Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کرینہ کپور کے نئے سال پر پہنے گئے لباس کی قیمت سامنے آ گئی

    کرینہ کپور کے نئے سال پر پہنے گئے لباس کی قیمت سامنے آ گئی

    بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور نے نئے سال کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر چند خوبصورت تصاویر شیئر کی ہیں جنہوں نے فوراً ہی مداحوں کی توجہ حاصل کر لی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 44 سالہ کرینہ کپور نے 2025 کے آغاز میں اپنے شوہر سیف علی خان اور بیٹے تیمور کے ساتھ خوشگوار موڈ میں تصاویر کھنچوائیں، جنہیں انہوں نے اپنی انسٹاگرام پر پوسٹ کیا۔ان تصاویر میں کرینہ کپور کا لباس اور میک اپ خاص طور پر توجہ کا مرکز بنے۔ اداکارہ ہمیشہ کی طرح اپنے شاندار انداز اور خوبصورتی کے باعث چرچے میں رہیں۔ کرینہ کپور نے جو لباس پہنا تھا، وہ نہ صرف ان کے ذاتی ذوق کا عکاس تھا بلکہ اس کی قیمت بھی کئی لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، کرینہ کپور نے جو لباس منتخب کیا تھا، اس کی قیمت 3 لاکھ 93 ہزار بھارتی روپے ہے۔ یہ لباس ایک بین الاقوامی فیشن برانڈ کا حصہ ہے اور اس میں استعمال ہونے والے مواد اور ڈیزائن نے اسے ایک اعلیٰ سطح کی پرفیکشن اور خوبصورتی کے معیار تک پہنچا دیا ہے۔اداکارہ کا لباس، جو کہ ایک خوبصورت اور شاندار ڈیزائن میں تھا، سوشل میڈیا پر بھی بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔ صارفین کرینہ کے انتخاب کی تعریف کرتے ہوئے ان کے انداز کو بالی ووڈ کی فیشن کے حوالے سے ایک نیا معیار قرار دے رہے ہیں۔

    تصاویر میں کرینہ کپور اور ان کے خاندان کی خوشی اور محبت کی جھلکیاں بھی نظر آ رہی ہیں، جس نے ان کے مداحوں کو مزید متاثر کیا ہے۔ اس موقع پر کرینہ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، اور وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئے سال کے آغاز کو خوشگوار انداز میں منا رہی تھیں۔کرینہ کپور کی فیشن اور زندگی کے بارے میں ہر نئی خبر ان کے مداحوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنتی ہے، اور یہ تصاویر بھی ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔

    بلاول سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات

    بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

  • بلاول   سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی   ملاقات

    بلاول سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاک امریکہ تعلقات اور دو طرفہ امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سفیر کی سفارتی خدمات کو سراہا اور ان کے دور میں پاک امریکہ تعلقات کی مزید ترقی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ بلوم نے اپنے عہدے کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے پاک امریکہ تعلقات میں مزید فروغ کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور دونوں ملکوں کے مابین موجودہ روابط کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔

    ڈونلڈ بلوم نے اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔آخر میں، بلاول بھٹو زرداری اور ڈونلڈ بلوم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید استحکام لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی، تاکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار شراکت داری قائم ہو سکے۔

    بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

  • بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر   گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا دن،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات ختم ہو گئی

    ملاقات کرنے والوں میں علیمہ خان، عظمی خانم اور نورین خانم شامل تھے،بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں کروائی گئی،ملاقات کے بعد فیملی ممبران اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے،علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر علی امین گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے ،صحافی نے سوال کیا کہ واقعی ایسا ہے؟جس پر علیمہ خان نے جواب میں کہا ایسا ہی ہے گنڈاپور ہی آفر لیکر آئے تھے جس کو عمران خان نے مسترد کر دیا تھا اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا کہا.عمران خان کو آفرز آ رہی ہیں لیکن مذاکراتی کمیٹی کو کیوں نہیں ملنے دیا جا رہا، انکو کیوں آفر نہیں دی جا رہیں،عمران خان کو آفر کی جاتی ہے کہ چپ رہو اور حکومت چلنے دو، یہ آفر تو نہیں ہے،ڈیڑھ سال سے یہ آفر آ رہی ہے،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ مجھے کتابیں پہنچا دیں، کئی مہینوں سے عمران خان کو بچوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،حالانکہ جیل مینوئل کے مطابق اجازت ہے، نہ ہی انکو ڈاکٹر کو دکھایا جاتا ہے، عمران خان کے ڈاکٹر کی ملاقات نہیں کروائی جاتی، رہائی بارے عمران خان کو کچھ نہیں پتہ، بہت کیسز ہیں، دنیا ساری دیکھ رہی ہے، کہ آپ کیا کیسز بنا رہے ہیں،کیا مذاق بنا ہوا ہے، ہائیکورٹ میں کیس دم توڑ جاتا، عمران خان بڑے مایوس تھے کہ ان کوسزا نہیں ہوئی،تحریک شروع ہو چکی ہے ، اوورسیز پاکستانی شامل ہو رہے ہیں، پاکستانی پاکستان میں ہوں یا باہر سب سے زیادتی ہو رہی ہے، احتجاج کرنے والوں کو دھمکیاں ملتی ہیں،عمران خان نے کہا ہے کہ باہر سے پیسے نہ بھیجیں.مذاکرات چلانے ہیں تو چلائیں روکا کس نے ہے؟ جیل کے اندر ملاقات کروانے کیلئے صبح 7 بجے دروازے کھلتے ہیں، اب کیوں مذاکراتی کمیٹی کو ملنے نہیں دیا جارہا ہے، عمران خان نے کہا ہے پہلے یہ سنجیدگی دکھائیں پھر دیگر معاملات پر بات ہوگی،

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

  • سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

    ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپنے گھر کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، سلمان خان کو گزشتہ کچھ عرصے سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، جس کے بعد انہوں نے اپنے ممبئی میں واقع گلیکسی اپارٹمنٹ کی سیکیورٹی میں اضافہ کر لیا ہے۔سلمان خان کے گلیکسی اپارٹمنٹ کی سیکیورٹی میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، جس میں بلٹ پروف شیشے اور کرنٹ والی باڑ لگائی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سلمان خان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب انہیں مختلف گروپوں سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔یہ سیکیورٹی اقدامات بھارتی سیاستدان بابا صدیق کے قتل کے بعد کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں سلمان خان اور ان کے اہل خانہ کے لیے مزید تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ سوشل میڈیا پر سلمان خان کے گھر کے باہر کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جن میں ان سیکیورٹی اقدامات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    صرف سلمان خان کے ممبئی والے گھر کی سیکیورٹی ہی نہیں بلکہ ان کے مہاراشٹرا میں واقع فارم ہاؤس کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ ان دونوں مقامات پر سیکیورٹی گارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور جدید ترین حفاظتی آلات نصب کیے گئے ہیں۔بھارتی حکومت کی جانب سے سلمان خان کو وائی پلس سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت انہیں مسلسل پولیس کی نگرانی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی ایک خصوصی گاڑی بھی سلمان خان کے ہمراہ رہتی ہے تاکہ ان کی حفاظت کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ سلمان خان کو لارنش بشنوئی گینگ کی جانب سے کئی مرتبہ قتل کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔ گزشتہ سال ان کے گھر کے باہر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد ان کی سیکیورٹی کو بڑھا دیا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد سلمان خان کی زندگی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے سبب ان کے لیے اس سطح کی سیکیورٹی کے اقدامات ضروری سمجھے گئے۔سلمان خان کے لیے اس وقت یہ انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ بن چکا ہے کہ وہ اپنی زندگی اور اہل خانہ کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ ان کی طرف سے کیے گئے سیکیورٹی اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے مختلف آپشنز پر کام

  • وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم حال ہی میں رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب محمد بن زید آلنہیان سے ہونے والی اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی جانب سے 2 ارب امریکی ڈالرز کی ادائیگی، جو کہ اس سال جنوری میں واجب الادا تھی، کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ہماری معیشت کے لئے انتہائی خوش آئند ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای کے صدر نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تاریخی تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا۔

    وفاقی کابینہ نے ریوینیو ڈویژن کی سفارش پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انفرااسٹرکچر کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت کریٹیکل انفرااسٹرکچر قرار دینے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انتہائی حساس ڈیٹا کو سائبر حملوں جیسا کہ ہیکنگ اور کسی بھی غیرقانونی مداخلت سے بچانا ہے۔ اس اقدام سے ایف بی آر کا حساس ڈیٹا مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

    فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامےمیں توسیع
    وفاقی کابینہ نے ہوا بازی ڈویژن کی سفارش پر بین الاقوامی ائیر لائین فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی اور دوبئی سے لاہور اور اسلام آباد پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامے (Temporary Operating Permit )میں 4 جنوری 2025 سے 3 فروری 2025 تک توسیع کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ کو وزارت بحری امور کی جانب سے 11 وفاقی وزارتوں /ڈویژنز کی گوادر بندرگاہ سے مارچ 2024 سے اب تک کے دوران پبلک سیکٹر درآمدات و برآمدات پر بریفنگ دی گئی- وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتوں کی رپورٹس کو بریفنگ کا حصہ بنا کر ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ درآمدات و برآمدات میں کسی بھی قسم کی تخصیص کے بغیر پبلک سیکٹر کی تمام درآمدات و برآمدات کا 60 فیصد حصہ گوادر بندرگاہ سے کیا جائے ۔

    وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک
    وفاقی کابینہ کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز کی جانب سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای-آفس کے نفاذ کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی-اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ای-آفس کو اس بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یکم جنوری 2025 سے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک کر دیا گیا اور تمام فائلز موومنٹ اور دیگر خط و کتابت صرف ای-آفس استعمال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 21 وزارتوں/ڈویژنز میں ای- آفس کا نفاذ سو فیصد کر دیا گیا ہے۔ ای-آفس کے نفاذ سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ اسٹیشنری اور پیٹرول کی مد میں قومی خزانے کو فائدہ بھی پہنچے گا۔ ای-آفس کے نفاذ سے وزیر اعظم آفس میں سمری کی پراسیسنگ کا دورانیہ اب زیادہ سے زیادہ صرف تین دن تک محیط ہو چکا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر اسکولوں اور کالجوں کے لئے ری فربشڈ کروم بکس کی خریداری/حصول کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈینینس کے سیکشن 21ـ اے کے تحت استثنیٰ دے دیا- وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ان کروم بکس کی خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی کروایا جائے۔

    وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ اور شینڈونگ روئی (Shandong Ruyi) گروپ چائینہ کے درمیان ٹیکسٹائل پارکس کے قیام کے حوالے سے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے وزارت خارجہ کی سفارش پر ڈپلومیٹک اکیڈیمی ، وزارت خارجہ جمہوریہ سربیا اور فارن سروس اکیڈیمی ، وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-

    وفاقی کابینہ کو کابینہ کمیٹی برائے پرائیویٹ حج آپریٹرز کورٹ کیسز کی سفارشات پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے حج 2025 کے انتظامات موجودہ 46 منظمین کریں گے ۔کمیٹی نے مزید سفارش کی ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں کے لئے نئی حج پالیسی بنائی جائے۔ وفاقی کابینہ نے مذکورہ کمیٹی کی سفارشات منظور کر لیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے حوالے سے تمام کورٹ کیسز کو منتقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 31 دسمبر 2024 اور یکم جنوری 2025 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے مختلف آپشنز پر کام

  • وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیل سے بات کی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب مثبت سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جو معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں گے۔اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔

    ٹیکنالوجی کی ترقی اور وفاقی اخراجات میں کمی
    وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات کا حجم کم کر کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جس میں حکومت کے ارکان، حزب اختلاف کے رہنما اور نجی شعبے کے افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے ملکی معیشت کی قیادت سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے کام جاری ہے۔ رائٹ سائزنگ کا مقصد اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2025 سے پہلے رائٹ سائزنگ کے عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں نے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے اخراجات کا جائزہ لیا ہے۔ اس عمل میں وزارتوں اور اداروں کے غیر ضروری اخراجات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ صرف ضروری اور اہم اخراجات پر توجہ دی جا سکے۔وفاقی حکومت کے حجم کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں منظور شدہ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت وزارت امور کشمیر، سیفران اور آئی ٹی کے اداروں کو ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس اور ہاؤسنگ کے ذیلی اداروں کا انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے جو اقتصادی پلان اور اصلاحاتی اقدامات ترتیب دیے ہیں، ان سے معیشت میں استحکام آئے گا اور سٹرکچرل اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے پبلک فنانس اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے لیے عملی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کی حمایت سے ملک کی معیشت کو نئے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔

  • سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی نے "باورچی” کو برطانیہ میں سینئر رپورٹر بنا دیا

    سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی نے "باورچی” کو برطانیہ میں سینئر رپورٹر بنا دیا

    پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کا کمال،باورچی کو برطانیہ میں سینئر رپورٹر مقرر کر دیا

    پاکستان کے قومی خبررساں ادارے اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان) نے ایک باورچی کو برطانیہ میں اپنے نئے نمائندے،سینئر رپورٹر کے طور پر مقرر کر لیا ہے۔ اے پی پی نے فیضان خالد کو برطانیہ (یو کے) میں سینئر رپورٹر کے طور پر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔اے پی پی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ملک فیضان خالد، جو کہ 34-ایگنیس ایونیو، ایل فورڈ آئی جی12EE، یو کے میں مقیم ہیں، کو اے پی پی کا سینئر رپورٹر مقرر کیا گیا ہے۔ فیضان خالد کو خبریں، تصاویر اور ویڈیوز مخصوص ای میل ایڈریسز اور واٹس ایپ گروپ میں ارسال کرنی ہوں گی۔ اس کے لیے انچارج ڈسٹرکٹ رپورٹر ڈیسک سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، نوٹفکیشن میں ای میل ایڈریسز بھی دیئے گئے ہیں.ملک فیضان خالد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد اور ڈومیسائل کی مصدقہ کاپیاں اس دفتر میں جمع کرائیں تاکہ ضروری کارروائی کی جا سکے۔یہ نوٹیفکیشن ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب محمد آصف کھچی کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

    اے پی پی کے برطانیہ میں سینئر رپورٹر مقرر ہونے والے فیضان خالد کی برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر جب پروفائل چیک کی گئی تو وہ ٹوٹنگ کراہی اینڈ کمپنی لمیٹڈ میں نومبر 2024 سے بطور ڈائریکٹر کام کر رہے ہیں،ملک فیضان خالد نے اوریجنل کڑاہی میں بھی بطور ڈائریکٹر نومبر 2024 سے کام کر رہے ہیں،مئی 2017 سے ان کا تجربہ الہاشم شہنشاہ ریسٹورینٹ کا لکھا ہوا ہے،ریسٹورینٹ میں انکا کردار ڈائریکٹر کا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ملک فیضان خالد جو ہوٹل کے ڈائریکٹر ہیں وہ کھانے بنانے کا وسیع تر تجربہ رکھتے ہوں گے اور اے پی پی نے انہیں سینئر رپورٹر بنا دیا ہے،

    faizan khalid

    دوسری جانب اے پی پی نے محمد اصغر، سابق سینئر صحافی کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک سال کے لیے اعزازی طور پرکام کرنے کی اجازت دی ہے،

  • ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف   اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) احتساب کمیٹی کے رکن قاضی محمد انور نے بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی مداخلت انصاف لائرز فورم میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی سازش کا حصہ ہیں۔

    قاضی محمد انور نے پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کسی سازش میں ملوث ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے علی زمان ایڈووکیٹ کو عہدے سے ہٹایا، جو کہ بے بنیاد ہے۔قاضی محمد انور نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی پر من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے 55 سال وکالت کی، اور اس دوران کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی جھوٹ بولا۔”

    پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کی صفوں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غلطی کو بے نقاب کیا جائے، اور اس سلسلے میں مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف کل اپیلیں دائر کی گئیں ہیں، جن میں ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ان شاء اللہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف ہو،سزائیں معطل کی جائیں،

    کرپشن میں ملوث وزراء سے تحقیقات جاری ہیں، قاضی انور
    اسی دوران، قاضی محمد انور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کرپشن میں ملوث وزراء سے باری باری پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ، سید قاسم علی اور مشیر صحت احتشام علی سے بھی چند وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔ اسی طرح، ظاہر شاہ طورو کو بھی طلب کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایک مہینہ انکو دیا ہے کہ 31 جنوری تک جو لکھ کر دیا اسکا جواب دیں ،اسکے بعد فیصلہ ہو گا،احتشام خان کے پاس ابھی صحت کا محکمہ آیا، ڈیڑھ صفحے پر ان کو سوالات دیئے اور جوابات مانگے، چند دنوں میں ظاہر شاہ طورو سمیت ایک اور وزیر کو بلانے لگے ہیں، وزیروں کو ہم بلاتے رہتے ہیں، ہمیں جو معلومات ملتی ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں، قاضی محمد انور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پارٹی کے اندر ہونے والی ان تحقیقات کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور پی ٹی آئی کے اراکین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لئے نوٹفکیشن کیا ، فیصلہ سازی جو قاضی انور کرے گا اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا.

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے نئے سال کا آغاز

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

  • ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    برطانیہ کے ماہرین نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ ہومپیو وائرس ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کی اہم تفصیلات فراہم کرے، جس کی وجہ سے چینی اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں اس وائرس کی موجودہ قسم کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی برطانوی عوام کے لیے ممکنہ خطرات کا صحیح طور پر اندازہ لگا سکیں۔

    برطانوی ماہر وائرس ڈاکٹر اینڈریو کیچ پول نے کہا، "ہمیں وائرس کے اس مخصوص اسٹین کی تفصیلات کی ضرورت ہے جو چین میں گردش کر رہا ہے تاکہ ہم صحیح طور پر اس کے اثرات کا تجزیہ کر سکیں۔” ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "چین میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی شدت معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔”برطانوی صحت کے حکام نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ ماہ کے دوران ہومپیو وائرس کے کیسز میں دوگنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حالیہ برطانوی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق ہر 20 سانس کی بیماریوں میں سے ایک کی وجہ ایچ ایم پی وی ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "ہومپیو وائرس عام طور پر سردیوں کے موسم میں پایا جاتا ہے، لیکن یہ لگتا ہے کہ چین میں اس وائرس کے سنجیدہ کیسز کی شرح معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہمیں یہ سمجھنے کے لیے مزید معلومات کی ضرورت ہے کہ آیا یہ وائرس معمول کے گردش کرنے والے اسٹینز ہیں یا چین میں جو وائرس پھیل رہا ہے وہ کچھ مختلف ہے۔”اس وائرس کے عام علامات نزلہ اور کھانسی ہیں، لیکن کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد جیسے بچے، بزرگ اور بیمار لوگ اس سے زیادہ سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

    چین نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اسپتالوں کی بھرپور تصاویر اور ویڈیوز کو کم اہمیت دی ہے اور کہا ہے کہ یہ وائرس گزشتہ سال کے مقابلے میں کم سنگین ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین نے چین میں جاری صورتحال کو 2019 میں کووڈ-19 کے آغاز کے ساتھ مماثلت قرار دیا ہے، جب چین نے ابتدائی طور پر وائرس کی شدت کو کم کر کے پیش کیا تھا۔برطانوی ماہرین نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ چینی اسپتالوں میں جو منظر دکھائی دے رہے ہیں، وہ برطانیہ کے اسپتالوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

    ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر ان لوگوں کو جو کمزور مدافعتی نظام رکھتے ہیں۔ پروفیسر جایا ڈنٹس نے کہا، "ہمیں اس وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے محتاط اور متوازن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں ٹیسٹ کرانا، گھر پر رہنا اور دوسروں سے دور رہنا چاہیے، عوامی مقامات پر ماسک پہننا چاہیے اور اپنے کمزور افراد کی حفاظت کرنی چاہیے۔”

    چین سے مزید شفاف معلومات کی درخواست عالمی ماہرین کی جانب سے کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سنجیہ سنانییکے نے کہا، "چین کے لیے اس پھیلاؤ پر جلدی معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے، بشمول اس بات کے کہ کس گروہ میں اس کا زیادہ اثر ہو رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں جینیاتی ڈیٹا کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ ایچ ایم پی وی ہی اس کا سبب ہے اور آیا اس میں کوئی اہم تغیرات تو نہیں ہوئے ہیں۔”

    امریکہ میں بھی ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں دسمبر کے آخر میں مثبت ٹیسٹ کی شرح دگنا ہو گئی۔ تاہم، امریکی سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ چین میں ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں فی الحال امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کے بارے میں زیادہ تشویش نہیں ہے۔

    ہومپیو وائرس پہلی بار 2001 میں سامنے آیا تھا اور عام طور پر نزلہ یا سردی کے جیسے علامات پیدا کرتا ہے۔ تاہم، اس کے شدید کیسز میں برونکائٹس، برونکائیولائٹس اور نمونیا جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں سانس کی تکلیف، شدید کھانسی اور سانس کا مسئلہ شامل ہیں۔ بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد اس کے شدید اثرات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ایچ ایم پی وی عموماً ہلکا وائرس ہے، اس لیے اس کا عین موت کا شرح معلوم نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے 10 سے 30 فیصد مریض اس وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سنانییکے نے خبردار کیا کہ چین میں ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ ایک "خراب فلو سیزن” کے مترادف ہے اور اس کے عالمی سطح پر پھیلنے کا امکان کم ہے۔

    اگرچہ ایچ ایم پی وی ایک عام وائرس سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ اور چین میں بڑھتی ہوئی شدت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین نے چین سے مزید معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وائرس کی نوعیت اور اس کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور اس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    بھارت میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ،علاج کی نئی تکنیک دریافت

  • شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک  لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    اسلام آباد: وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    اجلاس میں پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ان سیٹلائٹس کے کردار اور ان کے ذریعے ملک کے کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران شزا فاطمہ خواجہ نے ایل ای او سیٹلائٹ کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل ای او سیٹلائٹس کے ذریعے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھایا جا سکتا ہے اور یہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف پاکستان کی ضروریات کو پورا کرے بلکہ عالمی معیار کے مطابق بھی ہو۔

    اسٹارلنک، جو کہ ایک معروف سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی ہے، کے لائسنس کی فراہمی اور اس کے لیے ریگولیٹری پیشرفت کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ اسٹارلنک کے لائسنس کی فراہمی پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس پر بھی بات چیت کی گئی کہ اس پروسیس کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستانی صارفین کو عالمی معیار کی انٹرنیٹ سروسز میسر آئیں۔
    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے کنسلٹنٹ کی تقرری کو چند ہفتوں میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو ہم آہنگ کرنے کے لیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ ہو سکے۔

    وزارت آئی ٹی نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو عالمی معیار کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کی موجودگی کو مستحکم کیا جا سکے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کا عالمی سطح پر ایک مربوط اور جدید فریم ورک ہونا ضروری ہے تاکہ ملک کی ٹیکنالوجی میں ترقی ہو اور عالمی منڈی میں ایک مضبوط مقام حاصل کیا جا سکے۔

    اس اجلاس کا مقصد نہ صرف پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنا تھا بلکہ ملک میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک مربوط اور مضبوط حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی بڑھائی جائے گی جو کہ پاکستان کے معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    یو اے ای نے واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ، وزیراعظم

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ