Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فارم پرپارٹی،شہری پریشان،10 لڑکیوں سمیت 28 گرفتار،شراب،اسلحہ برآمد

    فارم پرپارٹی،شہری پریشان،10 لڑکیوں سمیت 28 گرفتار،شراب،اسلحہ برآمد

    لاہور،برکی پولیس نے ایک بروقت کارروائی کرتے ہوئے 10 لڑکیوں سمیت 28 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    یہ کارروائی پولیس کی جانب سے ایک 15 کی کال پر کی گئی، جس میں اطلاع دی گئی تھی کہ فارم ہاؤس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فحاشی گانوں پر اونچی آواز میں ڈانس کر رہے ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔پولیس کے ترجمان کے مطابق، گرفتار ہونے والے ملزمان کے پاس سے حقہ شیشہ، شراب، اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ ایس ایچ او برکی، محمد رضا کے مطابق، جب پولیس پارٹی فارم ہاؤس پہنچی تو ملزمان نے شدید مزاحمت کی اور پولیس کے ساتھ تصادم کیا۔ تاہم، پولیس نے ان کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے 28 افراد کو حراست میں لے لیا۔گرفتار ہونے والوں میں آصف، عامر، شاہد، زبیر، عدنان، سونیا، صباء، رابعہ، اقصی وغیرہ شامل ہیں۔ پولیس نے اس کارروائی میں ساؤنڈ لائٹ میکسر، ساونڈ سسٹم، سپیکر، حقہ شیشہ، شراب اور اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔

    ایس ایچ او برکی محمد رضا نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات کا عمل انوسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے کسی بھی شخص کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ایس پی کینٹ، اویس نے بھی اس معاملے پر سختی سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

    سپارکو کا ای او 1 ،لانچ کرنے کا اعلان

    حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

  • سپارکو  کا ای او 1 ،لانچ کرنے کا اعلان

    سپارکو کا ای او 1 ،لانچ کرنے کا اعلان

    پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو نے اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم پیشرفت کی ہے۔ سپارکو نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل (ای او 1) سیٹلائیٹ کو 17 جنوری کو خلا میں روانہ کرے گا۔ اس سیٹلائیٹ کو چین کے ایک سیٹلائیٹ سینٹر سے لانچ کیا جائے گا۔

    سپارکو کے ترجمان نے اس سیٹلائیٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ای او 1 سیٹلائیٹ پاکستان کی خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیٹلائیٹ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور مختلف شعبوں میں اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔ای او 1 سیٹلائیٹ کو خصوصی طور پر ڈیزاسٹر ریسپانس اور زراعت میں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد قدرتی آفات کے دوران فوری طور پر مدد فراہم کرنا اور زراعت کے شعبے میں بہترین مشورے دینا ہے تاکہ فصلوں کی پیداوار اور وسائل کا بہتر استعمال کیا جا سکے۔اس سیٹلائیٹ کو شہری منصوبہ بندی میں بھی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس سے شہر اور دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔ سپارکو کے مطابق، ای او 1 سیٹلائیٹ خوراک کی حفاظت اور پانی کے انتظام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا اور ملک بھر میں قدرتی وسائل کی نگرانی کے عمل کو مزید بہتر کرے گا۔

    یہ ترقی پاکستان کی خلائی تحقیق میں ایک نیا باب رقم کرے گی اور اس کے ساتھ ہی ملک کی ترقی کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔ اس سیٹلائیٹ کی کامیاب لانچ سے نہ صرف پاکستان کا خلائی پروگرام مزید مستحکم ہوگا بلکہ اس سے دیگر ٹیکنالوجیز میں بھی بہتری آئے گی۔

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،پاک افغان سرحد کے قریب افغان جاسوس ہلاک

    حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

  • حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان، یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے اور وہ ہر کیس کو اپنے انداز سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے ججز کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے، اور ان پر تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر وہ تنقید تعمیراتی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ ان کے چیف جسٹس پاکستان بننے کا فیصلہ بہت جلدی میں ہوا تھا اور اس وقت وہ اپنی حلف برداری کے لیے نیا سوٹ تک نہیں خرید سکے تھے۔ انہوں نے عدلیہ کے اندر اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ میں کئی ریفارمز کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ہائیکورٹ کی اتھارٹی کے احترام کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ کے ماتحت ہے، اس لیے براہ راست ہائیکورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدلیہ میں مداخلت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کر کے انصاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے دورے کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ جب وہ کوئٹہ گئے تھے، تو بار ایسوسی ایشنز نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے شکایات کیں۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آفریدی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا ایشو ان کے دل میں گہرا اثر چھوڑ گیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

  • آرٹیکل 191 اے کےذریعے عدالت سے دائرہ اختیار چھینا گیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    آرٹیکل 191 اے کےذریعے عدالت سے دائرہ اختیار چھینا گیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    کسٹم ایکٹ کے سیکشن 221 اے کی ذیلی شق 2کی آئینی حثیت کے بارے مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس سید منصور علی شاہ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس عا ئشہ ملک اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نےکیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس سید منصور علی شاہ نے آرٹیکل 191 اے کے ذریعے عدالتی دائرہ اختیار چھیننے پر سوالات اٹھا دیے، جسٹس مںصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 191 اے کےذریعے عدالت سے دائرہ اختیار چھینا گیا ہے، پہلے یہ دیکھنا ہے کہ اس عدالت سے دائرہ اختیارواپس لیا جا سکتا ہے؟

    سماعت کے آغاز پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ معاملہ آئین کی تشریح کا ہےاور موجودہ آئینی انتظام کے تحت اس بینچ کو یہ اختیار حا صل نہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم سے دائرہ اختیار کیسے واپس لیا جاسکتا ہے؟یہ عدلیہ کی آزادی کا سوال ہےِ، اس عدالت کے اندر الگ بینچ کیسے بنایا جاسکتا ہےِ؟ یہ عدلیہ کی آزادی اور اختیار کی شقوں سےمتصادم ہے،ہم پہلے اس معاملے کو دیکھیں گے،عدالت کے استفسار پر کراچی رجسٹری سے ویڈیو لنک پر وکیل صلاح الدین نے کہا کہ عدالت سے دائرہ اختیار نہیں چھینا جاسکتا،مارشل لا دور میں جب آئین معطل تھا تو عدالت نے اس طرح کے اقدامات کو قبول نہیں کیا اور عدالت کے متوازی بنائے گئے ٹربیونلز کالعدم کیے گئے،جب بھی معاملہ دائرہ اختیار کا ہو تو عدالت نے سخت مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کا دفاع کیا ہے۔وکلا کی رضامندی سے سماعت 15 دن کے لیے ملتوی کردی گئی جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے تاکید کی وکلا اس نکتے پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  کا مستحق افراد کو تین مرلے کا مفت پلاٹ دینے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا مستحق افراد کو تین مرلے کا مفت پلاٹ دینے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مستحق اور نادار افراد کو تین مرلے کا مفت پلاٹ دینے کے لیے ایک نئی سکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سکیم ایک سال کے اندر عمل میں لائی جائے گی جس کے تحت ہزاروں افراد کو تین مرلے کا پلاٹ فراہم کیا جائے گا۔ مریم نواز شریف نے اس سکیم کا مقصد غریب اور مستحق افراد کو اپنے گھر کا خواب حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرنا بتایا۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے آج کالا شاہ کاکو کا دورہ کیا اور وہاں زہرہ ہومز / مسکن راوی کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس دوران انہوں نے 100 خاندانوں کو گھروں کے الاٹمنٹ لیٹرز اور چابیاں فراہم کیں۔ مریم نواز شریف نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ زہرہ ہومز / مسکن راوی میں تمام کام میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "زہرہ ہومز مسکن راوی کو صرف ڈھائی ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا ہے، اور ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مستحق اور حقدار افراد کو ان کا حق ملے۔”

    زہرہ ہومز میں ہر گھر 400 مربع فٹ پر محیط ہے جس میں دو بیڈروم، ایک باورچی خانہ، ایک باتھ روم اور ایک صحن شامل ہے۔ اس منصوبے میں جدید ترین ای پی ایس سمارٹ پینل ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس کی بدولت یہ گھروں میں زلزلے سے تحفظ، توانائی کی بچت اور ماحولیاتی پائیداری کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ مزید برآں، ہر گھر میں 5 کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے تاکہ بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔کمیونٹی میں صحت کی سہولتوں کے لیے ایک ڈسپنسری، کھیل کا میدان، سکول اور آر او پلانٹ بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ "پنجاب میں 22 لاکھ خاندانوں کے پاس اپنا گھر نہیں ہے، اور ان شاء اللہ ہم ایک سال کے اندر ایک لاکھ خاندانوں کو گھر فراہم کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم حکومت کی جانب سے مستحق افراد کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مختلف سکیمیں لا رہے ہیں، جن میں سے ایک تین مرلے کا پلاٹ دینے کی سکیم ہے جو بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔”وزیر اعلیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "ہزاروں مستحق افراد کو مختلف سکیموں سے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جن میں کسان کارڈز، فارمرز کو قرضوں کی فراہمی اور ہسپتالوں میں مفت ادویات شامل ہیں۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "محمد نواز شریف کے ویژن کو حقیقت بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔”

    وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں نئے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، جن میں 400 نئی سڑکوں کی تعمیر، 25 الیکٹرک بسوں کی فراہمی اور نئے روٹس پر بسوں کی آمد شامل ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد صوبے کے عوام کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ وہ جلد بہاولپور یونیورسٹی جائیں گی، جہاں وہ 3011 طلباء کو 17 کروڑ 72 لاکھ روپے کے سکالرشپ دیں گی۔ یہ سکالرشپ نوجوانوں کی تعلیمی حوصلہ افزائی کے لیے فراہم کی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکومت پنجاب کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

  • چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج صبح صبح بڑی خبریں آ گئی ہیں، آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہونا تھا میں صبح اٹھ کر بیٹھ گیا تھا کہ 11 بجے تک فیصلہ آ جائے گا پتہ چلا کہ جج عدالت آ گئے اور اسکے بعد ساڑھے دس بجے واپس چلے گئے، غصے میں تھے اور کہا کہ دو دفعہ ملزم عمران کو بلایالیکن وہ نہیں آئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چڑیل کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ایک نیاٹواسٹ آ گیا ہے،لیکن آج جب عدالت کی سماعت شروع ہوئی تو جج ناصر جاوید رانا کو کافی اضطراب تھا، انہوں نے دو تین بار ملزم عمران خان کو بلوایا لیکن عمران نہ آئے، اس وجہ سے فیصلہ مؤخر ہو گیا، اب 17 جنوری کو فیصلہ سنایا جائے گا،پی ٹی آئی وکلا کی ٹیم انہوں نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ غلط بات ہے، ہمیں کل بتایا تھا کہ 11 بجے فیصلہ آنا ہے، ہم عدالت پہنچ رہے تھے، تو یہ پہلے کیسے اٹھ کر چلے گئے، ان کے ذہن میں کیا ہے،بشریٰ بھی راستے میں ہے اور عدالت ،جیل آ رہی ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے، اور اس کے اوپر پوری دنیا کی نظریں ہیں، پوری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیا فیصلہ آنا، کیا کیا سزا ہو سکتی ممکنہ طور پر دونوں ملزمان کو،پھر سلمان اکرم راجہ نے اسی پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر کے ساتھ بیان دیا ، اس میں سے آپ کو جواب بھی ملے گا،انہوں نے کہا کہ 15 تاریخ سے مذاکرات شروع ہونے وہ اہم ہیں ہم نہیں چاہتے کوئی ڈیل ہو،لیکن اصول کے مطابق ہونے چاہئے، اب لگتا ہے کہ فیصلہ مؤخر کرنے کا فیصلہ دونوں سائیڈوں سے ہے کہ 15 تاریخ کو دیکھ لیں کیا ہوتا ہے ،پہلی باری یہ بتانے لگا ہوں کہ اگر آپ پی ٹی آئی کے فالورز ہیں تو آپ کے لیے خبر ہے کہ شاید واقعی کچھ پیچھے ہو رہا ہے، اتنا آسان نہیں کہ دو دو دن کے وقفے سے فیصلہ مؤخر کریں پہلے دسمبر میں پھر جنوری کے پہلے ہفتے میں، پھر اب تیسری بار آج مؤخر ہونا، یہ ایسے نہیں ہو رہا، اسکا مطلب ہے کہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے سلسلے میں عمران رہائی لیتے ہیں تو وہ انکی سیاسی موت ہے،عوام میں تو کہہ رہے کہ کارکنان کی رہائی چاہتے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ عمران رہائی کے لئے بیتاب ہے، مذاکراتی ٹیم کہتی ہے کہ ہمیں خان صاحب نے نہیں کیا لیکن ہم انکی رہائی کا مطالبہ ضرور کریں گے، ہو سکتا ہے کہ کوئی عبوری حکومت آئے اور اس کو اگلے ایک ڈیڑھ سال الیکشن لے جائے، وہ عبوری حکومت قومی حکومت کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے، اس وقت جو حالات ہیں کوئی بھی جماعت اپوزیشن میں نہیں رہنا چاہتی، کوئی بھی جماعت،سب اقتدار میں آنا چاہتی ہیں،ن لیگ وہ اس وقت سب سے کمزور وکٹ پر ہے کیونکہ بلاول زرداری کی بڑی خواہش ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائیں ،پیپلز پارٹی میں بھی بڑے لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ بلاول وزیراعظم کے طور پر آ سکتے ہیں اب چڑیل جو خبر لےکر آئی وہ کہہ رہی کہ بلاول کے وزیراعظم بننے میں رکاؤٹ آصف زرداری ہیں،آصف زرداری اس وقت صدر پاکستان ہیں، بلاول اگر وزیراعظم بنتے ہیں تو آصف زرداری کو اپنی صدارت چھوڑنا پڑے گی، کیا عمر کے اس حصے میں پہنچ کر اپنی صدارت کو چھوڑیں گے، ذرا سا مشکل ہے، وہ اپنی ٹرم پوری کرنا چاہیں گے، بلاول کی وزیراعظم بننے کی خواہش کے سامنے کوئی رکاوٹ ہے تو وہ انکے گھر میں ہے،لیکن قومی حکومت کب بن سکتی ہے، اگلے ایک دو ماہ میں تو نہیں، کیونکہ مئی میں بجٹ آنا ہے، آئی ایم ایف جا کر ناک کی لکیریں رگڑنی ہیں،یقین دہانیاں کروانی ہیں جو بھی کچھ ہو گا، مئی یا جون، بجٹ آنےکے بعد ہو گا.اسکے لئے کافی لوگوں نے لابنگ شروع کر دی ہے،ایک سابق وفاقی وزیر نے ایک بڑا تھنک ٹینک بنا لیا،کس کے اشارے پر، دو موجودہ حکومت کےو فاقی وزرا بھی بڑے خواہشمند ہیں، فیصل واوڈا سندھ کے وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں،وہ کوشش کر رہے ہیں، انکو پتہ ہے کہ اسکے علاوہ کوئی چانس نہیں ہے،

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

  • امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں کچھ دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فالو کر رہاہوں، وہ روز نیا بیان دے رہے ہیں،کچھ لوگ اس کو مذاق سمجھ رہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے، امریکہ میں جو صدر منتخب ہوتا ہے اسکے پیچھے بہت بڑا تھنک ٹینک ہوتا ہے، ذہین لوگ ہوتے ہیں جو اسکے لیے ڈیٹا جمع کرتے ہیں پھرپالیسی بیان آتا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جو بیان دے رہے ہیں اس میں سی آئی اے کا بھی ان پٹ ہوتا ہے،اور بھی اداروں کا، اب جو ٹرمپ کے بیانات آ رہے ہیں یہ صرف چار سال کے لئے نہیں ہیں، امریکہ ایک کروٹ لینے لگا ہے، اگلے 15 بیس سال دنیا پر اور خاص کر ہمارے ملک میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے، میں جب اپنے ملک کو دیکھتا ہوں‌تو لوگ اس بات پر لڑ رہے کہ مریم نواز نے یو اے ای کی ولی عہد سے ہاتھ کیسے ملایا،کوئی یہ دیکھ رہا ہے کہ شیر افضل مروت، سلمان اکرم راجہ کی لڑائی کہاں تک جائے گی لیکن ہمیں احساس ہی نہیں اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا پلان پایہ تکمیل تک پہنچ گیا اور 2025 گریٹر اسرائیل کا فیز ٹو مکمل ہو گا جس میں جورڈن کا بیشتر حصہ آئے گا، یمن آئے گا اور کچھ اور علاقے آئیں گے، عرب ممالک کی صحت کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، جو آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے اسکی آںکھیں کھل جائیں گی اور پھر وقت نہیں ملے گا،

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گلف آف میکسیکو کا نام میں نے گلف آف امریکہ رکھنا ہے، وہ امریکن تاریخ کو ری رائیٹ کر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اب اسکا نام آئے کہ یہ آدمی آیا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دیا، ٹرمپ کو یہ پتہ ہے کہ چین کا ٹیرف کیا ہے، چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ ٹریلین آف ڈالر میں ہے،اس کا 68 فیصد چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ، باقی پوری دنیا کے ساتھ ہے، آج اگر امریکہ کوئی اس پر چابی کستا ہے تو چائنہ بلبلائے گا، امریکہ روس کو کہتا ہے کہ یوکرین میں جہاں تک آ گئے یہ علاقہ تمہارا، اس پر صبر کرو، تمہاری پابندیاں ختم کر رہے ،لڑائی ختم کرو اور چائنہ سے دور ہو جاؤ کیونکہ اس کو ہم نے سبق سکھانا ہے، پھر کیا ہو گا، ٹرمپ نے کینیڈا کو کہہ دیا ہے کہ کیوں نہ کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ ملایا جائے، یہ مذاق کی باتیں نہیں،جب ہیڈ آف سٹیٹ بات کرتا ہے تو اسکے پیچھے بڑی سوچ ہوتی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ پانامہ کینال کو لینا ہے،گرین لینڈ کو لینا ہے، گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر اثر ہے، اب ڈنمارک میں خوف کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پانامہ کینال اور گرین لینڈ کے لئے ٹرمپ کوشش کر ے گا وہاں امریکن ٹریڈ کر رہے ہیں، انکا خیال ہے کہ یہ بنانے کے پیسے ہم نے دیئے تھے،ٹرمپ کا خیال ہے کہ پانامہ پر قبضہ کریں اور چین کی ٹریڈ روک دیں،جو مرتا ہے مرے، گرین لینڈ کے اوپر بھی سیکورٹی کی بات ہوئی، کہا کہ امریکن سیکورٹی کو خطرہ ہے، اسکی کئی وجوہات ہیں ،جب صدر سیکورٹی کی بات کرے تو ہر امریکی اٹھ کربیٹھ جاتا ہے اور اس کی بات غور سے سنتا ہے،ٹرمپ نے اسرائیل کے لئے بھی کام کرنا ہے، فیز ٹو کے لئے تیار کرنا ہے، 2025 ٹرمپ کا ان چار چیزوں پر نکلے گا، 2026 میں لگتا ہے کہ ابتدائی چار ماہ میں ایران کی باری ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق چلو، اسکے بعد پاکستان کی باری ہے، پاکستان کو انگوٹھے کے نیچے کرنا آسان ہے، ایک آئی ایم ایف قسط نہ ملے یا تاخیر ہو ،سعودی عرب تیل نہ دے تو پھر کیا ہو گا، محمد بن سلمان ٹرمپ کا بہترین دوست ہے، آپ بھول جائیں کہ محمد بن سلمان کے ساتھ کیا دوستی ہے کیسے تعلقات ہیں،کیونکہ ہماری اوقات نہیں ہے اس پردوستی جتانے کی،

  • لاس اینجلس، تباہ کن آگ سے 77 سالہ اداکار جیمز ووڈس کا گھر محفوظ

    لاس اینجلس، تباہ کن آگ سے 77 سالہ اداکار جیمز ووڈس کا گھر محفوظ

    امریکی شہر لاس اینجلس کے پیسیفک پیلیسیڈز میں 6 روز سے بھڑکتی ہوئی آگ نے علاقے میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ اس آگ پر اب تک صرف 11 فیصد قابو پایا جا سکا ہے، اور اس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ ہزاروں گھر راکھ میں تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن ان تباہی کے درمیان ایک گھر ایسا بھی ہے جو معجزاتی طور پر بچ گیا، اور وہ گھر جیمز ووڈس کا ہے۔

    امریکی اداکار جیمز ووڈس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا گھر آگ کی لپیٹ میں آنے کے باوجود محفوظ رہا۔ اداکار نے لکھا کہ "معجزاتی طور پر ہم اپنے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بارے میں ہمیں لگ رہا تھا کہ وہ تباہ ہو چکا ہے، لیکن ہمارا گھر اب بھی موجود ہے۔”77 سالہ جیمز ووڈس نے اپنے گھر کی چھت سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں آگ کے دھوئیں کے ساتھ اردگرد کے تمام گھروں کو جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں جیمز ووڈس کے گھر کے آس پاس موجود گھروں کو راکھ میں تبدیل ہوتے ہوئے واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔

    اداکار نے مزید بتایا کہ "جب آگ ہمارے گھر کے قریب پہنچی تو ہم فوری طور پر انخلا کرنے پر مجبور ہوئے۔ ہم اپنے گھر کو چھوڑتے وقت صرف اپنے جسم پر موجود کپڑے ہی ساتھ لے سکے، اور اس وقت بہت زیادہ افراتفری تھی۔ ہمارے اردگرد ہر گھر میں آگ لگی ہوئی تھی۔”جیمز ووڈس نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے گھر کی تزئین و آرائش تین سال تک کی تھی اور حال ہی میں اس میں منتقل ہوئے تھے، جس کے بعد یہ آگ ان کے لیے ایک بڑا دھچکا بن کر آئی۔

    علاوہ ازیں، امریکی سرمایہ کار ڈیوڈ اسٹینر کا گھر بھی لاس اینجلس کی آگ میں محفوظ رہا۔ ڈیوڈ اسٹینر کا تین منزلہ گھر جو 9 ملین ڈالر کی مالیت کا ہے، امریکی پروڈیوسر سے خریدا گیا تھا۔ ان کا گھر بھی آگ سے بچ گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ گھروں نے اس تباہ کن آگ کے باوجود اپنی حفاظت کی ہے۔

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

    20 سال قبل سپمسن نے لاس اینجلس میں خوفناک آتشزدگی کی پیشگوئی کی تھی؟

  • حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    ایک طرف پاکستان میں مہنگائی بڑھ رہی، غریب خود کشیاں کر رہے تو وہیں حکمران قومی خزانے پر عیاشیاں کر رہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1010 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی مجموعی لاگت 6 ارب روپے سے زائد ہو گی۔

    ایف بی آر نے گاڑیاں خریدنے کے لیے ایک کمپنی کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا ہے، جس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری 2 مراحل میں کی جائے گی۔ایف بی آر کے خط کے مطابق، گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کی جائے گی، اور یہ پیشگی ادائیگی 500 گاڑیوں کی مکمل ادائیگی کے طور پر شمار کی جائے گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلی کھیپ کی ترسیل کے بعد باقی رقم کی ادائیگی کی جائے گی، اور 1010 گاڑیوں کی ڈلیوری جنوری سے مئی 2025 کے دوران مکمل ہو گی۔

    پہلے مرحلے میں جنوری میں 75 گاڑیاں، فروری میں 200 گاڑیاں اور مارچ میں 225 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں اپریل میں 250 گاڑیاں اور مئی میں 260 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ایف بی آر کے ترجمان نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فیلڈ افسران کی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گاڑیاں صرف اور صرف فیلڈ افسران کے استعمال کے لیے ہوں گی۔

    تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

  • تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    آزاد کشمیر اور پاکستان کو جوڑنے والا تاریخی کوہالہ پُل ایک بار پھر تاریخ کے صفحے پر روشن ہو گیا، جہاں "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے گونج اٹھے۔

    کوہالہ انٹری پوائنٹ پر کشمیر بنے گا پاکستان کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں آزاد کشمیر کے نوجوانوں، خواتین اور مختلف سیاسی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یہ کنونشن ایک اہم موقع پر منعقد کیا گیا، جو کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ اور تاریخ ساز قرارداد الحاق پاکستان کے محرک آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے ترتیب دیا گیا تھا۔ کوہالہ انٹری پوائنٹ پر پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین نے کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ جڑنے کی عزم کا اظہار کیا۔

    کنونشن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت بھی شریک ہوئی، اور آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد کشمیر پہلے ہی پاکستان کا حصہ ہے، اور مقبوضہ کشمیر کے عوام تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے غلام محمد صفی، کنونئیر کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ 1947 میں آزاد کشمیر کے عوام نے جہاد کے ذریعے اپنی سرزمین کو آزاد کرایا اور پاکستان سے اپنی عملی نسبت قائم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ مکمل الحاق کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر، سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ کوہالہ پُل کشمیر اور پاکستان کے درمیان ایک تاریخی تعلق کی علامت ہے جسے کبھی کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر کا پاکستان سے دائمی رشتہ ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔

    شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر کا پاکستان سے تعلق لازوال ہے اور ہم سب مل کر اس رشتہ کو مزید مستحکم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "کشمیر بنے گا پاکستان” کی تحریک کو کبھی نہیں روکا جا سکتا، اور یہ نعرہ ہر کشمیری کی زبان پر ہے۔اس کنونشن کا انعقاد اس بات کا غماز ہے کہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ رشتہ ناقابل شکست ہے، اور یہ رشتہ آنے والی نسلوں تک مضبوطی سے منتقل ہوگا۔