے گی.
اسد ملک ٹوکیو اولمپکس 1964 سلور، میکسیکو اولمپکس 1968 گولڈ اور میو نیخ اولمپکس 1972 سلور میڈل جیتنے والی پاکستانی ٹیموں کا حصہ تھے. اس کے علاوہ جکارتا ایشین گیمز 1962 گولڈ ،1966 کی سلور بنکاک ایشین گیمز 1970ء کا گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیموں میں بھی شامل تھے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور سیکرٹری جنرل نے اولمپیئن اسد ملک کے ٹریفک حادثے میں انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے.
پی ایچ ایف کے صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر، سیکرٹری آصف باجوہ اور تمام ہاکی اولمپینز نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی ہے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ غم اور مشکل کی اس گھڑی میں ہاکی فیملی لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔ اللہ مرحوم کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اسد ملک لاہور میں ٹریفک حادثہ میں جاں بحق

عید الاضحی پر اصل جانوروں کی بجائے مٹی سے بنے ہوئے جانور ذبح کئے جائیں۔ بھارتی تنظیم کی انوکھی منطق
بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے شہر بھوپال میں مسلمان دشمن دائیں بازو کی تنظیم”سنسکرتی بچاو منچ”نےانوکھی منطق پیش کر دی ہے اور کہا ہے کہ عید الاضحی پر اصل جانور ذبح کرنے کی بجائے مٹی سے بنے ہویے جانور ذبح کئے جائیں۔ اپنی دلیل کے حق میں بولتے ہوئے منچ کے کنوینر چندر شیکھر تیواری نے کہا ہے کہ جس طرح ماحول کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے دیوالی پر پٹاخے چلانے سے منع کیا جاتا ہے اور ہولی پر رنگ ڈالنے پر پابندی لگ جاتی ہے اسی طرح بڑی عید پر جانور ذبح کرنے پر بھی پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے شہر کے بیچ میں مٹی سے بنے ہوئے دو جانور رکھ دئے ہیں اور ان کو ذبح کرنے کو کہا کیا ہے۔

برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں.سردار مسعود خان
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی لیکن اُن کی آواز اب مدھم پڑھ چکی ہے۔ لگتا ہے کہ ہندوستانی لابی نے انہیں اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے آئندہ متوقع صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کھل کر موجودہ ہندوستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرے اور کشمیریوں کوبنیادی انسانی حقوق دینے کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کونسلرز کنونشن برطانیہ کے شرکاء سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کا انعقاد تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کیا۔ اس کنونشن میں برطانیہ بھر سے چالیس سے زائد کونسلرز نے شرکت کی۔ نیشنل کونسلرز کنونشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست، اکتیس اکتوبر اور یکم نومبر 2019اور اپریل 2020کے اقدامات کے ذریعے اور آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ اور نئے ڈومیسائل قانون نافذ کرکے مودی حکومت نے جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں منقسم کیا اور انہیں ہندوستان کے اندر ضم کر دیا۔ یہ ہندوستانی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فورتھ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ صدر نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ پانچ اگست2019 سے پورے کشمیر میں دوہرا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور نو لاکھ ہندوستانی قابض افواج نے پورے کشمیر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ عملاً پورا کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ چودہ ہزار کے قریب نوجوانوں کو جن کی عمریں دس، بارہ اور چودہ سال ہیں انہیں گرفتار کر کے کشمیراورہندوستان کی جیلوں میں مقید کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری کشمیری حریت قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ آسیہ اندرابی اُن کے خاوند، شبیر شاہ اور یاسین ملک کو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اسی طرح سید علی گیلانی،مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر درجنوں کشمیری رہنماؤں کو پابند سلاسل اور نظر بند کررکھا ہے۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ ہے، خواتین کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور یہ اقدامات ہٹلر کے نازی ازم،1990کی دہائی میں بلقان ریاستوں میں میلازوچ کے ظلم وستم سے متشابہ ہیں اور فلسطین کے اندر اسرائیلی ریاست اور حکومت کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ملتے جلتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اپریل2020میں ہندوستانی حکومت نے جس نئے کالے ڈومیسائل قانون کا نفاذ کیا ہے اس کے تحت وہ کشمیریوں سے اُن کا روزگار، جائیدادیں اور شناخت چھین رہا ہے اور کشمیر کو ایک ہندو راشٹریا میں تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کو آباد کرنے میں بھی وقت لگا تھا اور اُسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مودی سرکار کشمیر میں اسی طرز پر اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیر یوں کی زبان بندی کر رکھی ہے، اُن کے پرامن احتجاج کے حق کو غداری کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آرایس ایس اور مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسی کی بدولت نہ صرف ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ اُن کے شر سے ہندوستان کے پڑوسی ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں۔ حالیہ چین بھارت کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان کی جارحیت کا چین نے منہ توڑ جواب دیا ہے اور ہندوستان کی خوب پٹائی ہوئی ہے، اس پر امریکہ نے سرسری حمایت کی ہے۔ صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو چین کی مدد سے سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانا چاہیے اور ہندوستان کا ہندوتوا کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہیے۔سردار مسعود خان نے برطانوی کونسلرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے خلاف BDSمہم کا آغاز کرنا چاہیے، اس سلسلے میں خلیجی ممالک میں کویت کی کابینہ نے ہندوستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کا استحصال کرنا بند کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپ ہندوستان کا حلیف ہے اور اس کی حکومتیں خاموش ہیں لیکن ہمیں یورپ سمیت تمام طاقتور اقوام سے رابطہ رکھنا چاہیے، ان ممالک کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لوگ ہندوستان اور کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ اور ہم سب کے لئے یہ چیلنج ہے کہ ہم ان ملکوں کے حکمرانوں کی زبانوں پر لگے تالوں کو کھولیں۔
قبل ازیں پاکستان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے پوچھے گے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے قائدین کھل کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ ہندوتوا فلاسفی کوآگے بڑھاتے ہوئے ہندوستان اور کشمیر سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کریں گے اور اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی جنونی قیادت ہندوستان کو ”پویتر“کرنا چاہتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس نظریے کی اگرچہ ہندوستان کی کچھ سیاسی جماعتیں، اُن کی سول سوسائٹی مخالف ہے اور وہ مودی سرکار کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں کو نہ صرف حرف تنقید بنا رہے ہیں بلکہ اسے خود بھارت کے وجود کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس سول سوسائٹی سے ضرور اپنا رابطہ استوار رکھنا چاہیے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کے تحت اب تک پچیس ہزار سے زائد غیر کشمیریوں کو ریاست کا ڈومیسائل جاری کر دیا ہے۔ہندوستان ان آبادکاریوں سے ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جموں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن اُس وقت تقریباً اڑھائی لاکھ کے قریب مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور نصف ملین کے قریب مسلمانوں کونقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا، جس سے جموں میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب اسی طرح وہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے در پے ہیں اورمقبوضہ وادی کو ہندو راشٹریا میں بدلنا چاہتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جس طرح ہٹلر کے دور میں جرمنی میں یہودی ہونا ایک جرم تھا اسی طرح آج ہندوستان اور کشمیر میں مسلمان ہونا بھی کسی جرم سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے جس کی تباہ کاریاں خوفناک ہوں گی۔ لہذا دنیا کو آگے بڑھ کر اس ممکنہ تباہی کو روکنا ہو گا۔ صدر سردار مسعود خان نے کامیاب نیشنل کونسلر ز کنونشن منعقد کروانے پر راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ کا شکریہ ادا کیااور اُن کی کشمیر کاز کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عظمیٰ رسول، کونسلر حنیف راجہ، کونسلر لیاقت اور دیگر چالیس کے قریب کونسلرز جنہوں میں اس کنونشن میں شرکت کی اُن سب کا شکریہ ادا کیا۔صدر نے الطاف احمد بٹ سینئر کشمیر حریت رہنما کی کشمیر کاز کے لئے کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں موجود پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن نے کشمیر کاز کودنیا میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے مختلف کونسلرز کی طرف سے اٹھائے کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ کونسلرز کی اکثریت نے اپنے خطابات میں صدر ریاست کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں اُن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ کشمیریوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر رہے ہیں۔
کرونا کے حوالے سے چار ملکی ورچول کانفرنس کیلئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ویڈیو پیغام
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا کے حوالے سے منعقدہ چار ملکی (چین، افغانستان، پاکستان، نیپال) ورچول کانفرنس کیلئے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اپنی مصروفیات کے سبب اس اہم چار ملکی کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا میں نے اس لیے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار کو اس کانفرنس میں شرکت کی درخواست کی تاہم میں اس اہم کانفرنس میں ویڈیو پیغام کے ذریعے شریک ہوں تاکہ اپنا نکتہ ء نظر آپ احباب کے سامنے پیش کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ میں چینی قیادت کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کووڈ 19 جیسے اہم موضوع پر چار ملکی کانفرنس کا انعقاد کیاچین افغانستان نیپال اور پاکستان اس خطے کے اہم ممالک ہیں ہمیں اپنے لوگوں کو اس عالمی وبا کے مضمرات سے بچانے اور کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس انتہائی اہم اور غیر معمولی نوعیت کی کانفرنس کی قیادت پر میں اپنے عزیز دوست، چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہمیں اس وائرس سے نمٹنے کیلئے اتحاد باہمی، یگانگت و کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت ہے جو کسی مذہب، قومیت اور علاقائی حدود سے مبرا ہے۔ انہوں نے کہا کہمیں آپ سب احباب کی توجہ کیلئے انتہائی شکرگزار ہوں اور اس فورم کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ قانون سازی ایک مسلمہ عمل ہے۔ شاہ محمود قریشی
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ قانون سازی ایک مسلمہ عمل ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ
بعض قوانین کے حوالے سے ہمارا ایک موقف ہے جبکہ اپوزیشن کا ایک دوسرا موقف ہے۔ہمارے اور اپوزیشن کے درمیان نکتہء نظر کے درمیان فرق کو مل بیٹھ کر طے کرنے اور بہتر قانون سازی کیلئے 24 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل پا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پارلیمانی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے جبکہ دوسرا بھی عنقریب ہو گا ہم نے ایف اے ٹی ایف، نیشنل سیکورٹی اور نیب سے متعلقہ مسودے اپنے اپوزیشن کے دوستوں کو بھجوا دیے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ اپوزیشن کے احباب فراخ دلی کے ساتھ ان مسودوں کو دیکھیں گے اور پھر ہم مل بیٹھ کر اس پر گفت و شنید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں بہتر قانون سازی کے ذریعے کرپشن کی بیخ کنی چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ کرپشن کے نام پر کسی کی عزت نہ اچھالی جائے۔ کرپشن قوانین کا مقصد کسی کو ناجائز تنگ کرنا نہیں ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس ملک کو بےدردی سے لوٹا ہے انہیں کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ لہذا ہماری کوشش یہی ہے کہ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جو ان دونوں پیمانوں پر پورا اترتا ہو
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابط
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ. دونوں راہنماوں میں کرونا وبائی صورتحال سمیت دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال۔ وزیر خارجہ نے اپنی اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے خیریت دریافت کی۔ سعودی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز پتے کی کامیاب سرجری کے بعد تیزی سے رو بصحت ہو رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی ء عمر کیلئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن سمیت اٹھائے گئے موثر اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے سبب نہ صرف کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہوئی بلکہ شرح اموات میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں بھی کرونا وبائی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیااور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین امسال حج کی محدود ادائیگی کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ امسال محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی کا فیصلہ کرونا عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال ہوا۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھے۔صدر آزاد جموں وکشمیر
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرے کیونکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات دلخراش ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل بھی ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں بھارت کے اقدامات انسانی اقدار، تہذیب، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ورلڈ آرڈر کو پاؤں کے نیچے روندنے کے مترادف ہیں جنہیں اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری خاموشی سے دیکھ رہی ہے اور اس کی یہ خاموشی بھارت کو انسانیت کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کا حوصلہ دے رہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم جسٹس فار آل کے زیر اہتمام ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ ایک کھلا جیل اور پوری آبادی قیدی بنی ہوئی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سمیت وہ مغربی اقوام جو انسانی قانون اور انسانی حقوق کی محافظ کہلاتی ہیں پُر اسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ویبی نار سے امریکہ میں مقیم ممتاز سکالر ڈاکٹر عبدالمالک مجاہد، مقبوضہ کشمیر سے ڈاکٹر مرزا صاحب بیگ، برطانیہ سے مزمل ایوب ٹھوکر، شائستہ صفی، مقبوضہ کشمیر سے شاہانہ بٹ، امریکہ سے سردار ذوالفقار خان، ڈاکٹر اطہر ضیا، پاکستان سے سید فیض نقشبندی، احمد بن قاسم، امریکہ سے امام عبدالجبار، حنا زبیری، محمد عاطف عباسی اور بابر ڈار نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد انسانیت، انسانی وقار اور آفاقی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے اور کشمیریوں کو اگر اس جدوجہد میں ناکامی ہوئی تو یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہوی گی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے اکتوبر 1947ء میں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں قتل وغارت گری کا جو سلسلہ شروع کیا وہ 73سال گزر جانے کے بعد آج بھی جاری ہے اور ان سات دہائیوں میں بھارت نے آزادی، حق خود ارادیت اور انسانی حقوق مانگنے والے پانچ لاکھ انسانوں کو قتل کر دیا اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں بھارتی فوج محاصرے اور تلاشی کے نام پر نوجوانوں کو چُن چُن کر قتل کر رہی ہے تاکہ آزادی، حق خودارادیت اور انسانی حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر کے ریاست پر دوبارہ قبضہ کیا، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان دو حصوں کو دہلی کے ماتحت کر کے یہ پیغام دیا کہ ریاست کے نظم ونسق اور اس کے مستقبل کو طے کرنے میں وہاں کے عوام کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سال اپریل میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران رات کی تاریکی میں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروا کر کشمیریوں کے روزگار، ملازمتوں، کاروبار کے حقوق چھین لئے اور اُن کی زمین پر بھارتی شہریوں کو بسانے کا ایک گھناؤنا منصوبہ شروع کیا تاکہ کشمیریوں کو اُن کی اپنی سرزمین میں بے زمین کر دیا جائے اور اُن کو اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ بھارت کے مقبوضہ ریاست کے اندر یہ تمام اقدامات نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں جن سے سلامتی کونسل کے ارکان کا نظریں چرانا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کے مترادف ہے۔ صدر آزادکشمیر نے ویبی نار کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پانچ اگست کے بعد بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے لئے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے استفادہ کریں اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دس ملین کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے اثر ورسوخ سے فائدہ اٹھا کر مختلف ممالک کی پارلیمان کے ارکان، اعلیٰ حکومت عہدیداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے کشمیریوں کی آواز اُن تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بظاہر کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق نظر آتی ہے لیکن ہمیں اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم کے دروازے پر دستک دینے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا اور اس بات کا اہتمام بھی کرنا ہو گا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیر کے حوالے سے جاری انفرادی کوششوں کو کسی اجتماعی فورم کے تابع کیا جائے تاکہ ان کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔

5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر
وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے کہا ہے کہ 5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام اکیلے نہیں ہیں ہم ان کی پشت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ5 اگست کو سینیٹ کا خصوصی اجلاس مظفرآباد میں ہو گا۔ مظفرآباد میں سینٹ کا خصوصی اجلاس تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں سنگ میل ثابت ہو گا ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بین الاقوامی صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینا بھارتی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ بھارت نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو خصوصی حراستی مراکز میں بند کر رکھا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر ایک انسانی جیل بن چکا ہے ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیاء میں پائدار امن قائم ہو گا ،راجہ فاروق حیدرنے مطالبہ کیا کہ یورپی ممالک مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لیں۔

مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ معید یوسف
معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک عروج پر ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم بڑھانے کے لئے کورونا وائرس کو بہانہ بنا رہا ہے۔ عالمی حقوق اور امدادی گروپوں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کے اعدادو شمار ظاہر کررہے ہیں کہ کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔

ٹریفک پولیس کی پھرتیاں: سائیکل پر بچوں کے کھلونے بیچنے والے کا چالان کرڈالا
کلفٹن کراچی میں ٹریفک پولیس کی پھرتیاں۔ عیدی بنانے کے چکر میں سائیکل پر بچوں کے کھلونے بیچنے والے کا چالان کرڈالا۔ غریب سائیکل سوارکا مخالف سمت سے ون وے کی خلاف ورزی کتا ہوا آرہا تھا۔جس پرغریب کا 520روپے کا چالان کیا گیا۔ سائیکل والا چلاتا رہا غلطی ہو گئی۔ گھر میں آٹا نہیں،500روپےکا چالان کیسے بھروں؟دلچسب بات یہ کہ سائیکل کا چالان 70سی سی موٹرسائیکل کٹیگری میں کردیا.









