Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یوٹیوبر سے لڑکیوں کی خفیہ اور نازیبا 300 سے زائد  ویڈیوز برآمد

    یوٹیوبر سے لڑکیوں کی خفیہ اور نازیبا 300 سے زائد ویڈیوز برآمد

    تلگو فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار راج ترن اور ان کی سابقہ محبوبہ و ماڈل گرل لوانیہ کے درمیان چل رہا کیس اب نئی پیشرفت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سال لوانیہ نے راج ترن کے خلاف مختلف الزامات لگائے تھے، جن میں چیٹنگ اور دیگر مقدمات شامل تھے۔ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی تھی اور اداکار کو تفتیش میں شامل کیا تھا۔

    اب تازہ ترین معلومات کے مطابق، اس کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ اداکارہ لوانیہ کے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر پولیس نے ایک یوٹیوبر کو گرفتار کیا ہے۔ لوانیہ نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ یہ یوٹیوبر لڑکیوں کی خفیہ اور نازیبا ویڈیوز ریکارڈ کر کے انہیں بلیک میل کرتا تھا، جس پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے یوٹیوبر مستان سائی کو گرفتار کر لیا۔

    حیدرآباد پولیس نے اس گرفتار یوٹیوبر کے قبضے سے 300 سے زائد خواتین کی نجی اور خفیہ ویڈیوز برآمد کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ یوٹیوبر لڑکیوں سے محبت اور شادی کے جھوٹے دعوے کرتا تھا اور خفیہ طور پر ان کی ویڈیوز بناتا تھا۔ اس کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ شخص پہلے بھی منشیات کیس میں گرفتار ہو چکا ہے۔

    پولیس نے متاثرہ خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ سامنے آئیں اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرائیں تاکہ اس کے مزید جرائم کا پتہ چل سکے۔ یہ کیس نہ صرف راج ترن اور لوانیہ کے درمیان تنازعہ کی نئی تفصیلات پیش کرتا ہے، بلکہ یوٹیوبر کی غیر قانونی سرگرمیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے معاملے پر نیا تنازعہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے معاملے پر نیا تنازعہ

    پانچ ججز نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے معاملے پر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

    پانچ ججز نے سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھیجوا دی، ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو بھی ججز ریپریزنٹیشن کی کاپی بھیجوا دی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری سے گزشتہ روز ججز کی سینیارٹی لسٹ جاری کی گئی تھی،

    جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری ،سٹس بابر ستار،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی ریپریزنٹیشن بھیجنے والوں میں شامل ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر کی جانب سے الگ سے ریپریزنٹیشن فائل کیے جانے کا امکان ہے،ججز نے کہا کہ جج جس ہائیکورٹ میں تعینات ہوتا ہے اُسی ہائیکورٹ کیلئے حلف لیتا ہے،آئین کی منشاء کے مطابق دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے پر جج کو نیا حلف لینا پڑتا ہے،دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے جج کی سینیارٹی نئے حلف کے مطابق طے ہو گی،عدالتی ذرائع کے مطابق ججز کی جانب سے دائر ریپریزنٹیشن سینیارٹی سے متعلق ہے، ججز کے تبادلے سے کوئی تعلق نہیں، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے، سینیارٹی کا مسئلہ حل ہونے تک چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن اجلاس ملتوی کریں،

  • کویینز لینڈ میں 17 سالہ لڑکی شارک کے حملے میں ہلاک

    کویینز لینڈ میں 17 سالہ لڑکی شارک کے حملے میں ہلاک

    کویینز لینڈ، آسٹریلیا میں 17 سالہ لڑکی ایک شارک کے حملے میں ہلاک ہو گئی۔شارک نے حملہ اس وقت کیا جب لڑکی تیراکی کر رہی تھی یہ واقعہ وورم بیچ پر پیش آیا، جو بریسبین کے شمال میں واقع ہے۔

    کویینز لینڈ ایمبولینس سروس نے ایک "سنگین شارک کاٹنے کے واقعے” کی اطلاع دی، جس کے بعد پیرامیڈکس کو مقامی وقت کے مطابق شام 4:45 بجے کے قریب موقع پر پہنچایا گیا۔ لڑکی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے برائیبی آئی لینڈ کے جنوب مشرقی حصے میں تیراکی کے دوران شارک کے حملے کے بعد اس کے اوپر والے جسم میں شدید چوٹیں آئیں اس حوالے سے مزید تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں کہ حملہ کرنے والی شارک کی نوعیت کیا تھی۔

    مقامی شخص کرسٹوفر پاٹر، جو حملے کے بعد فوراً ساحل پر پہنچے، نے اے بی سی نیوز کو بتایا: "یہاں صبح اور شام کے وقت کئی گروپ تیراکی کرتے ہیں۔ برائیبی کے ارد گرد شارک کی موجودگی معروف ہے، لیکن اس حد تک ساحل کے قریب یہ واقعہ ایک دھچکہ ہے۔”سرف لائف سیونگ کوئینز لینڈ نے ایک بیان میں کہا: "وورم بیچ کو مزید نوٹس تک بند رکھا جائے گا۔”

    یہ کوئینز لینڈ میں ایک ماہ کے اندر دوسرا مہلک شارک حملہ ہے۔ دسمبر میں، 40 سالہ چرچ پادری ایک شارک کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے جب وہ سینٹرل کوئینز لینڈ کے ساحل پر اسپیر فشنگ کر رہے تھے۔کویینز لینڈ کی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق، ریاست کے پانیوں میں 100 سے زائد شارک کی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے: "کویینز لینڈ میں شارک کے کاٹنے کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں اور زیادہ تر شارک کی اقسام لوگوں کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔”

  • بڑھتی ہوئی دہشت گردی پاکستان کو مسئلہ کشمیر سے دور رکھنے کی سازش ہے،مرکزی مسلم لیگ

    بڑھتی ہوئی دہشت گردی پاکستان کو مسئلہ کشمیر سے دور رکھنے کی سازش ہے،مرکزی مسلم لیگ

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی، کشمیری عوام کا حق ہے کہ وہ کشمیر کے لئے ہر طرح کی جدوجہد کریں پاکستانی کشمیریوں کی حمایت کریں، مسئلہ کشمیر حل ہو گا تو پاکستان میں بدامنی ختم ہو گی، ملک میں معاشی استحکام بھی آئے گا، ملکی دفاع کے لئے افواج پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں، بڑھتی ہوئی دہشت گردی پاکستان کو مسئلہ کشمیر سے دور رکھنے کی سازش ہے، کشمیر آزاد ہو گا تب پاکستان مکمل آزاد ہوگا پانچ فروی کو ملک بھر میں یکجہتی کشمیر پروگرام ہوں گے اس عزم کے ساتھ کہ شہہ رگ کو دشمن سے چھڑائیں گے، ہم کشمیریوں کی آزادی اور شہ رگ کو چھڑانے کے لئے جدوجہد کریں گے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر شہر رگ چھڑائیں گے” کے عنون سے جلسے، ریلیاں منعقد کی جائیں گی

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے لاہور پریس کلب میں مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور فورسز کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں امن وامان قائم اور وطن عزیز کے دفاع میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، حالیہ مہینوں سے پاکستان میں بدامنی بڑھ چکی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا عرصہ دراز سے موقف ہے کہ اس کے پیچھے بھارت ہے، ہمارے اس مؤقف کی تائید وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کر چکے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کا واضح موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہائی لائٹ نہ کیا گیا ، حل کی کوشش نہ کی گئی تو نہ تو دہشت گردی ختم ہو گی اور نہ مسائل حل ہوں گے، دشمن کی خواہش ہے کہ ہم تقسیم ہو جائیں ، لسانیت، صوبائیت میں تقسیم ہوں ، یہاں دہشت گردی ہو، بھارت نے کشمیر پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ، خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیری عوام کا حق ہے کہ وہ کشمیر کے لئے ہر طرح کی جدوجہد کریں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کشمیریوں کی حمایت کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی، آج متحد ہو کر کشمیر کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے، کشمیریوں کی آزادی کے لئے سیاسی انداز میں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی بھر پور و حمایت کی جائے، کشمیری جس ظلم کی چکی میں پس رہے ان کو نجات ملنی چاہئے ، خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ ایک ہفتے سے یکجہتی کشمیر کے لئے بھر پور انداز میں ملک بھر میں پروگرام کر رہی ہے، 5 فروری کو ملک بھر میں یکجہتی کشمیر پروگرام ہوں گے اس عزم کے ساتھ کہ شہہ رگ کو دشمن سے چھڑائیں گے، ہم کشمیریوں کی آزادی اور شہ رگ کو چھڑانے کے لئے جدوجہد کریں گے، ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی یکجہتی کشمیر کے پروگرام ہوں گے، جن میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوں گے، میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے آواز بلند کریں

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک قومی کاز ہے، قوم کو ملکر کشمیر کے لئے کام کرنا ہے، زندہ دلان لاہور نے بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے بڑا کردار ادا کیا ہے، لاہور میں ہمارے ٹرک چل رہے ہیں جن پر ترانے چل رہے ہیں اور قوم کو آگاہی دی جا رہی ہے، آج لاہور کے تمام علاقوں فلوٹ بھی چلیں گے ،ہم لاہور میں 5 فروری کو یکجہتی کشمیر کے موقع پر ایجرٹن روڈ پر جلسہ عام کا انعقاد کریں گے، اور کشمیریوں کو بھر پور مدد و حمایت کا پیغام دیں گے، لاہور کے عوام کو یکجہتی کشمیر جلسے میں شرکت کے دعوت دیتے ہیں ، کشمیر کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر بھی آواز اٹھائیں ،ایسا ماحول بنایا جائے کہ اہلیان کشمیر کو یہ پیغام جائے کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے، کشمیریوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، لاہور ثابت کرے گا کہ آج بھی لاہوریوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

    ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے، پچھلے دنوں فوجی جوان بڑی تعداد میں شہید ہوئے، اس کے پیچھے بہت بڑی سازش ہے، پاکستان کو تقسیم کرنے، انتشار، اختلاف کی بنیاد پر تباہ کرنا اور شہہ رگ سے دور رکھنا دشمن قوتوں کا مقصد ہے ، 5 فروری کو ہر سال کی طرح مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام شہہ رگ کو ہر صورت چھڑائیں گے کے عنوان سے ملک بھر میں یکجہتی کشمیر کے لئے پروگرام ہوں گے پاکستان قوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دے کر دنیا کو باور کروائے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں

  • عمران خان کا کوئی خط نہیں ملا، جواب آ گیا، سیکیورٹی ذرائع

    عمران خان کا کوئی خط نہیں ملا، جواب آ گیا، سیکیورٹی ذرائع

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

    سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو کوئی خط بھیجا ہے، تاہم اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو ایسے کسی بھی خط میں کوئی دلچسپی نہیں ہے،سزا یافتہ مجرم کی جانب سے کوئی خط نہیں ملا ،پی ٹی آئی نے خط کے نام پر ایک اور ناکام ڈرامہ کرنے کی کوشش کی اگر ایسا کوئی خط ہے بھی تو اسٹیبلشمنٹ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ، اگر پی ٹی آئی کو کسی بھی معاملے پر بات کرنی ہے تو سیاستدانوں سے کرے،

    اس سے قبل، آج پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خط کا جواب آتا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود بتایا تھا کہ انہوں نے آرمی چیف کو ایک خط لکھا ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک اس خط کو پڑھا یا دیکھا نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز، بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان نے سابق وزیراعظم کی حیثیت سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے ان سے درخواست کی تھی کہ فوجی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ اس بات کی تصدیق بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے بھی کی تھی۔

    خلیل الرحمان قمر کیس،گواہان کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے

    امریکا کا نیا اور طاقتور لیزر ہتھیار جو ڈرونز اور میزائلوں کو پگھلا کر اُنہیں تباہ کر سکتا ہے

  • خلیل الرحمان قمر کیس،گواہان کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے

    خلیل الرحمان قمر کیس،گواہان کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے

    انسداد دہشت گردی عدالت: ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے اغوا کا مقدمہ ،آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت دیگر ملزموں کیخلاف مقدمے کی سماعت ہوئی

    پراسکیوشن کے گواہان کے بیان ریکارڈ نہیں ہو سکے ،وکلا ملزم نے کہا کہ گواہان کے ابھی تک بیانات کی نقول فراہم نہیں کی گئی،ملزموں کے وکلاء کے اعتراض کی وجہ سے گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے، ،عدالت نے مزید سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی،آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت 12 ملزموں کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا،مدعی مقدمہ ڈرامہ نگار خلیل الرحمان مقدمہ کی پیروی کیلیے پیش ہوئے،مقدمہ سے دہشتگردی قانون کی دفعات ختم کرنے کی درخواست خارج ہو چکی ہے،انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے مقدمے پر سماعت کی.

    خلیل الرحمان آج کل خبروں میں ہیں، گینگ سے تشدد کا نشانہ بننے سے لے کر نازیبا ویڈیو لیک ہونے تک ہر روز خلیل الرحمان قمر کی دو چار خبریں آ رہی ہیں، ہر خبر میں نئے انکشافات سامنے آ رہے جس میں خلیل الرحمان قمر کا حقیقی کردار بے نقاب ہو رہا ہے،خلیل الرحمان قمر آمنہ عروج کو فون کرتے تھے، خود ملنے گئے، ایک بار نہیں کئی بار ملے، نازیبا ویڈیو بنیں اور وائرل ہو گئیں، مقدمہ درج ہوا تو آمنہ عروج ،حسن شاہ و دیگر کو گرفتار کر لیا گیا خلیل الرحمان قمر بھی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایف آئی اے پہنچ گئے کہ میری ساکھ متاثر ہوئی ہے،خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ شروع

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ شروع

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری چین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران ان کے ہمراہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن، اور ناصر شاہ بھی موجود ہیں۔ چین پہنچنے پر بیجنگ ایئرپورٹ پر پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے صدر اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔

    دورۂ چین کے دوران صدر زرداری اور ان کے ہمراہ وفد کے اراکین چین کی مختلف تجارتی و صنعتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں چین کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔چین کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے حکام مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری دورہ چین کیلئے اسلام آباد سے روانہ ہو ئے،صدر مملکت 4 سے 8 فروری تک دورہ چین کیلئے وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے روانہ ہوئے ،نائب وزیر اعظم، وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھے ،صدر مملکت بیجنگ میں چین کی اعلیٰ سطح کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے،صدر مملکت چینی صدر شی جن پنگ اور اسٹیٹ کونسل کے پریمیئر لی چیانگ سے ملیں گے ،صدر مملکت کا دورہ چین دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے،صدر مملکت کا دورہ چین دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا،ملاقاتوں کے دوران پاک -چین اقتصادی راہداری، علاقائی روابط، سیکورٹی تعاون سمیت اہم دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا

  • پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    پاکستان میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا متنازع پیکا (پرؤیکشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) قانون فعال ہو چکا ہے اور اس کے تحت فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں دو مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

    پیر کے روز اوکاڑہ پولیس نے واٹس ایپ پر جھوٹی ڈکیتی کی خبر پھیلانے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ اُس نے ایک واٹس ایپ گروپ پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ "10 سے 11 ملزمان ایک ہوٹل سے تین لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے ہیں، جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں”۔ تاہم تفتیش کے دوران پولیس نے اس دعوے کی تردید کی اور ہوٹل کے مالک نے بھی اس خبر کو جھوٹا قرار دیا۔

    دوسری جانب اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ نے مظفر گڑھ میں ایک شخص کو گرفتار کیا جس پر الزام تھا کہ اُس نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر توہین مذہب کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے "بھرے بازار میں گستاخی کی ہے”، جس سے معاشرتی بدامنی پیدا ہوئی۔ اس الزام پر ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔

    پیکا ایکٹ (ترمیمی) 2025 کیا ہے؟
    پاکستان میں فیک نیوز اور جعلی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیکا ایکٹ کی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت آن لائن جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ترمیمی بل 2025 کے مطابق، جو شخص جان بوجھ کر فیک نیوز پھیلائے گا یا کسی دوسرے کو ارسال کرے گا، جس سے معاشرتی خوف یا بدامنی پیدا ہو، اُس کے خلاف تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

    پیکا ایکٹ کا مقصد:
    پیکا ایکٹ کا مقصد آن لائن فیک نیوز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غلط معلومات کا سدباب کرنا ہے تاکہ معاشرتی امن قائم رہے اور عوام کو جھوٹی خبروں سے بچایا جا سکے۔ اس ایکٹ کے تحت انٹرنیٹ پر جھوٹے اور توہین آمیز مواد پھیلانے والوں کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں تاکہ یہ مسائل کنٹرول کیے جا سکیں۔

    مذکورہ مقدمات میں پولیس اور ایف آئی اے کی کارروائی نے پیکا ایکٹ کے تحت ان اقدامات کی اہمیت کو واضح کیا ہے، جہاں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کو سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • چیف جسٹس یحیی  آفریدی سے چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    چیف جسٹس یحیی آفریدی سے چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان، یحیی افریدی نے چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی جس میں عدلیہ اور وکلاء کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ "عدلیہ اور بار کا تعاون انصاف کے نظام کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ وکلاء اور ججز کا اشتراک عدلیہ کو مؤثر بنانے کے لیے اہم ہے۔چیف جسٹس یحیی افریدی نے چترال کے علاقے بونی کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ "چترال میں عدلیہ کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے میں خود وہاں جا کر صورتحال کا جائزہ لوں گا۔” یہ دورہ چترال کے عوام اور وکلاء کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہاں جغرافیائی مشکلات کی وجہ سے عدلیہ تک رسائی میں مسائل درپیش ہیں۔

    چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد نے چیف جسٹس کو چترال کے جغرافیائی مسائل سے آگاہ کیا جن کی وجہ سے وہاں کے وکلاء اور عوام کو عدلیہ تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ وفد نے درخواست کی کہ چترال میں عدلیہ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔چیف جسٹس یحیی افریدی نے چترال کے وکلاء کے لیے پروفیشنل ڈویلپمنٹ کورس کے انعقاد کی ہدایت کی تاکہ وہاں کے وکلاء کی قانونی مہارت میں اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "وکلاء کی تربیت اور ان کی مہارتوں کو بڑھانے کے لیے وفاقی عدلیہ اکیڈمی کو ایک خصوصی پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔”چیف جسٹس نے وفاقی عدلیہ اکیڈمی کو ہدایت دی کہ وہ چترال کے وکلاء کے لیے تربیتی پروگرام کا انعقاد کرے تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کر سکیں اور عدلیہ کی اصلاحات میں مزید مددگار ثابت ہوں۔

    یہ ملاقات اور اقدامات چترال کے وکلاء اور عوام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہیں، جو مستقبل میں عدلیہ کی خدمات تک رسائی اور معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • بشریٰ بی بی کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس

    بشریٰ بی بی کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بشریٰ بی بی کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر دیا۔

    یہ فیصلہ عدالت میں بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر ہوا۔ درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کو 26 نومبر 2024 کو 31 مقدمات میں عبوری ضمانت کے حوالے سے سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا جانا تھا، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود جیل انتظامیہ نے انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا۔

    درخواست گزار محمد فیصل ملک نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جیل انتظامیہ کی طرف سے بشریٰ بی بی کو عدالت میں پیش نہ کر کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اس سے عدالت کی توہین ہوئی ہے۔ درخواست میں یہ بھی اپیل کی گئی کہ جیل انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ بشریٰ بی بی کو کیوں پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے 6 جنوری 2025 کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا اور ان سے وضاحت طلب کی۔ جج امجد علی شاہ نے اس معاملے کی سماعت کی اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کے لیے عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ اس پیش رفت سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ عدالت بشریٰ بی بی کی پیشی میں تاخیر کے بارے میں جیل انتظامیہ کے جواب کی توقع کر رہی ہے۔