Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مودی سرکار کا وندے ماترم کی توہین پر 3 سال قید کا قانون لانے کا فیصلہ

    مودی سرکار کا وندے ماترم کی توہین پر 3 سال قید کا قانون لانے کا فیصلہ

    مودی سرکار نے متنازع بھارتی ترانے وندے ماترم کی توہین پر 3 سال قید کا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بھارت کی مودی حکومت نے متنازع قومی گیت وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے لیے نیا قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا بل بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کل پارلیمنٹ میں پیش کریں گے،مجوزہ قانون کے تحت وندے ماترم گائے جانے کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے پر 3 سال تک قید کی سزا اور جرمانہ ہوسکے گا۔

    واضح رہے وندے ماترم کو بھارت کے قومی ترانے کی حیثیت حاصل نہیں، تاہم اسے قومی گیت قرار دیا جاتا ہے،بھارت کا قومی ترانہ جن گن من ہے، لیکن بھارت کی مودی سرکار اب وندے ماترم کے لیے بھی قانونی تحفظ کی خواہش مند ہے،قیامِ پاکستان سے پہلے مسلمانوں کی جانب سے وندے ماترم کی بھی مخالفت کی گئی تھی کیوں کہ اس کے بعض الفاظ کو مسلمان اپنے مذہبی عقائد کے خلاف سمجھتے تھے۔

  • فیفا ورلڈکپ، اسپین نے ارجنٹینا کو شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا

    فیفا ورلڈکپ، اسپین نے ارجنٹینا کو شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا

    نیویارک: فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو اضافی وقت میں 0-1 سے شکست دے کر 16 برس بعد دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ نیوجرسی میں کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلے میں اسپین نے ابتدا سے ہی کھیل پر مکمل گرفت برقرار رکھی اور ارجنٹینا کو پورے میچ میں ایک بھی شاٹ ہدف پر لگانے کا موقع نہ دیا۔

    پہلے ہاف میں اسپین نے مسلسل جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے ارجنٹینا کے گول پر متعدد حملے کیے، تاہم کوئی بھی کوشش گول میں تبدیل نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اسپین کی مضبوط دفاعی لائن نے ارجنٹینا کے تمام حملے ناکام بنائے، جس کے باعث وقفے تک مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا۔دوسرے ہاف میں بھی اسپین کا دباؤ برقرار رہا۔ مقررہ وقت کے اختتام سے کچھ دیر قبل اسپین کے کھلاڑی پر فاؤل کرنے پر ارجنٹینا کے فرنانڈس کو ریفری نے ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا، جس کے بعد ارجنٹینا کو باقی وقت دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔مقررہ 90 منٹ تک کوئی ٹیم گول نہ کر سکی، جس کے بعد میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔ اضافی وقت کے پہلے ہاف میں بھی مقابلہ برابر رہا، تاہم دوسرے ہاف کے آغاز میں اسپین کے فارورڈ فیرن ٹوریس نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو فیصلہ کن برتری دلا دی۔

    گول کے بعد ارجنٹینا نے واپسی کی بھرپور کوشش کی، لیکن اسپین کے مضبوط دفاع کے سامنے تمام حملے ناکام ثابت ہوئے اور یوں اسپین نے ایک صفر سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی چیمپئن کا تاج اپنے سر سجا لیا، جبکہ ارجنٹینا اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر سکا۔فائنل کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کے کپتان کو ورلڈکپ ٹرافی پیش کی جبکہ کھلاڑیوں میں انفرادی ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔

    اسپین کے روڈری کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیتے ہوئے گولڈن بال ایوارڈ دیا گیا۔ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی نے سلور بال حاصل کی۔اسپین کے پاؤل کوبارسی کو بہترین نوجوان کھلاڑی (ینگ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ) کا ایوارڈ ملا۔اسپین کے گول کیپر اُنائی سائمن بہترین گول کیپر قرار پائے۔فرانس کے اسٹار کیلیان ایمباپے نے 10 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ اپنے نام کی، جبکہ میسی نے ٹورنامنٹ میں 8 گول اسکور کیے۔

    ورلڈکپ جیتنے کے ساتھ ہی اسپین فٹبال کی تاریخ میں بیک وقت مینز اور ویمنز ورلڈ چیمپئن بننے والا پہلا ملک بن گیا۔ اسپین نے 2023 میں فیفا ویمنز ورلڈکپ بھی اپنے نام کیا تھا۔مزید یہ کہ اسپین نے پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول کھایا اور آٹھ میچز میں کوئی بھی ٹیم اس کے خلاف برتری حاصل نہ کر سکی، جو دفاعی اعتبار سے ایک تاریخی کارکردگی تصور کی جا رہی ہے۔

    فائنل میں ارجنٹینا کی ٹیم مقررہ 90 منٹ کے دوران گول پر ایک بھی شاٹ نہ لگا سکی، جس کے ساتھ وہ فیفا ورلڈکپ فائنل کی تاریخ میں مقررہ وقت کے دوران ہدف پر ایک بھی شاٹ نہ لگانے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ دوسری جانب اسپین نے پورے میچ میں 15 شاٹس لیے جن میں سے 9 ہدف پر تھے، جس سے اس کی مکمل برتری واضح رہی۔

  • امریکا کے نویں رات بھی ایران پر حملے،ایران کی جوابی کاروائی،عراقچی کا دوٹوک مؤقف

    امریکا کے نویں رات بھی ایران پر حملے،ایران کی جوابی کاروائی،عراقچی کا دوٹوک مؤقف

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران میدان جنگ میں واضح برتری حاصل کر لے گا، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی تنصیبات اور اہداف پر متعدد حملوں کے دعوے بھی کیے ہیں۔

    عباس عراقچی نے ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کا اختتام یا تو مکمل عسکری کامیابی کے ذریعے ممکن ہے یا پھر ایسے مذاکرات کے ذریعے جن سے پہلے فوجی محاذ پر ٹھوس اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سیاسی قیادت کو جنگ جاری رکھنے یا مذاکرات کا فیصلہ مکمل حساب کتاب اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کی جانوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں غیر ضروری خطرات مول نہیں لیے جا سکتے، اس لیے ہر مرحلے پر یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جنگ جاری رکھنے کا فائدہ زیادہ ہے یا اس کی قیمت۔ ان کے مطابق بعض نقصانات کے باوجود ایران اس تنازع کے دوران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر سامنے آیا اور اس نے اپنے نظام کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔

    اس سے قبل عباس عراقچی نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ 12 روزہ جنگ سے قبل ایران کو مذاکرات کے لیے دباؤ اور ترغیب دینے کی کوشش کی گئی، تاہم ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے اور نہ ہی لالچ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کسی صورت فروخت یا ترک نہیں کی جا سکتی اور جنگ کے باوجود ایران کی بنیادی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول دنیا کو اب احساس ہو چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی اہم اسٹریٹجک طاقت ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی کامیاب کارروائیاں کیں۔ سینٹکام کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فورسز مکمل طور پر مستعد ہیں اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے تیار رہیں گی۔

    ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے متعدد جوابی کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق کویت میں امریکی ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو ڈرون حملے میں تباہ کیا گیا جبکہ علی السالم ایئر بیس پر موجود ہینگر اور فوجی آلات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ MQ-9 ڈرون بیس پر حملے میں متعدد ڈرون تباہ کر دیے گئے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں سے تباہ ہو گئے اور جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز ایندھن کی ترسیل کے لیے محفوظ نہیں رہے گی۔

    علاوہ ازیں پاسداران انقلاب نے شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق صوبہ لرستان سے دشمن کے اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر بھی داغی گئی۔

    اسی دوران بحرین میں امریکی سفارتخانے نے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد ایران منامہ میں بعض مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ سفارتخانے نے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے عمان کے شمال مغرب میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع بھی دی ہے۔

  • وادی نیلم ، کٹھہ پیراں نالے میں کلاؤڈ برسٹ کے سبب طغیانی،گھر ،دکانیں،پل بہہ گئے

    وادی نیلم ، کٹھہ پیراں نالے میں کلاؤڈ برسٹ کے سبب طغیانی،گھر ،دکانیں،پل بہہ گئے

    وادی نیلم کے کٹھہ پیراں نالے میں کلاؤڈ برسٹ کے سبب طغیانی آگئی، گھر اور دکانیں متاثر ہوئے ہیں ۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ مکانات، دکانیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ریلے میں بہہ گئیں، کٹھہ پیراں میں سڑک اور پل بھی بہہ گئے جس سے آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ سے شدید تباہی، 25 دکانیں، ایک اسکول اور 6 مکانات مکمل تباہ، 25 مکانات کو جزوی نقصان، 14 پل اور 12 کلومیٹر سڑک بہہ گئی، جس سے 25 ہزار افراد محصور ہو گئے۔سیلابی ریلے سے درجنوں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ فصلیں، باغات، پل اور بجلی کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا، سیلاب میں مقامی افراد کے مویشی بھی بڑی تعداد میں بہہ گئے،شدید طغیانی کے باعث شاہراہِ نیلم پر شاہ کوٹ کے مقام پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔نیلم؛کلاوڈ برسٹ کے باعث کٹھہ پیراں ،شاہکوٹ کے علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے،

  • وفاقی وزرا اپنے بیانات پر معذرت کرنے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں،شرجیل میمن

    وفاقی وزرا اپنے بیانات پر معذرت کرنے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں،شرجیل میمن

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کشمیر میں ن لیگ کے بعض وفاقی وزرا کے غیر ذمے دارانہ بیانات سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اپنے جاری کردہ بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ ن لیگ کے وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے آزاد کشمیر میں منفی فضا پیدا کی، جس سے نہ صرف کشمیری عوام کے جذبات مجروح ہوئے بلکہ غیر سنجیدہ سیاست کے ذریعے ان کی توہین بھی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ن لیگ کے وفاقی وزرا اپنے بیانات پر معذرت کرنے کے بجائے غرور اور تکبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں، حالانکہ ذمہ دارانہ سیاست کا تقاضا تھا کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی مضبوط آواز بن کر سامنے آئے ہیں اور مختلف علاقوں میں موجود احساسِ محرومی کو ختم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ایک حقیقی مدبر اور اسٹیٹس مین کے طور پر قومی یکجہتی، سیاسی ہم آہنگی اور وفاق کے استحکام کے لیے سرگرم عمل ہیں، جبکہ ان کی کوشش ہے کہ سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ نے بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ تقاریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیانات سے حالات خراب ہو سکتے ہیں، جس پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

  • غلط بیانی کریں گے اور تمسخر اڑائیں گے تو آپ کو جواب دینا پڑے گا،طاہر اشرفی

    غلط بیانی کریں گے اور تمسخر اڑائیں گے تو آپ کو جواب دینا پڑے گا،طاہر اشرفی

    چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ پوری جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے اعصاب پر یہ ناچیز سوار ہے۔ میں اپنی زبان نہیں کھولنا چاہتا اس سے وہ لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو مولوی کو لڑتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ کاش مولانا پوری بات کرتے، مولانا فضل الرحمان نے ذکر کیا کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ ’’آپ کا جلسہ بہت اچھا رہا‘‘، مولانا یہ بھی بتا دیتے کہ میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ آپ نے بعض باتوں میں تجاوز کیا ہے، یہی بات میں نے مفتی ابرار سے بھی اسی مجلس میں عرض کی تھی۔ کچھ اور لوگوں نے بھی وہاں غیر مناسب بات کہی۔ اگر غلط بیانی کریں گے اور تمسخر اڑائیں گے تو آپ کو جواب دینا پڑے گا، آپ نے حقائق سے برعکس بہت سی باتیں کی ہیں جن کا متعلقہ حکام جواب دیں،تمام طبقات کی طرف سے شهداء كى حمايت کے بعد اب یوم صفائی اور معافی کا وقت ہوا چاہتا عقل مندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے،سچ اگر بولنا ہے تو پورا سچ بولیے، آدھا سچ نہیں۔اور اگر ہمت ہے تو یہ بھی قوم کو بتا دیجیے کہ آپ نے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کے سامنے کس کس کے نام کیا کیا عرضداشت پیش کی تھی اور کیا پیغام دیا تھا۔اگر ہم وہ حقائق بیان کریں گے تو پھر یقیناً آپ کو شکایت ہوگی۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ پورا سچ خود ہی بیان کر دیجیے۔

  • کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کاروائی

    کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کاروائی

    پاک افغان سرحد، کرم،کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ، پاکستان سیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی، دشمن کی توپیں خاموش کروا دی گئیں

    افغان طالبان نے کرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں کو بھاری ہتھیاروں، مارٹرز اور دیگر اسلحے سے بلااشتعال نشانہ بنایا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سمیت توپ خانے سے نشانہ بنایا۔ پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ شدید جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان متعدد پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے

    سرحدی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے دشمن کی کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے فورسز مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہیں۔

  • قصور: کیسر گڑھ میں واپڈا کے دو ملازمین ہی مبینہ طور پر بجلی چوری میں ملوث نکلے

    قصور: کیسر گڑھ میں واپڈا کے دو ملازمین ہی مبینہ طور پر بجلی چوری میں ملوث نکلے

    رپورٹ، سردار مظہر فاروق
    قصور کے نواحی گاؤں کیسر گڑھ میں لیسکو (واپڈا) کی جانب سے بجلی چوری کے خلاف گزشتہ روز کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران حیران کن انکشاف سامنے آیا، جہاں محکمہ کے اپنے ہی دو ملازمین مبینہ طور پر بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔

    ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف کنکشنز کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں دو ملازمین کے خلاف بھی بجلی چوری کے شواہد سامنے آئے۔ واقعے کے بعد مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عام صارفین کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں تو محکمہ کے اپنے ملازمین کو بھی قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز احتساب ضروری ہے اور کسی بھی سرکاری ملازم کو رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو متعلقہ ملازمین کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوامی حلقوں نے چیف لیسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ کیسر گڑھ کے اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اور واضح کیا جائے کہ بجلی چوری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن صرف عام صارفین تک محدود ہے یا محکمہ کے اپنے ملازمین پر بھی یکساں طور پر قانون کا اطلاق ہوگا۔

  • سفیان علی فاروقی کی کتاب "روشنی کے وارث” کی پروقار تقریبِ رونمائی

    سفیان علی فاروقی کی کتاب "روشنی کے وارث” کی پروقار تقریبِ رونمائی

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے نائب صدر سفیان علی فاروقی کی تصنیف "روشنی کے وارث” کی تقریبِ رونمائی مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کی، جبکہ اپووا کے وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، بانی صدر ایم ایم علی، کیپٹن (ر) خالد شاہین بٹ، حافظ محمد زاہد، ڈاکٹر فضیلت بانو، قرۃ العین خالد، رقیہ غزل، ناصر بشیر، کنول بہزاد، ریاض احمد احسان، رانا محمد اعظم خان، حافظ باسط ایڈووکیٹ، صاحبزادہ ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی، صاحبزادہ حذیفہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ، چوہدری غلام غوث، محمد اسامہ قاسم اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

    تقریب میں مقررین نے کتاب "روشنی کے وارث” اور اس کے مصنف سفیان علی فاروقی کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب نوجوان نسل کو اپنے ماضی، تہذیب، تاریخ اور قومی شناخت سے جوڑنے کی ایک مؤثر کاوش ہے۔ تقریب میں باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور بیورو چیف قصور طارق نوید سندھو بھی شریک ہوئے۔صدرِ تقریب مجیب الرحمن شامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "روشنی کے وارث” مختصر مگر جامع کتاب ہے، جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ماضی علم، تحقیق اور سائنس کے میدان میں قابلِ فخر رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر حال اور مستقبل کو بہتر بنائیں۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی قومی زبان اردو سے دور ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ اردو سے رشتہ کمزور ہونا اپنے ماضی اور قومی شناخت سے دوری کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس آج بھی اردو زبان کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ہماری جامعات عالمی درجہ بندی میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انگریزی ضرور سیکھیں، مگر اردو کو اپنی بنیادی قومی زبان کے طور پر اپنائے رکھیں، کیونکہ اردو کے بغیر پاکستانیت کا تصور ادھورا ہو جائے گا۔

    مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ سفیان علی فاروقی نے مختصر انداز میں ایک بڑے موضوع کو سمو کر واقعی "کوزے میں دریا بند کر دیا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہر نوجوان کو ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ وہ اپنے ماضی پر اعتماد بحال کرتے ہوئے مستقبل کی بہتر تعمیر کر سکے۔ انہوں نے اہلِ قلم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ قلم سے اپنا رشتہ مضبوط رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اپووا کے وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سفیان علی فاروقی تنظیم کا روشن ستارہ ہیں، جو علم و ادب کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "روشنی کے وارث” صرف ایک کتاب نہیں بلکہ شعور، دعوتِ فکر اور مثبت پیغام کا مجموعہ ہے۔ اس میں جغرافیہ، تاریخ سمیت مختلف پہلوؤں کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے اظہارِ امید کیا کہ سفیان علی فاروقی اسی طرح علم و آگہی کی روشنی پھیلاتے رہیں گے۔روشنی کے وارث کی تقریب رونمائی کے اختتامی مراحل میں ڈاکٹر مفتی رشید احمد العلوی نے دعا کروائی،تقریب کے اختتام پر معروف شاعرہ اور کالم نگار رقیہ غزل کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ شرکاء نے سفیان علی فاروقی کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی علمی خدمات کو سراہا،قبل ازیں شرکا کے اعزاز میں پرتکلف ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا.

  • قصور میں مبینہ غیر قانونی باڈی میکنگ ورکشاپوں کی بھرمار

    قصور میں مبینہ غیر قانونی باڈی میکنگ ورکشاپوں کی بھرمار

    قصور (طارق نوید سندھو سے ) شہر میں مبینہ طور پر غیر قانونی اور غیر معیاری رکشہ ، منی رکشہ، ٹریکٹر، بس اور دیگر گاڑیوں کی باڈیاں تیار کرنے والی متعدد پرائیویٹ ورکشاپیں سرعام چلائی جا رہی ہیں،

    تفصیلات کے مطابق ان غیرقانونی ورکشاپس کے متعلق پنجاب گورنمنٹ کے سخت احکامات کے باوجود سیکرٹری آر ٹی اے کی غفلت و ملکی بھگت سے قصور نیوبس ٹرمینل، دیپالپور روڈ،نزد بیاس کالج،کمال چشتی چوک،گنڈا سنگھ روڈ،پیرووالا روڈ پر غیرقانونی ورکشاپس قائم ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر غیرقانونی و غیر معیاری رکشہ ،بسیں اور دیگر گاڑیوں کی باڈیاں بنا کر فروخت کر رہے ہیں،شہریوں نے قصور سیکرٹری آر ٹی اے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوۓ وزیر اعلیٰ پنجاب سے سیکرٹری آر ٹی اے عثمان کے ٹرانسفر و ان کی غفلت و ملی بھگت کرنے پر انکوائری کا مطالبہ کیا ایک ذرائع کے مطابق ان ورکشاپوں میں گاڑیوں کی باڈیاں مقررہ حفاظتی اور تکنیکی معیار کے بغیر تیار کی جا رہی ہیں اور ناقص میٹیریل کا استعمال بھی کیا جارہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ہیں تو ایسی گاڑیاں سڑکوں پر چلنے والے افراد کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں اور کسی بھی وقت بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔

    اس معاملے پر آر ٹی اے سیکرٹری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مختلف اوقات میں متعدد ورکشاپوں کو سیل کیا گیا اور جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق یہ ورکشاپس چند روز تک سیل کر دیجاتی ہیں جبکہ ساتھ معمولی نوعیت کے جرمانے کر کے سیکرٹری آر ٹی اے بری ذمہ ہو جات ہے جبکہ ان غیر قانونی ورکشاپس کے مالکان کو دوبارہ غیر قانونی دہندہ کرنے کے لیے شیلٹر دے دیا جاتا ہے ،ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ سے بھی اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی،شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں باڈی میکنگ ورکشاپوں کا جامع سروے کرایا جائے، قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والی ورکشاپوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، سیکرٹری آر ٹی اے مبینہ غفلت و ملی بھگت پر انکوائری کی جانی چاہے