Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران خان کا کوئی خط نہیں ملا، جواب آ گیا، سیکیورٹی ذرائع

    عمران خان کا کوئی خط نہیں ملا، جواب آ گیا، سیکیورٹی ذرائع

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

    سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو کوئی خط بھیجا ہے، تاہم اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو ایسے کسی بھی خط میں کوئی دلچسپی نہیں ہے،سزا یافتہ مجرم کی جانب سے کوئی خط نہیں ملا ،پی ٹی آئی نے خط کے نام پر ایک اور ناکام ڈرامہ کرنے کی کوشش کی اگر ایسا کوئی خط ہے بھی تو اسٹیبلشمنٹ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ، اگر پی ٹی آئی کو کسی بھی معاملے پر بات کرنی ہے تو سیاستدانوں سے کرے،

    اس سے قبل، آج پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خط کا جواب آتا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود بتایا تھا کہ انہوں نے آرمی چیف کو ایک خط لکھا ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک اس خط کو پڑھا یا دیکھا نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز، بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان نے سابق وزیراعظم کی حیثیت سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے ان سے درخواست کی تھی کہ فوجی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ اس بات کی تصدیق بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے بھی کی تھی۔

    خلیل الرحمان قمر کیس،گواہان کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے

    امریکا کا نیا اور طاقتور لیزر ہتھیار جو ڈرونز اور میزائلوں کو پگھلا کر اُنہیں تباہ کر سکتا ہے

  • خلیل الرحمان قمر کیس،گواہان کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے

    خلیل الرحمان قمر کیس،گواہان کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے

    انسداد دہشت گردی عدالت: ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے اغوا کا مقدمہ ،آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت دیگر ملزموں کیخلاف مقدمے کی سماعت ہوئی

    پراسکیوشن کے گواہان کے بیان ریکارڈ نہیں ہو سکے ،وکلا ملزم نے کہا کہ گواہان کے ابھی تک بیانات کی نقول فراہم نہیں کی گئی،ملزموں کے وکلاء کے اعتراض کی وجہ سے گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے، ،عدالت نے مزید سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی،آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت 12 ملزموں کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا،مدعی مقدمہ ڈرامہ نگار خلیل الرحمان مقدمہ کی پیروی کیلیے پیش ہوئے،مقدمہ سے دہشتگردی قانون کی دفعات ختم کرنے کی درخواست خارج ہو چکی ہے،انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے مقدمے پر سماعت کی.

    خلیل الرحمان آج کل خبروں میں ہیں، گینگ سے تشدد کا نشانہ بننے سے لے کر نازیبا ویڈیو لیک ہونے تک ہر روز خلیل الرحمان قمر کی دو چار خبریں آ رہی ہیں، ہر خبر میں نئے انکشافات سامنے آ رہے جس میں خلیل الرحمان قمر کا حقیقی کردار بے نقاب ہو رہا ہے،خلیل الرحمان قمر آمنہ عروج کو فون کرتے تھے، خود ملنے گئے، ایک بار نہیں کئی بار ملے، نازیبا ویڈیو بنیں اور وائرل ہو گئیں، مقدمہ درج ہوا تو آمنہ عروج ،حسن شاہ و دیگر کو گرفتار کر لیا گیا خلیل الرحمان قمر بھی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایف آئی اے پہنچ گئے کہ میری ساکھ متاثر ہوئی ہے،خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ شروع

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ شروع

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری چین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران ان کے ہمراہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن، اور ناصر شاہ بھی موجود ہیں۔ چین پہنچنے پر بیجنگ ایئرپورٹ پر پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے صدر اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔

    دورۂ چین کے دوران صدر زرداری اور ان کے ہمراہ وفد کے اراکین چین کی مختلف تجارتی و صنعتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں چین کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔چین کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے حکام مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری دورہ چین کیلئے اسلام آباد سے روانہ ہو ئے،صدر مملکت 4 سے 8 فروری تک دورہ چین کیلئے وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے روانہ ہوئے ،نائب وزیر اعظم، وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھے ،صدر مملکت بیجنگ میں چین کی اعلیٰ سطح کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے،صدر مملکت چینی صدر شی جن پنگ اور اسٹیٹ کونسل کے پریمیئر لی چیانگ سے ملیں گے ،صدر مملکت کا دورہ چین دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے،صدر مملکت کا دورہ چین دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا،ملاقاتوں کے دوران پاک -چین اقتصادی راہداری، علاقائی روابط، سیکورٹی تعاون سمیت اہم دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا

  • پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    پاکستان میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا متنازع پیکا (پرؤیکشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) قانون فعال ہو چکا ہے اور اس کے تحت فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں دو مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

    پیر کے روز اوکاڑہ پولیس نے واٹس ایپ پر جھوٹی ڈکیتی کی خبر پھیلانے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ اُس نے ایک واٹس ایپ گروپ پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ "10 سے 11 ملزمان ایک ہوٹل سے تین لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے ہیں، جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں”۔ تاہم تفتیش کے دوران پولیس نے اس دعوے کی تردید کی اور ہوٹل کے مالک نے بھی اس خبر کو جھوٹا قرار دیا۔

    دوسری جانب اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ نے مظفر گڑھ میں ایک شخص کو گرفتار کیا جس پر الزام تھا کہ اُس نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر توہین مذہب کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے "بھرے بازار میں گستاخی کی ہے”، جس سے معاشرتی بدامنی پیدا ہوئی۔ اس الزام پر ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔

    پیکا ایکٹ (ترمیمی) 2025 کیا ہے؟
    پاکستان میں فیک نیوز اور جعلی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیکا ایکٹ کی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت آن لائن جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ترمیمی بل 2025 کے مطابق، جو شخص جان بوجھ کر فیک نیوز پھیلائے گا یا کسی دوسرے کو ارسال کرے گا، جس سے معاشرتی خوف یا بدامنی پیدا ہو، اُس کے خلاف تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

    پیکا ایکٹ کا مقصد:
    پیکا ایکٹ کا مقصد آن لائن فیک نیوز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غلط معلومات کا سدباب کرنا ہے تاکہ معاشرتی امن قائم رہے اور عوام کو جھوٹی خبروں سے بچایا جا سکے۔ اس ایکٹ کے تحت انٹرنیٹ پر جھوٹے اور توہین آمیز مواد پھیلانے والوں کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں تاکہ یہ مسائل کنٹرول کیے جا سکیں۔

    مذکورہ مقدمات میں پولیس اور ایف آئی اے کی کارروائی نے پیکا ایکٹ کے تحت ان اقدامات کی اہمیت کو واضح کیا ہے، جہاں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کو سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • چیف جسٹس یحیی  آفریدی سے چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    چیف جسٹس یحیی آفریدی سے چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان، یحیی افریدی نے چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی جس میں عدلیہ اور وکلاء کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ "عدلیہ اور بار کا تعاون انصاف کے نظام کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ وکلاء اور ججز کا اشتراک عدلیہ کو مؤثر بنانے کے لیے اہم ہے۔چیف جسٹس یحیی افریدی نے چترال کے علاقے بونی کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ "چترال میں عدلیہ کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے میں خود وہاں جا کر صورتحال کا جائزہ لوں گا۔” یہ دورہ چترال کے عوام اور وکلاء کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہاں جغرافیائی مشکلات کی وجہ سے عدلیہ تک رسائی میں مسائل درپیش ہیں۔

    چترال بار ایسوسی ایشن کے وفد نے چیف جسٹس کو چترال کے جغرافیائی مسائل سے آگاہ کیا جن کی وجہ سے وہاں کے وکلاء اور عوام کو عدلیہ تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ وفد نے درخواست کی کہ چترال میں عدلیہ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔چیف جسٹس یحیی افریدی نے چترال کے وکلاء کے لیے پروفیشنل ڈویلپمنٹ کورس کے انعقاد کی ہدایت کی تاکہ وہاں کے وکلاء کی قانونی مہارت میں اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "وکلاء کی تربیت اور ان کی مہارتوں کو بڑھانے کے لیے وفاقی عدلیہ اکیڈمی کو ایک خصوصی پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔”چیف جسٹس نے وفاقی عدلیہ اکیڈمی کو ہدایت دی کہ وہ چترال کے وکلاء کے لیے تربیتی پروگرام کا انعقاد کرے تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کر سکیں اور عدلیہ کی اصلاحات میں مزید مددگار ثابت ہوں۔

    یہ ملاقات اور اقدامات چترال کے وکلاء اور عوام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہیں، جو مستقبل میں عدلیہ کی خدمات تک رسائی اور معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • بشریٰ بی بی کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس

    بشریٰ بی بی کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بشریٰ بی بی کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر دیا۔

    یہ فیصلہ عدالت میں بشریٰ بی بی کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر ہوا۔ درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کو 26 نومبر 2024 کو 31 مقدمات میں عبوری ضمانت کے حوالے سے سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا جانا تھا، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود جیل انتظامیہ نے انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا۔

    درخواست گزار محمد فیصل ملک نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جیل انتظامیہ کی طرف سے بشریٰ بی بی کو عدالت میں پیش نہ کر کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اس سے عدالت کی توہین ہوئی ہے۔ درخواست میں یہ بھی اپیل کی گئی کہ جیل انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ بشریٰ بی بی کو کیوں پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے 6 جنوری 2025 کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا اور ان سے وضاحت طلب کی۔ جج امجد علی شاہ نے اس معاملے کی سماعت کی اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کے لیے عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ اس پیش رفت سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ عدالت بشریٰ بی بی کی پیشی میں تاخیر کے بارے میں جیل انتظامیہ کے جواب کی توقع کر رہی ہے۔

  • مراکش کشتی حادثہ، 13 لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل

    مراکش کشتی حادثہ، 13 لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل

    مراکش کشتی حادثے میں ملنے والی 13 لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا جو سب کے سب پاکستانی تھے۔
    سفارتی ذرائع کے مطابق 13 لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کرکے فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے۔

    شناخت کا عمل مکمل ہونے والوں میں سفیان علی ولد جاوید اقبال پاسپورٹ نمبر VF1812352، سجاد علی ولد محمد نواز پاسپورٹ نمبر XX1836111، رئیس افضل ولد محمد افضل پاسپورٹ نمبر MJ1516091 اور قصنین حیدر ولد محمد بنارس پاسپورٹ نمبر AA6421773 شامل ہیں۔

    محمد وقاص ولد ثناء اللہ پاسپورٹ نمبر DJ6315471، محمد اکرم ولد غلام رسول پاسپورٹ نمبر DN0151754، محمد ارسلان خان ولد رمضان خان پاسپورٹ نمبر LM4153261، حامد شبیر ولد غلام شبیر پاسپورٹ نمبر CZ5133683 اور قیصر اقبال ولد محمد اقبال پاسپورٹ نمبر GR1331413 بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ، دانش رحمان ولد محمد نواز پاسپورٹ نمبر SE9154371، محمد سجاول ولد رحیم دین پاسپورٹ نمبر AY5593661، شہزاد احمد ولد ولایت حسین پاسپورٹ نمبر GN1162802 اور احتشام ولد طارق محمود پاسپورٹ نمبر CE1170122 کی بھی شناخت کر لی گئی۔

    ذرائع پاکستانی سفارت خانہ مراکش کے مطابق 15 جنوری کو کشتی واقعے میں 44 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات تھیں تاہم مقامی حکام کو صرف 13 لاشیں ہی ملیں۔مراکش میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے مطابق فنگر پرنٹ اور تصاویر نادرا کو بھجوائی گئیں تھیں، نادرا کی جانب سے تصدیقی عمل کے مکمل ہونے کے بعد فہرستیں مرتب کی گئیں ہیں۔

  • پی آئی اے کی نجکاری دوبارہ کرنے کا فیصلہ

    پی آئی اے کی نجکاری دوبارہ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری دوبارہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس فاروق ستار کی زیر صدارت ہوا، جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ پچھلے دور میں بولی دہندگان نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ نئے طیاروں کی خریداری اور بیڑے کی توسیع کے لیے عائد کردہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو معاف کیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اس ٹیکس کو ہٹانے سے پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کا حصول آسان ہو جائے گا۔کمیٹی میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے واجبات کی کل رقم 45 ارب روپے ہے، جس میں 26 ارب روپے کے ٹیکس واجبات وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ہیں، 10 ارب روپے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے واجبات ہیں، اور باقی رقم پنشن واجبات پر مشتمل ہے۔

    آئی ایم ایف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر پی آئی اے کی نجکاری کی جاتی ہے تو نئے طیاروں کی خریداری میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے 18 فیصد جی ایس ٹی کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ پی آئی اے کے نان کور اثاثے اس بولی کے عمل کا حصہ نہیں ہوں گے، اور حکومت ان اثاثوں کے لیے ایک الگ پالیسی تیار کر رہی ہے۔ اس حوالے سے کنسلٹنٹ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو دو سے تین آپشنز تجویز کیے ہیں۔اس کے علاوہ، کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے سعودی عرب کو پی آئی اے اور اس کے ائیرپورٹس کی نجکاری کے حوالے سے جوائنٹ وینچر کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے اور اس کی کارکردگی کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے کی گئی ہے۔

    نجکاری کے اس عمل میں مزید پیش رفت کے لیے حکومت نے اس منصوبے کو جلدی مکمل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ پی آئی اے کی مالی مشکلات کو حل کیا جا سکے اور اس کے بیڑے کی توسیع کی جا سکے۔

  • امریکا کی جانب سے ٹیرف نافذ کیے جانے کے بعد چین کا جوابی اقدام

    امریکا کی جانب سے ٹیرف نافذ کیے جانے کے بعد چین کا جوابی اقدام

    امریکا کی جانب سے چین کی درآمدات پر ٹیرف نافذ کیے جانے کے بعد چین نے بھی امریکا سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 10 سے 15 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    چینی وزارت خزانہ کے مطابق، امریکا سے درآمد ہونے والے کوئلے اور گیس پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا، جب کہ امریکا سے درآمد ہونے والے تیل (Crude Oil) اور آٹو مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔ وزارت خزانہ نے مزید بتایا کہ ان ٹیرفز کا نفاذ 10 فروری 2025 سے شروع کر دیا جائے گا۔

    چین کا یہ جوابی اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ دنوں امریکی حکومت نے چین، کینیڈا، اور میکسیکو سے امریکا بھیجی جانے والی اشیاء پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد امریکی معیشت کے لیے تجارتی توازن بہتر بنانا اور چینی مصنوعات پر انحصار کو کم کرنا تھا۔

    چین کے ردعمل میں کینیڈا اور میکسیکو نے بھی امریکا سے آنے والی مصنوعات پر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ماہ کے لیے اس فیصلے کو مؤخر کر دیا۔ اس کے بعد کینیڈا اور میکسیکو نے اپنے فیصلے واپس لے لیے تھے۔اس جوابی جنگ میں چین کی طرف سے نافذ کیے گئے نئے ٹیرف امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مسائل کے حل میں یہ اقدامات ایک اور سنگ میل ثابت ہوں گے، جس سے عالمی تجارتی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • ایف بی علی خود بھی ایک سیویلین تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟جسٹس محمد علی مظہر

    ایف بی علی خود بھی ایک سیویلین تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟جسٹس محمد علی مظہر

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس میں آئینی بینچ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی ، سزا یافتہ ملزم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نےدلائل دیئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں 1962 کے آئین کے مطابق فیصلہ ہوا، ایف بی علی کیس میں کہا گیا سیویلنزکا ٹرائل بنیادی حقوق پورے کرنے پر ہی ممکن ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایف بی علی خود بھی ایک سیویلین ہی تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟ فوج سے باہر کا شخص صرف جرم کی بنیاد پرفوجی عدالت کے زمرے میں آسکتا ہے؟سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی علی کیس میں آرمی ایکٹ کی شق ٹو ڈی ون پر بات ہوئی، ایف بی علی کیس میں کہا گیا صدارتی آرڈیننس سےلایا گیا آرمی ایکٹ درست ہے، یہ بھی کہا گیا بنیادی حقوق کے تحت ری ویو کیا جاسکتا ہے،جسٹس مندوخیل نے سوال کیا ایف بی علی کیس میں نیکسز کی کیا تعریف کی گئی؟ سلمان اکرم راجا نے کہا آرمڈ فورسزکوا کسانا اور جرم کا تعلق ڈیفنس آف پاکستان سے متعلق ہونے کو نیکسز کہا گیا، یہاں ایف بی علی کیس ایسے پڑھا گیا کہ الگ عدالت بنانے کی اجازت کا تاثر بنا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت جسٹس عائشہ کا آرٹیکل 10 اے کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو ہماری جیت ہے، اگریہ کہا جاتا ہےآرٹیکل 175کی شق 3 سے باہر عدالت قائم نہیں ہوسکتی تب بھی ہماری جیت ہے، عجیب بات ہے بریگیڈیئر (ر) ایف بی علی کو ضیاالحق نے ملٹری عدالت سے سزادی، پھر وہی ضیاالحق جب آرمی چیف بنے تو ایف بی علی کی سزا ختم کردی، ایف بی علی بعد میں کینیڈا شفٹ ہوئے جہاں وہ کینیڈین آرمی کے ممبربن گئے،جسٹس مندوخیل نے کہا ہوسکتا ہے ضیاالحق نے بعد سوچا ہو پہلے جو ہوا وہ غلط تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں ضیاالحق نے بعد میں ایف بی علی سے معافی مانگی ہو؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا 1962 کا آئین درست تھا؟سلمان اکرم راجا نے جواب دیا 1962 کا آئین تو شروع ہی یہاں سے ہوتا ہےکہ میں فیلڈ مارشل ایوب خان خود کو اختیارات سونپ رہا ہوں، اُس دورمیں آرٹیکل چھپوائے گئے،فتوے دیے گئے کہ اسلام میں بنیادی حقوق نہیں ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سِولینزکے مقدمات سے متعلق کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کردیا۔