Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • زیادتی کے بعد بچی کو ڈرم میں بند کرنے والا ملزم گرفتار

    زیادتی کے بعد بچی کو ڈرم میں بند کرنے والا ملزم گرفتار

    زیادتی کے بعد بچی کو ڈرم میں بند کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا

    کوٹ لکھپت پولیس نے 7 سالہ بچی عالیہ سے زیادتی کا مرتکب ملزم گرفتار کر لیا ،ملزم رفیق کی کریم پارک کوٹ لکھپت میں کباڑ کی دوکان ہے ،بچی کباڑ کی دوکان پر سوکھی روٹیاں فروخت کرنے آئی ملزم نے ورغلا کر زیادتی کی ،بچی کی تلاش میں چاچا دوکان پر آیا ملزم نے بچی کو دھمکا کر ڈرم میں بند کردیا ،بچی کے اونچا رونے پر چاچا نے ڈرم سے بچی کو نکالا واقعہ کے متعلق دریافت کیا ،ملزم کو جدید ٹیکنالوجی سے کریم پارک رشتہ دار کے گھر سے ٹریس کرکے گرفتار کیامقدمہ درج کر لیا گیا

    دوسری جانب اسلام آباد پورہ ڈولفن ٹیم نے خاتون سے قیمتی موبائل چھیننے کی واردات ناکام بنا دی، ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا،ڈولفن ٹیم نے موقع پر ہی سنیچنگ کرنے والے 1 ملزم کو گرفتار کر لیا، ملزم خاتون سے قیمتی موبائل چھین کر فرار ہو رہا تھا۔ڈولفن ٹیم نے تعاقب کے بعد سیکرٹریٹ سے 1 ملزم کو راؤنڈ اپ کر لیا۔گرفتار ملزم کے قبضہ سے چھینا گیا موبائل فون برآمد کر لیا گیا،ملزم فیضان کارروائی تھانہ اسلام پورہ کے حوالے کر دیا گیا

    دوسری جانب ،تھانہ گجر پورہ کے علاقے میں 15 پر ڈکیتی کی جھوٹی کال کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا،ایس ڈی پی او گجر پورہ سہیل حسین کاظمی کی راہنمائی میں ایس ایچ او تھانہ گجر پورہ نے 15 کی کال پر فوری رسپانس کیا ،ملزم مالکان کا 25 ہزار آن لائن جوا پر لگا کر ہار گیا تھا اور رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیے 15 پر ڈکیتی کی جھوٹی کال کی تھی،ملزم احمد جاوید زیادہ دیر پولیس کو چکما نہ دے سکا اور اپنے جرم کا اعتراف کر لیا،ملزم کے خلاف تھانہ گجر پورہ میں مقدمہ درج مزید کاروائی کے لیے انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا

    اداکارہ ریما خان پر دھوکا دہی کا الزام

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

  • اداکارہ ریما خان پر دھوکا دہی کا الزام

    اداکارہ ریما خان پر دھوکا دہی کا الزام

    پاکستان کی مشہور اداکارہ ریما خان کو ایک شخص نے دھوکا دہی کے الزامات میں گھیر لیا ہے۔ قطر سے آئے شاہد رفیق نامی ایک شخص نے لاہور پریس کلب کے باہر ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے مختصر انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ 2009 میں انہوں نے ریما خان کی فلم ‘لو میں گم’ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے انہیں 2 کروڑ 10 لاکھ روپے دیے تھے، مگر بدلے میں نہ صرف انہیں کوئی منافع نہیں ملا بلکہ ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا۔

    شاہد رفیق نے بتایا کہ 2009 میں وہ قطر سے لاہور واپس آئے تھے تاکہ ڈیفنس میں پراپرٹی خرید سکیں۔ اسی دوران ان کی ملاقات ریما خان کی بہن، مائرہ خان سے ہوئی جو ایک رئیل اسٹیٹ ڈیلر تھیں۔ شاہد رفیق کے مطابق، مائرہ خان نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ریما خان کی فلم میں سرمایہ کاری کریں، جس سے انہیں مالی فائدہ ہوگا۔ مائرہ خان نے انہیں کہا کہ 50 سے 60 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کریں اور چند ماہ کے اندر منافع مل جائے گا۔شاہد رفیق کے مطابق، مائرہ خان نے ریما خان سے ان کی ملاقات کا اہتمام بھی کیا اور اس ملاقات کے بعد انہوں نے فلم ‘لو میں گم’ کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقم منتقل کر دی۔ تاہم، اس کے بعد ریما خان کی بہن مزید پیسوں کی مانگ کرنے لگیں، جس سے ان کی تشویش میں اضافہ ہو گیا۔

    شاہد رفیق نے بتایا کہ انہیں ریما خان نے ملائیشیا بلایا جہاں فلم کی شوٹنگ جاری تھی۔ وہ تقریباً 20 سے 25 دن وہاں ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے، لیکن جب فلم مکمل ہو گئی، تو ریما خان نے انہیں پیسوں کی واپسی دینے کے بجائے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا۔شاہد رفیق نے دعویٰ کیا کہ ریما خان نے پیسوں کی واپسی کے بجائے ان سے ایک معاہدہ کر لیا جس کے تمام ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے پاس بینک اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ شاہد رفیق نے کہا کہ اس کے بعد ریما خان نے ان پر 20 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کر دیا اور انہیں فراڈ قرار دے دیا۔

    شاہد رفیق نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو لے کر سول کورٹ گئے، جہاں جج نے فیصلہ دیا کہ "شاہد رفیق نے نہیں بلکہ ریما خان نے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کا فراڈ کیا ہے”۔ ان کے مطابق، ریما خان نے سول اور سیشن کورٹ میں کیس ہارنے کے بعد ہائی کورٹ میں اسٹے آرڈر حاصل کیا ہے۔ ریما خان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا، مگر انہوں نے درخواست دے کر مزید مہلت حاصل کر لی۔ شاہد رفیق نے یقین ظاہر کیا کہ وہ یہ کیس جیت جائیں گے۔

    یہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس الزام نے ریما خان کی شہرت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور شوبز انڈسٹری میں یہ ایک سنسنی خیز موضوع بن چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تنازعہ کب تک حل ہوتا ہے اور ریما خان اس کے بارے میں کیا وضاحت پیش کرتی ہیں

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ بورڈر-گواسکر ٹرافی جیتنے کے بعد ایک اہم اختتامی تقریب کا انعقاد کیا تھا، لیکن اس تقریب میں بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر کو مدعو نہ کرنے پر کرکٹ آسٹریلیا کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب آسٹریلیشین کپتان پیٹ کمنز کو ٹرافی دی گئی اور اس موقع پر سابق آسٹریلوی کپتان ایلن بورڈر نے پیٹ کمنز کو بورڈر-گواسکر ٹرافی تھمائی۔

    اگرچہ سنیل گواسکر اس وقت ایس سی جی (سڈنی کرکٹ گراؤنڈ) میں موجود تھے، لیکن انہیں اس خصوصی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا جس پر کرکٹ حلقوں میں خاصی مایوسی اور تنقید کی لہر دوڑ گئی۔ بعض کرکٹ ماہرین اور شائقین نے اس بات پر اعتراض کیا کہ یہ ایک غیر ضروری اور غیر مناسب فیصلہ تھا، کیونکہ گواسکر اور بورڈر دونوں ہی کرکٹ کی دنیا کے کھلاڑی ہیں اور ان کا اسٹیج پر موجود ہونا اس اہم موقع کی وقعت میں اضافہ کرتا۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ انہیں یہ قدم اُٹھانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا اور یہ بات درست ہے کہ اگر دونوں سابق کپتان، ایلن بورڈر اور سنیل گواسکر، اسٹیج پر موجود ہوتے تو یہ ایک زیادہ باوقار منظر پیش کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر آسٹریلیا جیتے گا تو ایلن بورڈر ٹرافی دیں گے، اور اگر بھارت جیتتا تو سنیل گواسکر کو یہ اعزاز دیا جاتا۔

    اس حوالے سے سنیل گواسکر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوش تھے کہ وہ اسٹیڈیم میں موجود تھے، لیکن اگر انہیں ٹرافی دینے کی تقریب کا حصہ بننے کا موقع ملتا تو انہیں بہت اچھا لگتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آسٹریلیا جیتا یا بھارت، اگر مجھے اپنے دوست ایلن بورڈر کے ساتھ ٹرافی دینے کا موقع ملتا تو یہ میرے لیے ایک بہت بڑی خوشی کی بات ہوتی۔

    یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی موجودگی اور ان کی عزت افزائی کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنیل گواسکر جیسے کھلاڑی کے نہ بلائے جانے سے کرکٹ آسٹریلیا کو نہ صرف عوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ ان کے اپنے کھلاڑیوں اور کرکٹ کے شائقین کے درمیان ایک غلط پیغام بھی گیا۔

    سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    لکی مروت،دہشت گردوں کی فائرنگ،دو پولیس اہلکار شہید

  • ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سندھ کے صوبائی وزیرناصر شاہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ سندھ میں وفاقی حکومت کے منصوبوں پر کام جاری ہے.وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی منصوبوں کی جانب توجہ دلائی.

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی امدادسے چلنے والے منصوبوں پر کام رکنے نہیں دیں گے.سیلاب متاثرین کی بحالی میں وفاق اپناحصہ ڈال رہاہے.اڑان پاکستان منصوبے نے ملک کوترقی کی مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں.خطے میں معاشی استحکام اور مضبوطی کے لیے پاکستان اپناکرداراداکررہاہے.پاکستان نے خطے کے ممالک کے ساتھ اپنامعاشی مقابلہ کرناہے. ملکی معیشت کو برآمدات کی حامل بناناہے.زراعت ،صنعت ، ٹیکنالوجی ،تخلیقی صنعت کافروغ ہماری ترجیح ہے.مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں زیادہ سے زیادہ صلاحیت حاصل کرنی ہے.موجودہ دورڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے.ملک سے ہیپاٹائٹس،پولیو سمیت دیگرمتعدی امراض کاخاتمہ ہمارا ہدف ہے.زراعت اور بحری تجارت کو فروغ دیناہے.برآمدات کو 30 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا منصوبہ ہے.وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کیے گئے.دونوں بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرکے ملک میں سیاسی استحکام کی بنیاد رکھی.مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.ملک محاذآرائی کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا.سائبرسکیورٹی یقینی بناناوقت کا تقاضاہے.دہشتگردی کی لہرکو دیکھنے سے ساراکھیل سمجھ آجائے گا.مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے گرکر4فیصدپرآگئی ہے،

    سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    وزیر اعلیٰ پنجاب سے سعودی عرب کے شہزادہ منصور کی ملاقات

  • سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    بھارتی ریاست گجرات کے دھنسورا گاؤں میں ایک 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے نے سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر دوستی کرنے کے بعد اپنے گھروں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے دونوں کو ایک قریبی گاؤں سے گرفتار کر لیا، جب لڑکی کے والدین نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔

    31 دسمبر 2024 کو 10 سالہ لڑکی جو کہ پانچویں جماعت کی طالبہ تھی، اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی۔ اس کے والدین نے کئی گھنٹوں تک اپنی بیٹی کو تلاش کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے بعد انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور اغوا کا الزام لگایا۔پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں بچے انسٹاگرام پر ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس دوران، 31 دسمبر کو انہوں نے اپنے تین دوستوں کی مدد سے گھر چھوڑنے کا منصوبہ بنایا اور فرار ہو گئے۔پولیس نے لڑکی کی تلاش کے دوران معلوم کیا کہ وہ اپنی والدہ کے موبائل فون سے انسٹاگرام استعمال کرتی تھی اور اسی ایپ پر اس کی ملاقات لڑکے سے ہوئی تھی، جو دوسرے گاؤں میں رہتا تھا۔ دونوں اکثر فون پر بات چیت کرتے اور ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکی کے والد کو سوشل میڈیا کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں اور انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی انسٹاگرام پر کسی لڑکے سے بات کر رہی تھی۔ پولیس نے لڑکی کو قریبی گاؤں سے بازیاب کر لیا اور اسے اس کے خاندان کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کے والدین کی جانب سے شکایت کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

    یہ واقعہ ایک اور بار سوشل میڈیا کی اثرات اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔ بھارت میں گزشتہ سال مدھیہ پردیش میں بھی ایک 15 سالہ لڑکی نے 27 سالہ شخص کے ساتھ فرار ہو کر اپنے والدین کو دھمکی دی تھی کہ اگر شادی کی اجازت نہ دی گئی تو وہ مزید اقدام اٹھائیں گے۔ اس واقعہ نے بھی سوشل میڈیا پر بچوں کی غیر محفوظ سرگرمیوں کے بارے میں تشویش پیدا کی تھی۔ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مدھیہ پردیش میں تقریباً 10 میں سے 4 نابالغ لڑکیاں جو اپنے والدین کو اطلاع دیے بغیر گھر چھوڑ دیتی ہیں، ان کا تعلق گھریلو مسائل سے ہوتا ہے۔ یہ مسائل ان بچوں کو اس طرح کے اقدام پر مجبور کرتے ہیں۔

    یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں کے لیے ایک خطرہ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اپنے والدین کے ساتھ رابطے میں نہیں رہتے۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا کے صحیح استعمال اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

  • لکی مروت،دہشت گردوں کی فائرنگ،دو پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت،دہشت گردوں کی فائرنگ،دو پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت کے علاقے خیروخیل پکہ کے قریب دہشت گردوں نے فائرنگ کی ہے،دو پولیس اہلکار حملے میں شہید ہو گئے ہیں

    نواب زیارت جابوخیل کے قریب موٹر سائیکل پر فائرنگ کی گئی،خیروخیل سےڈیوٹی کے لئے آنے والے دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے،دہشت گردوں کے حملے کے نیتجے میں شہید ہونے والے اہلکاروں میں خان بہادر اور حکمت اللہ شامل ہیں،واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، پولیس نے سیکورٹی سخت کر دی ہے

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے لکی مروت پولیس اہلکاروں پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کی ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والے 2 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا،اور کہا کہ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں.دکھ کی گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں.دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس نے جانوں کی قربانی دے کر تاریخ رقم کی ہے.کے پی کے پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،

    قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  سے سعودی عرب کے شہزادہ منصور کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ پنجاب سے سعودی عرب کے شہزادہ منصور کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے صوبہ حفر الباطن کے سابق گورنر شہزادہ منصور بن مشعل آل سعود سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور مختلف شعبوں میں پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو پاکستان خصوصاً پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، اور مذہبی سیاحت کے شعبوں میں سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات فراہم کرنے کی تیاریاں کی ہیں۔مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ پنجاب میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی اور میرٹ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سعودی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں خصوصی پیکج دینے کی پیشکش بھی کی، تاکہ سعودی عرب کے سرمایہ کار آسانی سے یہاں اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔

    مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے پاکستان کے لیے ہمیشہ برادرانہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا بڑا بھائی ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے دل یکساں دھڑکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ہمیشہ پاکستان کو تعاون فراہم کیا گیا ہے اور یہ دوطرفہ تعلقات خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    شہزادہ منصور بن مشعل آل سعود نے اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔شہزادہ منصور نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہر سطح پر مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے اور سعودی عرب کی حکومت پنجاب سمیت پورے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

    مریم نواز شریف اور شہزادہ منصور کی ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات کو مزید روشن کیا۔ سعودی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھولنا دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم ثابت ہو گا۔اس ملاقات کے نتیجے میں یہ واضح ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نہ صرف سیاسی اور سفارتی سطح پر بلکہ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں بھی مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔

    قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

  • قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں واقع صدر تھانے کی حوالات میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 ملزمان ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ گزشتہ رات صدر تھانے کی حوالات میں پیش آیا، جہاں 3 ملزمان قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 3 افراد کو قتل کیا تھا اور اس وقت حوالات میں بند تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ زیر تفتیش تھا اور انہیں تھانے کی حوالات میں رکھا گیا تھا کہ اچانک مسلح افراد تھانے میں داخل ہو گئے اور فائرنگ شروع کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں 3 ملزمان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک ملزم زخمی ہو گیا۔

    میڈٰا رپورٹس کے مطابق 6ملزمان تھانہ کی عقبی دیوار سے سیڑھیاں لگا کر داخل ہوئےتمام تھانیداروں کے کمروں کو باہر سے کنڈیاں لگائیں اور حوالات میں بند قیدیوں پر فائرنگ کردی، قتل ہونے والوں میں بلال، عثمان اور ناصر شامل ہیں جبکہ زیر حراست آصف نامی ملزم زخمی ہوا، مقتول ملزمان دو افراد کے قتل کیس میں زیر حراست تھے،فائرنگ مقتول ملزمان کے مخالفین کی جانب سے کی گئی، فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی سی پی او فیصل آباد کامران عادل موقع پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا۔ سی پی او نے اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تحقیقات کی جائیں گی،سی پی او کامران عادل نے مزید کہا کہ تھانے کی سیکیورٹی میں غفلت کے ذمے دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ اس واقعہ کی مکمل تفصیل سامنے لائی جا سکے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔پولیس نے بتایا کہ زخمی ملزم کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلح افراد کس طرح تھانے میں داخل ہوئے اور انہوں نے فائرنگ کی۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعہ کا نوٹس لیکر آر پی او فیصل آباد سے رپورٹ طلب کرلی ہے، آئی جی پنجاب نے سی پی او فیصل آباد کو فائرنگ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا،ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن فیصل آباد اور سی آئی اے ٹیموں نے فائرنگ میں ملوث 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا، قتل دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ ہے ، مقتولین پر کھرل برادری کے افراد کے قتل کا الزام تھا، مقتولین بلال، عثمان، ناصر اور کزن آصف کو تھانہ سٹی تاندلیانوالہ پولیس نےقتل اور دہشتگردی کے مقدمہ گرفتار کیاتھا۔

    اس واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور مقامی عوام میں تھانے کی سیکیورٹی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج