Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بالی وڈ اداکار سیف علی خان  کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

    ممبئی: بالی وڈ کے مشہور اداکار سیف علی خان اور ان کی اہلیہ کرینہ کپور کے گھر میں گزشتہ رات ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جس کے دوران سیف علی خان زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ بھارتی شہر ممبئی کے علاقے باندرا میں اداکار کے رہائشی گھر پر پیش آیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ رات کے تقریباً 2:30 بجے پیش آیا، جب ایک نامعلوم شخص چوری کی نیت سے سیف علی خان کے گھر میں داخل ہوا۔ سیف علی کے گھر میں گھسنے والا گھر کے عملے کو جانتا تھا،ان کے عملے سے جھگڑا ہو رہا تھا، جب سیف علی خان یہ دیکھنے آئے تھے کہ کیا ہو رہا ہے اور اس تصادم کے دوران سیف علی خان پر چاقو سے حملہ کیا گیا، سیف علی خان کے گلے پر 10 سینٹی میٹر گہرا زخم آیا، انہیں ہاتھ اور پیٹھ پر بھی شدید چوٹیں آئیں اور ان کی پیٹھ میں ایک نوک دار چیز گھسی ہوئی تھی جسے لیلاوتی اسپتال میں فوری سرجری کے ذریعے نکالا گیا،ڈاکٹر نیرج اُتمانی، جو لیلاوتی اسپتال کے سی او او ہیں، نے بتایا کہ سیف علی خان کو چاقو کے چھ زخم آئے، جن میں سے دو کافی گہرے تھے، اور ایک زخم ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب تھا۔ ڈاکٹروں نے سیف علی خان کی سرجری کی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزم کی شناخت کے لیے گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گھر والوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

    کرینہ کپور کی ٹیم نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ "سیف علی خان اور کرینہ کپور کے گھر میں گزشتہ رات ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جسے اداکار نے مزاحمت کرکے ناکام بنا دیا۔ سیف کو شدید چوٹیں آئی ہیں، تاہم کرینہ اور دونوں بچے محفوظ ہیں۔” کرینہ کی ٹیم نے مداحوں سے درخواست کی کہ وہ پریشان نہ ہوں اور صرف پولیس یا ان کی ٹیم کے جاری کردہ بیانات پر یقین کریں۔

    اداکار سیف علی خان نے بھی اپنے مداحوں سے ایک پیغام جاری کیا جس میں کہا، "مداحوں سے میری درخواست ہے کہ وہ فکر نہ کریں، اور اطمینان رکھیں۔ میں ٹھیک ہوں اور جلد صحت یاب ہوجاؤں گا۔”

    سیف علی خان پر حملہ،مقدمہ درج، تحقیقات کے لئے 7 ٹیمیں تشکیل
    سیف علی خان اور کرینہ کپور اپنے دو بچوں کے ساتھ باندرا کے ایک عالیشان گھر میں رہائش پذیر ہیں، اور اس واقعے کے دوران ان کے بچے اور کرینہ محفوظ رہے۔یہ واقعہ نہ صرف سیف علی خان کے مداحوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا بلکہ بھارتی میڈیا میں بھی یہ خبریں وائرل ہو گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے ملزم کی جلد گرفتاری کی امید کی جا رہی ہے۔باندرہ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔سيف اور کرینہ، جو 2012 سے شادی شدہ ہیں، ممبئی کے باندرا ویسٹ میں ستگرو شرن عمارت میں رہتے ہیں۔ جوڑے کے دو بیٹے – تیمور (8) اور جہ (4) بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ پولیس نے اس حملے کی تحقیقات کے لیے 7 ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، سیف علی خان کے گھر کی سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے

    سیف علی خان کے گھر خاتون ملازمہ بھی زخمی ہوئی،پولیس
    بھارتی پولیس کے مطابق، یہ واقعہ رات کے تقریباً تین بجے پیش آیا۔ بھارتی پولیس کے افسر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمیں رات 3 بجے سیف علی خان کے گھر پر حملے کی اطلاع ملی تھی، جس پر فوراً پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور سیف علی خان کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا۔” پولیس نے مزید بتایا کہ سیف علی خان کے علاوہ ان کی خاتون ملازمہ پر بھی حملہ کیا گیا تھا لیکن اب وہ حالت میں بہتری محسوس کر رہی ہیں۔اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سیف علی خان کے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، خاص طور پر کرینہ کپور اور سیف کے دونوں بیٹوں کے حوالے سے۔ تاہم، تازہ ترین معلومات کے مطابق، سیف علی خان اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں، جب کہ ان کی اہلیہ کرینہ کپور اور دونوں بیٹے، جے اور تیمور، محفوظ ہیں۔حملے کے وقت کرینہ اور ان کے دونوں بیٹے اپنے والد کے ساتھ باندرا والے گھر میں موجود تھے، مگر بدھ کی رات کرینہ اپنی بہن کرشمہ کپور کے گھر پر تھیں۔ اس وقت وہ وہاں موجود تھیں جب حملہ ہوا۔

  • انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ، ایک طرف کشمیر میں ریاستی سطح پر مظالم اور دوسری طرف ہمسایہ ممالک میں دراندازی، ہندوستان کا یہ بدنماچہرہ ساری دنیا دیکھ چکی ہے، پاکستان پر الزامات لگاتے ہوئے انڈین آرمی چیف یہ بھول گے کہ کلبھوشن نیٹ ورک ہندوستان کے اصل چہرے سے نقاب ہٹانے کیلئے کافی ہے،مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کی محرومیوں اور حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑے گی،بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے عوام آج بھی بنیاد ی سہولیات سے محروم ہیں،ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی عشرہ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز سے منایا جائے گا، بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، شہ رگ کا سودا نہ کوئی کر سکتا ہے اور ہونے دیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ بلوچستان کے موقع پر کوئٹہ میں مرکزی مسلم لیگ کے صوبائی سیکریٹریٹ میں تنظیمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی صدر سردار امجد اسلام سمیت ضلعی صدور اور شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔

    خالد مسعود سندھو نے اجلاس میں پارٹی کی جاری رکنیت سازی مہم کا جائزہ لیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی رکنیت سازی مہم ملک بھر میں جاری ہے، بلوچستان کے عوام کو مرکزی مسلم لیگ کا حصہ بنانے کیلئے خصوصی توجہ دی جارہی ہے،مرکزی مسلم لیگ رکنیت سازی مہم کے ذریعے بلوچستان سمیت ملک بھر سے نوجوان قیادت کو آگے لانے کیلئے پرعزم ہے،خالد مسعود سندھو کا پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں عشرہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے اس کا سودا کسی صورت قبول نہیں،کشمیر میں ہونے والے بھارتی ریاستی مظالم ہوں یا کشمیر یوں سے بے وفائی کرنے والے پاکستانی حکمران کشمیر کے سب مجرموں کو کٹہرے لایا جانا چاہئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور پوری پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی میں ہر طرح سے ان کے ساتھ کھڑی ہے،

    خالد مسعود سندھو نے کہا کہ بلوچستان اور کشمیر کے لوگ ان کے دل کے بہت قریب ہیں،بلوچستان کی محرمیوں کو ختم کرنے کیلئے اور مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت خدمت کے منصوبہ جات پر کام کر رہے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا روزگار سہولت پروگرام اسی کا حصہ ہے،بلوچستان کے نوجوانوں کو فری آئی ٹی سکلز سیکھا کر اور روزگار کیلئے سہولتیں پیدا کر کے اپنے حصے کاکام کر رہے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے حقوق کیلئے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھے گی۔

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مہم،عمران ریاض،شہباز گل پر مقدمہ،تین ملزمان گرفتار

    بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد   ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو راولپنڈی حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، مقدمے میں نامزد ملزمان شیخ رشید، فواد چوہدری اور راجا بشارت و دیگر بھی پیش ہوئے،اس دوران استغاثہ کے 4 چشم دید گواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا، جن میں راولپنڈی پولیس کے اے ایس آئی ثاقب، کانسٹیبل شکیل، سجاد اور یاسر شامل ہیں،گواہان نے ملزمان سے برآمد ہونے والے ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے اور بتایا کہ ملزمان سے برآمد اینٹی رائٹ فورس سے چھینا ہیلمٹ اور پیٹرول بم شامل ہیں،عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں شہدا کے مجسموں کے برآمد ٹکڑے، موبائل فونز، ڈنڈے، جھنڈے، پی ٹی آئی ٹوپیاں، تاریں اور ماچس شامل ہیں،عدالت کی سماعت کے دوران ملزم سے برآمد موبائل فون عدالت میں پیش کرنے کے دوران آن نکلا۔

    گواہان نے کمرہ عدالت میں موجود راجا بشارت سمیت کئی ملزمان کی نشاندہی کی اور بتایا کہ راجہ بشارت نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کو لیڈ کیا،گواہان نے عدالت کے روبرو کہا کہ راجہ بشارت مظاہرین کو اکساتے رہے کہ بانی کی گرفتاری کا بدلہ فوج سے لینا ہے،دوران سماعت کمرہ عدالت میں ملزمان، وکلاء، پراسیکیوشن اور میڈیا نمائندوں سے بھرا رہا، وکلا صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،عدالت نے ملزمان کے شور کے باعث ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا اور انہیں وارننگ دی، گواہان کی شہادت بھی ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے ہی ریکارڈ کی گئی،دوران سماعت 3 گواہان کی شہادت ریکارڈ ہونے تک بانی پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں موجود رہے، آئندہ سماعت پر عدالت نے استغاثہ کے پانچ مزید گواہ طلب کر لیے اور سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی

    کیس کی سماعت کے بعد فیصل چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کے ٹرائل میں آج 9 مئی کو ضبط کیا گیا موبائل فُل چارج حالت میں سیل بند لفافے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ میں حیران ہوں ایسی کمپنی پر کہ جس کی بیٹری آج 2 سال بعد بھی چل رہی ہے،

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

  • جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    بھارت کی ساحلی ریاست کیرالہ میں، جہاں قدرتی مناظر اور پرسکون ماحول کا راج ہے، فوٹوگرافر کیرتھنا کناتھ نے ایسی تصاویر لی ہیں جن میں طاقتور اور مضبوط خواتین اپنے جسموں کو فخر سے پیش کر رہی ہیں۔ یہ خواتین سمندر کی لہروں، کھجور کے درختوں یا چٹانوں کے درمیان بائسپس کو جمانے، ٹانگوں کو سٹریچ کرنے یا شانوں کو بڑھانے کے دوران اپنے باڈی بلڈنگ کی مہارتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اور جِم کی مخصوص وردی کے بجائے زریں سبز لباس یا خواتین کے روایتی چیکرڈ بیکنی ٹاپ اور اسکرٹ میں جلوہ گر ہو رہی ہیں۔

    تاہم کیرالہ میں، جہاں کیرتھنا کناتھ کا تعلق ہے، خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ اب بھی ایک ممنوعہ موضوع ہے، کیونکہ یہاں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روایتی نسوانی اصولوں پر عمل کریں۔ ایک باڈی بلڈر کی انسٹاگرام پروفائل کو دیکھنے کے بعد، کناتھ نے ان خواتین سے متاثر ہو کر باڈی بلڈنگ کی دنیا کا جائزہ لیا جو اس کھیل کے لئے اپنی زندگی وقف کر چکی ہیں اور سماجی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کی خواہشات کو بھی نظرانداز کر چکی ہیں۔

    کناتھ نے سی این این کو فون کال میں بتایا، "جہاں ہم رہتے ہیں، یہ بہت عام بات نہیں ہے۔ میں اسے کمیونٹی کہوں گی بھی نہیں، کیونکہ یہ ابھی تک ایک نیا رجحان ہے اور صرف چند لڑکیاں ہی اس میں دلچسپی رکھتی ہیں۔”

    بھارت میں خواتین کا باڈی بلڈنگ کی طرف بڑھتا ہوا رجحان
    بھارت بھر میں، حالیہ برسوں میں خواتین کا ایک بڑھتا ہوا رجحان باڈی بلڈنگ میں شامل ہو رہا ہے اور بہت سی خواتین نے بین الاقوامی فٹنس اینڈ باڈی بلڈنگ فیڈریشن سے پیشہ ورانہ حیثیت حاصل کی ہے۔ 2016 میں، دیپیکا چودھری نے پہلی بھارتی خاتون باڈی بلڈر بن کر اس میدان میں ایک سنگ میل قائم کیا۔

    کییرتھنا نے ابتدائی طور پر کیرالہ میں جنسی لحاظ سے غیر جانبدار مارشل آرٹ "کالاری پائٹ” پر تحقیق کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن جب انہوں نے باڈی بلڈنگ پر فوکس کرنے والی خواتین کا پتہ چلایا تو ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہو گئی۔ کناتھ کی فوٹوگرافی کی سیریز میں شامل خواتین باڈی بلڈرز ایک دوسرے کو براہ راست نہیں جانتی تھیں، مگر سوشل میڈیا اور مقابلوں کے ذریعے ان کے درمیان ایک انجان سی پہچان تھی۔

    بھو میکا کمار، جو 22 سال کی ہیں اور کیرالہ کے شہر کوچین سے تعلق رکھتی ہیں، نے بچپن میں اپنی جسمانی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے باوجود باڈی بلڈنگ میں دلچسپی پیدا کی۔ اپنے والدین کے سخت رویے کی وجہ سے انہیں بچپن میں کھیلنے کی آزادی نہیں مل سکی تھی، مگر بالغ ہونے کے بعد یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے ورزش کا آغاز کیا اور پھر خاندان کے ساتھ بحث و تکرار کے بعد جِم میں شامل ہو گئیں۔ آج وہ مس کیرالہ اور مس ارناکولم جیسے مقامی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔کمار اور دیگر باڈی بلڈرز کی کہانیاں ایک ہی جتنی ہیں، جنہیں اپنے خاندانوں سے تنقید اور دباؤ کا سامنا رہا کہ وہ اپنے جسموں کو دکھا کر غیر روایتی دنیا میں کیوں قدم رکھ رہی ہیں۔
    india
    خواتین باڈی بلڈرز کا عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کا عزم
    کیرتھنا کناتھ کی فوٹوگرافی میں شامل ایک اور خاتون، 25 سالہ سینڈرا اے ایس ہیں جو 4 سال سے باڈی بلڈنگ کر رہی ہیں اور اب باڈی بلڈنگ کے نئے کھلاڑیوں کو تربیت بھی دیتی ہیں۔ ان کا مقصد خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ کے میدان میں رکاوٹیں توڑنا اور بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری کوالیفیکیشن حاصل کرنا ہے۔

    کیرتھنا نے اپنی فوٹوگرافی کے دوران بھارتی دیویوں کی تصاویر سے متاثر ہو کر خواتین کے ہیروک پورٹریٹس بنائے ہیں۔ انہوں نے مقامی اسٹائلسٹ ایلتن جان کے ساتھ مل کر ایسی تصاویر تخلیق کیں جو جسمانی طاقت کو نرمی اور حسن کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ فوٹوگرافر کے مطابق، "یہ خواتین انتہائی مضبوط، پراعتماد اور طاقتور ہیں، لیکن پھر بھی ان میں ایک نرمائی ہے۔”

    کیرتھنا نے اپنی سیریز "نات واٹ یو سو” کے ذریعے ان خواتین کے عزم اور محنت کو اجاگر کیا ہے جو باڈی بلڈنگ کے میدان میں مردوں کے غلبے کو توڑنے کے لئے مسلسل محنت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "انہوں نے اپنے لئے یہ جگہ بنائی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی کہانیاں جشن منانے کے قابل ہیں۔”

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

  • یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    یوکرین اور روس نے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون اور میزائل حملے شروع کر دیے ہیں، اور دونوں ممالک امریکی صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے قریب آنے کے ساتھ اپنے فائدے کے لیے اس جنگ میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    نئے امریکی صدر نے لڑائی کو جلد ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اس بات کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں کہ وہ یہ کیسے کریں گے۔ ان کی وائٹ ہاؤس میں آمد روس کی مکمل حملے کے ساتھ چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے، جس سے پوری صورتحال میں عدم استحکام اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔سوموار کی رات سے منگل تک، کیف نے اپنے جنگی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کیا، جس میں اس نے روس کے اندر گہرائی تک ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا، جس میں چھ امریکی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شامل تھے۔ یوکرینی اور روسی حکام کے مطابق، یہ حملہ روس کے اندر کی فوجی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین نے یہ اعلان کیا کہ ایسے حملے جاری رہیں گے جب تک روس کی مسلح جارحیت کا مکمل خاتمہ نہ ہو جائے۔

    روس نے اپنی طرف سے یوکرین کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بناتے ہوئے بدھ کی صبح تک یوکرین پر بمباری کی، جس میں 40 سے زائد میزائل شامل تھے، جن میں سے 30 کو تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ 70 سے زائد روسی ڈرونز نے بھی حملے میں حصہ لیا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں کا مقصد یوکرین کے توانائی کے شعبے کو تباہ کرنا تھا۔یوکرین کی توانائی کمپنی یوکرینرو نے بتایا کہ اس حملے کے بعد انہیں عارضی طور پر بجلی کی فراہمی روکنی پڑی تاکہ توانائی کے نظام کو بچایا جا سکے، تاہم صبح 9 بجے تک بجلی بحال کر دی گئی۔ سردیوں کے دوران روسی حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں یوکرین کو ایمرجنسی پاور آؤٹ ایجز لگانے پڑے ہیں۔ان حملوں کی شدت میں اضافہ اس وقت ہو رہا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری 20 جنوری کو متوقع ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے مشیر نکولائی پیٹروشیو نے ایک روسی اخبار سے بات کرتے ہوئے یوکرین سے متعلق اپنے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ روس کبھی بھی یوکرین کے زیر قبضہ کسی علاقے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2025 میں یوکرین ایک خود مختار ریاست کے طور پر موجود نہیں ہو سکتا، تاہم اس بات کی مزید تفصیل نہیں دی۔

    اسی دوران ایک اور خبر آئی ہے کہ ایک آسٹریلوی شہری جو یوکرین کے لیے لڑتے ہوئے روسی افواج کے ہاتھوں پکڑا گیا تھا، اسے روس نے ممکنہ طور پر قتل کر دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس واقعے کی تصدیق ہونے پر سخت کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ او اسکار جینکنز نامی 32 سالہ آسٹریلوی شہری کو گزشتہ ماہ روسی افواج نے پکڑا تھا اور ایک ویڈیو میں اسے فوجی یونیفارم میں پوچھ گچھ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، اس کی موت ہو چکی ہے، اور یہ خبر یوکرین میں موجود ذرائع سے آئی ہے۔روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں شدت آ چکی ہے، اور بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

    وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مہم،عمران ریاض،شہباز گل پر مقدمہ،تین ملزمان گرفتار

  • سعودی عرب  معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی تعداد اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے بتایا کہ سعودی عرب میں مختلف جرائم میں ملوث 10 ہزار 279 پاکستانی قید ہیں۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی اکثریت مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث ہے۔ ان پاکستانی قیدیوں کے حوالے سے پاکستان حکومت کی جانب سے ہر ممکن سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید وضاحت کی کہ سزا مکمل کرنے والے قیدیوں کو جب پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو جاتی ہے، تو انہیں ایمرجنسی ٹریول دستاویزات فراہم کیے جاتے ہیں، تاکہ وہ وطن واپس جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے جرمانے کی رقم عموماً پاکستانی کمیونٹی کے افراد ادا کرتے ہیں، جو ان قیدیوں کی مدد کے لیے مالی تعاون فراہم کرتے ہیں۔وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں قیدیوں کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ سعودی عرب نے معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے، جس سے ان قیدیوں کو جلد اپنے وطن واپس جانے کا موقع ملے گا۔اسحاق ڈار کے مطابق، سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی اور دیگر معاملات کے لیے مزید تعاون جاری ہے تاکہ پاکستانی قیدیوں کو جلد اپنے گھروں کی راہ مل سکے۔

    اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب میں قید اپنے شہریوں کے حقوق اور ان کی وطن واپسی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے، تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں

    فٹنس ایپ نے فرانس کی خفیہ نیوکلیئر آبدوز کی حساس معلومات افشا کر دیں

    بھارت دہشتگردی میں اپنے ملوث ہونے کی دستاویزی حقیقتوں کو تسلیم کرے،دفتر خارجہ

  • وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مہم،عمران ریاض،شہباز گل پر مقدمہ،تین ملزمان گرفتار

    وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مہم،عمران ریاض،شہباز گل پر مقدمہ،تین ملزمان گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے خلاف سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں شہباز گل اور یوٹیوبرعمران ریاض خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق اس کیس سے متعلق دو دیگر مقدمات میں ملزمان کو ملتان، فیصل آباد اور لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد میں ندیم، اعجاز اور عامر شامل ہیں۔ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر شخصیت کے خلاف مہم چلائی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک اور بین الاقوامی سطح پر عزت داروں کو بدنام کرنے کے لیے جعلی ویڈیوز پھیلائیں۔ مقدمہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    گرفتار ملزمان کی تفصیلات کے مطابق محمد ندیم جاوید کو شالیمار سکیم لاہور سے گرفتار کیا گیا، جبکہ محمد اعجاز کو مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی سے اور عامر عباس کو فیصل آباد سے حراست میں لیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق، دیگر نامزد ملزمان شہباز گل اور عمران ریاض خان بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق، ملزمان نے ایک دوست ملک کی اہم شخصیت کے ساتھ وزیراعلی پنجاب کے خلاف توہین آمیز مواد کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ایف آئی اے نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات میں مزید پیش رفت کے لیے کام کر رہی ہے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    سیاست دانوں کے غلط رویوں سے آج پارلیمان بے معنی ہو گئی ،مولانا فضل الرحمان

    نماز کی مبینہ بے حرمتی،یوٹیوبر رجب بٹ پر مقدمہ درج

  • سیاست دانوں کے غلط رویوں سے آج پارلیمان بے معنی ہو گئی ،مولانا فضل الرحمان

    سیاست دانوں کے غلط رویوں سے آج پارلیمان بے معنی ہو گئی ،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں آمروں کے خلاف لڑتا رہا ہوں، اب جمہوریت کمزور ہو چکی ہے

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم نہیں پی ٹی آئی کیا مانگ رہی ہے، میں سیاست دان ہوں اور ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہوں، سیاست دان حکومت بنانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ سمجھوتا کرتے ہیں، جب تک ایسا ہوتا رہے گا تو آئین ختم ہو جائے گا ،سیاست دانوں کے غلط رویوں سے آج پارلیمان بے معنی ہو گئی ہے، ہم امریکہ کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں، سیاستدانوں کو جیلوں میں نہیں ہوناچاہیے،ماضی میں جوکچھ ہوااس کےبھی خلاف تھے،سیاست میں انتقام کاتاثرنہیں ہوناچاہیے ،ادارے یا پارٹی حدود سے تجاوز کرتی ہے تو اس کو اپنے رویئے پر نظر ثانی چاہئے،میں سیاسی آدمی ہوں مذاکرات کا قائل ہوں، معاملات ٹھیک ہوتے ہیں، کامیابی کے لئے ماحول بھی ہونا چاہئے،دھاندلی کے الیکشن کی گنجائش ہے تو دھاندلی سے پاک کی کوئی نہیں ہے،ٹرمپ کو اپنے دماغوں پر کیوں سوار کیا ہوا ہے،ہم کیوں اپنے سر پر سوار کریں، اس خطے سے امریکہ شکست کھا کر بھاگا ہے،وہ پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف لے جانا چاہتا ہے، خیبر ،بلوچستان میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے،غیر اعلانیہ لوگ وہاں‌گھر چھوڑ رہے ہیں، ربع صدی تک علاقہ جنگ میں رہا، اسکی جغرافیائی صورتحال خطرے میں پڑ جاتی ہے، ہم ایک جلتی ہوئی زمین پر بیٹھے ہیں، پتہ نہیں کیوں احساس نہیں کیا جا رہا،قبائلی دنیا معدنی وسائل سے بھری ہوئی ہے، کیا عالمی قوتوں کے لئے اسکو آماجگاہ تو نہیں بنا رہے، قوم کو خود داری کی طرف جانا ہو گا، ہم اپنے ملک کے اندر کسی ادارے کی بالا دستی قبول کرنے کو تیار نہیں امریکی بالادستی کیسے قبول کریں

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی پارلیمنٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم ہوئی، اس میں مذاکرات کرنے والی پارٹی حکومت کے مقابلے میں اکیلی جے یو آئی تھی، خالص سیاسی نقطہ نظر کے ساتھ، آئین، پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے، اصول کے دائرے میں رہ کرمذاکرات کئے اور کامیاب ہوئے،دوسری پارٹیاں ایسے کیوں نہیں کر سکتیں، میں 1980 کے بعد سے مارشل لاؤں کے خلاف لڑتا رہا ہوں، آمرانہ قوتوں کو کمزور کرنے کے لئے لڑتا رہا ہوں، خامیاں سیاستدانوں‌کے اندر ہیں، خود اعتمادی اپنے اندر لانی ہو گی،آٹھ اراکین کی قومی اسمبلی کی اپوزیشن نے مذاکرات کئے اور نوے سے زائد اراکین والی اپوزیشن کو ساتھ ملایا، ساتھ چلایا، ہم اصول پر ہوں تو ہر ایک سے منوا سکتا ہوں،

  • نماز کی مبینہ بے حرمتی،یوٹیوبر رجب بٹ پر مقدمہ درج

    نماز کی مبینہ بے حرمتی،یوٹیوبر رجب بٹ پر مقدمہ درج

    کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ نماز کی مبینہ بے حرمتی کے معاملے پر درج کیا گیا ہے، جس پر رجب بٹ مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ مقدمہ تھانہ حیدری میں پاکستان کے تعزیرات کے سیکشن 295-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔عدالت میں مدعی کا بیان پولیس نے قلمبند کر لیا، جس کے بعد رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے دلائل سننے کے بعد پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    ایڈوکیٹ ریاض علی سولنگی نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اگلا مقصد رجب بٹ کو گرفتار کروانا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس دفعہ کے تحت رجب بٹ کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص شعائر اسلام کی توہین کرنے سے پہلے سوچے گا۔

    رجب بٹ کا معاملہ اس وقت سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں لوگوں کی مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ اس مقدمے کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یوٹیوبرز کو اپنے مواد کی اشاعت سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ کسی مذہبی یا ثقافتی حساسیت کو مجروح نہ کریں۔

    رجب بٹ، ڈکی بھائی، اور رابعہ فیصل سمیت دیگر کے خلاف نا زیبا اور فحش مواد پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست
    دوسری جانب مشہور ٹک ٹاکرز رجب بٹ، ڈکی بھائی، اور رابعہ فیصل سمیت دیگر کے خلاف نا زیبا اور فحش مواد پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست گزار کے مطابق ان افراد کی ویڈیوز معاشرے میں غیر اخلاقی رجحانات کو فروغ دے رہی ہیں۔درخواست ایڈووکیٹ منور اقبال تصمیم نے جمع کرائی، جس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ملتان کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔عدالت نے تمام فریقین کو 17 جنوری تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کی روک تھام کے لیے قانونی کارروائی ضروری ہے تاکہ معاشرتی اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے

    ٹرمپ کی حلف برداری،پاکستانی اہم شخصیت کو دعوت نامہ مل گیا

    الیکٹرک گاڑیوں کیلیے خصوصی 44 فیصد کم رعایتی ٹیرف تاریخ ساز پیکج ہے ، وزیراعظم

    شبلی فراز اور عمر ایوب کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

  • ٹرمپ کی حلف برداری،پاکستانی اہم شخصیت کو دعوت نامہ مل گیا

    ٹرمپ کی حلف برداری،پاکستانی اہم شخصیت کو دعوت نامہ مل گیا

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2025 میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں پاکستان سے ابھی تک ایک ہی رہنما کو دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں، جنہیں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے.

    ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اس دعوت نامے کو قبول کیا ہے اور وہ آئندہ چند دنوں میں امریکا روانہ ہوں گے۔ بلاول بھٹو کی شرکت امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہونے والی تقریب حلف برداری اور دیگر تقاریب میں متوقع ہے۔دعوت نامہ بلاول بھٹو کو ذاتی حیثیت میں دیا گیا ہے اور یہ دعوت ایک اہم سفارتی موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مضبوطی کی خواہش ہے، اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا دورہ امریکا ایک اہم موقع ہوگا، جہاں وہ عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کرنے کے علاوہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

    یہ دعوت امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کو دی جانے والی ایک علامتی اہمیت کی نشاندہی بھی کرتی ہے، جو عالمی سیاست میں دونوں ممالک کے کردار کو تسلیم کرتی ہے۔پاکستان سے ابھی تک صرف بلاول زرداری کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے،

    امریکا اور دنیا بھر کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری پر
    امریکا اور دنیا بھر کی نظریں اگلے ہفتے ہونے والی ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی تقریبِ حلف برداری پر جمی ہوئی ہیں۔ اس تقریب کی نوعیت اور اہمیت میں دنیا کے کئی ممالک کی اہم شخصیات کی شرکت اور عدم شرکت کا فیصلہ بڑی بات بن چکا ہے۔ اس موقع پر ہم جانیں گے کہ کون "ان” ہے اور کون "آؤٹ”، کون بلانے کے باوجود نہیں آئے گا اور کون بے چین ہے دعوت نامہ پانے کے لئے۔

    سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے تصدیق کی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری میں "یقیناً” شرکت کریں گے۔ یہ فیصلہ بائیڈن کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2021 میں بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی، جس سے اقتدار کی پرامن منتقلی کی امریکی روایت کو توڑا گیا تھا۔سابق خاتون اول مشیل اوباما نے اپنی غیر موجودگی کا فیصلہ کیا ہے، اور ان کے دفتر نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی۔ مشیل اوباما کا ٹرمپ کی تقریب میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ اس سے قبل ان کی سیاسی اختلافات کا عکاس بھی ہو سکتا ہے۔

    پہلی بار غیر ملکی مہمانوں کو مدعو کیا گیا
    ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بار حلف برداری میں غیر ملکی صدور اور وزرائے اعظم کو دعوت دی گئی ہے، جو امریکی روایت کے خلاف ہے کیونکہ عمومی طور پر ایسی تقریبات میں غیر ملکی شخصیات کو مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس بار دنیا بھر کی بڑی طاقتوں اور اتحادیوں کو دعوت دی گئی ہے، جس سے امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں۔

    چین کے صدر شی جن پنگ کی شرکت؟
    چینی صدر شی جن پنگ کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ چینی حکومت یا وزارت خارجہ کی طرف سے اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔جارجیا میلونی: اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے شرکت کا ارادہ ظاہر کیا ہے، ارجنٹائن کے صدر جیویر میلی نے بھی تقریب میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ وہ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ ایل سلواڈور کے صدر نائیب بوکیل بھی ٹرمپ کے ساتھ گہری دوستی رکھتے ہیں اور ان کی شرکت متوقع ہے۔ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربن کو بھی دعوت دی گئی ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک شرکت کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو نے تصدیق کی کہ انہیں دعوت دی گئی ہے اور وہ اس وقت اپنے پاسپورٹ کی بازیابی کی کوشش کر رہے ہیں۔ جاپان کے وزیر خارجہ تاکیشی ایویا بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔

    کون مدعو نہیں ہے؟
    ولادی میر پیوٹن: روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔
    کم جونگ ان: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بھی اس موقع پر موجود نہیں ہوں گے، حالانکہ ٹرمپ کی ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔
    ارسلولا وان ڈیر لیین: یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین بھی مدعو نہیں ہیں لیکن انہوں نے نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

    افتتاحی تقریب کے لئے ریکارڈ عطیہ
    ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی تقریب کے لئے 170 ملین ڈالر کی رقم جمع کی گئی ہے، جو ایک ریکارڈ رقم ہے۔ اس میں بڑے کاروباری، ٹیک ایگزیکٹوز، اور دیگر اہم عطیہ دہندگان نے دل کھول کر حصہ ڈالا ہے۔

    وی آئی پی ٹکٹس کی کمی
    دنیا بھر کی اہم شخصیات اور سیاسی رہنماؤں نے وی آئی پی ٹکٹس کی کمی کی شکایت کی ہے، اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جگہ کی کمی کے باعث لاکھوں ڈالر عطیات دینے والوں کو بھی ٹکٹ نہیں مل پا رہے۔

    پرفارمنس کے لئے مشہور فنکار
    کیری انڈر ووڈ، ویلج پیپل، اور دیگر معروف فنکار ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں پرفارم کریں گے۔ کیری انڈر ووڈ "امریکا دی بیوٹی فل” گانا گائیں گی اور ویلج پیپل اپنے مشہور گانے "Y.M.C.A.” پر پرفارم کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی تقریبات کا آغاز 20 جنوری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوگا اور یہ چار دن تک جاری رہیں گی۔ اس دوران مختلف پروگرامز اور تقریبات ہوں گی جن میں آتشبازی کا شو، ریلی، اور وائٹ ہاؤس میں چائے کی تقریب شامل ہیں۔

    میشل اوباما ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوں گی

    کیری انڈر وُڈ کو ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں پرفارم کرنے کی دعوت

    2020 میں امریکی انتخابات،ٹرمپ کی اقتدار کیلئے مجرمانہ کوششیں، رپورٹ جاری

    ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

    نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے