Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • توشہ خانہ کے چور این آر او کے لیے چور دروازوں کی تلاش میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    توشہ خانہ کے چور این آر او کے لیے چور دروازوں کی تلاش میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو پنجاب کے عوام کی خدمت سے فرصت نہیں مل رہی، اور یہ مذاکرات کا بخار بھی خود آپ لوگوں کو ہی چڑھا تھا۔

    ان کا یہ بیان پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف کے بیان پر ردِ عمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کا ذکر کیے بغیر آج بھی آپ کی سیاست نامکمل ہے۔ ان کے مطابق، تحریکِ انصاف کا سرٹیفائیڈ کرپٹ لیڈر اور ان کا خاندان این آر او کے لیے دروازے تلاش کر رہا ہے۔ وزیرِ اطلاعات پنجاب نے یہ بھی کہا کہ اڈیالہ جیل کے قیدی کو نواز شریف نے نہیں کہا تھا کہ وہ 9 مئی اور 26 نومبر کی بغاوتوں میں ملوث ہوں، اور نہ ہی وہ ان واقعات میں ملوث تھے۔عظمیٰ بخاری نے یہ الزام عائد کیا کہ 9 مئی کے دہشت گرد اور توشہ خانہ کے چور این آر او کے لیے چور دروازوں کی تلاش میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سب کا مقصد صرف این آر او حاصل کرنا ہے، اور ان کی یہ کوششیں بے نقاب ہوچکی ہیں۔

    یاد رہے کہ مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا، بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز مذاکرات کی ناکامی کے مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں، اور نواز شریف نے عرفان صدیقی کو مذاکرات کی ناکامی کا ہدف دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عرفان صدیقی اور رانا ثناء اللّٰہ کے بیانات سے حکومت کی غیر سنجیدگی ظاہر ہو گئی ہے، اور جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کا فیصلہ بھی اس بات کا غماز ہے کہ "چور کی داڑھی میں تنکا” ہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر اعتراض

    وزیراعلیٰ پنجاب کا غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کیلئے اقدامات کا اعلان

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر  اعتراض

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر اعتراض

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کر دیا ہے، جس کے باعث اپیلیں واپس کر دی گئی ہیں۔

    ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اعتراضات دور کر کے اپیلیں دوبارہ دائر کریں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے گئے اعتراضات میں ایک اہم اعتراض یہ تھا کہ اپیلوں کے ساتھ سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا گیا، جس میں یہ وضاحت ضروری تھی کہ یہ کیس کسی دوسری عدالت میں زیر سماعت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، بعض صفحات پر دستخط نہ ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ احتساب عدالت نے عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں 14 سال قید کی سزا سنائی تھی، جب کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو معاونت کرنے پر 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ عدالت نے عمران خان پر 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ یہ سزائیں سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کے خلاف عدلیہ کے فیصلے میں انصاف کا فقدان ہے۔اب ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اپیلوں کی واپسی اور اعتراضات کے بعد یہ معاملہ ایک نیا موڑ اختیار کر چکا ہے، اور قانونی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اعتراضات دور کر کے اپیلیں دوبارہ دائر کریں۔

    فخر ہے کہ بیٹا وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا،والدہ حوالدار شوکت شہید

    چین کی کامیابی کی کہانی ہمیں تحریک اور محنت کی ترغیب دیتی ہے۔وزیراعظم

  • فخر ہے کہ بیٹا وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا،والدہ حوالدار شوکت شہید

    فخر ہے کہ بیٹا وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا،والدہ حوالدار شوکت شہید

    شہدائے پاکستان کو سلام.وطن سے محبت پاک فوج کے جوانوں کی میراث ہے.ہمارے شہداء نے اپنے خون سے آبیاری کر کے وطن عزیز کی بنیادوں کو مضبوط کیا.حوالدار شوکت علی دفاع وطن میں جان قربان کر کے امر ہو گئے.حوالدار شوکت علی شہید 9 نومبر 2024 کو صوبہ بلوچستان میں شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے.حوالدار شوکت علی شہید نے سوگواران میں والدین، بھائی اور بیوہ چھوڑے.

    حوالدار شوکت علی شہید کے لواحقین نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛”بیٹے کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے،”والدہ، حوالدار شوکت علی شہید کا کہنا تھا کہ "بہت فخر ہے کہ میرا بیٹا وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا”، "اللہ ہمارے جوانوں کو دشمن سے لڑنے کا جذبہ اور طاقت دے "”بیٹے کی عظیم قربانی نہ صرف ہمارے خاندان بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے”

    بیوہ حوالدار شوکت شہید کا کہنا تھا کہ "شوہر کے ساتھ جتنا بھی وقت گزار، بہت اچھا اور خوشگوار گزرا””دہشتگردوں کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ پاک فوج کے جوان تمہاراخاتمہ کر کے رہیں گے”

    حوالدار شوکت علی شہید کے بھائی کا کہنا تھا کہ "بھائی بہت ملنسار تھا اور ہر کسی سے بہت ادب اور اخلاق سے ملتا تھا،””بھائی کی شہادت نے پورے علاقے میں ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ،”ہمیں اور ہمارے علاقے کو بہت فخر ہے کہ ہمارے رشتہ داروں میں یہ پہلی شہادت ہے”، "اللہ پاک میرے بھائی کی شہادت کو قبول فرمائے، آمین”،حوالدار شوکت علی شہید کی قربانی ہمارا سرمایہ ہے

    . پوری پاکستانی قوم کو اپنی افواج پاکستان پر فخر ہے

    وزیراعظم کی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کا غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کیلئے اقدامات کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب کا غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کیلئے اقدامات کا اعلان

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سدباب کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کمرشل اور رہائشی علاقوں کے لیے یکساں رنگوں اور ڈیزائنز کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ مختلف علاقوں میں تعمیرات کا ایک معیاری اور مربوط ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب سپیشل پلاننگ اتھارٹی (پی ایس پی اے) قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے کمرشل، رہائشی اور زرعی زمینوں کی مناسب زوننگ کی جائے گی۔ پی ایس پی اے کو ضلع سطح پر لینڈ یوز پلان اور زوننگ کے نفاذ کی ذمہ داری دی جائے گی، اور ہر چار سال بعد ان منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ ان میں ضروری تبدیلیاں کی جا سکیں۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ضلعی سطح پر اسپیشل پلاننگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ واپڈا، سوئی گیس، واسا اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے، تاکہ اراضی کے غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے۔

    اس موقع پر اراضی کے غیر قانونی استعمال کی نگرانی کے لیے وائلیشن ٹریکنگ میکنزم تیار کرنے کی تجویز دی گئی، جس کے تحت ضلعی ڈیجیٹل وال کے ذریعے زمین کے غلط استعمال کی نشاندہی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل ڈیٹا کی بنیاد پر درخواستوں کی تیز تر بنیادوں پر منظوری کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ مسائل کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہاؤسنگ سیکٹر میں زیر التواء درخواستوں کو فوری طور پر نمٹانے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں گھروں کو ماحول دوست، واک ایبل اور جدید تقاضوں کے مطابق بنانے پر زور دیا، تاکہ شہریوں کو بہتر اور محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔وزیراعلیٰ نے لاہور ڈویلپمنٹ پلان پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے روزانہ تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ اس حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ٹاؤن پلاننگ مستحکم مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے اور ناقص حکمت عملی کے باعث بے ہنگم غیر قانونی سوسائٹیاں بن رہی ہیں، جس سے شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام اور شہروں کی بہتر ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

    چین کی کامیابی کی کہانی ہمیں تحریک اور محنت کی ترغیب دیتی ہے۔وزیراعظم

    پیکا ایکٹ کی منظوری آزادی صحافت پر کاری ضرب ہے،تابش قیوم

  • چین کی کامیابی کی کہانی ہمیں تحریک اور محنت کی ترغیب دیتی ہے۔وزیراعظم

    چین کی کامیابی کی کہانی ہمیں تحریک اور محنت کی ترغیب دیتی ہے۔وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے سال نو کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے صدر شی جن پنگ، چین کے برادر عوام اور پاکستان میں موجود ہمارے چینی دوستوں کو نئے سال کے پرمسرت موقع پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چین کی نشاۃ ثانیہ21ویں صدی کے انتہائی اہم مواقع میں سے ایک ہے۔ پچھلی چھ دہائیوں کے دوران چین کا ترقی کا سفر چینی صدر شی جن پنگ کی دانشمندی اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چین کی کامیابی کی کہانی ہمیں تحریک اور محنت کی ترغیب دیتی ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کا ایک لازوال رشتہ ہے جو بتدریج مضبوط تر ہو رہا ہے۔ باہمی اعتماد اور مشترکہ خواہشات سے جڑے ہمارے قریبی تعلقات اب ایک جامع تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ آہنی بھائی چارہ بدستور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ چینی سال نو تجدید، تبدیلی، اور نئے آغاز کے وعدے کی علامت ہے۔ اس موقع پر لوگ اپنے خاندانوں اور دوستوں سمیت روایتی کھانوں، تحائف کا تبادلہ کرنے، اور آنے والے سال کے لیے برکتوں کو مدعو کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ سانپ کا سال، جو حکمت کی علامت ہے، ہمیں مشکلوں سے ابھرنے کی قوت اور اجتماعی طاقت کا سبق دیتا ہے۔ ہماری گہری اور پائیدار دوستی کی بدولت پاکستان اور چین ایک بہتر دنیا کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم میں متحد ہیں۔ ہم مل کر عالمی امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کے لیے بامعنی شراکت کرتے رہیں گے۔دعا ہے کہ یہ سال ہماری دو عظیم قوموں کے لیے خوش نصیبی اور مسلسل کامیابیاں لائے اور ہمارے دونوں لوگوں کے درمیان اٹوٹ رشتوں کو مزید مضبوط کرے۔پاکستان اور چین: ایک ساتھ، مشترکہ مستقبل کے لیے!

    وزیراعظم کی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات

    پیکا ایکٹ کی منظوری آزادی صحافت پر کاری ضرب ہے،تابش قیوم

  • وزیراعظم کی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات

    وزیراعظم کی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی امریکہ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار جینٹری بیچ کی قیادت میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے وفد سے آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی سرمایہ کاری کی وسیع استعداد اور امید افزا اقتصادی صلاحیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان میں کاروباری مواقع میں گہری دلچسپی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سازگار کاروباری ماحول، تیز تر و پائیدار عملدرآمد اور مضبوط ادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان کے اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع، ہنر مند، باصلاحیت اور نوجوان افرادی قوت اور تیزی سے پھیلتی ہوئی کنزیومر مارکیٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے ہوئے وزیراعظم نے عالمی سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر ملک کے منفرد منظر نامے کا ذکر کیا.

    گینٹری بیچ نے پاکستان کی بے پناہ اقتصادی صلاحیت کی تعریف کی اور کان کنی و معدنیات، قابل تجدید توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ٹیکنالوجی سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے متنوع مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے حکومت کی سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کو سراہا اور ملک کی مستقبل کی ترقی کی رفتار پر اعتماد کا اظہار کیا۔

    یہ اعلیٰ سطحی انگیجمنٹ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور پاکستان کے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت کی فعال کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، عبدالعلیم خان، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت علی پرویز ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

    پیکا ایکٹ کی منظوری آزادی صحافت پر کاری ضرب ہے،تابش قیوم

    پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

  • پیکا ایکٹ کی منظوری آزادی صحافت پر  کاری ضرب ہے،تابش قیوم

    پیکا ایکٹ کی منظوری آزادی صحافت پر کاری ضرب ہے،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے لاہور میں صحافیوں کی جانب سے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج میں شرکت کی ہے

    انہوں نے صحافیوں سے خطاب میں کہا کہ پیکا ایکٹ کی منظوری آزادی صحافت اور جمہوری اقدار پر کاری ضرب ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اظہار رائے کو دبانے کی کوشش ہے بلکہ ایک آزاد اور خودمختار صحافتی ماحول کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے،سینٹ کے اجلاس میں پیکا ایکٹ کی منظوری صحافیوں کی زبان بندی اور سچ کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے

    تابش قیوم نے کہا کہ جمہوریت کی بنیاد آزاد صحافت اور عوامی رائے پر قائم ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی قدغن ناقابل برداشت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی اور صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس متنازع قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور صحافت کو درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جائے۔ ہم ایک ایسے پاکستان کے لیے پرعزم ہیں جہاں ہر شہری اور ہر صحافی آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کر سکے

    پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

  • پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

    پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    احتجاجی مظاہرے میں سی پی این ای، ایمنڈ، پی بی اے، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، اے پی این ایس،پی یوجے، لاہورپریس کلب ،پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی ، ایسوسی ایشن فوٹوجرنلسٹس آف لاہور، کیمرہ مین ایسوسی ایشن ،وکلا برادری ، پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی پاکستان ، پاکستان کسان اتحاد ، ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن ، انقلابی پارٹی ، پنجاب ٹیچرزایسوسی ایشن ، حقوق خلق پارٹی ، پنجاب پروفیسر زایسوسی ایشن ، میڈیا ورکرز ایسوسی ایشن ، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ، تاجر برادری ، جمعیت علماءاسلام ،مرکزی مسلم لیگ، پرائیویٹ نرسنگ کالج ایسوسی ایشن سمیت سیاسی سماجی تنظیموں اور ان کے نمائندوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں احتجاجی پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے اور بازوﺅں پر کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

    پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ولاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے پیکا ایکٹ کو آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے خلاف کالاقانون قراردیتے ہوئے یکسرمستردکرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ایک ایسا قانون پاس کیاہے جس کی مثال ماضی کے مارشل لاءکے ادوار میں بھی نہیں ملتی ،پیکا ایکٹ صحافیوں کا گلادبانے کے مترادف ہے ہم حکومت کا دہرامعیار نہیں چلنے دیں گے۔ انھوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف ہرفورم پر احتجاج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ حکومت یہ نہ سمجھے کہ ہم آج احتجاج کرکے اپنے گھروں یا دفترں میں جابیٹھے گے بلکہ ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی ، جلسے جلوس منعقد کئے جائیں گے ، اسمبلیوں کا بائیکاٹ کیا جائے گااور پیکا ایکٹ کی منسوخی تک صحافی برادری چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ارشد انصاری نے کہاکہ یہ بل وزارت داخلہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے جسے وزارت اطلاعات نے تمام قواعد کو یکسرپس پشت ڈال کر منظور کروایا ہے۔انھوں نے کہا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے آئندہ لائحہ عمل جلد طے کریں گے۔ انھوں نے احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں کے شانہ بشانہ شرکت کرنے والی تمام سیاسی وسماجی تنظیموں اور ان کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پرسی پی این ای کے صدر ارشاد احمد عارف نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیکاایکٹ کی منظوری حکومت وقت کی اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے ، ہم آزادی صحافت پر ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کو نہیں مانتے اور آزادی صحافت کے لئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔پی بی اے کے نمائندے نوید کاشف نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت وقت کا پیکا ایکٹ عجلت میں منظور کرنا ان کی بدنیتی کو اجاگرکرتاہے لیکن صحافی اپنے حقوق کے لئے متحد ہیں اور وہ ہرپلیٹ فارم پر اس قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔

    ایمنڈ کے سیکرٹری جنرل حافظ طارق نے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا کہ پیکاایکٹ صحافی دشمن قانون ہے اور حکومت اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایسے قوانین پاس کرکے صحافیوں کو پابند نہیں کرسکتی۔ اے پی این ایس کے صدر امتنان شاہد نے کہاکہ شعبہ صحافت پر قدغن لگانے کے لئے حکومتی پاس کردہ پیکا ایکٹ کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور صحافی تنظیموں کے ساتھ مل کر جدوجہد کی جائے گی۔ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر نے پیکا ایکٹ پاس ہونے پر حکومتی رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک جانب تو حکومت بنیادی انسانی حقوق کی آزادی کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب ایسے ظالمانہ قوانین بناتے ہیں جس سے ملک انتشار کا شکار ہورہا ہے، ان کے اس رویے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

    پی یوجے دستورکے سیکرٹری جنرل رحمان بھٹہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیکا ایکٹ صحافیوں کو ان کے فرائض منصبی کی ادائیگی سے روکنے کا کالاقانون ہے اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ سینئر صحافی و اینکر پرسن نصر اللہ ملک نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کے خلاف حکومتی سازش کسی صورت کامیاب ہونے نہیں دیں گے اور تمام صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے ساتھ ملکر ملک گیر ا حتجاجی تحریک چلائیں گے۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک محمد احمد خان بچھڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کے خلاف یہ ایکٹ پاس کرتے ہوئے حکومت کو شرم آنی چاہیے، اس ایکٹ کے بعد ایک نئی شق ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پروڈکشن اینڈ ریگولیٹ کی اتھارٹی قائم ہوگی، اس حکومت نے ہمیشہ صحافیوں کے خلاف قانون پاس کروائے ، پی ٹی آئی کی تمام قیادت اس پیکا ایکٹ کے خلاف ہے۔

    جماعت اسلامی لاہور کے امیر ضیاءالدین انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے ہمیشہ حکومت کے غیر انسانی وغیرقانونی قوانین کے خلاف جدوجہد کی ہے اور ہم آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں اور پیکاایکٹ کے کالے قانون کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔تاجر رہنما ءنعیم میر نے کہاکہ تاجر برادری ایسے قوانین کے خلاف صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔جمعیت علماءاسلام کے رہنما حافظ غضنفر اعوان نے میڈیا کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی کالے قانون کا نفاذ معاشرے میں نئے انتشار کا باعث بنے گاحکومت ہوش کے ناخن لے اور پیکا ایکٹ کو ختم کیاجائے۔ایپکا کے صدر مختار گجر نے پیکا ایکٹ کو غیر انسانی و غیر اخلاقی قانون قراردیتے ہوئے فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ وہ آزادی صحافت میں صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    وکیل رہنماءربیعہ باجوہ نے اس موقع پر کہاکہ پیکا ایکٹ صرف صحافیوں کو ان کے فرائض کی ادائیگی سے ہی روکتا ہے، پیکا ایکٹ کے ذریعے صحافیوں پر نافذ کی جانے والی اس قدغن کو ختم کیاجائے، ہم صحافیوں کے ساتھ ان کے حقوق کی حفاظت کی جدوجہد میں برابرشامل ہیں۔ تاجر رہنما سہیل بٹ نے صحافیوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کو ظالمانہ قانون قراردیا اور اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک کے نتیجے میں پیکاکالا قانون جلد ختم ہو گا ، میں اعلی عدلیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں معاملے کو سلجھائے ایسا نہ ہو حالات اس جگہ پہ چلے جائیں جہاں غیر جمہوری قوتوں کو موقع ملے ،اس لیے اس معاملے کو جلد سے جلدسلجھائیں،وائی ڈی اے پنجاب صحافی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور آواز بلند کرے گی۔

    انجمن تاجران لاہورکے صدر میاں طارق نے کہاکہ صحافی معاشرے کا بہترین طبقہ ہے جو مسائل کو اجاگر کرتے ہیں لیکن پیکا ایکٹ کے ذریعے انھیں پابند کرناغیر انسانی وغیراخلاقی ہے جس کی بھرپورمذمت کرتے ہیں اور صحافیوں کی جدجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    اینکرزایسوسی ایشن کی نمائندہ بتول راجپوت نے پیکاایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے فی الفورکالعدم قراردینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کی حقوق کی جنگ میں ہم تمام صحافتی تنظیموں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے کہاکہ ہم متنازعہ قانون کو یکسر مسترد کرتے ہیں، فیک نیوز پر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔احتجاج میں صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور اس عزم کا اظہار کہ کہ اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور پیکا ایکٹ ختم کرائیں گے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس دوسرے بینچ کو بھیجنے کی استدعا مسترد

    میڈیاہمارے گھر سے دور رہے، بچوں کی تصاویر نہ لیں،سیف،کرینہ کپور

  • توشہ خانہ ٹو کیس دوسرے بینچ کو بھیجنے کی استدعا مسترد

    توشہ خانہ ٹو کیس دوسرے بینچ کو بھیجنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس کو فوری طور پر دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کی استدعا کو ایک بار پھر مسترد کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وکیل کی جانب سے کیس کو دوسرے بینچ میں بھیجنے کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل کو کیس میں مزید معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر کسی جج کو اعتراض ہو تو وہ خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں کہ وہ بینچ سے علیحدہ ہوں یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس اعتراض پر مزید معاونت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام منہاس نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس کو دوسرے بینچ میں منتقل کرنے کی درخواست کو مسترد کیا تھا اور ایف آئی اے سے بریت کی درخواستوں پر رپورٹ طلب کی تھی۔

    میڈیاہمارے گھر سے دور رہے، بچوں کی تصاویر نہ لیں،سیف،کرینہ کپور

  • میڈیاہمارے گھر سے دور رہے، بچوں کی تصاویر نہ لیں،سیف،کرینہ کپور

    میڈیاہمارے گھر سے دور رہے، بچوں کی تصاویر نہ لیں،سیف،کرینہ کپور

    سیف علی خان اور کرینہ کپور کی میڈیا سے بچوں کی تصاویر نہ لینے کی درخواست

    ممبئی: بالی وڈ کے مشہور اداکار سیف علی خان اور ان کی اہلیہ کرینہ کپور نے حال ہی میں ایک درخواست جاری کی ہے جس میں انہوں نے میڈیا اور فوٹوگرافرز سے اپنے بچوں، تیمور اور جہانگیر (جے) کی تصاویر نہ لینے کی اپیل کی ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ درخواست سیف علی خان کے گھر میں ہونے والی ڈکیتی اور ان پر حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جوڑے کے منیجر نے پاپارازی سے کہا ہے کہ وہ سیف اور کرینہ کے بچوں کی تصاویر نہ لیں، چاہے وہ گھر کے گارڈن میں ہوں، کسی تقریب میں شریک ہوں یا کھیل کی سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے جہاں بھی ہوں، ان کی تصاویر نہ لی جائیں۔جوڑے کے منیجر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سیف علی خان اور کرینہ کپور کی کسی عوامی تقریب کی تصاویر لی جا سکتی ہیں، تاہم میڈیا کو ان کی رہائش گاہ کے باہر موجود ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، جوڑے کی گھر آمدورفت اور ان کی ذاتی زندگی کی تصاویر بھی نہیں لی جانی چاہئیں۔

    16 جنوری کی رات تقریباً 3 بجے، سیف علی خان کے ممبئی کے باندرا والے گھر میں ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جسے اداکار نے مزاحمت کرکے ناکام بنایا۔ اس دوران سیف علی خان پر چاقو سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں 6 گہرے زخم آئے، جن میں سے ایک زخم ریڑھ کی ہڈی کے قریب تھا۔ سیف کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا اور فوری طور پر ان کی سرجری کی گئی، جس میں 2.5 انچ طویل چاقو کا ٹکڑا ان کی ریڑھ کی ہڈی سے نکالا گیا۔

    سیف علی خان کو تقریباً 6 دن بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا، اور پولیس نے اس حملے کے ملزم کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔اس واقعے کے بعد، سیف اور کرینہ کی جانب سے اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے یہ درخواست کی گئی ہے تاکہ ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت سے بچا جا سکے۔