Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ٹی آئی نہ آئی،مذاکرات بارے سپیکر ایاز صادق نے اعلان کر دیا

    پی ٹی آئی نہ آئی،مذاکرات بارے سپیکر ایاز صادق نے اعلان کر دیا

    اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی عمل فی الوقت تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا

    سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں اعجاز الحق،اسحق ڈار،عرفان صدیقی،خالد مگسی،رانا ثنا اللہ،راجہ پرویز اشرف شریک تھے،پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات سے انکار کر دیا ، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس موقع پر اجلاس کی ابتدا کی، لیکن اپوزیشن ارکان کی غیر موجودگی کے باعث اجلاس کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔ایاز صادق نے کہا کہ "ہم نے تمام ارکان کو اجلاس کی دعوت دی تھی اور توقع تھی کہ اپوزیشن کے ارکان شامل ہوں گے۔ ہم نے 45 منٹ تک ان کا انتظار کیا، لیکن ان کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ اجلاس میں نہیں آئیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے پی ٹی آئی سے بھی رابطہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اپنی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد اپنی پوزیشن واضح کریں گے۔”

    اس موقع پر اسپیکر نے واضح کیا کہ "ہم مذاکراتی عمل کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کمیٹی قائم رکھیں گے، اسے تحلیل نہیں کیا جائے گا۔” ایاز صادق نے اپوزیشن کی عدم شرکت کو مذاکراتی عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اپوزیشن کی غیر موجودگی کے باعث مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔ اب اس میٹنگ کو مزید آگے بڑھانے کا کوئی مقصد نہیں بنتا، اس لیے آج کی میٹنگ ملتوی کر رہے ہیں۔”

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جب اجلاس میں آئے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے کر آئے ہیں۔ ہمارے پاس پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار ہے، اور ہماری مثبت کوشش ہے کہ بات چیت آگے بڑھے۔ ہم نے ماضی میں بھی مذاکرات کیے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اپوزیشن آئے گی، ہم ان کے سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔” اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ "ہم جواب دینا چاہتے ہیں، لیکن اگر اپوزیشن آئے گی نہیں تو ہم جواب کیسے دے سکتے ہیں؟”

    اسپیکرسردارایازصادق نے اپوزیشن کو اجلاس میں شریک ہونے کی درخواست کی،اپوزیشن نے ایک بار پھر شرکت سے معذرت کر لی،اسپیکرسردار ایاز صادق نے اپنا جوائنٹ سیکریٹری اپوزیشن لیڈر کے چیمبر بھجوایا، جوائنٹ سیکریٹری نے اسپیکر ایاز صادق کا پیغام عمر ایوب کے اسٹاف تک پہنچایا،

    سیف علی خان کیس،نئی ویڈیولیک،کرینہ کپور کہاں تھیں،سیف کے جسم پر نشان

    پی ٹی آئی کی ملاقات سے گریز پرکمیٹی کو تحلیل کرنے پر غور کریں گے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ مذاکرات اس وقت ختم ہیں، مذاکرات کا اس وقت کوئی چانس نہیں، اس میں قصوروار حکومت ہے، پہلے انہوں نے تحریری طور پر ہم سے ڈیمانڈز مانگیں، پھر ان کے لیڈران نے پریس کانفرنس کر دی کہ یہ بات ماننے والی نہیں ہے، اگر ان کے پاس کوئی حل ہے تو وہ ہمیں تحریری طور پر دیں، آپ نے بل پر کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی، آپ اپوزیشن کو اہمیت نہیں دیتے۔

    پی ٹی آئی احتجاج کیلئے سڑکوں پر آتی ہے تو ان کیساتھ وہی ہوگا جو پہلے ہوا، رانا ثناء اللہ
    ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے علاوہ کوئی حل نہیں، پی ٹی آئی کو بالآخر مذاکراتی ٹیبل پر ہی آنا پڑیگا، اگر پی ٹی آئی احتجاج کیلئے سڑکوں پر آتی ہے تو ان کیساتھ وہی ہوگا جو پہلے ہوا،

  • سیف علی خان کیس،نئی ویڈیولیک،کرینہ کپور کہاں تھیں،سیف کے جسم پر نشان

    سیف علی خان کیس،نئی ویڈیولیک،کرینہ کپور کہاں تھیں،سیف کے جسم پر نشان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سیف علی خان میں بہت سی چیزیں سامنے آئی ہیں، بھارتی میڈیا اب یہ کہنا شروع ہو گیا کہ چھری جو ماری گئی وہ چھری نہیں ہے،اس دوران مبشر لقمان نے بھارتی میڈیا کے کلپ بھی چلائے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سچائی ماری گئی ہے، سچائی قتل ہوئی، سیف علی خان نے جھوٹ بولے، کرینہ نے جھوٹ بولے، گھر والے، نوکر، ہسپتال کے ڈاکٹرجھوٹ بول رہے ہیں، سب سے بڑھ کر ممبئی پولیس جھوٹ بول رہی ہے، سچ جوبول رہے ہیں وہ لوگ ہیں جن کو بے گناہ پکڑا گیا، سیف الاسلام جس کو ممبئی پولیس نے پکڑا ہوا ہے، اس پر کافی بات ہو چکی ہے، ویڈیو میں آنے والی شکل مختلف ہے، عمر کا بھی فرق ہے،ممبئی پولیس نے ایک دوسرے کو سرٹفکیٹ بھی دے دیئے، شاباش بھی دے دی ،یہ سب کچھ ہو گیا ہے،تو دوباتیں ذہن میں آتی ہیں کہ یہ کیا کس نے ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بینفشری مجھے سیف لگتا ہے، یا تو وہ جھوٹ بول رہے یا کور اپ کر رہے، یا ان کی آپس میں لڑائی ہوئی، ڈرگز کا اثر ہو سکتا ہے لیکن ممبئی میں دوست مجھے کچھ اور بات رہے ہیں،مجھے کم از کم تین لوگ یہ بات بتا چکے جو بتانے لگا ہوں ،جب تین لوگ ایک ہی بات کریں تو کچھ نہ کچھ تو ہے وہ کہتے ہیں بندہ آیا تھا اور ان کا جانا پہچانا تھا، وہ انکا ڈیلر تھا اور اس کو پیسے دینے تھے انہوں نے، اس پر لڑائی جھگڑا ہوا، بات یہ ہے کہ اس نے کیا اٹھایا، میڈ نے کہا کہ اس نے ایک کروڑ مانگا، کرینہ کہتی کہ اسکی جیولری کو ہاتھ تک نہ لگایا، نہ پینٹنگ کو، نہ کسی اور چیز کو، لے کر کیا گیا،میچنگ جوتے، اپنے کپڑوں سے میچنگ جوتے، اس کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک کیمرہ جوتے چوری دکھا رہا ہے،یہ چل رہا ہے، اس کے علاوہ اس اپارٹمنٹ کے جتنے کیمرے ہیں انکی کوئی فوٹیج نہیں، چار، پانچ فلور کے کیمرے نہیں چل رہے، فلور نمبر پانچ اور چھ کے دو کیمرے چل رہے جو سیڑھیاں چڑھتے، اترتے دکھائی دے رہا، دو ایسے لوگ ہیں جن کی ٹاپ سیکورٹی ہے، ان کی سیکورٹی والوں کو نہیں پتہ، ڈیڑھ گھنٹے کے وقفے سے سیف رکشہ پر ہسپتال پہنچتے ہیں،تیمور انکو لے کر جا رہا تھا لیکن رپورٹ میں افسر زیدی کا نام آ گیا، افسر زیدی تو دبئی میں ہے، اس نے بیان دیا کہ میں تو تھا ہی نہیں میرا نام آ گیا، وہ بھی جھوٹ ہو گیا، سب سے بڑھ کر یہ ڈاکٹر نے جو کلیم کئے کہ کمر میں چھری، چاقو ٹوٹا ہوا ہے،ڈھائی انچ سٹیل اندر ہو تو کئی ماہ تک ہل نہیں سکتے، چیخیں نکلیں گی، یہ تو ایسے ہسپتال سے نکلا جیسے چھلاوا، ڈاکٹر پر یہ بھی الزام لگ گیا،کہ انہوں نے پہلے ہی دن انشورنش کلیم فائل کر دی، 35 لاکھ کی پاکستان کروڑ کے قریب بنتا ہے،آدھے گھنٹے میں انشورنس کے پیسے بھی مل گئے، بڑی جلدی انشورنس کلیم ہو گئی، ادائیگی ہو گئی، کوئی سوال نہیں پوچھا گیا،کمال کی سروس ہے،

    سیف علی ٰخان حملہ کیس،پولیس نے "خاتون” کو بھی کیا گرفتار

    سیف علی خان نکلے سخت سیکوٹی میں گھر سے باہر

    سیف علی خان کے علاج کیلئے25 لاکھ ، میڈیکل کلیم کی منظوری پر سوالات اٹھ گئے

    سیف علی خان کیس : ممبئی پولیس کی تحقیقات ایک نئے موڑ میں داخل

    سیف علی خان حملہ،پولیس نے ملزم اور سیف کے خون آلود کپڑے تحویل میں لےلئے

  • لاہور ہائیکورٹ،جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی پوسٹمارٹم رپورٹس طلب

    لاہور ہائیکورٹ،جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی پوسٹمارٹم رپورٹس طلب

    لاہور ہائیکورٹ،جیلوں میں قیدیوں پرتشدد روکنے اور سہولیات کی فراہمی کےلئےدرخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی پوسٹمارٹم رپورٹس طلب کرلیں،عدالت نے قیدیوں کی ہلاکتوں سے متعلق تمام دستاویزات بھی عدالت طلب کرلیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ لاہور میں خواتین کی الگ جیلوں کےعلْاوہ تین اور جیلیں تعمیر کےآخری مراحل میں پیں۔بہت سی چیزیں نئی ہونے جارہی ہیں کل ہی اس حوالے سے اجلاس کیاہے۔ اے آئی جی جیل خانہ جات نے کہا کہ 2024میں لاہور کی دونوں جیلوں میں مجموعی طور پراڑسٹھ قیدی ہلاک ہوئے۔مجموعی طور پر 49 قیدی طبی موت سے ہلاک جبکہ ایک قیدی نے خودکشی کی۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دوہزار قیدیوں کی گنجائش والی ضلعی جیل میں چھ ہزار 6 سو75 قیدی رکھے گئے ہیں۔23 سو ساٹھ قیدیوں کی گنجائش والی سینٹرل جیل میں تین ہزار آٹھ سو دس قیدی رکھے گئےہیں۔

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کی،عدالت نے سماعت 3 فروری تک ملتوی کردی،دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو تشدد کانشانہ بنانے کےواقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔

    انتظامی احکامات سے عدالتی احکامات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس عائشہ ملک

    عمران کی بیٹوں سے بات کیوں نہیں کروائی ،جیل حکام نے عدالت میں بتا دیا

  • انتظامی احکامات سے عدالتی احکامات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس عائشہ ملک

    انتظامی احکامات سے عدالتی احکامات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس عائشہ ملک

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس کو سننے سے معذرت کرتے ہوئے اپنی تحریری وجوہات جاری کر دی ہیں۔ ان وجوہات میں انہوں نے عدالتی احکامات اور انتظامی احکامات کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کی آزادی اور عدالتی احکامات کی تقدیس کو ہر صورت میں برقرار رکھا جانا چاہیے۔

    سٹس عائشہ ملک نے اپنے تحریری نوٹ میں کہا کہ "بحیثیت جج، ہمارا فرض ہے کہ ہم عدالتی احکامات اور انتظامی احکامات کے درمیان امتیاز رکھیں اور عدالتی احکامات کی تقدیس کو ہر صورت میں محفوظ رکھیں۔” انہوں نے یہ بھی لکھا کہ "ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارے احکامات پر عمل درآمد ہو اور ان کی کسی بھی صورت میں خلاف ورزی یا نظراندازی نہ ہو۔”جسٹس عائشہ ملک نے مزید کہا کہ "ججز کمیٹیوں نے عدالتی حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے کیس کو بنچ سے واپس لے لیا۔ انتظامی احکامات سے عدالتی احکامات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی احکامات کو ہمیشہ عدالت میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ "عدالتی حکم دراصل عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کا مظہر ہوتا ہے، اور اگر کسی کو اس سے اختلاف ہو تو اسے عدالتی سطح پر ہی حل کرنا چاہیے، نہ کہ انتظامی احکامات کے ذریعے عدالتی حکم کو مسترد کرنا۔”

    جسٹس عائشہ ملک نے اپنے نوٹ میں یہ بھی واضح کیا کہ بطور جج یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ عدالتی احکامات کا مکمل طور پر عمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے احکامات کا احترام ہر ادارے اور فرد پر لازم ہونا چاہیے تاکہ عدلیہ کی آزادی اور تقدس کا تحفظ کیا جا سکے۔

    یہ تحریری وجوہات اس وقت منظر عام پر آئیں جب جسٹس عائشہ ملک نے کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس کے دوران معذرت کرتے ہوئے اس کیس کو سننے سے انکار کر دیا تھا۔

    عمران کی بیٹوں سے بات کیوں نہیں کروائی ،جیل حکام نے عدالت میں بتا دیا

    حکومت صحت سہولتوں کی فراہمی کئلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ،وزیراعظم

  • عمران کی بیٹوں سے بات کیوں نہیں کروائی ،جیل حکام نے عدالت میں بتا دیا

    عمران کی بیٹوں سے بات کیوں نہیں کروائی ،جیل حکام نے عدالت میں بتا دیا

    سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات نہ کرانے کی وجوہات سے آگاہ کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج سے معائنے، اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات اور بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس عامر فاروق نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے سوال کیا کہ آپ نے درخواست گزار کو کیا سہولتیں فراہم کی ہیں؟ سپرنٹنڈنٹ جیل نے جواب دیا کہ کیٹیگری بی کے تحت عمران خان کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں 16 ٹی وی چینلز اور دو اخبارات شامل ہیں۔سپرنٹنڈنٹ جیل نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایک باورچی بھی فراہم کیا گیا ہے اور جیل میں ہفتے میں دو ملاقاتوں کی اجازت ہے، تاہم، ہم تین یا چار ملاقاتیں بھی کروا دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سزا سے پہلے بشریٰ بی بی کو ملاقات کی اجازت دی جاتی تھی اور سزا کے بعد بھی ملاقات کروا دی جاتی ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ بچوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟ اس پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہم اوورسیز کالز اس لیے نہیں کروا سکتے کیونکہ اڈیالہ جیل میں 8 ہزار قیدی ہیں اور اگر ایک قیدی کو یہ اجازت دی گئی تو دیگر قیدی عدالت میں اس پر چیلنج کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جیل میں 25 بیرون ممالک سے آئے ہوئے قیدی بھی موجود ہیں اور جیل رولز اور حکومت کی پالیسی کے مطابق انٹرنیشنل کالز کی اجازت نہیں ہے۔

    دوران سماعت عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ماضی میں پرائیویٹ ڈاکٹروں کو ملنے کی اجازت دی گئی تھی، جس پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں پاکستان کی بہترین صحت سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد پر عمران خان کا چیک اپ کرتے ہیں۔عدالت نے عمران خان کی جیل میں سہولتیں فراہم کرنے کی درخواست نمٹا دی، اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو مزید ہدایات جاری کیں کہ وہ قیدی کی صحت اور جیل کی دیگر سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں۔

    دوہری شہریت کس کس کی؟ ایف بی آر افسران کی تفصیلات طلب

    حکومت صحت سہولتوں کی فراہمی کئلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ،وزیراعظم

  • دوہری شہریت کس کس کی؟  ایف بی آر افسران کی تفصیلات طلب

    دوہری شہریت کس کس کی؟ ایف بی آر افسران کی تفصیلات طلب

    پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اپنے افسران کی دوہری شہریت سے متعلق تفصیلات طلب کرنے کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    اس نوٹیفکیشن کے ذریعے ایف بی آر کے مختلف ڈی جیز اور چیف کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام دوہری شہریت رکھنے والے افسران کی تفصیلات فراہم کریں، جن میں ان افسران کے اہل خانہ کی معلومات بھی شامل ہوں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان تفصیلات کو ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے جمع کرایا جائے۔ افسران کی معلومات میں ان کا نام، عہدہ، گریڈ اور ملازمت میں شمولیت کی تاریخ شامل کی جائے گی۔ ایف بی آر کے اس حکم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر دوہری شہریت پیدائشی نہیں بلکہ بعد میں اختیار کی گئی ہو، تو اس کی تاریخ بھی فراہم کی جائے۔

    یاد رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب حکومت مختلف محکموں اور اداروں میں دوہری شہریت رکھنے والے افسران کی معلومات اکٹھا کرنے کے حوالے سے سرگرم ہو گئی ہے تاکہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

    حکومت صحت سہولتوں کی فراہمی کئلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ،وزیراعظم

    محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

  • حکومت صحت سہولتوں کی فراہمی کئلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ،وزیراعظم

    حکومت صحت سہولتوں کی فراہمی کئلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے صحت کے نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسلام آباد کو پورے ملک کے لیے ایک ماڈل شہر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ان کی زیرصدارت وزارت قومی صحت کے امور پر ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے زیرانتظام صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اسلام آباد کی صحت کی سہولیات کو پورے ملک کے لیے ایک نمونہ کے طور پر قائم کیا جائے۔ وزیراعظم نے جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر کے کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی اور اس کے لیے مشینری اور آلات کی خریداری کے پری کوالیفکیشن کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پری کوالیفکیشن کا عمل ماہر کنسلٹنٹس کی نگرانی میں مکمل کیا جائے تاکہ شفافیت اور معیار کی یقین دہانی ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیراتی کام اور مشینری وآلات کی خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے تاکہ تمام مراحل میں شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

    وزیراعظم نے جناح میڈیکل کمپلیکس سے منسلک یونیورسٹی کے لیے چارٹر کی منظوری کے عمل کا آغاز کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ تعلیم و تحقیق کے میدان میں مزید بہتری لائی جا سکے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور عوام کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور جلد ہی اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

    محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

    حکومت کا جسٹس منصور کے فل کورٹ تشکیل سے متعلق آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

  • محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

    محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے گزشتہ دنوں اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری پر خیبر پختونخوا میں کسی قسم کے احتجاج نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈا پور پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    پیر کے روز اڈیالہ جیل میں عمران خان اور علی امین گنڈا پور کے درمیان ملاقات ہوئی، جس دوران عمران خان نے وزیر اعلیٰ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ "بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بعد خیبر پختونخوا میں کیوں کوئی احتجاج نہیں کیا گیا؟” انہوں نے علی امین گنڈا پور سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی اور ان پر یہ بھی واضح کیا کہ ایسی خاموشی پارٹی اور صوبے کے مفاد میں نہیں ہے۔ملاقات میں عمران خان نے خیبر پختونخوا میں کرپشن کے بڑھتے ہوئے کیسز کی طرف بھی توجہ دلائی اور وزیر اعلیٰ کو صوبے میں کرپشن کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ عمران خان نے کہا کہ "صوبے میں کرپشن کی کئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، اور آئندہ ایسی شکایات برداشت نہیں کی جائیں گی۔”

    علی امین گنڈا پور کو عمران خان نے ہدایت دی کہ وہ حکومت کے معاملات میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں جیسے عاطف خان سے مشاورت کریں اور صوبے میں گڈ گورننس کے لیے کام کریں۔ وزیر اعلیٰ پر زور دیا گیا کہ وہ صوبے میں انتظامی معاملات اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو محسن نقوی کے ساتھ تصاویر بنانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں یہ ہدایت دی کہ وہ محسن نقوی کے بجائے حکومتی گورننس پر توجہ مرکوز کریں۔

    واضح رہے کہ 17 جنوری کو احتساب عدالت نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے تحویل میں لے لیا گیا تھا،بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اپنی سزا کاٹ رہے ہیں

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

  • امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح، امریکہ نے پاکستان کے لیے امداد بند ہونے کی تصدیق کردی ہے اور کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ دنوں امریکہ نے عالمی سطح پر تقریباً تمام غیر ملکی امدادی پروگراموں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان معطل شدہ پروگراموں میں یوکرین، تائیوان اور اردن کی امداد شامل تھی، اور ابتدائی طور پر یہ معطلی 90 دنوں کے لیے کی گئی ہے۔امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے تمام سفارتی اور قونصلر مشنز کو ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ فوراً اپنے امدادی پروگراموں کو معطل کریں اور اس سلسلے میں تمام سرگرمیاں روک دی جائیں۔ اس حکم کے بعد، امریکی قونصل خانے کے اہلکار نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد بھی فی الحال معطل کردی گئی ہے۔

    امریکہ کے فیصلے کے تحت مختلف شعبوں میں چلنے والے متعدد اہم منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس میں ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی پریزرویشن کے تحت جاری منصوبے بھی عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے میں پانچ منصوبے بند ہو گئے ہیں، اقتصادی ترقی کے سلسلے میں چار پروگراموں پر اثر پڑا ہے، اور زراعت کے شعبے میں پانچ منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت، انسانی حقوق، اور گورننس کے حوالے سے بھی فنڈز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔تعلیمی شعبے میں چار پروگرام اور صحت کے شعبے میں بھی چار منصوبے اس امریکی فیصلے کے تحت متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ معطلی پاکستان میں ترقیاتی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امدادی پروگراموں کی معطلی ایک عارضی فیصلہ ہے اور ان پروگراموں کے دوبارہ شروع ہونے کا فیصلہ ازسرنو جائزے کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم، اس بات کا ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا کہ آیا یہ پروگرام دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں، خاص طور پر ان پروگراموں کا جن پر لاکھوں ڈالر کی رقم خرچ کی جاتی ہے۔

    یہ معطلی امریکی حکام کی جانب سے مختلف امدادی پروگراموں کی کارکردگی اور اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی ہے، جس کے بعد مستقبل میں ان پروگراموں کے جاری رہنے یا ختم ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا پاکستان کے اقتصادی اور سماجی شعبوں پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

  • چین اور بھارت کا  دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر  اتفاق

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    چین اور بھارت نے پانچ سال بعد براہ راست فضائی سروس دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری سے ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں ممالک دوبارہ براہ راست فضائی سروسز کے آغاز پر رضامند ہوگئے ہیں۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کی بہتری کی سمت میں یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام اس سلسلے میں ایک فریم ورک پر بات چیت کریں گے، جس کے لیے ملاقات جلد متوقع ہے۔ اس بات چیت کا مقصد فضائی سروسز کے دوبارہ آغاز کے لیے عملی اقدامات طے کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ 2020 میں چین اور بھارت کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں فوجی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں براہ راست فضائی سروسز معطل کردی گئی تھیں۔ اس کشیدگی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان مختلف سفری رابطوں میں رکاوٹ آئی، اور یہ اقدام ایک طویل عرصے کے بعد تعلقات میں نرمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    چین اور بھارت کے درمیان فضائی سروسز کا دوبارہ آغاز دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات میں بہتری کی طرف ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان کے اقتصادی تعلقات میں مزید استحکام کی توقع کی جارہی ہے۔یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اپنی موجودہ چیلنجز کے باوجود دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور تعاون کی راہ پر آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت