آزا د جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی قابض فوج کی طرف سے وادی نیلم میں شہری آبادی اور شاردہ کی آثار قدیمہ سائٹ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا کہ اُس کی بزدلانہ اقدامات اور جنگ بندی معائدے کی مسلسل خلاف ورزی سے خطہ میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو گا جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔ بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی فوج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو وادی نیلم میں ایک گرلز سکول پر مارٹر گولے داغے جس سے سکول کی عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ ایل او سی کے پار سے بھارتی قابض فوج کی گولہ باری سے ایک رہائش گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ سترہ رہائشی مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی قابض نے شاردہ پٹھ میں ہندو مذہب کی قدیم یونیورسٹی کی سائٹ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جو نہایت قابل مذمت عمل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس قبل پیر کے روز سماہنی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج کی طرف سے بچھائی گئی ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک نوجوان شہید ہوا تھا۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی قابض کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کو بھارت کی ایک سوچھی سمجھی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ان اشتعال انگیز کاررائیوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کے غیر قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آزادی اور حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں جو حق و انصاف پر مبنی ہے اور بھارت کا جبر استبداد اور ظلم اُنہیں اس عظیم جدوجہد سے کبھی نہیں روک سکتا ہے۔ اُنہوں نے بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت کی طرف سے بھارتی فوج کو ریاستی حکومت کے این او سی کے بغیر چھاونیاں اور فوجی مراکز تعمیر کرنے کے قانون میں تبدیلی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیلی طرز کی مسلم کش پالیسی قرار دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی اس چال کے خلاف بھرپور احتجاج کریں اور بھارتی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں تین کشمیریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ قبل ازیں اقبال انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہارون اسلم کو ایک آن لائن انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کے بعد شملہ معائدہ ایک خالی خول بن کر رہ گیا ہے کیونکہ بھارت یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اُس نے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے میں جو اقدامات اُٹھائے وہ اُس کا اندرونی معاملہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر اسرائیلی اور گزشتہ صدی کے نازی جرمنی کے ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ علاقے میں آباد کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے اور اب مودی حکومت نے جموں و کشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ حق دیدیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جس علاقے کو چا ہے اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کر سکتی ہے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid
-

29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا
آزاد کشمیر میں عیدالاضحیٰ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔اس سلسلے میں محکمہ داخلہ حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد کشمیر بھر میں لاک ڈاؤن کا اطلاق 29 جولائی رات 12 بجے سے 2 اگست کی رات 12 بجے تک ہوگا۔ لاک ڈاؤن کے دوران سیاحوں کی آمد و رفت ختم اور سیاحتی مقامات، پبلک پارکس مکمل بند رہیں گے۔
-

بھارتی وزارت کامرس اینڈ ٹریڈ کا سارک چیمبرز آف کامرس کے موجودہ صدر کے خلاف تحفظات کا اظہار
بھارتی دفتر خارجہ کی طرف سے سارک یونیورسٹی کے قائم مقام صدر ڈاکٹر اے وی ایس رامیش چندرکے خلاف کئے جانے والے اقدامات کے بعد بھارتی وزارت کامرس اینڈ ٹریڈ کے بعض اعلی حکام نے سارک چیمبرز آف کامرس کے موجودہ صدر کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ ایک بھارتی ٹی وی کے مطابق مذکورہ حکام کا کہنا ہے کہ سارک کے موجودہ صدر جن کا تعلق پاکستان سے ہے، ان پر الزام ہے کہ وہ سارک چیمبر اراکین کی الگ لابی قائم کر رہے ہیں جس سے پاکستان کی سارک چیمبر پر پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ صدر بھارتی صنعتکاروں کے لئے کوئی کام نہیں کر رہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق ان حکام نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جو جلد ہی بھارتی وزیر کامرس اینڈ ٹریڈ پیوش گوئیل کو پیش کریں گے جو بعد میں دفتر خارجہ کے ذریعے پاکستانی حکام کو ارسال کی جائے گی۔ دریں اثنا بھارتی تاجروں کے ایک سرکردہ عہدیدار نے فون پر بات کرتے ہوئے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارتی وزارت کامرس اینڈ ٹریڈ کے کئی افسران کو سارک چیمبر آف کامرس کی صدارت پاکستان کے پاس ہونا پسند نہیں جس کی وجہ سے وہ صدر کو تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثنا اس سلسلے میں سارک کے موجودہ صدر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
-

کشمیری نوجوانوں کی بھارتی استبداد کے خلاف قربانی، ایثار اور مزاحمت دنیا کیلئے مثال ہے. شہریار خان آفریدی
چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے منگل کو کشمیری نوجوانوں کی بھارتی مظالم کے خلاف قربانیوں ، مزاحمت اور ایثار کی تعریف کی اور کہا کہ کشمیری نوجوانوں کی جرات مندانہ جدوجہد دنیا کے لئے ایک نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اب کشمیر کی آزادی زیادہ دور نہیں ہے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت نے تنازعہ کشمیر کو مزید بین الاقوامی بنادیا ہے۔ اب دنیا مداخلت کے لئے تیار ہے اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے کشمیر کو حل کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرنے کی پیش کش اس امر کی عکاس ہیں کہ آزادی کی منزل اب زیادہ دور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وہ خوش نصیب نسل ہوسکتے ہیں جو کشمیر کی آزادی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں.
ان خیالات کا اظہار شہریار آفریدی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں یہاں کشمیر کے نوجوان سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان پر مسلط ہائبرڈ جنگ کے بارے میں نوجوانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن پاکستانی نوجوانوں کو نسلی ، لسانی ، فرقہ وارانہ اور مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
“ہمیں ہائبرڈ جنگ سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جس کا مقصد ہمیں تقسیم کرنا ہے۔ ہمیں دشمن کے شیطانی پروپیگنڈوں سے آگاہ رہنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد ، نظم و ضبط اور حب الوطنی دشمن کے منصوبوں کو مایوس کرنے کے لئے ہمارے بہترین ہتھیار ہیں۔
شہریار آفریدی نے کہا کہ نوجوانوں کو کشمیر کے مقصد کے لئے ثابت قدم رہنا چاہئے اور انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیری عوام بھارت کی غاصب فوج اور غاصب حکومت کے خلاف کتنی بہادری سے قربانیاں دے رہے ہیں۔
“محترمہ آسیہ اندرابی اور ان کے شوہر ، محمد قاسم فکتو کو اب کئی دہائیوں سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ قاسم فکتو گذشتہ 28 سالوں سے جیل میں ہیں لیکن انہوں نے آزادی کشمیر سے وابستگی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہماری معاصر تاریخ میں یہ بے مثال ہے۔ ایک تعجب کی بات ہے کہ بھارتی مظالم کے باوجود کشمیر کے آزادی پسند تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں.
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں لوگ آزادی کی خواہش کے لئے جیلوں میں بند ہیں اور قربانیوں کی نئی مثال قائم کررہے ہیں.
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوان بغیر کسی اسلحہ کے محض قوت ایمانی کے زور پر قابض فوج سے لڑ رہے ہیں جو جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں۔ اس کے برعکس ، کشمیری نوجوان پتھروں اور اپنی آزادی کے عزم کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی نوجوان سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے میں مصروف ہیں تاکہ خون کی ہولی کو چھپانے میں مدد کی جا سکے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جاگیں اور کشمیر کے معاملے کو پیش کرنے کے لئے آواز اٹھائیں کیونکہ قابض افواج کشمیریوں کو سزا کے بغیر قتل کررہی ہیں۔
"ہمیں بیدار ہونے اور تیزی سے جاگنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کراتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے جہاں جائز مکینوں کو جیل اور غیر کشمیریوں کو قید کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں کو آبادیاتی تبدیلی لانے کے لئے لایا جارہا ہے۔ ہمیں اپنے پڑوس میں ایک اور فلسطین بنانا بند کرنے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل نوجوان سفیروں نے کشمیر پر بات کی اور وعدہ کیا کہ وہ پورے دل سے کشمیر کے مقصد کے لئے کام کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان اور آزادکشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔
-

قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اسد ملک لاہور میں ٹریفک حادثہ میں جاں بحق
قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اسد ملک لاہور میں ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہو گئے۔ اسد ملک کی صاحبزادی بھی ان کے ہمراہ تھیں جنہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ کل دوپہر 1:30 بجے جناح پارک بوہار والی مسجد شیخوپورہ میں ادا کی جائے گی.
اسد ملک ٹوکیو اولمپکس 1964 سلور، میکسیکو اولمپکس 1968 گولڈ اور میو نیخ اولمپکس 1972 سلور میڈل جیتنے والی پاکستانی ٹیموں کا حصہ تھے. اس کے علاوہ جکارتا ایشین گیمز 1962 گولڈ ،1966 کی سلور بنکاک ایشین گیمز 1970ء کا گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیموں میں بھی شامل تھے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور سیکرٹری جنرل نے اولمپیئن اسد ملک کے ٹریفک حادثے میں انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے.
پی ایچ ایف کے صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر، سیکرٹری آصف باجوہ اور تمام ہاکی اولمپینز نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی ہے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ غم اور مشکل کی اس گھڑی میں ہاکی فیملی لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔ اللہ مرحوم کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ -

عید الاضحی پر اصل جانوروں کی بجائے مٹی سے بنے ہوئے جانور ذبح کئے جائیں۔ بھارتی تنظیم کی انوکھی منطق
بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے شہر بھوپال میں مسلمان دشمن دائیں بازو کی تنظیم”سنسکرتی بچاو منچ”نےانوکھی منطق پیش کر دی ہے اور کہا ہے کہ عید الاضحی پر اصل جانور ذبح کرنے کی بجائے مٹی سے بنے ہویے جانور ذبح کئے جائیں۔ اپنی دلیل کے حق میں بولتے ہوئے منچ کے کنوینر چندر شیکھر تیواری نے کہا ہے کہ جس طرح ماحول کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے دیوالی پر پٹاخے چلانے سے منع کیا جاتا ہے اور ہولی پر رنگ ڈالنے پر پابندی لگ جاتی ہے اسی طرح بڑی عید پر جانور ذبح کرنے پر بھی پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے شہر کے بیچ میں مٹی سے بنے ہوئے دو جانور رکھ دئے ہیں اور ان کو ذبح کرنے کو کہا کیا ہے۔
-

برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں.سردار مسعود خان
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی لیکن اُن کی آواز اب مدھم پڑھ چکی ہے۔ لگتا ہے کہ ہندوستانی لابی نے انہیں اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے آئندہ متوقع صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کھل کر موجودہ ہندوستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرے اور کشمیریوں کوبنیادی انسانی حقوق دینے کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کونسلرز کنونشن برطانیہ کے شرکاء سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کا انعقاد تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کیا۔ اس کنونشن میں برطانیہ بھر سے چالیس سے زائد کونسلرز نے شرکت کی۔ نیشنل کونسلرز کنونشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست، اکتیس اکتوبر اور یکم نومبر 2019اور اپریل 2020کے اقدامات کے ذریعے اور آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ اور نئے ڈومیسائل قانون نافذ کرکے مودی حکومت نے جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں منقسم کیا اور انہیں ہندوستان کے اندر ضم کر دیا۔ یہ ہندوستانی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فورتھ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ صدر نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ پانچ اگست2019 سے پورے کشمیر میں دوہرا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور نو لاکھ ہندوستانی قابض افواج نے پورے کشمیر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ عملاً پورا کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ چودہ ہزار کے قریب نوجوانوں کو جن کی عمریں دس، بارہ اور چودہ سال ہیں انہیں گرفتار کر کے کشمیراورہندوستان کی جیلوں میں مقید کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری کشمیری حریت قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ آسیہ اندرابی اُن کے خاوند، شبیر شاہ اور یاسین ملک کو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اسی طرح سید علی گیلانی،مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر درجنوں کشمیری رہنماؤں کو پابند سلاسل اور نظر بند کررکھا ہے۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ ہے، خواتین کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور یہ اقدامات ہٹلر کے نازی ازم،1990کی دہائی میں بلقان ریاستوں میں میلازوچ کے ظلم وستم سے متشابہ ہیں اور فلسطین کے اندر اسرائیلی ریاست اور حکومت کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ملتے جلتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اپریل2020میں ہندوستانی حکومت نے جس نئے کالے ڈومیسائل قانون کا نفاذ کیا ہے اس کے تحت وہ کشمیریوں سے اُن کا روزگار، جائیدادیں اور شناخت چھین رہا ہے اور کشمیر کو ایک ہندو راشٹریا میں تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کو آباد کرنے میں بھی وقت لگا تھا اور اُسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مودی سرکار کشمیر میں اسی طرز پر اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیر یوں کی زبان بندی کر رکھی ہے، اُن کے پرامن احتجاج کے حق کو غداری کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آرایس ایس اور مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسی کی بدولت نہ صرف ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ اُن کے شر سے ہندوستان کے پڑوسی ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں۔ حالیہ چین بھارت کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان کی جارحیت کا چین نے منہ توڑ جواب دیا ہے اور ہندوستان کی خوب پٹائی ہوئی ہے، اس پر امریکہ نے سرسری حمایت کی ہے۔ صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو چین کی مدد سے سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانا چاہیے اور ہندوستان کا ہندوتوا کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہیے۔سردار مسعود خان نے برطانوی کونسلرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے خلاف BDSمہم کا آغاز کرنا چاہیے، اس سلسلے میں خلیجی ممالک میں کویت کی کابینہ نے ہندوستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کا استحصال کرنا بند کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپ ہندوستان کا حلیف ہے اور اس کی حکومتیں خاموش ہیں لیکن ہمیں یورپ سمیت تمام طاقتور اقوام سے رابطہ رکھنا چاہیے، ان ممالک کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لوگ ہندوستان اور کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ اور ہم سب کے لئے یہ چیلنج ہے کہ ہم ان ملکوں کے حکمرانوں کی زبانوں پر لگے تالوں کو کھولیں۔
قبل ازیں پاکستان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے پوچھے گے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے قائدین کھل کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ ہندوتوا فلاسفی کوآگے بڑھاتے ہوئے ہندوستان اور کشمیر سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کریں گے اور اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی جنونی قیادت ہندوستان کو ”پویتر“کرنا چاہتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس نظریے کی اگرچہ ہندوستان کی کچھ سیاسی جماعتیں، اُن کی سول سوسائٹی مخالف ہے اور وہ مودی سرکار کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں کو نہ صرف حرف تنقید بنا رہے ہیں بلکہ اسے خود بھارت کے وجود کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس سول سوسائٹی سے ضرور اپنا رابطہ استوار رکھنا چاہیے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کے تحت اب تک پچیس ہزار سے زائد غیر کشمیریوں کو ریاست کا ڈومیسائل جاری کر دیا ہے۔ہندوستان ان آبادکاریوں سے ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جموں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن اُس وقت تقریباً اڑھائی لاکھ کے قریب مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور نصف ملین کے قریب مسلمانوں کونقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا، جس سے جموں میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب اسی طرح وہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے در پے ہیں اورمقبوضہ وادی کو ہندو راشٹریا میں بدلنا چاہتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جس طرح ہٹلر کے دور میں جرمنی میں یہودی ہونا ایک جرم تھا اسی طرح آج ہندوستان اور کشمیر میں مسلمان ہونا بھی کسی جرم سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے جس کی تباہ کاریاں خوفناک ہوں گی۔ لہذا دنیا کو آگے بڑھ کر اس ممکنہ تباہی کو روکنا ہو گا۔ صدر سردار مسعود خان نے کامیاب نیشنل کونسلر ز کنونشن منعقد کروانے پر راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ کا شکریہ ادا کیااور اُن کی کشمیر کاز کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عظمیٰ رسول، کونسلر حنیف راجہ، کونسلر لیاقت اور دیگر چالیس کے قریب کونسلرز جنہوں میں اس کنونشن میں شرکت کی اُن سب کا شکریہ ادا کیا۔صدر نے الطاف احمد بٹ سینئر کشمیر حریت رہنما کی کشمیر کاز کے لئے کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں موجود پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن نے کشمیر کاز کودنیا میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے مختلف کونسلرز کی طرف سے اٹھائے کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ کونسلرز کی اکثریت نے اپنے خطابات میں صدر ریاست کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں اُن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ کشمیریوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر رہے ہیں۔ -

کرونا کے حوالے سے چار ملکی ورچول کانفرنس کیلئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ویڈیو پیغام
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا کے حوالے سے منعقدہ چار ملکی (چین، افغانستان، پاکستان، نیپال) ورچول کانفرنس کیلئے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اپنی مصروفیات کے سبب اس اہم چار ملکی کانفرنس میں شرکت نہیں کر پایا میں نے اس لیے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار کو اس کانفرنس میں شرکت کی درخواست کی تاہم میں اس اہم کانفرنس میں ویڈیو پیغام کے ذریعے شریک ہوں تاکہ اپنا نکتہ ء نظر آپ احباب کے سامنے پیش کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ میں چینی قیادت کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کووڈ 19 جیسے اہم موضوع پر چار ملکی کانفرنس کا انعقاد کیاچین افغانستان نیپال اور پاکستان اس خطے کے اہم ممالک ہیں ہمیں اپنے لوگوں کو اس عالمی وبا کے مضمرات سے بچانے اور کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس انتہائی اہم اور غیر معمولی نوعیت کی کانفرنس کی قیادت پر میں اپنے عزیز دوست، چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہمیں اس وائرس سے نمٹنے کیلئے اتحاد باہمی، یگانگت و کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت ہے جو کسی مذہب، قومیت اور علاقائی حدود سے مبرا ہے۔ انہوں نے کہا کہمیں آپ سب احباب کی توجہ کیلئے انتہائی شکرگزار ہوں اور اس فورم کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں
-

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ قانون سازی ایک مسلمہ عمل ہے۔ شاہ محمود قریشی
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ قانون سازی ایک مسلمہ عمل ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ
بعض قوانین کے حوالے سے ہمارا ایک موقف ہے جبکہ اپوزیشن کا ایک دوسرا موقف ہے۔ہمارے اور اپوزیشن کے درمیان نکتہء نظر کے درمیان فرق کو مل بیٹھ کر طے کرنے اور بہتر قانون سازی کیلئے 24 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل پا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پارلیمانی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے جبکہ دوسرا بھی عنقریب ہو گا ہم نے ایف اے ٹی ایف، نیشنل سیکورٹی اور نیب سے متعلقہ مسودے اپنے اپوزیشن کے دوستوں کو بھجوا دیے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ اپوزیشن کے احباب فراخ دلی کے ساتھ ان مسودوں کو دیکھیں گے اور پھر ہم مل بیٹھ کر اس پر گفت و شنید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں بہتر قانون سازی کے ذریعے کرپشن کی بیخ کنی چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ کرپشن کے نام پر کسی کی عزت نہ اچھالی جائے۔ کرپشن قوانین کا مقصد کسی کو ناجائز تنگ کرنا نہیں ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس ملک کو بےدردی سے لوٹا ہے انہیں کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ لہذا ہماری کوشش یہی ہے کہ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جو ان دونوں پیمانوں پر پورا اترتا ہو -

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابط
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ. دونوں راہنماوں میں کرونا وبائی صورتحال سمیت دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال۔ وزیر خارجہ نے اپنی اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے خیریت دریافت کی۔ سعودی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز پتے کی کامیاب سرجری کے بعد تیزی سے رو بصحت ہو رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی ء عمر کیلئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن سمیت اٹھائے گئے موثر اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے سبب نہ صرف کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہوئی بلکہ شرح اموات میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں بھی کرونا وبائی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیااور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین امسال حج کی محدود ادائیگی کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ امسال محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی کا فیصلہ کرونا عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال ہوا۔
