Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  کی حفاظتی ضمانت میں  توسیع

    پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اس وقت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں اہم مذاکراتی میٹنگ میں شرکت کے لیے گئے ہیں، جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ اس وجہ سے انہوں نے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کی حفاظتی ضمانت میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی اور ساتھ ہی علی امین گنڈاپور کو ان کے خلاف درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 فروری 2025 تک ملتوی کر دی۔

    اب تک علی امین گنڈاپور کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں ان کے خلاف کارروائی کا امکان تھا، مگر عدالت نے اس مرحلے پر ان کو گرفتاری سے بچانے کے لیے حفاظتی ضمانت فراہم کی۔

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

  • سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں آئینی بینچ نے وکیل وزارت دفاع سے کہا کہ ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا، وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزہ کے لیے دکھادیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت نے پروسیجر دیکھناہے کیا فیئرٹرائل کے ملٹری کورٹ میں تقاضے پورے ہوئے، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے لیکن ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے، نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق کے نکتے پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی،دوران سماعت سیکشن 2(1) ڈی ون درست قرار پائے جانے سے متعلق وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر قانون کےسیکشنز درست قرار پائےتو درخواستیں نا قابل سماعت ہوں گی،عدالت نے وکیل وزارت دفاع کو اپنے دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

  • آرٹیکل 191 اے کے اختیار   سے متعلق کیس ملتوی

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کاآغازکیاتو بینچ کے سربراہ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ دفتر سے غلطی ہو گئی ہے،اسی تین رکنی بنچ کے سامنے کیس فکس نہیں ہوا جس نے 13 جنوری کو کیس سنا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت سے کہا کہ ہمیں تھوڑا وقت دیں. جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پہلے پیر تو آنے دیں پھر دیکھ لیتے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں یہ سوال ہے کہ کیا آرٹیکل 191اے کے تحت ریگولر بنچ اختیار سماعت طے کر سکتا ہے یا نہیں، عدالت نے حکم لکھواتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کی جاتی ہے،

    گزشتہ سماعت 13 جنوری کو ہوئی تھی،13 جنوری کی سماعت میں جسٹس عرفان سعادت بنچ کا حصہ تھے، کیس دوبارہ فکس ہوا تو جسٹس عرفان سعادت خان کے بجائے جسٹس عقیل عباسی بنچ کا حصہ ہیں،عدالت نے اپنے حکم میں رجسٹرار سپریم کورٹ کوہدایت کی ہے کہ یہ مقدمہ اسی بنچ کے سامنے کیس لگایا جائے جس نے 13 جنوری کو کیس سنا، کیس کی سماعت 20 جنوری پیر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی.

  • سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ  میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    کیا باراک اوباما اور مشیل اوباما طلاق کے قریب ہیں؟ حالیہ خبروں کے بعد کچھ مداحوں میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ دونوں کے درمیان کچھ گڑبڑ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب یہ خبر آئی کہ مشیل اوباما اپنے شوہر کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گی۔

    باراک اور مشیل اوباما کے دفتر نے اس ہفتے ایسوسی ایٹڈ پریس کو تصدیق کی کہ "سابق صدر باراک اوباما 60ویں حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ تاہم، سابق خاتون اول مشیل اوباما اس تقریب میں شریک نہیں ہوں گی۔” اس کے علاوہ، مشیل اوباما 9 جنوری کو سابق صدر جمی کارٹر کی تدفین میں بھی موجود نہیں تھیں، اور ان کی غیر موجودگی کو ‘شیڈول میں تضاد’ کے طور پر بیان کیا گیا۔

    یہ دونوں بڑی غیر حاضریاں بعض مداحوں میں تشویش پیدا کر رہی ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "میں تو کہہ رہا ہوں، اوباما کی طلاق ہونے والی ہے۔” ایک اور نے کہا، "اوباما کی طلاق 2025 کی پیش گوئیوں میں شامل نہیں تھی، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ یہ ہو سکتی ہے۔” ایک اور نے دعویٰ کیا، "مشیل اور باراک کے درمیان اب کچھ ٹھیک نہیں ہے! وہ طلاق لینے والے ہیں! وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں!”

    تاہم، کچھ لوگ ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشیل اوباما شاید ایک سیاسی بیان دے رہی ہیں۔ ایک شخص نے لکھا، "میں ان کی شادی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، لیکن یہ واضح ہے کہ مشیل اوباما یہ غیر حاضریاں ایک خاص سیاسی مقصد کے تحت کر رہی ہیں۔ وہ جمی کارٹر کی تدفین کو طلاق کا اعلان کرنے کے لیے منتخب نہیں کر سکتیں۔”ایک اور صارف نے کہا، "مشیل اوباما اپنی والدہ کی موت پر غم میں ہیں، اور وہ سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔ لوگ ٹک ٹاک کی افواہوں پر یقین کر رہے ہیں کہ وہ اور باراک طلاق لے رہے ہیں کیونکہ مشیل نے ایک جنازہ میں شرکت نہیں کی اور ایک مجرم کی حلف برداری میں شرکت نہیں کی۔”

    باراک اور مشیل اوباما کی ملاقات 1989 میں ہوئی تھی جب دونوں شکاگو کے ایک قانون دفتر میں کام کرتے تھے، اور 1992 میں انہوں نے شادی کی۔ انہوں نے 1998 میں اپنی پہلی بیٹی مالیا اور 2001 میں دوسری بیٹی ساشا کا خیرمقدم کیا۔اگرچہ دونوں کی شادی طویل مدت سے برقرار ہے، لیکن انہوں نے اپنی مشکلات کو بھی کھل کر شیئر کیا ہے۔ جب ان کے بچے پیدا ہوئے تھے، تو وہ باراک کے چھ گھنٹے کے کام کا سفر اور اس کے طویل دوروں کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہو گئے تھے۔ باراک نے اپنی 2020 کی یادداشت ‘اے پرومسڈ لینڈ’ میں ایک موقع پر مشیل کا ذکر کیا جس میں وہ تھکن کی حالت میں کہہ رہی تھیں، "یہ وہ نہیں ہے جو میں نے سوچا تھا باراک، مجھے لگتا ہے کہ میں یہ سب اکیلے کر رہی ہوں۔”

    باراک کے صدر بننے سے پہلے مشیل کو اس بات پر اعتراض تھا کہ باراک کو صدر بننے کے لیے سیاست میں شامل ہونا چاہیے، لیکن جب وہ یہ سمجھیں کہ اس کا اثر نوجوان سیاہ فام بچوں پر پڑے گا تو وہ اس خیال کو اپنائیں۔

    اگرچہ وائٹ ہاؤس میں آٹھ سال گزارنے کے دوران دونوں کے درمیان اختلافات بھی ہوئے، لیکن وہ اپنی شادی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ باراک نے اپنی کتاب میں کہا کہ وائٹ ہاؤس کے ابتدائی سالوں میں ان کی بیوی میں ایک "دباؤ” تھا، جو "نہایت نرم لیکن مستقل” تھا۔تاہم، 2017 میں دو مدت کی صدارت کے خاتمے کے بعد، دونوں نے اپنے تعلقات کو دوبارہ استوار کیا اور ایک دوسرے کی کمپنی کا لطف اٹھایا۔ باراک نے اپنی کتاب میں لکھا کہ "ہم نے اپنے دوستوں کو دوبارہ زندہ کیا اور ایک دوسرے سے محبت دوبارہ دریافت کی۔”

    مشیل اوباما نے اپنے پوڈکاسٹ ‘دی لائٹ’ میں بھی اس بات کا ذکر کیا کہ کئی بار وہ باراک کو "کھڑکی سے باہر دھکیلنے” کے بارے میں سوچتی تھیں، لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ تعلق ختم نہیں کیا۔مشیل نے کہا، "آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ ایسے لمحات آئیں گے جب آپ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر پائیں گے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ چھوڑ دیں، اور یہ لمحات طویل عرصے تک چل سکتے ہیں۔ ہمارے درمیان بہت مضبوط شادی ہے۔ اگر میں نے اس پر ہار مان لی ہوتی، تو میں اس خوبصورتی سے محروم ہو جاتی جو اس کے اندر تھی۔”

  • یاسین ملک کی خوشدامن،مشعال ملک کی والدہ وفات پا گئیں

    یاسین ملک کی خوشدامن،مشعال ملک کی والدہ وفات پا گئیں

    حریت رہنما یاسین ملک جو اس وقت بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہیں، کی اہلیہ مشعال ملک کی والدہ ریحانہ حسین ملک وفات پا گئی ہیں

    یہ افسوسناک خبر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے قریبی ذرائع کی جانب سے فراہم کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشعال ملک کی والدہ کا انتقال ایک طویل علالت کے بعد ہوا۔مشعال ملک اور ان کے اہلِ خانہ کے مطابق ریحانہ حسین کی نمازِ جنازہ آج بروز جمعرات، 16 جنوری 2025 کو دوپہر 2 بجے اسلام آباد کے ایچ 11 قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

    ریحانہ حسین ملک کے انتقال پر کشمیر اور پاکستان میں سیاسی و سماجی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب اس وقت غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔یاسین ملک بھارتی جیل میں قید ہیں، انہیں مشعال ملک کی والدہ کی وفات کی اطلاع نہیں دی جا سکی،

  • ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

    کراچی: حکومت سندھ نے بیکار اور غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کو ایک ماہ کے اندر نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔

    اس حوالے سے سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کا ایک اہم اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جس کی صدارت سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کی۔اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ضیا الحسن لنجار، علی حسن زرداری اور مختلف محکموں کے سیکریٹریز نے بھی شرکت کی۔ کمیٹی ممبران نے سرکاری گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے واضح گائیڈ لائنز وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔اجلاس میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بیکار گاڑیوں کی نیلامی کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا تاکہ مزید وسائل کا ضیاع نہ ہو اور نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے درکار فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ای وی (الیکٹرک وہیکلز) گاڑیوں کی خریداری حکومت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی، کیونکہ اس سے پیٹرول اور ڈیزل کے اخراجات میں کمی آئے گی اور ان گاڑیوں کی نیلامی بھی زیادہ آسان ہوگی۔شرجیل انعام میمن نے سرکاری گاڑیوں کے غیر مجاز استعمال پر سختی سے تنقید کی اور کہا کہ حکومتی احکامات کے تحت گاڑیاں فوری طور پر واپس کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیر تعلیم سعید غنی نے بیکار گاڑیوں کی بروقت نیلامی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے اضافی گاڑیاں واپس کر دیں تاکہ ان گاڑیوں کو نیلام کیا جا سکے اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم نئی گاڑیوں کی خریداری میں استعمال ہو سکے۔

    ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کے پیسوں کا ضیاع نہ ہو اور تمام محکمے اپنی ضرورت کے مطابق گاڑیاں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومتی پالیسیوں کی سختی سے تعمیل کی جائے گی اور تمام محکمے تیزی سے اس عمل میں تعاون کریں گے۔

    علی حسن زرداری نے کہا کہ ای وی گاڑیاں خریدنے سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی بچت ہوگی بلکہ یہ ماحول دوست بھی ہیں اور ان کی نیلامی میں بھی آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں مکمل طور پر شفاف نیلامی کو یقینی بنائے گی۔

    انیل مسرت،صاحبزادہ جہانگیر کو پی ٹی آئی پروگرام میں نہ گھسنے دیا گیا،صحافیوں پر بھی پابندی

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • انیل مسرت،صاحبزادہ جہانگیر کو پی ٹی آئی پروگرام میں نہ گھسنے دیا گیا،صحافیوں پر بھی پابندی

    انیل مسرت،صاحبزادہ جہانگیر کو پی ٹی آئی پروگرام میں نہ گھسنے دیا گیا،صحافیوں پر بھی پابندی

    پاکستان میں بحران کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ کی عمارت میں ایک اہم بریفنگ کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں جاری سیاسی حالات اور جمہوریت کے تحفظ پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس تقریب کا اہتمام "فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان یوکے” نے کیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنماؤں سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔تاہم پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں اور صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہ ملی

    تقریب میں شہزاد اکبر، اظہر مشوانی، ذلفی بخاری اور دیگر سیاسی شخصیات نے خطاب کیا، جبکہ برطانوی پارلیمنٹ کے بعض اراکین بھی موجود تھے۔ تاہم، رپورٹس کے مطابق اس بریفنگ کے دوران تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر کو تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا، جس کے بعد تقریب بدنظمی کا شکار ہو گئی۔ اس دوران متعدد صحافیوں کو بھی شرکت سے روکا گیا، جس نے اس تقریب کے ماحول کو متاثر کیا۔

    برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ ڈین ہینن نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان میں تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ملک میں جمہوریت کی فضا قائم ہو سکے۔

    تقریب کے اختتام پر صحافیوں کے ایک گروپ نے منتظمین سے احتجاج کیا، جس کا مقصد ان افراد کو تقریب میں شرکت سے روکنے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرنا تھا۔ صحافیوں نے اس اقدام کو غیر جمہوری اور آزادی صحافت کے خلاف قرار دیا۔

    بزنس ٹائیکون انیل مسرت اور عمران خان کے جگری دوست صاحبزادہ جہانگیر کو پی ٹی آئی کی تقریب میں دو بار کوشش کے باوجود بھی گھسنے نہیں دیا گیا ،تو وہیں صحافیوں کو بھی نہیں جانے دیا گیا جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا ، پی ٹی آئی کی جانب سے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ پر مبنی تقریب کی وجہ سے صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی، برطانیہ سے خاتون صحافی سفینہ خان نے ایکس پر ویڈیو شیئر کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر ہال میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کو ہال میں نہیں جانے دیا گیا، سفینہ خان کا کہنا تھا کہ انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر جو عمران خان کے قریبی ہیں اور یہاں لندن میں وہ پروگراموں کی قیادت کرتے تھے آج ان کو پی ٹی آئی پروگرام میں ہی داخل نہیں ہونے دیا گیا، دروازے بند کر دیئے گئے،

    ڈاکٹر شمع جونیجو ایکس پر لکھتی ہیں کہ آج برطانوی پارلیمنٹ کے ایک کمیٹی روم میں پاکستان میں ہیومن رائٹس کی پابندیوں کا رنڈی رونا رونے والے زلفی بخاری نے اپنی ہی پارٹی پی ٹی آئی کے بانی سینئر رہنماؤں کے ایونٹ میں داخلے پر پابندی لگوا دی ،یہ تو حالت ہے ان کی اپنی tyranny اور fascism کی-

    سفینہ خان کا کہنا تھا کہ صحافی جو بہت سارے جن کو دعوت نہیں ملی تھی، زلفی بخاری اور دیگر نے انکو اندر جانے دیا، کسی صحافی کو اندر نہیں جانے دیا گیا، مرتضیٰ علی شاہ اندر گئے ، خوف یہ تھا کہ ہم پاکستان کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو ایکسپوز کریں گے، اسلئے ہمارے نام لے کر کہا گیا کہ ہمیں اندر نہیں جانے دیں گے، میڈیا سے خوف تھا، مرتضیٰ علی شاہ کو بھی دعوت نہیں تھی لیکن وہ اندر گئے، دو صحافی انوائیٹڈ تھے آفیشلی پتہ نہیں وہ پی ٹی آئی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،

    ایک اور صحافی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ ہو رہا ہے، برطانوی پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں ،بطور پرائیویٹ ایونٹ پی ٹی آئی نے پروگرام کیاکوئی سوال نہ کرے اس لیے صحافیوں کو نہیں جانے دینا، بغیر دعوت نامے کے لوگ گئے ، صحافیوں کو باہر بھیجنے کا کہا گیا، ہم نے یہاں احتجاج کیا، جس پر آرگنائزر نے سیکورٹی بلا لی اور کہا کہ انکو واپس بھیجیں، پارلیمنٹ کی کمیٹی روم میں آج جو کچھ ہوا ٹارگٹ کر کے پی ٹی آئی نے صحافیوں کو باہر نکلوایا تا کہ جو پروپیگنڈہ ہونا ہے اسکو پھیلایا جا سکے،

    https://x.com/BaaghiTV/status/1879772988758949939

    آرگنائزر سفینہ فیصل نے پروگرام آرگنائزر تھیں، سفینہ فیصل سے صحافیوں نے سوال کئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیئے، انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر کو نکالے جانے پر انہوں نے کہا کہ وہ لیٹ ہو گئے جس وجہ سے سیکورٹی نے انہیں اندر نہیں جانے دیا،30 اراکین پارلیمنٹ تھے،

  • بالی وڈ اداکار سیف علی خان  کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

    ممبئی: بالی وڈ کے مشہور اداکار سیف علی خان اور ان کی اہلیہ کرینہ کپور کے گھر میں گزشتہ رات ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جس کے دوران سیف علی خان زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ بھارتی شہر ممبئی کے علاقے باندرا میں اداکار کے رہائشی گھر پر پیش آیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ رات کے تقریباً 2:30 بجے پیش آیا، جب ایک نامعلوم شخص چوری کی نیت سے سیف علی خان کے گھر میں داخل ہوا۔ سیف علی کے گھر میں گھسنے والا گھر کے عملے کو جانتا تھا،ان کے عملے سے جھگڑا ہو رہا تھا، جب سیف علی خان یہ دیکھنے آئے تھے کہ کیا ہو رہا ہے اور اس تصادم کے دوران سیف علی خان پر چاقو سے حملہ کیا گیا، سیف علی خان کے گلے پر 10 سینٹی میٹر گہرا زخم آیا، انہیں ہاتھ اور پیٹھ پر بھی شدید چوٹیں آئیں اور ان کی پیٹھ میں ایک نوک دار چیز گھسی ہوئی تھی جسے لیلاوتی اسپتال میں فوری سرجری کے ذریعے نکالا گیا،ڈاکٹر نیرج اُتمانی، جو لیلاوتی اسپتال کے سی او او ہیں، نے بتایا کہ سیف علی خان کو چاقو کے چھ زخم آئے، جن میں سے دو کافی گہرے تھے، اور ایک زخم ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب تھا۔ ڈاکٹروں نے سیف علی خان کی سرجری کی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزم کی شناخت کے لیے گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گھر والوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

    کرینہ کپور کی ٹیم نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ "سیف علی خان اور کرینہ کپور کے گھر میں گزشتہ رات ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جسے اداکار نے مزاحمت کرکے ناکام بنا دیا۔ سیف کو شدید چوٹیں آئی ہیں، تاہم کرینہ اور دونوں بچے محفوظ ہیں۔” کرینہ کی ٹیم نے مداحوں سے درخواست کی کہ وہ پریشان نہ ہوں اور صرف پولیس یا ان کی ٹیم کے جاری کردہ بیانات پر یقین کریں۔

    اداکار سیف علی خان نے بھی اپنے مداحوں سے ایک پیغام جاری کیا جس میں کہا، "مداحوں سے میری درخواست ہے کہ وہ فکر نہ کریں، اور اطمینان رکھیں۔ میں ٹھیک ہوں اور جلد صحت یاب ہوجاؤں گا۔”

    سیف علی خان پر حملہ،مقدمہ درج، تحقیقات کے لئے 7 ٹیمیں تشکیل
    سیف علی خان اور کرینہ کپور اپنے دو بچوں کے ساتھ باندرا کے ایک عالیشان گھر میں رہائش پذیر ہیں، اور اس واقعے کے دوران ان کے بچے اور کرینہ محفوظ رہے۔یہ واقعہ نہ صرف سیف علی خان کے مداحوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا بلکہ بھارتی میڈیا میں بھی یہ خبریں وائرل ہو گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے ملزم کی جلد گرفتاری کی امید کی جا رہی ہے۔باندرہ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔سيف اور کرینہ، جو 2012 سے شادی شدہ ہیں، ممبئی کے باندرا ویسٹ میں ستگرو شرن عمارت میں رہتے ہیں۔ جوڑے کے دو بیٹے – تیمور (8) اور جہ (4) بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ پولیس نے اس حملے کی تحقیقات کے لیے 7 ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، سیف علی خان کے گھر کی سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے

    سیف علی خان کے گھر خاتون ملازمہ بھی زخمی ہوئی،پولیس
    بھارتی پولیس کے مطابق، یہ واقعہ رات کے تقریباً تین بجے پیش آیا۔ بھارتی پولیس کے افسر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمیں رات 3 بجے سیف علی خان کے گھر پر حملے کی اطلاع ملی تھی، جس پر فوراً پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور سیف علی خان کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا۔” پولیس نے مزید بتایا کہ سیف علی خان کے علاوہ ان کی خاتون ملازمہ پر بھی حملہ کیا گیا تھا لیکن اب وہ حالت میں بہتری محسوس کر رہی ہیں۔اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سیف علی خان کے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، خاص طور پر کرینہ کپور اور سیف کے دونوں بیٹوں کے حوالے سے۔ تاہم، تازہ ترین معلومات کے مطابق، سیف علی خان اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں، جب کہ ان کی اہلیہ کرینہ کپور اور دونوں بیٹے، جے اور تیمور، محفوظ ہیں۔حملے کے وقت کرینہ اور ان کے دونوں بیٹے اپنے والد کے ساتھ باندرا والے گھر میں موجود تھے، مگر بدھ کی رات کرینہ اپنی بہن کرشمہ کپور کے گھر پر تھیں۔ اس وقت وہ وہاں موجود تھیں جب حملہ ہوا۔

  • انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ، ایک طرف کشمیر میں ریاستی سطح پر مظالم اور دوسری طرف ہمسایہ ممالک میں دراندازی، ہندوستان کا یہ بدنماچہرہ ساری دنیا دیکھ چکی ہے، پاکستان پر الزامات لگاتے ہوئے انڈین آرمی چیف یہ بھول گے کہ کلبھوشن نیٹ ورک ہندوستان کے اصل چہرے سے نقاب ہٹانے کیلئے کافی ہے،مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کی محرومیوں اور حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑے گی،بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے عوام آج بھی بنیاد ی سہولیات سے محروم ہیں،ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی عشرہ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز سے منایا جائے گا، بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، شہ رگ کا سودا نہ کوئی کر سکتا ہے اور ہونے دیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ بلوچستان کے موقع پر کوئٹہ میں مرکزی مسلم لیگ کے صوبائی سیکریٹریٹ میں تنظیمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی صدر سردار امجد اسلام سمیت ضلعی صدور اور شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔

    خالد مسعود سندھو نے اجلاس میں پارٹی کی جاری رکنیت سازی مہم کا جائزہ لیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی رکنیت سازی مہم ملک بھر میں جاری ہے، بلوچستان کے عوام کو مرکزی مسلم لیگ کا حصہ بنانے کیلئے خصوصی توجہ دی جارہی ہے،مرکزی مسلم لیگ رکنیت سازی مہم کے ذریعے بلوچستان سمیت ملک بھر سے نوجوان قیادت کو آگے لانے کیلئے پرعزم ہے،خالد مسعود سندھو کا پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں عشرہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے اس کا سودا کسی صورت قبول نہیں،کشمیر میں ہونے والے بھارتی ریاستی مظالم ہوں یا کشمیر یوں سے بے وفائی کرنے والے پاکستانی حکمران کشمیر کے سب مجرموں کو کٹہرے لایا جانا چاہئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور پوری پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی میں ہر طرح سے ان کے ساتھ کھڑی ہے،

    خالد مسعود سندھو نے کہا کہ بلوچستان اور کشمیر کے لوگ ان کے دل کے بہت قریب ہیں،بلوچستان کی محرمیوں کو ختم کرنے کیلئے اور مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت خدمت کے منصوبہ جات پر کام کر رہے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا روزگار سہولت پروگرام اسی کا حصہ ہے،بلوچستان کے نوجوانوں کو فری آئی ٹی سکلز سیکھا کر اور روزگار کیلئے سہولتیں پیدا کر کے اپنے حصے کاکام کر رہے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے حقوق کیلئے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھے گی۔

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مہم،عمران ریاض،شہباز گل پر مقدمہ،تین ملزمان گرفتار

    بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد   ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو راولپنڈی حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، مقدمے میں نامزد ملزمان شیخ رشید، فواد چوہدری اور راجا بشارت و دیگر بھی پیش ہوئے،اس دوران استغاثہ کے 4 چشم دید گواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا، جن میں راولپنڈی پولیس کے اے ایس آئی ثاقب، کانسٹیبل شکیل، سجاد اور یاسر شامل ہیں،گواہان نے ملزمان سے برآمد ہونے والے ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے اور بتایا کہ ملزمان سے برآمد اینٹی رائٹ فورس سے چھینا ہیلمٹ اور پیٹرول بم شامل ہیں،عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں شہدا کے مجسموں کے برآمد ٹکڑے، موبائل فونز، ڈنڈے، جھنڈے، پی ٹی آئی ٹوپیاں، تاریں اور ماچس شامل ہیں،عدالت کی سماعت کے دوران ملزم سے برآمد موبائل فون عدالت میں پیش کرنے کے دوران آن نکلا۔

    گواہان نے کمرہ عدالت میں موجود راجا بشارت سمیت کئی ملزمان کی نشاندہی کی اور بتایا کہ راجہ بشارت نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کو لیڈ کیا،گواہان نے عدالت کے روبرو کہا کہ راجہ بشارت مظاہرین کو اکساتے رہے کہ بانی کی گرفتاری کا بدلہ فوج سے لینا ہے،دوران سماعت کمرہ عدالت میں ملزمان، وکلاء، پراسیکیوشن اور میڈیا نمائندوں سے بھرا رہا، وکلا صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،عدالت نے ملزمان کے شور کے باعث ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا اور انہیں وارننگ دی، گواہان کی شہادت بھی ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے ہی ریکارڈ کی گئی،دوران سماعت 3 گواہان کی شہادت ریکارڈ ہونے تک بانی پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں موجود رہے، آئندہ سماعت پر عدالت نے استغاثہ کے پانچ مزید گواہ طلب کر لیے اور سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی

    کیس کی سماعت کے بعد فیصل چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کے ٹرائل میں آج 9 مئی کو ضبط کیا گیا موبائل فُل چارج حالت میں سیل بند لفافے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ میں حیران ہوں ایسی کمپنی پر کہ جس کی بیٹری آج 2 سال بعد بھی چل رہی ہے،

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند