Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری خصوصی پیغام میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس ،سروسز چیفس اور مسلح افواج نے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابل تسخیر جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں برداشت کررہے ہیں، ظلم کے مقابلے میں ان کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے، مسلح افواج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتی ہے، کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں ،جبری حراست کا سامنا ہے،کشمیریوں پر بھارت ظلم عالمی قانون، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت ہے، عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے،سلامتی کونسل کی قراردادوں پر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں، پاکستان کی مسلح افواج کشمیر کے منصفانہ کاز کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں، مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کےتحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری بھائیوں کی آزادی، وقار کے حصول میں کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہیں۔ پاکستان زندہ باد، کشمیر زندہ باد

    دوسری جانب یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے نیا نغمہ ’’کشمیر بنےگا پاکستان‘‘ جاری کردیا گیا ہے،’کشمیر بنے گا پاکستان‘ نغمے کو پاکستان کے معروف گلوکار احمد جہانزیب نے گایا ہے، نغمے کی دھن عرفان سلیم اور کامران اللہ خان نے ترتیب دی ہے جبکہ اس کے بول عمران رضا نے لکھے ہیں،5 فروری یوم یکجہتی کشمیرکی مناسبت سے تیار کیا جانے والا یہ نغمہ ایک عزم ہے، یہ نغمہ اظہار یکجہتی کرتا ہے کہ پورا پاکستان مقبوضہ وادی کے غیور کشمیروں کیساتھ کھڑا ہے،

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس دن کا مقصد کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی حمایت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اُن کی منصفانہ جدوجہد کو اجاگر کرنا ہے۔یوم یکجہتی کشمیر کا یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے خلاف عالمی برادری کی توجہ دلانے کے لیے منایا جاتا ہے۔ پاکستانی قوم اس دن کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ اپنے عزم اور حمایت کا اعادہ کرتی ہے، تاکہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کا مسئلہ اجاگر ہو سکے۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پاکستان بھر میں یکجہتی واک کا اہتمام کیا جائے گا، جن میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔ اسلام آباد میں شاہراہ دستور سے ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی جو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی۔صبح دس بجے سائرن بجائے جائیں گے، جس کے بعد شہدائے کشمیر کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ملک کے اہم راستوں، ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف میں کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے پوسٹرز اور بل بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر بھارتی مظالم کی تفصیلات درج ہوں گی۔ مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے اس اجلاس میں خطاب کی توقع ہے، جس میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا عہد کیا جائے گا۔پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے مختلف پلوں جیسے منگلا، کوہالہ، برار کوٹ، آزاد پتن اور ہولاڑ میں انسانی زنجیریں بنائی جائیں گی۔ ان زنجیریں کے ذریعے پاکستانی اور کشمیری عوام ایک دوسرے کے ساتھ اپنے عزم کا اظہار کریں گے۔منگلا پل پر صبح ساڑھے نو بجے ایک اہم تقریب منعقد ہوگی، جس میں پاکستانی اور کشمیری عوام اپنے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ اسی طرح کوٹلی اور بھمبر کے اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات ہوں گی،جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں بھی یکجہتی کشمیر جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گی،

    یوم یکجہتی کشمیر کا دن ایک تاریخی اور اہم موقع ہے جس کے ذریعے پاکستان دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور ان کے حقوق کے لیے پاکستان ہمیشہ اُن کے ساتھ ہے۔

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

  • پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے پیپلز پارٹی کا عزم مضبوط ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی شدید مذمت کی اور اسے کشمیری عوام کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی قرار دیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کشمیری عوام کے ساتھ اس وقت تک کھڑی رہے گی جب تک وہ اپنے حق خود ارادیت کو حاصل نہیں کر لیتے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1990 میں 5 فروری کو سرکاری تعطیل کا اعلان کیا تھا اور ان کی قیادت میں کشمیریوں کی حمایت میں ہمیشہ آواز اٹھائی گئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 70 سال سے زائد عرصے سے بھارتی افواج نے کشمیری بھائیوں پر مظالم ڈھائے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری شہید، معذور اور قید ہو چکے ہیں۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لیے ایک ہزار سال لڑنے کا عزم کیا تھا اور پیپلز پارٹی اس عزم پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر درحقیقت برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس علاقے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت کو کشمیری عوام پر ظلم سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالے

    حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    اترکھنڈ میں نیشنل گیمز میں فکسنگ ،تین لاکھ لائیں گولڈ میڈل لیں

  • حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    پاکستان کی سیاست میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جب عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ، شاہد خاقان عباسی، نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اس ملاقات میں جے یو آئی کے رہنما مولانا اسعد محمود بھی موجود تھے۔

    اسی دوران، گرینڈ اپوزیشن الائنس کا اجلاس سابق اسپیکر اسد قیصر کی رہائشگاہ پر شروع ہوا۔ اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کے علاوہ مصطفیٰ نواز کھوکر، عمر ایوب، شبلی فراز اور اسد قیصر بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں علامہ ناصر عباس اور تحریک انصاف کے دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔
    اپوزیشن جماعتوں نے اس اجلاس میں ملک کی موجودہ حکومت کو غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے نیا انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام پر زبردستی مسلط کی گئی ہے اور اس کا عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ اپوزیشن کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ نئے انتخابات ہی ملکی مسائل کا واحد حل ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے اور موجودہ حکومت کو مستعفی ہو کر از سر نو انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے چیف الیکشن کمشنر کے گھر جانے کا بھی مطالبہ کر دیا،کہا الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت بھی پوری ہو چکی ہے لہذا اب اسے فی الفور گھر جانا ہوگا ،نئی تعیناتی کے لیے مشاورت ہونی چاہیئے، اگر الیکشن کمیشن واقعی آزاد اور خود مختار ہے تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیئے،عوامی مینڈیٹ نہ رکھنے والوں کو اقتدار پر مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں، مقاصد کے حصول کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائےگا۔نئے الیکشن کیلئے غیرجانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا اس پر آج کے اجلاس میں تمام جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، ہم چاہتے ہیں ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہو اور اس کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر بات ہوئی، موجودہ حکومت زبردستی عوام پر مسلط کی گئی ہے، نئے الیکشن ہی ملک کو دہشت گردی اور دیگر بحران سے نکالنے کا حل ہے، اپوزیشن نے سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی معاملات پر گفتگو کی، سب جماعتوں کا یہ مؤقف تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، شرکا نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، پیکا جیسے کالے قانون کا خاتمہ ہونا چاہیئے، آنے والے وقت میں بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

    اس اجلاس میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو عوامی اعتماد حاصل نہیں ہے اور نئے انتخابات ضروری ہیں تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہو سکے۔

  • کلاس روم میں طالب علم سے شادی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خاتون پروفیسر کا بڑا فیصلہ

    کلاس روم میں طالب علم سے شادی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خاتون پروفیسر کا بڑا فیصلہ

    بھارت،ویسٹ بنگال کی ایک یونیورسٹی کی سینئر خاتون پروفیسر نے اپنے کلاس روم میں ایک طالب علم کے ساتھ "شادی” کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں یونیورسٹی سے اپنے تعلقات کو جاری رکھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔یہ ویڈیو 28 جنوری کو وائرل ہوئی تھی جس میں پروفیسر، جو ریاستی حکومت کے تحت چلنے والی مولانا ابو الکلام آزاد یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں اپلائیڈ سائیکالوجی کی شعبہ کی سربراہ ہیں، کو اپنے شعبے کے ایک پہلے سال کے طالب علم کے ساتھ ہندو بنگالی شادی کی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سنسنی پھیل گئی،یونیورسٹی کے رجسٹرار پارٹھا پراتیم لہیری نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ پروفیسر نے ان کے دفتر کو ایک ای میل بھیجا ہے جس میں انھوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ "موجودہ صورتحال” کے پیش نظر وہ یونیورسٹی کے ساتھ اپنا تعلق جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور یہ صورتحال انہیں "ذہنی طور پر تباہ کن” محسوس ہو رہی ہے۔لہیری نے کہا کہ پروفیسر نے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا اور پچھلے چند سالوں میں ادارے کے ساتھ کام کرنے کا موقع دینے پر اظہارِ تشکر کیا۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پروفیسر کو تنازعہ کے بعد 29 جنوری کو چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا اور 1 فروری کو انھوں نے ای میل بھیجی۔ یہ ای میل ابھی زیرِ غور ہے، اور فیصلہ مناسب وقت پر لیا جائے گا۔

    ویڈیو میں پروفیسر، جو اپنے عروسی لباس میں ملبوس تھیں، ہارنگھٹا کیمپس کے کلاس روم میں دکھائی گئیں۔تاہم، پروفیسر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ویڈیو ایک تھیٹر پراجیکٹ کا حصہ تھی، جسے طلبہ اور یونیورسٹی کی اجازت سے ایک "سائیکو ڈرامہ” کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ویڈیو کا ایک حصہ جان بوجھ کر ان کے ایک ساتھی نے لیک کیا، جس کا مقصد ان کے کیریئر کو نقصان پہنچانا تھا۔پروفیسر نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کریں گی تاکہ ان کی سماجی اور تعلیمی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔

    یونیورسٹی نے 29 جنوری کو پروفیسر کو چھٹی پر بھیجنے کے بعد ایک پانچ رکنی تحقیقات کمیٹی تشکیل دی تھی، جو تمام خواتین اساتذہ پر مشتمل تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پروفیسر کے دعووں کو مسترد کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ ویڈیو ایک "سائیکو ڈرامہ” پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ یونیورسٹی کے افسران نے کہا کہ یہ محض ایک سستے خوش آمدی پروگرام کا حصہ تھا جو ایک سینئر استاد کے لیے غیر مناسب تھا۔موجودہ صورتحال پر پروفیسر کی کوئی مزید رائے معلوم نہیں ہو سکی۔

    لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بیان،افغان سینئر وزیر کو مہنگا پڑ گیا

    معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

  • لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بیان،افغان سینئر وزیر   کو مہنگا پڑ گیا

    لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بیان،افغان سینئر وزیر کو مہنگا پڑ گیا

    افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے طالبان حکومت کے نائب وزیر خارجہ عباس ستانکزئی کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، عباس ستانکزئی نے 20 جنوری 2025 کو افغان صوبے خوست میں ایک مدرسے کی گریجویشن تقریب میں خطاب کرتے ہوئے طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر عائد پابندی کو شریعت کے خلاف قرار دیا تھا۔انہوں نے اس بات پر تنقید کی کہ افغانستان کی 40 ملین کی آبادی میں سے 20 ملین خواتین ہیں جنہیں تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، اور یہ فیصلہ شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ عباس ستانکزئی نے کہا تھا کہ اس پابندی کے نتیجے میں ایک پوری نسل کو علم حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے، اور یہ ناانصافی ہے۔

    انہوں نے اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا حشر کے دن ہم سب ایک ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے، جہاں ہم بے بس ہوں گے اور لڑکیوں کے حقوق کے بارے میں سوالات اٹھیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو نہ صرف تعلیم سے محروم کیا گیا ہے بلکہ ان کے وراثتی حقوق، شادیوں کے فیصلے، اور دیگر اہم حقوق بھی سلب کر لیے گئے ہیں۔عباس ستانکزئی نے مزید کہا کہ لڑکیوں کو نہ صرف اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ انہیں مساجد اور دینی مدارس تک میں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی جانب سے تعلیم کے دروازے بند کرنے کے لیے کوئی قابل قبول جواز نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگا۔انہوں نے نبی کریم ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ کے دور میں خواتین اور مردوں دونوں کے لیے علم کے دروازے کھلے تھے، اور یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہم خواتین کو علم حاصل کرنے کا حق دیں۔

    رپورٹ کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عباس ستانکزئی کے خلاف گرفتاری اور سفری پابندیوں کے احکامات جاری کیے جس کے بعد عباس ستانکزئی کو متحدہ عرب امارات فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ عباس ستانکزئی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ صحت کی وجوہات کی بنا پر دبئی گئے ہیں، تاہم طالبان حکومت نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔اس واقعے نے افغانستان میں خواتین کے حقوق اور تعلیم کے معاملے پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں، اور عالمی سطح پر طالبان کی پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

  • اترکھنڈ میں نیشنل گیمز میں فکسنگ ،تین لاکھ لائیں گولڈ میڈل لیں

    اترکھنڈ میں نیشنل گیمز میں فکسنگ ،تین لاکھ لائیں گولڈ میڈل لیں

    اترکھنڈ میں جاری ’نیشنل گیمز‘ کے دوران ایک بڑی فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ یہ ایونٹ جس میں مختلف کھیلوں کے مقابلے ہو رہے ہیں، اب تنازعہ کی زد میں آ گیا ہے۔

    گیمز ٹیکنیکل کنڈکٹ کمیٹی (جی ٹی سی سی) نے تائیکوانڈو مقابلے کے ڈائریکٹر، ٹی پروین کمار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ ایس دنیش کمار کو تائیکوانڈو کے نئے ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔پروین کمار پر الزام ہے کہ وہ نیشنل گیمز میں تائیکوانڈو مقابلوں کے نتائج میں ہیرا پھیری کر رہے تھے۔ انہیں میڈل فروخت کرنے اور میچ فکسنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ نیشنل گیمز کے تائیکوانڈو مقابلے ہلدوانی میں منعقد ہو رہے ہیں، جہاں میڈلز کی خرید و فروخت کی شکایات پہلے ہی سامنے آ چکی تھیں۔

    رپورٹس کے مطابق، کھلاڑیوں سے گولڈ میڈل کے لیے 3 لاکھ روپے، سلور میڈل کے لیے 2 لاکھ روپے اور برانز میڈل کے لیے 1 لاکھ روپے طلب کیے جا رہے تھے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ تائیکوانڈو مقابلے کے 16 ویٹ کیٹیگریز میں سے 10 کیٹیگریز کے میڈلز پہلے ہی طے کر لیے گئے تھے۔

    انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کی صدر پی ٹی اوشا نے اس معاملے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم کھلاڑیوں کے ساتھ انصاف کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ بے حد افسوسناک ہے کہ نیشنل گیمز میں میڈلز کی خرید و فروخت کی جا رہی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آئی او اے کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا ہیرا پھیری کو برداشت نہیں کرے گی، اور جو بھی اس میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اس معاملے میں جی ٹی سی سی کی صدر، سنینا کماری نے بھی کہا کہ ’’ہمیں نیشنل گیمز اتراکھنڈ کی سالمیت کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور اس کے لیے پی ایم سی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنا ہوگا۔‘‘

    یہ سکینڈل نیشنل گیمز کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے اور اس کے نتیجے میں حکام نے اس پورے معاملے کی تحقیقات مزید گہرائی سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

  • پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سگریٹ پینے پر پابندی

    پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سگریٹ پینے پر پابندی

    پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں سگریٹ پینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    محکمہ تعلیم پنجاب نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔یہ اقدام پنجاب کے تعلیمی اداروں میں صحت کے حوالے سے آگاہی بڑھانے اور بچوں و نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے مزید کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی اور منشیات کے استعمال پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کینسر سے بچاؤ کے عالمی دن پر پیغام
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کینسر سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر ایک اہم پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کی تشخیص اور علاج کے بارے میں عوامی شعور و آگاہی ضروری ہے۔ مریم نواز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں کینسر کے باعث ہونے والی شرح اموات انتہائی بلند ہے، اور اس مسئلے کی روک تھام کے لئے عوامی سطح پر آگاہی کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ منشیات اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کر کے کینسر سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے عوام کو یہ پیغام دیا کہ کینسر کی روک تھام کے لئے صحت مند طرز زندگی اپنانا ضروری ہے اور کینسر سے بچنے کے لئے سگریٹ نوشی اور منشیات سے دور رہنا بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے ہر ضلع میں کینسر کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ عوام کو اس مہلک بیماری سے بچایا جا سکے۔ مریم نواز نے فضائی اور آبی آلودگی کو بھی کینسر کا ایک اہم سبب قرار دیا اور کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    یہ پیغام عوام میں کینسر سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور صحت کے مسائل پر قابو پانے کے لئے ایک اہم قدم ہے۔

  • اسرائیل کا رقبہ بہت کم ،جنگ بندی معاہدے کی گارنٹی نہیں،ٹرمپ

    اسرائیل کا رقبہ بہت کم ،جنگ بندی معاہدے کی گارنٹی نہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے زمینی رقبے کے بارے میں اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کا رقبہ بہت کم ہے، جو کہ حقیقتاً درست نہیں۔

    عرب میڈیا کی جانب سے ٹرمپ کی پریس کانفرنس کا ویڈیو کلپ جاری کیا گیا، جس میں ایک صحافی نے سوال کیا کہ ٹرمپ ماضی میں اسرائیل کے کم رقبے کا ذکر کرتے آئے ہیں، تو کیا وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو اسرائیل کے ساتھ ضم کرنے کی حمایت کرتے ہیں؟ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اس معاملے پر اس وقت بات نہیں کریں گے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل کا رقبہ بہت چھوٹا ہے اور زمینی اعتبار سے یہ ایک انتہائی کم رقبہ رکھنے والا ملک ہے۔

    اس موقع پر ٹرمپ نے ایک دلچسپ تشبیہ دی اور اپنی میز پر رکھے قلم کو اٹھا کر کہا، "اگر میری میز مشرق وسطیٰ کی نمائندگی کرتی ہے تو اسرائیل میرے قلم کی نوک کے برابر ہے۔” ٹرمپ نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہ فرق بہت زیادہ ہے اور یہ حقیقت میں ایک بہت چھوٹا ٹکڑا ہے، لیکن اس میں جو کچھ اسرائیل نے حاصل کیا ہے، وہ انتہائی حیرت انگیز ہے۔ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے بھی اہم باتیں کیں اور کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ یہ برقرار رہ سکے گا۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر ہیں اور آج وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو ہفتے کے اختتام تک امریکہ میں قیام کریں گے۔

  • بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    دنیا مریخ پر گھر بنانے میں مصروف،ہمیں خوشامدی لے ڈوبے
    خوشامد کے جراثیم سیاست کا حصہ،سائیکل پر آیا سیاسی کار بنگلے کا مالک بن گیا
    ذرا نہیں پورا سوچئے احکامات خداوندی اور سیرت النبیﷺ پر کتنا عمل ہورہا
    ملکی قرض آسمان پر پہنچ جائے دینا قوم نے ہی ہے،لینے والے ذمہ دار نہیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم وہ بدنصیب قوم ہیں آج تک گیس چلی گئی ،گیس آ گئی ، بجلی چلی گئی ،بجلی آگئی،ہر سو انتشار ہی انتشار ، ذاتی مفادات ،اقربا پروری ، علم اور عمل سے دور،علم اور عمل والوں کی قدر نہیں، خوشامد ایک ایسا ہنر ہے جس سے سب کو کاٹا جا سکتا ہے جو تیز دھار تلواروں سے کٹ سکے،انہیں خوشا مد اور قصیدہ خوانی نے بام عروج پر پہنچا دیا زمانہ ہی خوشامد خوروں کا ہے؟اگرسیاست کی بات کی جائے تو غربت سیاسی گلیاروں میں نہیں ہوتی ، بے روزگاری ،سیاسی گلیاروں میں نہیں دیکھی جا سکتی ، نہ کبھی نظر آئی ، ریاست کے سارے وسائل اس سیاست کی دسترس میں ہوتے ہیں، قرضے جتنے بھی بڑھ جائیں وہ عوام نے اُتارنے ہیں، سیاسی گلیاروں میں دیکھاجائے تو سیاستدانوں کی اکثریت اپنے آپ کو ملائکہ کرام کہلوانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیتی ہے، دنیا بھرمیں جمہوریت ،جمہور کی خدمت ہے ریاستی مفادات میں ہماری جمہوریت ذاتی مفادات،اقربا پروری ،جھوٹ ، فریب ،دھوکے ، خوشامد پر قائم ہے،مفاد پرستی کی سیاست نے اتنے پَر پھیلائے کہ فوج محفوظ نہ عدلیہ،ان حالات میں سیاسی عدم استحکام نہ ہو تو کیا ہو، ایک طرف آئین کھڑا ہے وہ اپنی بے بسی کا رونا رو رہا ہے،معیشت کا حال تو مت پوچھیئے وہ اس وقت کہاں کھڑی ہے خود ساختہ خوشحالی کے قصے اور کہانیاں سنانے والے سنا رہے ہیں،المیہ یہ ہے کہ عوام ان مفادات پرست سیاستدانوں کو مسیحا اور ہیرو مانتی ہے، کل تک 1980 ء میں جن کے پاس موٹر سائیکل اور سائیکل تھی آج اُن کے پوش علاقوں میں محل نما گھر ، پلازے ، مارکیٹیں ، کروڑوں روپے کی گاڑیاں کہاں سے آگئیں ؟سیاسی جماعتوں میں خود ساختہ ا یسے رہنمائوں کو میں جانتا ہوں جن کو اپنا راستہ معلوم نہیں وہ قوم یا اپنے حلقے کےعوام کو کیسے راستہ دکھائیں گے یا رہنمائی کریں گے، کہیں فکر اسلام کی باتیں ہوتی ہیں،لیکن اسلامی مملکت میں احکامات خدا وندی سیرت النبی ؐ پر کتنا عمل کیا جاتا ہے ؟ عدل وانصاف کی بات کی جائے تو آج بھی جسٹس رانا بھگوان داس ،جسٹس کارنولیئس،جسٹس دراب پٹیل کا نام سنہری الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور عوام کو رائٹ مین فار جاب حقیقت پسندی اور اخلاص کے پیمانوں پر شخصیات کو تولہ جائے اور شعبہ ہائے زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ قوم کی تعمیر اور ترقی کا سفر جاری ہو سکے۔

  • کسی بھی مہم جوئی کا  پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، آرمی چیف

    کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر صدارت 267ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا

    شرکاء نے مادرِ وطن کے امن و استحکام کے لئے شہدائے افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا، فورم نے درپیش خطرات کا مفصل جائزہ لیتے ہوئے علاقائی اور داخلی سلامتی کے منظر نامے پر روشنی ڈالی، شرکاء کانفرنس نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ،فورم نے یوم یکجہتی کشمیر (5 فروری 2025) کے موقع پر کشمیر کے پُرعزم لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی، فورم نے بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور انہیں خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا،شرکاء کانفرنس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے ان کی جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، شرکاء نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا،فورم نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ عاقبت نا اندیش اور اشتعال انگیز بیانات کا بھی سخت نوٹس لیا اور انہیں غیر ذمہ دارانہ اور علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا

    فورم سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا؛”پاکستان آرمی ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے“ بھارتی فوج کے یہ کھوکھلے بیانات ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں، اس قسم کے بیانات،اپنے عوام اور عالمی برادری کی توجہ بھارت کی اندرونی خلفشار اور اُسکی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں، کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، انشاء اللہ،

    فورم نے فتنتہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، فورم نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کے عبوری افغان حکومت فتنہ الخوارج کی موجودگی سے انکار کی بجائے اسکے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات کرے ،فورم نے واضح کیا کہ افغانستان اور فتنہ الخوارج کے ضمن میں جاری شدہ تمام ضروری اقدامات اور حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا جو پاکستان اور اُسکے عوام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں ،فورم نے بلوچستان میں عوام پر مرکوز سماجی و اقتصادی ترقی کے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ احساس ِ محرومی کے من گھڑت بیانیے کی نفی کی جا سکے

    فورم نے اس بات کا اعادہ کیاکہ؛”کسی کو بھی بلوچستان میں امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“ غیر ملکی پشت پناہی کرنے والی پراکسیز کی بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انتہا پسندی پر مائل کرنے کے مذموم عزائم کو بلوچستان کے عوام کی غیر متزلزل حمایت سے ناکام بنایا جائے گا، انشاء اللہ،

    تمام فارمیشنوں کی آپریشنل تیاریوں کی تعریف کرتے ہوئے آرمی چیف نے مشن پر مبنی تربیت، بہتر فوجی تعاون، روایتی اور انسداد دہشت گردی کی مد میں مشترکہ مشقوں کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا،کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ؛ ”عسکری قیادت قوم کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ ہے“ “عسکری قیادت پاکستان کی قابلِ فخر عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے”،