Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وفاقی وزیرداخلہ   کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرداخلہ نے مولانا فضل الرحمن کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا کے علاقے کرم میں قیام امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کرم میں امن کے قیام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور بعض عناصر نے جان بوجھ کر کرم مسئلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی بہتری کے لئے گرینڈ جرگہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

    محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دیرینہ نیاز مندی ہے اور پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پارا چنار میں امدادی اشیاء کے قافلوں کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کرم میں امن و سکون کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ملکی مفاد میں مزید تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

  • اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    پاکستان کی معروف اداکارہ میرا ایک مرتبہ پھر خبروں کی زد میں ہیں، اور اس بار ان کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ اپنی شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئیں۔

    یہ ویڈیو کلپ ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے انٹرویو کا ہے، جس میں میزبان نے میرا سے ان کے ذاتی زندگی سے متعلق کئی سوالات کیے۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ "نیلم منیر کی شادی ہوگئی ہے، آپ کا کب تک کا ارادہ ہے؟” اس پر میرا نے گہری سوچ کے بعد جواب دیا "بس! افسوس ہے”۔اینکر نے پھر سوال کیا، "کیا آپ نیلم منیر کی شادی کا افسوس کر رہی ہیں یا اپنی شادی میں تاخیر پر؟” جس پر میرا نے افسردگی کے ساتھ کہا "اپنی شادی میں تاخیر کا افسوس ہے”۔

    اینکر کی جانب سے مسلسل ذاتی سوالات کیے جانے پر میرا نے انتہائی تحمل کے ساتھ جواب دیا کہ "مجھے اب تک کوئی نہیں ملا، اور شاید مجھ سے کوئی شادی نہیں کرنا چاہتا، مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہے”۔

    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اینکر کے سوالات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اینکر کا انداز سوالات کرنے کا انتہائی غیر مناسب تھا جس سے میرا کو جذباتی طور پر تکلیف پہنچی۔ کئی سوشل میڈیا صارفین نے اینکر کی پالیسیوں کو غیر مہذب اور حساسیت سے عاری قرار دیا۔میرا کا یہ ردعمل اور اینکر کی طرف سے کیے جانے والے سوالات نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ میڈیا میں اداکاروں کے ذاتی معاملات کے بارے میں سوالات کرنے کی حدیں کہاں تک پہنچنی چاہئیں۔

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    بھارتی فضائیہ کا غیرپیشہ ورانہ طرزعمل ایک بار پھر منظرعام پر

    مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

  • ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آبادسویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی،

    سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتاہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس نکتے پربھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کےمطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا و جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتاہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزاو جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ سپیشل قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے،

    فوجی ٹرائل میں وکلاء کے دلائل، گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے،فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟

  • بھارتی فضائیہ کا غیرپیشہ ورانہ طرزعمل ایک بار پھر منظرعام پر

    بھارتی فضائیہ کا غیرپیشہ ورانہ طرزعمل ایک بار پھر منظرعام پر

    مودی سرکار کے تحت بھارتی فضائیہ کی نااہلی اور غیرپیشہ ورانہ طرزعمل نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی حقیقت عیاں کر دی ہے۔

    بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جنگی طیاروں کی کمیشن میں تاخیر بھارتی فضائیہ کی ناکامی کی ایک بڑی مثال ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، انہوں نے ان مسائل پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارتی فضائیہ میں جدید طیاروں کے حصول میں سنگین مشکلات کا سامنا رہا ہے۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے بتایا کہ ‘تیجس پروجیکٹ’ کا آغاز 1986 میں کیا گیا تھا، لیکن اس کا پہلا طیارہ 17 سال بعد یعنی 2003 میں اڑان بھر سکا۔ اس کے بعد، اس طیارے کی ٹیسٹنگ اور بہتری کے مراحل میں مزید 16 سال گزر گئے، اور تب جا کر یہ طیارہ بھارتی فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہوا۔ سربراہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اب تک بھارتی فضائیہ میں 40 طیارے بھی مکمل طور پر شامل نہیں ہو سکے ہیں، جو کہ بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    ائیر چیف مارشل اے پی سنگھ نے مزید کہا کہ وقت کی حساسیت کو نہ سمجھتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ شعبہ نے اپنی اہمیت کھو دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناکامی کے خوف کی وجہ سے بھارتی فضائیہ نے اپنے اہم پروجیکٹس کو مکمل کرنے میں بہت وقت ضائع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو ملک اہم پروجیکٹس کو بر وقت مکمل نہیں کر سکتا، اسے ٹیکنالوجی کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔”

    بھارتی فضائیہ کی طیاروں کی مینوفیکچرنگ میں مسلسل توسیع نے بھارتی حکومت کی ناکام پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مودی حکومت کے دور میں بھارتی فضائیہ بے شمار فضائی حادثات کا شکار ہوئی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں بھارتی فضائیہ کے 46 حادثات ہوئے، جن میں 42 بھارتی پائلٹس اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بھارتی فضائیہ کی ناکامیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مودی سرکار ملکی اداروں کو مالی فائدے کے لیے تباہ کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

    آئے روز حادثات کا سلسلہ: بھارتی فضائیہ کی ناکامی کا واضح ثبوت
    بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے آئے روز حادثات نہ صرف بھارتی فضائیہ کے غیرپیشہ ورانہ طرزعمل کا منہ بولتا ثبوت ہیں، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے اپنی ناکامیوں کے باوجود ان مسائل پر مناسب توجہ نہیں دی۔ بھارتی فضائیہ کی ناقص کارکردگی اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

    مودی سرکار کی ناقص حکومتی پالیسیوں اور بھارتی فضائیہ کی مسلسل ناکامیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تک بھارت اپنے اداروں کو درست حکمت عملی کے تحت چلانے میں کامیاب نہیں ہوتا، اس کی فضائیہ اور دیگر اہم شعبے اپنی ساکھ اور کارکردگی میں مزید تنزلی کا شکار ہوں گے۔

    مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

  • مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

    مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

    منی پور میں حالات دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں جھڑپوں اور احتجاج کی وجہ سے سکیورٹی کی صورتحال نازک ہوگئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، گزشتہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران بھارتی فوج کا ایک افسر زخمی ہوگیا، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔

    مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم کرے، لیکن جب بھارتی افسران نے انہیں دھمکیاں دیں، تو جوابی کارروائی کے طور پر مظاہرین نے پولیس سٹیشن پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔دریں اثنا، بھارتی فوج کی جانب سے جاری جعلی انکاؤنٹرز کے خلاف کوکی قبیلے اور دیگر مقامی تنظیموں نے شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    کانگریس کے رہنما ملک ارجن کھرگے نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے منی پور میں فسادات نے شدت اختیار کی ہے اور پورا ریاستی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "منی پور میں گاؤں کے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ کی نااہلی کی وجہ سے حالات بگڑتے جا رہے ہیں”۔اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "نااہل اور بے شرم ہیں، جو افسوس کا اظہار کرنے کے باوجود غائب ہوگئے ہیں”۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ منی پور فسادات پر بی جے پی کی مسلسل خاموشی اس کی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت پر شدید تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ "مودی کے دور حکومت میں مذہبی عدم برداشت اور فرقہ واریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے”۔ ان کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں کا منی پور پر قابض ہونا مودی کی ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔اس کے ساتھ ہی، اپوزیشن نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ "جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہوئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے اور منی پور پر مکمل چپ سادھ رکھی ہے”۔

    منی پور کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ جھڑپوں، مظاہروں اور سیاسی الزامات نے پورے علاقے کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ بھارتی فوج کی کارروائیاں، مقامی تنظیموں کا احتجاج، اور سیاسی جماعتوں کے سخت بیانات اس بات کا غماز ہیں کہ یہ بحران اب ایک نیا موڑ اختیار کر چکا ہے، اور اس کی شدت میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر   تباہ

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    امریکی شہر لاس اینجلس میں لگی تاریخ کی بدترین آگ نے پورے علاقے میں تباہی مچادی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، اس آگ نے 6 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کو مکمل طور پر جل کر راکھ میں تبدیل کر دیا ہے اور 32 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات اور وادیاں اجڑ چکی ہیں۔

    یہ آتشزدگی منگل سے شروع ہوئی تھی اور اب تک اس پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس سانحے میں ہلاک افراد کی اصل تعداد کتنی ہوگی، لیکن آگ کی شدت کے پیش نظر بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ اس آتشزدگی کے باعث ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، شہر کے خالی گھروں میں ڈکیتوں کی جانب سے لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پولیس نے اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو گھروں میں لوٹ مار میں ملوث تھے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ خشک اور تیز ہوائیں آگ کی شدت میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں، اور اگر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو یہ سانحہ امریکی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں شامل ہو سکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن کا امدادی اعلان
    امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس میں آگ سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6 ماہ تک وفاقی حکومت 100 فیصد اخراجات اٹھائے گی، جن میں متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانا، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، اور ریسکیو ورکرز کی تنخواہوں کا انتظام شامل ہوگا۔ مزید یہ کہ، صدر بائیڈن نے تعمیراتی کام کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت کا بھی ذکر کیا ہے، جس کے لیے وہ کانگریس سے اپیل کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا گورنر کیلیفورنیا سے استعفیٰ کا مطالبہ
    اس دوران، امریکی سیاستدان اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر کیلیفورنیا گیون نیوسم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاس اینجلس کا خوبصورت ترین علاقے جل کر راکھ ہو گئے ہیں اور اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹ گورنر نیوسم پر عائد ہوتی ہے۔

    ہالی وڈ کی مشہور شخصیات کے گھروں کو نقصان
    لاس اینجلس میں لگی آگ کا اثر صرف مقامی رہائشیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے ہالی وڈ کی معروف شخصیات کے گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ مشہور اداکارہ اور گلوکارہ پیرس ہلٹن نے انسٹاگرام پر اطلاع دی کہ ان کا مالیبو میں واقع گھر آگ کی زد میں آ کر تباہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح، اداکار اسپینسر پراٹ اور ہیڈی مونٹگ نے بھی اپنے گھروں کے جلنے کی خبر دی۔اس کے علاوہ، اداکارہ اینا فیرس کا گھر مکمل طور پر راکھ میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ گیت نگار ڈیان وارن نے بھی اپنے تقریباً 30 سال پرانے بیچ ہاؤس کے جلنے کی تصدیق کی۔ فلم "ٹاپ گن میورک” کے اسٹار مائلز ٹیلر اور ان کی اہلیہ کا 75 لاکھ ڈالر مالیت کا گھر بھی اس آگ کی نذر ہو چکا ہے۔

    لاس اینجلس کی اس آگ کی وجہ سے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد تقریبات منسوخ کر دی گئیں اور شہر کے شمالی علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے پھیلنے والی آگ نے مشہور پیسیفک پیلیسیڈز جیسے علاقے میں مہنگے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس آتشزدگی کی وجہ سے آسکر کی نامزدگیوں کی تاریخ کو بھی آگے بڑھا کر 19 جنوری کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی فلموں کے پریمیئرز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    لاس اینجلس میں لگی اس تاریخ کی بدترین آگ نے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے وسیع اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکام اور امدادی ادارے اس آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کی مرکزی حکومت نے فوری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

  • متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان کر دیا گیا ہے جو کہ اماراتی اور غیر ملکی دونوں خاندانوں پر لاگو ہوں گے۔ ان نئے قوانین کا مقصد بچوں کی تحویل، والدین کی ذمہ داریوں اور فیملی کے دیگر اہم مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرنا ہے۔

    نئے فیملی قوانین کے مطابق، بچوں کے اماراتی قومی کارڈ اور پاسپورٹ کے غلط استعمال پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، فیملی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے اور جیل کی سزا بھی عائد کی جا سکتی ہے۔نئے قوانین کے تحت بچوں کی تحویل سے متعلق قوانین میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بچوں کی تحویل کی عمر میں توسیع کر دی گئی ہے، جس سے والدین اور بچوں کے حقوق کی بہتر حفاظت کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ، غیر مسلم ماؤں کو بھی بچوں کی تحویل کا حق دیا گیا ہے، جو پہلے مخصوص حالات میں ممکن نہیں تھا۔ایک اور اہم تبدیلی یہ ہے کہ 15 سال کی عمر کے بچے خود فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، یعنی انہیں والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کا اختیار دیا جائے گا۔

    متحدہ عرب امارات کا نیا فیملی قانون اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوگا، جس کا مقصد فیملی مسائل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ ان قوانین کا مقصد خاندانوں میں بہتر ہم آہنگی اور بچوں کے حقوق کی مکمل حفاظت کرنا ہے۔نئے قوانین کے ذریعے حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور مقیم افراد کے حقوق کو اہمیت دیتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • 26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کے 177 کارکنان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے 153 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں، جبکہ 24 کارکنان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    تھانہ کراچی کمپنی میں 48 ملزمان کے کیسز کی سماعت کے دوران، عدالت نے 43 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں جبکہ 5 کی ضمانتیں مسترد کر دیں۔ اسی طرح، تھانہ ترنول میں 7 ملزمان کی ضمانتوں میں سے 2 کی ضمانت منظور کی گئی اور 5 کی ضمانتیں مسترد ہو گئیں۔تھانہ آئی 9 کے 10 ملزمان میں سے 9 کی ضمانتیں منظور ہوئیں اور ایک کی درخواست مسترد ہوئی۔ تھانہ کوہسار کے مقدمے میں 28 ملزمان کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 5 کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ تھانہ رمنا میں 8 ملزمان میں سے 3 کی ضمانتیں منظور کی گئیں اور 5 کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔تھانہ سیکرٹریٹ کے تمام 25 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔ تھانہ مارگلہ کے 45 ملزمان میں سے 42 کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 3 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتیں 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔ یہ فیصلہ عدالت کے مطابق قانونی تقاضوں کے مطابق دیا گیا، اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے حق میں فیصلہ آنا ایک اہم قانونی پیشرفت ہے۔یاد رہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا، جس کے بعد مختلف تھانوں میں ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو ریلیف ملے گا۔

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

    آزاد کشمیر کے علاقے لسدنہ حاجی پیر روڈ پر شدید برفباری اور سرد موسم میں دو گاڑیاں مسافروں سے بھر کر پھنس گئیں۔ ان گاڑیوں میں سوار افراد شدید مشکلات کا شکار تھے اور سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا۔

    اطلاع ملنے پر پاکستان آرمی نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ آرمی کے جوانوں نے سخت موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسکیو کی کارروائی شروع کی اور برف میں پھنسے مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔پاک آرمی کی امدادی ٹیموں نے نہ صرف مسافروں کو محفوظ مقام تک پہنچایا بلکہ انہیں فوری طور پر کھانا اور دیگر ضروری امدادی سامان فراہم کیا۔ فوجی جوانوں نے برفباری اور شدید سرد موسم کے باوجود اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مسافروں کی مدد کی۔

    ریسکیو کیے گئے مسافروں نے پاکستان آرمی کی بروقت اور مستعد امداد پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ ان مسافروں کا کہنا تھا کہ اگر فوج کی فوری کارروائی نہ ہوتی تو حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔پاکستان آرمی کی فوری امدادی کارروائی نے نہ صرف مسافروں کی زندگیاں بچائیں بلکہ ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ فوج اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، چاہے موسمی حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں۔

  • اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام لاء کالج میں کتاب میلے کا انعقاد

    اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام لاء کالج میں کتاب میلے کا انعقاد

    اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام لاء کالج میں کتاب میلے کا انعقاد کیا گیا جہاں پنجاب کے روایتی کھانوں کے علاوہ دیگر اشیاء کے سٹالز لگائے گئے جن میں طلبہ وطالبات نے غیر معمولی دلچپسی کا اظہار کیا ۔

    جمعیت جامعہ پنجاب کی خصوصی دعوت پر ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عدنان لودھی نے نومنتخب کابینہ اور ممبران کے ہمراہ کتاب میلے کا دورہ کیا اور ناظم جامعہ پنجاب انعام الرحمان گجر سے ملاقات کی ۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناظم جامعہ پنجاب انعام الرحمان گجر کا کہنا تھا کہ جنوری 2025 میں اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی میں سالانہ پائینر فیسٹیول کا انعقاد کرے گی جسمیں نیلام گھر ، کتاب میلہ ، کھانے پینے کے سٹال ، مقابلہ بیت بازی سمیت دیگر علمی و ادبی پروگرامات ہوں گے جسمیں ہزاروں طلبہ و طالبات براہ راست شرکت کریں گے ۔

    ناظم جامعہ نے ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کو بتایا کہ جمعیت پنجاب یونیورسٹی میں پرامن ماحول میں تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں پچھلے 75 سالوں سے اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے ۔ مہنگائی اور فیسوں میں اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کو بھی مشکل بنا دیا ہے ۔ پنجاب میں ایک کڑور ستر سال بچے سکول نہیں جاتے جنکو سکول ہونا چاہیے ۔ یونیورسٹیز میں بھی تعلیم آئے روز مہنگی کی جارہی ہے ۔ حکومت پنجاب کے تعلیمی اداروں کو ٹھیکے پر دینا چاہتی ہے تاکہ تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی سے جان چھرائی جاسکے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ مہنگی تعلیم کے خلاف بڑی تحریک چلائے گی تاکہ تعلیم سب کے لیے کا نعرہ عملی جامع پہن سکے ۔ ضرورت اس امر کی ہے تعلیمی اداروں میں ریسرچ کے کلچر کو عام کیا جائے ۔ نئی تحقیق کے لیے فنڈز رکھے جائیں لیکن سیاسی قیادتوں کا سارا زور سیاست پر ہے ۔ شعبہ تعلیم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس سے معیار تعلیم دگرگوں ہے ۔ ایجوکیشن رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر عدنان لودھی کو طلبہ عدالت کا بھی وزٹ کروایا گیا جہاں طلبہ وطالبات کو مذاکرہ کرتے براہ راست دیکھ کر صحافیوں نے خوب سراہا ۔

    بعدازاں مرکزی ترجمان جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف کی زیرصدارت ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جہاں صحافیوں سے تعلیم سمیت دیگر دلچسپی کے موضوعات پر طویل نشست بھی ہوئی.