Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • شاہ محمود قریشی کا جاپان کے وزیر خارجہ توشی مِٹسو موٹیجی سے ٹیلیفونک رابطہ

    شاہ محمود قریشی کا جاپان کے وزیر خارجہ توشی مِٹسو موٹیجی سے ٹیلیفونک رابطہ

    پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جاپان کے وزیر خارجہ توشی مِٹسو موٹیجی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وبائی چیلنج اور اس کے مضمرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا. قریشی نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جاپانی حکومت کی جانب سے کیے گئے بروقت اور موثر اقدامات کی تعریف کی. انہوں نے کرونا وبا کے باعث جاپان میں ہونیوالے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاپانی وزیر خارجہ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ موجودہ وبائی چیلنج، اس صدی میں انسانیت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے. وزیر خارجہ نے کرونا وبا اور ٹڈی دل حملے کے دوران، پاکستان کی معاونت پر جاپانی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان، اپنے محدود وسائل کے ساتھ ایک طرف کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور دوسری جانب اپنے عوام کو بھوک سے بچانے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہا ہے. وزیر خارجہ نے کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے اور اس مشکل وقت میں، ترقی پذیر ممالک کیلئے معاشی معاونت کی فراہمی کیلئے، وزیر اعظم عمران خان کے مجوزہ "گلوبل ڈیٹ ریلیف” کے خدوخال سے جاپانی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا. انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ جاپان جی 7 اور جی 20 کا اہم رکن ہونے کے ناطے، اس گلوبل ڈیٹ ریلیف، تجویز کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا. وزیر خارجہ نے اپنے جاپانی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دنیا کرونا وبا سے نمٹنے میں مصروف عمل ہے تو دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے. انہوں نے کہا کہ موجودہ وبائی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ 9 ماہ سے جاری بدترین کرفیو کے خاتمے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ 80 لاکھ نہتے، مظلوم کشمیریوں کو خوراک اور ادویات کی فراہمی ممکن ہو سکے. وزیر خارجہ نے بھارتی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کو کرونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دینے اور ہندوستان میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات پر،جاپانی وزیر خارجہ کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا. دونوں وزرائے خارجہ کے مابین پاک جاپان تعلقات کے فروغ اور سفارتی تعلقات کی سترہویں سالگرہ بھرپور طریقے سے منانے پربھی اتفاق کیا گیا.

  • لاک ڈاون کے دوران پرایئویٹ اداروں کو ملازمین کو پوری تنخواہ دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا. سپریم کورٹ

    لاک ڈاون کے دوران پرایئویٹ اداروں کو ملازمین کو پوری تنخواہ دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا. سپریم کورٹ

    بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پرایئویٹ فرموں اور فیکٹریوں کو اپنے ملازمین کو لاک ڈاون کے دوران پوری تنخواہیں دینے کے حوالے سے جاری کردہ سرکلر کو 15 روز کے لئےمعطل کر دیا ہے. اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے یہ احکامات بھی جاری کئے ہیں کہ حکومت پوری تنخواہ نہ دینے والے اداروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرے.سپریم کورٹ نے یہ احکامات ایک پرایئویٹ ٹیکسٹائل فیکٹری کی طرف سے دی گئی درخواست پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جاری کئے. درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ان کی ٹیکسٹائل مل بند پڑی ہے جس سے انہیں ہر ماہ تقریبآ دو کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے جب کہ انہیں وزارت ڈاخلہ کی طرف سے تمام مستقل، غیرمستقل اور ڈیلی ویجرملازمین کو لاک ڈاون کے دوران پوری تنخواہیں دینے کے احکامات جاری کئے ہیں.درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی مل ملازمین کو پونے دو کروڑ روپے تنخواہیں ادا کر کے مزید نقصان اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی. ان حالات میں وزارت داخلہ کے سرکلر کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں.

  • نئی دہلی میں برف باری

    نئی دہلی میں برف باری

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پڑنے والے غیر معمولی اولوں] سے پورے شہر نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔ شہر میں درجہ حرارت میں یک دم گراوٹ آگئی اور لوگ گرم کپڑے پہننے پر مجبور ہو گئے۔ نئی دہلی پہاڑی مقام شملہ کا منظر پیش کرنے لگا۔ موسم کی خرابی سے قبل شہر کا درجہ حرارت 38 ڈگری سنٹی گریڈ تھا جو اولے پڑھنے کے بعد 9 ڈگری سنٹی گریڈ تک گر گیا۔ شہر کی اکثر سڑکوں پر منچلے نوجوان نکل آئے اور برف کے مجسمے بناڈالے جو نئی دہلی کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اولے پڑنے کا سلسلہ تقریبا 20 منٹ تک جاری رہا۔

    [/video

  • بھارت کی سب سے بڑی الیکٹرانکس کمپنی ‘ویڈیو کون”اور باغی ٹی وی میں دھماکہ خیز معاہدہ

    بھارت کی سب سے بڑی الیکٹرانکس کمپنی ‘ویڈیو کون”اور باغی ٹی وی میں دھماکہ خیز معاہدہ

    بھارت میں الیکٹرونکس مصنوعات کی مینو فیکچرنگ کے حوالے سے سب سے بڑی کمپنی ویڈیو کون اور پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ویب ٹی وی باغی ٹی وی ڈاٹ کام کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ویڈیو کون کمپنی طرف سے تحریری طور پر باغی ٹی وی ڈاٹ کام کو آگاہ بھی کر دیا گیا ہے جس کے تحت باغی ٹی وی ڈاٹ کوم ویڈیو کون کی مصنوعات کو پاکستان سمیت دنیا بھی میں متعارف کروائے گا۔ 1985بھارت کے شہر اورنگ آباد میں اپنے کام کا آغاز کرکے اس وقت دنیاکے کئی ممالک میں اپنا نام پیداکرنے والی تقریباً 6ارب ڈالرز مالیت کی کمپنی ویڈیو کون کے چیئرمین وینو گوپال دھوت اور باغی ٹی وی ڈاٹ کام کے روح رواں مبشر لقمان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے بعد اس بات پرباہمی طور پر اتفاق کیا گیا کہ ویڈیو کون کی مصنوعات کے اشتہارات آئندہ ایک سال تک باغی ٹی وی ڈاٹ کام کی زینت بنیں گے جب کہ مختلف ٹاک شوز اور اہم ویڈیو پروگراموں میں ویڈیو کون کے اعلیٰ افسران نہ صرف اپنی مصنوعات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کریں گے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے بھی دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کو اپنے قیمتی مشوروں سے روشناس کریں گے۔ ویڈیو کون کمپنی اس وقت بھارت میں ٹیلی وژن سیٹ، واشنگ مشین، ایئر کنڈیشنرز، ریفریجریٹرز، مائیکرو ویو اوون اور الیکٹرونکس کی دیگر کئی مصنوعات تیار کر رہی ہے۔ اس وقت ویڈیو کون کمپنی کے بھارت میں 17شہروں میں مینو فیکچرنگ پلانٹس موجود ہیں۔ بھارت کے علاوہ ویڈیو کون کمپنی کے مین لینڈ چائنہ، میکسیکو، پولینڈ اور اٹلی میں بھی مینو فیکچرنگ پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ویڈیو کون کمپنی 2009سے بھارت میں موبائل فونز بنانے اور ڈی ٹی ایچ سروس کا آغاز بھی کر چکی ہے اس کے علاوہ ٹیلی کمیونی کیشن اور پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بھی ویڈیو کون کمپنی اپنا لوہا منوا چکی ہے جب کہ موجودہ کورونا وبا سے بچاؤ کے حوالے سے وینٹی لیٹرز، ماسک اور سینی ٹائزر نو پرافٹ نو لوس کے اصول پر تیار کر رہی ہے۔

  • لاک ڈاؤن میں حکومتی خامیوں کی رپورٹ کرنے والے6 صحافیوں کے خلاف 14ایف آئی آر درج

    لاک ڈاؤن میں حکومتی خامیوں کی رپورٹ کرنے والے6 صحافیوں کے خلاف 14ایف آئی آر درج

    نئی دہلی: کو رونا وائرس کے حوالے سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں حکومتی نااہلی کی رپورٹنگ کرنے والےچھ صحافیوں کے ایف آر درج کر لی گئی.ہماچل کے ایک مقامی اخبارکے رپورٹر 38 سالہ اوم شرما کے خلاف اب تک تین ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ ان پر پہلی ایف آئی آر 29 مارچ کو سولن ضلع کے لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے مہاجر مزدوروں کے مظاہرہ کو فیس بک پرلائیونشر کرنے کی وجہ سے درج کی گئی۔ ان کے خلاف دوسری ایف آئی آر26 اپریل کو فیس بک پر ایک میڈیا ہاؤس کی خبرشیئر کرنے کے لیے درج کی گئی جب کہ ان کے خلاف تیسری ایف آئی آر 27 اپریل کو بدی، بروٹیوالا اور نالاگڑھ میں کرفیو میں نرمی کئے جانے کے ضلع مجسٹریٹ کے احکامات میں کئی خامیوں کے حوالے سے فیس بک پر تنقیدکرنے پردرج کی گئی۔ شرما نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد ان کے اخبار کی سرکولیشن بند ہونے کی وجہ سے میں فیس بک پر تمام رپورٹنگ لائیو کر رہے تھے۔ ایف آئی آر درج ہونے کا بعد میرا کرفیو پاس بھی منسوخ کر دیا گیا ہے . ایک دوسرے اخبار کے رپورٹر 34 سالہ رپورٹر جگت بینس کے خلاف بھی لاک ڈاؤن کے دوران انتظامی خامیوں کو اجاگر کرنے کےجرم میں تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جب کہ ایک تیسے اخبار کے 44 سالہ صحافی اشونی سینی پر لاک ڈاؤن کے دوران پانچ مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ایک نیشنل نیوزچینل سے جڑے ڈل ہاؤس کے صحافی وشال آنند کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان تمام صحافیوں پرتقریبآ ایک جیسی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہیں.۔ ان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، 2005 کے آرٹیکل 54، آئی پی سی کی دفعات 182 188، 269 (ایک خطرناک بیماری کا انفیکشن پھیلانے کے لیے لاپروائی سے کام کرنے کا امکان)، 270(کسی جان لیوا بیماری کو پھیلانے کے لیے کیا گیا خطرناک کام)اور 336(زندگی یا دوسروں کی ذاتی تحفظ کو خطرے میں ڈالنا)، آئی ٹی ایکٹ، 2000 کی دفعہ66 سمیت کئی دوسری دفعات شامل ہیں۔

  • علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں متنازعہ بیانات دینے کا جرم. ڈاکٹر کفیل کی قید میں مزید توسیع

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں متنازعہ بیانات دینے کا جرم. ڈاکٹر کفیل کی قید میں مزید توسیع

    نئی دہلی: علی گڑھ ضلع انتظامیہ نے گورکھپور میڈیکل کالج کے معطل کئے گئے ڈاکٹر کفیل خان پر لگائے گئے نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کی مدت تین مہینے کے لیے بڑھا دی ہے۔علی گڑھ کے ایک سینئرایڈمنسٹریٹو افسر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر کفیل کورہا کئے جانےکی صورت میں امن وامان کی صورتحال کو خطرہ ہوسکتا ہے.یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات دینے کے جرم میں ڈاکٹر کفیل کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ کفیل کو گزشتہ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی، لیکن آرڈر کے تین دن بعد بھی جیل انتظامیہ نے انہیں رہا نہیں کیا تھا۔اس کے بعد کفیل کے اہل خانہ نے علی گڑھ کی چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں توہین عدالت کی دائر کی تھی۔ عدالت نے 13 فروری کو دوبارہ رہائی کاآرڈر جاری کیا تھا، مگر اگلی روزضلع انتظامیہ نے کفیل پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کر دی تھی۔ جس کے بعد سے کفیل نئی دہلی کی متھرا جیل میں قید ہیں۔ کفیل کے بھائی عدیل خان نے این ایس اے کی مدت بڑھائے جانے کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن ہے۔ سارے کالج، یونیورسٹی اور ہوائی اڈے بھی بند ہیں، ایسے میں ڈاکٹر کفیل کیسے اور کہاں جاکر امن و امان بگاڑ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کفیل دل کے مریض بھی ہیں جب کہ ان کو جیل میں 102 دن ہو گئے ہیں لیکن ان کا ابھی تک کسی اسپیشلسٹ سے علاج نہیں کرایا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ آگرہ جیل میں 14 افراد کو رونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ جس سے دیگرقیدیوں میں کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے۔

  • شنگھائی تعاون تنظیم وزراءخارجہ کونسل کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے شاہ محمود قریشی کا خطاب

    شنگھائی تعاون تنظیم وزراءخارجہ کونسل کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے شاہ محمود قریشی کا خطاب

    ایس سی او وزراءخارجہ کونسل کا غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خطاب کا مکمل متن
    عزت مآب وزیرخارجہ سرگئے لاوروف
    ایس سی او رکن ممالک کے معزز شرکاء
    عزت مآب سیکریٹری جنرل ویلاد میر نوروف
    خواتین وحضرات

    آج دنیا نظر نہ آنے والے نامعلوم دشمن سے برسرپیکار ہے۔

    ہفتوں کے اندر ہی کورونا وائرس جنگل کی آگ کی مانند تمام معاشروں اور صحت عامہ کے نظام میں پھیل چکا ہے اور پہلے ہی قلیل وسائل کو مزید ختم کررہا ہے، قیمتی جانیں لے رہا ہے اور معیشت کو اپاہج بنارہا ہے اور دنیا بھر کے کاروبار کو مفلوج بنا رہا ہے

    اس پیمانے پر کچھ بھی اس صدی میں نہیں دیکھاگیا۔

    4.1 ملین لوگ اس سے متاثر ہیں اور 3 لاکھ کے قریب لوگ موت کی وادی میں جاچکے ہیں۔

    چند دن کے اندر ہی دنیا میں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ۔

    آج جب ہم یہاں موجود ہیں آن لائن طریقے سے ، کورونا کا انسانی زندگی، معاش اور تمدن پر حملہ جاری ہے۔

    معزز شرکاءکرام

    اس افسوسناک صورتحال میں، میں ان تمام خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتا ہوں جن کے پیارے کورونا وباءکی نذر ہوگئے ہیں۔ ہم ان کے غم میں شریک ہیں ۔

    میں روس کی جانب سے بروقت اجلاس منعقد کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے ان کی کاوشوں کا اعتراف کرتا ہوں۔

    مجھے اعتماد ہے کہ یہ وڈیو کانفرنس ایس سی او کو کورونا کے خلاف ایک مضبوط اور اجتماعی کاوشوں کا محور بنائے گی۔

    معزز خواتین وحضرات

    یہ اجلاس فسطائیت، عسکریت اور متشدد قومیت پسندی کے خلاف فتح اور اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہورہا ہے۔

    کورونا وباءکی صورت میں اقوام متحدہ کو ان 75سال میں اپنی افادیت کے سب سے مشکل ترین امتحان کا سامنا ہے۔

    یہ امر باعث اطمنان ہے کہ ایس سی او نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کو مقدم رکھا ہے اور کثیرالقومیتی مقصد کو آگے بڑھایا ہے۔

    دنیا کی 40 فیصد آبادی کے مسکن اور اس کے چوتھائی جی ڈی پی کے طورپر ایس سی او خطہ ٹیکنالوجی، مادی، انسانی اور مالی وسائل سے مالامال ہے جن کی مدد سے کورونا جیسی سخت مشکل کے خلاف کوششوں میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
    مشترکہ مفاد، باہمی اعتماد واحترام کے شنگھائی جذبے کا مظہر ایس سی او درپیش چیلنج سے نمٹنے میں جامع تعاون استوار کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرسکتی ہے۔

    عوامی جمہوریہ چین اس جنگ میں خاص طورپر ایک کامیاب، موثر اور قابل تقلید مثال ہے ۔

    پاکستان اس بحران سے نبردآزما ہونے میں چین کی انتہائی ذمہ دارانہ کاوشوں کو خراج تحسین پیش پیش کرتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وباءکی روک تھام میں مدد کی فراہمی کو سراہتا ہے۔

    محترم حاضرین کرام

    26 فروری 2020کو پہلا کورونا کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان وباءکی روک تھام کے لئے انتہائی احتیاط پر مبنی موثر حکمت عملی پر کاربند ہے۔

    ٹیسٹ، ٹریس اور کورنٹین کی استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاون کو اختیار کیا۔ رضاکار نوجوانوں کی ایک ریلیف فورس بنائی گئی ہے تاکہ ضرورت مندوں کی مدد کی جاسکے۔ 8 ارب امریکی ڈالر کا معاشی امدادی پیکج دیاگیا ہے۔

    ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں نے ہمارے سماجی تحفظ کے پروگرام سے استفادہ کیا ہے۔

    لاک ڈاون اور طلب میں کمی کے باعث روزگار کے مسائل سے دوچار افراد کو10 ارب درخت (بلین ٹری سونامی منصوبہ) کے ذریعے روزگار فراہم کیاجارہا ہے۔

    مزدور پیشہ صنعتوں کے لئے مراعات کا پیکج دیاگیا تاکہ معیشت کا پہیہ رواں رہے۔

    صحت کے نظام کو استوار رکھنے کے لئے کورونا وباءسے نمٹنے اور اس کے موثر مقابلے کے لئے 595 ملین ڈالر مالیت کی حکمت عملی (پی۔پی۔آر۔پی) کا اجرا کیاگیا ہے۔

    پاکستان میں اب تک کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ 659 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ کورونا کا مرض پاکستان میں اپنی انتہاءکو پہنچ چکا ہے۔

    ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافے کے ساتھ اگرچہ متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہم نے متاثرین کی مقدار میں بہت بڑی تعداد میں اضافہ نہیں دیکھا۔ اموات کی تعداد بھی محدود ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ احتیاط کا دامن ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں خبردار رہنا ہے۔

    غالباً صحت سے بڑھ کر معاشی چیلنج بھی درپیش ہے۔ ترقی پزیر ممالک کورونا وباءکے باعث سنگین مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔

    عالمی بنک، آئی ایم ایف اور جی 20 کی جانب سے قرض کی ازسرنوتشکیل کے اقدام کا پاکستان خیرمقدم کرتا ہے لیکن ہم سجھتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے ترقی پزیر ممالک کے ذمے واجب الادار قرضوں میں ریلیف کے عالمی اقدام کا مقصد ایک جامع منصوبہ کا اجراءہے تاکہ غریب ممالک کو قرض میں سہولت ملے اور وہ اپنے وسائل کورونا سے مقابلے اور اپنے لوگوں کی جان بچانے کے لئے بروئے کار لاسکیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو سنبھالا دے کر شرح نمو کو مستحکم کرسکیں۔

    کورونا وباءسے مل کر مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے میں ایس سی او کا اشتراک عمل ناگزیر ہے۔

    معزز حاضرین کرام

    کورونا وباءکے خلاف جنگ لڑتے ہوئے ہمیں خطے کی سلامتی کو لاحق دیگر خطرات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔
    امریکہ اور طالبان میں امن معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جس سے افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں جو دہائیوں سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔

    افغان قیادت کے لئے موقع ہے کہ وہ اس تاریخی مرحلے سے فائدہ اٹھائیں اور اجتماعی وجامع تصفیہ کے لئے مل کر کام کریں۔

    ایس سی او افغانستان رابطہ گروپ کے ذریعے ایس سی او اس اہم مرحلے پر امن واستحکام کے فروغ میں اپنا نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    معزز حاضرین محفل

    فسطائیت، عسکریت اور متشدد قومیت پسندی کے خلاف فتح کی 75 ویں سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ دیگر قومیتوں سے بیزاری اور اسلام مخالف سوچ کو دنیا میں پنپنے نہ دیا جائے اور ان رجحانات کو دنیا مسترد کرے۔

    ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دہشگت گردی اور انتہاءپسندی کی ہر شکل سے نمٹنا ہماری اولین ترجیح رہنی چاہئے۔

    اس کے ساتھ ساتھ کسی کو یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات کو سیاسی ہتھیار کے طورپر کسی دوسرے ملک، قوم یا مذہب کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرے۔

    غیرقانونی قبضہ کے شکار عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے اور ان کی مذمت کرنی چاہئے۔

    محترم حاضرین محفل

    ہم ایس سی او کے وباوں کی روک تھام میں تعاون کے مجوزہ معاہدے اور عالمی ادارہ صحت اور ایس سی او کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم اس ضمن میں اجتماعی کوششوں میں شرکت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    میں اس موقع پر درج ذیل سفارشات پیش کرنا چاہوں گا؛

    اول یہ کہ ہمیں عالمی قانون اور اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی مرکزیت کو بنیادی اصول کے طورپر تسلیم کرنا ہوگا اور معیار بنانا ہوگا۔
    کورونا وبا کے تناظر میں کسی طبقہ کے ساتھ مذہب، رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی طبقہ کواس وباءکے لئے مورد الزام ٹھرایا یا نشانہ بنایاجائے۔

    دوم، یہ کہ بہترین طریقوں کو اختیارکیاجائے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے لئے صحت کی وزارتوں میں رابطوں کو بڑھایا جائے۔

    سوم، یہ کہ ہمیں ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہئے جہاں کورونا وائرس پر مشترکہ تحقیق کے لئے ہم سائنسی اور تکنیکی صلاحیت کو جمع کرسکیں تاکہ کورونا وباءکے علاج کے لئے ویکسین کی تیاری یا کسی شفا کے حصول کی راہ ہموار ہوسکے۔

    چہارم، یہ کہ ایس سی او ممالک کو نادار طبقات اور معاشروں کی معاشی مدد کے پہلو سے تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔ پاکستان کی اس ضمن میں تجویز ہوگی کہ ایس سی او کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسداد غربت اور سینٹر آف ایکسیلنس تشکیل دیاجائے۔

    آخر میں میری تجویز ہوگی کہ ہمیں اپنے ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں تعاون مزید بڑھانا چاہئے اور ایس سی او ہسپتال الائنس کی تشکیل کے لئے کام کرنا چاہئے۔

    75 برس قبل جیسے متشدد قومیت پسندی کی قوتوں کے خلاف دنیا نے فتح حاصل کی تھی، آج کورونا وباءکے خلاف دنیا کو اسی اتحاد اور مقصدیت پر آنا ہوگا تاکہ اس چیلنج کے خلاف دنیا فتح حاصل کرے۔

    ایس سی او میں یہ کردکھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے

    سینٹ پٹرز برگ میں سربراہان مملک کی کونسل کے متوقع اجلاس کے حوالے سے ہم روسی پریذیڈنسی کی کامیابی کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہیں۔

    میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔

  • بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ  سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

    بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے کہا ہے کہ وہ ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم بتادیں کہ کس نے آپ کو وزیراعظم بننے کا خواب دکھایا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صاحب ہمیں پتا ہے آپ نے اپنا سیاسی لوہا کیسے منوایا ہے۔ پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ ہمیں سب پتا ہے، وفاقی وزیر صاحب آپ نے ہماری جماعت کیوں چھوڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اب بھی پی ٹی آئی یا عمران خان کا نہیں اپنا سیاسی لوہا منوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیرنے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سے صوبائی تعصب کی بو آتی ہے، یہ سندھ کارڈ کھیلتے ہیں، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب میں جنوبی پنجاب اور بلوچستان کی پسماندگی کی بات کرتا ہوں تو مجھ پر بلوچستان اور جنوبی کارڈ کھیلنے کا الزام کیوں نہیں لگاتے؟

  • اسکول 6 ماہ تک بند رہ سکتے ہیں

    اسکول 6 ماہ تک بند رہ سکتے ہیں

    سندھ کے وزیرِ تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ شاید اسکول 6 ماہ تک نہ کھولے جا سکیں. کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مختلف ماڈلز پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اسکول یکم جون سے نہیں کھولے جا رہے جب کہ اسکول کھولنے کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی سے آٹھویں کلاس کے طلباء کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ بڑی کلاسوں کے طالب علموں کوبورڈز کے قوانین کے مطابق امتحانات کے بغیر پروموٹ نہیں کیا جا سکتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ طلبہ کو مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے، پہلی سے آٹھویں جماعت کے طالب علموں کو پروموٹ کرنے کے فیصلے میں بھی مسائل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بچوں کو پروموٹ کرنا ہے تو ان کی پچھلی جماعت کی کارکردگی کو دیکھنا ہو گا، کوئی کسی مضمون میں فیل ہے تو پھر اس مضمون کا امتحان اس سے حالات بہتر ہونے پر لیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ اسکولوں کو بند نہیں رکھا جا سکتا، بچوں کی تعلیم کو بھی دیکھنا ہے، کچھ دنوں میں آن لائن تعلیمی نظام کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔

  • ڈاکٹر من موہن سنگھ  ہسپتال سے ڈسچارج

    ڈاکٹر من موہن سنگھ ہسپتال سے ڈسچارج

    بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کوبھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے.انہیں پیر کے روز اآئی سی یو سے پرائیویٹ وارڈمنتقل کر دیا گیا تھا.87 سالہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کو اتوار کے روز سانس کی تکلیف کے باعث نئی دہلی کےآل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کارڈیالوجی وارڈ میں داخل کیا گیا تھا جہاں ان کے کورونا سمیت کئی ٹیسٹ کئے گئے تھے. کورونا کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں آج گھر جانے کی اجازت دے دی ہے تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے