پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بارہ کہو کے علاقے میں صحافی مطیع اللہ جان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ انہوں نے صحافی مطیع اللہ جان سے ملاقات کرکے ان کے اغواء اور تشدد پر مذمت کی اور ان سے یکجہتی کا بھی اظہارکیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے مطیع اللہ جان کے

اغواء کاروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا۔ مطیع اللہ جان نے ان کے اغواء پر فوری آواز بلند کرنے کے حوالے سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو سنسرشپ اور صحافیوں کی بیروزگاری کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری سے صحافی مطیع اللہ جان کے علاوہ صحافی عمرچیمہ اور صحافی اعزاز سید نے بھی ملاقات کی جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ فرحت اللہ بابر اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بھی صحافی مطیع اللہ جان سے ملاقات کی۔ اس موقعہ پر بلاول بھٹو نے کہا کہجو صحافی حکومت پر تنقید کرے، اسے نوکری سے نکلوادینا افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو یہ فاشسٹ حکومت ویب چینلز پر حکومتی نااہلیوں کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں کو بھی برداشت نہیں کررہی بلکہ پی ٹی آئی حکومت اتنی کمزور ہے کہ کسی بھی صحافی کے ایک تنقیدی ٹویٹ سے بوکھلا جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ اس وقت کورٹ بیٹ رپورٹرز زیادہ حکومتی دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہر دور میں میڈیا کی آزادی کے لئے لڑی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا ورکرز کو ہم کسی حالت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid
-

بلاول بھٹو زرداری صحافی مطیع اللہ جان کے گھر پہنچ گئے
-

بھارتی جاسوس کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس۔فروغ نسیم کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال
حلف اٹھانے کے بعد وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس سے متعلق کچھ حقائق ایوان میں پیش کرنا چاہتا ہوں، بتانا چاہتا ہوں کہ کلبھوشن سےمتعلق آرڈیننس لانا کیوں ضروری تھا، کہا جارہا ہے کہ آرڈیننس سے متعلق بتایا کیوں نہیں گیا؟حساس سیکیورٹی معاملات میں سیاست نہیں کرنی چاہیے،آرڈیننس لانے کے لیے اپوزیشن سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔



پیپلزپارٹی اور ن لیگ بھی اپنے ادوارمیں آرڈیننس لاتی رہی ہیں۔آرڈیننس کے ذریعے نہ سزا ختم کی گئی ہے اورنہ سہولت دی گئی ہے،آرڈیننس میں کہاں لکھا ہے کہ سزا ختم کی گئی ہے؟اگرکلبھوشن کی سزا ختم کی گئی ہوتی توآپ کے ساتھ مل کراحتجاج کرتا۔ آرڈیننس کے حوالے سے سازشی تھیوری نہ بنائی جائے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں آرڈیننس لایا گیا،عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کااحترام کرنا ہے، -

سی پیک کے تحت 19 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، 28 زیر تکمیل ہیں۔ صدر علوی
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی رارہداری منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا، افغانستان میں امن اور تعمیر نو کے پیش نظر سی پیک کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ جمعرات کو کراچی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے زیر اہتمام سی پیک پر ویبنار سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ، پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جنگ اور کراچی کونسل آن فار ریلیشنز اکرام سہگل نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ سی پیک منصوبے کی پاکستان اور پورے خطے کی معیشتوں کے لئے اہمیت کے پیش نظر ویبنار کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری چین کی قیادت کے ون بیلٹ ون روڈ پروگرام کا حصہ ہے جو مختلف خطوں کو باہمی طور پر منسلک کرکے ترقی و خوشحالی کے مواقع کو فروغ دینے کا اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 62 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن اور تعمیر نو کے آغاز کے پیش نظر اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، افغانستان میں امن کے نتیجہ میں گوادر بندرگاہ سے تجارت بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت 19 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، 28 زیر تکمیل ہیں جبکہ 41 دیگر منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل کی ڑضوریات کے پیش نظر ان منصوبوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے سی پیک کے تحت توانائی، روڈ، ریل انفراسٹرکچر، صنعتی زونز، ٹیکنالوجی و سیاحت کے شعبوں کی ترقی کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی، معیشت مستحکم ہو گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقی کے لئے چین کے تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا کی وباءسے نمٹنے کے لئے حکومتی حکمت عملی کو سراہا اور کہا کہ ان اقدامات اور ضروری احتیاطی تدابیر کی بدولت صورتحال میں بہتری آئے گی۔ اس حوالے سے چین کے تجربات سے بھی رہنمائی حاصل کی گئی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون دونوں ممالک نے بہترین تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، ہماری دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کا سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے عزائم سے آگاہ ہیں، سی پیک کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی، ہم اس حوالے سے چینی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
-

پاکستان میں سیاسی اور سماجی سطح پرکوروناکےحوالےسےکوئی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ چوہدری شجاعت حسین
پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی پارٹی رہنماؤں سینیٹر کامل علی آغا اور میاں عمران مسعود سے گفتگو. چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کورونا بیماری کا تدارک صرف احتیاط، اللہ تعالیٰ سے دعا اور معافی سے ہی ممکن ہے۔ پوری دنیا میں پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آ رہا ہے کہ باپ بیٹے سے، ماں بیٹی سے، بہن بھائی سے نہیں مل پا رہے۔ ایک عجیب سی فضا پیدا ہوگئی ہے اس میں ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ احتیاط سے خود کو اور اپنے پیاروں کو بھی محفوظ رکھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر اس بیماری کے حوالے سے کوئی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی ایٹم بم یا میزائل ہمیں کورونا سے نہیں بچا سکتا۔ چودھری شجاعت نے کہا کہ اگرآپ کا لوہے کا کاروبار ہےتو آپ انتظار کریں چار ارب روپے کا میزائل اب لوہے کے بھاؤ بکے گا۔ چودھری شجاعت نے کامل علی آغا سے مخاطب پوکرکہا کہ آپ بھی اس کی بولی میں حصہ لیں ہو سکتا ہے کہ یہی میزائل چار سو روپے میں مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجات صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس سے معافی طلب کرنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا یہی واحد راستہ ہے جس کو اپنا کر ہم اپنی دنیا اور آخرت بہتر بنا سکتے ہیں۔
-

پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ مشاورت کے دوسرے دور کا انعقاد
پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ مشاورت کے دوسرے دور میں سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور چین کے نائب وزیر خارجہ لو ژاؤ ہوئی کی وڈیو لنک پر مشاورت ہوئی جس میں پاکستان چین دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، کورونا وبا پر قابو پانے کے لئے تعاون میں اضافے، سی پیک اور دوطرفہ معاشی تعاون مزید مضبوط بنانے کے امور پر بات کی گئی۔ اس موقعہ پر سہیل محمود نے کہا کہ پاکستان اور چین سدابہار سٹریٹیجک کوآپریٹو پارٹنر ہیں۔ دونوں ممالک باہمی احترام، ایک دوسرے کی سالمیت و خود مختاری کے لئے احترام، مساوی استفادے وترقی کے اصولوں کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے خواہاں ہیں
-

کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھارتی فوج کی سول آبادی پر شدید گولہ باری۔ فائرنگ سے بزرگ خاتون زخمی۔ پاکستان کی جوابی کارروائی
بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ باغی ٹی وی کو کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لائن آف کنٹرول پر کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھارتی فوج نے آج ایک بار پھر سول آبادی پر شدید گولہ باری کی۔ بھارتی فائرنگ کے نتیجہ میں عام شہری 72 سالہ بزرگ خاتون مقصودہ بیگم شدید زخمی ہو گئیں۔ انہیں طبی امداد کے لیے فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پاکستانی فوج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی اور اس کی توپیں خاموش ہوگئیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
-

امریکہ سے اومنی ایئرکاخصوصی طیارہ 28 جولائی کوملک بدرکیےگئے114پاکستانیوں کولےکرپاکستان پہنچےگا
سول ایوی ایشن نے امریکی چارٹرطیارےکواسلام آبادایئرپورٹ پر لینڈنگ کی اجازت دے دی۔امریکی کمپنی اومنی ایئرکاخصوصی چارٹر طیارہ 28 جولائی کوپاکستان پہنچےگا۔ خصوصی پرواز اواےای423 ملک بدرکیےگئے114پاکستانیوں کولےکرپہنچےگی۔ سی اے اے نےامریکی سفارت خانےکی درخواست پرخصوصی طیارےکولینڈ کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نےوزارت خارجہ کی ہدایت پراجازت نامہ جاری کیا۔ امریکہ سےملک بدرہونےوالےپاکستانیوں سےمتعلق وزارت خارجہ کوآگاہ کردیاگیا۔ سی اے اے حکام کا کہنا ہے ایس او پی کےتحت طیارےکے عملےکوایئرپورٹ پراترنےکی اجازت نہیں ہوگی۔
-

بھارت مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وزیر خارجہ قریشی
اسلام آباد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، اعلی عسکری حکام اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس موقعہ پر کہا کہ بھارت کی ہندتوا سوچ اور جارحانہ پالیسیوں کے باعث پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت، افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اپنی داخلی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان, مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کشی اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی و علاقائی فورم پر اٹھا رہا ہے اور بھارت سرکار کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لا رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
اجلاس میں بھارت سرکار کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے اور انہیں مزید اجاگر کرنے کیلئے کیلئے مختلف تجاویز کو زیرغور لایا گیا۔ اجلاس میں افغان امن عمل سمیت علاقائی سلامتی کے مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔ -

حکومت نے عدالت سے کلبھوشن یادیو کے لیے قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی استدعاکردی
حکومت پاکستان نے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ حکومت نےحال ہی میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت 6 صفحات پرمشتمل ایک درخواست دائر کی ہے اورعدالت سے کلبھوشن یادیو کے لیے قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ وزارت قانون و انصاف کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکرٹری دفاع اور جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ جی ایچ کیو کو فریق بنایا گیا ہے۔






-

وزیر خارجہ نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی نئی عمارت کا افتتاح کردیا
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کا دورہ کیا۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سینیئر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر آئی آر ایس ایمبیسڈر ندیم ریاض نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا خیر مقدم کیا۔ وزیر خارجہ نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی نئ عمارت کا افتتاح کیا اور وزیٹر بک میں اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر آنسٹیٹوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے محققین سے خطاب بھی کیا۔ اور انسٹی ٹیوٹ کی نئی عمارت میں منتقلی پر پریذیڈنٹ ایمبیسڈر ندیم ریاض اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی نئی عمارت تکنیکی حوالے سے مکمل فنکشنل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیزکی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے،ہمیں خارجہ محاذ پر درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے بین عالمی سطح کی تحقیق کو منظرعام پر لانا ہوگا۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس ادارے کو مزید فعال بنانے کیلئے ہم ہر ممکن کوشش اور وسائل بروئے کار لائیں گے ۔ انہوں نے مزہد کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے ان بدلتے ہوئے حالات میں ہمیں بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ اکیسویں صدی کو ایشا کی صدی کہا جاتا ہے جہاں چین ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے ہمیں اس حوالے سے بھی چین کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی شعبہ جات میں تعاون کے فروغ اور علاقائی استحکام کیلئے اپنی توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ اس موقعہ پر وزیر خارجہ نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کیا اور پریذیڈنٹ کی کارکردگی کو سراہا۔