Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • برطانوی نژاد پاکستانی فیملی راولپنڈی میں لٹ گئی

    برطانوی نژاد پاکستانی فیملی راولپنڈی میں لٹ گئی

    راولپنڈی: برطانوی نژاد پاکستانی فیملی کے ساتھ لوٹ مار کی واردات کا واقعہ پیش آیا، جس میں ڈاکوؤں نے ایک فیملی کو یرغمال بنا کر ان سے قیمتی زیورات اور نقدی چھین لی۔ متاثرہ فیملی کے مطابق یہ واردات شاپنگ مال سے واپس آتے ہوئے پیش آئی۔ ڈاکوؤں نے ان پر اسلحہ کا زور ڈالا اور ان سے طلائی زیورات، نقدی اور ہیرے کی انگوٹھی چھین لی۔ متاثرہ شخص احسن لطیف کی درخواست پر راولپنڈی پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    دوسری جانب کراچی میں بھی ایک اور ڈکیتی کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ملزمان نے خود کو پولیس افسر ظاہر کر کے ایک غیر ملکی شہری سے لوٹ مار کی۔ یہ واردات کراچی کی معروف شارع فیصل پر ہوئی، جہاں ایک کار سوار ملزم نے خود کو پولیس افسر کے طور پر پیش کیا اور چیکنگ کے بہانے غیر ملکی شہری سے تمام قیمتی سامان چھین لیا۔ واردات کے بعد دونوں ملزمان فرار ہو گئے۔ غیر ملکی شہری کی درخواست پر ٹیپو سلطان تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

    عروہ حسین اور فرحان سعید نے ماضی میں علیحدگی کی افواہوں کی تصدیق کردی

    لوئر کرم:قافلے پر حملہ، شدید فائرنگ،امدادی گاڑیوں میں لوٹ مار

  • مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں  قبر کشائی کی درخواست منظور

    مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں قبر کشائی کی درخواست منظور

    کراچی: مقامی عدالت نے مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں مقتول کی قبر کشائی کی درخواست منظور کرلی۔ کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے قبر کشائی کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا ہے۔

    عدالت کے حکم کے مطابق سیکرٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا کہا گیا ہے اور قبر کشائی مکمل کرنے کے بعد 7 دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت آیا جب پولیس اور تفتیشی افسران مصطفیٰ عامر کے قتل کی مکمل تفصیلات تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس مقدمے کے ملزمان کو سخت سزائیں دلائی جا سکیں۔

    دوسری جانب، سندھ ہائیکورٹ میں ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی گئی۔ ہائیکورٹ نے ملزم کو کل صبح ساڑھے 9 بجے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریمانڈ سے متعلق کیس کا تمام اصل ریکارڈ بھی طلب کیا۔اس دوران، قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل سندھ، منتظر مہدی نے منتظم جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ایف آئی آرز ہونے کے باوجود بھی ریمانڈ نہیں دیا گیا، اور بغیر ریمانڈ کے کیس کی تحقیقات کس طرح آگے بڑھیں گی؟ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ماں کا بیٹا قتل ہوگیا ہے اور ڈی ایس پی زخمی ہوا ہے، ہمیں انصاف کے لیے کارروائی کی اجازت دی جائے۔

  • میجر جنرل ایال ضمیر  اسرائیلی فوج کانیا سربراہ مقرر

    میجر جنرل ایال ضمیر اسرائیلی فوج کانیا سربراہ مقرر

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، کابینہ نے اتوار کے روز میجر جنرل ایال ضمیر کو اسرائیلی ڈیفنس فورس کا چیف آف اسٹاف مقرر کرنے کی حتمی منظوری دے دی۔

    رپورٹس کے مطابق، ایال ضمیر نے وزارت دفاع میں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔ انہیں سابق اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہلیوی کے استعفے کے بعد یہ اہم عہدہ سونپا گیا۔ سابق آرمی چیف نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی کو فوجی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایال ضمیر 5 مارچ 2025 کو اسرائیلی فوج کے 24 ویں سربراہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔اس کے علاوہ، میجر جنرل تامیر یدائی کو ایال ضمیر کا نائب مقرر کیا گیا ہے، جو کہ اس اہم ترین عہدے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس، سماعت بغیر کاروائی کے ملتوری

    توشہ خانہ ٹو کیس، سماعت بغیر کاروائی کے ملتوری

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 27 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے تصدیق کی کہ عدالتی عملہ نے صبح باضابطہ طور پر اس بات سے آگاہ کیا کہ کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اس کیس میں اب تک مجموعی طور پر 8 گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں، اور ان میں سے 7 گواہوں پر جرح مکمل کی جا چکی ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے آٹھویں گواہ پر جرح کی تھی۔

    اس کے علاوہ، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے جیل ٹرائل کی بجائے اوپن ٹرائل کی درخواست بھی عدالت میں دائر کی ہے۔ اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی کہ اوپن ٹرائل کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت روکی جائے۔ اس درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں، اور اس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے، اور محکمہ داخلہ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

  • ڈاکٹر آکاش انصاری کو قتل کرنے کے بعد  لاش کو جلایا گیا۔پولیس

    ڈاکٹر آکاش انصاری کو قتل کرنے کے بعد لاش کو جلایا گیا۔پولیس

    حیدرآباد پولیس نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ معروف سندھی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو جلایا گیا۔ پولیس کے مطابق، ابتدائی تحقیقات اور شواہد سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ڈاکٹر آکاش کی موت حادثاتی نہیں تھی، بلکہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

    سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ڈاکٹر فرخ علی لنجار نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک نہیں آئی، لیکن ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر آکاش انصاری کی موت حادثاتی طور پر نہیں ہوئی۔ ایس ایس پی نے یہ بھی بتایا کہ ان کے جسم پر تشدد کے واضح نشان پائے گئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا گیا تھا۔پولیس نے اس کیس میں ڈاکٹر آکاش کے لے پالک بیٹے لطیف آکاش اور ان کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا تھا۔ ایس ایس پی کے مطابق، والد اور بیٹے کے درمیان پہلے بھی کچھ مسائل تھے جو اس قتل کی وجہ بنے ہو سکتے ہیں۔

    حیدرآباد میں ڈاکٹر آکاش انصاری کے گھر میں آگ لگنے کے نتیجے میں ان کی موت ہو گئی تھی۔ تاہم، اب پولیس نے اس معاملے کی تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ یہ حادثہ نہیں، بلکہ قتل تھا۔ڈاکٹر آکاش انصاری ایک معروف سندھی شاعر تھے اور ان کے شعری مجموعوں میں "ادھورا ادھورا” اور "کین رھاں جلا وطن” شامل ہیں۔ انہیں شیخ ایاز اور استاد بخاری کے بعد جدید سندھی شاعری میں سب سے زیادہ عوامی مقبولیت پانے والے شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

  • پاکستانی لڑکے کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کی دبئی میں حراست

    پاکستانی لڑکے کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کی دبئی میں حراست

    کراچی: پاکستانی لڑکے کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن نے کراچی میں تقریباً چار ماہ گزارنے کے بعد حال ہی میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے براستہ دبئی امریکا کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ تاہم، خاتون نے اپنے وطن واپس جانے کے بجائے دبئی میں رکنے کا فیصلہ کیا، جہاں انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    7 فروری کی رات، اونیجا اینڈریو رابنسن نے کراچی سے ای کے 603 پر دبئی کا سفر کیا تھا، اور دبئی پہنچنے کے بعد وہ ای کے 203 پر نیویارک جانے والی تھیں، لیکن انہوں نے اس پرواز کو چھوڑ دیا۔اونیجا، جو کہ امریکی شہری ہیں، دبئی میں آن ارائیول ویزا پر آئی تھیں اور انہیں اپنے ملک واپس جانے کے لیے نیویارک جانا تھا۔ تاہم، ان کی غیر متوقع حاضری نے امریکی حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ان کی ویڈیوز دبئی کی سڑکوں پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس کے بعد امریکی حکام نے دبئی کے حکام سے رابطہ کیا اور خاتون کی آمدورفت کو محدود کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق، اونیجا کے اہل خانہ نیویارک میں ان کے پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے، مگر جب وہ نہیں پہنچیں تو امریکی حکام نے ان کی تلاش شروع کر دی۔

    دبئی کی سڑکوں پر ان کی ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد، امریکی حکام نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور دبئی حکام سے فوری طور پر رابطہ کیا۔ خاتون کو اس وقت دبئی میں حراست میں لیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اونیجا کی دوبارہ امریکا روانگی میں مسائل پیش آ رہے ہیں کیونکہ خاتون نے کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں کی اور وہ وزٹ ویزے پر ہیں، اس لیے دبئی سے انہیں جبراً امریکا بھیجا نہیں جا سکتا۔ اگر خاتون کو دبئی سے ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس صورت میں کسی ایئر لائن یا پائلٹ کو سکیورٹی وجوہات کی بناء پر 15 گھنٹے طویل پرواز میں ان کے ساتھ سفر کرنے پر آمادہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔اس وقت اس صورتحال کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ اونیجا کو اگلے سفر کے لیے راضی کیا جائے تاکہ انہیں امریکا واپس بھیجا جا سکے۔

  • یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ،امریکی وزیر خارجہ

    یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ،امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کہ روسی صدر ولادی میر پیوتن امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہیں یا نہیں، اگلے چند دنوں میں واضح ہوگا۔

    امریکی میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ہے، تاہم آئندہ بات چیت میں اس معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آگے کا راستہ کیا ہوگا۔مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان اس بات چیت کا عمل سعودی عرب میں ہوگا،

    کریملن نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک سعودی عرب میں جنگ کے بجائے امن کے قیام کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، سعودی عرب میں ہونے والی اس بات چیت میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ انہیں اس وقت یہ معلوم نہیں ہے کہ روسی حکام کی جانب سے اس بات چیت میں کون کون شریک ہوگا، لیکن امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی سعودی عرب پہنچنے والے ہیں، جو اس بات چیت کا حصہ ہوں گے۔

    اس موقع پر عالمی برادری کی نظریں سعودی عرب میں ہونے والی اس اہم ملاقات پر مرکوز ہیں، جو یوکرین کی جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • خاتون ٹیچر ثانیہ عباسی کی کامیابی اور وفاقی وزیر احسن اقبال کا دل موہ لینے والا انداز

    خاتون ٹیچر ثانیہ عباسی کی کامیابی اور وفاقی وزیر احسن اقبال کا دل موہ لینے والا انداز

    نارووال کی گورنمنٹ گرلز کالج کی ٹیچر، ثانیہ عباسی نے اپنے قد کو کبھی اپنی منزل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اُنہوں نے تعلیم کے شعبے میں اپنی محنت اور لگن سے ایک نئی مثال قائم کی ہے، اور اُن کی کامیابی کی داستان نہ صرف طالبات کے لیے بلکہ پورے تعلیمی ادارے کے لیے فخر کا باعث بنی ہے۔

    گزشتہ روز گورنمنٹ گرلز کالج میں ہونے والی تقریب تقسیم انعامات میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، احسن اقبال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک دل موہ لینے والا انداز اپنایا جب اُنہوں نے ٹیچر ثانیہ عباسی کو بہترین کارکردگی ایوارڈ دیا۔ وزیر صاحب پہلے جھک کر، پھر گھٹنے کے بل کھڑے ہو کر، اس ایوارڈ کو ٹیچر کو دیا، جس سے تقریب میں موجود سب حاضرین اور طالبات کی نظریں خوشی اور محبت سے بھر گئیں۔

    یہ نرالا انداز نہ صرف ثانیہ عباسی کی محنت کی تعریف کا سبب بنا، بلکہ وزیر صاحب کے جذبے اور احساس کو بھی نمایاں کیا۔ تقریب کے دوران طالبات اور حاضرین نے اس خوبصورت لمحے کو بھرپور پُرجوش انداز میں سراہا اور وزیر احسن اقبال کی اس جرات مندانہ اور دل سے کیے گئے عمل کی خوب داد دی۔یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ تعلیم کا راستہ ہمیشہ چیلنجز سے بھرا ہوتا ہے، مگر اگر محنت اور لگن ہو تو کوئی بھی رکاوٹ آپ کی کامیابی میں نہیں آ سکتی۔ ثانیہ عباسی جیسے استاد اپنی محنت اور حوصلے سے نہ صرف اپنے طلباء کی زندگیوں میں تبدیلی لا رہے ہیں، بلکہ پورے معاشرتی نظام کو بہتر بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اس ایوارڈ کی تقریب نے ایک اور بات کو بھی واضح کیا کہ اگر حکومت اور وزیر صاحبان تعلیمی شعبے میں اپنی دلچسپی اور حمایت بڑھائیں تو یہ تعلیمی ادارے مزید کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

  • جنسی تعلق بارے پڑھانے والے81 سالہ پروفیسرڈیٹنگ ایپس پر کیوں آئے

    جنسی تعلق بارے پڑھانے والے81 سالہ پروفیسرڈیٹنگ ایپس پر کیوں آئے

    اگر آپ شاندار جنسی تعلق کی خواہش رکھتے ہیں تو عالمی شہرت یافتہ انسانی جنسیات کے پروفیسر ڈاکٹر ولیم یاربر کے مطابق، اس کا کوئی بڑا راز نہیں ہے۔ انڈینا یونیورسٹی میں 41 سال سے تدریس کے عمل میں مصروف ڈاکٹر یاربر، جو اس شعبے میں ایک ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ سچی اور خوشگوار جنسی تعلقات کا راز سادہ سوالات میں چھپاہوا ہے۔ ان کے مطابق، جنسی تعلق کو بہتر بنانے کے لیے آپ کو اپنے رومانوی پارٹنر سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے: "آپ کو کس طرح چھوا جائے تو آپ کو خوشی ملتی ہے؟” اور ساتھ ہی اپنے خیالات اور پسند ناپسند کا اظہار بھی ضروری ہے، جیسے کہ "یہ وہ طریقہ ہے جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔”

    ڈاکٹر یاربر نے اس بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "جنسی تعلق کی اصل حقیقت خوشگوار طریقے سے چھونے کی اجازت دینا اور وصول کرنا ہے۔” اس کا مطلب ہے کہ دونوں پارٹنرز ایک دوسرے کی پسند کا احترام کرتے ہوئے جسمانی تعلق قائم کرتے ہیں، جو نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی سطح پر بھی تعلق کو مستحکم کرتا ہے۔

    ڈاکٹر یاربر نے بتایا کہ کئی برسوں سے ان کے ہزاروں طلباء نے ان کی اس نصیحت کو آزمایا ہے اور ان سے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ "کچھ طلباء نے واپس آ کر مجھے بتایا کہ ‘ہم نے یہ اپنے پارٹنر کے ساتھ آزمایا اور ہماری قربت میں بہتری آئی ہے۔’ یا ‘ہماری خوشی میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارا رشتہ مزید مضبوط ہوا۔’” یہ مثبت فیڈ بیک ڈاکٹر یاربر کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا سبب بنے ہیں اور انہوں نے اس علم کو کئی سالوں تک اپنے طلباء کے ساتھ شیئر کیا۔

    ڈاکٹر یاربر کی ذاتی زندگی
    ڈاکٹر یاربر کی ذاتی زندگی میں بھی ایک پیچیدہ داستان چھپی ہوئی ہے۔ انہوں نے 2000 میں مارگریٹ کووہر سے شادی کی تھی، جو ایک ہائی اسکول کی انگلش ٹیچر تھیں۔ تاہم، 2021 میں مارگریٹ کا انتقال ہو گیا۔ اس جوڑے کی شادی کے دوران، وہ جذباتی طور پر بہت قریب تھے اور اس تعلق کو انتہائی اہمیت دیتے تھے۔ ڈاکٹر یاربر نے اس تعلق کو "جذباتی قربت” کا نام دیا اور کہا کہ یہی ان کے رشتہ کی سب سے طاقتور خصوصیت تھی۔

    اگرچہ دونوں نے 2017 میں طلاق لے لی تھی، مگر ڈاکٹر یاربر اپنی بیوی کی دیکھ بھال کرتے رہے جب مارگریٹ کو فالج کا حملہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں، "ہم نے طلاق اس لیے لی تھی کیونکہ مارگریٹ نے مزید آزادی کی خواہش کی تھی، مگر ہم دونوں کبھی ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوئے۔” ڈاکٹر یاربر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ اپنی بیوی کو ابھی بھی محبت کرتے تھے اور کسی دوسری خاتون کو تلاش نہیں کر رہے تھے۔

    محبت کی تلاش اور اکیلے پن کا سامنا
    اب تین سال بعد، ڈاکٹر یاربر کا کہنا ہے کہ وہ اکیلا محسوس کرتے ہیں اور ایک ایسے پارٹنر کی تلاش میں ہیں جو ان کے ساتھ رومانوی تعلق استوار کرے۔ ڈاکٹر یاربر کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ محبت کی تلاش میں ہیں اور اس وقت وہ ایک پرجوش اور دلکش رشتہ چاہتے ہیں۔

    ڈاکٹر جسٹن گارسیا، جو انڈینا یونیورسٹی کے کِنسی انسٹی ٹیوٹ میں سینئر سائنسدان ہیں اور 2013 سے ڈاکٹر یاربر کے ساتھ کام کر رہے ہیں، نے کہا کہ "بل (ڈاکٹر یاربر) کے اندر بے شمار شاندار خصوصیات ہیں۔ وہ نہ صرف بہت سوشل اور تجسس سے بھرپور ہیں بلکہ ان کے اندر سخاوت، عزم اور ایک دلکش مزاحیہ حس بھی ہے۔” گارسیا کے مطابق، ڈاکٹر یاربر کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی دوسروں کے لیے غیر معمولی ہمدردی ہے۔

    ڈیٹنگ ایپس اور نئے رشتہ تلاش کرنے کے طریقے
    ڈاکٹر یاربر نے اپنی محبت کی تلاش کے دوران مختلف نئے طریقے آزمانے کی کوشش کی ہے، جن میں ڈیٹنگ ایپس بھی شامل ہیں، جو ان کے پچھلے رشتہ کے دوران موجود نہیں تھیں۔ ڈاکٹر یاربر نے ان ایپس کو آزمایا، حالانکہ انہیں ان کے بارے میں زیادہ تجربہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر جسٹن گارسیا کا کہنا ہے کہ "آج کے دور میں، ڈیٹنگ ایپس وہ سب سے عام طریقہ ہیں جن کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اور 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد بھی ان ایپس کا استعمال کر رہے ہیں۔”

    ڈاکٹر یاربر کی عمر میں محبت تلاش کرنا ایک مشکل عمل ہو سکتا ہے کیونکہ ممکنہ ساتھیوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر جفری کولگرن، جو یونیورسٹی آف مشی گن میں نیشنل پول آن ہیلتھی ایجنگ کے ڈائریکٹر ہیں، نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "عمر رسیدہ افراد کے لیے کسی نئے ساتھی کو تلاش کرنا کچھ زیادہ تخلیقی طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔” ان کا مشورہ ہے کہ بزرگ افراد باہر بھی ملاقات کریں اور ان تنظیموں کا حصہ بنیں جہاں مختلف عمروں کے افراد اکٹھے آتے ہوں۔

    ڈاکٹر یاربر خود اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میں اپنی عمر کے لحاظ سے بہت اچھی حالت میں ہوں اور میری صحت بھی اچھی ہے۔” ان کا کہنا ہے کہ وہ رفاقت سے زیادہ کچھ چاہتے ہیں اور ان کے لیے جنسی تعلقات بھی ایک اہم جزو ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ "جب مجھے اپنا نیا ساتھی ملے گا، تو میری زندگی مکمل طور پر بدل جائے گی اور میرے اندر ایک نئی توانائی آ جائے گی۔”

  • دنیا بھر کا موٹر سائیکل کے ذریعے سفر کرنے والا برطانوی جوڑا ایران میں گرفتار

    دنیا بھر کا موٹر سائیکل کے ذریعے سفر کرنے والا برطانوی جوڑا ایران میں گرفتار

    برطانوی جوڑے کریگ اور لنڈسے فارمین کو ایران میں حراست میں لے لیا گیا ہے، اور ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ "ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے” کے لیے پرعزم ہیں۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی حکام نے کب ان جوڑے کو گرفتار کیا، لیکن ایرانی ریاستی میڈیا نے جمعرات کو ان کی گرفتاری کی خبریں شائع کیں، جس میں کہا گیا کہ ان پر سکیورٹی سے متعلق الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔کریگ اور لنڈسے فارمین نے دنیا بھر کا موٹر سائیکل کے ذریعے سفر کرنے کا آغاز کیا تھا، اور ان کی آخری پوسٹ جنوری کے آغاز میں آئی تھی۔برطانوی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کے خاندان نے کہا: "ہم اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کریگ اور لنڈسے فارمین کی حراست کے بارے میں اس پریشان کن صورتحال کو بیان کرنا چاہتے ہیں، جو اس وقت ایران کے شہر کرمان میں حراست میں ہیں۔””اس غیر متوقع واقعے نے ہمارے پورے خاندان میں گہری تشویش پیدا کی ہے، اور ہم اس مشکل وقت میں ان کی حفاظت اور خیریت کو یقینی بنانے پر گہری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں،”

    خاندان نے کہا کہ وہ "برطانوی حکومت اور متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، اور اس معاملے کے پیچیدہ پہلوؤں کو حل کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔””ہم پورے خاندان میں اس بات پر متفق ہیں کہ ہم ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم دوستوں، خاندان اور کمیونٹی کی طرف سے حاصل ہونے والی حمایت کے لیے انتہائی شکر گزار ہیں، جس سے ہمیں اس آزمائش میں طاقت اور حوصلہ ملا ہے،”

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے یہ رپورٹ کیا کہ برطانوی سفیر ہیوگو شورٹر نے بدھ کے روز کرمان کے دفترِ استغاثہ میں دونوں برطانوی باشندوں سے ملاقات کی۔ ان کے کیس کی تفصیلات بعد میں اعلان کی جائیں گی، اور کرمان کے عوامی استغاثہ کے دفتر نے اس بارے میں مزید معلومات دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نے اس ملاقات کی ایک تصویر بھی شائع کی ہے جس میں برطانوی سفیر دکھائے گئے ہیں، تاہم جوڑے کے چہرے نہیں دکھائے گئے اور نہ ہی ان کے نام جاری کیے گئے۔

    کریگ اور لنڈسے فارمین کی آخری انسٹاگرام پوسٹ 2 جنوری کو آئی تھی، جس میں لنڈسے نے کہا تھا: "سفر ہمیں وہ چیزیں یاد دلاتا ہے جو واقعی اہم ہیں۔ دنیا بھر کے اس سفر میں ہم نے گہری جڑوں کا احساس کیا ہے – اور یہاں ایران میں اس کا کوئی اور مقام نہیں۔”