Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے پر منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی حملہ کیا گیا، عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق سفارتخانے کو متعدد راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

    عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایک بار پھر قانون شکن گروہوں نے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنا کر مجرمانہ جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔” بیان میں اس حملے کو عراق کی خودمختاری اور ریاستی اختیار پر کھلا دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی۔فوج نے عزم ظاہر کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ انہیں ان کے جرائم کی مکمل سزا دی جا سکے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سفارتخانے کے کمپاؤنڈ پر کم از کم چار مختلف پروجیکٹائل داغے گئے، جن میں دو ڈرون بھی شامل تھے۔ ان میں سے ایک سفارتخانے کے قریب آ کر گرا۔ اس سے قبل منگل کی صبح بھی ایک اور حملے کی کوشش کی گئی تھی جسے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔دوسری جانب بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک امریکی سفارتی تنصیب کو بھی دو پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق اس موقع پر بھی فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، تاہم نقصانات یا دیگر تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

    ادھر “اسلامک ریزسٹنس ان عراق” نامی گروپ، جس میں ایران نواز ملیشیائیں شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کے روز عراق کے اندر اور باہر امریکی مفادات کے خلاف درجنوں ڈرونز اور راکٹوں کے ذریعے 47 حملے کیے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے نئے میزائل حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب اور یروشلم میں فضائی حملے کے سائرن گونج اٹھے، جبکہ آسمان پر روشنی کی چمک دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب کے اوپر کلسٹر میونیشن ( جیسا میزائل بھی دیکھا گیا، جس نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا۔اسرائیلی حکام کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تل ابیب کے مختلف علاقوں میں ممکنہ میزائل گرنے کی جگہوں کی جانب روانہ ہو گئی ہیں، جہاں نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • امریکی بحری جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب ، سنگاپور کے قریب آبنائے ملاکا تک پہنچ گیا

    امریکی بحری جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب ، سنگاپور کے قریب آبنائے ملاکا تک پہنچ گیا

    امریکی بحریہ کا ایک جدید جنگی جہاز، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ میرینز اور بحری اہلکاروں کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہا ہے، اس وقت سنگاپور کے قریب اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ملاکا کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔

    منگل کے روز سامنے آنے والے میری ٹائم ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی نیوی کا ایمفیبیئس اسالٹ شپ USS Tripoli جنوبی بحیرۂ چین کے جنوب مغربی کنارے پر واقع سنگاپور کے قریب دیکھی گئی۔ عام طور پر امریکی جنگی جہاز اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھتے ہیں، تاہم مصروف سمندری راستوں سے گزرتے وقت AIS ٹرانسپونڈر کو فعال رکھا جاتا ہے تاکہ دیگر جہازوں کے ساتھ تصادم سے بچا جا سکے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس جہاز کے ذریعے اضافی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ میرینز جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں تعینات 31st Marine Expeditionary Unit (MEU) سے تعلق رکھتے ہیں، جو تقریباً 2200 اہلکاروں پر مشتمل ایک تیز رفتار ردعمل دینے والی فورس ہے۔ ذرائع کے مطابق پینٹاگون نے اس یونٹ کو فوری تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی پہلے ہی موجود ہیں۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ نئے بھیجے جانے والے میرینز کو کہاں تعینات کیا جائے گا یا ان کا مخصوص مشن کیا ہوگا۔ماہرین کے مطابق ایک MEU چار بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، کمانڈ، زمینی جنگی یونٹ، فضائی جنگی یونٹ اور لاجسٹک سپورٹ۔ یہ یونٹس عموماً ہنگامی انخلاء، ساحلی حملوں اور خصوصی آپریشنز کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    تقریباً 850 فٹ طویل اور 45 ہزار ٹن وزنی USS Tripoli کو ایک چھوٹے طیارہ بردار جہاز کے برابر سمجھا جاتا ہے، جو جدید F-35 اسٹیلتھ طیارے، MV-22 Osprey ٹرانسپورٹ طیارے اور لینڈنگ کرافٹ اپنے ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ جہاز 11 مارچ کو اوکیناوا سے روانہ ہوا تھا اور اب جنوبی بحیرۂ چین سے ہوتا ہوا سنگاپور کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ عام طور پر اس کے ساتھ دیگر معاون جہاز بھی ہوتے ہیں، تاہم موجودہ ڈیٹا میں ان کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • دشمن کی  سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ دشمن کی پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، پاکستانی آپسی جھگڑوں،لسانیت، فرقہ واریت سے نکل کر ایک قوم بن جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتی،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی ترجمان تابش قیوم ،حافظ امیر حمزہ رافع نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آج دنیا اور پاکستان کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جس مقصد کے لئے پاکستان بنایا تھا ہمیں اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو گا،قائداعظم نے قیام پاکستان کے لئے تحریک چلائی لوگوں کو جمع کیا اور صرف ایک پیغام دیا کہ ہم ایک قوم ہیں،ہمیں ایک ایسا خطہ چاہئے جہاں ہم اپنی اکثریت کے مطابق اپنے قانون کے مطابق زندگی گزار سکیں، حقوق و فرائض کا تعین کر سکیں، آج مشرق وسطیٰ میں جنگ ہے،ا س خطے میں بھی جنگ ہے، مسلم ممالک سمجھتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے اگر طاقتور ہوا تو سب کا دفاع کرے گا کیونکہ ایٹمی طاقت ہے اور مخالف یہ سمججھتے ہیں کہ پاکستان طاقتور ہوا،آگے بڑھا تو خطرہ ہے اس لئے پاکستا ن کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کو کمزورصرف اور صرف فرقہ واریت،لسانیت،صوبائیت،دہشتگردی سے کیا جا سکتا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے لسانیت، علاقائیت سے باہر نکل کر ہمیں ایک قوم بننا ہو گا،ہم ایک قوم بن جائیں تو کوئی طاقت پاکستان کامقابلہ نہیں کر سکتی،ہمیں تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحدہونے کی ضرورت ہے، ہماری ایک شناخت پاکستانی ہے، بطور پاکستانی ملک کے ساتھ وفا کریں گے،

  • ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، خلیجی خطے میں امریکی اڈے نشانہ بن گئے

    ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، خلیجی خطے میں امریکی اڈے نشانہ بن گئے

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آج رات اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی 60ویں لہر کے دوران خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اس کارروائی کی نئی ویڈیوز بھی جاری کر دی گئی ہیں، جن میں مختلف بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی لانچنگ دکھائی گئی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکی فوجی تنصیبات ،اردن میں مووفق السلطی ایئر بیس،قطر میں العدید ایئر بیس،متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس،کویت میں علی السالم ایئر بیس،سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر کئے گئے اس آپریشن میں طویل اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے میزائل استعمال کیے گئے، جن میں عماد (Emad)، قیام (Qiam)، ذوالفقار (Zolfaghar) اور دزفول (Dezful) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کروز میزائل اور خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔

    ایرانی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کے شہر اشدود میں واقع فضائی معاونت اور ری فیولنگ مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ دفاعی کمپنی رافیل کے عسکری و اسلحہ جاتی مراکز پر بھی عماد اور قدر میزائل سسٹمز کے ذریعے حملے کیے گئے۔تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان یا جانی ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ امریکہ یا متعلقہ خلیجی ممالک کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

  • آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کی صورتحال اب کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حالات نے خطے کے اس اہم آبی گزرگاہ کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اب ایک نئی جغرافیائی اور تزویراتی حقیقت کا سامنا کر رہی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حساس علاقے میں سیکیورٹی کی بحالی میں کردار ادا کریں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اس حوالے سے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران ماضی میں بھی خبردار کرتا رہا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اس گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے بعد یہ خدشات حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دے رہے ہیں۔خلیج فارس سے خلیج عمان تک پھیلا یہ تنگ سمندری راستہ تقریباً 100 میل طویل ہے جبکہ اس کی کم سے کم چوڑائی صرف 24 میل ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز میں موجودہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں

  • شہدا  کے خون کو ہرگز  نہیں بھولیں گے،پاسداران انقلاب

    شہدا کے خون کو ہرگز نہیں بھولیں گے،پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کی شہادت پر رد عمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ عظیم شہید اور دیگر شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کو ایک ممتاز شخصیت، مفکر اور انقلابی رہنما قرار دیا اورکہا کہ شہید علی لاریجانی کا خون، دیگر شہدا کی طرح، عزت، طاقت اور قومی بیداری کا ذریعہ بنے گا۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ وہ علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کو ہرگز نہیں بھولیں گے اور اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

    یاد رہے کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے۔ایرانی حکام نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی، ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملے میں علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ بھی شہید ہوگئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کومشرقی تہران میں نشانہ بنایاگیا، وہ تہران کے مشرق میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔

  • آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، متحدہ عرب امارات عالمی کوششوں میں کردار ادا کرنے کو تیار

    آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، متحدہ عرب امارات عالمی کوششوں میں کردار ادا کرنے کو تیار

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں سمندری سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے کوئی بین الاقوامی اقدام سامنے آتا ہے تو وہ اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہی۔

    منگل کو کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ ابوظہبی کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے پر توجہ دے رہا ہے، تاہم اہم عالمی گزرگاہ میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے کوششوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے کی درخواست پر کئی امریکی اتحادی ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دیے۔

    انور قرقاش نے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری صرف خطے کے ممالک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کا ممکنہ کردار کسی وسیع تر بین الاقوامی اقدام کا حصہ ہوگا، جس کی قیادت ممکنہ طور پر امریکہ کرے گا اور جس میں ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کے ممالک بھی شامل ہوں گے۔ان کے بقول، “فی الحال کسی باقاعدہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور تجارت یا توانائی کے معاملات پر دنیا کو یرغمال بنانا قابل مذمت ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے اور جیسے ہی کوئی مربوط حکمت عملی سامنے آئے گی، متحدہ عرب امارات اس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوگا۔

  • اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملے،ایرانی جوابی کاروائیاں،ٹرمپ کی نیٹو ،میڈیاپر تنقید

    اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملے،ایرانی جوابی کاروائیاں،ٹرمپ کی نیٹو ،میڈیاپر تنقید

    عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے طاقتور ترین فیصلہ سازوں میں شمار ہونے والے علی لاریجانی مارے گئے ہیں۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ایک کارروائی میں “ختم” کر دیا گیا ہے۔اسی دوران ایران کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے سربراہ کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ایرانی سیکیورٹی ڈھانچے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو نیٹو میں اپنی رکنیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک نہ تو ایران کے خلاف جاری جنگ میں مؤثر مدد فراہم کر رہے ہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی یقینی بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز، جس میں میرینز اور سیلرز سوار ہیں، آبنائے ملاکا کے قریب سنگاپور کے ساحل سے گزرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ فوجی تیاریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

    امریکہ کے ایک سینئر انسداد دہشتگردی انٹیلی جنس عہدیدار، جنہیں ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، نے اچانک استعفیٰ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ “ضمیر کے مطابق ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔”صدر ٹرمپ نے اس استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے “اچھی بات” قرار دیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایون جیل میں قید امریکی شہریوں کی حفاظت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سلامتی کا دارومدار موجودہ صورتحال پر ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایرانی جیلوں کو نشانہ نہیں بناتے تو ان قیدیوں کو محفوظ سمجھا جا سکتا ہے۔‎ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف پہلوؤں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن میں قیدیوں کی صورتحال بھی شامل ہے۔‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف نوعیت کے بیانات اور اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے امریکی میڈیا اداروں کے لائسنس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خطے میں ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے سے متعلق خبریں شائع کر رہے ہیں۔‎انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی رپورٹس قومی مفادات کے خلاف جا سکتی ہیں، اس لیے ان پر سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔‎ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا ایرانی عوام کو آزادی دلانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔‎ان کے اس بیان کے بعد میڈیا کی آزادی اور حکومتی پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ناقدین اسے اظہارِ رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ حامی اسے قومی سلامتی کے تناظر میں ضروری اقدام سمجھتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کو تمام پروازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ایک غیر معمولی احتیاطی فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔‎حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا، تاکہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔‎اس سے قبل امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی بتایا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی نگرانی، سراغ رسانی اور انہیں روکنے کے لیے سرگرم ہے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات بہتر ہونے پر فضائی حدود کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

    خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو مخصوص بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک صیہونی میڈیا ادارہ خطے کے بعض ممالک کی سیٹلائٹ اور میڈیا انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف اشتعال انگیزی، غلط معلومات کی ترسیل اور نفسیاتی جنگ میں مصروف ہے۔‎ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس میڈیا کو معاونت جاری رہی تو اس سے منسلک تمام مقامات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔‎بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے تمام عناصر اور سہولیات کو ایران کی ہدف فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جو اس سرگرمی میں کسی بھی شکل میں تعاون کر رہے ہوں۔‎اس بیان کے بعد خطے میں میڈیا تنصیبات اور سیٹلائٹ مراکز کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے

    
اطالوی میڈیا کے مطابق کویت میں واقع علی السالم ایئربیس پر ایک حملے کے نتیجے میں اٹلی کا جدید نگرانی ڈرون ایم کیو 9 اے پریڈیٹر تباہ ہو گیا ہے۔‎رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون ایک محفوظ شیڈ میں موجود تھا جب ایک ڈرون حملے کے ذریعے اس شیڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔‎ذرائع کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے اس ڈرون کی مالیت تقریباً 30 سے 35 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جو اسے ایک قیمتی عسکری اثاثہ بناتی ہے۔‎واقعے کے بعد ایئربیس پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

  • کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    افغان میڈیا نے کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

    افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں ، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے، افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی اسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے اسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔

    کابل اور ننگرہار میں حالیہ کارروائیوں کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی ہسپتال یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔پاکستانی مؤقف کے مطابق 16 مارچ 2026 کی شب کیے گئے حملے مکمل طور پر مخصوص عسکری اور دہشت گردی سے متعلق اہداف کے خلاف تھے، جن میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہیں، تکنیکی انفراسٹرکچر اور وہ مراکز شامل تھے جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا گیا اور تمام اہداف کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے ویڈیو شواہد بھی فراہم کیے گئے، جن میں ثانوی دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔‎پاکستانی حکام نے طالبان کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ کسی منشیات بحالی مرکز یا ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، اور اسے پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔
    ‎مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور یہ کارروائیاں انہی خطرات کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں۔‎پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ضروری اقدام جاری رکھے گی