Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کے غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات منظر عام پر آگئے،

    پیغامات، ریاست کو کمزور کرنے کیلئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ سازش کو بے نقاب کرتے ہیں، پیغامات میں بانی پی ٹی آئی کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پیغامات کے پہلے حصے میں برطانوی صحافی چارلس گلاس اور علیمہ خان کی گفتگو سامنے آئی ہے،

    برطانوی صحافی چارلس گلاس علیمہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ;”کیا میں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو اپنی کچھ کتابیں دستخط کے ساتھ بھیج سکتا ہوں“”برطانیہ کی سخت حفاظتی جیلوں میں دستخط شدہ کتابیں بھیجنے کی اجازت نہیں ہے“، علیمہ خان نے جواب میں چارلس گلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ;”میں نے بانی پی ٹی آئی کو آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے، وہ آپ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں“”میں نے انہیں مطلع کیا ہے کہ آپ (چارلس گلاس) انہیں اپنی دستخط شدہ کتابیں بھیجیں گے“،”انہیں لازماً کتابیں مل جائیں گی“،

    چارلس گلاس کے حوالے سے علیمہ خان اور اعلی ٰ برطانوی اہلکار کی گفتگو بھی سامنے آئی ہے،برطانوی اہلکار نے علیمہ خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ;”میری چارلس سے چند گھنٹے قبل بات ہوئی ہے، میں نے بہت کوشش کی مگر کامیابی نہ مل سکی“علیمہ خان نے برطانوی اہلکار کو جواباً کہا کہ ;”جب چارلس کسی سے ملاقات کر رہا تھا تو پولیس نے چارلس کو واپس ہمارے کمپاؤنڈ میں جانے کا کہا“”وہ (چارلس گلاس) میری بہن کے گھر میں رہائش پذیر ہے“، ”انہوں (پولیس)نے اسے (چارلس گلاس) کو پہلی دستیاب فلائٹ سے جانے کا کہا ہے“،

    علیمہ خان نے برطانوی اہلکار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ;”کیا آپ کے پاس کو لیگل کونسل نہیں جو اس مسئلے سے نمٹ سکے؟“

    علیمہ خان نے ”ٹائم میگزین“ کے جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر چارلی کیمبل کو بھی واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات ارسال کئے،چارلی کیمبل کو بھیجے گئے پیغام میں نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ;”پی ٹی آئی کارکنوں کوہراساں کیا جا رہا ہے، کب تک کارکنان ہراسگی کا سامنا کرتے رہیں گے“جواباً چارلی کیمبل نے علیمہ خان کو کہا کہ;”یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے“

    علیمہ خان کا ایک واٹس ایپ رابطہ وال سٹریٹ جنرل جریدے کے صحافی سعید شاہ کے ساتھ بھی سامنے آیا ہے،صحافی سعید شاہ نے علیمہ خان سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ آئندہ ملاقات میں کچھ سوالات کے جوابات مانگے،پوچھے گئے سوالات میں بانی پی ٹی آئی سے دنیا بالخصوص امریکا کیلئے پیغام مانگا گیا،سعید شاہ نے سوال کیا کہ ”آپ (بانی پی ٹی آئی) کی اقتدار میں واپسی کیسے ممکن ہے؟“”کیا آپ (بانی پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی ہے؟“، علیمہ خان نے اشاراتاً جواب دیتے ہوئے کہا کہ;”کس نے دو بار بانی پی ٹی آئی کو قتل کرنے کی سازش کی“سعید شاہ نے اس کے جواب میں کہا کہ ;”ہاں۔۔ اسی لئے میں ان سے پوچھنا چاہا رہا ہوں مجھے امید ہے کہ اس کی کوئی وجہ سامنے آئے گی“

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علیمہ خان مسلسل غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ رابطوں کے ذریعے ریاست مخالف چھوٹا پروپیگینڈا پھیلا رہی ہے،2024 ء میں پاکستان کیلئے ویزہ درخواست میں چارلس گلاس نے خود کو سیاح ظاہر کرتے ہوئے کسی صحافتی مہم کا حصہ نہ بننے کا بیان حلفی دیا تھا،برطانوی صحافی چارلس گلاس کو اگست2024ء میں ویزہ کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا،

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چارلس گلاس کا پیغام کے ساتھ کتاب کا بھیجنا بانی پی ٹی آئی کی منفی ذہن سازی اور خفیہ پیغام رسانی ہوسکتا ہے،اس حوالے سے علیمہ خان کا استعمال اور کتابوں کو پیغام کا ذریعہ بنانا قابل غور اور تشویشناک ہے،چارلس گلاس کا برطانوی جیلوں کے سخت قوانین کی حمایت اور پاکستان میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرنا بھی تشویشناک ہے، علیمہ خان کا پاکستانی ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر چارلس گلاس کی حمایت ذاتی مفادات کیلئے غیر قانونی عمل ہے، علیمہ خان کی جانب سے چارلی کیمبل کیساتھ نام نہاد انسانی حقوق کا واویلا پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے، صحافی سعید شاہ کا عسکری قیادت کو بغیر شواہد کے سوالات کے ذریعے سیاست سے جوڑنا صحافتی اقدار کے منافی ہے، علیمہ خان کا صحافی سعید شاہ کو اشارتاًبانی پی ٹی آئی پر حملے کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا ملک دشمنی اور گمراہ کن ہے،بانی پی ٹی آئی کا غیر ملکی مداخلت کا بیانیہ اور علیمہ خان کا مسلسل غیر ملکی لابیز سے مداخلت کی درخواستیں کرنا دوغلے پن کی نشانی ہے،

    ڈیرہ غازیخان:ہم 9 مئی والے نہیں، 28 مئی والے ہیں،مریم نواز

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    نیرج چوپڑا کی دلہن کون؟تفصیلات سامنے آ گئیں

  • الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کیے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ہدایات کے باوجود الیکشن کمیشن ایسا رویہ اپناتا ہے جو اس کے آئینی فرائض سے مطابقت نہیں رکھتا، الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ اسے دوسرے آئینی اداروں اور ووٹ کے بنیادی حق کو نظرانداز کرنے کا اختیار حاصل ہے، انتخابات جمہوریت کی زندگی ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کی دیانتداری کا ضامن ہے، الیکشن کمیشن کے آزاد انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ یا سیاسی مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کا غیرجانبدار محافظ رہنا چاہیے۔

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہاہے کہ الیکشن کمیشن کا حکومت کے حق میں جھکاؤ ظاہر ہو تو یہ سیاسی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا، انتخابی عمل کی حفاظت کا مرکز عوام کے ووٹ کا حق ہے، حق ووٹ کے استعمال سے جمہوری نظام میں طاقت اور قانونی حیثیت عوام کی مرضی سے حاصل ہوتی ہے۔

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان کے سب سے بڑے خواتین کے جیل میں بزرگ خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نظر آتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ جیل کی راہداریوں میں چلتی ہیں، کچھ خواتین واکر کا استعمال کرتی ہیں۔ یہاں کے ملازمین ان کی نہانے، کھانے، چلنے اور دوا لینے میں مدد کرتے ہیں۔لیکن یہ کوئی بزرگوں کا کیئر ہوم نہیں ہے، یہ جاپان کی سب سے بڑی خواتین کی جیل ہے۔ جیل میں موجود خواتین کی تعداد جاپان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس میں تنہائی کے مسائل بہت زیادہ ہیں، جسے گارڈز کے مطابق بعض بزرگ خواتین اتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیل میں رہنا پسند کرتی ہیں۔

    توشیگی خواتین کی جیل کے ایک افسر تاکا یوشی شیرا ناگا نے سی این این کو بتایا، "کچھ قیدی خواتین یہ کہتی ہیں کہ وہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہنا چاہتی ہیں اور اگر وہ چاہیں تو 20,000 یا 30,000 ین (130 سے 190 ڈالر) ماہانہ دینے کے لیے تیار ہیں۔” یہ بیان ستمبر میں سامنے آیا،سی این این نے توشیگی جیل کی گلابی دیواروں اور پرسکون راہداریوں میں آکیو سے ملاقات کی، جو 81 سال کی ایک قیدی ہیں۔ آکیو کھانے کی چوری کے جرم میں قید ہیں اور وہ جیل کی زندگی کو زیادہ محفوظ اور مستحکم سمجھتی ہیں۔آکیو کے مطابق، "اس جیل میں بہت اچھے لوگ ہیں، شاید یہ زندگی میرے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔”

    یہاں کی خواتین جیل میں رہ کر کارخانوں میں کام کرتی ہیں، لیکن یہ کچھ کے لیے ایک مناسب ماحول ہے جہاں انہیں باقاعدہ کھانا، مفت صحت کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی دیکھ بھال ملتی ہے، وہ ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کا ساتھ بھی پاتی ہیں جنہوں نے بیرون جیل میں ان سے تعلق توڑا ہوا ہے۔

    یوریکو، جو 51 سال کی ایک قیدی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے پچھلے 25 سالوں میں پانچ بار منشیات کے الزام میں جیل کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق جیل میں آنے والی خواتین کی عمریں بڑھتی جا رہی ہیں، اور بعض لوگ پیسوں کی کمی کے باعث دوبارہ جیل میں آنا چاہتے ہیں۔بزرگ خواتین اکثر اپنے خاندان سے علیحدگی اور غربت کا شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ آکیو نے اپنے بارے میں بتایا۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کی مالی حالت بہتر ہوتی، تو وہ کبھی بھی چوری نہ کرتیں۔ آکیو کا بیٹا جو ان کے ساتھ رہتا تھا، ان سے کہتا تھا، "میں چاہتا ہوں کہ تم چلی جاؤ۔”

    2022 میں جاپان میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ تبدیلی جیلوں کی نوعیت کو بھی بدل رہی ہے۔ جیل میں اب ان بزرگ قیدیوں کی دیکھ بھال اور ضروریات کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔مقامی حکومتیں اور وزارت انصاف اب ان بزرگ قیدیوں کی رہنمائی اور مدد کے لیے مختلف پروگرامز شروع کر رہی ہیں تاکہ ان کو جیل سے باہر بہتر زندگی گزارنے کے لیے سپورٹ فراہم کی جا سکے۔اس کے باوجود جاپان میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور کم ہوتی پیدائشوں کی وجہ سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ بزرگوں کے لیے مزید سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ جرائم کا ارتکاب نہ کریں۔ایسی صورتحال میں، توشیگی جیل میں قیدیوں کے درمیان ایک دوسرا خاندان اور معاونت کا ماحول نظر آتا ہے، جہاں ایک دوسرے کی مدد اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے ذاتی طور پر یہ کہا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ تین مختلف ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کے ساتھ کھلے ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ چین کے بارے میں سخت موقف اپنانا بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد کئی ممالک کے دورے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں بھارت بھی شامل ہے، جہاں وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ وہ چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعہ کو فون پر بات کی تھی، ٹرمپ نے شی کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت بھی دی تھی، مگر چین نے اس کی بجائے نائب صدر ہان ژینگ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹرمپ نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ امریکی صدور کو غیر ملکی حریفوں سے براہِ راست بات کرنی چاہیے، اور وہ اپنے انتخابی مہم کے دوران اکثر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کی شی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن جیسے رہنماؤں سے بہترین تعلقات ہیں۔

    ٹرمپ کے مشیر جیسن ملر نے سی این این کو بتایا، "ٹرمپ نے اپنے پہلے چار سالوں میں یہ بات بہت مؤثر طریقے سے کی کہ اگر آپ کسی ملک کے ساتھ کچھ بدلنا چاہتے ہیں، چاہے وہ دشمن ہو یا حریف ہو، یا چین کے معاملے میں، تو آپ کو ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور کہنا ہوگا، ‘یہ وہ چیز ہے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔’” ملر نے مزید کہا، "کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوست بن جائیں گے؟ نہیں، بالکل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ صدر ان کے ساتھ براہِ راست سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں۔”ایک مشیر نے سی این این کو بتایا کہ "ٹرمپ کا مقصد شی کے ساتھ سودے کرنا ہے”۔

    انہوں نے کہا، "ٹرمپ اپنے تعلقات کو چینی صدر کے ساتھ امریکی تعلقات کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔” اس مشیر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں شی کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی تھی ،”ٹرمپ نے اس بات کو اس طرح سمجھا کہ شی یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ ان کی کتنی عزت کرتے ہیں”، مشیر نے کہا، جو اس دورے میں شامل تھا۔ "وہ اس تعلقات کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔”

    شی جن پنگ نے بھی ٹرمپ کے ساتھ ایک زیادہ کھلے رویے کا اشارہ دیا ہے، جس میں نومبر میں ٹرمپ کی فتح کے بعد انہیں مبارکباد دینا شامل ہے اور کہنا تھا کہ امریکہ اور چین کو "نئے دور میں ایک دوسرے کے ساتھ مناسب طریقے سے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک اور دنیا بھر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو”۔

    چیمپئنز ٹرافی:ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے،روہت شرما

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واشنگٹن میں خطاب کےاہم نکات

  • سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس بات کی شرط رکھی ہے کہ اگر سات دن کے اندر جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جاتا تو چوتھی میٹنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہے اور اب وہ حکومت کی طرف سے پیش رفت کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عرفان صدیقی، جو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ہیں، ان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ مذاکرات کو تعطل کا شکار کریں۔ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کو پاکستان کی کامیابی سمجھتے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت کو گھبراہٹ کا سامنا ہے کیونکہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے یہی سب سے بہترین راستہ ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں تحمل اور برداشت کی ضرورت ہے اور جلد بازی کے بجائے بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے صبر سے کام لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں بہتری کے لیے ہر طرف سے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔

    آخر میں، بیرسٹر گوہر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے حوالے سے کہا کہ ٹرمپ کے دعوت نامے سرکاری سطح پر نہیں آئے بلکہ ان کے الیکشن کمیٹی ہی اس سلسلے میں فیصلہ کرتی ہے۔

    پی ٹی آئی مطالبے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کا جواب تیار

    گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

  • ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واشنگٹن میں خطاب کےاہم نکات

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واشنگٹن میں خطاب کےاہم نکات

    امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی رات واشنگٹن میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے اپنی آئندہ حکومت کے ابتدائی اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ اس موقع پر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن ہی وہ بڑے ایگزیکٹو ایکشنز کا اعلان کریں گے، جو ان کے 2024 کے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ہوں گے۔

    ٹرمپ نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ جان ایف کینیڈی، رابرٹ ایف کینیڈی، اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق تمام خفیہ دستاویزات کو عوام کے سامنے لائیں گے۔ ان دستاویزات کو اب تک حکومتوں نے خفیہ رکھا ہے، جس کی وجہ زیادہ تر زندہ خفیہ ذرائع کی شناخت کی حفاظت کرنا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ ان دستاویزات کو منظر عام پر لائیں گے تاکہ عوام کو سچ کا پتا چل سکے۔ انہوں نے کہا، "سب کچھ جاری کیا جائے گا، آپ کو جلد ہی یہ سب کچھ مل جائے گا۔”

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ٹک ٹاک ایپ امریکہ میں واپس آ چکی ہے، حالانکہ اس سے پہلے امریکی حکومت نے اس پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی کوششوں سے ٹک ٹاک دوبارہ فعال ہو گیا ہے اور یہ نوجوان نسل کے درمیان بہت مقبول ہے۔ ٹرمپ نے کہا، "ہم نے ٹک ٹاک میں جیت حاصل کی ہے، اور ریپبلکن کبھی بھی نوجوانوں کا ووٹ نہیں جیت پائے تھے۔”ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اپنے پہلے دن ہی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ٹک ٹاک پر عائد پابندی کو ختم کرنے کے لیے کام کریں گے تاکہ یہ ایپ دوبارہ امریکہ میں استعمال کی جا سکے۔

    ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے پہلے دن کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی حلف برداری کے فوراً بعد ایگزیکٹو ایکشنز پر دستخط کریں گے اور ان ایکشنز کی تعداد سو سے زائد ہو سکتی ہے۔ ان اقدامات میں توانائی کی پیداوار بڑھانے، سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنے، اور کئی اہم قوانین اور ضوابط کو واپس لینے کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "کل آپ ٹی وی پر بہت مزے سے ہمارے اقدامات دیکھیں گے۔” ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کریں گے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ان کے اقدامات امریکی عوام کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔

    "ہم نے مشرق وسطیٰ میں تاریخی جنگ بندی معاہدہ کیا”
    ٹرمپ نے اپنے دعوے کے مطابق، اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک تاریخی جنگ بندی معاہدہ کرانے کا کریڈٹ لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ان کی نومبر کی فتح کے بعد ہی ممکن ہوا۔ اس معاہدے کے تحت، اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تھی، اور اس کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کر دیا گیا۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے تین ماہ کے اندر مشرق وسطیٰ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس نے چار سالوں میں جو کچھ حاصل کیا وہ اس سے زیادہ ہے۔

    "ہم لاس اینجلس کو دوبارہ تعمیر کریں گے”
    ٹرمپ نے کیلیفورنیا میں حالیہ جنگلاتی آگ کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ کیلیفورنیا کا دورہ کریں گے تاکہ آگ سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے سکیں اور شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے اقدامات کر سکیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ 2028 کے لاس اینجلس اولمپک کھیلوں سے قبل شہر کو بہتر اور خوبصورت بنائیں گے۔انہوں نے کہا، "ہم سب مل کر لاس اینجلس کو دوبارہ بہتر بنائیں گے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم دنیا کے بہترین تعمیراتی ماہرین ہیں۔”

    ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو یہ بھی بتایا کہ وہ 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے میں ملوث افراد کے بارے میں خوش ہوں اور ان میں سے بہتوں کو معاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "کل جب آپ اس بڑے ہال میں ہوں گے، تو آپ کو میری فیصلے سے خوشی ہوگی۔”انہوں نے 6 جنوری کو ہونے والے فسادات میں ملوث افراد کو "ہوسٹیجز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کو معاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کو جنہیں تشویش کا سامنا ہے۔

    ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی حمایت کا اظہار کیا اور ایلون مسک، جو ان کی نئی حکومت میں "محکمہ حکومت کی کارکردگی” کی سربراہی کریں گے، کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ ٹرمپ نے کہا، "ہمیں اپنے ذہین لوگوں کا تحفظ کرنا ہوگا کیونکہ ہمارے پاس بہت کم ذہین لوگ ہیں، اور ایلون مسک ان میں سے ایک ہیں۔”انہوں نے ایپل کے سی ای او ٹم کک کے ساتھ بھی بات چیت کی اور کہا کہ ایپل کمپنی امریکہ میں بڑی سرمایہ کاری کرے گی۔

    ٹرمپ کی یہ ریلی ایک اور موقع تھا جہاں انہوں نے اپنے انتخابی وعدوں کو یاد دلایا اور اپنی حکومت کی پالیسیوں کی جھلک پیش کی۔ ان کے تمام اعلان اور وعدے ان کی آئندہ انتظامیہ کی سمت کو واضح کرتے ہیں، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی پہلی مدت کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    گوادر کا جدید ہوائی اڈہ، پاک چین دوستی ،عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اہم اضافہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی مطالبے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کا جواب تیار

  • پی ٹی آئی مطالبے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کا جواب تیار

    پی ٹی آئی مطالبے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کا جواب تیار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطالبے پر حکومت نے سانحہ 9 مئی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات پر جواب تیار کیا ہے جس میں 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن ایسے معاملات کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے جو عدالتوں میں زیر بحث نہ ہوں، لیکن 9 مئی کے واقعات پر مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور بعض ملزمان کو ملٹری کورٹس سے سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔ اس وجہ سے حکومت کا موقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔مزید برآں، حکومتی جواب میں پی ٹی آئی سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ 26 نومبر کے حوالے سے لاپتہ افراد کی فہرست اور گرفتار افراد کی تفصیلات فراہم کی جائیں، تاکہ ان افراد کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے نام اور تفصیلات کے بغیر ان کی رہائی کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا جا سکتا۔

    حکومتی جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، تو ان ہلاکتوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کی کمیٹی آئندہ چند دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنے تحریری جواب پیش کرے گی، جس کے بعد اسپیکر مذاکرات کے لیے چوتھے اجلاس کا فیصلہ کریں گے۔

    واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے تیسرے اجلاس میں پی ٹی آئی نے حکومت کے سامنے تحریری مطالبات پیش کیے تھے، جن میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، عمران خان سمیت دیگر پارٹی قائدین اور کارکنوں کی رہائی کے مطالبات شامل تھے۔

    بھارت،خاتون ڈاکٹرزیادتی و قتل کیس،ملزم کو عمر قید کی سزا

    عمران ایماندار تھے تو پشاور بی آرٹی کے آڈٹ پر حکم امتناع کیوں لیا، شرجیل میمن

  • بھارت،خاتون ڈاکٹرزیادتی و قتل کیس،ملزم کو عمر قید کی سزا

    بھارت،خاتون ڈاکٹرزیادتی و قتل کیس،ملزم کو عمر قید کی سزا

    بھارت: کلکتہ میں 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے ملزم کو عمر قید کی سزا

    بھارت کے شہر کلکتہ میں گزشتہ سال 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے الزام میں گرفتار ملزم سنجے رائے کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ فیصلہ 20 جنوری 2025 کو سنایا گیا، جبکہ عدالت نے سنجے رائے کو 18 جنوری کو مجرم قرار دیا تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پیش کیے گئے ثبوتوں سے ملزم سنجے رائے پر الزام ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، سی بی آئی کی طرف سے سنجے رائے کو سزائے موت دینے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے اُسے عمر قید کی سزا سنائی۔ مجرم نے عدالت میں اپنے جرم سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ بے گناہ ہے اور اسے جھوٹے الزامات میں پھنسایا گیا ہے، جبکہ اس پر الزام عائد کرنے والے دستاویزات پر زبردستی دستخط کروائے گئے ہیں۔

    عدالت نے مجرم سنجے کو اس سنگین جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ سنجے رائے نے عدالت میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ انہیں جھوٹے طور پر اس جرم میں ملوث کیا گیا ہے اور وہ "جھوٹا الزام” برداشت نہیں کر سکتے۔سی بی آئی نے کیس کی تحقیقات کی اور عدالت کو بتایا کہ یہ کیس "سب سے نایاب” (rarest of rare) نوعیت کا ہے۔ سی بی آئی کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ سنجے رائے کو موت کی سزا دی جائے تاکہ معاشرتی اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے اور ایسے جرائم کی روک تھام ہو سکے۔عدالت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انیر بن داس نے سی بی آئی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی نوعیت "سب سے نایاب” نہیں ہے، اور اس وجہ سے موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے سنجے رائے کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے اس کے علاوہ سنجے رائے پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ جج انیر بن داس نے ریاستی حکومت کو بھی ہدایت کی کہ وہ مقتول ڈاکٹر کے خاندان کو 17 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرے۔

    مقتول ڈاکٹر کی والدہ نے سی بی آئی کی تحقیقات پر شدید تنقید کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ اس کیس میں شامل دیگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک ملزم سنجے رائے کو پکڑا گیا ہے، حالانکہ اس جرم میں اور بھی لوگ ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی بی آئی نے ان دیگر مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا، "ایسے جرائم میں ملوث افراد کا معاشرے میں زندہ رہنا جرم ہے اور ان کو سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔” مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ سنجے رائے کو بائیولوجیکل ثبوتوں کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے، اور اس کے خاموش رہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ انصاف ابھی مکمل نہیں ہوا اور وہ اس کیس میں مزید لڑائی جاری رکھیں گی۔

    گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا,9 اگست 2024 کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کی تیسری منزل پر واقع سیمینار ہال سے ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی نیم برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے شہر اور بالخصوص ڈاکٹروں کے درمیان غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔واقعے کے بعد کولکتہ پولیس نے ملزم سنجے رائے کو ملزم کے طور پر حراست میں لیا، جس کے بعد مغربی بنگال میں ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کیا۔ 12 اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس کو یہ کیس جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی، اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد 13 اگست کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔

    14 اگست کو سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات شروع کی اور ایک 25 رکنی ٹیم تشکیل دی۔ اس دوران کولکتہ میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔ 16 اگست کو پولیس نے توڑ پھوڑ کے ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور 18 اگست کو سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قومی پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت بھی دی تھی۔سی بی آئی نے اس کیس میں کئی افراد کو گرفتار کیا، جن میں آر جی کر اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ 7 اکتوبر کو سی بی آئی نے سنجے رائے کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ داخل کی۔

    سنجے رائے کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 4 نومبر 2024 کو مکمل ہوئی اور مقدمے کی کارروائی 11 نومبر سے شروع ہو گئی۔ تمام ٹرائل کے دوران عدالت کا کمرہ بند رہا اور 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے والدین، سی بی آئی اور کلکتہ پولیس کے تفتیشی افسران، فارنسک ماہرین اور آر۔جی۔کار کے ساتھی ڈاکٹروں کے بیانات شامل ہیں۔مقتولہ کی لاش کی دریافت کے بعد اور سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، اس واقعے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ میڈیکل کمیونٹی، شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے سڑکوں پر آ کر متاثرہ ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا، یہ مظاہرے جلد ہی مغربی بنگال سے باہر بھی پھیل گئے اور دیگر بھارتی ریاستوں سمیت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جہاں غیر مقیم بھارتی تنظیموں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین وینے اگروال نے اس کیس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف ہم نہیں، پورا ملک اس فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو کہ ایک معروف ریاست کے معروف میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھی، کو بے دردی سے زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ حکومت کے زیر انتظام ہسپتال میں، جب وہ اپنی ڈیوٹی پر تھیں، پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ صرف میڈیکل کمیونٹی نہیں، بلکہ پوری قوم اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی۔ پورا کولکتہ، بنگال اور دیگر ریاستیں جل اُٹھیں، اور تمام میڈیکل کالجز بند کر دیے گئے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی سخت سزا کی اپیل کی ہے۔”

    عدالت کے باہر 300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے گارڈ ڈیوٹی دی جب آر جی کار ریپ اور قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجے رائے کو فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں داخل کیا گیا۔”سنجے رائے کو پھانسی دو”، "ہم اسے پھانسی چاہتے ہیں” کے نعرے عدالت کے باہر گونج رہے تھے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے علاوہ انسپکٹرز بھی موجود تھے جب سنجے رائے تین گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کی عمارت میں داخل ہوئے۔

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

  • خیرپور:  ڈکیتی  مزاحمت پر 4 افراد زخمی، ڈاکو4 بھینسیں چھین کر فرار

    خیرپور: ڈکیتی مزاحمت پر 4 افراد زخمی، ڈاکو4 بھینسیں چھین کر فرار

    خیرپور کے علاقے ببرلوکے قریب گوٹھ جنڈان میں ڈاکوؤں نے ڈکیتی کی کوشش کی، جس پر شہریوں کی جانب سے مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق، مسلح ڈاکوؤں نے جب مزاحمت کا سامنا کیا تو انہوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے، اس دوران ملزمان 4 بھینسیں بھی چھین کر فرار ہوگئے۔ زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس نے اس واقعے کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم ڈاکو ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے۔

    مقامی شہریوں نے ڈاکوؤں کی کارروائی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور قومی شاہراہ پر دھرنا دے دیا، جس کے باعث کراچی اور پنجاب جانے والی ٹریفک مکمل طور پر بلاک ہوگئی۔ احتجاجی مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    عمران ایماندار تھے تو پشاور بی آرٹی کے آڈٹ پر حکم امتناع کیوں لیا، شرجیل میمن

    پاسپورٹ کیلئے فاسٹ ٹریک کا دائرہ مزید26 شہروں تک بڑھا دیا گیا

  • عمران ایماندار تھے تو پشاور بی آرٹی کے آڈٹ پر  حکم امتناع کیوں لیا،  شرجیل میمن

    عمران ایماندار تھے تو پشاور بی آرٹی کے آڈٹ پر حکم امتناع کیوں لیا، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صحافیوں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں،

    حیدرآباد پریس کلب میں‌تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ کے اسپتالوں میں بلا امتیاز پورے پاکستان کے لوگوں کا علاج ہوتا ہے،سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں جتنی جدید سہولیات ہیں کسی اور صوبے میں نہیں،حیدرآباد کے لیے جلد ترقیاتی پیکیج لائیں گے، وہاں جلد ای وی بسیں چلائیں گے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صحافیوں کے لئے کام کئے، پاکستان بھر کے صحافیوں کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کئے، بینظیر، آصف زرداری صحافیوں کی خدمت میں پیش پیش رہے، قائم علی شاہ وزیراعلیٰ رہے تو انہوں نے بھی صحافیوں کے لئے بڑھ چڑھ کا کام کیا، کوشش کی کہ مدد کر سکیں، آزادی صحافت پر ہم یقین رکھتے ہیں،

    شرجیل میمن نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایماندار تھے تو پشاور بی آرٹی کے آڈٹ پر عدالت سے حکم امتناع کیوں لیا، فارن فنڈنگ کیس میں بانی پی ٹی آئی نے 25 اکاؤنٹس چھپائے, وفاقی حکومت کو چاہئے کہ دیگر صوبوں کی طرح یہاں بھی موٹروے بنائے،حیدرآباد اور سکھر کے درمیان فوری موٹروے بنائی جائے،

    شہر قائد میں کورونا پھیلنے کی خبریں غلط ہیں، وزیر صحت سندھ

    بائیڈن انتظامیہ کے "تباہ کن” آرڈرز کو واپس لوں گا،ٹرمپ