Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    بھارتی پنجاب حکومت نے موہالی سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کے صحافی کی بے رحمی سے پٹائی کرنے والے دونوں پولیس اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا ہے. مقامی پنجابی اخبار کے صحافی میجر سنگھ پنجابی ایک مقامی گرودوارے میں دو گروپوں کی ایک مفاہمتی میٹنگ کی کوریج کے لئے گئے. جب کہ اسی دوران موہالی پولیس اسٹیشن فیز 1 کے دو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں (اے ایس آئی) نے ان کی پٹائی کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ میجر سنگھ پنجابی کی تصویریں اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافیوں کی کئی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا جس کے بعد ملزم پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ میجر سنگھ اس وقت موہالی کے سول ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ میجر سنگھ نے کہا کہ 22 مئی کی دوپہر کو وہ گرودوارے میں دو گروپوں کے درمیان ایک میٹنگ کو کور کرنے گئے تھے جب وہ وہاں پہنچے تواے ایس آئی اوم پرکاش اور امرناتھ کو دیکھا، جو ایک شخص جسپال سنگھ کو پکڑ کرکمرے سے باہر لا رہے تھے. انہوں نےاپنے موبائل فون سے اسے ریکارڈ کرنا شروع کر دیا اور جسپال سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں ویڈیو بناتے سے روکا لیکن انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ صحافی ہیں اور کوریج کے لئے آئے ہیں اس کے باوجود دونوں پولیس اہلکارزبردستی انہیں ایک نجی گاڑی میں بٹھاکرموہالی کے فیز 1 پولیس اسٹیشن لے گئے۔ انہیں جس گاڑی میں بٹھایا گیا اس کا نمبر پلیٹ ہریانہ کا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی اے ایس آئی اوم پرکاش نے ڈنڈے سے ان کی پٹائی شروع کر دی۔ دونوں انہیں گھسیٹ کر لاک اپ میں لے گئے، جہاں نہ صرف انہیں پیٹا کیا گیا بلکہ بے عزت بھی کیا گیا۔ ان کی پگڑی بھی کھول دی جب کہ وہ باربار پولیس والوں کو کہتے رہے کہ ان کی پگڑی کو ہاتھ نہ لگائیں لیکن انہوں نے ایک نہ سنی. اس کے ساتھ ساتھ ان کی جیب میں موجود کنگا بھی پھینک دیا.انہوں نے کہا کہ ان کے بائیں پیر، دونوں بازو اور پیٹھ میں شدید چوٹیں آئیں. موہالی کے ڈپٹی کمشنر گریش دیالن کا کہنا ہے کہ انہوں نے موہالی کے ایس ڈی ایم جگدیپ سہگل کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر کے تین دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔اس دوران چنڈی گڑھ پریس کلب اور چنڈی گڑھ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدربلوندر سنگھ اور ڈوسرے نے پنجابی پر حملے کی مذمت کی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا.

  • وزیر خارجہ کا سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ کا سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ٹیلیفونک رابطہ

    پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سیکرٹری جنرل او آئی سی ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔انہوں نے سیکرٹری جنرل او آئی سی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں امن و امان کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ سیکریٹری جنرل او آئی سی نے کل ہونے والے المناک طیارہ حادثے اور انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے اظہار تعزیت پر سیکریٹری جنرل او آئی سی کا شکریہ ادا کیا ۔
    مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قابض بھارتی افواج کی جانب سے ظالمانہ کارروائیوں میں اضافے اور مقبوضہ خطے میں آبادی کاتناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں پر پاکستان کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے بھارت کی جانب سے حالیہ ڈومیسائل قوانین میں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں، چوتھے جینیوا کنونشن اور عالمی قوانین کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا۔قریشی نے کہا کہ کورونا وباء کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ وادی میں جاری لاک ڈاون کو مزید سخت کردیا ہے، جعلی ”مقابلوں“ اور تلاشی کی کارروائیوں کی آڑمیں کشمیریوں کو بہیمانہ جبروتشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور دیگر اقدامات میں اضافہ ہو چکا ہے جب کہ بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب، نفرت اور اسلام مخالف اقدامات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کوئی نیا ”فالس فلیگ“ آپریشن کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بدترین مظالم جانچنے کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت اور پاکستان (یو۔این۔موگپ)، او آئی سی، عالمی مبصرین کو موقع پر جا کر صورت حال کا جائزہ لینے کی اجازت ملنی چاہئے۔ وزیر خارجہ نے گذشتہ روز سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے ساتھ ہونے والے ٹیلیفونک رابطے اور اس ضمن میں ہونیوالی گفتگو سے سیکرٹری جنرل او آئی سی کو آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے او آئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی پر زور اور غیر متزلزل حمایت پر سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم انسانی حقوق کے حوالے سے او آئی سی کی تنظیم (IPHRC) کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈومیسائل قوانین کی ترمیم اور بھارت کی جانب سے کئے گئے دیگر یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرنے کے حوالے سے جاری کردہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نےکہا کہ
    بھارت کی جانب سے مسلمانوں کو کرونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دینا،بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا باعث تشویش ہے جس کے لیے او آئی سی کو اپنا موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
    سیکرٹری جنرل او آئی سی ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کہا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں- انہوں نے وزیر خارجہ کو او آئی سی کی جانب سے مکمل معاونت کا یقین دلایا۔ وزیر خارجہ نے کرونا وبا کے دوران، کورونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے سیکرٹری جنرل او آئی سی کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کاوشوں کو سراہا۔

  • وزیر خارجہ کی مقبوضہ جموں وکشمیر میں صورتحال کی سنگینی میں اضافے پر سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو فون

    وزیر خارجہ کی مقبوضہ جموں وکشمیر میں صورتحال کی سنگینی میں اضافے پر سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو فون

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے آج ٹیلی فون پر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بگڑتی ہوئی سنگین صورتحال پر گفتگو کی۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے گفتگو کے آغاز میں پی آئی اے کی پرواز 8303 کے کریش اور انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے تعزیت پر سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ممکنہ جانی نقصان اور اب تک کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قابض بھارتی افواج کی جانب سے فوجی چھاپوں، ظالمانہ کارروائیوں میں مزید تیزی اور مقبوضہ خطے میں آبادی کاتناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں پر پاکستان کی سنگین تشویش کا اظہار کیا۔ اس ضمن میں وزیر خارجہ نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں حالیہ ڈومیسائل قانون کا حوالہ دیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، چوتھے جینیوا کنونشن اور عالمی قانون کی صریحا خلاف ورزی ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افسوس کا اظہار کیا کہ کورونا وباءکے بحران کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ وادی میں لاک ڈاون مزید سخت کردیا ہے، جعلی ”مقابلوں“ اور تلاشی کی کارروائیوں کی آڑمیں کشمیریوںکو جبروتشدد کی مزید سفاکانہ نئی لہر کا نشانہ بنایاجارہا ہے، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور دیگر استبدادی اقدامات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے زوردے کر کہا کہ اپنے داخلی مسائل، بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں قابض افواج کے ظلم وجبر، مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب، نفرت اور اسلام مخالف اقدامات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے بھارت کوئی ”فالس فلیگ“ آپریشن اور کوئی نئی مہم جوئی کرسکتا ہے۔ پاکستان عالمی برادری کو اس ضمن میںمسلسل پیشگی خبردار کرتا آیا ہے ، بھارت کی طرف سے کسی بھی عاقبت نااندیشانہ اقدام کاپاکستان بڑا موثر جواب دے گا۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعادہ کیا کہ پاکستان نام نہاد ”لانچ پیڈز“ سے متعلق دعوے کی ساکھ جانچنے کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت اور پاکستان (یو۔این۔ایم۔او۔جی۔آئی۔پی)کو اجازت دینے کے لئے آمادہ ہے، اگر بھارت کوئی متعلقہ مصدقہ معلومات فراہم کرے۔ بھارت کے الزامات کا بنیادی طورپر مقصد کشمیریوں کی مقامی اور ان کی خالصتا داخلی مزاحمت کو بدنام کرنا ہے جو بھارت کے کشمیریوں پر بدترین ظلم وستم اور جبرواستبداد کا براہ راست نتیجہ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت کی سیاسی وعسکری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جنگی جنون پر مبنی بیانات خطے میں امن وسلامتی کے لئے خطرات بڑھا رہے ہیں۔

    سیکریٹری جنرل کو لائن آف کنٹرول (ایل۔او۔سی) پر بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنگ بندی کی تمام خلاف ورزیوں کی مکمل رپورٹنگ کے ضمن میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت وپاکستان کے اہم کردار کی اہمیت پر زوردیا۔

    بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے حالیہ رابطوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو صورتحال مزید خراب ہونے، بھارت کو ہر طرح کے غیرقانونی اقدامات سے روکنے اور جنوبی ایشیاءمیں امن وسلامتی برقرار رکھنے کے لئے اپنا موثرکردار ادا کرنا چاہئیے۔ انہوں نے کورونا عالمی وباءکے تناظر میں بھارتی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی جاری مہم پر بھی تشویش کا اظہارکیا۔

    سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں جاری صورتحال کے بارے میں بروقت ، جامع بریفنگ اور آگاہی دینے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے زوردیا کہ وہ تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان معاملات سے متعلق اپنے حصے کا کردارادا کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کے ترقی پزیر ممالک کے ذمے قرض میں رعایت دینے کے عالمی اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے زوردیا کہ قرض میں ریلیف عالمی معیشت بحال کرنے میں ایک اہم اور ناگزیر ذریعہ ہے۔ وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو۔ای۔ایف) کے کورونا کے لئے ایکشن پلیٹ فارم کے ورچوئل اجلاس سے خطاب میں پاکستان کے نکتہ نظر کو واضح کیا ہے۔ ترقی پزیر ممالک کو درپیش طویل المدتی مالی مشکلات کے حل کے لئے سیکریٹری جنرل کے اقدام کی پاکستان کی طرف سے حمایت سے بھی انہوں نے آگاہ کیا۔

    سیکریٹری جنرل نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آگاہ کیا کہ ترقی کے لئے سرمایہ کاری کے عنوان سے آئندہ ہفتے ان کا دفتر کینیڈا اور جمیکا کے ساتھ مل کر ایک اعلی سطحی ورچوئل تقریب منعقد کررہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس تقریب میں وزیراعظم کی سطح پر شریک ہوگا۔ وزیر خارجہ نے دعوت دینے پر سیکریٹری جنرل کا شکریہ اداکیا۔

  • طیارے کےالمناک حادثہ پربھارتی ہندووں کا انتہائی شرمناک رویہ

    طیارے کےالمناک حادثہ پربھارتی ہندووں کا انتہائی شرمناک رویہ

    پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والےدنیا کےسب سے بڑے دہشت گرد ریندر مودی کے ملک بھارت کے عوام کی ذہنیت بھی مودی کی طرح دہشت گردانہ ہو چکی ہے.

    کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت کی طرف دھیان نہ کرنے والے بھارتی گھٹیا ذہنیت کی مالک عوام نے پاکستان میں ہونے والے المناک طیارے کے حادثہ پر انتہائی شرمناک رویہ اختیار کیا ہے سوشل میڈیا پرجتنے گھٹیا کمنٹس بھارتی عوام نے دئے دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی. اگر آج ہٹلر زندہ ہوتا تو اس کا سر بھی شرم سے جھک جاتا. دنیا کے کسی بھی مذہب میں انسانیت پر کسی بھی طرح کے سانحہ گزرنے پردکھ اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن بھارتی مودی کے ہندوتوا کا پرچار کرنے والے عوام کو شرم نہیں آئی.

  • لاک ڈاون کے دوران ریسٹورنٹ کا کھانا کھانے کے شوقین نقاب پوش چوروں کی کارروائی

    لاک ڈاون کے دوران ریسٹورنٹ کا کھانا کھانے کے شوقین نقاب پوش چوروں کی کارروائی

    بھارتی ریاست گجرات کے شہر جونا گڑھ میں لاک ڈاون کے دوران ریسٹورنٹ کا کھانا کھانے کے شوقین پانچ نقاب پوش افراد آدھی رات کو ایک ریسٹورنٹ میں گھس گئے اوروہاں کے باورچی خانے میں جا پہنچے. ان نقاب پوشوں نے باورچی خانے میں چاول اورآلو پکوڑہ کڑی خود ہی بناکراطمینان سے کھائی اور بغیر کوئی دوسری چیز کو ہاتھ لگائے وہاں سے واپس چلے گئے. اگلے روزمالکان نےواقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جو کہ ریسٹورنٹ میں لگے سیکیورٹی کیمروں میں قید ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پانچوں افراد چاول اور آلوپکوڑہ کڑی پکا رہے ہیں . مالکان نے نامعلوم نقاب پوش کھانے کے شوقینوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے انکار کر دیاہے.

  • فون نہ اٹھانے پر بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا

    فون نہ اٹھانے پر بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا

    بھارتی ریاست چھتیس گَڑھ کے ضلع رائے پورمیں 25 سالہ کورونا کے مریض للت کوروانے صرف اس وجہ سے اپنی بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا کہ وہ دوسرے شہر جیش پورکے قرنطینہ سنٹر سے اپنی بیوی کو فون کر رہا تھا لیکن وہ دوسرے فون پر مصروف ہونے کی وجہ سے اپنے شوہر کا فون نہ اٹھا سکی. للت کوروااپنا فون نہ اٹھانے پر طیش میں آگیا اور قرنطینہ سے چوری چوری فرار ہو گیااور رائے پور سے جیش پور اپنے گھر پہنچا اور شک کی بنیا د پرآری کے ساتھ اپنی بیوی پیار بائی کا ہاتھ کاٹ کر اسے اور اپنے 2 سال کے بیٹے کو چھوڑ کرفرارہوگیا۔ للت کے فرار ہونے کے بعد اس کی بیوی کو اسپتال پہنچایا گیا مگر اس کے ہاتھ کو نہیں جوڑا جا سکا۔ دوسری جانب مقامی پولیس نے ملزم للت کوروا کو گرفتار کر لیا ہے. پولیس کے مطابق للت نے بیان دیا کہ وہ جب بھی اپنی بیوی کو فون کرتا تھا اس کا نمبر کسی دوسرے نمبر پر مصروف ہوتا تھا.اسے شک تھا کہ اس کا کسی دوسرے شخص کے ساتھ افیئر چل رہا ہے.

  • پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
    اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔

  • سمندری طوفان امفان نے بھارت اور بنگلا دیش میں تباہی مچا دی، 84 افراد ہلاک

    سمندری طوفان امفان نے بھارت اور بنگلا دیش میں تباہی مچا دی، 84 افراد ہلاک

    خلیج بنگال میں موجود سمندری طوفان امفان نے بھارت اور بنگلا دیش میں تباہی مچادی اور طوفان سے اب تک 84 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ طاقتور سمندری طوفان امفان گزشتہ روز بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ساحل سے ٹکرایا تھا اور طوفان سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ریکارڈ ہوا ہے۔

    مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے طوفان سے ریاست میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث مغربی بنگال میں ہزاروں مکانات کی چھتیں اڑ گئی ہیں اور درخت اکھڑ گئے ہیں۔ مغربی بنگال کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے جس کی نکاسی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ طوفان کے باعث کلکتہ ائیرپورٹ بھی شدید متاثر ہوا ہے اور ہوائی اڈے کا ایک حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے جب کہ کئی جہازوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ سمندری طوفان امفان نے بنگلادیش کے 3 ساحلی اضلاع کو بھی متاثر کیا جہاں 4 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ طوفان کے باعث بنگلادیش کی ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارشیں ہو رہی ہیں. بنگلادیش کے ساحلی اضلاع ستکھیرا، سندربن، کورگرام اور جمال پور متاثر ہوئے، دو افراد پٹوا خالی میں کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہوئے، پیروج پور کے علاقے متھبیریا میں دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جب کہ ستیریا کے علاقےکمل نگر میں درخت گرنے سے خاتون ہلاک ہوئی۔

    سمندری طوفان امفان کے باعث بنگلادیش کے ساحلی علاقوں سے ایک لاکھ 35 افرادکو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

  • قرنطینہ سنٹر میں سنگین بد نظمی کی خبر لگانے پر صحافی کے خلاف مقدمہ

    قرنطینہ سنٹر میں سنگین بد نظمی کی خبر لگانے پر صحافی کے خلاف مقدمہ

    بھارتی ریاست بہار میں ضلع سیتا مڑی کی انتظامیہ نے ایک صحافی گلشن کمار مٹھو کے خلاف مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کروادی ہے جس میں گلشن کمار پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے اپنے اخبار میں قرنطینہ سنٹر کے حوالے سے خبر شائع کی کہ وہاں موجود کورونا کے مریضوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی. اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے اخبار میں تصویر لگانے کے لئے وہاں موجود مریضوں کو ہنگامہ کرنے پر اکسایا جس سے وہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا اور مریضوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی.ایف آئی آر میں گلشن کمار کے دو نامعلون ساتھیوں کو بھی اس تمام واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کروایا گیا. واضح رہے کہ گلشن کمارنے اپنی خبر میں سیتا مڑھی کے بلاگی پور گاوں کے ہائی اسکول میں قائم قرنطینہ سنٹر کے بارے میں لکھا تھا کہ وہاں مریضوں کی ایادہ تعداد مزدور طبقہ کی ہے جن کو مناسب کھانا نہیں دیا جارہا جب کہ گزشتہ 8 روز سے تمام مریض سوکھے چنے کھا کر اپنا پیٹ بھر رہے ہیں. سنٹر میں 200 مزدوروں کو رکھا گیا ہے جب کہ وہاں پر کنجائش صرف 100 مریضوں کی ہے. اس کے علاوہ ان دو سو مزدور مریضوں کے لئے صرف 8 ٹوائلٹس ہیں جن کی صفائی کئے ہوئے بھی کئی روز ہو چکے ہیں.

  • لاک ڈاون کے دوران بھوک کا راج. پانچ سالہ بچی ہلاک

    لاک ڈاون کے دوران بھوک کا راج. پانچ سالہ بچی ہلاک

    بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع میں مبینہ طور پر ایک پانچ سالہ دلت بچی نمانی بھوک کی تاب نہ لا کرموت کے منہ میں چلی گئی۔ اس کا والدجوکہ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتا ہے کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران انہیں کوئی آمدنی نہیں ہو پائی اور نہ ہی اس کے پاس اتنی جمع پونجی تھی کہ وہ گھر بیٹھے اپنے بچوں کو کھلا سکتا.اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے اس کے گھر میں چولہا بھی نہیں جلا اور نہ ہی اس کے بچوں نے کچھ کھایا تھا۔ دوسری طرف ضلع انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ بھوک سے موت کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی خاص ثبوت نہیں. لاتیہار کے کمشنر ذیشان قمر نے کہاکہ اسے کچھ لوگوں نے بتایا تھا کہ بچی نے صبح ناشتہ کیا تھاجب کہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچی کے پڑوسیوں نے انہیں بتایا کہ پانچ سالہ بچی کئی دنوں سے بھوکی تھی۔ گاؤں کے سرپنچ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ خاندان کے نام کوئی راشن کارڈ بھی جاری نہیں کیا گیا جب کہ گاوں کے لوگوں کے لئے آیا 10 ہزار روپے فی خاندان کا فنڈ ختم ہونے کی وجہ سے فیملی کو راشن نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بی ڈی او سے فنڈ کی دوسری قسط کے لیے خط لکھا تھا لیکن فنڈ نہیں ملا۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ جگ لال بھئیاں کے گھر میں پانچ بچے ہیں، جوغذائی قلت کے شکار ہیں.