Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی آئی اے کی ناکام نجکاری،اخراجات کا ذمہ دار کون ہے ، سحر کامران

    پی آئی اے کی ناکام نجکاری،اخراجات کا ذمہ دار کون ہے ، سحر کامران

    اسلام آباد: سیکرٹری نجکاری کمیشن نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کی پہلی بولی مسترد ہونے اور بولی دہندگان کی جانب سے کیے گئے مطالبات سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔

    قائمہ کمیٹی نجکاری کے اجلاس میں کمیٹی کے رکن خواجہ شیراز محمود نے سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے عمل میں ایک ہی بولی دہندہ کیوں رہ جاتا ہے؟ کیا حکومت نجکاری کے معاملے میں سنجیدہ ہے یا صرف نمائشی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ خواجہ شیراز محمود نے یہ بھی کہا کہ قومی ائیر لائن کی نجکاری میں جگ ہنسائی کے بعد اب ایچ بی ایف سی (ہاؤسنگ اینڈ بلڈنگ فنانس کمپنی) کے لیے بھی ایک ہی بولی دہندہ رہ گیا ہے۔

    سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے لیے سخت شرائط رکھی گئی تھیں۔ آخرکار دو بولی دہندگان باقی رہ گئے تھے، لیکن ایک بولی دہندہ اسٹیٹ بینک کی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے وہ بولی دینے سے دستبردار ہو گیا۔

    رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے قومی ائیر لائن کی نجکاری پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں سوال کیا اور پوچھا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ نجکاری کمیشن کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اس پر خواجہ شیراز محمود نے کہا کہ نجکاری کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں تھیں جن کی وجہ سے اس عمل میں مشکلات پیش آئیں۔فاروق ستار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "ہمیں یوسف بننے میں وقت لگے گا، تب ہی مول لگے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ قومی ائیر لائن کی نجکاری میں کتنے اخراجات ہوئے، اس کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔

    سیکرٹری نجکاری کمیشن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال وہ نجکاری کے اخراجات کا تفصیل سے حساب نہیں دے سکتے، تاہم بعد میں تمام معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ائیر لائن کی بولی 31 اکتوبر 2024 کو ہوئی تھی۔فاروق ستار نے پوچھا کہ دوسری پارٹیاں بولی میں کیوں شریک نہیں ہوئیں؟ خواجہ شیراز محمود نے اس پر کہا کہ نجکاری کمیشن نے باقی تمام پارٹیوں کو بولی میں شرکت کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن کچھ شرائط کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکے۔سیکرٹری نجکاری کمیشن نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بولی میں حصہ لینے والی تمام پارٹیوں کو مکمل بریفنگ دی گئی تھی۔ آخری اجلاس میں 11 نکات پر بات ہوئی تھی جن میں سے صرف 2 نکات رہ گئے تھے۔ ان نکات میں سے ایک پارٹی نے مینجمنٹ کنٹرول کا مطالبہ کیا، دوسری پارٹی نے تمام ملازمین کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا، اور تیسری پارٹی نے عالمی مسابقت کے لیے نئے طیاروں پر جی ایس ٹی میں رعایت کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بولی دہندگان نے قومی ائیر لائن کے 191 ارب روپے کے واجبات کو 141 ارب روپے کے اثاثوں کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی درخواست کی۔ تاہم حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ریلیف دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں ان دو شرائط کو ہٹا دیا گیا۔

    سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ یورپ نے پی آئی اے پر عائد پابندیاں ہٹا دی ہیں اور حکومت نے دوبارہ اظہار دلچسپی کا نوٹس جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اب نجکاری کے عمل کو تیز تر طریقے سے دوبارہ شروع کیا جائے گا اور حکومت سرمایہ کاروں کے ساتھ نجکاری کے معاملے پر بات چیت کر رہی ہے۔

    اس تمام صورتحال کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ حکومت قومی ائیر لائن کی نجکاری کے عمل میں نئے اقدامات کر رہی ہے اور اس کے لیے سرمایہ کاروں کو قائل کرنے کی کوشش جاری ہے، تاہم اس عمل میں درپیش چیلنجز اور شرائط کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  • عمران خان سے ملاقات کا دن، لیکن ملنے کوئی بھی نہ آیا

    عمران خان سے ملاقات کا دن، لیکن ملنے کوئی بھی نہ آیا

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کا دن تھا، تاہم حیران کن طور پر کوئی بھی رہنما، وکیل یا فیملی ممبر ان سے ملاقات کے لیے نہیں پہنچا۔

    عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل میں معمول کے مطابق ملاقات کا دن مقرر تھا، تاہم آج اس دن پر کسی بھی پارٹی رہنما یا وکیل کی طرف سے جیل میں ان سے ملاقات کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔مذاکراتی کمیٹی کا کوئی رکن بھی جیل نہیں آیا، حالانکہ کمیٹی کی جانب سے بات چیت کے سلسلے میں ملاقاتوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس بارے میں پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ مذاکراتی کمیٹی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں ملی ہے، جس کی وجہ سے وہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے منگل اور جمعرات کے دن مخصوص کیے گئے ہیں۔ جیل کے مینوئل کے مطابق، آج ملاقاتوں کا وقت بھی ختم ہو چکا ہے، تاہم عام طور پر ملاقات کی اجازت ملنے یا نہ ملنے کے باوجود پارٹی کے رہنما اور وکلاء جیل پہنچ کر ملاقات کی کوشش کرتے ہیں۔اس حوالے سے جیل ذرائع نے مزید بتایا کہ اگرچہ ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی کسی طرح کی ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر پارٹی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    اس دوران عمران خان کی رہائی اور ان کے مقدمات پر بات چیت کی توقع کی جارہی تھی، مگر آج کے دن ملاقات کا نہ ہونا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آئندہ دنوں میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی کوششیں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں، اور کیا ان ملاقاتوں سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔

  • انسداد دہشت گردی عدالتوں کو کیوں نہیں مضبوط بنایا جاتا؟جسٹس جمال مندوخیل

    انسداد دہشت گردی عدالتوں کو کیوں نہیں مضبوط بنایا جاتا؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں سویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق کیس میں عدالت نے سوال کیا کہ یہ تفریق کیسے کی جاتی ہے کہ کون سا کیس ملٹری کورٹ اورکون ساکیس انسداد دہشتگردی عدالت میں جائے گا؟

    سویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی جس دوران وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،سماعت کے آغاز پر خواجہ حارث نے ملٹری ٹرائل کالعدم قراردینے سے متعلق 5رکنی بینچ کا فیصلہ پڑھ کرسنایا اور کہا کہ فیصلے کے مطابق تمام بنیادی حقوق ہیں جن کی وضاحت کردی گئی ہے، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی حقوق معطل ہونے کے لیے ایمرجنسی ہونا ضروری ہے، معاملہ مختلف ہے کہ ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں ہوسکتا، جسٹس امین الدین نے کہا بنیادی حقوق کا عدالتوں میں دفاع ہو سکتا ہے صرف عملداری معطل ہوتی ہے جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں ملزمان کو فوجی تحویل میں لیاگیا توبنیادی حقوق معطل نہیں تھے، نہ ہی ایمرجنسی نافذ تھی۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مرکزی فیصلے میں آرمی ایکٹ کی شق 2 ڈی کو کالعدم قرار دیا، اس شق کوکالعدم قرار دینے سے مجموعی اثر کیا ہوگا، کیا اب کلبھوشن جیسے ملک دشمن جاسوس کاکیس ملٹری کورٹس میں چل سکتا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کےفیصلے سے ملک دشمن جاسوس کا کیس ملٹری کورٹس میں نہیں چل سکتا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہم اپنے پراسیکیوشن کے نظام کو مضبوط کیوں نہیں کر رہے؟ جسٹس اظہر رضوی نے ریمارکس دیے جی ایچ کیو پر پہلے بھی ایک حملہ ہوا جس میں شہادتیں ہوئیں، کراچی میں ایک دہشتگردی کی کارروائی میں ایک کورین طیارے کو تباہ کیا گیا، شہادتیں ہوئیں، طیارہ سازش کیس میں ایک آرمی چیف بیرونی دورے پر تھے تو ان کےجہاز کو ہائی جیک کرنےکی کوشش کی گئی، ان واقعات میں فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے، شہادتیں ہوئیں، یہ تمام مقدمات کہاں چلائے گئے؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کون سا کیس ملٹری کورٹس میں چلےگا اور کون سا نہیں چلے گا، یہ تفریق کیسے کی جاتی ہے؟ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ 9مئی واقعات میں 103ملزمان کے خلاف ملٹری کورٹس میں کیس چلا اور باقی کیسز انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چل رہے ہیں، یہ تفریق کیسے کی گئی؟ کون سا کیس ملٹری کورٹس میں جائے گا،کون ساکیس انسداددہشتگردی عدالتوں میں جائے گا؟ ملزمان کو فوج کی تحویل میں دینےکا انسداد دہشتگردی عدالتوں کا تفصیلی فیصلہ کدھر ہے؟ جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ کسی جرم پر کون اور کیسے طے کرتا ہے کیس کہاں جائے گا؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مقدمات کہاں چلنے ہیں اس کی تفریق کیسے اور کن اصولوں پر کی جاتی ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس اختیار ہے کہ بنیادی حقوق معطل کر سکے، ایگزیکٹو صدر مملکت کے آرڈر پر عملدرآمد کراتی ہے، یہ تمام اختیارات ایگزیکٹوکے ہیں تو کوئی اورکیسے اس طرح کے معاملات دیکھ سکتا ہے؟ انسداد دہشتگردی عدالت سے ملزم بری ہو رہا ہے، اسے فوجی عدالت سے سزا ہو رہی ہے، کیا فوجی عدالتوں میں کوئی خاص ثبوت فراہم کیا جاتا ہے؟ انسداد دہشت گردی عدالتوں کو کیوں نہیں مضبوط بنایا جاتا؟ عدالتوں نے فیصلہ شواہد دیکھ کر کرناہوتا ہے۔جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا 9مئی کا واقعہ دہشتگردی سے زیادہ سنگین جرم ہے؟ جوٹرائل فوجی عدالت میں ہو رہاہے؟ اچھے تفتیشی افسران اور پر اسیکیوٹر رکھیں تو عدالتوں سے سزائیں بھی ہوں گی۔

    بعد ازاں عدالت نے سویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • پابندی ختم، پی آئی اے کی پرواز کل یورپ روانہ ہو گی

    پابندی ختم، پی آئی اے کی پرواز کل یورپ روانہ ہو گی

    یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر پابندی ختم کر دی

    یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پی آئی اے دوبارہ یورپ کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلانے کے قابل ہو گی۔ پی آئی اے کی پہلی پرواز پی کے 749 کل دوپہر 12:30 بجے اسلام آباد سے روانہ ہو گی۔ اس پرواز کا مقصد پاکستان سے پیرس چارلس ڈی گال ائیرپورٹ تک سفر کرنا ہے، جہاں پرواز مقامی وقت کے مطابق 4:55 بجے لینڈ کرے گی۔اس کے علاوہ، پی آئی اے کی اگلی پرواز پی کے 750 پیرس سے ہفتہ کی صبح 7 بجے روانہ ہو گی اور یہ پرواز اسلام آباد پہنچنے سے پہلے 6:55 بجے مقامی وقت کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گی۔

    پی آئی اے حکام کے مطابق، اسلام آباد اور پیرس کے درمیان دو پروازیں چلائی جائیں گی، جس کے نتیجے میں یورپ کے لیے قومی ائیر لائن کی پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔یہ فیصلہ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے 2020 میں پاکستان میں جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل سامنے آنے کے بعد عائد کی جانے والی پابندی کے بعد آیا ہے۔ اس اسکینڈل نے پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کیے تھے، جس کے نتیجے میں یورپ میں پی آئی اے اور دیگر پاکستانی ائیرلائنز پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

    یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ پی آئی اے نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ تمام عالمی معیارات پر پورا اُترنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے، جس کے بعد ان پر عائد کی گئی پابندی ختم کی گئی ہے۔اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف قومی ائیر لائن کی ساکھ میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان اور یورپ کے درمیان فضائی روابط میں بھی اضافہ ہوگا۔اس کے علاوہ، پی آئی اے نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی اپنی پروازوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے، تاکہ مسافروں کو بہترین خدمات فراہم کی جا سکیں۔

  • جامعہ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج،سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کا پردہ چاک

    جامعہ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج،سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کا پردہ چاک

    کراچی( سید ۔مظہر عبّاس چیف ایڈیٹر فیکٹس فاانڈر ڈیجیٹل) جامعہ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج نے اندرونِ سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے۔
    جامعہ این ای ڈی کے پرووائس چانسلر ڈاکٹر طفیل کے مطابق انٹر سال اول میں 70 اور 80 فیصد سے زائد نمبر لانے والے اندرونِ سندھ کے طلبہ کی اکثریت داخلہ ٹیسٹ میں اچھے نمبر تو دور کی بات، ہونے میں بھی ناکام ہوگئی۔
    داخلہ ٹیسٹ میں آغا خان تعلیمی بورڈ کے نتائج سب سے بہتر رہے۔ آغا خان تعلیمی بورڈ کے طلبہ کے نتائج کی کامیابی کا تناسب 84.71 فیصد رہا۔ فیڈرل بورڈ کا 73 فیصد رہا جب کہ کراچی بورڈ کے نتائج 67.64 فیصد رہا۔
    تاہم اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈز کی صورتحال انتہائی خراب رہی۔
    این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ میں لاڑکانہ بورڈ کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب 21.08 فیصد رہا، نوابشاہ بورڈ کا 26.60 فیصد رہا۔میرپورخاص کا 26.69 فیصد، سکھر کا 31.61 فیصد اور حیدرآباد بورڈ کا 34.41 فیصد رہا۔
    ڈاکٹر طفیل نے جنگ کو بتایا کہ اے لیول کے طلبہ کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج اس میں شامل نہیں کیئے گئے کیونکہ ان کے ابھی امتحانات چل رہے ہیں۔ امتحانات کے بعد اے لیول کے طلبہ کا داخلہ ٹیسٹ ہوگا۔ یاد رہے کہ سندھ کے تمام تعلیمی بورڈ گزشتہ کئی برس سے ایڈھاک ازم کا شکار ہیں، کسی بھی بورڈ میں چیرمین، ناظم امتحانات، سکریٹری اور آڈٹ افسر مستقل نہیں صرف حیدرآباد بورڈ کے قائم مقام ناظم امتحانات گزشتہ 12 برس سے تعینات ہیں انھیں جب بھی ھٹا یا جاتا ہے، اسٹے لے لیتے ہیں۔ یہی صورتحال اور بورڈ کے اور عہدوں کی بھی ہے بیشتر چیرمین بورڈ اسٹے پر کام کررہے جسکی وجہ سے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی مسلسل زوال پزیر ہے۔

    اب ملاحظہ کیجئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کراچی اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ لاڑکانہ کے 2024 کے نتائج کا ایک تقابلی جائزہ کہ کس مضمون میں کتنے فیصد بچے پاس ھوئے۔

    لاڑکانہ بورڈ رزلٹس
    کمپیوٹر سائینس۔ 74.81 فیصد
    پری میڈیکل 76.71 فیصد
    پری انجینئرنگ۔ 76.3 فیصد
    کامرس۔ 82 فیصد
    ھیومینٹیز۔ 80 فیصد

    کراچی بورڈ رزلٹس
    کمپیوٹر سائینس 35.51 فیصد
    پری میڈیکل 35 فیصد
    پری انجینئرنگ۔ 28.53 فیصد
    کامرس پرائیویٹ 29.67 فیصد
    ھیومینٹیز پرائیویٹ 24.33 فیصد

    کراچی بورڈ کے جن طلبہ کو پاس بھی کیا گیا، ان کو انتہائی کم مارکس دیئے گئے۔ زیادہ تر طلبہ کو B اور C گریڈ دیئے گئے۔ اس کے بر خلاف اندرونِ سندھ کے بورڈز کو انتہائی فراغ دلی سے مارکس دیئے گئے۔ زیادہ تر طلبہ کو A اور A-1 گریڈ دیئے گئے۔

    اندرونِ سندھ کے A اور A-1 طلبہ، این ای ڈی کا داخلہ ٹیسٹ محض پاس کرنے میں بھی ناکام ہو گئے۔
    جبکہ کراچی کے B اور C گریڈ لانے والے طلبہ، این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ میں اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔

    سندھ میں 2024 میں MDCAT میں جس طرح ظالمانہ دھاندلی ہوئی ہے اس سے آپ سب واقف ہیں۔ ایسی دھندلی دنیا میں اور کہیں نہیں ہوتی۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ اندرونِ سندھ کے جن طلبہ کو دو نمبری سے A-1 گریڈ دلوایا گیا ہے، ان طلبہ کے کراچی کے جعلی ڈومیسائل بنوا کر ان کے کراچی کے انجینئرنگ اور میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلہ کروائے جائیں گے۔

  • مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں،سبیل اکرام

    مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں،سبیل اکرام

    مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں ۔ پاکستان میں غربت مزید سات فیصد بڑھ گئی ہے اور مزید ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی خط ِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں ۔ادویات کی قیمتوں میں مزید تین سو فیصد اضافہ ظالمانہ قدم ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کو زندہ درگور کردینا چاہتی ہے ۔ حکمران اتحاد کو چاہئے کہ وہ سیاسی محاذ آرائی کی بجائے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے ، مہنگائی پر قابو پا، امن وامان قائم کرنے اور دہشت گردی کے خاتمہ پر توجہ دے ۔حکومت کی غلط ترجیحات کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیا کا مہنگا ترین ملک بن چکا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکمران مسائل حل کرنے کی بجائے سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غربت اور مہنگائی بے لگام ہو چکی ہے ، حکمرانوں کی طرف سے مہنگائی اور غربت میں کمی کے دعوے جھوٹے ہیں ۔مہنگائی اور غربت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کررہے ہیں ۔ابھی ادویات کی قیمتوں میں مزید تین سو فیصد اضافہ سے لوگوں کےلئے علاج کروانا ممکن نہیں رہے گا ۔ حالات تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ ریلیف نہ دیا گیا اور مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو کوئی بڑاحادثہ جنم لے سکتا ہے ۔ اسلامی فلاحی ریاست میں بے حیائی ، مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی کو کنٹرول کیا اور جرائم کا قلع قمع کیاجاتا ہے۔ عوام کے لئے تمام بنیادی سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں اور امن وامان کا دور دورہ ہوتا ہے لیکن اس وقت ملک میں مہنگائی کا جن بے قابوہوچکا ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس کانتیجہ ہے کہ جرائم خوفناک حد تک بڑھ رہے ہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے اور لوگ خودکشیاں کررہے ہیں ۔ان حالات میں ضروری ہے کہ حکمران طبقہ عوام کو درپیش مسائل حل کرنے اور مہنگائی پرقابو پانے کی کوشش کرے تاکہ لوگ خوشحال ہوں اور ملک میں امن وامان کا دور دورہ ہو۔

    بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر

    آذربائیجان کے صدر کا روس پر مسافر طیارے کے حادثے کو چھپانے کا الزام

  • بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ڈیل کی وجہ سے موخر نہیں ہورہا، بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ نہیں چاہتے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کسی ایگزیکٹو آرڈر کے نتیجے میں ہو، ہم چاہتے ہیں قانونی طریقہ کار مکمل کیا جائے اور پھر رہائی ہو، پی ٹی آئی مذاکرات میں 2 مطالبات رکھ چکی ہے ، 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ،مذاکرات پاکستان کیلئے کررہے ہیں اس میں تعطل نہیں آنا چاہیے، مذاکرات کسی ڈیل کیلئے نہیں بلکہ ملک کی بہتری کیلئے کررہے ہیں، عمران خان قوم و ملک کی خاطر جیل میں ہیں،ہمارے دو مطالبات ہیں اگر لکھ کر دینے ہیں تو شاید ہم لکھ کر بھی دے دیں، پاکستان کیلئے بہتر یہی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا میرے ساتھ جو ہوا میں ان کو معاف کرتا ہوں، عمر ایوب
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ حکومت سے دو ٹوک کہا تھا کمیٹی کی بانی سے آزادانہ ماحول میں ملاقات کروائی جائے ، حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے تعاون کریں گے ، آج 7 جنوری ہے ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا، مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے ہم نے بانی پی ٹی آئی سے ہی ہدایت لینی ہے ،بانی پی ٹی آئی نے پاکستان کیلئے بات کی ہے ،بانی پی ٹی آئی نے کہا میرے ساتھ جو ہوا میں ان کو معاف کرتا ہوں، ملک میں صاف و شفاف الیکشن کرائے جائیں ،

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا اسیران کی رہائی کے بعد باہر آنے والا آخری شخص ہوں گا ، ریاست اور عوام میں جو دوریاں پیدا ہوئیں ان کو ختم کیا جانا چاہیے ، جبر کے ماحول میں معیشت کی ترقی نہیں ہوسکتی،الیکشن میں جو عوام کے ووٹ کو چرایا گیا اس پر خاموش نہیں بیٹھیں گے ، آپ نے ایک الیکشن پر نہیں جمہوریت کے تسلسل پر حملہ کیا،

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے، توشہ خانہ کیس کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ دیا، توشہ خانہ کا کیس بانی چیئرمین پر بنتا ہی نہیں تھا، یہ جھوٹ پر مبنی کیس تھا ،سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا کیس تھا، سزا صرف بانی چیئرمین کو نہیں دی جارہی یہ اس ملک کے سب شہریوں کو دی جارہی ہے،بانی چیئرمین نے شوکت خانم بنایا ،نمل یونیورسٹی بنائی، یہ سب کچھ بانی چیئرمین نے غریب عوام کیلئے کیا،القادر یونیورسٹی میں بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ ٹرسٹی ہے، بانی چیئرمین کو اچھے کام کرنے کی سزا دی جارہی ہے، ہم مطالبہ کررہے ہیں رعایت نہیں مانگ رہے ہیں، ہم رہائی کی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں، کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک آئین اور قانون کی بالادستی نہ ہو، القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کو سزا دینا ہر اس شخص کو سزا دینا ہوگی جو بھی فلاحی کام کرے گا، بانی پی ٹی آئی نے پوری زندگی فلاحی کام کیا، موجودہ حکومت قابض ہے 3 سے 4 ماہ کی مہمان حکومت ہے ،

    آذربائیجان کے صدر کا روس پر مسافر طیارے کے حادثے کو چھپانے کا الزام

    سیالکوٹ: شہاب پورہ یونین کونسل میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

  • آذربائیجان کے صدر کا روس پر مسافر طیارے کے حادثے کو چھپانے کا الزام

    آذربائیجان کے صدر کا روس پر مسافر طیارے کے حادثے کو چھپانے کا الزام

    آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ماسکو پر گزشتہ ماہ کے ایک مسافر طیارے کے حادثے کو چھپانے کا الزام عائد کیا ہے جس میں 38 افراد کی جانیں گئیں۔ اس حملے کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

    آذربائیجان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق، صدر علیوف نے پیر کے روز بچ جانے والی دو فلائٹ اٹینڈنٹس اور حادثے میں جاں بحق ہونے والے دیگر عملے کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طیارے کو روسی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ جب طیارہ روس کے جنوبی علاقے چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی کی طرف جا رہا تھا، تو اس کے اوپر روسی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ حادثے کے بعد کیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گروزنی کے شہر میں فوری طور پر فضائی حدود کو بند کیا جانا چاہیے تھا، اور اگر ایسا کیا جاتا تو یہ افسوسناک حادثہ نہ ہوتا۔

    صدر علیوف نے کہا، "میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس حادثے میں آذربائیجانی شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار روسی فیڈریشن کے نمائندے ہیں۔ ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم مجرموں کی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم مکمل شفافیت اور انسانی سلوک کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

    روس کے صدر ولادیمر پوتن نے اس ” واقعے” پر افسوس کا اظہار کیا تھا، تاہم انہوں نے اس میں روس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پوتن کے مطابق، روسی فضائی دفاعی نظام اس وقت فعال تھے جب طیارہ گروزنی میں لینڈ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس علاقے میں یوکرائنی ڈرونز کے حملے جاری تھے۔

    الہام علیوف نے پیر کے روز روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روس نے "اس حادثے کی مبہم تشریحات” کو بڑھاوا دیا ہے، جس سے آذربائیجان میں "حیرت، افسوس اور جائز غصہ” پھیل گیا ہے۔”اگر گروزنی شہر نے اپنی فضائی حدود کو بروقت بند کرنے کے لیے اقدامات کیے ہوتے، اگر تمام زمینی خدمات کے ضوابط پر عمل کیا گیا ہوتا، اور اگر روسی فیڈریشن کے مسلح افواج اور شہری خدمات کے درمیان ہم آہنگی ہوتی، تو یہ سانحہ پیش نہ آتا”، اپنے ٹی وی خطاب میں علیوف نے روسی زبان کا انتخاب کیا، جو ایک معمول سے ہٹ کر قدم تھا۔انہوں نے طیارے کے عملے کی بہادری اور ہیروزم کی تعریف کرتے ہوئے پائلٹس کی "پروفیشنلزم” کی ستائش کی اور کہا کہ ان کی کوششوں کی بدولت کچھ افراد کی جانیں بچ گئیں۔

    اس طیارے میں آذربائیجان، روس، قزاقستان اور کرغیزستان کے باشندے سوار تھے، اور یہ برازیل میں تیار ہونے والی ایمبریئر 190 طرز کا طیارہ تھا۔

    برازیل کی فضائیہ نے پیر کے روز بتایا کہ اس کے تحقیقاتی اداروں نے حادثے سے بازیاب ہونے والی دو بلیک باکس ریکارڈرز کا ڈیٹا نکال لیا ہے۔ یہ ریکارڈرز برازیل بھیجے گئے تھے جہاں بین الاقوامی ماہرین نے آذربائیجان کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ان آلات کا تجزیہ کیا تاکہ شفافیت اور اعتبار کو یقینی بنایا جا سکے۔کازقستان کے حکام نے اس ڈیٹا کو اپنی تحقیقات کے لیے حاصل کر لیا ہے اور وہ آذربائیجان کے ساتھ مل کر اس حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف، روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے اس سانحے کے حوالے سے ایک فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے،

    حادثے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں طیارے کے جسم پر شراپنیل یا ملبے سے ہونے والے سوراخ دکھائی دے رہے ہیں، تاہم ان سوراخوں کے اصل سبب کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    صدر علیوف نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ ہم جلد ہی ابتدائی نتائج جانیں گے اور اس سانحے کی حقیقت بھی سامنے آ جائے گی۔ یہ یقینی طور پر تحقیقات کے مکمل ہونے اور مجرموں کو سزا دینے کے عمل میں ایک اہم مرحلہ ہوگا۔”

    ہیڈ پنجند پر سیاحوں کو دیسی مچھلی کے نام پر زہر دیا جانے لگا، فوڈ اتھارٹی منظر سے غائب

    لاہور میں فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے جدید طریقہ لاگو کرنے کا فیصلہ

  • ریڈ کارپٹ ایونٹ کے بعد مشہور شخصیات کے لباس کا کیا ہوتا ہے

    ریڈ کارپٹ ایونٹ کے بعد مشہور شخصیات کے لباس کا کیا ہوتا ہے

    جب بھی کوئی سیلیبرٹی ریڈ کارپٹ پر پوز کرتی ہے، سینکڑوں کیمروں کی فلش کی آواز گونجتی ہے، جو ان کے لباس کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتی ہے، اور اس تخلیق میں صرف گھنٹوں نہیں، بلکہ دنوں، ہفتوں، اور کبھی کبھار مہینوں کا وقت شامل ہوتا ہے۔

    اتوار کی رات ہونے والے گولڈن گلوب ایوارڈز بھی اس سے مختلف نہیں تھے، جہاں اینجلینا جولی نے میک کوئن کے کرسٹل چین والے دلفریب گاؤن میں شرکت کی، اور ٹلڈا سوئٹن نے چینل کے کسٹم ایمبرائیڈڈ جیکٹ میں شاندار انداز دکھایا۔ آن لائن، ایسے ریڈ کارپٹ لباس سوشل میڈیا پر طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں، جہاں انہیں متاثر کن شخصیات اور صحافیوں کے ذریعے شیئر اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ لیکن ان لباسوں کی حقیقت میں کیا تقدیر ہوتی ہے، یہ کم ہی جانا جاتا ہے۔ ان کے شہرت کے لمحے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ یہ کہاں جاتے ہیں اور دوبارہ کب نظر آتے ہیں؟
    red
    سیلیبرٹی کے ریڈ کارپٹ ایونٹس پر پہنے جانے والے لباس کی تقدیر مختلف انداز میں ہو سکتی ہے۔ کچھ لباس کو محفوظ کر لیا جاتا ہے، کچھ نمائشوں میں پیش کیے جاتے ہیں، کچھ اوپن مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور نیلام کیے جاتے ہیں، اور کچھ سیلیبرٹیز خود ان لباسوں کو خرید لیتے ہیں۔ کبھی کبھار، کچھ لباس رات بھر بھی نہیں بچ پاتے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں، سیلیبرٹیز کے ریڈ کارپٹ ایونٹس پر پہنے گئے لباس پر زیادہ توجہ دی جانے لگی ہے، اور اس کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے، ریڈ کارپٹ ایونٹ کے بعد سب سے پہلی چیز جو ہوتی ہے، وہ لباس کی صفائی ہوتی ہے، جیسا کہ کلیولینڈ میوزیم آف آرٹ کی چیف کنزرویٹر سارہ اسکیٹورو نے کہا۔ لباس پہننے والے شخص کے جسم پر لوشن، تیل، پرفیوم اور میک اپ بھی ہو سکتا ہے، جو وقت کے ساتھ کپڑے کی رنگت اور بناوٹ میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ صفائی کا عمل عام طور پر ڈرائی کلیننگ سے کیا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھار نم صفائی یا صرف ویکیومنگ اور برشنگ بھی کی جاتی ہے۔صفائی کے بعد، زیادہ تر لباس خصوصی ذخیرہ کرنے کی سہولتوں میں رکھے جاتے ہیں، جیسے فیشن ہاؤسز کی آرکائیو یا کسی نجی ذخیرہ گاہ میں۔ ان لباسوں کو سالوں تک محفوظ اور دیکھ بھال کے ساتھ رکھا جاتا ہے، اور انہیں تب ہی نکالا جاتا ہے جب وہ نمائش کے لیے منتخب کیے جائیں یا دوبارہ کسی ایونٹ میں پہنے جائیں۔

    لباس کی نمائش اور نیلامی
    کچھ لباس نمائشوں میں پیش کیے جاتے ہیں، جیسے کہ پچھلے سال برطانیہ کے کینسنگٹن پیلس میں "کروان ٹو کٹور” نمائش، جس میں کئی مشہور لباس شامل تھے، جیسے کہ بللی آئلش کا 2021 کے میٹ گالا میں پہنا گیا مارلن منرو سے متاثر اوکسر ڈی لا رینٹا کا ٹول گاؤن، اور 2019 کے ایونٹ میں بیلی پورٹر کا "سن گڈ” لباس جو اس نے سامانی طور پر پہنا تھا۔

    ایک اور مشہور واقعہ یہ ہے کہ کچھ سیلیبرٹیز خود اپنے لباس خرید لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کم کارڈیشین نے میٹ گالا کے اپنے تمام لباس اپنے وارڈروب میں محفوظ کر رکھے ہیں، سوائے اس مارلن منرو کے لباس کے جو اس نے دو سال پہلے پہنا تھا اور پھر ریپلی کی بلائیو آئیٹ فار نیٹ کو واپس کر دیا تھا۔ریڈ کارپٹ ایونٹس پر پہنے جانے والے لباس کا سفر ایک دلچسپ اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے، جو سیلیبرٹیز، فیشن ہاؤسز، اور ماہرین کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان لباسوں کا تقدیر کا سفر بھی ایک گہرا اور اہم موضوع بن چکا ہے، جو فیشن کی تاریخ کا حصہ بننے کے ساتھ ساتھ ان کے دوبارہ استعمال اور نمائش کا حصہ بھی بنتا ہے۔

    باکس آفس پر ناکام ہونے والی بھارتی فلم آسکرز کی فہرست میں شامل

    چین میں زلزلے سے تباہی،اموات،گھر تباہ، پاکستانی قیادت کی یکجہتی

    کرینہ کپور کے نئے سال پر پہنے گئے لباس کی قیمت سامنے آ گئی

  • چین میں زلزلے سے تباہی،اموات،گھر تباہ، پاکستانی قیادت کی یکجہتی

    چین میں زلزلے سے تباہی،اموات،گھر تباہ، پاکستانی قیادت کی یکجہتی

    منگل کی صبح ایک طاقتور زلزلہ تبت کے ایک دور افتادہ علاقے میں آیا، جس سے کم از کم 95 افراد ہلاک ہو گئے، اور اس کے جھٹکے ہمسایہ ممالک نیپال، بھوٹان اور بھارت کے شمالی حصوں میں بھی محسوس ہوئے۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9:05 پر آیا، جس کی شدت 7.1 تھی اور یہ سطح سے 10 کلومیٹر (6.2 میل) کی گہرائی میں محسوس ہوا۔ زلزلے کے بعد متعدد آفٹرشاکس بھی آئے، جنہوں نے مزید تباہی مچائی۔زلزلے کی شدت سے تبت کے دور دراز ہمالیائی گاؤں تباہ ہو گئے، ایک قریبی مقدس تبت شہر لرز گیا اور ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر موجود سیاحوں کو بھی شدید جھٹکے محسوس ہوئے۔ اس زلزلے کا مرکز تبت کے ٹنگری ضلع میں تھا، جو نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے، اور یہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) دور تھا۔

    مقامی حکام کے مطابق، اس زلزلے میں کم از کم 130 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 1,000 سے زائد مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ چینی نیوز ایجنسی کے مطابق، ٹنگری کے علاقے میں 1,000 سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا۔

    نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، جہاں لوگ اپنے گھروں سے باہر دوڑ گئے اور بجلی کے کھمبوں سے تاریں بھی جھولتے ہوئے دکھائی دیں۔ نیپال کے مرکز برائے آفات کے انتظام کے کارکن بشال ناتھ اپریتی نے بتایا کہ "زلزلہ بہت طاقتور تھا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، اور آپ تاروں کو ہلتے ہوئے دیکھ سکتے تھے۔”

    زلزلے کا مرکز جس علاقے میں تھا، وہ کم آباد تھا، لیکن وہاں کے چھوٹے گاؤں دور دراز ہمالیائی وادیوں میں واقع ہیں اور وہاں تک رسائی مشکل ہے۔ چین کے ایجنسی کے مطابق، اس علاقے میں 27 گاؤں ہیں جہاں تقریباً 6,900 افراد مقیم ہیں، اور یہ تمام گاؤں زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہیں۔چینی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں، ژیگاتسے ضلع کے کچھ 86 کلومیٹر (53 میل) دور علاقوں میں تباہ شدہ چھتیں، دکانوں کے سامنے اور سڑکوں پر ملبہ پڑا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی متاثر ہو گئی تھیں۔

    شیگاتسے، جو زلزلے کے مرکز سے تقریباً 180 کلومیٹر (111 میل) دور واقع ہے، ایک مقدس تبت شہر ہے جس میں 8 لاکھ کے قریب لوگ رہتے ہیں۔ اس شہر میں پانچن لاما کی نشست بھی ہے، جو تبت کے بدھ مت کا دوسرا سب سے بڑا روحانی رہنما ہے۔ شیگاتسے میں موجود سپر مارکیٹ میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ جیسے ہی زلزلہ آیا، لوگ باہر دوڑ گئے اور سامان شیلفوں سے گرنے لگا۔

    ایورسٹ بیس کیمپ میں موجود 500 سے زیادہ سیاحوں کو فوری طور پر نکال لیا گیا۔ بیس کیمپ کے عملے کے مطابق، عمارتوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا، تاہم ایورسٹ کی چڑھائی کے لیے علاقے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ موسم سرما میں ایورسٹ کی چڑھائی کا وقت نہیں ہوتا، مگر کچھ چینی سیاح اس علاقے کا دورہ کرنے آتے ہیں تاکہ ہمالیہ کی حسین منظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔

    tibet
    چین کے سرکاری ذرائع کے مطابق، ریسکیو ٹیموں میں چینی فضائیہ بھی شامل ہے اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق 200 سے زائد چینی فوجی ٹنگری کے علاقے میں پہنچ چکے ہیں، جبکہ مزید 1,500 فوجی امدادی کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔ تین گاؤں کے فون سروس بھی منقطع ہو گئے تھے۔چینی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے سوشل میڈیا ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ پولیس کے افسران ملبے کے نیچے زندہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھدائی کر رہے تھے۔ ویڈیوز میں تباہ شدہ گھروں اور گرنے والی دیواروں کا منظر بھی دکھایا گیا، اور کچھ متاثرین سڑکوں پر کمبلوں پر بیٹھے ہوئے گرم پانی پی رہے تھے۔

    چین کے زلزلہ نیٹ ورک سینٹر کے مطابق، زلزلے کے بعد 49 آفٹرشاکس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے ایک بیان میں حکام کو ہدایت دی کہ وہ تمام تر وسائل کو بچاؤ اور امداد کے کاموں میں لگائیں، تاکہ زندہ افراد کو نکالا جا سکے، ہلاکتوں کو کم کیا جا سکے اور متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔اس زلزلے نے پورے خطے میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے اور امدادی کارروائیاں تیز تر کی جا رہی ہیں۔

    چین کے علاقے شی زانگ میں زلزلہ، پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور سیاسی رہنماؤں کا اظہار افسوس
    چین کے علاقے شی زانگ میں تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر پاکستانی قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ زلزلہ میں بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جس پر پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے چینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے چین کے علاقے شی زانگ میں ہونے والے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق، صدر مملکت نے کہا کہ "دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں چینی حکومت، عوام اور متاثرین کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "چین کے بھائیوں اور بہنوں کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں۔” صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر زلزلے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار یکجہتی
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے علاقے شی زانگ میں آئے تباہ کن زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کے ساتھ اپنی گہری یکجہتی اور دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اپنے ایک پیغام میں کہا، "اس سانحہ پر پوری پاکستانی قوم سوگوار ہے اور ہم اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کے دکھ میں شریک ہیں۔” وزیراعظم نے متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں چین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

    عبدالعلیم خان کا اظہار افسوس
    وفاقی وزیر نجکاری اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے بھی چین کے علاقے تبت میں آنے والے زلزلے میں جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں عبدالعلیم خان نے کہا، "انسانی جانوں کا ضیاع اجتماعی نقصان ہے اور اس مشکل کی گھڑی میں پاکستانی عوام اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ چین سمیت دنیا بھر کو ایسی آفات سے محفوظ رکھے۔

    پاکستان کی چینی عوام کے ساتھ یکجہتی
    پاکستان کے مختلف سیاسی رہنماؤں، حکومتی عہدیداروں اور عوامی شخصیات نے چین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ تمام پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ یہ مشکل وقت چین کے عوام کے ساتھ ہے اور پاکستان ہر طرح سے چینی حکومت اور عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔چین کے علاقے شی زانگ میں آنے والے اس زلزلے نے نہ صرف چینی عوام کو مادی اور جانی نقصان پہنچایا، بلکہ اس کا اثر پورے خطے میں محسوس کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک نے اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا اور چینی عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔پاکستانی قیادت نے اس موقع پر اپنی دعاؤں کے ذریعے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور چین میں امدادی کارروائیوں کی کامیابی کی دعا کی۔

    کرینہ کپور کے نئے سال پر پہنے گئے لباس کی قیمت سامنے آ گئی

    بلاول سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات