Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

  • 26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    اسد قیصر کے خلاف 26 نمبر چنگی توڑ پھوڑ کیس میں درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی۔آج کی سماعت میں اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسد قیصر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر اسد قیصر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم ان کے وکیل صفائی عائشہ خالد نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    اسد قیصر کے خلاف تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع کر کے انہیں 14 فروری تک مقدمہ میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کر دیا ہے۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے ایک بڑی راحت کی بات ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

    ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر ہونے والے چاقو حملے کے الزام میں بنگلا دیشی شہری شریف الاسلام شہزاد کی گرفتاری اور اس کا اعترافِ جرم بھارتی پولیس کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 30 سالہ محمد شریف الاسلام شہزاد نے دورانِ تفتیش حملے کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ "ہاں، میں نے ہی یہ حملہ کیا ہے”۔ پولیس نے اس کیس میں 70 گھنٹے سے زائد کی تفتیش کے بعد اس پر پیش رفت حاصل کی ہے۔سیف علی خان کے گھر سے تقریباً 35 کلومیٹر دور ممبئی کے علاقے باندرہ کے نزدیک پولیس نے ایک آپریشن کے دوران شریف الاسلام شہزاد کو گرفتار کیا۔ پولیس نے اس آپریشن میں لیبر کنٹریکٹر کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر سات گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد ملزم کو جنگلاتی علاقے میں ایک لیبر کیمپ سے گرفتار کیا۔

    ملزم کے وکیل نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف الزامات جھوٹے ہیں اور یہ معاملہ اس لیے توجہ کا مرکز بن چکا ہے کیونکہ اس میں ایک معروف سیلیبریٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم کو اس ہائی پروفائل کیس میں "قربانی کا بکرا” بنا کر پھنسایا جا رہا ہے، اور اس کے پاس کوئی مواد برآمد نہیں ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم، جو بنگلا دیش کا شہری ہے، گزشتہ چند ماہ سے ممبئی میں جعلی نام "بیجوئے داس” کے تحت رہ رہا تھا۔ پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کی غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہونے میں کس نے مدد کی۔

    اداکار سیف علی خان پر حملے کے بعد، وہ ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کرینہ کپور، جو سیف علی خان کی اہلیہ ہیں، اپنے دونوں بیٹے تیمور اور جہانگیر کے ساتھ اسپتال پہنچیں تاکہ اپنے شوہر کی عیادت کر سکیں۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

    ممبئی کی عدالت میں ملزم شریف الاسلام شہزاد کو پانچ دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ عدالت میں پیشی کے دوران، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں اس کیس میں پھنسایا جا رہا ہے۔یہ کیس ابھی تک تحقیقات کے مراحل میں ہے اور پولیس کی جانب سے مزید تفصیلات آنے کا امکان ہے۔

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔

  • شکارپور،ڈاکوؤں کی فائرنگ،سابق صوبائی وزیر زخمی، دو سیکورٹی گارڈ جاں بحق

    شکارپور،ڈاکوؤں کی فائرنگ،سابق صوبائی وزیر زخمی، دو سیکورٹی گارڈ جاں بحق

    سندھ کے علاقے شکار پور میں سابق صوبائی وزیرپر ڈاکوؤں نے گولیاں چلا دیں، وزیر زخمی جبکہ دو سیکورٹی گارڈ جان سے گئے

    شکارپور میں ڈاکوؤں نے سابق صوبائی وزیر میر غالب ڈومکی کی گاڑی پر گولیاں چلائیں جس سے سابق صوبائی وزیر زخمی ہوئے،اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،پولیس کے مطابق ڈاکوؤں نے شکار پور کے علاقے فیضو لاڑو میں میر غالب ڈومکی کی گاڑی پر فائرنگ کی میر غالب ڈومکی کو ٹانگ پرگولی لگی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ڈاکوؤں کے حملے میں میر غالب ڈومکی کے 2 گارڈز جاں بحق ہوگئے جب کہ جوابی کارروائی میں 2 ڈاکو بھی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے غالب ڈومکی پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیا اور آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے،

    نواز شریف کو بچانے کیلیے بل کلنٹن کی واش روم جاتے ہوئے پاکستانی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی

    وزیراعظم کی مختلف ممالک میں پاکستان کے نئے سفرا کی تعیناتی

  • نواز شریف کو بچانے کیلیے بل کلنٹن کی واش روم جاتے ہوئے پاکستانی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی

    نواز شریف کو بچانے کیلیے بل کلنٹن کی واش روم جاتے ہوئے پاکستانی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی

    جنرل پرویز مشرف دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے سابق سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے اس وقت کے چیف جسٹس سے خفیہ ملاقات کی تھی۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے امریکی صدر بل کلنٹن کو دورہ پاکستان سے منع کر دیا تھا لیکن صدر بل کلنٹن نے محض اس لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا کہ برطرف وزیراعظم میاں نواز شریف کو پھانسی سے بچایا سکیں۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یقین دہانی کے بعد وہ چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آئے۔ امریکی صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی ایک خفیہ ملاقات کی تاکہ یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔

    نجی ٹی وی جیو کے مطابق ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب رنگ سائیڈ میں کیا جس کی پشاور میں کل تقریب رونمائی ہو گی جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی کتاب کی رونمائی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر پرویز مشرف کی یقین دہانی کے باوجود انہوں نے صدارتی ظہرانے کے دوران واش روم جانے کا فیصلہ کیا، اگلے ہی لمحہ پاکستان کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان بھی واش روم چلے گئے جہاں دونوں کے درمیان ملاقات پانچ منٹ تک گفتگو جاری رہی۔صدر کلنٹن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے استفسار کیا کہ نواز شریف کو پھانسی کی سزا تو نہیں ہو گی جس پر جسٹس ارشاد حسن خان نے انہیں یقین دلایاکہ ایسا نہیں ہو گا،یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی اور چشم کشا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب میں لکھا کہ شہباز شریف کابینہ میں شامل ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک و قوم کی خاطر امریکا میں لاکھوں روپے ماہانہ کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں انسانی ترقی کے شعبہ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا وہ ایک انتہائی محب وطن پاکستانی ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کام ہوا تھا اور مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی اسرائیل مکالمے کی حمایت کی تھی۔انہوں نے 2019 میں عمران خان کے دورہ امریکا کوکامیاب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دورہ کے نتیجے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہوئے تھے۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے دورہ ہندوستان کے موقع پر انہوں نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور ان سے ایک واقعہ کے بارے میں استفسار کیا جس کے جواب میں منموہن سنگھ نے تصدیق کی کہ انہوں نے بھارتی بوئنگ طیارے میں دو ٹن سونا بنک آف برطانیہ کے لیے بھیجا تاکہ قرضہ حاصل کیا جا سکے، وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حق میں نہیں تھے، بینک آف انگلینڈ سے لیے جانے والے قرض سے انہوں نے ہندوستان میں نئی اقتصادی پالیسی کا آغاز کیا۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر دیا تھا، وہ ایک قابل فخر انسانی ہمدرد ہیں۔

    قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کو ڈاکٹر نسیم اشرف اپنا ایک عظیم کارنامہ قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس ادارے نے تعلیم کے فروغ اور لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکانے میں قابل ذکر کردار ادا کیا تاہم انہیں چیئرمین کی حیثیت سے کئی محازوں پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بار تو انہوں نے استعفے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔ پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر کے صاحبزادے نکولس بلیئرخاص طور پر انٹرن شپ کے لیے پاکستان آئے۔

    پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر نسیم اشرف نے کئی امور پر قلم کشائی کی، ان کے خیال میں نائن الیون کے واقعہ نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا، یہی وجہ تھی کہ امریکا نے افغانستان کو نشانہ بنایا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج بش کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا، البتہ 7 میں سے 5 مطالبات تسلیم کیے۔اگر پاکستان امریکی مطالبات نہ مانتا تو پاکستان کو معاشی طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑتا جو ملکی سلامتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا۔ڈاکٹر نسیم نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا میں مقیم پاکستانی جمہوریت کے داعی اور محب وطن پاکستانی ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ جب نواز شریف کو ہٹایا گیا تو پاکستانیوں نے ان کی بحالی کے لیے مظاہرے کیے اور اخبارات میں اشتہارات بھی دیے جبکہ کانگرس اراکین سمیت امریکی صدر کو خط بھی لکھا جس کے نتیجہ میں صدر کلنٹن نے پاکستان کا دوہ بھی کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، خوشی ہے کہ ملک بھر میں 19 اسٹیڈیم بنائے۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ سے متعلق لکھا کہ اوول ٹیسٹ پہلے انضمام الحق نے کھیلنے سے انکار کیا، بعد میں وہ جنرل مشرف کی مداخلت پر راضی ہوئے تو امپائرز نے انکار کر دیا

  •   "سنو نیوز” بحران کا شکار، ملازمین کو نوٹس ،پی یو جے کارکنان کی حمایت میں آ‌گئی

      "سنو نیوز” بحران کا شکار، ملازمین کو نوٹس ،پی یو جے کارکنان کی حمایت میں آ‌گئی

    پاکستان کے معروف نجی ٹی وی چینل "سنو نیوز” مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے اور ادارے کی انتظامیہ نے اپنے ملازمین کو نکالنے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ادارے کی جانب سے ایک فہرست تیار کی گئی ہے جس میں چالیس افراد کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان ملازمین میں ڈائریکٹر نیوز، ڈسٹری بیوشن ہیڈ، دو اسائنمنٹ ایڈیٹر، دو این ایل ای، اور دیگر اہم عہدوں پر کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔

    سنو نیوز پنجاب کی ٹیم کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور حنا نیازی کی ٹیم کو بھی اس بحران سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ سنو نیوز نے ایک لاکھ روپے سے زائد تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد کی کٹوتی کی ہے، جبکہ دو لاکھ روپے سے زائد تنخواہ حاصل کرنے والوں پر پچیس فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، سات کیمرہ مین بھی ادارے سے فارغ کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، ادارے کے مالی بحران کی وجہ پانچ سال کے بجٹ کا صرف دو سال میں ختم ہو جانا ہے۔ چینل مالک سعد نذیر نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انہوں نے پانچ سال کا بجٹ دیا تھا، جو صرف دو سال میں خرچ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں چینل کو سنگین مالی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرول الاوئنس بھی بند کر دیا گیا ہے، جس سے ادارے کے مالی معاملات اور بھی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

    ایک ماہ قبل تک سنو نیوز کی انتظامیہ پی آئی اے خریدنے اور خلافت کولا لانچ کرنے جیسے منصوبوں پر کام کر رہی تھی، لیکن اب یہی ادارہ اپنے مالی بحران کے باعث ملازمین کو نکالنے اور کٹوتیوں کے اقدامات کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ادارے کے ملازمین کو بلکہ چینل کے ناظرین کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے، کیونکہ چینل کی ساکھ اور مالی حالات دونوں ہی متاثر ہو رہے ہیں۔سنو نیوز کا بحران اس بات کا غماز ہے کہ میڈیا کے اداروں کو مالی طور پر مستحکم رہنے کے لئے بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس بحران کا اثر نہ صرف ملازمین پر بلکہ چینل کی عمومی کارکردگی اور اس کے ناظرین پر بھی پڑ رہا ہے۔

    ”سنو نیوز”میں کارکنوں کا معاشی قتل و استحصال برداشت نہیں ،پی یو جے
    اگرکارکنوں پر روزگار کا سلسلہ تنگ کیا گیا تو سیٹھ مافیا کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالیں گے :قاضی طارق عزیز
    سنو نیوز انتظامیہ کی جانب سے درجنوں کارکنوں کا معاشی قتل انتہائی غیر انسانی ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدام ہے ، پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل نے ہنگامی اجلاس میں سنو نیوز کی انتظامیہ کی کارکن دشمنی کے بدترین روئیے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنو نیوز سمیت ایسے ادارے جہاں کارکنوں کا معاشی تحفظ نہیں ان کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا جائے گا بلکہ ان کا ہر سطح ہر محاسبہ بھی ہوگا ۔ صدر میاں شاہد ندیم نے کہا کہ سرکار سنو نیوز جیسے اداروں کو سرکاری اشتہارات کے معاوضے کی ادائیگی کارکنوں کی تنخواہوں سے مشروط کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو سنو نیوز کے مالکان خلافت کے نظام کے حوالے سے تحریک چلا رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنوں کا بدترین معاشی استحصال کیا جا رہا ہے ۔ان سے روزگار چھیننے کے علاوہ جو لوگ ابھی ادارے میں باقی ہیں ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے ، اس منافقانہ روئیے پر صحافیوں کے حقوق کی علمبردار پنجاب یونین آف جرنلسٹس خاموش نہیں بیٹھے گی اور استحصالی نظام کیخلاف بھرپور مہم چلائی جائے گی ۔جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ کارکنوں کی معاشی گردن دبا کر سیٹھ مافیا اپنے اثاثے اور کاروبار بڑھائے ،اگر کارکنوں پر روزگار کا سلسلہ تنگ کیا جائے گا تو پھر ہم مالکان کی معاشی شہ رگ پر بھی ہاتھ ڈالیں گے اور حکومت سے درخواست کریں گے کہ و ہ ان کے اثاثے اور کاروبار منجمد کرکے کارکنوں کو بروقت ادائیگیوں کا پابند بنائیں ۔پی یو جے کی ایگزیکٹو کونسل نے ایک نیوز سمیت ایسے تمام اداروں کو بھی متنبہ کیا ہے جہاں کارکنوں کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہیں کی جا رہی اور ان کا بدترین معاشی استحصال جاری ہے ، ایسے اداروں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ان کا بھی ہر فورم پر محاسبہ کیا جائے گا ۔

    سنو نیوز بحران کا شکار، متعدد بیوروز بند، ڈائریکٹر نیوز مستعفی

  • عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنانے والے جج کے خلاف پی ٹی آئی نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا وہیں، اسلام آباد سے سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے بھی ایکس پر پوسٹ کی ہے

    حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ 2004 میں جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سول جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا اور ان کے عدالتی اختیارات واپس لے لیے گئے۔ انہیں جوڈیشل سروس کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا لیکن اسی جج کو دوبارہ ملازمت پر رکھا گیا۔

    پی ٹی آئی کا جج کے خلاف پروپیگنڈہ اور حامد میر کی پوسٹ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا عدلیہ کے ایک قابل احترام جج ہیں جنہوں نے 2004 میں راولپنڈی میں سول جج کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، ان کے بارے میں کچھ سال قبل سپریم کورٹ کی طرف سے شروع کی گئی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ انکوائری میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے وکیل وہاب خیری کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ دیا تھا۔ تاہم، انکوائری کے دوران جج کی معطلی کے باوجود، انہوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے جوڈیشل سروس ٹریبونل سے تمام مراعات کے ساتھ دوبارہ بحالی حاصل کی تھی۔

    اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا کو لاہور میں سول جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور انہوں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کامیابی سے اپنی خدمات انجام دیں۔ 2014 میں انہیں سینئر سول جج کے طور پر ترقی دی گئی اور 2015 میں ایڈیشنل سیشن جج کے طور پر ترقی ملی۔ 2019 میں انہیں اسلام آباد ویسٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور 2021 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پرتعیناتی کی گئی۔ اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا نے اسلام آباد ویسٹ اور اسلام آباد ایسٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیں اور اب وہ نیب کے جج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔جج ناصر جاوید رانا کی عدلیہ میں خدمات کی مدت 27 سال ہے، جس دوران انہوں نے تقریباً 35 ضلعی ججز کے تحت کام کیا، اور ان کے خلاف نہ تو کوئی کرپشن کا الزام عائد ہوا اور نہ ہی ان کی کارکردگی پر کبھی کوئی منفی رپورٹ درج کی گئی۔ ان کے خلاف 2004 کی انکوائری کا موجودہ مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جج ناصر جاوید رانا کی زندگی کی یہ تفصیلات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ کے وقار کو بلند رکھا اور اپنے فیصلوں میں مکمل دیانتداری کا مظاہرہ کیا۔

    جج ناصر جاوید رانا نے ہزاروں مقدمات کا فیصلہ کیا اور ہمیشہ میرٹ پر قانون کے مطابق دیا۔ اب عمران اور بشریٰ کو سزا سنائی گئی تو عمران خان اور ان کے وکلاء نے ان کے فیصلے پر تنقید کی اور جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کیا تو ان کا مقصد صرف اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانا تھا، اسکے باوجود کہ جج ناصر جاوید رانا کا فیصلہ ہمیشہ حق و انصاف پر مبنی رہا۔

     

    پاکستان کے عدالتی نظام میں جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، ان کے پس منظر میں کئی اہم حقائق پوشیدہ ہیں۔ خاص طور پر ان نام نہاد صحافیوں کے لیے جو اس معاملے پر منفی بیانیہ پھیلا رہے ہیں، یہ ضروری ہے کہ  حقیقت سامنے آئیں تاکہ صحیح صورتِ حال واضح ہو سکے۔

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔ جب جج رانا کے خلاف الزامات لگائے گئے، تو لاہور ہائی کورٹ کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم، اس معاملے میں جج رانا کے حق میں تمام کورٹ کے عملے نے affidavits جمع کرائے، جن میں یہ کہا گیا کہ جج رانا کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ بالکل صحیح ہیں۔ اس کے باوجود، سیاسی دباؤ کی وجہ سے، کمزور چیف جسٹس نے بغیر کسی ثبوت اور ٹرائل کے لاہور ہائی کورٹ کو کارروائی کا حکم دیا۔

    جب جج رانا ایک جونیئر جج تھے، تو انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے کی جانے والی سوموٹو کارروائی میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو مسترد کیا، اس کے بعد معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے کیا گیا، جہاں جج رانا کے حق میں فیصلہ آیا اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے۔

    ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ جناب ناظم حسین اگر جسٹس راشد عزیز خان کو راستے سے نہ ہٹاتے تو شاید وہ خود کبھی چیف جسٹس نہ بن پاتے۔ ان کی جانب سے برادر جسٹس راشد کے بارے میں ایسے ریمارکس دئیے گئے تاکہ ان کا کیریئر ختم ہو سکے اور ناظم حسین صدیقی کے چیف جسٹس بننے کا راستہ ہموار ہو۔ اس بات کو ریکارڈ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    اگر جج رانا لاہور ہائی کورٹ کی انکوائری میں قصوروار پائے جاتے تو انہیں فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا۔ تاہم، جج رانا نے اپیل کے ذریعے اپنے آپ کو ثابت کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نوکری پر قائم رہے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

    پی ٹی آئی نے ہمیشہ سچ اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا بیانیہ بنایا اور پھیلایا۔ اس بیانیہ کی حقیقت یہ ہے کہ جج رانا کو جب پی ٹی آئی کی حکومت میں نوکری سے فارغ نہیں کیا گیا، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ان پر واقعی کوئی الزام تھا، تو انہیں 2019 میں اسلام آباد کیوں پوسٹ کیا گیا؟ اگر جج رانا کی سروس میں کوئی مسئلہ تھا تو انہیں کیوں نہیں نکالا گیا؟

    ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت سے بعید ہے۔ انہیں سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی خدمات میں تسلسل ملا اور انہوں نے کسی بھی قسم کے غیر قانونی عمل سے خود کو دور رکھا۔ ان کی سروس اور ان کے فیصلے ان کے کردار کو سچائی کے آئینے میں ثابت کرتے ہیں۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

  • مراکش کا 2030 فیفا ورلڈ کپ کے لیے 30 لاکھ کتوں کو مارنے کا اعلان

    مراکش کا 2030 فیفا ورلڈ کپ کے لیے 30 لاکھ کتوں کو مارنے کا اعلان

    مراکش، جو اسپین اور پرتگال کے ساتھ 2030 فیفا ورلڈ کپ کا مشترکہ میزبان ہے، نے تیس لاکھ تک بے گھر کتوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ اعلان کیا ہے۔ اس اقدام پر عالمی سطح پر جانوروں کے حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

    دی ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق، مراکش کے حکام ممکنہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے بے گھر کتوں کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں زہریلی دوائی،زہر دینا، عوامی مقامات پر کتوں کو گولی مارنا، اور بچ جانے والے جانوروں کو بیلچے سے مار کر ہلاک کرنا شامل ہیں۔بین الاقوامی جانوروں کے حقوق اور تحفظ کی تنظیم نے انتباہ دیا ہے کہ اس مہم کے دوران تیس لاکھ تک کتے مارے جا سکتے ہیں۔ معروف ماہر حیاتیات اور جانوروں کے حقوق کی علمبردار جین گوڈال نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے اور فیفا سے فوری طور پر کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ گوڈال نے فیفا کو ایک خط لکھ کر ان تشویشناک طریقوں کی مذمت کی اور کہا کہ اگر یہ ہلاکتیں جاری رہیں تو مراکش میں ہونے والے ورلڈ کپ کو معطل کیا جائے۔

    اگرچہ مراکش میں سڑکوں پر پھیلنے والے کتوں کو ہلاک کرنے کے خلاف قانونی تحفظات موجود ہیں، رپورٹس کے مطابق حکام ان اقدامات کو بغیر کسی مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مداخلت کے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں انسانیت پسندانہ متبادل حل جیسے کہ "ٹرپ نیوٹر ویکسنٹ ریلیز” پروگرامز کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔

    فیفا کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق، فیفا اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور متوقع ورلڈ کپ مقامات کی سائٹ انسپیکشن کر رہا ہے۔عالمی برادری مراکش کی حکام سے درخواست کر رہی ہے کہ وہ بے گھر کتوں کی آبادی کو منظم کرنے کے لیے انسان دوست اور پائیدار طریقے اپنائیں جو عالمی جانوروں کے حقوق کے معیارات کے مطابق ہوں۔

    بل گیٹس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

  • بل گیٹس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ

    بل گیٹس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی حلف برداری سے چند دن قبل، مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے انکشاف کیا کہ انہوں نے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ کیا، جسے انہوں نے "دلچسپ” اور "اثرانداز” قرار دیا۔

    بل گیٹس نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا، "میرے پاس تقریباً دو ہفتے پہلے ٹرمپ کے ساتھ ایک طویل اور حقیقتاً دلچسپ عشائیہ کرنے کا موقع آیا تھا۔” ان کی بات چیت، جسے گیٹس نے "وسیع پیمانے پر” قرار دیا، مختلف موضوعات پر مرکوز تھی جن میں ایچ آئی وی، پولیو اور کووڈ-19 وبا شامل تھے۔بل گیٹس نے کہا کہ ، "میں نے ایچ آئی وی کے بارے میں بہت بات کی اور گیٹس فاؤنڈیشن اس کا علاج تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ہم ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔”بل گیٹس نے خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی توانائی اور جدیدیت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان سے متاثر ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ۔ "مجھے لگا کہ وہ پرجوش ہیں ،میں حقیقت میں اس بات سے متاثر ہوا کہ انہوں نے ان مسائل میں گہری دلچسپی دکھائی جو میں نے اٹھائے تھے۔”

    بل گیٹس نے مزید کہا کہ کووڈ-19 کی وبا کے دوران تیز رفتار ویکسین کی ترقی اور ایچ آئی وی کی تحقیق میں ممکنہ ترقی کے بارے میں بات چیت کی۔ دونوں نے پولیو کے خلاف جاری جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔گیٹس نے کہا کہ "ہم اس کام کو مکمل کرنے کے قریب ہیں، لیکن اگر آپ رکے تو یہ پھر پھیل سکتا ہے،” منتخب صدر نے اس بات میں دلچسپی ظاہر کی کہ وہ کیا کر سکتے ہیں تاکہ اگلے چار سالوں میں اس سنگ میل کو حاصل کیا جا سکے۔

    اس عشائیے میں آئندہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور بل گیٹس کے ایک اسٹاف ممبر بھی شریک تھے۔ بل گیٹس حالیہ دنوں میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے آخر ی ارب پتی ہیں، اس سے پہلے دیگر کاروباری رہنماؤں جیسے میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس بھی مارا-لاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کر چکے ہیں۔

    بل گیٹس نے 2016 میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، جب وہ پہلی بار صدارت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ