Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دے دیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) میں دائرہ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا، ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عدالت کو آپ کو بتانا ہو گا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہو گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقہ کی علیحدگی انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک سوموٹو نہیں لے سکی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد صاحب آپ سینئر وکیل ہیں الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی دور کریں گے،وکیل حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے پر ڈپٹی اسپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں،عدالت نے مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

  • کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم کے علاقے بگن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے متاثرین کے لیے ہنگو میں عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان افراد کو مناسب پناہ گزینی اور امدادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان نے میڈیا کو بتایا کہ بگن سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے محمد خواجہ کے علاقے میں عارضی کیمپ قائم کیا جائے گا۔ اس کیمپ میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر ہزاروں خاندانوں کے لیے خیمہ بستی قائم کی جائے گی۔ کیمپ میں رہائش کے علاوہ دیگر سہولتوں کا بھی انتظام کیا جائے گا، جن میں اسکول، مساجد، بی ایچ یو (بنیادی صحت مرکز) اور دیگر ضروری سہولتیں شامل ہوں گی۔ڈی سی ہنگو گوہر زمان نے مزید بتایا کہ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے خیموں اور دیگر امدادی سامان کے 22 ٹرک فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ٹرک کا سامان ہنگو کی ضلعی انتظامیہ کو موصول ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے کیمپ کے قیام کے لیے کام شروع کر دیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر پناہ اور ضروری اشیاء فراہم کی جائیں گی۔

    ڈی سی ہنگو نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کرم کے متاثرین کو جو نقل مکانی کر چکے ہیں، انہیں تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور وہ ایک محفوظ ماحول میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

    یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ دنوں کرم کے علاقے بگن میں کھانے پینے کا سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے بعد حکام نے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بحال کیا جا سکے اور مقامی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    کمشنر اور آر پی او کوہاٹ کا کُرم کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرم میں پائیدار امن کے لیے کوہاٹ معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے۔ کرم میں بلا تفریق امن دشمن عناصر کے خلاف قانون حرکت میں ہے۔ کرم میں شر پسندوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ کرم میں انسانی المیہ پیدا نہ ہو۔شر پسند کرم عوام میں گھل مل گئے ہیں۔ کرم میں فریقین امن کے لیے پر عزم ہیں۔ امن معاہدے پر ہر صورت عمل درآمد کرائیں گئے، سوشل میڈیا کے ذریعے شر پھیلانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کر رہے ہیں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردوں اور امن دشمنوں کے خلاف ہے

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے دھوکہ دہی کے واقعات

  • سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    ممبئی کی عدالت میں 16 جنوری کو سیف علی خان پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی شخص کی سماعت کے دوران ایک انوکھا منظر دیکھنے کو ملا، جب دو وکلا اس ملزم کی نمائندگی کرنے کے لئے آپس میں جھگڑنے لگے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم، محمد شریف الاسلام شہزاد، کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزم کے خلاف کیس کی سنگینی کے باوجود وکلا کے درمیان نمائندگی کی جنگ نے عدالت کی ماحول میں تھوڑی دیر کے لیے ہلچل مچادی۔مقامی عدالت کے جج نے دونوں وکلا کو مشورہ دیا کہ وہ مل کر کیس کی نمائندگی کریں۔ جج کا کہنا تھا: "تم دونوں مل کر اس ملزم کی نمائندگی کر سکتے ہو۔” اس کے بعد دونوں وکلا نے اس تجویز پر رضامندی ظاہر کی اور کیس کی سماعت جاری رہی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 30 سالہ ملزم محمد شریف الاسلام شہزاد کو پولیس نے اتوار کی صبح تھانے سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق شہزاد نے 16 جنوری کی صبح سیف علی خان کے بانڈرا واقعہ اپارٹمنٹ میں چوری کی نیت سے گھس کر سیف علی خان کو چاقو کے وار سے زخمی کیا تھا۔عدالت میں جب شہزاد کو پیش کیا گیا تو اسے پوچھا گیا کہ کیا اس کے خلاف پولیس سے کوئی شکایت ہے، جس پر اس نے منفی جواب دیا۔ اس کے بعد ملزم کو عدالتی کمرے کے پیچھے والے حصے میں رکھا گیا جہاں اس کے وکلا کی لڑائی شروع ہوئی۔

    اس تمام صورتحال کے بعد، جج نے دونوں وکلا کو ایک ساتھ کیس کی نمائندگی کرنے کی تجویز دی تاکہ عدالت کی کارروائی میں خلل نہ پڑے۔ دونوں وکلا نے اس تجویز پر اتفاق کیا اور کیس کی سماعت جاری رکھی۔عدالت نے بعد ازاں ملزم کو پانچ دنوں کے لیے پولیس کی حراست میں بھیج دیا۔

    پولیس کے مطابق، سیف علی خان پر حملے کے وقت کئی افراد کو مشتبہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ سیف علی خان پر حملہ 16 جنوری کی صبح 2:30 بجے اس وقت ہوا جب وہ اپنے اپارٹمنٹ میں سو رہے تھے۔ ملزم نے انہیں متعدد بار چاقو کے وار سے زخمی کیا۔سیف علی خان کو فوراً لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ایمرجنسی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق، وہ جلد صحتیاب ہو کر اسپتال سے فارغ ہو سکتے ہیں۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ ملزم شہزاد کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور وہ پچھلے پانچ ماہ سے ممبئی میں مقیم تھا،

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

    سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

    ممبئی پولیس نے شریف اسلام شہزاد، جو سیف علی خان پر چھ بار چھرا گھونپنے کے الزام میں ملوث ہے، کو ایک دلچسپ طریقے سے گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری دراصل ایک پراٹھے اور ڈیجیٹل پیمنٹ انفراسٹرکچر کی بدولت ممکن ہوئی۔

    ملزم کی تلاش میں سرگرم پولیس ٹیموں نے شہزاد کا پتہ اُس وقت چلایا جب اس نے ناشتہ، یعنی ایک پراٹھا، کی گوگل پے کے ذریعے ادائیگی کی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ وہ یہ ادائیگی اپنے موبائل فون سے کر رہا تھا۔مزید یہ کہ پولیس نے یہ بھی معلوم کیا کہ شہزاد اس ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا، جہاں اسے محنت کے لیے سراہا گیا تھا۔ پولیس اس شخص سے بھی بات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس نے شہزاد کو نوکری دی تھی، جس کا نام پانڈے بتایا گیا ہے۔شہزاد پہلے باندرا سے دادر، ورلی، تک فرار ہو چکا تھا، اور اس طرح پولیس سے بچتا رہا۔

    شہزاد جو کہ بنگلہ دیش کا غیر قانونی باشندہ تھا، تھانے کے ایک سنسان راستے کے قریب پکڑا گیا۔ اس گرفتاری کے دوران ایک منظر ایسا تھا جو کسی فلم کا حصہ لگتا، جہاں وہ ایک جھاڑی میں چھپنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے پولیس نے گھیر لیا اور گرفتار کر لیا۔شہزاد، جو باندرا کے ایک پوش علاقے میں سیف علی خان کے گھر میں حملہ آور ہوا تھا، پولیس کے مطابق ایک بہت پیچیدہ طریقے سے سکیورٹی کو بائی پاس کرتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہو گیا تھا۔ اس نے عمارت کی ایک بغل عمارت کی دیوار پر چھلانگ لگا کر اور پیچھے کی سیڑھیوں سے چڑھ کر گھر میں داخل ہونے کا راستہ بنایا۔

    شہزاد نے پولیس کو بتایا کہ وہ ایئر کنڈیشننگ کی ڈکٹوں کا استعمال کر رہا تھا تاکہ وہ پکڑا نہ جائے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ شہزاد ساتویں یا آٹھویں منزل تک سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ایئر ڈکٹ میں چڑھ کر بارہویں منزل تک پہنچا، جہاں وہ سیف علی خان کے بیڈروم کی کھڑکی سے اندر داخل ہو گیا۔ اس دوران سیف علی خان کے عملے نے شہزاد کو دیکھ لیا جس کے بعد حملے کا سلسلہ شروع ہوا۔

    شہزاد کوسی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا، جس سے پولیس کو اس کی شناخت اور اس کی حرکتوں کا پتہ چلا۔ پولیس نے تیس پولیس ٹیموں کی مدد سے اس کی تلاش کی، اور اس کی شناخت کے لیے سینکڑوں گھنٹوں کی سکیورٹی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ایک اہم لمحہ اُس وقت آیا جب پولیس نے اسے این ڈی نگر کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو پہیہ والی گاڑی پر دیکھا، جس سے پولیس کو اُس کے پیچھے جانے کا ایک اور طریقہ ملا۔

    جمعرات کو رات 2 بجے کے قریب شہزاد سیف علی خان کے بیٹے جہانگیر کے کمرے میں داخل ہوا۔ شہزاد نے پولیس کو بتایا کہ اسے یہ علم نہیں تھا کہ وہ بالی وڈ کے معروف اداکار کے گھر میں ہے۔ ایک جھگڑے کے دوران سیف علی خان کو چھری سے چھ بار چھرا مارا گیا، حملے کے بعد شہزاد خون آلود کپڑے تبدیل کرتا ہوا فرار ہو گیا، لیکن پولیس ابھی تک اس خون آلود کپڑے کو تلاش نہیں کر پائی جس سے سیف علی خان کا خون ملایا جا سکے۔

    ملزم شہزاد کے وکیل نے الزام لگایا ہے کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں اور اس کے کلائنٹ کو محض ایک مشہور شخصیت کے معاملے میں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا، "کچھ بھی (مجرمانہ) ثبوت ان کے پاس نہیں ہے۔” اس نے یہ بھی کہا کہ پولیس کے پاس شہزاد کے بنگلہ دیشی شہری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔شہزاد کو پانچ دنوں کے لیے پولیس حراست میں بھیجا گیا ہے، اور پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا وہ سیف علی خان کے گھر میں کسی کے ساتھ مل کر واردات میں ملوث تھا۔

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • پالپا کا پائلٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

    پالپا کا پائلٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے پائلٹس کی تنظیم ’پالپا‘ نے پائلٹس کی تنخواہوں میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پالپا کے جنرل سیکریٹری کیپٹن عمران ناریجو نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے تنخواہوں میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا۔کیپٹن عمران ناریجو نے اپنے مراسلے میں کہا کہ 2016 کے بعد سے پی آئی اے کے پائلٹس کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے، جبکہ دیگر ایئر لائنز میں پائلٹس کو بہتر تنخواہیں اور مراعات دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹس کی کم تنخواہوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں پائلٹس دیگر ایئر لائنز جوائن کر رہے ہیں، جو قومی ایئر لائن کے لیے نقصان دہ ہے۔پالپا کے جنرل سیکریٹری نے مزید کہا کہ ملک کی نجی ایئر لائنز اپنے پائلٹس کو بہتر تنخواہیں اور دیگر مراعات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ اب یورپی ملکوں میں بھی پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر پائلٹس کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کیپٹن عمران ناریجو نے یہ بھی کہا کہ پائلٹس کی تنخواہوں کو مارکیٹ کے مطابق بڑھایا جائے اور موجودہ معاشی حالات، بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور مہنگائی کے پیش نظر تنخواہوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائلٹس کی تنخواہوں میں اضافہ ان کی کارکردگی اور پیشہ ورانہ امور پر مثبت اثرات مرتب کرے گا، جس سے قومی ایئر لائن کی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے۔اس مطالبے کے ذریعے پالپا نے پی آئی اے انتظامیہ سے یہ درخواست کی ہے کہ فوری طور پر پائلٹس کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ ایئر لائن کے پائلٹس کو دیگر ایئر لائنز کی طرف جانے سے روکا جا سکے اور قومی ایئر لائن کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔

    بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے دھوکہ دہی کے واقعات

    ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

  • بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے  دھوکہ دہی کے واقعات

    بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے دھوکہ دہی کے واقعات

    بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مالیاتی فراڈ اور سائبر کرائمز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت عالمی سطح پر ایک مالیاتی دھوکہ دہی کے مرکز کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ بھارت طویل عرصے سے آن لائن دھوکہ دہی کرنے والوں کا گڑھ بن چکا ہے، جو نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر کے ممالک کو اپنی اسکیموں کا نشانہ بناتے ہیں۔

    بھارت کے مالیاتی سائبر کرائمز اب اس کی سرحدوں کو پار کر چکے ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں کو Scam کا شکار کر رہے ہیں۔ تکنیکی مدد کے بہانے، معصوم افراد اپنی ذاتی تفصیلات جیسے کہ کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹس کی معلومات فراہم کرکے دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 2022 میں ایک بھارتی شہری، ہتیش مدھو بھائی پٹیل، کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ پٹیل نے 2013 سے 2016 کے دوران بھارت میں قائم کال سینٹرز کے ذریعے امریکی شہریوں کو لاکھوں ڈالر کا دھوکہ دیا تھا۔بھارت میں مالیاتی فراڈز کا ایک بڑا حصہ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں پر مشتمل ہے، جو کمزور نیٹ ورک یا سائبر سیکیورٹی کی معلومات کی کمی کی وجہ سے ان دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جون 2023 میں ایف بی آئی نے دہلی میں ایک کال سینٹر کا پردہ فاش کیا جس نے امریکی شہریوں سے تقریباً 20 ملین امریکی ڈالر کا دھوکہ دیا۔ اسی طرح، امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی شہریوں کو کال سینٹرز سے منسلک دھوکہ دہی میں 10 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

    بھارت میں قائم کال سینٹرز یا جعلی کسٹمر سروس کال سینٹرز متاثرین کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کے بہانے ان کے ذاتی اور مالی معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ فراڈ رقوم اکثر برطانیہ، دبئی اور بھارت کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہیں۔ بھارت میں 2022 میں ان کمپنیوں نے امریکی شہریوں کو 10 بلین ڈالر سے زیادہ کا دھوکہ دیا۔ اس کے علاوہ، 2024 کے پہلے چار ماہ میں بھارتی سائبر کرائمز کے 7 لاکھ 40 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر مالی فراڈز سے متعلق تھے۔بھارت میں بینک فراڈ کی تعداد گزشتہ آٹھ برسوں میں دوگنا ہو چکی ہے۔ 2024 میں، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے 13,000 سے زائد بینک فراڈ کے کیسز رپورٹ کیے ہیں، جن کی کل مالیت 21,367 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ بھارت میں ہونے والے بینک فراڈز میں 55 فیصد حصہ بینک اکاؤنٹ ٹیک اوور حملوں کا ہے، جو کہ ایک بڑھتا ہوا خطرہ ظاہر کرتا ہے۔

    ایسی صورتحال کے پیش نظر، عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مالی فراڈ کے مقدمات میں قانونی کارروائیوں کو تیز کرے اور سائبر کرائمز کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی حکومتیں بھی بھارت میں ہونے والی اس نوعیت کی مالیاتی دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

    بھارت میں مالیاتی فراڈ اور سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ بھارتی فراڈ کمپنیوں اور کال سینٹرز کے ذریعے امریکی، برطانوی اور دیگر ممالک کے معصوم شہریوں سے فراڈ کر کے ان سے پیسے ہتھیا لینا معمول بن چکا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت میں ان جرائم کے خلاف سخت قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔

    ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

    یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

  • ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

    ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

    پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) نے خنجراب پاس کو سال بھر تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھنے کا آپریشن شروع کیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں حکومتوں کے مشترکہ اقدام کے تحت لیا گیا ہے جس سے خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سردیوں میں بھی فعال رہنے لگا ہے، جو پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔

    خنجراب پاس سطحِ سمندر سے 16,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہ دنیا کے بلند ترین سرحدی راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور سفری تعلقات کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خنجراب پاس کا کھلا رہنا خطے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ماضی میں خنجراب پاس نومبر کے وسط سے اپریل کے وسط تک برفباری اور شدید سردی کے باعث بند رہتا تھا۔ مگر اس سال کے آغاز میں حکومت پاکستان اور چین نے مل کر اس راستے کو سال بھر کے لیے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت ایف ڈبلیو او نے جدید مشینری اور کارکنوں کی مدد سے اس راستے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ ان کارکنوں کو شدید برفانی طوفان، منفی 15 سے منفی 35 ڈگری تک کے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مگر وہ دن رات اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    خنجراب پاس کے سال بھر کھلے رہنے سے نہ صرف تجارتی قافلوں کی روانی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل میں آسانی آئی ہے اور خطے کی معیشت میں نئی جان آئی ہے۔خنجراب پاس کا کھلا رہنا سیاحت کے شعبے کے لیے بھی بہت فائدے کا باعث بن رہا ہے۔ سیاحتی قافلے اس تاریخی اور قدرتی خوبصورتی سے مالامال مقام کا دورہ کرنے کے لیے تسلسل کے ساتھ آ رہے ہیں، جس سے مقامی کاروباروں کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

    خنجراب پاس کا آل ویدر آپریشن نہ صرف پاکستان اور چین کی اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کر رہا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کی ایک روشن مثال بھی پیش کر رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھا رہی ہیں، اور یہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولنے کا باعث بنے گا۔

    یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

  • یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    پاکستان کی برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران یورپ کے ساتھ 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں اہم کردار پاکستان کے ایس آئی ایف سی کی پالیسیوں اور یورپ میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاکستانی مصنوعات یورپی مارکیٹ میں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں، جس کی بدولت برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

    یورپی پارلیمنٹ نے اکتوبر 2023 میں پاکستان کو یورپی یونین کی مارکیٹس میں ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرنے کے لیے "جی ایس پی پلس” حیثیت کو 2027 تک بڑھانے کی منظوری دی۔ "جی ایس پی پلس” اسکیم ترقی پذیر ممالک کو یورپی یونین کی مارکیٹ میں ترجیحی رسائی فراہم کرتی ہے اور اس کے تحت کچھ مخصوص مصنوعات پر ڈیوٹی ٹیکس سے استثنیٰ بھی ملتا ہے۔رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں یورپی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں 8.62 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے میں مختلف مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، گارمنٹس، کاٹن مصنوعات، کھیلوں کا سامان، مشروبات، سرجیکل آلات اور قالین شامل ہیں۔پاکستان کی یورپ کو برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جب کہ پچھلے سال یہ رقم 3.5 بلین ڈالر تھی۔ برطانیہ، نیدرلینڈز، فرانس اور جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جو پاکستانی برآمدات کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    ایس آئی ایف سی کی کامیاب پالیسیوں نے پاکستانی صنعتوں کو نئی سرمایہ کاری کی ترغیب دی ہے، جس سے ملک کی اقتصادی ترقی کے سفر میں مزید تیزی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی بہتری آ رہی ہے۔

    نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

    نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

    آج کا دن پاکستان کی فضائی تاریخ میں ایک اہم سنگ ہے ، کیونکہ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اپنے آپریشنز کا آغاز کر رہا ہے۔پہلی کمرشل پرواز نیو گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر لینڈ کر گئی ،پی آئی اے کی پہلی پرواز (PIA503) کراچی سے گوادر پہنچی ہے، جو ایک اے ٹی آر 42 طیارہ ہے۔اس تاریخی موقع پر مسافروں کا استقبال وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ محمد آصف نے کیا۔ پہلی پرواز کی لینڈنگ کے بعد روایتی واٹرکینن سلامی پیش کی گئی، جس میں ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ سروسز (آر ای ایف ایس) کے واٹر باؤزرز شامل ہوں گے۔

    پاکستان کے جنوبی علاقے گوادر میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو مکمل طور پر آپریشنل کر دیا گیا ہے، جو کہ سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کا اہم فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ایئرپورٹ سالانہ 4 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرے گا۔نیو گوادر ایئرپورٹ 4,300 ایکڑ پر محیط ہے اور اس میں جدید ترین کنٹرول سسٹمز کی سہولت موجود ہے۔ ایئرپورٹ کا رن وے 3.6 کلومیٹر طویل ہے، جو بڑے طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے۔ اس ایئرپورٹ پر ایئر بس اے 380 اور بوئنگ 747 جیسے بڑے طیارے بھی آسانی سے لینڈ کر سکتے ہیں۔
    گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر پر 246 ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ یہ منصوبہ دسمبر 2024 میں مکمل ہوا، جس کے بعد اس پر پروازوں کی باقاعدہ آمد و رفت کا آغاز ہو رہا ہے۔ ایئرپورٹ کی تکمیل سے گوادر کی معیشت اور علاقے کے دیگر حصوں کے درمیان رابطوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

    نیو گوادر ایئرپورٹ پر مسافروں کا استقبال کرنے کے لیے گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر خواجہ آصف اور چین کی اہم شخصیات موجود تھیں۔ ایئرپورٹ پر ایک رنگا رنگ تقریب بھی منعقد کی جا رہی ہے۔

    گوادر کا یہ ایئرپورٹ پاکستان کے سب سے بڑے ایئرپورٹس میں سے ایک ہے، جو 430 ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کا ایک ہی رن وے 3658 میٹر طویل اور 75 میٹر چوڑا ہے، جس میں بڑے ہوائی جہازوں کی گنجائش ہے۔ یہ ایئرپورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم اقتصادی اور تجارتی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نیو گوادر ایئرپورٹ کی تکمیل سی پیک کے تحت گوادر کی ترقی میں ایک سنگ میل ہے۔ یہ ایئرپورٹ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا، بلکہ پورے علاقے میں معاشی ترقی کے امکانات کو بھی بڑھائے گا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی افتتاحی پرواز اور اس کی مکمل آپریشنل ہونے سے گوادر اور پورے بلوچستان کے لیے اہم ترقیاتی مواقع پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے کی کامیابی نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو گی۔

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    شکارپور،ڈاکوؤں کی فائرنگ،سابق صوبائی وزیر زخمی، دو سیکورٹی گارڈ جاں بحق

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے