Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی،واٹر کارپوریشن کی  رعایتی پالیسی میں تین ماہ کی مزید توسیع

    کراچی،واٹر کارپوریشن کی رعایتی پالیسی میں تین ماہ کی مزید توسیع

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے واٹر کارپوریشن کی خصوصی رعایتی پالیسی میں تین ماہ کی مزید توسیع کی منظوری دے دی جس کے بعد واٹر کارپوریشن نے اپنے تمام ریٹیل صارفین کے بلوں کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے رعایتی اسکیم میں 3 ماہ کی مزید مدت کے لیے 30 اپریل 2025 تک اضافہ کرلیا .

    اس حوالے سے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ رعایتی پالیسی کا بنیادی مقصد شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے کیونکہ اس پالیسی کے تحت شہریوں کو آسان اقساط میں واٹر کارپوریشن کے بقایاجات جمع کروانے کا موقع ملے گا انہوں نے شہریوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مہم سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے واٹر کارپوریشن کے بقایاجات بروقت ادا کریں جس سے واٹر کارپوریشن کی آمدنی میں اضافے کی صورت میں شہریوں کو فراہمی و نکاسی آب کی مزید بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی انکا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کو فراہمی و نکاسی کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں سندھ حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق میئر کراچی کی ہدایت پر تمام ریٹیل صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے رعایتی پالیسی کی مدت کو بڑھایا گیا ہے کیونکہ اس پالیسی کی تحت وہ تمام ریٹیل صارفین مستفید ہونگے جنہوں نے اب تک واٹر کارپوریشن کے بقایاجات ادا نہیں کیے جبکہ پالیسی کے تحت تمام ریٹیل صارفین کو اپنے بقایاجات جمع کروانے پر رعایت کے ساتھ اقساط کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی اور وہ ریٹیل صارفین جو اپنے بقایاجات یک مشت جمع کروائیں گے تو انہیں 35 فیصد 6 ماہ کے اندر ادائیگی کرنے والوں کو 25 فیصد 9 ماہ میں 20 فیصد ایک سال میں 15 فیصد اور 15 ماہ میں اپنے بقایاجات جمع کروانے والوں کو 10 فیصد رعایت دی جائے گی لہٰذا عوام الناس سے گزارش ہے کہ اس رعایتی پالیسی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں جبکہ مقررہ تاریخ کے بعد تمام نادہندگان کے خلاف واٹر کارپوریشن کے نئے ایکٹ کے سیکشن 40 کے تحت بھرپور کاروائیاں کی جائیں گی

    واضح رہے کہ گزشتہ 3 ماہ میں رعایتی پالیسی سے واٹر کارپوریشن کی آمدنی میں ماہانہ 20 کروڑ روپے اضافہ ہوا انہوں نے مزید بتایا کہ صارفین اپنے رعایتی بلز حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکسز کے دفتر سے رابطہ کریں جبکہ کسی بھی قسم کی شکایت یا مزید معلومات کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1334 پر رابطہ کریں۔

  • دوسری چیف آف آرمی سٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپیئن شپ 2025 کی افتتاحی تقریب

    دوسری چیف آف آرمی سٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپیئن شپ 2025 کی افتتاحی تقریب

    دوسری چیف آف آرمی سٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ 2025 کے فائنل راؤنڈ کا آغاز آج ایک رنگا رنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا۔ مہمان خصوصی لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے ہاکی لیجنڈز، پی ایچ ایف کے عہدیداروں اور کھیلوں کے شائقین کی بڑی تعداد کی موجودگی میں ٹورنامنٹ کے افتتاح کا اعلان کیا۔

    افتتاحی تقریب میں سکول کے بچوں اور کھلاڑیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں ٹورنامنٹ کی ٹرافی کی رونمائی بھی کی گئی۔ چیمپئن شپ کے آفیشل گانے، ملی نغموں اور پاکستان رینجرز پنجاب کے بینڈ نے حاضرین کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کیا۔معزز مہمانوں میں ہاکی کے قومی ہیروز چوہدری اختر رسول، منظور الحسن، توقیر ڈار، شہباز احمد سینئر، طاہر زمان، آصف باجوہ، انجم سعید، دانش کلیم، کامران اشرف، محمد خالد، طارق شیخ، شیخ محمد عثمان، محمد کاشف، محمد عاصم، میاں زاہد اقبال اور بابر عبداللہ کے علاوہ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) میر طارق حسین بگٹی اور سیکرٹری رانا مجاہد علی شامل تھے۔

    سیکرٹری پی ایچ ایف نے قومی کھیل کی بحالی کے لیے مسلسل تعاون پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایونٹ میں شریک ٹیموں، عہدیداروں اور منتظمین کو بھی سراہا اور کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔

    فائنل راؤنڈ میں دس بہترین ٹیمیں شامل ہیں، جنہوں نے ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی راؤنڈز کے بعد قومی سطح کے مقابلوں کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 20 دسمبر 2024 سے پاکستان بھر میں ضلعی سطح کے مقابلوں سے ہوا، جس میں 57 اضلاع سے 11594 کھلاڑیوں نے 527 کلبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے حصہ لیا۔ پنجاب سے چار، سندھ اور کے پی کے سے دو دو اور بلوچستان، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور اسلام آباد سے ایک ایک ٹیم فائنل مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے۔ یہ ٹیمیں قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیمپئن شپ ٹرافی کے لیے مقابلہ کریں گی۔ بہترین دس ٹیموں کے درمیان مقابلے 15 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے فائنل میچ اور اختتامی تقریب تک جاری رہیں گے

  • سینیٹ کی اقتصادی امور کمیٹی کا اجلاس، منصوبوں پر تفصیلی غور

    سینیٹ کی اقتصادی امور کمیٹی کا اجلاس، منصوبوں پر تفصیلی غور

    سینیٹ کی اقتصادی امور کمیٹی کا اجلاس، جس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑونے کی، آج منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وزارت مواصلات کے جاری اور مکمل شدہ منصوبوں پر تفصیل سے بات چیت کی گئی، خصوصاً قومی ہائی ویز، موٹرویز اور سڑکوں کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر جو کہ مختلف بین الاقوامی اور دوطرفہ ایجنسیوں کے تحت مکمل کیے گئے ہیں۔ اس اجلاس میں ٹینڈرنگ کے عمل اور وفاقی حکومت کی جانب سے ان منصوبوں پر ادا کی جانے والی سود کی تفصیلات بھی زیر بحث آئیں۔

    منصوبوں کی تکمیل اور مالی تفصیلات: حکام نے آگاہ کیا کہ جولائی 2024 تک کل 33 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جن میں سے 15 منصوبے ایشیائی ترقیاتی بینک، 5 منصوبے عالمی بینک، 7 منصوبے چین، 1 منصوبہ سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ، 1 منصوبہ یوایس ایڈ، 3 منصوبے جاپان اور 1 منصوبہ کویت فنڈ سے فنڈ کیے گئے تھے۔ ان منصوبوں کی کل مالیت 9,996.20 ملین امریکی ڈالر تھی جبکہ اس میں سے 9,355.19 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 10 منصوبے ابھی جاری ہیں جن کی کل مالیت 1,547.03 ملین امریکی ڈالر ہے، ان میں سے 4 منصوبے ایشیائی ترقیاتی بینک اور کوریا کے تعاون سے، اور 1 منصوبہ سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور عالمی بینک کی مدد سے چل رہے ہیں۔

    سینیٹر سیف اللہ ابڑونے کہا کہ کئی منصوبوں کے ٹھیکے تین سال سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود نہیں دئیے جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایسی تاخیر ملک کو بھاری مالی نقصان پہنچاتی ہے اور ای اے ڈی کو ایک ایسا عمل تیار کرنا چاہیے جس سے ان منصوبوں میں شفافیت لائی جا سکے۔ کمیٹی نے ای اے ڈی اور اس کے متعلقہ ادارے سے درخواست کی کہ وہ جاری CAREC منصوبوں میں حصہ لینے والے بولی دہندگان (قابل و غیر قابل) کی تفصیلات فراہم کریں اور اس تاخیر کی وجوہات بھی بیان کی جائیں۔ کمیٹی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی سے N-45 چکدارہ-تیمرگرہ کے سیکشن I پر کام شروع کرنے کے بارے میں دی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور حکام سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی۔ کمیٹی نے N-70 قلعہ سیف اللہ-لورالائی- روڈ کے سیکشن کے حوالے سے بینک گارنٹی کی تصدیق کے بارے میں بھی ای اے ڈی سے کہا کہ وہ اس بارے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے تصدیق حاصل کرے۔

    اجلاس میں سندھ حکومت کے محکمہ آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی اور مویشی پالن و ماہی گیری کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ان منصوبوں کے بارے میں ضروری بریفنگ مواد کی فراہمی میں ناکامی پر سنجیدہ نوٹس لیا اور سفارش کی کہ سندھ حکومت کے متعلقہ محکمے اپنے جاری منصوبوں کی تفصیلات فراہم کریں۔ اس معاملے پر مزید بحث اگلے اجلاس میں کی جائے گی۔

  • پنجاب اپنے منصوبوں کی تشہیر کرے، مگر حقائق درست پیش کرے۔شرجیل میمن

    پنجاب اپنے منصوبوں کی تشہیر کرے، مگر حقائق درست پیش کرے۔شرجیل میمن

    پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان کارکردگی کا مقابلہ شدت اختیار کر گیا ہے،

    گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں آٹزم اسکول پروگرام کا افتتاح کیا۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ لاہور میں بننے والا پاکستان کا پہلا سرکاری آٹزم اسکول مکمل ہونے کے آخری مراحل میں ہے، جہاں آٹزم کے مریض بچوں کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ اسکول ملک کا پہلا سرکاری آٹزم اسکول ہوگا، جو بچوں کی خصوصی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیا جا رہا ہے۔

    تاہم سندھ حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔ ترجمان سندھ حکومت سمعتا افضال اور سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ پنجاب حکومت کا دعویٰ حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔ ان کے مطابق، سندھ حکومت نے 2018 میں پاکستان کا پہلا سرکاری آٹزم سینٹر قائم کیا تھا اور اس وقت سندھ میں چھ سرکاری آٹزم سینٹرز فعال ہیں۔ سندھ حکومت نے پنجاب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کی تشہیر کرے، مگر حقائق درست پیش کرے۔

    دوسری طرف، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت کے موقف کا جواب دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ مریم نواز کو جو کام کرنے کی تحریک ہے، وہ ان کے مقابلے میں اپنی کارکردگی دکھائیں۔ عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے منصوبوں میں بے تکے کیڑے نکالنا سندھ اور دیگر حکومتوں کے ترجمانوں کا کام بن چکا ہے۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس دعوے پر بھی وضاحت دی تھی کہ پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے جو ماس ٹرانزٹ نظام کو الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سندھ نے 2023 میں الیکٹرک بسیں شروع کیں اور یہ منصوبہ پہلے سندھ میں مکمل ہو چکا ہے۔

    پاکستان کے پہلے سرکاری ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر کالاہور میں افتتاح

  • پاکستان کے پہلے سرکاری ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر  کالاہور میں افتتاح

    پاکستان کے پہلے سرکاری ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر کالاہور میں افتتاح

    پاکستان میں صحت کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر، چلڈرن ہسپتال/یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز (HTC)، لاہور نے "ہیموفیلیا فاؤنڈیشن آف پاکستان” کے تعاون سے ملک کا پہلا سرکاری ہیموفیلیا ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کر لیا ہے۔ یہ منفرد منصوبہ پنجاب بھر میں بچوں میں ہیموفیلیا اور دیگر خون بہنے کے امراض کے علاج کے لیے معیاری، قابل رسائی، اور سستے علاج فراہم کرنے کا آغاز کرتا ہے۔

    اس سینٹر کی تعمیر نوو نارڈیسک ہیموفیلیا فاؤنڈیشن (NNHF) اور روش پاکستان لمیٹڈ کی خصوصی معاونت سے ممکن ہوئی ہے، جو عوامی و نجی شعبوں کے اشتراک کی بہترین مثال ہے۔ یہ سینٹر ان خاندانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو پہلے مخصوص علاج تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔پروفیسر ساجد مقبول، ممبر آف سائینڈیکیٹ یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز اور سابق چیئرمین اور ڈین چلڈرن ہسپتال لاہور نے افتتاحی تقریب میں کہا:”چلڈرن ہسپتال/یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کا یہ اقدام پاکستان میں خون بہنے کے امراض کے علاج کے مسئلے کا حل فراہم کرتا ہے۔ یہ سینٹر عوامی صحت میں بہتری کی ایک اہم مثال ہے، جس سے ہیموفیلیا جیسے بیماریوں میں مبتلا بچوں کو بہترین، سستا اور بروقت علاج ملے گا۔”

    پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق، وائس چانسلر یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز، لاہور نے کہا:”یہ سینٹر سرکاری، نجی اور فلاحی اداروں کے تعاون کا ایک نمایاں قدم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ بچوں کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔”مسٹر عباس علی زیدی، صدر ہیموفیلیا فاؤنڈیشن نے سینٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:”یہ سینٹر پاکستان میں ہیموفیلیا کے علاج کے لیے ایک انقلابی قدم ہے اور اس سے کئی خاندانوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔”

    مس نتاشا ہونن، نوو نارڈیسک ہیموفیلیا فاؤنڈیشن کی نمائندہ نے کہا،”ہیموفیلیا کے علاج کی اس نئی سہولت کے قیام سے پاکستان میں صحت کی خدمات تک رسائی میں اہم پیش رفت ہو گی اور ہم اس میں شریک ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔”

    پروفیسر ڈاکٹر صائمہ فرحان، بچوں کی ہیماٹولوجسٹ، چلڈرن ہسپتال نے اس سینٹر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:”اس سینٹر کے قیام سے خون بہنے کے امراض میں مبتلا بچوں کو اعلیٰ معیار کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جو پاکستان میں عوامی صحت کے نظام میں ایک نمایاں بہتری کا پیش خیمہ ہے۔”

    تقریب کی جھلکیاں:
    افتتاحی تقریب میں حکومتی عہدیدار، طبی ماہرین، اور خون بہنے کے امراض سے متاثرہ کمیونٹی کے افراد شریک ہوئے۔ تقریب کا آغاز معزز مہمانوں کے ابتدائی کلمات سے ہوا، جس کے بعد ربن کاٹ کر سینٹر کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ شرکاء کو سینٹر کی جدید سہولتوں کا دورہ کرایا گیا، جہاں ہیموفیلیا اور دیگر خون بہنے کے امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے خاص خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    افتتاح کے بعد ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا، جس میں ہیموفیلیا اور خون بہنے کے امراض کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔ اس موقع پر ان افراد کو تعریفی شیلڈز پیش کی گئیں، جنہوں نے اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ میڈیا بریفنگ میں سینٹر کی اہمیت اور اس کے فوائد پر روشنی ڈالی گئی۔

    چلڈرن ہسپتال لاہور پاکستان کا ایک جدید ترین بچوں کا ہسپتال ہے، جہاں بچوں کی طبی دیکھ بھال کے علاوہ خاص علاج کی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ادارہ تحقیق، تعلیم اور تربیت میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بچوں کی صحت کے شعبے میں نئے معیار قائم کر رہا ہے۔

  • مفتی قوی کی بھارتی اداکارہ راکھی ساونت سے  نکاح کی خواہش

    مفتی قوی کی بھارتی اداکارہ راکھی ساونت سے نکاح کی خواہش

    مفتی قوی نے حال ہی میں ایک یوٹیوب انٹرویو میں بھارتی اداکارہ راکھی ساونت سے نکاح کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد یہ خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ راکھی ساونت سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہیں،

    مفتی قوی نے انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے نکاحوں کی تعداد اور تفصیلات اب خفیہ رکھیں گے۔ تاہم، انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے برصغیر کے ایک بڑے سیاسی، علمی اور ادبی گھرانے کی ایک خاتون سے نکاح کیا تھا، لیکن وہ خاتون جلد انتقال کر گئیں۔ مفتی قوی کے مطابق، جب بھی وہ قبرستان سے گزرتے ہیں، تو وہ اپنی مرحومہ بیوی کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اور دیگر علماء کی تحقیق کے مطابق ہندوؤں کے پاس جو کتاب ہے، وہ الہامی کتاب ہے، اور اس بنیاد پر راکھی ساونت بھی اہل کتاب میں شمار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان سے نکاح کرنا ممکن ہے۔

    مفتی قوی نے راکھی ساونت سے نکاح کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صرف ایک شرط ہے کہ راکھی ساونت یہ بتائیں کہ کیا ان کا پہلے کسی ہندو یا مسلم مذہب کے تحت نکاح ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، مفتی قوی نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی والدہ سے اجازت لینے کے بعد ہی اس نکاح کے لیے تیار ہوں گے۔ اگر ان کی والدہ اس پر راضی ہوئیں، تو وہ نکاح کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    مفتی قوی کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور صارفین نے اس پر مختلف تبصرے کیے ہیں۔ کچھ نے ان کے اس اقدام کو مذاق سمجھا، جبکہ کچھ نے اس پر تنقید بھی کی۔

    یاد رہے کہ مفتی قوی ماضی میں بھی متنازع خواتین کے ساتھ نکاح کی خواہشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ اب تک وہ تین درجن نکاح کر چکے ہیں۔ مفتی قوی کا کہنا تھا کہ وہ اکثر خواتین سے حلالہ کے لیے نکاح کرتے ہیں، اور ان کا نام متنازع ماڈلز، ٹک ٹاکرز اور اداکاراؤں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنانے کی وجہ سے بھی میڈیا میں آتا رہتا ہے۔

    پاکستان کیلئےمستقبل میں اچھے دن آرہے ہیں،وزیر داخلہ محسن نقوی

    چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے جو بھی ہوگا پاکستان کے لیے بہتر ہو گا،محسن نقوی

    مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    مفتی قوی کی پنجاب حکومت کے قریب ہونے کی کوشش ناکام

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

  • فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ، قوم فوج کے ساتھ کھڑی رہے،عمران خان کا خط

    فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ، قوم فوج کے ساتھ کھڑی رہے،عمران خان کا خط

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک اہم خط بھیجا ہے، خط کے بارے میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے تفصیل بتائی ہے

    فیصل چوہدری نے بتایا کہ خط میں عمران خان نے کئی اہم مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ خط کے پہلے نکتے میں فراڈ الیکشن اور منی لانڈرز کو جتوانے کا ذکر کیا گیا ہے، جسے عمران خان نے ملک کے جمہوری نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔دوسرا نکتہ 26 ویں آئینی ترمیم، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے اثرات سے متعلق ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی نے یہ کہا کہ عدلیہ پر دباؤ اور قانونی اصولوں کی پامالی سے ملک کا آئینی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔ عمران خان نے اس حوالے سے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کا بھی تذکرہ کیا۔تیسرا نکتہ پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کے الزامات، چھاپوں اور گولیوں کے استعمال سے متعلق ہے، جس پر عمران خان نے تشویش کا اظہار کیا اور ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔

    فیصل چوہدری نے عمران خان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے خط میں کہا کہ فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ہے، پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی رہے، سوشل میڈیا پرکریک ڈاؤن کرنے کے لیے پیکا قانون لایا گیا، پیکا قانون کو کرمنلائز کیا گیا، تنقید کا گلا گھونٹا گیا، صحافیوں کو دھمکیاں دینے سے سارا نزلہ فوج پر گررہا ہے، ملکی معیشت گھٹنوں پر ہے، حکومت نے روپے کی قدر روک کر معیشت کو متاثر کیا ہے، عمران خان نے خط میں سرمایہ کاری سب سے کم ہونے، انٹرنیٹ بند، جوڈیشل کمیشن بنانے اور پالیسیاں تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی۔

    توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    ججزتبادلےاچھا قدم،وقت لگے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔چیف جسٹس

    مریم کی محنت سے پنجاب میں بہتری نظر آ رہی ،نواز شریف

  • توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    توشہ خانہ ٹو کیس،استغاثہ کے مزید دو گواہوں پر جرح مکمل

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی۔

    کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت کے دوران دونوں ملزمان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔عمران خان کے وکیل قوسین مفتی نے استغاثہ کے دو گواہوں، محمد فہیم اور عمر صدیق، پر جرح مکمل کی۔ ان گواہوں کے بیانات پر وکیل صفائی نے سوالات کیے اور ان کی باتوں کو چیلنج کیا۔توشہ خانہ ٹو کیس میں اب تک مجموعی طور پر 8 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ ملزمان کے وکلاء نے مجموعی طور پر 7 گواہان پر جرح مکمل کی ہے۔ آئندہ سماعت پر عمران خان کے وکیل 8 ویں گواہ پر جرح کریں گے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب کہ کیس کی مزید پیش رفت اور گواہان کے بیانات پر سماعت کا عمل جاری رہے گا۔اس کیس کا فیصلہ آنے سے قبل سیاسی حلقوں میں کافی بحث جاری ہے اور یہ کیس ملک کی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

    مہنگائی میں مزید کمی آئے گی، وزیراعظم

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

  • مہنگائی میں مزید کمی آئے گی، وزیراعظم

    مہنگائی میں مزید کمی آئے گی، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوری 2025 میں مہنگائی کی شرح کے 9 سال کی کم ترین سطح تک پہنچنے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ "جنوری 2025 میں مہنگائی کی شرح 2.4 فیصد پر آ چکی ہے، جو کہ ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔”سال 2024 کے آغاز میں مہنگائی کی شرح 28.73 فیصد تھی اور دسمبر 2024 میں یہ 4.1 فیصد تک کم ہوئی۔ اس کے بعد جنوری 2025 میں اس میں مزید کمی دیکھنے کو ملی ہے، جو ایک اہم کامیابی ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی سے عوامی زندگی میں بہتری آرہی ہے، خاص طور پر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی سے عام آدمی کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ تبدیلی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اقدامات کی درست سمت میں ہونے کا ثبوت ہے، جس کا مقصد عوام کی فلاح اور بہبود ہے۔”

    وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ "مہنگائی میں کمی کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ترقی کے مثبت اعشاریے سامنے آ رہے ہیں، جو ملک کی معاشی بحالی کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد اب معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور حکومت ملک میں مزید استحکام اور ترقی کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے گی۔”انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی بدولت مہنگائی میں مزید کمی آئے گی، جس سے عام آدمی کی زندگی میں مزید بہتری آئے گی اور قومی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں تیز ہوں گی۔

    وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان عوام کی فلاح کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور مہنگائی میں کمی کے اس رجحان کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

    شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کا فیصلہ محفوظ

    ججزتبادلےاچھا قدم،وقت لگے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔چیف جسٹس

    مریم کی محنت سے پنجاب میں بہتری نظر آ رہی ،نواز شریف

  • شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف  رمضان شوگر ملز کیس کا فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کا فیصلہ محفوظ

    لاہور: اینٹی کرپشن کورٹ نے سابق وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    کیس کی سماعت لاہور کی اینٹی کرپشن کورٹ میں ہوئی، جہاں دونوں ملزمان کے وکیل، امجد پرویز، نے اپنے دلائل دیے۔امجد پرویز نے دلائل میں کہا کہ نالے کی تعمیر کا حکم سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نہیں دیا، بلکہ اس کی منظوری پنجاب کی کابینہ نے دی تھی۔ وکیل نے مزید کہا کہ نالہ علاقے کی بہتری کے لیے بنایا گیا تھا اور صرف رمضان شوگر ملز کے فائدے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس نالے سے 10 گاؤں بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور اس کے خلاف دائر کیا گیا ریفرنس صرف ایک مضحکہ خیز سروے پر مبنی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ ایک غیر منصفانہ تحقیقات کا نتیجہ ہے اور اس کا مقصد صرف سیاسی انتقام لینا ہے۔

    سماعت کے دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے تمام قانونی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ سنانے کی تاریخ 6 فروری مقرر کی ہے، جب فیصلہ سنایا جائے گا کہ آیا دونوں ملزمان کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔

    ججزتبادلےاچھا قدم،وقت لگے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔چیف جسٹس

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟