Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جنید اکبر قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی

    جنید اکبر قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممبر قومی اسمبلی جنید اکبر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوور سیز پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جنید اکبر کا استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    جنید اکبر نے اپنے استعفے میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 24 جنوری کو انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے قائمہ کمیٹی برائے اوور سیز پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کے چیئرمین کے عہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

    جنید اکبر کا یہ اقدام سیاسی حلقوں میں زیر بحث آیا ہے، جہاں ان کے استعفے کو ان کی نئی ذمہ داریوں کے تحت ایک ضروری قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جنید اکبر قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ کے دوران اہم فیصلوں اور پالیسیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں، اور ان کے استعفے کے بعد کمیٹی کی چیئرمین شپ کا نیا امیدوار منتخب کیا جائے گا۔جیند اکبر کو پی اے سی کا چیئرمین ن لیگ کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا ، متفقہ طور پر وہ پی اے سی کے چیئرمین بنے ہیں،

  • بھارتی اداکارہ شوٹنگ کے دوران زخمی

    بھارتی اداکارہ شوٹنگ کے دوران زخمی

    بولی وڈ کی معروف اداکارہ ارچنا پورن سنگھ نے گزشتہ دنوں اپنی ایک وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ وہ فلم کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہو گئیں اور ان کے ہاتھ میں فریکچر ہو گیا۔

    ارچنا نے اپنی وی لاگ میں بتایا کہ وہ اداکار راج کمار راؤ کے ساتھ اپنی آنے والی فلم کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہوئیں۔ واقعے میں ان کی کلائی ٹوٹ گئی، جس کے بعد فوری طور پر انہیں ممبئی کے ایک اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی سرجری کی گئی۔وی لاگ میں یہ بھی دکھایا گیا کہ ارچنا شوٹنگ کے دوران سیٹ پر گر گئیں اور ان کی چیخیں سنائی دیں۔ جیسے ہی ان کی ٹیم کے ارکان نے یہ سنا، وہ فوراً ان کی مدد کے لیے جمع ہو گئے اور انہیں اسپتال پہنچایا۔ اس دوران ارچنا کے شوہر پرمیت سیٹھی کو بھی فوری طور پر اطلاع دی گئی۔

    اسپتال پہنچنے کے بعد، ارچنا کے بیٹے آیوشمان سیٹھی نے اپنے بھائی آریامان سیٹھی کو واقعے کی اطلاع دی، ارچنا نے وی لاگ میں مزید بتایا کہ حادثے کے پہلے دن وہ اپنے خاندان کو اس واقعے کی ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں کیونکہ وہ بہت پریشان تھیں۔انہوں نے اپنے وی لاگ میں راج کمار راؤ کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ انہوں نے حادثے کے بعد شوٹنگ رک جانے پر راج کمار کو فون کیا اور اس بابت اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔

    وی لاگ کے اختتام پر، ارچنا کو اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہوئے اور اپنے شوہر اور بچوں سے ملتے ہوئے دکھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اب بہتر محسوس کر رہی ہیں، مگر ان کی ایک بڑی سرجری ہو چکی ہے۔ ارچنا نے کہا، "میں واپس جا کر شوٹنگ مکمل کروں گی، میں مکمل آستین والے کپڑے پہنوں گی اور اس طرح شوٹ کروں گی کہ کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ میں زخمی ہوں۔”ارچنا پورن سنگھ کی یہ جرات اور حوصلہ ان کے مداحوں کے لیے ایک بڑا سبق ہے، کیونکہ وہ ایک سنگین حادثے کے باوجود اپنے کام کی طرف لوٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    اسرائیل نے امدادی ایجنسی کو کام سے روک دیا،پاکستان کی مذمت

    سندھ ہائیکورٹ کا بھکاریوں ،خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کا حکم

    کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

  • اسرائیل نے امدادی ایجنسی کو کام سے روک دیا،پاکستان کی مذمت

    اسرائیل نے امدادی ایجنسی کو کام سے روک دیا،پاکستان کی مذمت

    اسرائیل نے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی "انروا” کو 48 گھنٹوں کے اندر اپنا کام روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ انروا کے ساتھ تمام مواصلاتی روابط ختم کر دے گی اور ایجنسی کے تمام اہلکاروں سے بھی تعاون نہیں کرے گی۔اسرائیل کے مندوب نے کہا کہ انروا کی موجودگی اسرائیل کے لیے مزید قابل قبول نہیں ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ برس انروا کو حماس سے تعلقات کے الزام میں غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انروا فلسطینیوں کی حمایت میں سرگرم ہے اور اس کے اقدامات اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہیں۔

    اسرائیل میں انروا پر پابندی کے قانون کا نفاذ آئندہ دو روز میں متوقع ہے۔ اس قانون کے تحت، انروا کو اسرائیل میں کام کرنے سے روک دیا جائے گا اور اسرائیلی حکومت کسی بھی صورت میں اس کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرے گی۔

    دوسری جانب، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے اسرائیل کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر اکرم نے کہا کہ اسرائیل کے مسلسل اقدامات عالمی برادری کی توہین ہیں اور یہ عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انروا کو کام سے روکنا غزہ کی بحالی اور سیاسی منتقلی کے امکانات کو ختم کر دے گا۔سفیر منیر اکرم نے کہا کہ "انروا” لاکھوں فلسطینی مہاجرین کے لیے ایک امید کی کرن ہے اور اس کی خدمات فلسطینیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کے رکن ملک کی حیثیت سے انروا کی مدد کرنے کا پابند ہے اور اسے اقوام متحدہ کی کسی بھی امدادی ایجنسی کو بند کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کی سرگرمیوں پر پابندی کے فیصلے سے نہ صرف فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا بلکہ عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف مزید احتجاج اور تنقید کی لہر بھی اٹھ سکتی ہے۔ اس اقدام کے نتائج اسرائیل کے لیے عالمی سطح پر سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سبب بن سکتے ہیں۔اسرائیل کا یہ فیصلہ فلسطینیوں کی انسانی امداد کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جس سے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہو گا تاکہ فلسطینیوں کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے اور بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کی فعالیت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    لنڈی کوتل:شاہ خان کی شاندار کامیابی، 60ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں 4 گولڈ میڈلز

    کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

  • سندھ ہائیکورٹ کا بھکاریوں ،خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا بھکاریوں ،خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہر بھر کے ٹریفک سگنلز پر بھکاریوں اور خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پولیس کو سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ حکم عدالت میں دائر ایک درخواست پر سنایا گیا جس میں ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والے افراد کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا کہ شہر کے کسی بھی سگنل پر خواجہ سرا، مرد، خواتین یا بچے نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والے افراد نہ صرف شہریوں کو پریشان کرتے ہیں بلکہ انہیں ہراساں بھی کرتے ہیں۔ اس پر فوری طور پر پولیس کو حکم دیا گیا کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے جو شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کروا رہے ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی طرف سے شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ یہ فیصلہ شہر میں عوامی سہولت کو بہتر بنانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    پولیس کو تاکید کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرے اور ایسے افراد کو قانون کے دائرے میں لائے۔ اس حکم کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی، جس سے شہریوں کو راحت ملے گی۔

    کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

  • کرم  میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

    کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

    کرم اور پارا چنار میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، جس کے باعث مقامی شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے خوراک کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، اور اب تک 313 ٹرک کھانے پینے کی اشیاء لے کر کرم پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، یہ مقدار خوراک کی کمی کو پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہے، اور عوام کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکی۔اس دوران ٹل سے کھانے پینے کی اشیاء لے کر 120 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ کرم پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ضلع کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم 500 اضافی ٹرک بھجوائے جائیں تاکہ خوراک کی کمی پوری کی جا سکے۔

    دوسری جانب لوئر کرم میں بنکرز گرانے کا عمل بھی ایک بار پھر شروع کردیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق امن معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب تک فریقین کے 10 بنکرز کو گرا دیا گیا ہے تاکہ علاقے میں امن قائم کیا جا سکے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ امن کی فضا قائم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی زندگیوں میں استحکام آ سکے اور خوراک کی فراہمی کے حوالے سے حالات بہتر ہوں۔

    گھوٹکی: پولیس کا کریک ڈاؤن، فائرنگ کا تبادلہ، ملزمان فرار، چوری شدہ دو ٹریکٹر برآمد

    کراچی،لڑکی کی نازیبا تصاویر، ملزم کو 6 سال قید کی سزا

  • جوہری تنصیبات پر ایک "پاگل پن” ہوگا،ایران

    جوہری تنصیبات پر ایک "پاگل پن” ہوگا،ایران

    ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں تو یہ ایک "پاگل پن” ہوگا اور اس کے نتیجے میں پورے خطے میں ایک "بہت بڑا تباہی” آئے گی۔ یہ انتباہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدے سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں دیا۔

    ایران کے دارالحکومت تہران میں اسکائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں عباس عراقچی نے اسرائیل کے اس دعوے پر تنقید کی کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کر سکتا ہے، جس میں امریکہ کی حمایت ہو۔ عراقچی نے کہا کہ اگر اسرائیل اور امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں تو ایران فوری طور پر اور فیصلہ کن جواب دے گا، لیکن ان کے مطابق ایسا کرنا "پاگل پن” ہوگا اور اس سے پورے خطے میں سنگین حالات پیدا ہوں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس پر حملہ کرنا ایک سنگین غلطی ہو گی۔ عراقچی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر بھی مذاق اڑایا جس میں انہوں نے غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کی تجویز دی تھی۔ عراقچی نے کہا کہ اسرائیلیوں کو گرین لینڈ بھیج دینا چاہیے تاکہ وہ "ایک ہی تیر سے دو شکار کر سکیں۔”وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے اتحادی، جیسے حماس اور حزب اللہ، کچھ کمزور ہوئے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریکیں اور نظریات ابھی بھی زندہ ہیں اور اپنے آپ کو دوبارہ تعمیر کر رہی ہیں۔

    ایران کے عوام، جو تہران کی سڑکوں پر گفتگو کر رہے تھے، نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مغرب کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو تاکہ ایران پر عائد پابندیاں ختم ہوں اور ملکی معیشت بہتر ہو سکے۔ ایران میں مہنگائی کی شرح 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 20 فیصد کے قریب ہے۔

    وزیر خارجہ عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کی سطح بہت کم ہے، اور کوئی بھی نیا معاہدہ اور پابندیوں کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

    یونیفارم فوجی افسر بطور جج کیسے غیرجانبدار ہو سکتا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی

    ہمیں وہ آزاد جج چاہییں جو عدلیہ کا تقدس برقرار رکھیں،جسٹس محسن اختر کیانی

  • یونیفارم فوجی افسر بطور جج کیسے غیرجانبدار ہو سکتا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی

    یونیفارم فوجی افسر بطور جج کیسے غیرجانبدار ہو سکتا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں ملٹری کورٹس میں سویلینز ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ اور پولیس کی ایف آئی اے میں چارج فریم کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کر دیا،جسٹس حسن اظہر نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ میں انکوائری کون کرتا ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چارج کے بعد انکوائری کمانڈنٹ آفیسر کرتا ہے، تفتیش کا مکمل طریقہ کار بتاؤں گا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد انکوائری کیسے کرتے ہیں؟ ایف آئی آرکیسے ہوتی ہے؟خواجہ حارث نے بتایا کہ الزام لگا دیتے ہیں، چارج اسی کے لیے لفظ استعمال ہوتا ہے، چارج کی بنیاد پر تفتیش کی جاتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جب تک الزام نہ ہو تو اسے آرمی ایکٹ کا مرتکب نہیں کہا جا سکتا، چارج فریم ہونا ضروری ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا دوران ٹرائل بھی چارج فریم ہوتا ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ چارج الگ ہوتا ہے اور دوران ٹرائل چارج فریم ہوتا ہے۔

    وکیل وزارت دفاع سے جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا فوجی عدالتوں میں ججز یونیفارم میں ہوتے ہیں؟خواجہ حارث نے کہا کہ کورٹ مارشل میں ججز فوجی یونیفارم میں ہی ہوتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ یونیفارم فوجی افسر بطور جج کیسے غیرجانبدار ہو سکتا ہے؟،وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ یونیفارم تو آپ ججز نے بھی پہنا ہوا ہے۔خواجہ حارث کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کالی اور خاکی وردی میں کوئی فرق نہیں ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کون تعینات کرتا ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیش کیسے ہوتی ہے اس سے عدالت کو آگاہ کروں گا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پہلے چارج ہوا چارج کی بنا پر تفتیش ہوئی، ایف بی آئی کیس میں بھی یہی بات ہوئی ہے پہلے چارج فریم ہوتا ہے پھر تفتیش ہوتی ہے، جب تک جرم کو آرمی ایکٹ کے مطابق ثابت نہیں کریں گے کیا وہ ملٹری ٹرائل میں ہی آئے گا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چارج میں الزامات ثابت کروائے جاتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش میں چارج نہیں ہوتا،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کہ ٹرائل میں بھی چارج فریم ہوتا ہے، ہم نے شروع میں کہا تھا کہ جن کے خلاف ثبوت نہیں ہیں ان کا فیصلہ تو کریں،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ قانون ہے، یہ قانون جتنا بھی سخت ہو کیا یہ سویلین پر لاگو ہوگا،خواجہ حارث نے کہا کہ تمام چیزیں عدالت کے سامنے رکھوں گا کہ کیسے لاگو ہوگا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ جو قانون آپ بتا رہے ہیں کہ ان پر واقعی عمل درآمد بھی ہوتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا کہ ٹرائل سے قبل ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ جج پر اعتراض تو نہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ آج کل تو یہاں بھی ججوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کورٹ مارشل کے فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں۔

    غزہ میں حاملہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے "جان لیوا خطرات”

    گودار ائیرپورٹ سے جلد مشرق وسطیٰ کے لئے بھی پروازیں شروع ہونگی،خواجہ آصف

  • غزہ میں حاملہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے "جان لیوا خطرات”

    غزہ میں حاملہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے "جان لیوا خطرات”

    انسانی حقوق واچ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی 15 ماہ کی بمباری اور محاصرے نے غزہ میں حاملہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے "سنگین اور کبھی کبھار جان لیوا خطرات” پیدا کر دیے ہیں۔ یہ رپورٹ 50 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے منگل کو امریکی انسانی حقوق کی تنظیم نے شائع کیا۔

    رپورٹ میں غزہ میں طبی سہولتوں اور صحت کے کارکنوں پر ہونے والے حملوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جو "حمل، زچگی اور بعد از زچگی کے دوران خواتین اور لڑکیوں کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں”۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش، مردہ بچے پیدا ہونے، بعد از زچگی خون کی کمی اور کم وزن کے بچوں کی پیدائش کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے غیر قانونی محاصرہ نافذ کیا، پانی، کھانے اور بجلی پر تقریباً مکمل پابندی لگا دی، جنگ کے طور پر بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، طبی نظام پر حملے کیے اور زبردستی منتقلی کی۔ ان تمام اقدامات نے حاملہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے فالو اپ اور پوسٹ نیٹل کیئر کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ "اسرائیل کو یہ یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل استعمال کرنے کی ضرورت ہے کہ غزہ میں ہر شخص، بشمول حاملہ خواتین اور لڑکیاں اور ان کے بچے، اپنے انسانی حق صحت کو حاصل کر سکیں۔” اس میں غزہ کے طبی نظام کی مکمل بحالی کو ضروری قرار دیا گیا تاکہ تمام مریضوں کو، بشمول حاملہ خواتین اور بچوں کے، معیاری طبی دیکھ بھال فراہم کی جا سکے۔

    رپورٹ میں اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے الزامات بھی دہرائے گئے ہیں، جنہیں اسرائیل نے سختی سے مسترد کیا ہے۔ اسرائیل کو اقوام متحدہ کے عالمی عدالت انصاف میں بھی نسل کشی کے الزامات پر مقدمہ کا سامنا ہے۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی بمباری میں 47,306 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 12,316 خواتین اور 808 بچے شامل ہیں۔ اس دوران، طبی نظام کی تباہی، خوراک اور ادویات کی کمی، اور بے گھر ہونے کے نتیجے میں غذائی قلت، بیماریوں اور نقل مکانی نے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔مقامی اور عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ میں حاملہ خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں وہ صحت کی سہولتوں کی کمی، غذائی قلت، اور بمباری کی وجہ سے شدید خطرات میں مبتلا ہیں۔

    یہ رپورٹ اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری اور محاصرے کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے، جو کہ غزہ کے عوام، خاص طور پر حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ ان سخت حالات میں، خواتین اور بچوں کی زندگیاں بچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    ہمیں وہ آزاد جج چاہییں جو عدلیہ کا تقدس برقرار رکھیں،جسٹس محسن اختر کیانی

    پی ٹی آئی نہ آئی،مذاکرات بارے سپیکر ایاز صادق نے اعلان کر دیا

  • پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے منظور

    پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے منظور

    پیکا ایکٹ قومی اسمبلی کے بعد سینٹ میں بھی پاس ہو گیا

    فیک نیوز پر 3 سال سزا اور 20 لاکھ تک کا جرمانہ عائد ہو گا، ڈیجیٹل میڈیا پر پابندیاں سخت، حکومت نے زبان بندی کیلئے قانونی شکنجہ انتہائی سخت کردیا،سینیٹ سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور کر لیا گیا،پیکا ایکٹ کیخلاف اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا،سینیٹ نے الیکڑانک کرائمز کی روک تھام سے متعلق امتناع الیکڑانک کرائمز ترمیمی بل 2025 ( پیکا) کی منظوری دے دی،بل وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے ایوان میں پیش کیا

    قومی اسمبلی سے پیکا ایکٹ پہلے ہی منظور ہو چکا ہے ،سینیٹ میں پیکا ایکٹ کی منظوری پر صحافیوں نے ایوان سے واک آؤٹ کیا،سینیٹ اجلاس میں جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پیکا ایکٹ پر میری ترامیم تھیں جنہیں نہ کمیٹی نے منظور کیا گیا اور نہ ہی مسترد کیا گیا، یہ قائمہ کمیٹی کی نامکمل رپورٹ ہے۔کسی کو مقدس گائے قرار نہ دیا جائے،کسی عدالت میں نہ جانے کی شق تبدیل کیاجائے

    پیکا ایکٹ بل پیش کرنے کے بعد صحافیوں کا واک آؤٹ۔ پریس گیلری میں شیری رحمان آگئی۔ شیری رحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس قانون میں مزید ترامیم لائی جائیں۔۔ میری نظر میں یہ شہریوں کے حقوق ہیں

    ن لیگی رہنما افنان اللہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی تصویر لانے پر اعتراض اٹھا دیا۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ایک سزا یافتہ شخص کی تصویر باربارایوان میں لائی جارہی ہے اس پر رولنگ دیدیں کہ یہ جائز ہے یا نہیں،

  • گودار ائیرپورٹ سے جلد مشرق وسطیٰ  کے لئے بھی پروازیں شروع ہونگی،خواجہ آصف

    گودار ائیرپورٹ سے جلد مشرق وسطیٰ کے لئے بھی پروازیں شروع ہونگی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز) کی تنظیم نو کی جا رہی ہے، تاکہ اس کے آپریشنز کو مزید مؤثر اور جدید بنایا جا سکے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے پاس چھوٹے روٹس کے لیے صرف تین اے ٹی آر جہاز موجود ہیں جن میں سے دو فعال ہیں اور ایک جہاز اس وقت گراؤنڈڈ ہے۔ یہ چھوٹے جہاز زیادہ تر کم دورانیہ کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جن میں چترال جیسے دور دراز علاقے شامل ہیں۔چترال کے روٹ پر فضائی سروس فراہم کرنے کے لیے صرف اے ٹی آر طیارے کارآمد ہیں، اور اس مقصد کے لیے کچھ نجی فضائی کمپنیوں نے بھی اپنی خدمات پیش کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش ایک اہم پیشرفت ہے، کیونکہ پی آئی اے کے پاس اتنے جہاز نہیں ہیں کہ وہ تمام چھوٹے اور منافع بخش روٹس پر پروازیں جاری رکھ سکے۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں جب پی آئی اے پر پابندی لگی تھی تو کئی منافع بخش روٹس بند ہو گئے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے پی آئی اے پر لگائی گئی پابندی ختم کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے پورے ہوا بازی کے نظام کی تنظیم نو شروع کر دی ہے، تاکہ پاکستان میں فضائی سفر کی سہولتوں میں بہتری لائی جا سکے۔حکومت کا مقصد یہ ہے کہ چھوٹی ائیر لائنز کو پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے میں شامل کیا جائے تاکہ چھوٹے شہروں اور علاقوں میں فضائی سروسز کو فروغ دیا جا سکے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو ملک کے تمام چھوٹے ایئرپورٹس فعال ہو جائیں گے اور ان علاقوں کے رہائشیوں کو بہتر فضائی سفر کی سہولت ملے گی۔اس کے علاوہ، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح بھی ہو چکا ہے، اور اس ایئرپورٹ سے جلد مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کے لیے پروازیں شروع ہو جائیں گی، جس سے گوادر اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں کاروباری مواقع بڑھیں گے۔

    پی ٹی آئی نہ آئی،مذاکرات بارے سپیکر ایاز صادق نے اعلان کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ،جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی پوسٹمارٹم رپورٹس طلب