ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران میدان جنگ میں واضح برتری حاصل کر لے گا، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی تنصیبات اور اہداف پر متعدد حملوں کے دعوے بھی کیے ہیں۔
عباس عراقچی نے ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کا اختتام یا تو مکمل عسکری کامیابی کے ذریعے ممکن ہے یا پھر ایسے مذاکرات کے ذریعے جن سے پہلے فوجی محاذ پر ٹھوس اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سیاسی قیادت کو جنگ جاری رکھنے یا مذاکرات کا فیصلہ مکمل حساب کتاب اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کی جانوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں غیر ضروری خطرات مول نہیں لیے جا سکتے، اس لیے ہر مرحلے پر یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جنگ جاری رکھنے کا فائدہ زیادہ ہے یا اس کی قیمت۔ ان کے مطابق بعض نقصانات کے باوجود ایران اس تنازع کے دوران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر سامنے آیا اور اس نے اپنے نظام کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔
اس سے قبل عباس عراقچی نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ 12 روزہ جنگ سے قبل ایران کو مذاکرات کے لیے دباؤ اور ترغیب دینے کی کوشش کی گئی، تاہم ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے اور نہ ہی لالچ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کسی صورت فروخت یا ترک نہیں کی جا سکتی اور جنگ کے باوجود ایران کی بنیادی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول دنیا کو اب احساس ہو چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی اہم اسٹریٹجک طاقت ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی کامیاب کارروائیاں کیں۔ سینٹکام کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فورسز مکمل طور پر مستعد ہیں اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے تیار رہیں گی۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے متعدد جوابی کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق کویت میں امریکی ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو ڈرون حملے میں تباہ کیا گیا جبکہ علی السالم ایئر بیس پر موجود ہینگر اور فوجی آلات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ MQ-9 ڈرون بیس پر حملے میں متعدد ڈرون تباہ کر دیے گئے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں سے تباہ ہو گئے اور جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز ایندھن کی ترسیل کے لیے محفوظ نہیں رہے گی۔
علاوہ ازیں پاسداران انقلاب نے شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق صوبہ لرستان سے دشمن کے اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر بھی داغی گئی۔
اسی دوران بحرین میں امریکی سفارتخانے نے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد ایران منامہ میں بعض مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ سفارتخانے نے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے عمان کے شمال مغرب میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع بھی دی ہے۔