اسلام آباد: ملک بھر میں آج سے مون سون بارشوں کے نئے اور طاقتور سلسلے کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی اداروں نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مختلف شہروں میں بارش کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں صبح سے بارش ہوئی۔ بری امام، بارہ کہو، بلیو ایریا، ایف-6 اور دیگر علاقوں میں ہونے والی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم بعض نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہری پور اور گردونواح میں موسلا دھار بارش کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی، جبکہ متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے نواحی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ شدید ریلے کی زد میں آکر کئی مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں لینڈ سلائیڈنگ کے افسوسناک واقعے میں دو مزدور جان کی بازی ہار گئے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں مکمل کرلی ہیں جبکہ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے۔
دریائے چناب میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے الرٹ کے بعد دریا سے ملحقہ آبادیوں سے شہریوں کا انخلاء شروع کردیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ادھر ضلع لیہ میں دریائے سندھ میں آنے والے شدید سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ دو سرکاری اسکول دریا برد ہوگئے جبکہ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں،خیبر ضلع میں بھی تیز بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلے بہہ نکلے۔ سلطان خیل کے مقام پر ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، تاہم گاڑی میں سوار خواتین اور بچوں کو بروقت بچالیا گیا جبکہ تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اسی طرح خوگہ خیل کے علاقے میں زکریا مسجد کے قریب بھی ایک گاڑی سیلابی ریلے کی نذر ہوگئی، جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 19 سے 23 جولائی کے دوران ملک کے مشرقی اور مغربی دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق شدید مون سون ہواؤں اور مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ 20 سے 23 جولائی کے دوران گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب میں کہیں کہیں انتہائی شدید بارشوں کا سبب بن سکتا ہے۔ادارے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی بالائی پنجاب میں فلیش فلڈ، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ دریائے چناب کے مقام مارالہ اور دریائے جہلم کے منگلا کے بالائی علاقوں میں بھی سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے اور متعلقہ صوبائی اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔









