Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • حکومت دہشت گردوں ، سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرے.حافظ خالد نیک

    حکومت دہشت گردوں ، سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرے.حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے بلوچستان کے شہر بارکھان میں دہشتگردوں کی جانب سے بس کے مسافروں کو جاں بحق کرنے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

    حافظ خالد نیک نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔حافظ خالد نیک نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر نشانہ بنانے والے انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں۔بلوچستان میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے. آئے روز بلوچستان میں ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں.بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے سیاسی یکجہتی ، اتحاد کی ضرورت ہے. وطن عزیز کے دشمن بلوچستان میں اس طرح کی دہشت گردی کی کاروائیاں کر کے سی پیک سمیت ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں. ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے حکومت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرے.

    حافظ خالد نیک کا مزید کہنا تھا کہ نہتے اور معصوم شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ پاکستان میں امن ہو گا تو ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔وفاقی و صوبائی حکومت اس طرح کے واقعات کا سدباب کرے اور بلوچستان میں قیام امن کے لئے اقدامات کرے.

  • سعودی عرب عالمی سطح پر قیام امن کے لیے ایک قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔مرکزی مسلم لیگ

    سعودی عرب عالمی سطح پر قیام امن کے لیے ایک قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔مرکزی مسلم لیگ

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے سعودی عرب میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکراتی عمل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر قیام امن کے لیے ایک قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی و بدامنی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ خالد، نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا. سیف اللہ خالد کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی عرب میں مذاکراتی عمل کا آغاز ایک نیک شگون ہے۔ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ممکن ہے، اور اس کی ایک مثال حماس کی اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی کامیابی ہے، جس کے ذریعے حماس نے اسرائیل کو بات چیت کی میز پر بٹھایا۔ دنیا کا جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے باوجود حماس کے جذبے کو شکست نہیں دی جا سکی۔

    حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔ رم میں بدامنی کے خاتمے کے لیے حکومت کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ بیرونی قوتیں منظم سازشوں کے ذریعے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔حکمران اپنی ترجیحات میں تبدیلی لائیں اور پاکستان کو دشمنوں کی سازشوں اور دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ پاکستان کے عوام امن چاہتے ہیں اور حکومت کو عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

  • اڈیالہ جیل کیوں لے جا رہے؟ ملزم منتقلی کے دوران بھاگ گیا

    اڈیالہ جیل کیوں لے جا رہے؟ ملزم منتقلی کے دوران بھاگ گیا

    اسلام آباد: منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزم نعمان اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران پولیس کی حراست سے فرار ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق، ملزم کو چکوال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم اڈیالہ جیل پہنچنے کے دوران وہ پولیس کی حراست سے فرار ہو گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نعمان نے جیل کے گیٹ پر جیل میں کام کرنے والے تعمیراتی مزدوروں کی مدد سے پولیس کی نظروں سے بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کس طرح ملزم جیل کے اندرونی علاقوں تک پہنچا اور کیسے اس کی فرار کی کارروائی ہوئی۔سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم جیل کی تین چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے جیل کی حدود میں داخل ہو گیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی شروع کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے جیل کے ارد گرد سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور فرار میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس واقعے کی حقیقت سامنے آ سکے اور ملزم کو جلد از جلد دوبارہ گرفتار کیا جا سکے۔

  • فیصل واوڈا کا کراچی پورٹ کی زمین کےسودوں پر گہری تشویش کا اظہار

    فیصل واوڈا کا کراچی پورٹ کی زمین کےسودوں پر گہری تشویش کا اظہار

    سینیٹ قائمہ کمیٹی بحری امور کے چیئرمین سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پورٹ کی 40 ارب روپے کی سرکاری قیمت کی زمین صرف 5 ارب روپے میں دے دی گئی ہے۔

    یہ انکشاف سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت فیصل واوڈا نے کی۔ اجلاس میں فیصل واوڈا نے کراچی پورٹ کی زمین کے حوالے سے کیے گئے سودوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ کی 500 ایکڑ اراضی کی مارکیٹ ویلیو 60 ارب روپے سے زیادہ ہے، مگر اس زمین کو انتہائی کم قیمت پر الاٹ کیا گیا۔فیصل واوڈا نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کراچی پورٹ کی زمین کی الاٹمنٹ کے معاملات میں ایک بڑا اسکینڈل چھپایا جا رہا ہے اور ان سودوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ میں زمین کی الاٹمنٹ کو شفاف بنایا جائے گا اور ایس آئی ایف سی کی مشاورت سے اس حوالے سے آئندہ اقدامات کیے جائیں گے۔چیئرمین سینیٹ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ان معاملات میں ہر سطح پر تحقیقات کی جائیں تاکہ کراچی پورٹ کی زمین کی الاٹمنٹ میں ہونے والی بے ضابطگیاں سامنے آئیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • بیرونی طاقتیں کرم میں  گولہ بارود اور بھاری ہتھیار فراہم کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بیرونی طاقتیں کرم میں گولہ بارود اور بھاری ہتھیار فراہم کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کرم کا مسئلہ صرف زمین کا تنازع نہیں بلکہ ایک فرقہ وارانہ تنازع ہے جس میں بیرونی طاقتیں پوری طرح ملوث ہیں۔

    انہوں نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرم کے مسئلے کا حل 103 سال سے نہیں نکل سکا، اور یہ محض زمین کا تنازع نہیں ہے، جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس قسم کے تنازعات زمین پر ہوتے ہیں لیکن کرم میں پوری کی پوری جماعتوں کا ملوث ہونا اس کو زمین کے تنازعے سے بڑھ کر ایک فرقہ واریت کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ بیرونی طاقتیں کرم میں اسلحہ، گولہ بارود اور بھاری ہتھیار فراہم کر رہی ہیں تاکہ یہاں کی چنگاری سے پورے ملک میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکایا جا سکے۔

    علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ اگر جرگے کے ذریعے مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو یہ بہترین ہوگا، تاہم حکومت کی تیاری مکمل ہے اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کرم میں بچ نہیں سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں اسلحہ اور بارود کی سپلائی کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں بیرونی قوتوں کا کردار ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ کرم میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب روپے کے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں اور ہیڈ منی بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے اور دہشت گردی پھیلانے والوں کو سزا ضرور ملے گی۔

  • ڈیجیٹل کرنسی کو ریگیولیٹ کرنے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے. وزیرِاعظم

    ڈیجیٹل کرنسی کو ریگیولیٹ کرنے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے. وزیرِاعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اقتصادی مشاورتی کونسل کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ملک کی اقتصادی صورتحال اور ترقی کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کے ساتھ وفاقی وزراء، مشیران، اور کونسل کے ارکان نے شرکت کی۔

    وزیرِ اعظم نے کونسل کے ارکان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "معاشی استحکام فرد واحد نہیں، بلکہ پوری ٹیم کی کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے مزید محنت کے لیے پرعزم ہے اور اس کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک میں مقامی صنعت کو اس قابل بنائے گی کہ ہماری برآمدات بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں اور اس کے لیے گرین ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے کہا کہ "خطے میں تجارت کے فروغ کی موجودہ استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔”

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی بہتری اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ آئی ٹی برآمدات اور فری لانسرز کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ڈیجیٹل کرنسی کو ریگیولیٹ کرنے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور ہم اس کو ایک موثر منصوبے میں تبدیل کریں گے۔”

    اجلاس میں شرکاء نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اقدامات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت شروع کی ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے ٹیکس نظام کی بہتری، ضابطوں میں آسانی اور کاروبار و سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی سے ملکی صنعت میں ترقی کو فروغ دیا ہے۔شرکاء نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اسمگلنگ کی روک تھام سے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو ایک خوش آئند عمل ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس پیشرفت کو سراہا اور کہا کہ "پاکستان کی معیشت مستحکم اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔”

    کونسل کے ارکان نے وزیرِ اعظم کو مختلف شعبوں کے حوالے سے تجاویز پیش کیں اور وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کونسل کے ارکان سے مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں تاکہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔اس اجلاس میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ وزیرِ مملکت علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل، اور متعلقہ اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔

  • اب لانگ مارچ، دھرنوں اور پُرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نواز شریف

    اب لانگ مارچ، دھرنوں اور پُرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نواز شریف

    مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اب کسی بھی ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے جو تعمیر و ترقی کے سفر میں رکاوٹ ڈالے یا مصنوعی سیاسی بحران پیدا کرے۔

    نواز شریف نے ان خیالات رائیونڈ میں اپنی رہائش گاہ پر سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور امور خارجہ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی سے ملاقات کے دوران کا اظہار کیا۔نواز شریف نے کہا کہ ملک میں مصنوعی سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک گروہ ایسا ہے جس کے پاس سنجیدہ مذاکرات اور سیاسی افہام و تفہیم کی صلاحیت نہیں ہے، اور اگر 2013 سے شروع ہونے والے تعمیری اور ترقیاتی سفر کو جاری رکھا جاتا تو آج پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) یا بیرونی امداد کی ضرورت نہ ہوتی۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام اب کسی بھی ایسے شخص یا گروہ کو ترقی کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ سیاست اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور قدروں سے ناواقف عناصر کو اب لانگ مارچ، دھرنوں اور پُرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ 2013 میں شروع ہونے والے ترقیاتی عمل کو اگر اسی رفتار سے جاری رکھا جاتا تو آج پاکستان کو نہ آئی ایم ایف کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہوتی۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، کو ایک پُرامن اور ترقی پذیر ملک کی ضرورت ہے جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق مواقع ملیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے پاکستان دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو رہا ہے، اور اب ضرورت ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ان عناصر کے عزائم کو بے نقاب کیا جائے جو ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    نواز شریف نے مزید کہا کہ یہ عناصر سنجیدہ مذاکرات اور سیاسی افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ مؤثر طریقے سے اپنا کردار ادا کریں اور عوام کے ساتھ مضبوط رابطے قائم کریں۔ اس موقع پر سینیٹر عرفان صدیقی نے نواز شریف کو سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔

  • دہشت گرد تنظیم داعش کا  انٹرنیشنل نیٹ ورک بے نقاب،کئی گرفتار

    دہشت گرد تنظیم داعش کا انٹرنیشنل نیٹ ورک بے نقاب،کئی گرفتار

    پاکستان کے وفاقی حساس ادارے نے دہشت گرد تنظیم داعش کے ایک بڑے انٹرنیشنل نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے کئی غیر ملکی دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    یہ کارروائی ملکی سلامتی کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی ہے اور دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔اس نیٹ ورک کے افراد کی گرفتاریاں پاکستان کے مختلف شہروں، بشمول اسلام آباد، کراچی اور بلوچستان سے کی گئیں۔گرفتار افراد سے تفتیش کے دوران مزید اہم معلومات حاصل کی گئیں جس کی بدولت مزید دہشت گردوں کو پکڑا گیا۔ذرائع کے مطابق غیر ملکی دہشت گردوں کو مقامی سہولت کاری میسر تھی، سہولت کار پورا راستہ اور چلنے کا پورا طریقہ سمجھاتے تھے۔

    پاکستان کے حساس اداروں کی کامیاب کارروائیوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے، اور اقوام متحدہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے عالمی امن و سلامتی کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس کارروائی کی تحسین کی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو سراہا۔یہ کامیابی پاکستانی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے گئے عزم کی ایک اور مثال ہے۔

  • وزیراعظم  کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بحرین کی مجلس النواب کے اسپیکر جناب احمد بن سلمان ال مسالم کی قیادت میں 11 رکنی پارلیمانی وفد نے ملاقات کی ہے

    وزیراعظم نےبحرین کے فرمانروا عزت مآب حمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اور بحرین کے برادرانہ تعلقات انتہائی مضبوط اور مشترکہ عقیدے، تاریخ اور ثقافت پر مبنی ہیں، عوامی رابطوں کو مزید مضبوط بڑھانے کیلئے پارلیمانی وفود کے تبادلے انتہائی اہم ہیں،ایسے اقدامات سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے،

    وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ بحرین میں موجود پاکستانی مختلف شعبوں میں انتہائی اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں،وزیراعظم نےپاکستان اور بحرین کے موجودہ تجارتی حجم کو مزید بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان، بحرین اور پوری امت مسلمہ غزہ اور فلسطین میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی امداد کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں،

    ملاقات میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے.

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد ، تو پھر جمشید دستی نے الیکشن کیسے لڑا؟الیکشن کمیشن حیران

  • کاغذاتِ نامزدگی مسترد  ، تو پھر جمشید دستی نے الیکشن کیسے لڑا؟الیکشن کمیشن حیران

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد ، تو پھر جمشید دستی نے الیکشن کیسے لڑا؟الیکشن کمیشن حیران

    رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی۔

    اس کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار امیر اکبر اور ذوالفقار ڈوگر اپنے وکلا کے ساتھ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، تاہم جمشید دستی کی جانب سے کسی بھی وکیل یا نمائندے کی پیشی نہ ہوئی۔سماعت کے دوران ممبر الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کی کاغذاتِ نامزدگی کے معاملے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جب ریٹرننگ افسر نے جمشید دستی کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے، تو پھر جمشید دستی نے الیکشن کیسے لڑا؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے وضاحت پیش کی کہ ہائی کورٹ کے حکم پر جمشید دستی کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے تھے۔

    الیکشن کمیشن کے ممبر نے مزید کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ کیا ہائی کورٹ کے پاس کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری دینے کا اختیار تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ اپیلیٹ ٹریبونل انتخابی کیسز کی سماعت کرتا ہے اور ممبران کی نااہلی کے کیسز اسپیکر کو بھجوائے جاتے ہیں۔دورانِ سماعت، الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کی راہداری ضمانت کے حوالے سے بھی گفتگو کی، جس میں 30 ستمبر تک راہداری ضمانت منظور کی گئی تھی۔ اس پر الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔