Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ہ بینظیر بھٹو کی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں.بلاول

    ہ بینظیر بھٹو کی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں.بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نےشہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت پر پیغام جاری کیا ہے

    بلاول بھٹو زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو جرات، استقامت اور پاکستانیوں کیلئے امید کی علامت تھیں.شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جدوجہد اور زندگی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن سے جڑی تھی. شہید محترمہ بینظیر بھٹو عوام کی طاقت پر یقین رکھتی تھیں. شہید محترمہ بینظیر بھٹو مزدوروں، کسانوں اور پسماندہ طبقات کوترقی کی بنیاد سمجھتی تھیں.شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں. شہید محترمہ بینظیر بھٹوکے انسانی آزادی اور جمہوری اقدار کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں.دہشتگردی اور پاکستان کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی قوتوں کیخلاف جدوجہد جاری رکھیں گے.
    فلسطین اور کشمیر سمیت تصفیہ طلب عالمی مسائل پر شہیدبینظیر کے وژن سے رہنمائی لیتے رہیں گے.قوم جمہوریت اور آئینی حکمرانی کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے متحد ہو جائے،

    شہید بینظیر بھٹو نے بہادری سے آخری دم تک دہشتگردی و آمریت کا مقابلہ کیا.گورنر خیبر پختونخوا
    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے شہید بینظیر بھٹو کی برسی پر پیغام میں کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں.آج کے دن دہشتگردوں نے ملک کو ایک مثالی قیادت سے محروم کر دیا.شہید بینظیر بھٹو بہترین سیاسی بصیرت خاتون وزیراعظم تھیں.محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد، بہادری اور عوامی محبت کی مثال نہیں ملتی.شہید بینطیر بھٹو کا مشن، ویژن اور جمہوری طرز عمل ہمیں حوصلہ و رہنمائی فراہم کرتا ہے.
    شہید بینظیر بھٹو آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گی.شہید بینظیر بھٹو نے بہادری سے آخری دم تک دہشتگردی و آمریت کا مقابلہ کیا.شہید بینظیر بھٹو اپنے ادوار حکومت میں عوام بالخصوص پسماندہ طبقات کی خوشحالی کا باعث بنیں.

    شہید بینظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد اور اصولوں پر مبنی قیادت مشعلِ راہ ہے.چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نےشہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 17 ویں برسی پر پیغام میں کہا کہ شہیدبینظیر بھٹو کی برسی پر انکی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں.شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت، مساوات اور انسانی حقوق کیلئے نئی مثال قائم کی. شہید بینظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد اور اصولوں پر مبنی قیادت مشعلِ راہ ہے.شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ہر قسم کے جبر اور آمریت کا دلیرانہ مقابلہ کیا.عوام کی فلاح و بہبود کیلئے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی وقف کر دی،

    بینظیر بھٹو نے خواتین کو ملکی سیاست میں مثبت کردار ادا کرنے کا حوصلہ دیا.سپیکر قومی اسمبلی
    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے شہیدمحترمہ بینظیر بھٹو کو انکی 17ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کیلئے جان کا نذرانہ دیا.شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو جمہوریت کی عالمی علمبردار کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے.شہید بینظیر بھٹو نے خواتین کو ملکی سیاست میں مثبت کردار ادا کرنے کا حوصلہ دیا.میثاق جمہوریت محمّد نواز شریف اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی کاوشوں کا نتیجہ ہے.میثاق جمہوریت کے تحت آئین میں 18ویں اور 26ویں آئینی ترامیم کی گئیں،

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    بینظیر کی 17 ویں برسی،گڑھی خدا بخش میں کارکنان کی آمد

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    جو حرکتیں نواز شریف بینظیر دور میں کرتا تھا، ویسا ہی مریم بی بی آج کررہی،فیصل میر

  • حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی چل بسے

    حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی چل بسے

    متاز مذہبی اسکالر اور معروف شخصیت پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے ہیں

    ان کی عمر تقریباً 75 سال تھی اور وہ گزشتہ چند دنوں سے لاہور کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ آج صبح دل کا دورہ پڑنے کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون، پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی تھے،اور ان کے ساتھ سیاسی و دینی امور میں بھی وابستہ رہے۔ وہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع کے حوالے سے انتہائی سرگرم تھے اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہے۔

    پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے سعودی عرب کی مکہ کی جامعہ ام القریٰ سے اسلامی سیاست پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان میں اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں اور اپنے علمی کام سے ایک الگ پہچان بنائی۔ پروفیسر عبدالرحمان مکی کا تعلق بہاولپور سے تھا اور وہ 1948 میں پیدا ہوئے۔ 1980 کی دہائی میں انہوں نے اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں اور بعد ازاں سعودی عرب کا سفر کیا جہاں انہوں نے جامعہ ام القرا سے اسلامی سیاست پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد حافظ عبداللہ علی گڑھ یونیورسٹی بھارت سے تعلیم یافتہ تھے اور تقسیم ہند کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ وہ بعد میں بہاولپور میں ایف سی کالج سے وابستہ ہو گئے۔

    پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے اور اپنی زندگی کو دینی تعلیمات کی ترویج میں گزارا۔پروفیسر حافظ محمد سعید کے ساتھ ان کا قریبی تعلق تھا اور انہوں نے جماعت الدعوہ کے شعبہ سیاسی و خارجی امور کے نگران کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا۔عبدالرحمان مکی نے پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کا ماننا تھا کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہیں اور انہیں اس بات پر زور تھا کہ مسلمان دنیا بھر میں اپنے حقیقی اصولوں پر عمل کریں۔ ان کی تقاریر اور تحریریں آج بھی بہت سے لوگوں کے لیے رہنمائی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

    حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ دینی و علمی حلقوں کے لیے بھی ایک بڑے سانحہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمیشہ دین اسلام کی خدمت اور انسانیت کے حقوق کا دفاع تھا۔پروفیسر عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغرب مرکز طیبہ مرید کے میں ادا کی جائے گی،حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات پرمذہبی و سیاسی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں کہ اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین

  • سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،عدالت

    سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے نئے سکولوں کی رجسٹریشن کو سکول بسوں کی پالیسی کے ساتھ مشروط کر دیا، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،نئے سکولوں کی رجسٹریشن بند کریں، ہر سکول کو یہ پالیسی اپنانا ہوگی، 30 دسمبر تک اس حوالے سے پالیسی رپورٹ جمع کروائیں، پچاس فیصد بچوں کیلئے بسیں شروع کرنے کا عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں ہوا، بچوں کی سکولز بسوں کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے، سیکرٹری سکولز نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،

    ممبر جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ ہم نے ایم ڈی واسا کو کہا ہے کہ واٹر میٹر کے کام کو پھر سے شروع کریں،وکیل واسا نے کہا کہ ہمارے چائینیز کمپنی کے ساتھ پیسوں کے مسائل تھے، چائنیز کمپنی یہاں اکاؤنٹ کھلوانا چاہتی تھی، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ کام بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے، اس کو جلدی شروع کریں، اگلے ایک ماہ میں پھر سے اسموگ شروع ہو جائے گی، عدالت نے کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی

    گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

  • گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدرات ملک میں گیس سپلائی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،

    وزیر اعظم نے گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی کی شکایات پر نوٹس لے لیا اور ہدایات دیں کہ موسم سرما میں گھریلو صارفین کو گیس کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنائی جائے.وزیر اعظم نے سسٹم کی ساخت میں اصلاحات لانے کی ہدایت تاکہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے

    اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سسٹم میں سرپلس آر ایل این جی موجود ہے، جس کی وجہ سے گیس لوڈ مینجمنٹ میں پچھلے سال کی نسبت بہتری آئی ہے.پچھلے سال کی نسبت اس سال گیس لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم ہے.گھریلو صارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس فراہم کی جارہی ہے.پاور سیکٹر کو بھی گیس ڈیمانڈ کے مطابق دی جا رہی ہے.صارفین کی شکایات کے حوالے سے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے آن لائین ڈیش بورڈز کام کر رہے ہیں.ایس این جی پی ایل کی شکایات کو حل کرنے کی شرح 93 فیصد جبکہ ایس ایس جی سی کی شرح 79 فیصد ہے.ملک کی تمام گیس فیلڈز فعال ہیں ،اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

  • میجر محمد اویس شہید  کی نماز جنازہ ادا

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    26 دسمبر 2024ء کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے عظیم سپاہی میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ میران شاہ میں ادا کر دی گئی۔ اس موقع پر فوج کے سینئر افسران، جوانوں اور مقامی عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو شہید کے لیے اپنے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کر رہے تھے۔

    میجر محمد اویس شہید کی جرات اور بہادری کی داستان پورے علاقے میں سنائی جارہی ہے، جو اپنے فرض کی ادائیگی میں جان کی قربانی دینے کے لیے میدان جنگ میں اترے اور دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانی نہ صرف پاک فوج کے لیے، بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔نماز جنازہ کے بعد میجر محمد اویس شہید کے جسد خاکی کو ان کے آبائی علاقے روانہ کردیا گیا ہے، جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ شہید کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عزیز کی قربانی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کا عزم مزید مستحکم ہوچکا ہے کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کے جڑ سے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے شہدا کی عظیم قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ اس موقع پر پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ "میجر محمد اویس شہید کا کردار ہماری فورسز کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور ان کی قربانی ہمیں اپنی مہم کو مکمل کرنے کے لیے مزید حوصلہ افزائی فراہم کرتی ہے۔”پاکستانی عوام میجر محمد اویس شہید کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کی عظمت کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    عرفان صدیقی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان مقرر

  • سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما، بے نظیر بھٹو شہید کی 17 ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں عقیدت اور احترام کے ساتھ مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی شخصیت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام میں ایک منفرد شناخت رکھتی تھی۔ وہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعظم اور ایک ایسی سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں متعدد سیاسی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کیا۔

    بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاست کا آغاز بہت کم عمری میں کیا اور 1988 میں پہلی بار پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے کئی ترقیاتی اقدامات کیے، تاہم ان کا سیاسی سفر آسان نہیں تھا۔ بے نظیر بھٹو کو جنرل ضیاالحق کی آمریت کا سامنا بھی تھا، اور پھر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھی وہ کھڑی رہیں۔بے نظیر بھٹو 2007 میں طویل جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آئیں۔ ان کی وطن واپسی کے بعد 18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں ایک بڑے استقبالیہ جلوس کے دوران خود کش دھماکے ہوئے جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے اور بے نظیر بھٹو بال بال بچ گئیں۔ یہ حملہ ان کی زندگی کا ایک سنگین لمحہ تھا، لیکن وہ پھر بھی اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹیں۔27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد واپس جا رہی تھیں کہ ایک حملہ آور نے ان پر فائرنگ کی اور ایک خودکش دھماکا کیا۔ اس حملے میں بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔ ان کی شہادت نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا اور ملک بھر میں ایک گہری غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

    آج بے نظیر بھٹو کی 17 ویں برسی کے موقع پر ان کے آبائی شہر لاڑکانہ میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنما مزار شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پر پھولوں کی چادر چڑھانے کے لیے گڑھی خدا بخش پہنچ رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں بشمول صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اور دیگر خاندان کے افراد نے گڑھی خدا بخش میں مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں بے نظیر بھٹو کے لیے عقیدت اور محبت کا جذبہ دیدنی تھا۔

    بے نظیر بھٹو کی سیاست کا مقصد ہمیشہ پاکستان کی عوام کی خدمت رہا اور ان کی قربانیوں کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی سیاست نے خواتین کے حقوق، جمہوریت کی بحالی اور معاشرتی انصاف کے شعبوں میں بہت سے سنگ میل طے کیے۔ان کی 17 ویں برسی کے موقع پر ان کے شیدائی ایک بار پھر ان کے پیغام کو زندہ رکھنے اور ان کے سیاسی مشن کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔

    بے نظیر بھٹو کی 17 ویں برسی کے موقع پر پورے پاکستان میں ان کی یاد میں تقاریب جاری ہیں۔ ان کی قربانیوں اور سیاسی وراثت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی شہادت ایک کربناک واقعہ تھی، لیکن ان کا عزم اور حوصلہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔

    ےنظیر بھٹو نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا جہاں عوام کی طاقت راج کرے گی.صدر مملکت
    صدر آ صف علی زرداری کا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے یو م شہادت پر پیغام میں کہا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے 17ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں.شہید بے نظیر بھٹو امید، استقامت ،جمہوریت اور انصاف کے اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی کا پیکر تھیں.شہید بی بی ہم سب کیلئے مشعل راہ تھیں.بےنظیر بھٹو نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا جہاں عوام کی طاقت راج کرے گی.شہید بے نظیر کے’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘کے الفاظ استبداد اور آمریت کا منہ توڑ جواب تھے.بے نظیر بھٹو کا عوامی طاقت پر گہرا اعتماد تھا.شہید بے نظیر بھٹو ایسے پاکستان کی خواہاں تھی جہاں ہر بچے کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو.شہید بے نظیر بھٹو ایسا پاکستان چاہتی تھیں جہاں انصاف ایک آسائش نہیں بلکہ حق ہو.شہید بی بی نے تمام زندگی معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی خودمختاری کیلئے کام کرنے میں صرف کی.شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی بے پناہ جراٴت کا سفر تھی.شہید بے نظیر بھٹو ہمارے لیے تحریک اور ہمت کا باعث تھیں.شہید بی بی جمہوریت کی بحالی و استحکام،عوام کے سیاسی،معاشی اور سماجی حقوق کیلئے آمریتوں کے خلاف ڈٹی رہیں.شہید بے نظیر نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ”ناانصافی اور ظلم کے خلاف جنگ میری زندگی کی جنگ ہے”.محترمہ بے نظیربھٹو شہید آج بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں.شہید بے نظیر بھٹو کے پرامن،ترقی پسند اور جمہوری پاکستان کے وژن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں.شہید بے نظیر بھٹو کا نظریہ آج بھی زندہ ہے.شہید بی بی نے ایک متحد،ہمہ گیر اور انصاف پر مبنی پاکستان کی تعمیر کیلئے کام کرنے کا درس دیا.شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ہمارے خاندان نے جمہوریت اور پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا.ہمیں بحیثیت قوم ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کیلئے شہید بی بی کے وژن سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے.آئیے،شہید بے نظیر بھٹو کے ایک پرامن،ترقی پسند اور جمہوری پاکستان کے خواب کی تکمیل کیلئے مل کر کام کریں.شہید بے نظیر بھٹو کی میراث ابدی،وژن مشعل راہ ہے۔پاکستان کھپے،

  • سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ چل بسے

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ چل بسے

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ چل بسے

    نئی دہلی: بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ آج 26 دسمبر 2024 کو طویل علالت کے بعد چل بسے۔ ان کی عمر 91 سال تھی اور انہوں نے بھارت کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ منموہن سنگھ بھارت کے 13ویں وزیراعظم تھے، جو 2004 سے 2014 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کی موت کی خبر بھارت بھر میں سوگ کی لہر دوڑا گئی ہے۔

    ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی سیاسی زندگی میں بھارت کی اقتصادی ترقی اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہیں ایک ماہر معیشت اور اقتصادی اصلاحات کے علمبردار کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ ان کی زیر قیادت بھارت نے 1991 میں اقتصادی آزادکاری کی راہ اپنائی تھی، جس نے ملک کی معیشت کو نئی رفتار دی اور اسے عالمی سطح پر مضبوط کیا۔

    منموہن سنگھ نے پنجاب یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، بعدازاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں 1991 میں بھارت کے وزیر خزانہ کے طور پر تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے اقتصادی اصلاحات کی اہم پالیسیوں کو نافذ کیا۔

    ان کی قیادت میں بھارت نے عالمی اقتصادی بحران کے دوران بھی معیشت کی استحکام کے لئے متعدد اقدامات کئے، اور انہیں ایک فنی معیشت دان کے طور پر دنیا بھر میں عزت دی گئی۔ ان کی زیر قیادت حکومت نے بھارت کو عالمی اقتصادی فورمز پر ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر پیش کیا۔

    منموہن سنگھ کی سیاست میں ایک اور اہم پہلو ان کا نرم اور متوازن طرز عمل تھا۔ وہ ہمیشہ ایک محنتی اور کم گو رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کے اسلوب میں کبھی بھی سیاست میں جارحیت اور ہنگامہ آرائی کی جگہ نہیں تھی۔

    منموہن سنگھ کے انتقال پر بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی، کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، اور دیگر اہم سیاسی رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ملک بھر سے سیاسی، سماجی، اور عوامی شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد ان کے خاندان، دوستوں اور سیاسی ساتھیوں میں گہرا رنج و غم پایا جاتا ہے۔ ان کی یادیں اور خدمات بھارت کی سیاست میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

    سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی خدمات کی جھلکیاں:
    1991 میں بھارت کے وزیر خزانہ کے طور پر اقتصادی اصلاحات کی بنیاد رکھی۔
    2004 سے 2014 تک بھارت کے وزیراعظم رہے۔
    عالمی سطح پر بھارت کی اقتصادی پوزیشن کو مستحکم کیا۔
    سیاست میں نرم مزاج اور مدبرانہ رویے کے حامل رہنما کے طور پر مشہور۔
    بھارت میں سوشل سیکیورٹی اسکیموں اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کی توسیع کی۔
    سابق وزیراعظم کی موت پر بھارت میں ایک قومی سوگ کی کیفیت ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتے،رچرڈ کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل

    کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتے،رچرڈ کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ٹرمپ کے نامزد ایلچی رچرڈ گرینل کی ٹویٹس اور بیانات کے حوالے سے ردعمل دیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی عزت اور مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات کا خواہاں ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی حکام بھی اسی اصول کو مدنظر رکھیں گے۔ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔ تاہم، پاکستان نے ہمیشہ امریکا کے ساتھ باہمی احترام، مساوات اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر مبنی تعلقات کو ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں پاکستان نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ تعلقات کی بنیاد احترام اور مفادات پر ہو۔

    ممتاز زہرہ بلوچ نے افغانستان میں ایئر سٹرائیکس کے بارے میں سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان اپنے عوام کی سکیورٹی کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں انٹیلیجنس اطلاعات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد پاکستانی شہریوں کو ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطے قائم کر رکھے ہیں اور حالیہ دنوں میں پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، صادق خان، کابل میں موجود ہیں۔ صادق خان نے افغان حکام سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں سکیورٹی کی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ اور تجارت کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی خودمختاری اور سالمیت کی عزت کرتا ہے اور ہمیشہ بات چیت اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار دہشت گردی کے باوجود پاکستان افغانستان کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان سکیورٹی، بارڈر مینجمنٹ، تجارت اور دیگر اہم معاملات پر مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔

    ممتاز زہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ معاشی تعاون اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے سرگرم ہے۔ پاکستان اپنے شراکت داروں کے ساتھ اہم علاقائی اور عالمی امور پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے پر عزم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یورپین یونین کی جانب سے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی کے خاتمے کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔

    ممتاز زہرا بلوچ نے عالمی تعلقات اور سفارتکاری کے حوالے سے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور 2024ء کا سال پاکستان کے لیے سفارتکاری کے میدان میں اہم رہا۔ اس سال پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر کئی اہم اقدامات کیے ہیں اور متعدد ممالک کے سربراہوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین اور دولتِ مشترکہ کے سربراہوں نے بھی پاکستان کا دورہ کیا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت اور اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، متعدد ممالک کے ساتھ وفود کا تبادلہ بھی ہوا، جو پاکستان کی عالمی سطح پر سفارتکاری کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان دوست ممالک اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ایران کے ساتھ اپنی سفارتی تعلقات میں بھی اہم پیشرفت کی ہے، خاص طور پر ایرانی صدر کے اپریل میں پاکستان کے دورے کے دوران کئی اہم امور پر اتفاق رائے ہوا۔

    ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے فیصلے کا اختیار صرف پاکستانی قوم کے پاس ہے، اور یہ فیصلہ عالمی دباؤ یا کسی دوسرے ملک کی مداخلت کے بغیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔ پاکستان نے امریکا اور یورپ کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مستحکم کرنے کی پالیسی جاری رکھی ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے قومی ایئر لائن پر 4 سال سے عائد پابندی ختم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح، روس اور برطانیہ کے ساتھ تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کے شعبوں میں تعاون کو جاری رکھنے کی بات کی گئی۔

    ممتاز زہرا بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خطے کی اہمیت کو ہمیشہ ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ای سی او اور ایس سی او جیسے علاقائی فورمز کے ذریعے اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان نے ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پُرامن تعلقات کا خواہاں رہنے کا عہد کیا ہے۔ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تجارت، سیاسی اور سیکیورٹی تعاون پر زور دے رہا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان نے او آئی سی، اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر فلسطین کے حق میں بھرپور مؤقف پیش کیا۔ممتاز زہرا بلوچ نے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر اور دیگر باہمی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے عزم کی تجدید کی ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں ماورائے عدالت قتل عام کے معاملے کو عالمی سطح پر اُٹھایا اور اس کے خلاف شواہد بھی پیش کیے۔انہوں نے کہا کہ اس سال پاکستان نے بنگلا دیش، سری لنکا اور مالدیپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا ہے اور بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جماعتوں پر عائد پابندی کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ او آئی سی کشمیر رابطہ گروپ کے تین اہم اجلاس 2024ء میں منعقد ہوئے، جن میں کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان نے کشمیر کے عوام کے حقوق کی حمایت میں اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ممتاز زہرا بلوچ نے اختتام پر کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عزم ہے کہ وہ اپنے تمام عالمی تعلقات کو متوازن اور فائدہ مند بنائے گا، اور اپنے شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

  • فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے متعدد سویلین افراد کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔عمران خان نے فوجی عدالتوں کی حمایت کی تھی تو وہیں مراد سعید نے بھی فوجی عدالتوں کے حق میں بیانات دیئے تھے،

    2018 سے لے کر 2022 تک فوجی عدالتوں میں ہونے والے سویلین ٹرائلز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 2018 میں فوجی عدالتوں میں 25 سویلین افراد کا ٹرائل ہوا، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 61 تک پہنچ گئی۔ 2020 میں 46 سویلین، 2021 میں 36 سویلین اور 2022 میں 12 سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سویلین افراد پر مقدمات کا آغاز اور ان کے خلاف سزائیں دی گئیں۔پاکستان میں 1972 سے 2023 تک فوجی عدالتوں میں مجموعی طور پر 1875 سویلین افراد کا ٹرائل ہو چکا ہے اور ان پر مختلف نوعیت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ ان سزاؤں پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں دہشت گردی، شدت پسندی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں جن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔

    اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا مؤثر جواب دینا تھا، مگر ان عدالتوں کے خلاف سیاسی بیان بازی بھی زور پکڑ گئی ہے۔ اس بات پر تنقید کی جاتی ہے کہ فوجی عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ یہ بات خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے کہ جن جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی، وہ خود بھی اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کی حمایت اور استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما آج فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دیتے ہیں، مگر ان کے اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کے ذریعے 180 سویلین کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔ اس تناقض پر سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح ایک ہی سیاسی جماعت ایک وقت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کرتی ہے اور بعد میں ان کے خلاف سخت بیانات دیتی ہے۔

    اگر تحریک انصاف اپنے ماضی کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہے کہ "کل ہمارا موقف غلط تھا”، تو شاید اس میں کوئی وزن نظر آ سکتا ہے۔ لیکن جب ایک جماعت اپنے موقف میں واضح تبدیلی لاتی ہے اور اس میں کوئی معقول جواز پیش نہیں کرتی، تو عوامی سطح پر اس کے بیانات کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں 9 مئی کے دوران ہونے والے ہنگامہ آرائی کے بعد فوجی عدالتوں نے آج ان مجرموں کو سزائیں سنا دی ہیں جنہوں نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موقف پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ فوجی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی، لیکن آج جب ان کی جماعت کے کارکنان کو ان عدالتوں میں سزا ملی ہے تو پارٹی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیگر رہنماؤں بشمول مراد سعید نے ماضی میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین، میڈیا پرسنز اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات کا دفاع کیا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی عدالتوں کا استعمال ضروری ہے۔ بانی تحریک انصاف، عمران خان نے بھی اکثر فوجی اداروں کو سپورٹ کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔تاہم، 9 مئی کے حملوں کے بعد جب ان کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا ہے، تو پی ٹی آئی کی قیادت کی زبان بدل گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات کا بار بار اعادہ کیا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کا عمل شفاف اور منصفانہ نہیں ہو رہا، جو کہ ان کی سابقہ پوزیشن کے بالکل برعکس ہے۔

    9 مئی کے دن پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہ صرف سول حکومت کے خلاف احتجاج کیا بلکہ پاکستان کی فوجی تنصیبات، بشمول آئی ایس آئی کے دفاتر، پر حملے کی کوشش کی۔ ان حملوں کو ملک میں غداری کے مترادف قرار دیا گیا اور فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرموں کا ٹرائل کیا گیا۔تاہم پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں کے اس استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہیں اور ان میں شفافیت کا فقدان ہے۔ پارٹی کی قیادت نے ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں، حالانکہ ماضی میں خود انہوں نے ان عدالتوں کی حمایت کی تھی۔

    جب ان کے کارکن فوجی عدالتوں میں سزا پا چکے ہیں، تو پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاست چمکانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو ان کے مشکل وقت میں چھوڑ دیا تھا۔ پی ٹی آئی نے 9 مئی کے بعد اپنے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں پیش ہونے یا ان کی قانونی مدد کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس، انہوں نے اپنے کارکنوں کو “سول کپڑوں میں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار” قرار دیا، جو ایک متنازعہ اور بے بنیاد موقف تھا۔پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے حامیوں نے ہمیشہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پروان چڑھایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کے ٹرولز نے بار بار پاکستان کی فوج کو میر جعفر اور میر صادق کے طور پر پیش کیا، جس سے نوجوانوں میں فوج کے خلاف نفرت کا جذباتی ماحول پیدا کیا گیا۔ یہ وہ بیانیہ تھا جس کا منطقی نتیجہ 9 مئی کے حملوں کی صورت میں نکلا، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔

    آج، جب فوجی عدالتوں نے ان مجرموں کو سزا سنائی ہے، تو پی ٹی آئی کو ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا تھا کہ ملک میں امن کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے، اور آج ان عدالتوں نے اپنے ہی کارکنوں کو سزائیں دی ہیں۔ اب اس پر اعتراض کرنا پی ٹی آئی کے لیے اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی فکر کرتی تو اس نے انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا ہوتا اور ان کے قانونی حقوق کے لیے جنگ کی ہوتی۔

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نو مئی کے مزید ساٹھ مجرموں کو سزائیں، کل تعداد 85 ہوگئی ہے،آج پی ٹی آئی کے مزید 60 بلوائیوں کو نو مئی کے فسادات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی ہیں، جس کے بعد ان مجرموں کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔ نو مئی کے فسادات میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات، سرکاری املاک اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامی حالات پیدا ہوگئے تھے۔

    یہ فسادات اس وقت ملک کی سیاست کا اہم موضوع بن گئے تھے، اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور مقدمات کے سلسلے میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم، ایک المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی قیادت میں سے کسی نے بھی ان بلوائیوں کا مقدمہ لڑنے کی کوشش نہیں کی۔عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین مسلسل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی عدالتیں غیر انسانی ہیں، اور ان کے کارکنوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف محض سیاسی مفادات کے تحت اپنایا گیا ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اس بات کا خوف ہے کہ عمران خان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہو گا ،خان کو یقین ہے کہ وہاں کیس اتنے مضبوط شواہد کے ساتھ پیش کیا جائیگا جس کیے بعد اس کے خلاف کہیں اپیل بھی منظور نہیں ہوسکے گی

    نو مئی کا واقعہ کوئی راز نہیں ہے۔ آج ہر فرد کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح ایک مخصوص جماعت کے سیاستدانوں اور ان کے حمایتیوں نے افواج پاکستان، خفیہ ایجنسیوں اور سپاہ سالار کے خلاف زہر بھری تقاریر کیں اور ملک میں انتشاری فضا پیدا کی۔مذکورہ سیاستدانوں نے اپنے کارکنوں کو بلوائیوں کی صورت میں میدان میں اُتارا اور عوامی املاک، فوجی تنصیبات اور اہم سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، 9 مئی کے بعد جب فسادیوں کے چہرے بے نقاب ہوئے، تو عوام نے ان کی حمایت کرنا بند کر دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔

    نو مئی کے فسادات کے بعد ایک نیا بیانیہ سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔ یعنی یہ فسادات حکومت یا ریاستی اداروں کی جانب سے کسی مقصد کے لیے خود کیے گئے تھے تاکہ کسی خاص گروہ کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ لیکن عوام ان دعووں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ عوام نے اس بیانیہ کو مسترد کردیا اور ان سیاستدانوں کی حقیقت کو پہچان لیا جو عوام کو ہمیشہ بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان جانتے تھے کہ فوجی عدالتوں میں ان کے کارکنوں کے خلاف فیصلہ آنا تقریباً یقینی تھا اور اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے خلاف عالمی سطح پر شور مچاتے ہیں۔

    نو مئی کے فسادات کے حوالے سے عدالتوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور ان فسادات میں ملوث افراد کو سزا دی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سارے معاملے میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور اپنے کارکنوں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے انہیں سیاسی ہمدردی کے بہانے ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 9 مئی کا واقعہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے، اور عوام نے اس کی حقیقت کو جان لیا ہے۔

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں