Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی میں خصوصی بچوں کے لیے تین روزہ سندھ اسپیشل گیمز کا آغاز

    کراچی میں خصوصی بچوں کے لیے تین روزہ سندھ اسپیشل گیمز کا آغاز

    کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں خصوصی صلاحیت رکھنے والے بچوں کے لیے تین روزہ "سندھ اسپیشل گیمز” کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں کراچی کے 12 سو سے زائد خصوصی بچوں نے حصہ لیا، جو مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر نے سیکریٹری کھیل کے ہمراہ سندھ اسپیشل گیمز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، اور اسپیشل بچوں کے لیے یہ گیمز ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ایک اہم موقع ہیں۔سندھ اسپیشل گیمز میں مختلف کھیلوں کا انعقاد کیا گیا ہے، جن میں ایتھلیٹکس، آرتھری، بیڈمنٹن، تائیکوانڈو، ٹینس، فٹبال اور دیگر گیمز شامل ہیں۔ ان کھیلوں میں شرکت کرنے والے بچے اپنے غیر معمولی ہنر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے اسپیشل بچوں کے لیے کھیلوں کے مزید مواقع فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ "سندھ حکومت تھر جیب ریلی، تھر اسپورٹس فیسٹول اور دریائے سندھ پر کھیلوں کے انعقاد کا منصوبہ بنا رہی ہے۔”انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم سالانہ کیلنڈر میں اسپیشل گیمز کو مستقل طور پر شامل کریں گے تاکہ ان بچوں کو ہر سال اپنے ٹیلنٹ کو مزید بڑھانے کا موقع مل سکے۔” وزیر کھیل سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ اسپیشل بچے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے کھیل کا مظاہرہ کریں۔ سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ "ہماری کوشش ہے کہ اس سال اسپیشل گیمز کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے۔” سردار محمد بخش مہر نے سندھ میں کھیلوں کے مزید فروغ کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔ ان میں اکیسویں فروری کو "اکیسویں صدی میں نوجوانوں کے چیلنجز” پر ایک کانفرنس کا انعقاد، گھوٹکی میں اسپورٹس فیسٹیول اور تھر اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد شامل ہیں۔سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ سترہ سال بعد نیشنل گیمز کی میزبانی سندھ کرے گا۔ اس کے علاوہ، سندھ میں پہلی بار ای اسپورٹس کو بھی پذیرائی دی جائے گی، تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نوجوانوں کو اپنے ہنر کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے۔

    کراچی کے 30 سے زائد ادارے اور 1200 سے زائد خصوصی بچے ان کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر کھیل سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں میں بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے صوبے کا نام روشن کر سکیں۔سردار محمد بخش مہر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پنجاب کے کھلاڑی بھی سندھ آ کر یہاں ہونے والے کھیلوں میں حصہ لیں تاکہ کھیلوں کے میدان میں ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع مل سکے۔سندھ اسپیشل گیمز کا انعقاد ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف خصوصی بچوں کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ سندھ حکومت کے کھیلوں کے فروغ کے عزم کو بھی تقویت ملے گی۔

    الیکٹرک گاڑیوں کیلیے خصوصی 44 فیصد کم رعایتی ٹیرف تاریخ ساز پیکج ہے ، وزیراعظم

    امریکا کے گہرے اور پراسرار پہاڑ جہاں آدم خور بونوں کا بسیرا ہے

  • سوال یہ نہیں کہ یونیورسٹی کیوں بنائی، سوال یہ ہے کہ کیسے بنائی،مریم نواز

    سوال یہ نہیں کہ یونیورسٹی کیوں بنائی، سوال یہ ہے کہ کیسے بنائی،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سب سے خوبصورت یادیں وہ ہوتی ہیں جب آپ مجھے ماں کہہ کر بُلاتے ہو، میں آپ کو جنید، ماہ نور اور مہرالنسا کی طرح دیکھتی ہوں، ماں کی نظر سے آپ کو دیکھتی ہوں،

    سیالکوٹ میں‌تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ لڑکیوں سے بھی خطاب کرے ،لڑکے ہاتھ اٹھا دیں،یہاں تو بہت سے لڑکے ہیں، لڑکیوں نے لڑکوں کی بولتی بند کی ہوئی ہے،لڑکے بھی مجھے بہت عزیز ہیں کیونکہ آپ کے ہاتھ میں میرے وطن کا پرچم ہے،میں دو دفعہ ڈیتھ سیل میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ میں قید رہی، میرے پاس جائے نماز تھی اور میں تھی، میں کبھی نہیں روئی، مجھے یہ ضرور پتہ تھا کہ اللہ مجھے جن دشوار گزار راستوں سے گزار کر لے جا رہا ہے یہ بلاوجہ نہیں ہے، مخالفین کا شکریہ ،آپ نے سیاست کو میرٹ کی نظر سے دیکھنا ہے، یہ فیصلہ آپ کا ہے، ترقی کا ساتھ دینا ہے یا کسی کے بہکاوے میں آکر جیلوں میں جانا ہے،میں نے جس طرح پنجاب سے کوڑے کے ڈھیر ختم کرائے ہیں ناں، یہ میں جانتی ہوں یا میرا خدا جانتا ہے،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ آج کل بہت سے نوجوانوں کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہیں، ان لوگوں نے کہا آگ لگا دو، توڑ دو، آگ لگانے کی بات ملک دشمن ہی کر سکتا ہے،حکومت کسی کی بھی ہو پاکستان تو آپ کا ہے، اسلام آباد میں پولیس والوں کو کیلوں والے ڈنڈوں سے مارا گیا، کوئی قوم اپنے قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے؟ اسکالرشپس دیتے ہوئے کبھی نہیں پوچھا کہ آپ کون سی پارٹی سے ہیں، آپ کسی پارٹی سے بھی تعلق رکھتے ہیں، آپ میری ذمے داری ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جلد ایک لاکھ لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لیپ ٹاپ کی پہلی شپ منٹ آگئی ہے، جن بچوں کی 65 فیصد سے زیادہ نمبرز ہیں ان سب کو لیپ ٹاپ ملیں گے، اگلی بار آؤں گی تو لیپ ٹاپ لے کر آؤں گی،انہوں نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کا کیس چل رہا ہے اس کا فیصلہ آنے والا ہے، سوال یہ نہیں کہ یونیورسٹی کیوں بنائی، سوال یہ ہے کہ کیسے بنائی، سوال کا جواب دو اور گھر چلے جاؤ۔

    یہ پِلر کے پیچھے کون بچی ہے جس نے میری تصویر اٹھائی ہوئی ہے، ہائو سویٹ، میں یہاں نہ آتی تو مجھے کیسے پتہ چلتا یہاں یہ والی بچیاں بھی ہیں، ہائو نائس، مریم نواز نے تصویر اٹھائے طالبات کو سٹیج پر بلا لیا۔

    الیکٹرک گاڑیوں کیلیے خصوصی 44 فیصد کم رعایتی ٹیرف تاریخ ساز پیکج ہے ، وزیراعظم

    لاس اینجلس ، آسکرز ایوارڈز تقریب منسوخ ہونے کا امکان

  • الیکٹرک گاڑیوں کیلیے خصوصی 44 فیصد کم رعایتی ٹیرف  تاریخ ساز پیکج ہے ، وزیراعظم

    الیکٹرک گاڑیوں کیلیے خصوصی 44 فیصد کم رعایتی ٹیرف تاریخ ساز پیکج ہے ، وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی پر تفصیلی بحث کی گئی، جسے وزیراعظم نے انتہائی خوش آئند قرار دیا۔وزیراعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 44 فیصد کم رعائیتی ٹیرف ایک تاریخی اقدام ہے جس سے نہ صرف عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ انہوں نے اس پالیسی کی کامیابی کے لیے وفاقی وزیر پاور اور ان کی ٹیم کی بھرپور کاوشوں کی تعریف کی۔انہوں نے مزید کہا کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال سے پٹرول اور ڈیزل کی درآمدات میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں زر مبادلہ کی بچت ہو گی اور ماحول دوست سفری سہولتیں فراہم ہوں گی۔وزیراعظم نے الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے نئی حکومتی پالیسی کی بھرپور تشہیر اور آگہی مہم چلانے کی ہدایت دی تاکہ عوام میں اس پالیسی کے فوائد اور اہمیت کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز پر فی یونٹ بجلی کی قیمت 71 روپے سے کم ہو کر 39.70 روپے فی یونٹ کر دی جائے گی، جس سے سفری اخراجات میں تین گنا کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ، پیٹرول اور دیگر ایندھن پر انحصار کم ہونے کے باعث زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوگی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے مُضر صحت گیسوں کے اخراجات میں کمی آئے گی، جس سے فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی واقع ہو گی۔وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ رعائتی بجلی نرخ اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے نئے ریگولیشنز کے نفاذ سے نئے کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے نہ صرف ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کیا جائے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے ضوابط وضع کیے گئے ہیں جن کے تحت 15 دن کے اندر رجسٹریشن اور کاروبار کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ملک میں تاریخ کے پہلے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے بھی قواعد و ضوابط مرتب کیے گئے ہیں۔چارجنگ اسٹیشنز کے لیے آسان ریگولیشنز وضع کیے گئے ہیں تاکہ مسابقتی مارکیٹ کو یقینی بنایا جا سکے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ نییکا ادارہ چارجنگ اسٹیشنز کے تحفظات کو یقینی بنائے گا اور ہر اسٹیشن کی سالانہ انسپکشن بھی کی جائے گی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور سردار اویس احمد لغاری، وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔یہ اجلاس پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور اس سے جڑے مختلف اہم اقدامات کی تیز رفتار تکمیل کی جانب ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔

    غیرشادی شدہ جوڑوں کو ہوٹل میں کمرہ ملنا اب "ناممکن”

    لاس اینجلس ، آسکرز ایوارڈز تقریب منسوخ ہونے کا امکان

  • غیرشادی شدہ جوڑوں کو ہوٹل میں کمرہ ملنا اب "ناممکن”

    غیرشادی شدہ جوڑوں کو ہوٹل میں کمرہ ملنا اب "ناممکن”

    بھارت میں غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے پرائیویسی حاصل کرنا ایک مشکل کام بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر جب بات ہوٹلوں میں کمرے بک کرنے کی۔ جوڑا، جو شہر میں مقیم ہو، اکثر ہوٹلوں سے کمرے بک کرنے میں ناکام رہتا ہے کیونکہ زیادہ تر ہوٹلوں میں غیر شادی شدہ جوڑوں کو کمرہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔

    اسی وجہ سے، ایک بھارتی شہر میں ایک ہوٹل بکنگ پلیٹ فارم کی پالیسی میں تبدیلی نے ملک کے اندر اور باہر بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔یہ سب جنوری کے شروع میں شروع ہوا جب OYO رومز نے میرٹ میں اپنے پارٹنر ہوٹلوں کے لیے "نئے چیک ان ہدایات” جاری کیں۔ ان ہدایات کے تحت، ہوٹلوں کو غیر شادی شدہ جوڑوں کی بکنگ رد کرنے کا اختیار دیا گیا۔OYO کی اس پالیسی میں تبدیلی نے آن لائن شدید تنقید کا سامنا کیا کیونکہ OYO نے ہمیشہ غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر خود کو پیش کیا تھا۔

    OYO نے 2012 میں اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا اور شروع میں اس نے اپنی ویب سائٹ اور ایپ پر ہوٹلوں کو "کپل فرینڈلی” (جوڑوں کے لیے دوستانہ) کے طور پر نشان زد کیا تھا تاکہ غیر شادی شدہ جوڑوں کو کمرے مل سکیں۔ OYO کے اس اقدام نے غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک نیا راستہ کھولا، اور اس کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی اسی راہ پر چلنا شروع کیا۔لیکن OYO کی پالیسی میں یہ تبدیلی، چاہے وہ چھوٹی ہو، بھارت میں روایتی اقدار اور جدید سماج کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

    OYO کے 2024 میں جاری ہونے والے ایک اشتہار میں ایک شادی شدہ جوڑا اپنے والدین کو بتا رہا ہوتا ہے کہ انہوں نے OYO میں کمرہ بک کیا ہے اور انہیں اپنے ساتھ مزے کرنے کے لیے بلایا۔ یہ اشتہار اکثر سوشل میڈیا پر اس بات کی نشاندہی کی جاتی ہے کہ OYO اب خود کو خاندان دوست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    شگوفہ کاپڈیا، جو بھارتی یونیورسٹی میں انسانی ترقی اور خاندانی مطالعات کی پروفیسر ہیں، نے کہا کہ بھارت میں ثقافت میں ہمیشہ خاندان کو جوڑے پر ترجیح دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، ہوٹلوں کی پالیسی میں تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت میں روایتی اقدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    بھارت میں ہم جنس جوڑوں کو قانونی طور پر شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور ہوٹلوں میں ان جوڑوں کو رہائش فراہم کرنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک 25 سالہ میڈیا پروفیشنل، جو اپنے پارٹنر کے ساتھ OYO میں قیام کے دوران نظر انداز ہونے کا سامنا کر چکی ہیں، نے بتایا کہ ہوٹل کا عملہ ان پر منفی نگاہ ڈال رہا تھا۔

    OYO کے اس فیصلے کے باوجود، کچھ ہوٹل مالکان نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ہوٹلوں میں غیر شادی شدہ جوڑوں کو رہائش فراہم کی جائے گی۔ ایک ہوٹل کے مالک نے کہا، "جب تک ہائی کورٹ کا حکم نہ ہو، ہم کسی جوڑے کو صرف اس بنیاد پر نہیں روک سکتے کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں۔”

    بھارت میں غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے ہوٹلوں میں قیام کا حق آئینی طور پر محفوظ ہے، لیکن کئی بار ہوٹل مالکان پولیس یا مقامی حکام کی حمایت سے ان جوڑوں کو کمرہ دینے سے انکار کرتے ہیں۔ 2015 میں ممبئی کے قریب ہوٹلوں پر پولیس نے چھاپے مارے تھے اور کئی جوڑوں کو پکڑ لیا تھا، لیکن بمبئی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں آئین کی خلاف ورزی ہیں۔بھارت میں غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے پرائیویسی اور ہوٹل میں قیام کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ OYO کی پالیسی میں تبدیلی اس بات کا غماز ہے کہ ملک میں ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کے باوجود، روایتی اقدار کا اثر بدستور برقرار ہے۔

    لاس اینجلس ، آسکرز ایوارڈز تقریب منسوخ ہونے کا امکان

    ایلون مسک مشکل میں، ٹویٹر شیئرز کی خریداری پرسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں مقدمہ

    او یو نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ میرٹھ شہر میں ہوٹلوں میں چیک ان کرنے والے جوڑوں سے شادی کا ثبوت طلب کرے گا۔ میرٹھ دہلی سے تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع ہے۔او یو نے ایک بیان میں کہا، "نئی پالیسی کے تحت غیر شادی شدہ جوڑوں کو اب چیک ان کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام جوڑوں سے چیک ان کے وقت کے دوران اپنے رشتہ کے ثبوت کی درخواست کی جائے گی، چاہے وہ آن لائن بکنگ ہو یا کسی اور طریقے سے کی گئی ہو۔ او یو نے اپنے شراکت دار ہوٹلوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جوڑوں کی بکنگ کو اپنے اجتماعی فیصلہ کی بنیاد پر رد کر دیں، تاکہ مقامی سماجی حساسیت کے مطابق عمل کیا جا سکے۔”

    یہ پالیسی تبدیلی مقامی ہوٹل مالکان کی درخواستوں پر کی گئی تھی، جنہوں نے غیر شادی شدہ جوڑوں کو داخلے کی اجازت دینے کے فیصلے میں ہوٹلوں کو اختیار دینے کا مطالبہ کیا تھا، جو او یو نے پہلے نہیں دیا تھا۔او یو نے کہا کہ اس پالیسی کا اطلاق میرٹھ میں کیا گیا ہے اور یہ دوسرے شہروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔”او یو نے اپنے شراکت دار ہوٹلوں کو فوری اثر کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ زمین پر موصول ہونے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر کمپنی اس پروگرام کو مزید شہروں میں بھی پھیلانے کا فیصلہ کر سکتی ہے،” او یو کے بیان میں کہا گیا۔

    او یو کی ویب سائٹ کے مطابق، میرٹھ میں کمپنی کے 16 ہوٹل ہیں۔ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن آف ویسٹرن انڈیا کے سیکریٹری پرادپ شیٹی نے کہا کہ اگرچہ ہوٹلوں کو گاہکوں سے ان کی شناختی دستاویزات طلب کرنے کا حق حاصل ہے، مگر غیر شادی شدہ جوڑوں کو کمروں کی فراہمی سے انکار کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔شیٹی نے کہا، "ہر ہوٹل مالک کی اپنی پالیسی ہو سکتی ہے کہ وہ کس قسم کے گاہکوں کو چیک ان کی اجازت دینا چاہتے ہیں، لیکن عام طور پر کسی بھی قسم کی تفریق نہیں ہوتی۔ ہوٹلوں کو یہ بھی یقین دہانی کرنی چاہیے کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں نہیں ہو رہیں۔”شیٹی نے اس طرح کی پالیسیوں کے قانونی اثرات پر بھی روشنی ڈالی، اور ممبئی میں 2015 میں ہونے والے ایک کیس کا ذکر کیا جس میں اخلاقی پولیسنگ کی وجہ سے عدالت نے فیصلہ سنایا تھا۔

    او یو اپنی ویب سائٹ پر واضح طور پر کہتا ہے کہ ملک میں غیر شادی شدہ جوڑوں کے ہوٹل میں رہنے کے خلاف کوئی قومی قانون نہیں ہے: "ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں جو غیر شادی شدہ جوڑوں کو ایک ساتھ رہنے یا ہوٹل میں چیک ان کرنے سے روکتا ہو۔ تاہم، جوڑوں کا چیک ان کرنا ہوٹل مالکان یا مینیجرز کی صوابدید پر ہوتا ہے۔” ویب سائٹ پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہمانوں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہونی چاہیے اور انہیں درست شناختی دستاویزات فراہم کرنی ہوںگی۔

    او یو نے 2016 میں غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک خاص سہولت متعارف کرائی تھی۔ او یو کے اس وقت کے چیف گروتھ آفیسر، کاوکرت نے ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ 2016 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا، "بھارت میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو ہوٹلوں کو غیر شادی شدہ مہمانوں کو ٹھہرانے سے روکتا ہو، لیکن کچھ ہوٹلوں کے چیک ان کے مخصوص معیار ہو سکتے ہیں۔ ہم نے اسے زیادہ شفاف اور آسان بنا دیا ہے تاکہ جوڑے اپنی شناختی دستاویزات فراہم کر کے وہ ہوٹل تلاش کر سکیں جہاں انہیں بغیر کسی رکاوٹ کے چیک ان کی اجازت ملے۔”

  • لاس اینجلس ،  آسکرز ایوارڈز تقریب منسوخ ہونے کا امکان

    لاس اینجلس ، آسکرز ایوارڈز تقریب منسوخ ہونے کا امکان

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگی بدترین آتشزدگی نے شہر کی صورت حال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے، جس کے باعث رواں برس کی 97 ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) تقریب منسوخ ہونے کا امکان ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایسی سنگین صورتحال کے باعث آسکرز کی تقریب کو منسوخ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

    لاس اینجلس میں گزشتہ ہفتے سے جاری بدترین آتشزدگی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں خوفناک تباہی آئی ہے۔ شہر کی موجودہ حالت کے پیش نظر، برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹی وی آرٹس کی سالانہ ٹی پارٹی، اے ایف آئی ایوارڈز لنچ اور کریٹکس چوائس ایوارڈز جیسی اہم تقاریب بھی ملتوی کر دی گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق، آسکر ایوارڈز کی تقریب رواں برس 2 مارچ کو شیڈول کی گئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس کی منسوخی کا امکان ہے۔ اس فیصلے کا تعین ہالی وڈ کے مشہور اداکار ٹام ہینکس، ایما اسٹون، میریل اسٹریپ، اور ہدایتکار اسٹیون اسپیلبرگ کی قیادت میں ایک کمیٹی کرے گی جو حالات کا بغور جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔

    لاس اینجلس میں لگی آتشزدگی کی شدت کے باعث معروف شخصیت میگھن مارکل نے اپنی نیٹ فلکس سیریز کی ریلیز کو بھی روک دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر میں حالات انتہائی نازک ہیں اور جشن یا تفریحی سرگرمیاں اس ماحول میں مناسب نہیں ہیں۔آگ کے باعث گزشتہ ماہ کے آغاز میں لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آتشزدگی کی وجہ سے 97 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی نامزدگیاں بھی ملتوی کر دی گئی تھیں۔ اصل میں یہ نامزدگیاں 17 جنوری کو اعلان کی جانی تھیں، تاہم اب ان کا اعلان 19 جنوری کو کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، آسکرز کی منسوخی کے حوالے سے بورڈ کا موقف ہے کہ ایسی صورتحال میں جب کئی افراد نے جان و مال کا ناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہو، جشن منانا مناسب نہیں۔ اگرچہ یہ آتشزدگی اگلے ہفتے تک ختم بھی ہو جائے، لیکن شہر اس درد اور نقصان سے مہینوں تک نمٹنے میں لگا رہے گا۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی سے اب تک 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں گھر جل کر خاکستر ہو چکے ہیں۔ شہر میں ہالی وڈ کی مشہور شخصیات جیسے کہ پیرس ہلٹن، بلی کرسٹل، مارک ہیمل، ایڈم بروڈی، لیٹن میسٹر، فرجی، اینا فارس اور اینتھونی ہاپکنز سمیت دیگر شخصیات کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔اس تمام صورتحال میں لاس اینجلس کی آتشزدگی نے نہ صرف مقامی افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر تفریحی صنعت کی بڑی تقاریب کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    اٹک: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت زیرو ویسٹ مہم جاری

  • ایلون مسک مشکل میں، ٹویٹر شیئرز کی خریداری پرسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں مقدمہ

    ایلون مسک مشکل میں، ٹویٹر شیئرز کی خریداری پرسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں مقدمہ

    امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے ایلون مسک پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ٹویٹر (اب X کے نام سے جانا جاتا ہے) میں اپنی ملکیت کی تفصیلات مناسب طور پر افشاء نہیں کیں، جو وفاقی قانون کے تحت ضروری تھی، اور اس کی وجہ سے انہیں "غیر فطری طور پر کم قیمتوں پر” پلیٹ فارم کے شیئرز خریدنے کا موقع ملا۔

    اکتوبر 2022 میں جب مسک نے ٹویٹر کو 44 ارب ڈالر میں خریدنے کی ڈیل مکمل کی، اس سے پہلے انہوں نے ٹویٹر کے شیئرز کی "کافی تعداد” خریدنا شروع کر دی تھی۔ مارچ 2022 کے وسط تک، ان کے پاس کمپنی کے 5% سے زیادہ شیئرز تھے اور انہیں اس معلومات کو امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو 10 دن کے اندر ظاہر کرنا تھا۔ تاہم، الزام ہے کہ مسک نے یہ معلومات 4 اپریل 2022 تک ظاہر نہیں کی۔دعوے کے مطابق، اگر مسک اور ان کے دولت کے مینیجر نے ان کی ملکیت کا اعلان وقت پر کیا ہوتا تو ممکنہ طور پر ٹویٹر کی اسٹاک قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا۔

    مسک کے وکیل ایلکس سپائرو نے سی این این کو ایک بیان میں کہا کہ "مسک نے کچھ غلط نہیں کیا” اور یہ مقدمہ "امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا یہ اعتراف ہے کہ وہ ایک حقیقی کیس نہیں لا سکتے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا مسک کے خلاف سالوں پر مشتمل ہراسانی کا مہم ایک معمولی نوعیت کے انتظامی غلطی پر الزام لگانے والے کیس میں تبدیل ہو گیا ہے، جو اگر ثابت ہو بھی جائے تو اس پر کوئی سنگین سزا نہیں ہو سکتی”۔

    مقدمے کے مطابق، مسک نے ان خریداریوں کو کم قیمتوں پر رکھ کر ٹویٹر کے سرمایہ کاروں کو 150 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا۔

    24 مارچ 2022 تک، مسک نے کمپنی میں اپنی حصہ داری 7% سے زیادہ بڑھا لی تھی، اور اگلے دن تقریباً 35 لاکھ شیئرز خریدے۔ چند دن بعد، انہوں نے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان سے ٹویٹر خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔مقدمے کے مطابق، مسک نے اپریل 2022 کے آغاز میں اپنے شیئرز کی ملکیت کا باضابطہ اعلان کیا، اور جب انہوں نے اپنے حصے کا انکشاف کیا، ان کے پاس کمپنی کا 9% سے زیادہ حصہ تھا جس کے بعد ٹویٹر کی اسٹاک قیمت میں 27% سے زیادہ اضافہ ہوا۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ "مسک نے وہ شیئرز کم قیمتوں پر خریدے جو اگر وہ وقت پر اعلان کرتے تو انہیں زیادہ قیمت پر خریدنے پڑتے”۔

    یہ مقدمہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین گیری گینسلر کے تحت کارروائیوں میں سے ایک ہے، جو اس ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ اس بات کا ابھی تک پتہ نہیں چلا ہے کہ آیاامریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا نیا سربراہ یہ مقدمہ جاری رکھے گا یا نہیں۔ مسک ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے حمایتی ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کی انتظامیہ میں حکومت کی کارکردگی کے محکمے کے شریک سربراہ کے طور پر فعال کردار ادا کیا ہے۔ مسک اور گینسلر کے درمیان کئی سالوں سے تنازعات چل رہے ہیں۔اس سے پہلے، امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے مسک کی ٹویٹر شیئرز کی خریداریوں کے بارے میں تحقیقات کی تھی اور دسمبر میں مسک نے بتایا تھا کہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے ان سے ایک غیر متعین رقم جرمانہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ بارے عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ ،ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ ،وزیر قانون

  • وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ  بارے  عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ بارے عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اس مکروہ دھندے کو مکمل طور پر روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ کے ذریعے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔وزیراعظم نے ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) میں افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس ضمن میں ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ادارہ مزید مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے۔

    انہوں نے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی سکریننگ کے لیے ایک معیاری نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انسانی سمگلنگ کی کوششوں کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی بیرون ملک سفر اور انسانی سمگلنگ کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے مؤثر مہم چلائے تاکہ عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔

    وزیراعظم نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ بیرون ملک انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث انتہائی مطلوب سمگلروں کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے بھرپور تعاون حاصل کرے۔

    اجلاس کے دوران شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ انسانی سمگلروں کے خلاف اب تک متعدد اہم اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جون 2023 سے دسمبر 2024 تک کے دوران کئی انسانی سمگلر گرفتار کیے جا چکے ہیں اور متعدد سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔مزید یہ کہ انسانی سمگلروں کے 500 ملین روپے سے زائد کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں اور ضبطی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی سمگلروں کے استغاثہ کے عمل کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مقدمات کی تیز رفتار کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی اور اس اہم معاملے پر اپنے خیالات اور سفارشات پیش کیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گی اور اس مکروہ دھندے کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

    نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ ،ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ ،وزیر قانون

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

  • نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ ،ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ ،وزیر قانون

    نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ ،ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ ،وزیر قانون

    اسلام آباد: وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کا خسارہ ہر سال سیکڑوں ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد کاروبار کرنا نہیں بلکہ ایک سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، تاہم، حکومت نے کاروباری سرگرمیوں میں بہت زیادہ مداخلت کی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ اور ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کیڈ اور پی ڈبلیو ڈی کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔وزیرِ قانون نے سینیٹ میں کہا کہ وہ ان ملازمین کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جنہوں نے سروس کی معیاد پوری کرلی ہے، اور انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ دینے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ جن ملازمین کی مدت 7 سال تک باقی ہے، ان کو بھی پیکجز فراہم کیے جائیں گے۔اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ باقی ملازمین کے لیے سرپلس پول کی آپشن رکھی جائے گی، اور رائٹ سائزنگ کے دوران یہ مقصد نہیں ہے کہ لوگوں کو بے روزگار کیا جائے، بلکہ یہ سب کچھ ایک قانونی فریم ورک کے اندر کیا جائے گا۔وزیرِ قانون نے واضح کیا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر ہو کر گھر نہیں بھیجا جائے گا، اور حکومت کئی محکموں کی تنظیم نو کر رہی ہے تاکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔

    انصاف کے ہتھیاروں کو جبر میں تبدیل کرنے سے حکومتیں گر جاتی ہیں، سینیٹر علی ظفر
    دوسری جانب پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ انصاف دفن کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، قانون کی سمجھ اور انصاف بند ہے، بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی بات کرتے ہیں، حکومت کہتی تھی کہ یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، اربوں روپے کی جیولری خرید لی اور پیسے کم دیئے ،حکومت نے اس کیس میں کس کو پیش کیا، حکومت نے ٹائر کے ایک سیلز مین کو بطور گواہ پیش کیا، ہائی کورٹ نے پہلی ہی سماعت میں اس کیس کو شٹ کر دیا، دوسرا سائفر کیس بنایا گیا اور یہ بھی عدالت نے بند کر دیا، پوری قوم کو پتا ہے کہ القادر کیس کے حقائق کیا ہیں، انصاف کے ہتھیاروں کو جبر میں تبدیل کرنے سے حکومتیں گر جاتی ہیں، آج انہوں نے عدالتوں کو میدان جنگ بنا دیا ہے، عدالتوں کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو اندر رکھنا چاہتے ہیں، انصاف اندھا نہیں ہوتا لیکن بہرا بھی نہیں ہوتا،

    دو نئی سب میرین کیبلز کی تنصیب کی جا رہی ،انٹرنیٹ تیز ہو گا،شزا فاطمہ خواجہ
    علاوہ ازیں وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ نے سینیٹ اجلاس میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ اور اس سے متعلق مسائل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اسپیکٹرم پر دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی آ رہی تھی، تاہم جیسے جیسے اسپیکٹرم کی مقدار میں اضافہ ہوگا، انٹرنیٹ کی رفتار میں بھی بہتری آئے گی۔شزا فاطمہ نے بتایا کہ موجودہ وقت میں 500 میگا ہرٹز اسپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے اور سابقہ اسپیکٹرم کیسز جو عدالتوں میں زیر سماعت تھے، انہیں حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سب میرین کیبلز کی تعداد آٹھ ہے، جن میں سے ایک کیبل خراب ہو چکی ہے، لیکن خوشخبری یہ ہے کہ دو نئی سب میرین کیبلز کی تنصیب کی جا رہی ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) انٹرنیٹ کی اسپیڈ کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل آڈٹ کر رہا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں آڈٹ کی تعداد دوگنا کر دی گئی ہے۔ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں آئی ٹی ایکسپورٹس میں 33 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جو کہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔شزا فاطمہ نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ آئی ٹی واحد صنعت ہے جس نے ملک میں تجارتی اضافے کے ساتھ سرپلس دکھایا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں 25 فیصد نئے انٹرنیٹ صارفین کا اضافہ ہوا ہے اور اس کے علاوہ موبائل براڈ بینڈ پر انٹرنیٹ کی رفتار میں مسائل دیکھے گئے ہیں، لیکن فکسڈ لائن انٹرنیٹ میں کوئی خاص مسائل نہیں پائے گئے۔

    تھائی لینڈ میں اغوا چینی اداکار بازیاب

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

  • تھائی لینڈ میں اغوا چینی اداکار بازیاب

    تھائی لینڈ میں اغوا چینی اداکار بازیاب

    چینی اداکار کا تھائی لینڈ سے اغوا، فوری واپسی سے چین میں امیدیں اور خوف کی لہر

    چینی اداکار وانگ سنگ کی تھائی لینڈ سے اغوا ہونے کے بعد تین دن تک خوف میں مبتلا زندگی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔انیہیں ایک اجنبی جگہ پر ان کے اغوا کار آن لائن دھوکہ دہی کے لیے مجبور کرتے رہے۔31 سالہ وانگ سنگ، جو ایک فلم کے آڈیشن کے لیے بنکاک پہنچے تھے، تھائی لینڈ کے ایک ایئرپورٹ پر اغوا ہو گئے اور انہیں میانمار کے مشہور سائبر فراڈ مرکز میاواڈی لے جایا گیا۔ یہ مرکز تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب ہے اور یہاں ہزاروں افراد، خاص طور پر چینی باشندے، جبری طور پر کام کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔وانگ سنگ ان خوش قسمت افراد میں شامل ہیں جو اس خطرناک مقام سے بچ کر واپس آ گئے۔ 7 جنوری کو تھائی پولیس نے انہیں میاواڈی سے بازیاب کر کے تھائی لینڈ واپس پہنچایا، تاہم آپریشن کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

    وانگ کی محفوظ واپسی نے چین میں سینکڑوں خاندانوں کی امیدوں کو جنم دیا ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے حکومت سے مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد مہینوں یا سالوں سے لاپتہ ہیں۔

    وانگ کے کیس نے تھائی لینڈ کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں کیونکہ چینی سیاح سوشل میڈیا پر اپنے سفر سے متعلق خوف کا اظہار کر رہے ہیں، جس سے تھائی لینڈ کی سیاحت کے شعبے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تھائی حکام اس بحران کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم چینی سیاحوں میں خوف کے آثار بڑھتے جا رہے ہیں۔چینی حکومت نے میانمار میں ان فراڈ مراکز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور کہا ہے کہ شمالی میانمار میں اس طرح کے مراکز کو "مکمل طور پر ختم” کر دیا گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مراکز اب مزید جنوبی علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں، جہاں میاواڈی میں ابھی بھی سینکڑوں افراد کو جبراً کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    اس تمام صورتحال نے ہانگ کانگ کی حکومت کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس نے اب تک کسی اہم پیشرفت کا اعلان نہیں کیا تھا، مگر وانگ کی بازیابی کے بعد انہیں امید ہے کہ مزید لوگوں کو بچایا جا سکے گا۔چینی سیاحوں کے لیے سفر کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے اثرات تھائی لینڈ کی سیاحت پر پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر چینی نیا سال قریب آ رہا ہے، اور سیاحتی کاروبار میں چینی سیاحوں کی کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے شراب کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ

  • لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    امریکا کے شہر لاس اینجلس میں جنگلات میں لگی آگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو اور فائر آرمز (اے ٹی ایف) اس تحقیقاتی عمل کی قیادت کر رہا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اے ٹی ایف کے عہدیدار جوز میڈینا نے کہا ہے کہ "ہم جانتے ہیں کہ ہر کوئی جواب چاہتا ہے اور کمیونٹی کا حق ہے کہ وہ ان وجوہات کے بارے میں معلومات حاصل کرے، مگر ابھی آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔”اے ٹی ایف نے یہ بھی بتایا کہ وہ مقامی لا انفورسمنٹ، فارسٹ سروس اور یو ایس اٹارنی کے ساتھ مل کر اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کر رہا ہے۔ تحقیقاتی عمل میں 75 سے زائد افراد شریک ہیں، جو کہ دو مختلف مقامات سے آگ کے آغاز کی وجوہات کا پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لاس اینجلس میں حالیہ آگ کی تباہ کن صورتحال نے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ اب تک 40 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ جل کر تباہ ہو چکا ہے، 12 ہزار سے زائد گھر خاکستر ہو چکے ہیں اور 30 کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔اس آتشزدگی کی ایک اور ہولناک کہانی سامنے آئی ہے، جب شمالی لاس اینجلس کے علاقے الٹاڈینا میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ڈیلیس کی جلی ہوئی لاش کی باقیات ملی۔ 95 سالہ اداکارہ نے مشہور فلموں "بلوز برادرز”، "لیڈی سنگز دی بلوز” اور "دی 10 کمانڈمنٹس” میں اہم کردار ادا کیے تھے۔ ان کی پوتی کیلی نے فیس بک پوسٹ پر ان کی موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کی دادی کی باقیات ان کے گھر سے ملی ہیں۔کیلی نے ایک ویڈیو میں جلی ہوئی سائیکل، ریفریجریٹر اور دروازہ دکھایا اور کہا کہ انہوں نے اپنی دادی کو آخری بار اس وقت دیکھا تھا جب وہ انہیں منگل کی رات کو ان کے الٹاڈینا والے گھر چھوڑ کر آئیں۔ کیلی نے مزید بتایا کہ اس وقت آگ کی ابتدا ہوئی تھی اور دو پہاڑوں کے درمیان لگی آگ اتنی خطرناک محسوس نہیں ہو رہی تھی، تاہم وہ اپنے کینسر سے متاثرہ بہن بھائی کی دیکھ بھال کے لیے واپس آ گئی تھیں۔لاس اینجلس میں تیز ہوائیں ہونے کے باعث آگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

    لاس اینجلس آگ، رہائشیوں کو بے دخلی سے بچانے کے لیے قراردادیں منظور
    لاس اینجلس میں افسران نے رہائشیوں کو بے دخلی سے بچانے کے لیے قراردادیں منظور کر لیں، اور ان لوگوں کے لیے فنڈ قائم کیا جنہوں نے اپنے گھر اور کاروبار کھو دیے،لاس اینجلس سٹی کونسل نے منگل کے روز کئی قراردادوں کی منظوری دی تاکہ رہائشی جنگل کی آگ سے ہونے والے نقصان سے بازیابی کر سکیں اور معمول کی حالت میں واپس آ سکیں، منظور شدہ اقدامات میں وفاقی ایمرجنسی فنڈز کی تیز تر منتقلی، مٹی کے پھسلنے کے امکانات کا جائزہ اور رہائشیوں کو بے دخلی اور قیمتوں کے بڑھنے سے بچانے کے اقدامات شامل ہیں، خاص طور پر ان افراد کو جو نقل مکانی کرنے والے ہیں یا پالتو جانوروں کے مالک ہیں۔ایک تجویز میں یہ شامل تھا کہ آگ سے متاثرہ کرایہ داروں کے لیے کرائے میں اضافے کو ایک سال کے لیے روک دیا جائے اور بے دخلی پر پابندی عائد کی جائے، لیکن اس تجویز کو کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔

    لاس اینجلس آگ، عوامی جائیداد اور انفراسٹرکچر کو نقصان کا تخمینہ تقریباً 360 ملین ڈالر
    فیڈرل فنڈز کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا کہ "ایک ابتدائی اندازے کے مطابق عوامی جائیداد اور انفراسٹرکچر کو نقصان کا تخمینہ تقریباً 360 ملین ڈالر لگایا گیا ہے،” اور مزید کہا کہ ان فنڈز کی کمی سے ضروری خدمات جیسے عوامی تحفظ، لائبریریاں، پارکس اور بے گھر افراد کی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔علیحدہ طور پر، لاس اینجلس کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز نے منگل کو ایک فنڈ قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ ان رہائشیوں یا کاروباروں کی مدد کی جا سکے جنہوں نے اپنی روزگار یا گھر کھو دیے ہیں۔بورڈ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے تاکہ وہ فنڈ کے لیے ضروریات کو مرتب کریں، جو "فلاحی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری، نجی شعبے سے عطیات حاصل کرنے اور ان افراد کی امداد کرنے کے اختیارات پر مشتمل ہو سکتا ہے جو ہوا کے طوفان اور اہم آگ کے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں،” اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق۔کیترن بارگر، بورڈ کی چیئر، نے اجلاس میں کہا، "ہم جانتے ہیں کہ ضروریات کی فہرست بہت وسیع ہے اور اس میں بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر رہائشی امداد، اجرت کی واپسی تک شامل ہوں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈ "فنڈ دینے والوں کو کاؤنٹی بھر میں شدید ضروریات کی حمایت کرنے کا موقع دے گا۔”

    لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ نے 7 جنوری کو تقریباً 1,000 فائر فائٹرز اور درجنوں فائر انجنوں کو پالیسیڈز فائر سے پہلے علاقے میں تعینات نہیں کیا تھا، جب ہوا کی رفتار بڑھنے لگی تھی، رپورٹ کے مطابق ایل اے ایف ڈی نے پانچ پانی لے جانے والے انجنوں کا عملہ بنایا تھا، جب کہ اس وقت 40 سے زیادہ انجن دستیاب تھے۔ فائر حکام نے دوسرا شفٹ مکمل کرنے کے لیے فائر فائٹرز کو ڈیوٹی پر رکھنے کا حکم نہیں دیا، جس سے عملے کی تعداد دوگنا ہو سکتی تھی۔ایل اے ایف ڈی چیف کرسٹِن کراؤلی نے لاس اینجلس ٹائمز کو ایک بیان میں ان کی ردعمل کی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "جو منصوبہ انہوں نے تیار کیا، میں اس کے پیچھے ہوں کیونکہ ہمیں شہر بھر میں تمام وسائل کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ کی کٹوتیوں کی وجہ سے ایل اے ایف ڈی کی میکانک پوزیشنز میں کمی آئی تھی جس کی وجہ سے کچھ "ریڈی ریزرو” انجن سروس سے باہر ہو گئے تھے۔

    لاس اینجلس آگ،متاثرین کی امداد کے لئے کنسرٹ کا اعلان
    لاس اینجلس کلپرز کا گھر، انگل ووڈ میں واقع انٹوٹ ڈوم، 30 جنوری کو فائر ایڈ کے عنوان سے ایک خیرات کنسرٹ کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد جنگل کی آگ سے متاثرہ کمیونٹیز کی دوبارہ آبادکاری کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔اس کنسرٹ کا اہتمام ایگ، لائیو نیشن اور ایرون انزوف کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس میں مشہور فنکاروں کی پرفارمنس متوقع ہے۔

    اب تک، آگ نے 25 افراد کی جان لے لی ہے، جن میں سے 9 پالیسیڈز فائر اور 16 ایٹن فائر میں ہلاک ہوئے۔حکومتی اقدامات میں لاس اینجلس میں 15 پوسٹل کوڈز میں ریئل اسٹیٹ کے غیر منصفانہ اور زبردستی نقد آفرز کو روکنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا گیا۔دو اسکول جو پالیسیڈز میں جل گئے تھے، عارضی کیمپس پر دوبارہ کھلیں گے۔

    جیسیکا سمپسن اور ایرک جونسن کے درمیان طلاق کی تصدیق

    ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے شراب کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ