Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تیل گیس تلاش کرنیوالی کویتی کمپنی نے پاکستان میں اثاثے فروخت کر دیئے

    تیل گیس تلاش کرنیوالی کویتی کمپنی نے پاکستان میں اثاثے فروخت کر دیئے

    کویت کی معروف تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنی "ویت فارن پیٹرولیم” نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے سے اپنی سرمایہ کاری نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے پاکستان میں موجود اثاثے پاکستان ایکسپلوریشن لمیٹڈ (پی ای ایل) کو تقریباً 6 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے ہیں۔

    وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے”دی نیوز” کو بتایا کہ غیر ملکی تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں میں پاکستان کے گیس شعبے سے متعلق مایوسی کی لہر پھیل رہی ہے، خاص طور پر گیس کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ (سرکولر قرضے) کے مسائل کے باعث۔ پاکستان میں گیس کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ اب 2700 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس نے عالمی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2012 کی ای اینڈ پی پالیسی میں ترامیم کی منظوری میں 12 ماہ کی تاخیر نے بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے باوجود اس طرح کی تاخیر انہیں مزید مایوس کر رہی ہے۔

    کویت فارن پیٹرولیم کمپنی نے پاکستان کے مختلف بلاکس میں اپنی سرمایہ کاری فروخت کرکے اپنے اثاثے دیگر ممالک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل کے باعث حکومتی اداروں کو عالمی کمپنیوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی توانائی کے شعبے میں مزید انخلاء روکا جا سکے۔پاکستان کی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ضروری ہے، لیکن موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے، جو کہ ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

    بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

    بے نظیر بھٹو کا نظریہ زندہ ہے،شازیہ مری

  • بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

    بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 17 ویں برسی پر کہا ہے کہ "آج ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کی 17 ویں شہادت کی سالگرہ پر بھرپور عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ وہ ایک عظیم رہنما تھیں جن کی بصیرت اور غیر متزلزل عزم نے پاکستان کی تاریخ کو نئی سمت دی۔ ان کی جرات و حوصلہ، اور جمہوریت کے لیے ان کی لگن نے ہمارے ملک کو ایک نیا رخ دیا۔”

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ "محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں اور دنیا بھر میں مسلم خواتین کی قیادت کی علامت بنیں۔ انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی اور انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد کی۔ ان کی قیادت نے ہمیں سکھایا کہ عدلیہ اور عوام کی طاقت کو کس طرح ایک ساتھ لا کر انصاف کے لیے لڑا جا سکتا ہے۔””ان کا دورِ حکومت نہ صرف خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے سنگ میل ثابت ہوا، بلکہ ان کی حکمت عملی نے پاکستان کے معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاست میں بے شمار قربانیاں شامل ہیں، اور ان کی جدوجہد کا اثر آج بھی ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس ہوتا ہے۔”ان کی قربانیاں اور قیادت کا تسلسل آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کا خواب، جو ایک پرامن اور جمہوری پاکستان کے قیام کے لیے تھا، کبھی بھی مکمل نہیں ہو سکتا تھا، مگر ان کے نظریات اور ان کی تعلیمات کی روشنی آج بھی ہمارے دلوں میں جلا رہی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام۔”

    کرسمس کا تہوار محبت، اخوت اور امن کا پیغام دیتا ہے،سحر کامران

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

  • بے نظیر بھٹو کا نظریہ زندہ ہے،شازیہ مری

    بے نظیر بھٹو کا نظریہ زندہ ہے،شازیہ مری

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی ترجمان شازیہ مری نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 17ویں برسی کے موقع پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ان کی قربانیوں اور جمہوریت کے لئے ان کی جدوجہد کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

    شازیہ مری نے اپنے پیغام میں کہا کہ "شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی وہ بیٹی تھیں جو کبھی ظلم کے سامنے نہیں جھکیں، ان کی بے پناہ قربانیوں اور جرات کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔”انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب تھیں، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی معاشرتی انصاف، جمہوریت اور خواتین کی حقوق کے لیے وقف کی۔ شازیہ مری نے مزید کہا کہ "وہ قوم کا دل، مظلوموں کی آواز اور کمزوروں کی طاقت تھیں۔”شازیہ مری نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کی روحانی موجودگی ہمارے درمیان ہمیشہ محسوس ہوتی ہے، اور وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم گڑھی خدا بخش میں جمع ہو کر اس عہد کی تجدید کریں گے کہ ہم شہید محترمہ کے مشن کو جاری رکھیں گے۔”

    شازیہ مری نے اس بات پر زور دیا کہ بلاول بھٹو زرداری شہید بے نظیر بھٹو کے افکار اور پاکستان کے لیے ان کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ان کی رہنمائی میں پیپلز پارٹی جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔”شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور عوام کی طاقت ہی اصل طاقت ہے۔ ان کا وژن ہمارے لئے ایک مشعل راہ ہے جس پر ہم ہمیشہ عمل کریں گے۔”شازیہ مری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ "محترمہ بے نظیر بھٹو ایک ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کی، ایک بیٹی تھیں جنہوں نے اپنے والد کی میراث کا احترام کیا اور ایک عظیم لیڈر تھیں جنہوں نے اپنے لوگوں کے لیے اپنی جان قربان کی۔”

    آخر میں شازیہ مری نے کہا کہ "شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا نظریہ زندہ ہے اور یہ ہمیشہ ہمارے لئے ایک رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔ ہم سب کا عہد ہے کہ ان کے وژن کی روشنی میں پاکستان کو روشن کریں گے اور ان کے خواب کو حقیقت بنائیں گے۔”

    ہ بینظیر بھٹو کی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں.بلاول

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

  • وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں دو اہم صدارتی آرڈیننس کی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق، کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری دی۔

    کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دی ہے ، وفاقی کابینہ نے مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی بھی منظوری دی ہے جس کے ذریعے بینکوں کے 70 ارب روپے کے اضافی منافع پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بینکوں کے منافع کے اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ ان منافعوں پر اضافی ٹیکس لگایا جا سکے۔ اس آرڈیننس کا مقصد بینکوں سے اضافی آمدنی حاصل کرنا اور حکومت کی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ اور شہریت کے قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی،پاکستان میں پانچ سال قیام شہریت کیلئے ضروری قرار دے دئے گئے،بیرون ملک بھیک مانگنے والے کو 50 ہزار جرمانہ اور پاسپورٹ کی ضبطگی بھی ہوگی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران ان دونوں آرڈیننسز کی منظوری کو حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف مالیاتی سسٹم کی بہتری آئے گی بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی اصلاحات کی جائیں گی تاکہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو۔کابینہ کے دیگر فیصلے وفاقی کابینہ نے مختلف اہم امور پر غور و خوض کیا اور دیگر فیصلے بھی کیے جن میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ شامل تھا۔

    انسانی سمگلنگ ،وزیراعظم کا ملوث تمام افراد کو حراست میں لینے کا حکم

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

  • انسانی سمگلنگ ،وزیراعظم کا  ملوث تمام افراد کو حراست میں لینے کا حکم

    انسانی سمگلنگ ،وزیراعظم کا ملوث تمام افراد کو حراست میں لینے کا حکم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے سد باب کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں دسمبر 2024 میں یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے پیش نظر مشتاق سکھیرا کی سربراہی میں تشکیل کی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی،وزیراعظم نے جامع رپورٹ مرتب کرنے پر مشتاق سکھیرا کا شکریہ ادا کیا اور ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کو حراست میں لیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،وزیراعظم شہباز شریف نے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف اب تک تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ بیرون ملک جانے والے تمام افراد کے لیے ویزا کی جانچ پڑتال اور دیگر قواعد و ضوابط کو مؤثر بنایا جائے، حکومت پاکستان ملک سے انسانی سمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ کی سربراہی میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی،

    اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں انسانی سمگلنگ کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،اجلاس میں دسمبر 2024 کو یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں پاکستانیوں کی شناخت اور ان کے جسد خاکی کی وطن واپسی کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی ،اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    خیبر: جیلوں کے مسائل پر اجلاس، سہولیات کی فراہمی کے احکامات

    ننکانہ صاحب: پولیو مہم میں شاندار کامیابی، ضلع گرین لسٹ میں شامل

  • اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے اپنی پروازوں کو ماسکو کے لیے ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا ہے،

    یہ فیصلہ آذربائیجان کے طیارہ حادثہ کے ایک دن بعد کیا گیا، آذربائیجان کی ایئر لائنز کا ایک طیارہ، جس میں 67 افراد سوار تھے، آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے روس کے چیچنیا کے شہر گروزنی جا رہا تھا اور راستے میں قازقستان کے شہر آکتاؤ کے قریب 3 کلومیٹر کے فاصلے پر گر کر تباہ ہو گیا۔قازقستان کے حکام کے مطابق، اس حادثے میں طیارے کے 38 مسافر ہلاک ہو گئے، جبکہ 29 افراد زندہ بچ گئے۔ آذربائیجان اور قازقستان کی حکومتوں نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    اسرائیلی روزنامہ کے مطابق، ایلوم نے یہ فیصلہ آذربائیجان کے طیارے کے حادثے کے بعد کیا، جسے قازقستان میں روسی فضائی دفاعی نظام کے بارے میں تحقیقات کے دوران ملنے والی معلومات سے جوڑا جا رہا ہے۔آذربائیجان کے سینئر حکام نے جمعرات کو تصدیق کی کہ آذربائیجان ایئر لائنز کے طیارے کا حادثہ روسی میزائل سسٹم کی وجہ سے ہوا تھا۔

    آذربائیجانی میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے نتائج کے مطابق، یہ طیارہ روسی میزائل سسٹم سے حملے کا شکار ہوا تھا جب وہ گروزنی کے قریب پہنچ رہا تھا۔ اس حادثے اور اس سے جڑی تحقیقات نے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے اور اس کے اثرات کو عالمی فضائی سلامتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان کی طبیعت ناساز

    مولانا فضل الرحمان کی طبیعت ناساز

    جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔

    ترجمان جے یو آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی حالت ناساز ہے اور ان کے پاؤں میں شدید تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔جے یو آئی کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈاکٹروں نے مولانا فضل الرحمان کو چلنے پھرنے سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور انہیں مکمل بستر پر آرام کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان کی صحت یابی کے لیے ڈاکٹروں کی زیر نگرانی علاج جاری ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع کے بعد ان کے حامیوں اور جے یو آئی کے رہنماؤں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پارٹی رہنما اور کارکنان دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا فضل الرحمان کو جلد صحت یاب کرے۔جے یو آئی کی طرف سے اس حوالے سے عوام سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ مولانا کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں اور ان کے لیے دعائیں کریں تاکہ وہ جلد مکمل طور پر صحت یاب ہو ں.

    بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

  • بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کےخلاف ایک طویل جنگ لڑی اور لڑ رہا ہے، افواج نے بے بیش بہا قربانیاں دی ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم کامیابیاں ملیں، بلوچ دہشت گردوں کے انتہائی مطلوب سرغناؤں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی میں ملوث 27 افغان دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا، سیکورٹی فورسز کو رواں برس بڑی کامیابی ملی جب دو خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضے سے دس خود کش جیکٹ ،دھماکا خیز مواد، اسلحہ برآمد ہوا تھا، بلوچستان سے گرفتار ہونے والی خود کش خواتین بمباروں نے انکشاف کئے کہ کیسے دہشت گرد نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتے ہیں،فتنہ الخوارج کے متعدد سر غنہ جہنم واصل کئے گئے، 2 خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جبکہ 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈالے،دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 169 سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں

    پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف 59775 کامیاب آپریشن کئے اور دہشت گردی کے خلاف کئی منصوبوں کو ناکام بنایا ،رواں سال 925خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ،رواں سال کامیاب آپریشنز میں متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا ،گزشتہ 5سال میں ہلاک دہشت گردوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے،ان آپریشنز کے دوران 73 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرد ہلاک ہوئے،انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں میاں سید عارف قریشی عرف استاد، محسن قادر، عطا اللہ عرف مہران، فدا الرحمان عرف لال، علی رحمان عرف طحہ سواتی اور ابو یحییٰ شامل ہیں،ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں 14 مطلوب دہشت گردوں قومی دھارے میں شامل کیا گیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور لڑرہا ہے ، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں،دہشتگردوں کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا،افواج پاکستان کے 384 جوان 2024 میں شہید ہوئے ، پوری قوم اِن بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا،پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے لیکن ہماری کوششوں کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے فتنۃ الخوارج پاکستان میں دہشتگردی کرتے آ رہے ہیں،پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، آٹھ لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان باشندے واپس جا چکے ہیں،آرمی چیف واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان سے کارروائیوں پر تحفظات ہیں۔پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،قبائلی اضلاع میں 72 فیصد علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا، حکومت کی خصوصی ہدایات پر سمگلنگ، بجلی چوری، منشیات و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں، رواں سال میں بھارت نے متعدد مرتبہ سیز فائز کی خلاف ورزیاں کیں،بھارت کی جانب سے 25 سیز فائر وائلیشن، 564 سپیکولیٹو فائر کے واقعات، 61 ایئر سپیس وائلیشن، 181 ٹیکٹیکل ایئر وائلیشنز کے واقعات شامل ہیں ،رواں سال بھارت کی طرف سے فالس فلیگ آپریشن کئے گئے جن کا مقصد اندرونی سیاست اور خلفشار سے توجہ ہٹانا تھا فالس فلیگ آپریشن کی اطلاع را سے جڑے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دی جاتی رہی.پاکستان کی فوج ایل او سی پر کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ہم ملک کے دفاع کے لئے ہمہ وقت کسی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں، بے گناہ کشمیری نوجوانوں‌کو بھارت شہید کررہا ہے، کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لئے عالمی دنیا کے توجہ کے منتظر ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی قرارداروں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انکی حمایت جاری رکھیں گے،بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے کڑا سوال ہے،بھارتی حکومت ریاستی دہشت گردی کا کھلم کھلا ارتکاب کر رہی ہے ،بھارتی ریاستی دہشت گردی میں بیرون ممالک ماورائے عدالت ٹارگٹ کلنگ باشمول بھارتی نزاد سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہے ،بھارت میں مسلمانوں ،اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،بھارت مختلف ریاستوں میں حقوق کےلئے تحریکوں کو پوری قوت کے ساتھ کُچل رہا ہے، بھارت دیگر ممالک میں سکھوں کے قتل میں بھی ملوث ہے، بھارت میں سازش کے تحت اقلیتوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے مظلوم عوام کی قانونی، سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔خطے میں اجارہ داری کے لیے بھارتی اقدامات سے بخوبی واقف ہیں،پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کیلئے ہمہ وقت ہر قربانی کیلئے تیار ہیں، ڈ

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج روایت کے مطابق عوام کی فلاح پر توجہ دے رہی ہے۔ قدرتی آفات سے نبردآزما ہونا ہو یا دوسرے چیلنجز، افواج پاکستان نے حکومتی ہدایات کے مطابق کام کیا،تعلیم، صحت کے منصوبے بھی ہیں.بجلی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی پاک فوج سرگرم عمل ہے، سیلاب کے دوران امدادی کیمپس لگائے گئے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کر کے پاکستان کو مضبوط کریں،فلاحی کاموں کے پروجیکٹس فوج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مکمل کیے جاتے ہیں ، 2024 ء میں صوبہ خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی جانب سے 6500 Outreach programs شروع کیے گئے ، ”علم ٹولو دا پارہ” کے تحت 7 لاکھ سے زائد طالب علموں کو تعلیمی سہولیات میسر کیں ، صحت کے شعبے میں 113 سے زائد میڈیکل کیمپس کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، سبی اور ہرنائی کے درمیان 140 کلومیٹر لمبے ریلوے ٹریک میں سے 93 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو مرمت کے بعد 17 سال بعد کھول دیا گیا ، کچھی کینال، کام مکمل ہونے کے بعد نومبر 2024 سے پہلے مرحلے میں 65 ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہی ہے ، اب تک 15825 ایکڑ رقبہ گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کے تحت زیر کاشت لایا گیا ہے،

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے سخت ٹریننگ کے معیار کو قائم رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہ ہمارا طرہ امتیاز اور شناخت کا اہم حصہ ہے،ہماری ٹریننگ کا اہم پہلو جذبہ شوق شہادت کے ساتھ فرنٹ سے لیڈ کرنا ہے، پاک فوج کا شمار دنیا کی اُن چند افواج میں ہوتا ہے جہاں افسر سب سے آگے بڑھ کر آپریشنز لیڈ کرتے ہیں اور دفاع وطن میں جان قربان کرتے ہیں،پاکستانی فوجی افسران کی شہادت کا تناسب شہداء کی تعداد سب سے زیادہ ہے.2024 میں 183 یونٹس نے جنگی مشقیں کیں.رواں سال 11 ہزار جوانوں کو Pre Induction Training دی گئی. رواں سال آٹھ مختلف بین الاقوامی مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا گیا ،رواں سال فروری میں PATs کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں 12 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا ، پاکستان بحریہ نے بھی رواں سال 25 کثیر الجہتی مشقوں میں شرکت کی ،اکتوبر میں ہونے والی Exercise Industrial 2024 میں 24 ممالک کی فضائی افواج نے شرکت کی ، رواں سال طویل المدتی War Games حکمت نو مکمل کی گئی، یاد رکھیں محفوظ پاکستان ہی مضبوط پاکستان ہے،

    پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم،جسے اشرافیہ کی پشت پناہی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم موجود ہے، اُس میں بھتہ خوری ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں، اغوا کاری ہے، سمگلنگ ہے اور فیک نیوز پروپیگنڈہ بھی ہے، اور ان سب کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہو،یہ غیرقانونی سپیکٹرم ختم ہو گا، اشرافیہ کی پشت پناہی ختم ہو گی تو پاکستان میں خوشحالی آئے گی،آرمی چیف نے چند دن قبل کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صرف سکیورٹی فورسز نہیں پوری قوم لڑتی ہے، ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ گورننس میں جو گیپس ہیں وہ ہم ہر روز شہدا کی قربانیوں سے پر کر رہے ہیں، رواں برس 900 سے زائد دہشت گردوں کو مارا گیا، اس وقت پورے پاکستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں خارجیوں کی عملداری ہو ،اگر دہشت گرد جن کے ہاتھ پاکستانی شہریوں کے خون سے آلودہ ہیں اور ان دہشت گردوں کو سرحد پار سے مدد ملتی ہے تو پھر،…آٹھ لاکھ غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجا، سمگلنگ میں کمی آ چکی ہے، آرمی چیف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو کالعدم تنظیموں کیلئے دستیاب پناہ گاہوں ، سہولت کاری اور افغان سرزمین سے آزادانہ کارروائیوں پر تحفظات ہیں،پاکستان دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور شہریوں کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔

    اس(دہشتگردی)ایشو پر سیاست اور بیانیہ نہ بنائیں خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس پر زور دیں۔ڈی جی آئی ایس پی ار
    فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی کس کے فیصلے پر دوبارہ ان کو آباد کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے، افغانستان کو کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کو روکے،برادر ملک کے ذریعے بھی بات چیت جاری ہے،افغان خود کش بمباروں کو پکڑا ہے،وہ روزانہ معصوم شہریوں کا نا حق خون بہائیں تو کیا ہم بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں،دوغلی سیاست کا پرچار کرنے والوں سے سادہ سوال ہے کہ چھ دن قبل 21 دسمبر کو جنوبی وزیرستان میں 16 ایف سی کے جوان شہید ہوئے، کیا ان کے خون کی کوئی قیمت نہیں کیا وہ پاکستان کے شیر دل جوان نہیں تھے، 2021 میں جب فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی تو اس وقت کس کے فیصلے پر ان کو دوبارہ آباد کیا گیا، کس نے ان کو طاقت اور دوام بخشا، یہ جو فیصلے جس کا ہم سب خمیازہ بھگت کر رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ان فیصلوں کی لکھائی اپنے خون سے دھو رہے ہیں، اگر کوئی فریق اپنی گمراہ سوچ، مرضی مسلط کرنے پر تلا ہو تو اس سے کیا بات کریں، ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو دنیا میں کوئی جنگ، غزوہ،مہمات نہ ہوتی، جان قربان کرنا مسلمان کے لئے فخر ہوتا ہے، ہم اپنے ایمان، وطن ،آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جس تلخ تجربے سے ہم گزرے اسکے باوجود کوئی لیڈر یا سیاسی شخصیت یہ کہے ، اور جو یہ سمجھتا ہو کہ اسے ہر چیز کا علم ہے تو ایسے رویوں کی قیمت پوری قوم اپنے خون سے چکاتی ہے، دوبارہ آبادگاری کی قیمت ہم بھگت رہے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے پر کنفیوژن اور بیانیے نہ بنائیں خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس پر توجہ دیں، بجائے بیانیے بنانے، سیاست کرنے کے گڈ گورننس پر توجہ ہونی چاہئے، وہ ہم نے نہیں کرنا اسلئے یہ سیاست کرتے ہیں،نو مئی واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچنا چاہیے۔ برطانیہ میں ہونیوالے نسلی فسادات میں بالغ اور نابالغ سب کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، امریکہ میں کیپیٹل ہل میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، فرانس میں فسادات میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔

    فوجی عدالتوں کے فیصلے سے واضح پیغام جاتا ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی ایسے معاملات میں ملوث ہو گا تو اُسے ہر صورت سزا ملے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
    جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے ہیں کچھ عرصہ قبل تک وہ خود اس کے سب سے بڑے حامی تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    کہا جاتا نومئی فالس فلیگ آپریشن ہے فوج نے خود کروایا تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے فوج اپنے بندوں کو سزائیں دے رہی ہے انتشار یوں کو تکلیف کیوں ہو رہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    نو مئی کے گھناونے کردار اور منصوبہ ساز کو انجام تک پہنچانے تک انصاف کا سلسلہ جاری رہے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ نومئی پر افواج پاکستان کا مؤقف واضح ہے، نومئی افواج کا نہیں عوام پاکستان کا مقدمہ ہے، یہ بات واضح ہونی چاہئے، اگر کوئی جتھہ،مسلح ،پرتشدد گروہ اپنی مرضی، سوچ معاشرے پر مسلط کرنا چاہے اور اسکو قانون کے مطابق نہ روکا جائے تو ہم معاشرے کو کس طرف لے کر جائیں گے، 2023 میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی رو میں ملٹری کورٹس میں جن کو ریفر کیا گیا تھا وہ منجمد کر دیا گیا تھا، اب سپریم کورٹ نے جب فیصلے دینے کو کہا تو تمام قانونی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے،قانونی عمل پورا کر کے ان افراد کو سزائیں دی گئیں، واضح پیغام ہے کہ اس طرح کے معاملات میں کوئی گنجائش نہیں، مستقبل میں بھی اس طرح ہو گا تو سزا ہو گی، پاکستان میں ملٹری کورٹس آئین ،قانون کے مطابق دہائیوں سے قائم ہیں، یہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہیں،ملٹری کورٹس میں ملزمان کو اپنا وکیل کرنے سمیت تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں، سزا ہو جائے تو مجرموں کواپیل کا حق حاصل ہے، آرمی چیف، ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں، یہ فیصلے اس وقت سنائے گئے جب سپریم کورٹ نے حکم دیا، نومئی کا کسی طرح دفاع نہیں کر سکتے اسلئے ملٹری کورٹ بارے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، ابھی جو عناصر بات کر رہے ہیں وہ خود کچھ عرصہ قبل ملٹری کورٹ کے حامی تھے،یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ فوج نے خود یہ کروایا، فالس فلیگ، تو پھر اگر ہم نے ان فوج کے بندوں کو سزائیں دے دیں تو انکو خوش ہونا چاہئے، یہ منافقت اور فریب کی آخری حدوں کو کراس کر چکے ہیں، انسداد دہشت گردی عدالتوں میں بھی نو مئی کے مقدموں کو انجام تک پہنچانا چاہئے،نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں ، کچھ لوگ اپنی سیاست کے لئے ان میں زہر ڈالتے ہیں، جو اس بیانیے پروپیگنڈے کی بنیاد رکھتے ہیں اصل ملزم وہی ہیں، انصاف کا سلسلہ اسی وقت چلے گا جب تک نومئی کے منصوبہ ساز کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا،

    یہ خوش آئند ہے کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر اپنے سیاسی اختلافات حل کریں نہ کہ انتشاری اور پرتشدد سیاست کے ذریعے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی واضح کر چکا،دوبارہ کہتا ہوں کہ افواج پاکستان کا ہر حکومت کے ساتھ سرکاری ، پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے، سرکاری تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، پاکستان کی فوج قومی فوج ہے، ہمارے لئے تمام سیاسی پارٹیاں، رہنما قابل احترام ہیں، کوئی فرد واحد اور اُس کی سیاست اور اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالاتر نہیں ہے، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حکومتیں موجود ہیں، سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، یہ خوش آئند بات ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں نہ کہ انتشار کے ذریعے.

    جو فوجی افسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا، اُسے جواب دینا ہو گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید کو فوجی عدالت میں تمام حقوق حاصل ہیں،فوج میں خود احتسابی کا نظام اہم ہے، نومئی کے پیچھے مضبوط منصوبہ بندی تھی جو بھی اس میں شامل تھے اس کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے، ہر افسر کے لئے ریاست پاکستان مقدم ہے،کوئی بھی آفیسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کا کیس حساس کیس ہے غیر ضروری تبصروں ،تجزیوں سے گریز کیا جائے،

    سیاسی قیادت کے بھاگنے کی وجہ سے جگ ہنسائی سے بچنے کےلئے ہلاکتوں کا بیانیہ بنایا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے کی گئی نومبر سازش سیاسی دہشت گردی ہے، یہ منفی تشدد کی سیاست کا سلسلہ 2014 میں جب پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، سرکاری املاک پر حملہ ہوا، 2022 میں بھی، 2023 میں بھی اور اسی کا تسلسل اب 2024 میں دیکھا، عوام کے شعور کی وجہ سے تمام کوششیں ناکام ہوئیں، آئندہ بھی ناکام ہوں گی، فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک تھی۔ جب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو شہید کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی احتجاج نہیں سیاسی دہشت گردی ہے۔فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک محدود تھی، وہ پرتشدد ہجوم کے ساتھ براہ راست کنٹیکٹ میں نہیں رہی، نہ ہی اُسے اِس لئے تعینات کیا گیا، دشمن پریشان ہے کہ باوجود دہشتگردی، سیاسی انتشاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈا کے یہ ملک ترقی کر کیسے رہا ہے،آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک دم پوری دنیا سے انسانی حقوق کی تنظیمیں قانونیت اور انسانی حقوق کا منفافقانہ پرچار کرنے کےلئے’’پاپ اپ‘‘ہو جاتی ہیں،پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے پیچھے سوشل میڈیا اور اُسے چلانے والے ہیں، قانون اور آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن کیلوں والے ڈنڈوں، اسلحے اور شیل لے کر دھاوا بول کر پولیس اور رینجرز کو شہید کرتے ہیں تو یہ سیاسی احتجاج نہیں، سیاسی دہشتگردی ہے،26 نومبر کو ڈی چوک میں سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو آتشیں اسلحہ دیا ہی نہیں گیا تھا، جب سیاسی قیادت وہاں سے بھاگی تو پہلے سے تیار شدہ سوشل میڈیا فیک کانٹینٹ کو بڑی سپیڈ کے ساتھ ڈالا گیا،جو لوگ پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا رہے ہیں ان سے میری درخواست ہے وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم چلائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو جو واضح اور کھلی بربریت غزہ اور کشمیر میں ہورہی ہے وہ ان کو نظر نہیں آرہی ان کو شام اور لیبیا میں ہوتے ہوئے مظالم نظر نہیں آرہے اور یہاں پاکستان میں ان دیکھی لاشوں پر آپ دیکھیں گے کہ ان کے جذبات بے قابو ہوجائیں گے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ کرم کا ایشو قبائلی اور زمینی تنازعہ ہے۔ اسکو صوبائی حکومت اور سیاست دانوں نے حل کرنا ہے بجائے اس کے کہ اس کا ملبہ اداروں پر ڈالا جائے۔

  • جنوبی کوریا ، پارلیمنٹ میں  قائمقام صدرکیخلاف بھی مواخذے کی قرارداد منظور

    جنوبی کوریا ، پارلیمنٹ میں قائمقام صدرکیخلاف بھی مواخذے کی قرارداد منظور

    جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے خلاف مواخذے کی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ قرارداد جنوبی کوریا کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس میں اپوزیشن نے ہان ڈک سو کے خلاف آئینی ججوں کی تقرری کے معاملے پر کارروائی کی درخواست کی تھی۔
    قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق صدر یون سک یول کے خلاف آئینی ججوں کی تقرری سے انکار کر دیا تھا، جس پر اپوزیشن نے ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ حکومت کی جانب سے آئینی ججوں کی تقرری میں تاخیر اور دیگر اہم فیصلوں کے باعث ملک میں جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے۔

    اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دو آزاد تحقیقاتی ادارے تشکیل دیے جائیں جو معزول صدر یون سک یول کے مارشل لا اور خاتون اول کے مبینہ رشوت کے معاملات کی تحقیقات کریں۔ اپوزیشن نے یہ بھی کہا کہ اس نوعیت کے سنگین الزامات سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے ان معاملات کی کھلی اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

    یہ پہلی بار ہے کہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں کسی قائم مقام صدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کی گئی ہو۔ ہان ڈک سو، جو کہ جنوبی کوریا کے وزیراعظم بھی ہیں، کے خلاف اپوزیشن نے اس تحریک کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس قرارداد کی منظوری کے بعد ہان ڈک سو کی حکومت کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں، اور یہ پیشرفت جنوبی کوریا کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔

    اس سے قبل جنوبی کوریا میں سابق صدر یون سک یول کے خلاف بھی مواخذے کی تحریکیں پیش کی گئی تھیں۔ اپوزیشن نے سابق صدر کے فیصلے کے خلاف دو مختلف تحریکیں پیش کی تھیں، جن میں ایک مارشل لا لگانے کے فیصلے کے خلاف تھی۔ پہلی تحریک ناکام ہو گئی تھی، لیکن دوسری تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں صدر یون کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

    جنوبی کوریا کی سیاسی تاریخ میں یہ تبدیلی ایک اہم لمحہ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اس اقدام نے نہ صرف قائم مقام صدر ہان ڈک سو بلکہ پورے حکومت کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس دوران، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی قانونی بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو ملک میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔جنوبی کوریا میں سیاسی کشیدگی اور عدم اعتماد کے بڑھتے ہوئے ماحول میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کس سمت میں پیش رفت کرتی ہے۔ ملک کی معیشت، عوامی مفاد اور جمہوری اداروں کی استحکام کے لیے اس سیاسی بحران کا حل نکالنا ضروری ہوگا۔

  • خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان افغانستان سے کام کر رہی ہے خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں خواہش ہے افغانستان سے بہتر تعلقات ہوں۔

    وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بطور پڑوسی افغانستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن بدقسمتی سے کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی وہاں سے آپریریٹ کر رہی ہے جو ناقابل قبول ہے،پارا چنار میں وفاقی حکومت نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات پہنچائیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم سے مریضوں کو اسلام آباد شفٹ کیا گیا،سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف پوری طرح صف آرا ہیں،افغانستان کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک معاشی اور دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں لیکن افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں حملے کر رہے ہیں،افغانستان کو بارہا کہا کہ کالعدم تنظیم کو وہاں سے آپریٹ کرے گی تو یہ قبول نہیں، افغان حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف ٹھوس حکمت علی پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، پاکستان کی سالمیت کے بھرپور دفاع کا حق رکھتے ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران بے نظیر بھٹو شہید کو تاریخی خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو جمہوریت کی علمبردار، مفاہمت کی مضبوط حامی اور استقامت کی علامت بنیں، میثاق جمہوریت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پائیدار سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت ہے،آج ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی 17ویں برسی منا رہے ہیں۔ میں ان کے خاندان، خاص طور پر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کے پیروکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو فخر کے ساتھ ان کے وژن اور ان کے نظریات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔27دسمبر2007کو محترمہ بے نظیربھٹوکوراولپنڈی میں شہیدکیاگیا.شہیدبےنظیربھٹوایک جراتمنداوردلیرخاتون تھیں.شہیدبےنظیربھٹوکو اسلامی دنیامیں پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے کااعزازحاصل ہوا.شہیدبےنظیربھٹواورنوازشریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے.میثاق جمہوریت کی دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی. شہیدبے نظیربھٹوکی قربانی ہم سب کےلیے ایک مثال ہے.اللہ تعالیٰ شہیدبےنظیربھٹوکےدرجات بلند اورخاندان کو صبرجمیل عطاکرے.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنارمیں ادویات کی قلت کے حوالے سے میڈیامیں خبریں زیرگردش تھیں.وفاقی حکومت نےفوری طور پر پاڑاچنارمیں ادویات کی کھیپ بھجوائی.اب تک ایک ہزارکلوگرام ادویات پاڑاچناربھجوائی جاچکی ہیں.پاڑاچنارسے مریضوں کو ہیلی کاپٹرکے ذریعےدوسرے شہروں میں منتقل کیاگیا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسزبہادری سے دہشتگردوں کیخلاف نبردآزماہیں.گزشتہ روز ہماری سکیورٹی فورسز نے کئی خوارج کو جہنم واصل کیا.جھڑپ کے دوران پاکستان آرمی کے ایک میجر شہیدہوئے.بدقسمتی سے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہورہی ہے.افغانستان ہماراہمسایہ ، ہماری ہزاروں کلومیٹرسرحدمشترک ہے.خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہترہوں اورمعاشی میدان میں تعاون فروغ پائے. افغا ن سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے.افغان حکام کے ساتھ بات چیت کیلئے تیارہیں ،مسئلے کے حل کیلئے وہ ٹھوس حکمت عملی اپنائے.کالعدم ٹی ٹی پی کو کسی صورت کارروائیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.کالعدم ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے کارروائیاں ہمارے لئے ریڈلائن ہیں.کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں.پاکستان کی سالمیت کے تقاضوں کاہرصورت دفاع کریں گے.کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو شہیدکرتےہیں.افغان حکام فی الفورنوٹس لیں اور ٹھوس حکمت عملی اپنائیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آذربائیجان کے صدرکے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے.آذربائیجان کے صدرسے طیارہ حادثے پر اظہارہمدردی کیاہے.آذربائیجان کے صدرپاکستان کے خیرخواہ ہیں.خوشخبری ہے کہ آئی سی سی کے ایونٹس پاکستان میں ہونے جارہے ہیں.آئی سی سی ایونٹ کے لیے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں. کرکٹ ایونٹ عوام کی دلجوئی کے لیے ایک اچھاموقع ہے.تنازعات کے متبادل حل کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے.اے ڈی آرکامسئلہ حل ہونے سے 70ارب روپے موصول ہوں گے

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    نواز شریف کے پوتے کی نکاح کی تقریب میں تلاوت، ویڈیو وائرل