Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مشہور کمپوزر آرنلڈ شوئن برگ کا میوزک کیٹلاگ آگ میں جل کر تباہ

    مشہور کمپوزر آرنلڈ شوئن برگ کا میوزک کیٹلاگ آگ میں جل کر تباہ

    دنیا کے مشہور آسٹریا-امریکی کمپوزر آرنلڈ شوئن برگ کے کام کا ایک تفصیلی کیٹلاگ، جس میں اصل اسکورز اور مسودے شامل تھے، جنگل کی آگ میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ خبر شوئن برگ کے خاندان اور ان کے آرکائیول سینٹر کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔

    بیلمونٹ میوزک پبلشرز، جو شوئن برگ کے اسکورز کو دنیا بھر کے پرفارمرز کو کرائے پر دیتی تھی، "پالیسیڈز کی آگ کی سب سے بڑی متاثرین میں سے ایک” تھی، شوئن برگ کے بیٹے لیری شوئن برگ نے اپنے فیس بک بیان میں لکھا۔انہوں نے کہا، "سیلز اور کرائے کے تمام مواد کا مکمل انوینٹری،جس میں کچھ مسودے، اصل اسکورز اور چھاپی ہوئی تخلیقات شامل تھیں،آگ کی نذر ہو گئی ہے۔” "ایک ایسی کمپنی جو صرف شوئن برگ کے کاموں پر مرکوز تھی، یہ نقصان صرف جائیداد کی مادی تباہی نہیں بلکہ ایک ثقافتی طور پر گہرا دھچکا بھی ہے۔”

    بیلمونٹ میوزک پبلشرز کی بنیاد 1965 میں رکھی گئی تھی، شوئن برگ کی وفات کے پندرہ سال بعد۔ کمپنی نے اس کیٹلاگ میں شامل کاموں کی اشاعت، کرایہ اور فروخت کا انتظام کیا تھا، جو "بیسویں صدی کے کلاسیکی سازوں کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔”شوئن برگ کو 12 ٹون سسٹم کی تخلیق کے لیے سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال کیلیفورنیا میں گزارے جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (یو ایس سی) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (یو سی ایل اے) میں تدریس دی۔

    اس کیٹلاگ کے نقصان کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے موسیقار اب بیلمونٹ میوزک پبلشرز کے ذریعے فراہم کردہ شوئن برگ کے کاموں تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے، جسے کمپنی نے "تباہ کن” نقصان قرار دیا ہے۔ کمپنی اب اپنے باقی ماندہ مجموعوں کو ڈیجیٹلائز کرنے اور انہیں آن لائن شیئر کرنے کی کوشش کرے گی۔

    لاس اینجلس میں جنگلات کی آگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری
    لاس اینجلس کے میئر کیرن بیس نے پیر کے روز لاس اینجلس کاؤنٹی میں جنگلات کی آگ کے بعد بحالی کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔اب تک تین مختلف آگوں کی وجہ سے 60 مربع میل سے زیادہ کا رقبہ جل چکا ہے۔میئر بیس نے اپنے بیان میں کہا، "یہ بے مثال قدرتی آفات بے مثال ردعمل کی متقاضی ہیں جو گھروں، کاروباروں اور کمیونٹیز کی تعمیر نو کو تیز کریں گے۔”اس آرڈر کے تحت درج ذیل اقدامات کیے جائیں گے، ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی جو متاثرہ علاقوں سے ملبہ صاف کرے گی اور طوفانی خطرات کو کم کرے گی۔ متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع سسٹم قائم کیا جائے گا تاکہ تمام تعمیراتی اجازت ناموں کو جلدی سے جاری کیا جا سکے، تمام عمارتوں کی اجازت ناموں کا جائزہ تیز کیا جائے گا، ریاستی ماحولیاتی جائزے کو نظرانداز کیا جائے گا، اور "جیسے کا ویسا” تعمیرات کی اجازت دی جائے گی۔ شہر کے محکمہ جات متاثرہ علاقوں میں نئے گھروں کی تعمیر کے لیے اجازت ناموں کو تیز کریں گے، بشرطیکہ وہ منصوبہ بندی کے ضوابط کے مطابق ہوں۔ اجازت نامے کا جائزہ 30 دنوں میں مکمل کرنا ہوگا، اور نئے گھر پچھلے گھروں سے 10 فیصد زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ شہر لاس اینجلس ان افراد کے لیے 1,400 رہائشی یونٹس فراہم کرے گا جنہوں نے اپنے گھر کھو دیے ہیں، اور عمارت اور حفاظت کے محکمہ کو ان یونٹس کے لیے عارضی تصدیقیں جاری کرنے کی ہدایت کرے گا۔

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    ایلون مسک ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خرید سکتے ہیں

  • بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ 13 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانتوں کے کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 فروری تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو برہمی کا سامنا کیا۔ جج نے فائلیں تیار کر کے نہ لانے پر ان کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، عدالت میں آ کر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔” اس پر وکیلوں نے درخواست کی کہ ضمانت کی تمام درخواستوں پر 7 فروری تک تاریخ مقرر کی جائے۔

    وکلاء کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے معاملے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، فیصلے کی تحریر میں بھی آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں۔” جج نے مزید کہا کہ جب عدالتی حکم نامہ جاری ہو گا تو اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

    وکیل قدیر خواجہ کی جانب سے بولنے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر یقین کریں، جب آپ عدالت پر یقین کریں گے تو لوگ بھی آپ پر یقین کریں گے۔” یہ بیان جج کی جانب سے وکیلوں کو عدالت کے عمل پر اعتماد رکھنے کی ہدایت کے طور پر تھا۔

    ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ،کانپتے ہوئے دیکھا ، ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن اُنہوں نے ہمیں سزا سنانا تھی اور وہ سنائی ، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے، عمران خان اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اسکے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے، ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا، کانپتے ہوئے دیکھا ہے، ایک جج صاحب کا بلڈپریشر دو سو پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی، ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں عمران خان جیل میں آئین کی بالادستی کے لئے قید ہیں.اسلام آباد میں گاڑی سے رینجرز اہلکاروں کو ٹکر مارنے کے کیس کی سماعت انسداد دِہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اور جج طاہر عباس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس میں جج نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔اس پر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ نہیں کوئی بات نہیں، ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے،جج طاہر عباس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے اعتماد نہیں اٹھا، جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائیگی، آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں7 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2، تھانہ کراچی کمپنی میں 2، تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔عدالت نے 7 فروری 2025 کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے پولیس کو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتیں 7 فروری تک برقرار رہیں گی۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

  • خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    12 اور 13 جنوری کو خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کامیاب کارروائیوں میں 8 خوارج ہلاک ہوگئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 12 اور 13 جنوری کو دو اہم کارروائیاں کیں۔ پہلی کارروائی ٹانک کے علاقے میں کی گئی، جہاں خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔دوسری کارروائی ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مزید 2 خوارج مارے گئے۔ ان دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولیاں اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا اور علاقے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا۔

    دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائیاں حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا حصہ ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنۂ خوارج کے مکمل خاتمے کیلئے پوری قوم اپنے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کے نڈر جوانوں پر فخر ہے، اور حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحرک ہیں۔

    یہ کارروائیاں خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک بھر میں امن و امان قائم کرنا اور دہشت گردوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب ہونے سے روکنا ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور ملک میں امن و سکون قائم کیا جائے گا۔

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    حماس پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گا، اسرائیلی حکام

  • پشاور ہائیکورٹ ، کان کنی میں مرکری کے استعمال پر پابندی عائد

    پشاور ہائیکورٹ ، کان کنی میں مرکری کے استعمال پر پابندی عائد

    پشاور ہائیکورٹ نے کوہاٹ میں سونے کی کان کنی کے دوران مرکری کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد خان پر مشتمل بنچ نے اس سلسلے میں درخواست کی سماعت کی۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کوہاٹ کے علاقے میں سونے کی کان کنی کے دوران مرکری کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے نہ صرف ماحول بلکہ مقامی پانی کی کیفیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکری کو سونا نکالنے کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے، جسے پھر آگ لگا کر بخارات میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس کے باعث پانی میں زہر آلودگی بڑھ رہی ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ مرکری کا استعمال عالمی سطح پر بھی خطرناک سمجھا جاتا ہے اور دنیا کے متعدد ممالک میں اس پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

    وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کان کنی میں مرکری کے استعمال پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے محکمہ معدنیات کے حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی اور سماعت ملتوی کر دی۔

    یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں معدنی وسائل کی کان کنی میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت بڑھ رہی ہے، اور عدالتیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں کہ قدرتی وسائل کا استحصال اس طرح نہ ہو کہ وہ انسانوں اور ماحول کے لیے مزید خطرات کا باعث بنے۔اس فیصلے سے مقامی عوام کو صاف پانی اور بہتر ماحول کے حوالے سے ایک نئی امید ملی ہے۔

    کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12 لاشیں نکال لی گئیں

    لاس اینجلس ،آگ نہ بجھ سکی، تیز ہوائیں، بجلی بند کرنے کا امکان

  • کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12   لاشیں نکال لی گئیں

    کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12 لاشیں نکال لی گئیں

    کوئٹہ: پانچ روز قبل سنجدی کے علاقے میں گیس بھرنے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں بیٹھ جانے والی کوئلہ کان کا سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام 12 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    چیف مائنز انسپکٹر کے مطابق، 9 جنوری کو سنجدی کی کوئلہ کان میں گیس بھرنے سے دھماکا ہوا تھا جس کی وجہ سے کان بیٹھ گئی تھی اور اس حادثے میں 12 کان کن پھنس گئے تھے۔ دھماکے کے بعد فوراً ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا، اور اب تمام کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔سرچ آپریشن کے دوران ایک اور کان کن کی لاش نکالی گئی، جس کے بعد اب تک تمام 12 کان کنوں کی لاشیں کان سے نکال لی گئی ہیں۔ انسپکٹر نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام متاثرہ افراد کی لاشیں نکالی جا سکیں۔چیف مائنز انسپکٹر کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی گئی ہے جو 15 دنوں میں مکمل تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    یاد رہے کہ 9 جنوری کو سنجدی کی کوئلہ کان میں گیس بھرنے کے باعث دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں کان بیٹھ گئی اور 12 کان کن اس حادثے میں پھنس گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے فوری طور پر آپریشن کا آغاز کیا تھا تاکہ کان میں پھنسے کان کنوں کو نکالا جا سکے۔اس واقعے کے بعد مقامی محنت کشوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کوئلہ کانوں میں حفاظت کے انتظامات مزید بہتر کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    لاس اینجلس ،آگ نہ بجھ سکی، تیز ہوائیں، بجلی بند کرنے کا امکان

  • نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا 9 مئی کے واقعات میں کسی فوجی افسر کے ملوث ہونے پر ٹرائل ہوا؟

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں جن افراد پر کیس چلایا گیا وہ ریٹائرڈ تھے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کنٹونمنٹ میں اگر کسی سپاہی کا سویلین کے ساتھ اختلاف ہو جائے تو کیس کہاں جائے گا؟وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ اختلاف الگ بات ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کے معاملے کو بہت وسعت دی جا رہی ہے،وکیل نے کہا کہ زمانہ امن میں بھی ملٹری امور میں مداخلت کرنے پر سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہی چلے گا۔

    لوگوں کا کور کمانڈر ہاؤس کے اندر جانا سیکیورٹی بریچ تو ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آخر کوئی ماسٹر مائنڈ بھی ہو گا، سازش کس نے کی،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سازش کرنے والے یا ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہو گا، سویلین کا ٹرائل اچانک نہیں ہو رہا، 1967ء سے قانون موجود ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے وزارتِ دفاع کے وکیل سے کہا کہ ذہن میں رکھیں ایف بی علی کیس سول مارشل لاء دور کا ہے، ذوالفقار علی بھٹو سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے، خواجہ صاحب آپ وزارت دفاع کے وکیل ہیں، ایک اہم سوال کا جواب دیں، 9 مئی کو لوگ کور کمانڈر ہاؤس میں پہنچ گئے؟ لوگوں کا کور کمانڈر ہاؤس کے اندر جانا سیکیورٹی بریچ تو ہے،وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ مظاہرین پر الزام املاک کو نقصان پہنچانے کا ہے، 9 مئی کے واقعہ میں کسی فوجی افسر کو چارج نہیں کیا گیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ 9 مئی کو جب ملٹری تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا، کیا کوئی مزاحمت کی گئی؟ ضروری نہیں گولی چلائیں۔وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ جانی نقصان نہ ہو اس کے لیے مکمل تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔

  • ایلون مسک  ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خرید سکتے ہیں

    ایلون مسک ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خرید سکتے ہیں

    چینی حکام ایک ممکنہ آپشن پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایلون مسک امریکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خرید سکتے ہیں، اگر یہ کمپنی متنازعہ پابندی کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔ اس بات کی تفصیلات سے واقف افراد کے مطابق، یہ منصوبہ اس صورت میں سامنے آیا ہے جب ٹک ٹاک پر امریکہ میں پابندی لگانے کی باتیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔

    بلوم برگ کے مطابق ٹک ٹاک کے امریکہ میں 170 ملین سے زیادہ صارفین ہیں، اور اس ایپ کو ایلون مسک کی کمپنی "ایکس” (X) کے ذریعے اشتہارات حاصل کرنے کی کوششوں میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی "xAI” بھی ٹک ٹاک کے ذریعے حاصل ہونے والے بڑے ڈیٹا سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، جس سے کمپنی کو اپنی AI ماڈلز کی ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔یہ منصوبہ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی جنگ اور ڈیٹا کی سیکیورٹی کی مسائل کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اگر ٹک ٹاک کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، تو ایلون مسک کا یہ اقدام چینی کمپنی کے لئے ایک نیا راستہ ہو سکتا ہے تاکہ وہ اپنے امریکی آپریشنز کو محفوظ رکھ سکے۔چین اور امریکہ کے حکام ابھی تک اس منصوبے پر کھل کر تبادلہ خیال نہیں کر رہے ہیں، لیکن اس خبر نے عالمی سطح پر تکنیکی اور کاروباری حلقوں میں گہری دلچسپی پیدا کر دی ہے۔

    لاس اینجلس ،آگ نہ بجھ سکی، تیز ہوائیں، بجلی بند کرنے کا امکان

    پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت

  • لاس اینجلس ،آگ نہ بجھ سکی، تیز ہوائیں، بجلی بند کرنے کا امکان

    لاس اینجلس ،آگ نہ بجھ سکی، تیز ہوائیں، بجلی بند کرنے کا امکان

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگی آگ کے نتیجے میں تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور تیز ہواؤں کی وجہ سے یہ آگ مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق، لاس اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی ہوئی آگ پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ آگ کی شدت کے باعث اب تک تقریباً 40 ہزار ایکڑ رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے، اور آگ کے اثرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تباہی کے نتیجے میں 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ کئی افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔مقامی حکام کے مطابق، آگ کے باعث 12 ہزار سے زائد مکانات اور عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور تقریباً 2 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس تباہ کن صورتحال کو قابو پانے کے لیے 12 ہزار سے زائد فائر فائٹرز، 1,100 فائر انجن، 60 طیارے اور 143 واٹر ٹینکرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں، تاہم ابھی تک ان تمام کوششوں کے باوجود آگ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔لاس اینجلس اور ونچورا کاؤنٹیز میں تیز ہوائیں چل رہی ہیں جو اس آگ کو مزید پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ یہ ہوائیں 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں جس کی وجہ سے جلتی ہوئی چیزیں اڑ کر دیگر علاقوں میں پھیل رہی ہیں۔ حکام کے مطابق، اس ہفتے کے دوران آگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔آگ کے شروع ہونے کے مقام کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر Palisades کے مقبول ہائیک ٹریل سے شروع ہوئی، تاہم اس کی درست وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    ہمیں قدرت کی جانب سے رحم کی ضرورت ہے، سربراہ فائر ڈیپارٹمنٹ کیلیفورنیا
    کیلیفورنیا فائر ڈیپارٹمنٹ کے نائب سربراہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں قدرت کی جانب سے رحم کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس فائر فائٹرز اور وسائل موجود ہیں، لیکن ہمیں وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس آتشزدگی پر قابو پا سکیں۔”

    اس کے علاوہ، کیلیفورنیا میں بارش کا موسم دسمبر سے مارچ تک ہوتا ہے، لیکن اس سال لاس اینجلس میں ابھی تک صرف 0.01 انچ بارش ہوئی ہے، جس کی وجہ سے آتشزدگی کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کب بجھے گی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا انحصار کئی عوامل پر ہے، جن میں ہوا کی رفتار اور بارش کے ہونے یا نہ ہونے جیسے عوامل شامل ہیں۔

    لاس اینجلس ڈپارٹمنٹ آف واٹر اینڈ پاور (LADWP) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں تیز ہواؤں کی پیش گوئی کے بعد، وہ بجلی کی فراہمی معطل کر سکتا ہے تاکہ ممکنہ آتشزدگی کے خطرات سے بچا جا سکے۔ اس وقت، لاس اینجلس میں فعال طور پر جنگلات کی آگ کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور مقامی فائر حکام لاس اینجلس ڈپارٹمنٹ آف واٹر اینڈ پاور سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ پاور لائنز کو ڈی انرجیائز کر دے تاکہ جنگلی آگ کی روک تھام کی جا سکے اور کمیونٹیز کی حفاظت کی جا سکے۔ لاس اینجلس ڈپارٹمنٹ آف واٹر اینڈ پاور نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وہ ان علاقوں میں رہائشیوں سے درخواست کرتا ہے جو آگ کے زیادہ خطرے میں ہیں، کہ وہ 48 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے لیے تیاری کریں۔ مزید یہ کہ بجلی کی فراہمی کی بحالی میں وقت لگے گا کیونکہ لاس اینجلس ڈپارٹمنٹ آف واٹر اینڈ پاور کی ٹیموں کو پہلے مشینری کا معائنہ اور مرمت کرنا پڑے گا۔سیل فون کو مکمل طور پر چارج رکھیں،پورٹیبل چارجر یا پاور بینک کو مکمل چارج رکھیں،فلیش لائٹ اور اضافی بیٹریاں قریب رکھیں، اور بجلی کی بندش کے دوران موم بتیوں کا استعمال نہ کریں۔ لاس اینجلس ڈپارٹمنٹ آف واٹر اینڈ پاور نے بتایا کہ اتوار کی شام تک انہوں نے پچھلے ہفتے کی آگ سے متاثر ہونے والے تمام صارفین کو بجلی فراہم کر دی تھی، سوائے ان علاقوں کے جہاں فائر حکام نے بجلی کی فراہمی بند کر دی تھی۔

    لاس اینجلس ڈپارٹمنٹ آف واٹر اینڈ پاور اور دیگر یوٹیلیٹی کمپنیوں جیسے ساؤتھرن کیلیفورنیا ایڈیشن نے پہلے فائر فائٹرز کو پاور لائنز سے بچانے کے لیے بجلی بند کر دی تھی، لیکن گزشتہ ہفتے جب فائر فائٹرز نے ہائیڈرنٹس سے پانی لینے کی کوشش کی تو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایٹون فائر کے دوران ایلتادینا میں اس مسئلے کا سامنا ہوا، جہاں ہائیڈرنٹس کے خشک ہونے کی وجہ سے فائر فائٹرز کو پانی فراہم کرنے میں دشواری ہوئی۔

    پیر کی شام کو ایک نئی آگ، "آٹو فائر”، وینچورا کاؤنٹی میں بھڑک اٹھی ہے، جسے مقامی فائر ڈیپارٹمنٹس نے فوراً جواب دیا۔ یہ آگ 5 ایکڑ کے رقبے تک پھیل چکی تھی اور اس کے پھیلاؤ کی رفتار معتدل تھی۔نیشنل ویدر سروس کے مطابق، لاس اینجلس کے علاقے میں 30-50 میل فی گھنٹہ کی ہوائیں چل رہی ہیں، اور کچھ پہاڑی علاقوں میں ہواؤں کی رفتار 60 میل فی گھنٹہ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ان تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے، اور 2 ملین سے زیادہ افراد کو "انتہائی خطرناک آگ” کے علاقے میں شامل کیا گیا ہے۔

    ایٹون فائر کے دوران، ایلتادینا کے رہائشی انتھونیو انتونیٹی نے سات گھروں کو بچایا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پانی کی فراہمی بند ہو گئی تھی، لیکن انہوں نے پڑوسیوں کے گھروں میں پانی کی ہوز کو کھول کر ایک حفاظتی پلان بنایا تھا جس کی مدد سے آگ کو اپنے گھر تک پہنچنے سے روکا۔اسی دوران، 95 سالہ ڈالیس کری نے ایٹون فائر میں اپنی جان گنوا دی۔ ان کی پوتی، ڈالیس کیلی، نے بتایا کہ وہ اپنی دادی کو بچانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن بدقسمتی سے ان کے گھر کی مکمل طور پر تباہی ہوگئی۔

    2023 میں ریکارڈ 2.04 ارب ڈالر کا پاور بال جیک پاٹ جیتنے والے ایڈون کیسٹرو نے حال ہی میں اپنی کچھ جائیدادیں آگ کی وجہ سے کھو دیں۔ ان میں سے ایک 3.85 ملین ڈالر کی مالبیو میں واقع جائیداد پالیسڈیز فائر کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

    کیلیفورنیا کے وینچورا ویلی اور سان ڈیاگو کے درمیان ممکنہ طور پر مزید آگ لگنے کے خطرے کے پیش نظر، فائر فائٹرز اور ایمرجنسی عملہ ہائی الرٹ پر ہیں۔ اس وقت تک کسی بھی بارش کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے اور ہوا کی رفتار میں اضافے کی توقع ہے جو موجودہ آگ کے علاقوں کے شمال میں محسوس کی جائے گی۔ کیلیفورنیا فائر انفارمیشن آفیسر، ڈیوڈ اکونیا نے سی این این کو بتایا کہ "جو علاقے ابھی تک نہیں جلے ہیں یا جو ابھی تک آگ کی لپیٹ میں نہیں آئے، وہ سب ممکنہ آغاز ہو سکتے ہیں۔ زمین پر اتنا ایندھن موجود ہے، جس کا مطلب گھاس اور جھاڑیوں سے ہے۔”جب ان سے پوچھا گیا کہ آئندہ ہفتوں اور مہینوں کے لیے خطرے کا اندازہ کیا ہے، تو اکونیا نے بتایا کہ کیلیفورنیا فائر نے اب "آگ کے موسم” کی اصطلاح کو ختم کر دیا ہے۔ "ہم اب اسے ‘آگ کا سال’ کہتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔ہر آگ کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں، اور ہر علاقے کی متعلقہ حکام اپنی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اکونیا نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک ان تحقیقات کے نتائج نہیں ملے، لیکن جیسے ہی ملیں گے، ہم ان کا اعلان کر دیں گے۔”آگ کی صورتحال کے پیش نظر، حکام کی جانب سے فوری اقدامات اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں مزید آگ کی تباہی کو روکا جا سکے۔

    یہ آتشزدگیاں اور ان کے اثرات لاس اینجلس اور اطراف کے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن رہی ہیں، اور حکام اور مقامی لوگ اس وقت جنگل کی آگ کی روک تھام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔

    حماس پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گا، اسرائیلی حکام

    سوات کی تائیکوانڈو کھلاڑی عائشہ ایاز کا قلعہ بالا حصار میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر کا دورہ

  • حماس پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گا، اسرائیلی حکام

    حماس پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گا، اسرائیلی حکام

    اسرائیلی حکام کے مطابق، حماس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ دوحہ میں جاری جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گا، جو کہ گزشتہ کئی ماہ میں اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کی طرف ایک اہم اشارہ ہے۔

    اسرائیلی حکام نے محتاط انداز میں امید ظاہر کی ہے کہ ایک معاہدہ جلد اعلان کیا جا سکتا ہے جو 15 ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرے گا، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے والی لڑائی کو روک دے گا، غزہ کے محاصرے میں مزید امداد پہنچانے کی اجازت دے گا، اور اکتوبر 7، 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد حماس کے قبضے میں لیے گئے درجنوں یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنائے گا۔حماس اور اس کے اتحادی ابھی تک اسرائیل سے لیے گئے 251 یرغمالیوں میں سے 94 کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں، جن میں سے کم از کم 34 ہلاک ہو چکے ہیں،

    ایک سینئر اسرائیلی حکام نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل کو یقین ہے کہ 33 یرغمالیوں میں سے زیادہ تر زندہ ہیں جو پہلے مرحلے میں آزاد ہوں گے، لیکن مرے ہوئے یرغمالیوں کی لاشیں بھی آزاد ہونے والوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ایک ابتدائی 42 دن کی جنگ بندی کے دوران ہوگا۔اس سینئر اسرائیلی حکام نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کی حد تک بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اسرائیل معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد فوراً اسے نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو اپنی خارجہ پالیسی پر خطاب کرتے ہوئے اسی قسم کی امید ظاہر کی اور کہا کہ امریکہ "اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سخت دباؤ ڈال رہا ہے”۔”ہم نے جو معاہدہ ترتیب دیا ہے وہ یرغمالیوں کو آزاد کرے گا، لڑائی کو روک دے گا، اسرائیل کی سیکیورٹی فراہم کرے گا اور غزہ کے فلسطینیوں تک بڑی مقدار میں انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دے گا، جو اس جنگ میں بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں جس کا آغاز حماس نے کیا تھا۔ وہ جہنم سے گزرے ہیں،” بائیڈن نے کہا۔

    دریں اثنا، صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز میکس کو بتایا کہ ان کی سمجھ کے مطابق "ایک معاہدہ طے پا چکا ہے اور وہ اس پر دستخط کر رہے ہیں”۔ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے قبل ازیں صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کے حکام کے ساتھ مل کر مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ وہ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل عارضی جنگ بندی معاہدہ حاصل کر لیں گے۔

    ایک سفارتی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ معاہدے کے کسی بھی مسئلے کو حتمی شکل دینے کے لیے دوحہ میں آخری مرحلے کی بات چیت منگل کو متوقع ہے۔ اسی دن، کچھ یرغمالیوں کے خاندانوں کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا ہے، جو یرغمالیوں اور غائب خاندانوں کے فورم کے مطابق ہوگا۔اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کی رہائی ایک اہم سنگ میل ہوگی۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت 16 دن کے بعد شروع ہوگی، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہوگا۔اس معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج اس وقت کے لیے فلادلفی کوریڈور میں موجود رہیں گی، جو کہ مصر اور غزہ کی سرحد کے قریب ایک تنگ رقبہ ہے۔ اس کوریڈور میں اسرائیلی فوج کی موجودگی نے ستمبر میں مذاکرات کے دوران ایک ممکنہ معاہدے کو ناکام بنا دیا تھا۔

    اسرائیل غزہ کے اندر ایک بفر زون بھی برقرار رکھے گا، تاہم اس کے اندر کی تفصیلات پر مذاکرات جاری ہیں۔ ایکحماس کے عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ گروپ اس بفر زون کو 7 اکتوبر سے قبل والی 300-500 میٹر کی حد تک واپس دیکھنا چاہتا ہے، جب کہ اسرائیل 2000 میٹر کی درخواست کر رہا ہے۔مغربی کنارے میں فلسطینی قیدیوں کو آزاد نہیں کیا جائے گا جو اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث ہیں، بلکہ انہیں غزہ یا بیرون ملک منتقل کیا جائے گا۔اسرائیلی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معاہدے میں پیشرفت ہوئی ہے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیعہ کی دوحہ میں ثالثوں کے ساتھ ملاقات کے بعد مذاکرات میں "کامیابی” کی خبر آئی ہے۔

    پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت

    سیاست میں نہیں آنا،لیکن خدمت کیلئے تیار ہوں، اسد عمر

  • پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت

    پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت

    پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر سامنے آئے ہیں، جو پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، اور حالیہ برسوں میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ دہشت گرد پاکستانی علاقے میں دراندازی کی کوششیں کرتے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے علاوہ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ "دہشت گردوں کو افغانستان میں امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے”، اور یہ اسلحہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس سے خطے کی سلامتی کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہشت گردوں کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اس بات کی گواہ ہیں۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 11 جنوری 2025 کو ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے دوسالی میں دو الگ الگ انٹیلی جنس آپریشن کیے، جن کے دوران چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ دو کو گرفتار کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جن میں AK-47، M4، اور Drangunov جیسے جدید ہتھیار شامل تھے۔اسی دوران، ایک اور آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں کیا گیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور دو زخمی ہوئے۔ ان کے قبضے سے بھی غیر ملکی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 9 دسمبر 2024 کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں بھی ایک انٹیلی جنس آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ اس آپریشن کے دوران بھی غیر ملکی اسلحہ جیسے M16-A2، M4، اور AK-47 برآمد ہوئے۔مزید برآں، 10 نومبر 2024 کو شمالی وزیرستان میں ایک اور کامیاب آپریشن کے دوران دس دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، اور ان کے قبضے سے M16-A4، M4، اور AMV-65 جیسے جدید اسلحے کا ذخیرہ برآمد ہوا۔

    افغانستان سے پاکستان میں جدید غیر ملکی اسلحے کی سمگلنگ اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کا اس اسلحے کو پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عوام کے خلاف استعمال افغان عبوری حکومت کے اس دعوے پر سوالیہ نشان ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔امریکہ نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے تھے، جن میں سے 300,000 انخلاء کے وقت افغانستان میں باقی رہ گئے تھے۔ پینٹاگون کے مطابق، 2005 سے اگست 2021 تک افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا گیا تھا۔ امریکی انخلا کے بعد، یہ اسلحہ پاکستان میں دہشت گردوں کی سرحد پار کارروائیوں میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

    یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان عبوری حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھی محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے۔ اس اسلحے کی موجودگی اور اس کے استعمال نے پاکستان کی داخلی سلامتی کو متاثر کیا ہے اور خطے میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    پاکستانی حکام کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں موجود اسلحے کی سمگلنگ کو روکنے اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے کے لیے افغان حکومت پر دباؤ ڈالے۔

    پاکستان جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کا خواہاں ہے،وزیر خزانہ

    سوات کی تائیکوانڈو کھلاڑی عائشہ ایاز کا قلعہ بالا حصار میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر کا دورہ