Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کیپیٹل فسادات سے متعلق تحقیقات کرنے والے 5 ہزار ملازمین مشکل میں

    کیپیٹل فسادات سے متعلق تحقیقات کرنے والے 5 ہزار ملازمین مشکل میں

    ایف بی آئی نے 6 جنوری 2021 کے امریکی کیپیٹل فسادات سے متعلق تحقیقات کرنے والے 5,000 ملازمین کے نام ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ انصاف کو فراہم کردیے ہیں، اس حوالے سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو اس معاملے سے واقف افراد نے بتائی ہیں۔

    محکمہ انصاف کی جانب سے یہ مطالبہ کرنے کے بعد ایف بی آئی کے ملازمین میں تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ نام ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ ملازمین کی برطرفی کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ ایف بی آئی کے ایجنٹس اور تجزیہ کاروں کے ناموں کی فہرست جمع کرانے کے لیے محکمہ انصاف نے جمعہ کو ایک میمو جاری کیا تھا، جس میں ایمل بووے، جو نائب اٹارنی جنرل ہیں، نے کہا تھا کہ ناموں کی فہرست منگل دوپہر تک فراہم کی جائے۔ اس میمو میں ان تمام ملازمین کا ذکر کیا گیا تھا جو 6 جنوری کے واقعات سے متعلق کیسز پر کام کررہے تھے۔

    ایف بی آئی کے ملازمین نے اس درخواست کو آئین اور پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں کہا گیا کہ یہ درخواست بظاہر ایف بی آئی کے اہلکاروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔ اس مقدمے میں ایف بی آئی کے کئی گمنام ملازمین نے شکایت کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات ان کی ذاتی معلومات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور ان کے کام کے حوالے سے سیاسی انتقامی کارروائیوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی کے ملازمین کو اس سوالنامے کے ذریعے ان کے کردار کی تفصیلات فراہم کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا انہوں نے گرفتاریاں کیں، جینیئل جوری تحقیقات میں حصہ لیا یا مقدمات میں گواہی دی۔

    دوسری جانب، ایف بی آئی کے نیو یارک دفتر کے اعلیٰ افسر جیمز ڈینی ہی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنے دفاتر کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور ان کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔

    یہ معاملہ ایک بڑے تنازعے میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں ایف بی آئی کے ملازمین کی برطرفیوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں کے بارے میں شدید تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

    کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

  • سعودیہ کی دہشت گردی کی مالی معاونت کیخلاف تحقیقات میں تعاون کی منظوری

    سعودیہ کی دہشت گردی کی مالی معاونت کیخلاف تحقیقات میں تعاون کی منظوری

    سعودی عرب کی کابینہ نے پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف تحقیقات میں تعاون کی منظوری دے دی۔

    سعودی میڈیا کے مطابق، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں سعودی ڈائریکٹریٹ آف فنانشل انویسٹی گیشن کو پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور متعلقہ جرائم سے متعلق تحقیقات کے تبادلے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دی گئی۔سعودی میڈیا کے مطابق، اجلاس میں شامی عبوری صدر احمد الشارع اور جرمن صدر فرینک والٹر سٹین میئر کے ساتھ سعودی ولی عہد کی ملاقاتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سعودی ولی عہد نے عالمی امور میں سعودی عرب کی پوزیشن اور تعاون کے حوالے سے اہم باتیں کیں۔

    کابینہ اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ غزہ میں جاری فائر بندی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے سعودی عرب نے اس معاہدے کو جاری رکھنے کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی سعودی کابینہ نے غزہ میں امدادی اشیاء کی ترسیل کو تیز کرنے اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی پر زور دیا۔

    یہ اجلاس سعودی عرب کی جانب سے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور انسانیت کے حوالے سے اپنے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

    کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

  • امریکا میں گرفتار تارکین وطن افراد کی گوانتانامو بے منتقلی  شروع

    امریکا میں گرفتار تارکین وطن افراد کی گوانتانامو بے منتقلی شروع

    امریکا میں گرفتار غیر قانونی تارکین وطن افراد کی گوانتانامو بے منتقلی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے حکم کے بعد ان افراد کی گوانتانامو بے منتقلی جاری ہے، جو کیوبا میں واقع بدنام زمانہ امریکی فوجی اڈہ ہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے لے جانے والی ابتدائی پروازوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہوم لینڈ سکیورٹی اور پنٹاگون کو گوانتانامو بے میں غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک خصوصی جگہ بنانے کا حکم دیا تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "Laken Riley ایکٹ” پر دستخط بھی کیے ہیں، جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کرنے اور جبری طور پر امریکا سے نکالنے کے عمل کو مزید آسان بنایا گیا ہے۔ یہ ایکٹ امریکا میں تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کی علامت بن چکا ہے۔

    گوانتانامو بے میں قید افراد کی منتقلی کے اس عمل کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم، امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔اس اقدام کے نتیجے میں گوانتانامو بے میں قید افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو اس سے قبل دہشت گردی کے مشتبہ افراد کی قید کے لیے مشہور تھا۔

    کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

  • کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری خصوصی پیغام میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس ،سروسز چیفس اور مسلح افواج نے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابل تسخیر جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں برداشت کررہے ہیں، ظلم کے مقابلے میں ان کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے، مسلح افواج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتی ہے، کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں ،جبری حراست کا سامنا ہے،کشمیریوں پر بھارت ظلم عالمی قانون، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت ہے، عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے،سلامتی کونسل کی قراردادوں پر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں، پاکستان کی مسلح افواج کشمیر کے منصفانہ کاز کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں، مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کےتحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری بھائیوں کی آزادی، وقار کے حصول میں کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہیں۔ پاکستان زندہ باد، کشمیر زندہ باد

    دوسری جانب یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے نیا نغمہ ’’کشمیر بنےگا پاکستان‘‘ جاری کردیا گیا ہے،’کشمیر بنے گا پاکستان‘ نغمے کو پاکستان کے معروف گلوکار احمد جہانزیب نے گایا ہے، نغمے کی دھن عرفان سلیم اور کامران اللہ خان نے ترتیب دی ہے جبکہ اس کے بول عمران رضا نے لکھے ہیں،5 فروری یوم یکجہتی کشمیرکی مناسبت سے تیار کیا جانے والا یہ نغمہ ایک عزم ہے، یہ نغمہ اظہار یکجہتی کرتا ہے کہ پورا پاکستان مقبوضہ وادی کے غیور کشمیروں کیساتھ کھڑا ہے،

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس دن کا مقصد کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی حمایت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اُن کی منصفانہ جدوجہد کو اجاگر کرنا ہے۔یوم یکجہتی کشمیر کا یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے خلاف عالمی برادری کی توجہ دلانے کے لیے منایا جاتا ہے۔ پاکستانی قوم اس دن کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ اپنے عزم اور حمایت کا اعادہ کرتی ہے، تاکہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کا مسئلہ اجاگر ہو سکے۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پاکستان بھر میں یکجہتی واک کا اہتمام کیا جائے گا، جن میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔ اسلام آباد میں شاہراہ دستور سے ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی جو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی۔صبح دس بجے سائرن بجائے جائیں گے، جس کے بعد شہدائے کشمیر کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ملک کے اہم راستوں، ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف میں کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے پوسٹرز اور بل بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر بھارتی مظالم کی تفصیلات درج ہوں گی۔ مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے اس اجلاس میں خطاب کی توقع ہے، جس میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا عہد کیا جائے گا۔پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے مختلف پلوں جیسے منگلا، کوہالہ، برار کوٹ، آزاد پتن اور ہولاڑ میں انسانی زنجیریں بنائی جائیں گی۔ ان زنجیریں کے ذریعے پاکستانی اور کشمیری عوام ایک دوسرے کے ساتھ اپنے عزم کا اظہار کریں گے۔منگلا پل پر صبح ساڑھے نو بجے ایک اہم تقریب منعقد ہوگی، جس میں پاکستانی اور کشمیری عوام اپنے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ اسی طرح کوٹلی اور بھمبر کے اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات ہوں گی،جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں بھی یکجہتی کشمیر جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گی،

    یوم یکجہتی کشمیر کا دن ایک تاریخی اور اہم موقع ہے جس کے ذریعے پاکستان دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور ان کے حقوق کے لیے پاکستان ہمیشہ اُن کے ساتھ ہے۔

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

  • پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے پیپلز پارٹی کا عزم مضبوط ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی شدید مذمت کی اور اسے کشمیری عوام کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی قرار دیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کشمیری عوام کے ساتھ اس وقت تک کھڑی رہے گی جب تک وہ اپنے حق خود ارادیت کو حاصل نہیں کر لیتے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1990 میں 5 فروری کو سرکاری تعطیل کا اعلان کیا تھا اور ان کی قیادت میں کشمیریوں کی حمایت میں ہمیشہ آواز اٹھائی گئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 70 سال سے زائد عرصے سے بھارتی افواج نے کشمیری بھائیوں پر مظالم ڈھائے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری شہید، معذور اور قید ہو چکے ہیں۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لیے ایک ہزار سال لڑنے کا عزم کیا تھا اور پیپلز پارٹی اس عزم پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر درحقیقت برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس علاقے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت کو کشمیری عوام پر ظلم سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالے

    حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    اترکھنڈ میں نیشنل گیمز میں فکسنگ ،تین لاکھ لائیں گولڈ میڈل لیں

  • حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    پاکستان کی سیاست میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جب عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ، شاہد خاقان عباسی، نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اس ملاقات میں جے یو آئی کے رہنما مولانا اسعد محمود بھی موجود تھے۔

    اسی دوران، گرینڈ اپوزیشن الائنس کا اجلاس سابق اسپیکر اسد قیصر کی رہائشگاہ پر شروع ہوا۔ اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کے علاوہ مصطفیٰ نواز کھوکر، عمر ایوب، شبلی فراز اور اسد قیصر بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں علامہ ناصر عباس اور تحریک انصاف کے دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔
    اپوزیشن جماعتوں نے اس اجلاس میں ملک کی موجودہ حکومت کو غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے نیا انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام پر زبردستی مسلط کی گئی ہے اور اس کا عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ اپوزیشن کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ نئے انتخابات ہی ملکی مسائل کا واحد حل ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے اور موجودہ حکومت کو مستعفی ہو کر از سر نو انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے چیف الیکشن کمشنر کے گھر جانے کا بھی مطالبہ کر دیا،کہا الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت بھی پوری ہو چکی ہے لہذا اب اسے فی الفور گھر جانا ہوگا ،نئی تعیناتی کے لیے مشاورت ہونی چاہیئے، اگر الیکشن کمیشن واقعی آزاد اور خود مختار ہے تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیئے،عوامی مینڈیٹ نہ رکھنے والوں کو اقتدار پر مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں، مقاصد کے حصول کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائےگا۔نئے الیکشن کیلئے غیرجانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا اس پر آج کے اجلاس میں تمام جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، ہم چاہتے ہیں ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہو اور اس کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر بات ہوئی، موجودہ حکومت زبردستی عوام پر مسلط کی گئی ہے، نئے الیکشن ہی ملک کو دہشت گردی اور دیگر بحران سے نکالنے کا حل ہے، اپوزیشن نے سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی معاملات پر گفتگو کی، سب جماعتوں کا یہ مؤقف تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، شرکا نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، پیکا جیسے کالے قانون کا خاتمہ ہونا چاہیئے، آنے والے وقت میں بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

    اس اجلاس میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو عوامی اعتماد حاصل نہیں ہے اور نئے انتخابات ضروری ہیں تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہو سکے۔

  • کلاس روم میں طالب علم سے شادی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خاتون پروفیسر کا بڑا فیصلہ

    کلاس روم میں طالب علم سے شادی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خاتون پروفیسر کا بڑا فیصلہ

    بھارت،ویسٹ بنگال کی ایک یونیورسٹی کی سینئر خاتون پروفیسر نے اپنے کلاس روم میں ایک طالب علم کے ساتھ "شادی” کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں یونیورسٹی سے اپنے تعلقات کو جاری رکھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔یہ ویڈیو 28 جنوری کو وائرل ہوئی تھی جس میں پروفیسر، جو ریاستی حکومت کے تحت چلنے والی مولانا ابو الکلام آزاد یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں اپلائیڈ سائیکالوجی کی شعبہ کی سربراہ ہیں، کو اپنے شعبے کے ایک پہلے سال کے طالب علم کے ساتھ ہندو بنگالی شادی کی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سنسنی پھیل گئی،یونیورسٹی کے رجسٹرار پارٹھا پراتیم لہیری نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ پروفیسر نے ان کے دفتر کو ایک ای میل بھیجا ہے جس میں انھوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ "موجودہ صورتحال” کے پیش نظر وہ یونیورسٹی کے ساتھ اپنا تعلق جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور یہ صورتحال انہیں "ذہنی طور پر تباہ کن” محسوس ہو رہی ہے۔لہیری نے کہا کہ پروفیسر نے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا اور پچھلے چند سالوں میں ادارے کے ساتھ کام کرنے کا موقع دینے پر اظہارِ تشکر کیا۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پروفیسر کو تنازعہ کے بعد 29 جنوری کو چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا اور 1 فروری کو انھوں نے ای میل بھیجی۔ یہ ای میل ابھی زیرِ غور ہے، اور فیصلہ مناسب وقت پر لیا جائے گا۔

    ویڈیو میں پروفیسر، جو اپنے عروسی لباس میں ملبوس تھیں، ہارنگھٹا کیمپس کے کلاس روم میں دکھائی گئیں۔تاہم، پروفیسر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ویڈیو ایک تھیٹر پراجیکٹ کا حصہ تھی، جسے طلبہ اور یونیورسٹی کی اجازت سے ایک "سائیکو ڈرامہ” کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ویڈیو کا ایک حصہ جان بوجھ کر ان کے ایک ساتھی نے لیک کیا، جس کا مقصد ان کے کیریئر کو نقصان پہنچانا تھا۔پروفیسر نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کریں گی تاکہ ان کی سماجی اور تعلیمی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔

    یونیورسٹی نے 29 جنوری کو پروفیسر کو چھٹی پر بھیجنے کے بعد ایک پانچ رکنی تحقیقات کمیٹی تشکیل دی تھی، جو تمام خواتین اساتذہ پر مشتمل تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پروفیسر کے دعووں کو مسترد کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ ویڈیو ایک "سائیکو ڈرامہ” پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ یونیورسٹی کے افسران نے کہا کہ یہ محض ایک سستے خوش آمدی پروگرام کا حصہ تھا جو ایک سینئر استاد کے لیے غیر مناسب تھا۔موجودہ صورتحال پر پروفیسر کی کوئی مزید رائے معلوم نہیں ہو سکی۔

    لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بیان،افغان سینئر وزیر کو مہنگا پڑ گیا

    معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

  • لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بیان،افغان سینئر وزیر   کو مہنگا پڑ گیا

    لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بیان،افغان سینئر وزیر کو مہنگا پڑ گیا

    افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے طالبان حکومت کے نائب وزیر خارجہ عباس ستانکزئی کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، عباس ستانکزئی نے 20 جنوری 2025 کو افغان صوبے خوست میں ایک مدرسے کی گریجویشن تقریب میں خطاب کرتے ہوئے طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر عائد پابندی کو شریعت کے خلاف قرار دیا تھا۔انہوں نے اس بات پر تنقید کی کہ افغانستان کی 40 ملین کی آبادی میں سے 20 ملین خواتین ہیں جنہیں تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، اور یہ فیصلہ شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ عباس ستانکزئی نے کہا تھا کہ اس پابندی کے نتیجے میں ایک پوری نسل کو علم حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے، اور یہ ناانصافی ہے۔

    انہوں نے اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا حشر کے دن ہم سب ایک ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے، جہاں ہم بے بس ہوں گے اور لڑکیوں کے حقوق کے بارے میں سوالات اٹھیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو نہ صرف تعلیم سے محروم کیا گیا ہے بلکہ ان کے وراثتی حقوق، شادیوں کے فیصلے، اور دیگر اہم حقوق بھی سلب کر لیے گئے ہیں۔عباس ستانکزئی نے مزید کہا کہ لڑکیوں کو نہ صرف اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ انہیں مساجد اور دینی مدارس تک میں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی جانب سے تعلیم کے دروازے بند کرنے کے لیے کوئی قابل قبول جواز نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگا۔انہوں نے نبی کریم ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ کے دور میں خواتین اور مردوں دونوں کے لیے علم کے دروازے کھلے تھے، اور یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہم خواتین کو علم حاصل کرنے کا حق دیں۔

    رپورٹ کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عباس ستانکزئی کے خلاف گرفتاری اور سفری پابندیوں کے احکامات جاری کیے جس کے بعد عباس ستانکزئی کو متحدہ عرب امارات فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ عباس ستانکزئی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ صحت کی وجوہات کی بنا پر دبئی گئے ہیں، تاہم طالبان حکومت نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔اس واقعے نے افغانستان میں خواتین کے حقوق اور تعلیم کے معاملے پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں، اور عالمی سطح پر طالبان کی پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

  • اترکھنڈ میں نیشنل گیمز میں فکسنگ ،تین لاکھ لائیں گولڈ میڈل لیں

    اترکھنڈ میں نیشنل گیمز میں فکسنگ ،تین لاکھ لائیں گولڈ میڈل لیں

    اترکھنڈ میں جاری ’نیشنل گیمز‘ کے دوران ایک بڑی فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ یہ ایونٹ جس میں مختلف کھیلوں کے مقابلے ہو رہے ہیں، اب تنازعہ کی زد میں آ گیا ہے۔

    گیمز ٹیکنیکل کنڈکٹ کمیٹی (جی ٹی سی سی) نے تائیکوانڈو مقابلے کے ڈائریکٹر، ٹی پروین کمار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ ایس دنیش کمار کو تائیکوانڈو کے نئے ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔پروین کمار پر الزام ہے کہ وہ نیشنل گیمز میں تائیکوانڈو مقابلوں کے نتائج میں ہیرا پھیری کر رہے تھے۔ انہیں میڈل فروخت کرنے اور میچ فکسنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ نیشنل گیمز کے تائیکوانڈو مقابلے ہلدوانی میں منعقد ہو رہے ہیں، جہاں میڈلز کی خرید و فروخت کی شکایات پہلے ہی سامنے آ چکی تھیں۔

    رپورٹس کے مطابق، کھلاڑیوں سے گولڈ میڈل کے لیے 3 لاکھ روپے، سلور میڈل کے لیے 2 لاکھ روپے اور برانز میڈل کے لیے 1 لاکھ روپے طلب کیے جا رہے تھے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ تائیکوانڈو مقابلے کے 16 ویٹ کیٹیگریز میں سے 10 کیٹیگریز کے میڈلز پہلے ہی طے کر لیے گئے تھے۔

    انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کی صدر پی ٹی اوشا نے اس معاملے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم کھلاڑیوں کے ساتھ انصاف کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ بے حد افسوسناک ہے کہ نیشنل گیمز میں میڈلز کی خرید و فروخت کی جا رہی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آئی او اے کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا ہیرا پھیری کو برداشت نہیں کرے گی، اور جو بھی اس میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اس معاملے میں جی ٹی سی سی کی صدر، سنینا کماری نے بھی کہا کہ ’’ہمیں نیشنل گیمز اتراکھنڈ کی سالمیت کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور اس کے لیے پی ایم سی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنا ہوگا۔‘‘

    یہ سکینڈل نیشنل گیمز کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے اور اس کے نتیجے میں حکام نے اس پورے معاملے کی تحقیقات مزید گہرائی سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

  • پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سگریٹ پینے پر پابندی

    پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سگریٹ پینے پر پابندی

    پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں سگریٹ پینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    محکمہ تعلیم پنجاب نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔یہ اقدام پنجاب کے تعلیمی اداروں میں صحت کے حوالے سے آگاہی بڑھانے اور بچوں و نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے مزید کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی اور منشیات کے استعمال پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کینسر سے بچاؤ کے عالمی دن پر پیغام
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کینسر سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر ایک اہم پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کی تشخیص اور علاج کے بارے میں عوامی شعور و آگاہی ضروری ہے۔ مریم نواز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں کینسر کے باعث ہونے والی شرح اموات انتہائی بلند ہے، اور اس مسئلے کی روک تھام کے لئے عوامی سطح پر آگاہی کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ منشیات اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کر کے کینسر سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے عوام کو یہ پیغام دیا کہ کینسر کی روک تھام کے لئے صحت مند طرز زندگی اپنانا ضروری ہے اور کینسر سے بچنے کے لئے سگریٹ نوشی اور منشیات سے دور رہنا بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے ہر ضلع میں کینسر کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ عوام کو اس مہلک بیماری سے بچایا جا سکے۔ مریم نواز نے فضائی اور آبی آلودگی کو بھی کینسر کا ایک اہم سبب قرار دیا اور کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    یہ پیغام عوام میں کینسر سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور صحت کے مسائل پر قابو پانے کے لئے ایک اہم قدم ہے۔