Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکہ بھارت کو کروڑوں ڈالر کیوں دےرہا، ٹرمپ نے سوال اٹھا دیا

    امریکہ بھارت کو کروڑوں ڈالر کیوں دےرہا، ٹرمپ نے سوال اٹھا دیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو مالی امداد دینے کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس بہت پیسہ ہے، اور یہ سمجھنے میں مشکل ہے کہ امریکا انہیں کروڑوں ڈالر کیوں دے رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایلون مسک کے محکمے ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے حکومتی اخراجات کم کرنے کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے یہ سوال کیا کہ امریکا بھارت کو 21 ملین ڈالر کی خطیر رقم کیوں دے رہا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں، اور وہاں سے امریکا شاید ہی کچھ حاصل کر پاتا ہے کیونکہ ان کا ٹیکس ریٹ بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بھارت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بہت احترام کرتے ہیں، مگر پھر بھی وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ووٹر ٹرن آؤٹ کی حمایت کے لیے بھارت کو اتنی بڑی رقم کیوں دی جارہی ہے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایلون مسک کے محکمے DOGE نے حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے 273 ملین ڈالر کی بیرونی امداد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے میں سے 20 ملین ڈالر بھارت کو ملتے تھے، جبکہ 29 ملین ڈالر بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو مستحکم کرنے کے لیے مختص تھے۔

    ٹرمپ کا یہ بیان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ کے ایک اہم رکن، اکنامک ایڈوائزری کونسل کے ممبر سنجیو ساں یل کے حالیہ بیان کے کچھ دن بعد آیا۔ سنجیو ساں یل نے DOGE کی جانب سے بھارتی امداد کی بندش کے فیصلے کو USAID پروگرام کا "سب سے بڑا فراڈ” قرار دیا تھا۔یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر تنازعات اور بحث کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ مختلف ممالک اپنی امدادی پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں، اور یہ ایک نیا سنگ میل بن سکتا ہے جس میں عالمی امدادی نظام پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اپنے سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرست میں ہونے والی ریجنل کانفرنس میں شرکت کریں گے، جہاں وہ ابھرتے ہوئے عالمی آرڈر اور پاکستان کے مستقبل پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس کانفرنس کو فوجی ڈائیلاگ کا ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل سید عاصم منیر کے دورے کے آغاز پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس میں تاریخی "رائل ہارس گارڈز پریڈ گراؤنڈ” پر ایک سرکاری گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اس دوران، آرمی چیف برطانوی عسکری اور سول قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف، چیف آف جنرل اسٹاف اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے بات چیت شامل ہے۔مزید برآں، آرمی چیف کی ملاقات برطانوی ہوم سیکریٹری سے بھی شیڈول میں شامل ہے۔ اس دورے کے دوران، آرمی چیف لینڈ وارفیئر سینٹر اور فرسٹ سٹرائیک بریگیڈ کا بھی دورہ کریں گے۔

    یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے ایک اہم موقع ہے۔

  • عمران خان سے بشریٰ  کی ملاقات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    عمران خان سے بشریٰ کی ملاقات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کی درخواست پر عدالت نے طلب کرلیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس حوالے سے سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے 27 فروری کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت دی۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بشریٰ بی بی سے ملاقات کے حوالے سے عدالت کے حکم پر عمل نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ وکیل فیصل چودھری نے عدالت میں بیان دیا کہ 28 جنوری کو جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں بشریٰ بی بی کی ملاقات کرانے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب تک ملاقات کرانے میں ناکامی رہی ہے۔سماعت کے دوران، قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے استفسار کیا کہ اس عدالت کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ اسٹیٹ کونسل کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اس حکم کی تعمیل کو یقینی بنائے۔عدالت نے اس معاملے کی مزید سماعت 27 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ذاتی طور پر عدالت میں طلب کرلیا۔

  • میڈیا کو بھی رپورٹنگ میں احتیاط کرنا چاہیے۔جسٹس جمال خان مندوخیل

    میڈیا کو بھی رپورٹنگ میں احتیاط کرنا چاہیے۔جسٹس جمال خان مندوخیل

    سپریم کورٹ ، آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سماعت کی۔دورانِ سماعت اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آج عذیر بھنڈاری نے دلائل دینے تھے، بھنڈاری صاحب سے بات کر لی ہے، آج میں دلائل دوں گا۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ لوگ آپس میں طے کر لیں ہمیں اعتراض نہیں کہ دلائل کون پہلے دے کون بعد میں۔اعتزاز احسن نے سلمان اکرم راجہ کے گزشتہ روز کے دلائل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجہ بھی میرے وکیل ہیں، انہوں نے کل جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، میں نے سلمان اکرم راجہ کو ایسی کوئی ہدایت نہیں دی تھی، جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اعتراض شاید صرف آرٹیکل 63 اے والے فیصلے سے متعلق ہے۔

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جسٹس منیب کے فیصلے کے صرف ایک پیرا گراف سے اختلاف کیا تھا، کل دلائل ارزم جنید کی جانب سے دیے تھے اور ان پر قائم ہوں، میڈیا میں تاثر دیا گیا جیسے پتہ نہیں میں نے کیا بول دیا ہے، آپ کے سوال کو سرخیوں میں رکھا گیا کہ عالمی قوانین میں سویلینز کے کورٹ مارشل کی ممانعت نہیں۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ جو سوال پوچھا تو وہ سب کے سامنے ہے، سوشل میڈیا نہ دیکھا کریں ہم بھی نہیں دیکھتے، سوشل میڈیا کو دیکھ کر نہ اثر لینا ہے نہ اس سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میڈیا کو بھی رپورٹنگ میں احتیاط کرنا چاہیے۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بغیر کسی معذرت کے اپنے دلائل پر قائم ہوں۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سوال تو ہم صرف مختلف زاویے سمجھنے کے لیے کرتے ہیں، ہو سکتا ہے ہم آپ کے دلائل سے متفق ہوں۔اعتزاز احسن نے اپنی درخواست کا نمبر تبدیل ہونے پر اعتراض اٹھا دیا ، کہا کہ میری درخواست پہلے دائر ہوئی تھی، جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہیں، جواد ایس خواجہ کی بعد میں دائر درخواست کو میرا کیس نمبر الاٹ کر دیا گیا۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایسا نہ کریں، ایسی باتوں سے اور کہیں پہنچ جائیں گے۔وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں اس کیس پر ہیں، اس کیس کی وجہ سے سپریم کورٹ انڈر ٹرائل ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سپریم کورٹ انڈر ٹرائل نہیں ہے، عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کا تاریخ پھر جائزہ لیتی ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ لطیف کھوسہ صاحب آپ کا چشمہ آگیا ہے؟ قانونی نکات پر دلائل شروع کریں، پہلے سیکشن ٹو ڈی کی قانونی حیثیت پر دلائل دیں۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سیکشن ٹو ڈی کو 9 اور 10 مئی کے ساتھ مکس نہ کریں، پہلے ان سیکشن کی آزادانہ حیثیت کا جائزہ پیش کریں، سیکشن ٹو ڈی کا 9 مئی اور 10 مئی پر اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، سیکشن ٹو ڈی برقرار نہیں رکھا جا سکتا، ملٹری کورٹس تشکیل کو تاریخی تناظر میں دیکھنا ہو گا۔

  • کراچی میں چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    کراچی میں چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    کراچی میں شروع ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے میچز کے لیے فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے ایس ایس یو ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود احمد نے کی۔ اجلاس میں میچ دیکھنے آنے والے شائقین کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔

    چیمپئنز ٹرافی کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایس ایس یو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 6700 سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔ ان میں ایس ایس یو کے 1045 کمانڈوز بشمول لیڈی کمانڈوز، سیکیورٹی ڈویژن کے 1745، ٹریفک پولیس کے 1390، اور اسپیشل برانچ کے 328 اہلکار شامل ہیں۔ یہ اہلکار نیشنل بینک کرکٹ اسٹیڈیم، کراچی ایئرپورٹ، روٹس، پارکنگ پوائنٹس، ہوٹلز اور دیگر حساس مقامات پر اپنے فرائض انجام دیں گے۔سیکیورٹی پلان کے مطابق ماہر نشانہ باز بھی حساس مقامات پر تعینات کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، ایس ڈبلیو اے ٹی ٹیم کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رکھا جائے گا، اور یہ ٹیم اسٹیڈیم کے اطراف گشت بھی کرے گی۔

    شائقین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میچ کے دوران سر شاہ سلیمان روڈ استعمال کرنے سے گریز کریں اور متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔ نیشنل بینک کرکٹ اسٹیڈیم میں پارکنگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے، جس میں چائنہ گراؤنڈ، نیشنل کوچنگ سینٹر اور ایکسپو سینٹر شامل ہیں۔اسٹیڈیم میں داخلے کے لیے صرف مخصوص گیٹس استعمال کیے جا سکیں گے، جن میں گیٹ نمبر 04، 05، 06، 12، 13، اور 14 شامل ہیں۔ وی آئی پیز اور اسٹیکرز یا پاسز کی حامل گاڑیاں گیٹ نمبر 8 سے داخل ہو سکیں گی۔ اسٹیڈیم میں کسی بھی قسم کی آتشیں اسلحہ، کھلونا بندوق، دھماکا خیز مواد، یا ممنوعہ اشیاء لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید برآں، اسٹیڈیم کے اندر کھانے پینے کی اشیاء اسٹالز پر دستیاب ہوں گی۔

    ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا کہ سندھ پولیس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام شرکاء کے لیے ایک پُر امن اور خوش گوار ماحول فراہم کیا جائے۔ ایس ایس یو کی خصوصی کمانڈ اینڈ کنٹرول بس اسٹیڈیم کے اطراف امن و امان کی نگرانی کے لیے تعینات کی جائے گی، اور اسٹیڈیم کے اطراف تمام سڑکیں ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے کھلی رہیں گی۔یہ سیکیورٹی انتظامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ چیمپئنز ٹرافی 2025ء کا انعقاد کراچی میں امن و سکون کے ساتھ ہو۔

  • وزیر آئی ٹی شزا خواجہ کی 4ویں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن  میں پاکستان کی نمائندگی

    وزیر آئی ٹی شزا خواجہ کی 4ویں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن میں پاکستان کی نمائندگی

    وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اردن کے شہر ڈیڈ سی میں منعقدہ ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (DCO) کی 4ویں جنرل اسمبلی کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

    اس اجلاس میں پاکستان نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل معیشت اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے اجلاس میں پاکستان کے ڈیجیٹل ترقی کے وژن اور اس کے عالمی تعاون کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کو عالمی ترقی کے لیے ایک اہم ستون قرار دیا اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل ترقی کی حمایت میں شراکت داری بڑھانے پر زور دیا۔ وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل انقلاب میں اہم کردار ادا کرے گا، اور اس کے لیے عالمی سطح پر شراکت داری اور تعاون کی ضرورت ہے۔

    اس اجلاس میں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے بین الاقوامی وزراء کے ساتھ پاکستان کے ڈیجیٹل ایجنڈے کو شیئر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نہ صرف ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں آگے بڑھ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنے تجربات کو دیگر ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔وزیر شزا فاطمہ خواجہ کی فعال شرکت کے دوران ڈیجیٹل اسکلز، ٹیکنالوجی پارٹنرشپ، اور مختلف رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ڈیجیٹل اسکلز کی ترقی، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی پارٹنرشپ کا قیام اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں پاکستان ایک مرکزی کردار ادا کرے گا۔

    اس وزارتی اجلاس میں پاکستان کے ڈیجیٹل تعاون کے فروغ میں اہم کردار کو سراہا گیا اور عالمی سطح پر پاکستان کی حکمت عملی کو تسلیم کیا گیا۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسیوں کو نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ماڈل قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت عالمی معیشت پر اثر انداز ہو گی۔وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا مقصد نہ صرف اپنے ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو مستحکم کرنا ہے بلکہ عالمی سطح پر تعاون کی بنیاد پر نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

  • مفتی قوی کا سن کر بیہوش ہو گئی، کوئی پاکستانی پولیس والا شادی کرے گا؟ راکھی ساونت

    مفتی قوی کا سن کر بیہوش ہو گئی، کوئی پاکستانی پولیس والا شادی کرے گا؟ راکھی ساونت

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ راکھی ساونت نے پاکستانی اداکار ڈوڈی خان اور مفتی قوی کی جانب سے شادی کے پروپوزلز پر بات کرتے ہوئے ایک نئی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ راکھی ساونت نے حال ہی میں ٹیلی فون پر میزبان متھیرا سے گفتگو کی، جس میں انہوں نے ان دونوں پروپوزلز پر اپنی رائے دی اور پاکستانی پولیس اہلکار سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔

    راکھی ساونت نے کہا کہ "میں نے بالی وڈ میں آئٹم سونگ کا آغاز کیا، اور میں ہمیشہ سے ایک شریف لڑکی رہی ہوں۔ ڈوڈی خان نے مجھ سے شادی کی بات کی اور پھر اچانک یوٹرن لے لیا۔ وہ تقریباً ڈیڑھ سال تک مجھ سے تعلق میں تھے، لیکن پہلے انہوں نے مجھ سے شادی کی بات کی اور پھر مجھے بھائی سے شادی کرانے کی بات کر دی۔ میں انسان ہوں، چاکلیٹ نہیں،

    راکھی ساونت نے مفتی قوی کی جانب سے شادی کے پروپوزل کے حوالے سے کہا، "مفتی قوی کا پروپوزل سن کر میں بے ہوش ہو گئی تھی۔ میں بھی ثناء خان کی طرح مولانا سے ہی شادی کرنا چاہتی ہوں۔ مفتی قوی مجھے بہت پسند ہیں لیکن ان کو جم جاکر اپنا وزن کم کرنا چاہیے۔ انہیں ڈوڈی خان کی طرح باڈی بنانی چاہیے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ "میری فیملی میں بھائی کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ میرے والد کی خواہش تھی کہ میری شادی ایک پولیس اہلکار سے ہو۔ مجھے پاکستانی پولیس اہلکار بہت ہینڈسم لگتے ہیں۔ کیا پاکستان میں کوئی پولیس اہلکار میرا ہاتھ تھامنے کے لیے تیار نہیں؟”

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    پاکستان میں کرکٹ کا عالمی میلہ 29 سال بعد، کراچی میں چیمپئنز ٹرافی

  • طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں شدید مالیاتی بحران

    طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں شدید مالیاتی بحران

    افغانستان میں طالبان کے زیر اقتدار آنے کے بعد ملک کی اقتصادی اور مالیاتی صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں، افغانی کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی آئی ہے، جس کے باعث معاشی مسائل میں مزید شدت آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس نے عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرایا ہے۔

    افغانستان میں افغانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے عام افراد کو روزمرہ کی خریداری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں افغانی کرنسی کا تبادلہ شرح اس وقت 73.58 افغانیاں فی ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو پچھلے کچھ مہینوں میں ایک سنگین تبدیلی ہے۔ جنوری 2025 میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت افغانستان کو غیر ملکی امداد فراہم کرنے کا عمل معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں افغانی کرنسی مزید کمزور ہو گئی اور 69 افغانیوں سے بڑھ کر 80 افغانیاں ایک ڈالر کے برابر ہو گئیں۔

    افغانستان کے مرکزی بینک، "دی افغانستان بینک” (DAB) نے کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں حالیہ مہینوں میں کئی نیلامیاں کی ہیں۔ 30 اگست کو بینک نے 20 ملین ڈالر کی نیلامی کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد مارکیٹ میں ڈالر کے دباؤ کو کم کرنا تھا۔ اس نیلامی میں کرنسی ایکسچینجرز اور تجارتی بینکوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ کامیاب بولی دہندگان کو کاروباری دن کے اختتام تک مکمل ادائیگی کرنا تھی، جزوی ادائیگیاں قبول نہیں کی گئیں۔ اس سے پہلے 17 اگست کو 25 ملین ڈالر کی نیلامی بھی کی گئی تھی تاکہ افغانی کرنسی کی قدر کو مستحکم کیا جا سکے۔

    افغانستان میں اقتصادی بحران کا ایک اور بڑا پہلو اس ملک سے لاکھوں افراد کی ہجرت ہے۔ یہ بحران اس وقت مزید بڑھا ہے جب 7 لاکھ سے زائد افغانوں نے اقتصادی مشکلات کے باعث اپنے وطن کو چھوڑ دیا۔ بیرون ملک جانے والے یہ افراد، زیادہ تر اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی حالات کا شکار ہیں۔

    طالبان کی حکومت کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر افغان حکومت کی اقتصادی حکمت عملی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں کرنسی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے، جو افغان عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ طالبان حکومت اپنے ملک کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بنانے کی بجائے ملکی ترقی اور معاشی استحکام پر توجہ دے۔ ملک کے معاشی مسائل کا حل اس وقت ممکن ہے جب افغان حکومت عالمی سطح پر اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے اور ملکی معاشی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات کرے۔افغان عوام اور بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ایک نیا چیلنج بن چکا ہے کہ افغانستان کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے نیو یارک میں ملاقات کی۔ اس موقع پر سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان کی عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے مسلسل حمایت اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی مدت (2025-26) کے دوران کثیر الجہتی تعاون کے عزم کو دوبارہ واضح کیا۔

    سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام، تنازعات کے حل اور انسانیت کے مشترکہ مفادات کے لئے اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس ملاقات میں اقوامِ متحدہ کے عالمی امن کے مشن میں پاکستان کے اہم کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے دو سالہ UNSC کی مدت کے دوران کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے نبھائے گا اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر امن، ترقی اور انسانوں کے حقوق کے فروغ کے لئے اقوامِ متحدہ کے اہم کردار کو تسلیم کیا اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔سینیٹر اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کی اصلاحات، خصوصاً عالمی ادارے کی مؤثریت بڑھانے اور عالمی مسائل کے حل کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    یہ ملاقات پاکستان کے اقوامِ متحدہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور عالمی سطح پر تعاون کے نونہال قدم کی حیثیت رکھتی ہے۔

    منی لانڈرنگ مقدمہ،مونس الہیٰ کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا، رپورٹ طلب

  • منی لانڈرنگ مقدمہ،مونس الہیٰ کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا، رپورٹ طلب

    منی لانڈرنگ مقدمہ،مونس الہیٰ کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا، رپورٹ طلب

    لاہور: اسپیشل سینٹرل عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے دائر منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مونس الہی کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو 20 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے طلب کرلیا ہے تاکہ وہ مقدمے کے متعلق تازہ ترین صورتحال اور تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں۔اس کے علاوہ، عدالت نے مونس الہی کے شریک ملزم محمد جبران کی گرفتاری سے متعلق بھی رپورٹ طلب کی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بتایا جائے گا کہ محمد جبران کی گرفتاری کی کوششیں کس مرحلے پر ہیں اور اس کے خلاف کارروائی میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔

    عدالت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مونس الہی سمیت اشتہاری نو ملزمان کی جائیدادوں کو قرق کرنے کے دورانیے میں توسیع کی جائے تاکہ ان کی جائیدادوں کا تحفظ کیا جا سکے اور ملزمان پر مزید دباؤ ڈال کر ان کی گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔اس مقدمے کی اگلی سماعت 20 فروری کو ہوگی، جہاں مزید اہم پیش رفت کی توقع ہے اور کیس کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

    کراچی،24 گھنٹوں میں 28 مسافروں کو کیا گیا آف لوڈ