Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 خوارج جہنم واصل

    شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 خوارج جہنم واصل

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا ہے، جس میں چار دہشت گرد جہنم واصل کئے گئے ہیں

    سیکیورٹی فورسز نے سپن وام کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر فوری کارروائی کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے اس آپریشن کے دوران خارجی دہشت گردوں کے ٹھکانے کے خلاف کامیاب کارروائی کی۔ فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔مزید برآں، آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں ممکنہ دہشت گردوں کی موجودگی کی بنا پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور ملک بھر میں امن قائم کرنے کے لئے اپنی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس عزم پر قائم ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    یہ آپریشن دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں ایک اور اہم کامیابی ہے، جس کے ذریعے دشمن کے نیٹ ورک کو مزید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اپنی تمام تر توانائیاں ملک میں امن و سکون کی بحالی کے لئے بروئے کار لا رہی ہے۔

    بھارتی ہندو زائرین کو پاکستان میں بہترین سہولیات فراہم

    حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

  • بھارتی ہندو زائرین کو پاکستان میں بہترین سہولیات فراہم

    بھارتی ہندو زائرین کو پاکستان میں بہترین سہولیات فراہم

    حال ہی میں بھارت سے 84 ہندو زائرین کا ایک وفد، جس کی قیادت سین یدھیشتر لال نے کی، پاکستان کے مختلف مذہبی مقامات پر 10 روزہ دورہ مکمل کر کے واپس بھارت روانہ ہو گیا۔ وفد نے وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی بہترین سہولتوں اور گرمجوش استقبال پر خوشی کا اظہار کیا۔

    زائرین کا سفر ننکانہ صاحب میں واقع مشہور گردوارہ جنم استھان کی زیارت سے شروع ہوا، جو بابا گرو نانک کا جائے پیدائش ہے۔ گردوارہ انتظامیہ نے زائرین کا پُر تپاک استقبال کیا، اور انہوں نے پاکستان کی امن و خوشحالی کے لیے دعائیں کیں۔وفد نے دیگر اہم مذہبی مقامات کی زیارت بھی کی، جن میں میرپور ماتھیلو میں دربار ، عقیل پور میں یوگ ماتا مندر، اور سکھر میں سادھو بیلا مندر شامل تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے سندھ کے شہر میرپور میں سوامی شادارام کی 316 ویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی شرکت کی۔

    زائرین نے ایویکوئیز ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی) اور پاکستانی حکومت، خاص طور پر وزارت داخلہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے سفر کے دوران رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولتیں اور سیکیورٹی کی بہترین انتظامات کیے۔ انہوں نے حکومت اور وزارت داخلہ کی مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھی تعریف کی، خاص طور پر ای ویزا کی سہولت کے آغاز کو سراہا۔زائرین نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ تمام بھارتی شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت پر غور کریں، جس سے ان کے مطابق پاکستان میں مذہبی سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ مختلف مقدس مقامات پر مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد، یہ وفد واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت واپس روانہ ہو گیا۔

    رپورٹ:زبیر قصوری، اسلام آباد

    حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

    مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

  • حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

    حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

    کراچی: حکومت سندھ نے صوبے میں آرٹس، سینما اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت سندھ نے عوامی آگہی بڑھانے، مقامی ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے اور دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلاف بیانیہ سازی کرنے کے لئے سینئر آرٹسٹوں، ڈرامہ نگاروں اور فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے سندھ کے سینئر وزیرِ اطلاعات، شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت کراچی میں کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ حکومت کے مختلف اعلیٰ افسران اور بورڈ ممبران نے شرکت کی۔شرجیل انعام میمن نے اجلاس میں کہا کہ حکومت سندھ نے صوبے میں جمہوری اقدار کے فروغ اور صحت مند معاشرتی ترقی کے لئے ڈراموں، فلموں اور دیگر تخلیقی کاموں کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کا قیام معاشرتی نشونما کے لیے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مقامی تخلیقی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔اجلاس میں انہوں نے ہدایت دی کہ نئے فلم نویسوں اور ڈرامہ نویسوں کو خصوصی طور پر حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ اپنی تخلیقات کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ مزید برآں، بورڈ کی طرف سے تخلیقی کام کو مکمل کرنے کے لئے ضروری مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ یہ کام باقاعدہ اور معیاری طریقے سے مکمل ہو سکے۔

    اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری اطلاعات، ندیم الرحمٰن میمن، ڈائریکٹر جنرل پی آر، سلیم خان، ڈائریکٹر فلمز، حزب اللہ میمن اور دیگر حکومتی نمائندے بھی موجود تھے۔ بورڈ کے ممبران میں قاضی اسد عابد، وردہ سلیم، نمرہ ملک، اذان سمیع خان اور حسن اصغر نقوی بھی شریک ہوئے۔

    ڈی جی پی آر سندھ سلیم خان نے اجلاس میں کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کی تشکیل کے مقاصد اور پالیسی گائیڈ لائنز سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ قاضی اسد عابد نے بورڈ کی فوری تشکیل اور اس کے فعال ہونے کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بورڈ نئے ٹیلنٹ کو اہمیت دے گا اور ان کی تخلیقات کو بہتر مواقع فراہم کرے گا۔

    اجلاس کے دوران، بورڈ کے ممبران نے کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کو موثر بنانے کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں اور آئندہ ہفتے تک پروڈکشن ہاؤسز سے ان کے کام کا بنیادی خاکہ طلب کرنے پر زور دیا تاکہ آئندہ اجلاس میں ان کے کام کا جائزہ لیا جا سکے۔

    حکومت سندھ کی یہ کوششیں صوبے کی تخلیقی صنعت کو نئی جہت دینے اور مقامی سطح پر ثقافتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔

    راولپنڈی: ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رہے گا، اے سی سٹی ملک حاکم خان

    مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

  • ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس امین الدین

    ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس امین الدین

    سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز کے خلاف اپیل پر آئینی بینچ میں سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ مانتا ہوں شواہد کی بنیاد پر ہی نیت کو جانچا جائے گا۔

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل ہیں،
    جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، بینچ میں شامل ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد بلال بینچ میں شامل ہیں،دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جرم کی نوعیت سے طے ہوتا ہے کہ ٹرائل کہاں چلے گا، اگر سویلین کے جرم کا تعلق آرمڈ فورسز سے ہو تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں جائے گا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم نیت کو بھی دیکھ سکتے ہیں، جرم کرنے والے کا مقصد کیا تھا، کیا جرم کا مقصد ملک کے مفاد کے خلاف تھا،وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ عدالت کا پوچھا گیا سوال شواہد سے متعلق ہے، سپریم کورٹ براہِ راست شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرم کرنے والے کی نیت کیا تھی، یہ ٹرائل میں طے ہو گا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ مانتا ہوں شواہد کی بنیاد پر ہی نیت کو جانچا جائے گا، پہلے بنیادی اصول تو طے کرنا ہے، ڈیفنس آف پاکستان سے کیا مراد ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جنگ کے خطرات ڈیفنس آف پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جسٹس حسن اظہر رضوی صاحب نے ایک سوال کیا تھا کہ جی ایچ کیو پر حملہ، ایئر بیس کراچی پر حملے کا کیس ملٹری کورٹ کیوں نہیں گیا؟ اس سوال کا جواب 21 ویں آئینی ترمیم کے فیصلے میں موجود ہے،وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ21 ویں آئینی ترمیم کیس میں جی ایچ کیو حملے کی تفصیل کا ذکر ہے، 21 ویں ترمیم کیس میں ایئر بیس حملہ اور فوج پر حملے کا ذکر ہے، 21 ویں ترمیم کیس میں عبادت گاہوں پر حملوں کی تفصیل کا ذکر ہے، دہشت گردی کے یہ تمام واقعات بتائیں گے کہ 21 ویں آئینی ترمیم ہوئی کیوں تھی، عدالتی فیصلوں میں ملٹری کورٹ تسلیم شدہ ہیں، آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا گٹھ جوڑ ہو تو ملٹری ٹرائل ہو گا، ملٹری کورٹ میں ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا ہوتا ہے، بات سویلین کے ٹرائل کی نہیں ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ جرم کے گٹھ جوڑ سے کیا مراد ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ گٹھ جوڑ سے مراد جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا گٹھ جوڑ کے ساتھ جرم کا ارتکاب کرنے والے کی نیت بھی دیکھی جائے گی،جسٹس امین الدین نے کہا کیا کہ ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملزم کہہ سکتا ہے کہ میرا یہ جرم کرنے کا ارادہ نہیں تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اگر جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہے تو ٹرائل فوجی عدالت کرے گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نیت کا جائزہ تو ٹرائل کے دوران لیا جا سکتا ہے

  • مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

    مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ وینا ملک نے ایک بار پھر مفتی قوی کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وینا ملک حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں بطور مہمان شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے مختلف اہم موضوعات پر گفتگو کی۔

    مفتی قوی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وینا ملک نے کہا کہ مفتی قوی کو یہ حق نہیں کہ وہ میرے کام پر ٹیلی ویژن پر کھلے عام تنقید کریں۔ میرے پاس آزادی ہے کہ میں اپنی مرضی کے مطابق جو چاہوں کروں، اور کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ میری زندگی یا فیصلوں پر اُنگلی اٹھائے۔قرآن پاک کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وینا ملک نے نوجوان نسل کو قرآن کی آیات پڑھنے اور سمجھنے کی ترغیب دی، تاکہ وہ ذاتی ترقی اور روحانی آزادی حاصل کر سکیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر شخص کو اپنی زندگی میں اچھے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ فیصلے اُس کی ذاتی ترقی سے جڑے ہوتے ہیں۔

    مذہبی سفر کے حوالے سے سوالات اٹھانے والے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے وینا ملک نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ اگر کوئی عورت اسکرٹ پہن کر اللّٰہ سے معافی مانگے تو اُسے معافی نہیں ملے گی؟ وینا نے اس بات کی وضاحت کی کہ اُنہوں نے حجاب پہننے کا فیصلہ اپنی اندرونی روحانی تبدیلی کی بنا پر کیا تھا، اور یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کی بجائے ذاتی طور پر لیا تھا۔اداکارہ نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ وہ دل سے ابھی بھی ویسی ہی انسان ہیں جیسی وہ پہلے تھیں اور کسی کی رائے سے اُن کی شخصیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وینا ملک نے حافظ احمد کی پوڈکاسٹ میں مفتی قوی کے ساتھ اپنے ماضی کے تنازع کے بارے میں بات کی تھی۔ وینا نے بتایا کہ مفتی قوی ان کی اور دیگر اداکاراؤں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور ایک مرتبہ مفتی قوی نے انہیں کہا تھا کہ "آپ کا حسن و جمال بھی ہے”، جس پر وینا ملک نے حیرت کا اظہار کیا اور مفتی قوی سے سوال کیا کہ انہیں یہ کیسے پتہ چلا؟ ان کے اس سوال پر مفتی قوی غصے میں آگئے تھے۔

    ماضی میں مفتی قوی نے وینا ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر "بگ باس” جیسے پروگرام دیکھ سکتی ہیں؟ جس پر وینا ملک نے جواب دیا تھا کہ ان کے بچے اُن کے کام سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اُن کے ساتھ کوئی بھی پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    مفتی قوی کی پنجاب حکومت کے قریب ہونے کی کوشش ناکام

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

  • راولپنڈی، انسداد دہشتگردی عدالت کے قریب فائرنگ،دو زخمی

    راولپنڈی، انسداد دہشتگردی عدالت کے قریب فائرنگ،دو زخمی

    راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے قریب ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق، نامعلوم ملزمان نے انسداد دہشتگردی عدالت کے نزدیک فائرنگ کی اور پھر موقع سے پیدل فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ فائرنگ کا واقعہ انتہائی حساس علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک جانب سیف سٹی اور دوسری جانب کمشنر آفس موجود ہے۔ اس علاقے کی حساسیت کے باوجود ملزمان کی فائرنگ کے بعد فرار ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق، کرائم سین پر کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے ایک ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    زخمی ہونے والوں میں سے ایک شخص کی شناخت عاصم کے نام سے ہوئی ہے، جسے کمر کے نچلے حصے میں گولیاں لگیں۔ زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے اور اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے اور واقعے کی وجوہات کا پتا چلایا جا سکے۔

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

  • عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے شروع کیا گیا القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک اور ناکامی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    سیاسی پشت پناہی اور بھرپور تشہیر کے باوجود، اس یونیورسٹی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صرف 200 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس کا عملی طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے ان دونوں شخصیات کے خلاف مختلف الزامات سامنے آ چکے ہیں جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیب (قومی احتساب بیورو) نے ایک کیس دائر کیا ہے جس میں ان پر 190 ملین پاؤنڈز کی مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے۔

    اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مالی وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا ، اس کیس میں ان دونوں کی قانونی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے کی وجہ سےسزا سنائی جائے گی،

    واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کیس کا فیصلہ تین بار مؤخر ہو چکا ہے، لیکن اب احتساب عدالت کے جج نے 17 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک طرف جہاں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہیں دوسری طرف اس کے جال میں پھنس کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت ان کی مستقبل کی سیاست اور قانونی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    بنگلہ دیش کے انسداد کرپشن کمیشن نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کے خلاف مختلف کرپشن کیسز دائر کر دیے ہیں۔ ان پر اور ان کے قریبی رشتہ داروں پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے اراضی حاصل کی اور اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ اس کے علاوہ، ان کی بہن صائمہ اور دیگر افراد پر بھی طاقت کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    انسداد کرپشن کمیشن کی تحقیقات کے مطابق شیخ حسینہ کی بھانجی، برطانوی وزیر ٹیولپ صدیق پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کرپشن کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ، 2015 میں روس کے ساتھ جوہری پلانٹ کے معاہدے میں قیمت بڑھانے کے معاملے پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ شیخ حسینہ کے خاندان پر 3.9 ملین پاؤنڈ کی بدعنوانی کے الزامات ہیں، جن کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ٹیولپ صدیق پر الزام ہے کہ انہوں نے 10 ارب پاؤنڈ کے روپور پاور پلانٹ منصوبے میں کرپشن کی۔ ان پر اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف کرپشن کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ اس معاملے میں بنگلہ دیش میں قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔اس کے ساتھ ہی، شیخ حسینہ اور ان کے حکومتی اقدامات کے خلاف عالمی سطح پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی دائر کیے گئے ہیں۔ شیخ حسینہ کے خاندان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بنگلہ دیش میں گرفتاری کے احکام جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 45 سابق وزراء کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

    اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر شیخ حسینہ کی کرپشن ثابت ہو جاتی ہے تو کیا اس سے ان کے اور بھارت کے درمیان "مودی-حسینہ گٹھ جوڑ” کی حقیقت عالمی سطح پر بے نقاب ہو جائے گی؟ اور کیا اس معاملے پر عالمی سطح پر تحقیقات کی جائیں گی؟یہ تمام پیشرفتیں بنگلہ دیش کے سیاست میں اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور اس بات کا انحصار آئندہ آنے والے دنوں میں ہونے والی تحقیقات پر ہے کہ یہ کیسز کس حد تک پیشرفت کرتے ہیں۔

    کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

    ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین اسپورٹس میں شرکت سے روکنے کا بل منظور

  • کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

    کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

    کراچی: نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور ڈی پی ورلڈ کی جوائنٹ وینچر کمپنی کے ذریعے متعدد تجارتی سامان سے بھرے کنٹینروں کا پہلا قافلہ کراچی سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں اداروں کے درمیان تاریخی شراکت داری کا نتیجہ ہے اور خطے میں تجارت اور روابط کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

    کراچی میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او، عزت مآب جناب سلطان احمد بن سولیم نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے کارگو سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈی پی ورلڈ اور این ایل سی کے سینئر حکام اور معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔جناب سلطان احمد بن سولیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "دونوں اداروں کے درمیان اس اشتراک سے پورے خطے میں رابطوں اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا، "این ایل سی کی خطے میں موجودہ حیثیت اور ڈی پی ورلڈ کی عالمی سطح پر موجودگی سے بے پناہ کاروباری مواقع پیدا ہوں گے، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔”سلطان احمد بن سولیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس پیشرفت سے کاروبار میں آسانی پیدا ہوگی اور ترسیل کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

    ڈائریکٹر جنرل این ایل سی، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اس اقدام سے علاقائی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور خطے کی کاروباری برادری کو بھرپور فائدہ ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا، "ترسیل کا مربوط نظام اور بلا رکاوٹ تجارت پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں مددگار ثابت ہوں گے۔”

    یہ سروس دونوں اداروں کے عزم کا عملی اظہار ہے جو علاقائی تجارت کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی یہ مشترکہ کوشش نہ صرف کاروباری مواقع پیدا کرے گی بلکہ خطے کے اقتصادی منظرنامے کو بھی نئی سمت دے گی۔

    ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین اسپورٹس میں شرکت سے روکنے کا بل منظور

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین اسپورٹس میں شرکت سے روکنے کا بل منظور

    ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین اسپورٹس میں شرکت سے روکنے کا بل منظور

    امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین اسپورٹس میں شرکت سے روکنے کا بل منظور کرلیا

    امریکہ کی ایوان نمائندگان نے حال ہی میں ایک متنازع بل کو منظور کیا ہے جس کے تحت ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین کی اسپورٹس میں حصہ لینے سے روک دیا جائے گا۔ اس بل پر ہونے والی ووٹنگ میں 218 ووٹ پڑے جن میں 2 ڈیموکریٹک ارکان بھی شامل تھے، جو کہ اس بل کے حق میں ووٹ دینے والے تھے۔

    اس بل کا مقصد یہ ہے کہ وہ ٹرانس جینڈر خواتین جو پیدائش کے وقت مرد تھیں، انہیں وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والے اسکولوں یا یونیورسٹیوں کی خواتین اسپورٹس ٹیموں میں کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں خواتین کی کھیلوں کی مساوات اور مواقع کو محفوظ رکھیں گی، کیونکہ ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کے جسمانی فرق کے سبب خواتین کی ٹیموں میں مقابلہ غیر منصفانہ ہو سکتا ہے۔خبر ایجنسیوں کے مطابق، اب یہ بل سینیٹ میں پیش ہوگا جہاں اس پر ووٹنگ کی جائے گی۔ تاہم، سینیٹ میں اس بل کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں اور یہ ممکنہ طور پر قانون بننے کی جانب نہیں بڑھ پائے گا۔

    امریکی سیاست میں اس نوعیت کے بلوں پر گہری بحث جاری ہے اور مختلف حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے اس بل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ خواتین کی اسپورٹس کے تحفظ کے لیے ضروری قدم ہے۔