Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    آج 23 دسمبر کو برصغیر کی مشہور و مقبول گلوکارہ، "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ نورجہاں، جن کا اصل نام اللہ وسائی تھا، 1926 میں قصور، پنجاب کے ایک موسیقار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز نو برس کی عمر میں کلکتہ سے بطور چائلڈ سنگر کیا اور جلد ہی اپنی آواز اور گائیکی کے منفرد انداز سے ایک نئی پہچان حاصل کر لی۔

    پیدائش کے وقت نور جہاں کی خالہ نے نومولود بچے کے رونے کی آواز سن کر کہا، اس بچے کے رونے میں موسیقی ہے۔ نورجہاں کے والدین تھیٹر میں کام کرتے تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے نور جہاں بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھیں،نور جہاں نے فیصلہ کیا کہ وہ بطور پلے بیک سنگر اپنی شناخت بنائیں گی۔ ان کی والدہ نے نورجہاں کے ذہن میں موسیقی کی طرف بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو پہچان لیا، اس راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور گھر پر موسیقی سیکھنے کا انتظام کیا۔

    نور جہاں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کجن بائی سے اور کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد غلام محمد اور استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی، 1930 میں نور جہاں کو انڈین پکچر کے بینر تلے بننے والی خاموش فلم ’ہند کے تارے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا، کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پنجاب سے کلکتہ چلا گیا، اس عرصے کے دوران انہیں تقریباً 11 خاموش فلموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا، 1931 تک نور جہاں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنی پہچان بنا لی تھی۔ 1932 میں ریلیز ہونے والی فلم ششی پنوں نورجہاں کے سینما کیرئیر کی پہلی ٹاکی فلم تھی، اس عرصے میں نورجہاں نے کوہ نور یونائیٹڈ آرٹسٹ کے بینر تلے بننے والی کچھ فلموں میں کام کیا۔ کولکتہ میں ان کی ملاقات فلم پروڈیوسر پنچولی سے ہوئی،پنچولی نے نورجہاں کو فلم انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اسٹار کے طور پر دیکھا اور انہوں نے انہیں اپنی نئی فلم گل بکاولی کے لیے منتخب کیا،اس فلم کے لیے نورجہاں نے اپنا پہلا گانا ’سالا جوانیاں مانے اور پنجرے دے وچ‘ ریکارڈ کروایا۔ تقریباً تین سال کولکتہ میں رہنے کے بعد نور جہاں واپس لاہور چلی گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات مشہور موسیقار جی اے چشتی سے ہوئی، جو اسٹیج پروگراموں میں موسیقی دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نورجہاں کو اسٹیج پر گانے کی پیشکش کی جس کے بدلے میں نورجہاں کو فی گانا ساڑھے سات آنہ دیا گیا۔ ان دنوں ساڑھے سات آنہ اچھی رقم سمجھی جاتی تھی۔1939 میں پنچولی کی میوزیکل فلم گل بکاولی کی کامیابی کے بعد نور جہاں فلم انڈسٹری کی ایک مقبول شخصیت بن گئیں۔ اس کے بعد سنہ 1942 میں پنچولی کی پروڈیوس کردہ فلم خاندان کی کامیابی کے بعد نور جہاں نے بطور اداکارہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی۔

    نورجہاں نے اپنی زندگی کے 35 سال سے زائد عرصے تک پاکستان اور ہندوستان کی فلم انڈسٹری پر اپنی آواز کا جادو چلایا اور اپنے دور کی سب سے اہم گلوکارہ کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اردو، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانوں میں تقریباً 10,000 گانے ریکارڈ کیے، جو آج بھی موسیقی کی دنیا میں اہم مقام رکھتے ہیں۔1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، نورجہاں کے ملی نغموں نے پاکستانی عوام اور فوج میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کیا۔ ان کے گانے "ہمتِ مردانہ”، "دل دل پاکستان” اور دیگر نغمے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔ ان کی آواز نے فوجیوں میں حوصلہ پیدا کیا اور عوامی جذبات کو مضبوط کیا۔

    نورجہاں کی فنی زندگی میں بے شمار ایوارڈز اور اعزازات شامل ہیں۔ 1957 میں انہیں بہترین گلوکاری اور اداکاری کے لیے صدر پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے نگار ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ستارہ امتیاز، پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور ملینیم ایوارڈ جیسے اہم اعزازات بھی اپنے نام کیے۔ان کے گانے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سنے جاتے ہیں، اور ان کا اثر آج بھی موجود ہے۔ نورجہاں کی آواز کی مٹھاس اور گائیکی کے جذباتی رنگ ہمیشہ ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

    2000 میں آج ہی کے دن نورجہاں کراچی میں انتقال کر گئیں اور انہیں رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو دفن کیا گیا۔ ان کی وفات ایک ایسا لمحہ تھا جس سے پاکستانی قوم اور موسیقی کی دنیا ہمیشہ کے لیے غمگین ہو گئی۔نورجہاں کا فن اور ان کی شخصیت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آواز کی جادوگری، ان کے ملی نغمے اور ان کی بے شمار موسیقی کی تخلیقات انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی برسی پر مداحوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی یاد میں محافل منعقد کیں، جہاں ان کے گانے سن کر لوگوں نے اپنے پسندیدہ گانے دوبارہ سنے۔نورجہاں کا نام ہمیشہ گلوکاری کی دنیا میں ایک سنہری باب کے طور پر زندہ رہے گا اور ان کی گائیکی ہمیشہ نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔

  • اداکارہ نصیبولال کے شوہر کی فائرنگ،ایک زخمی

    اداکارہ نصیبولال کے شوہر کی فائرنگ،ایک زخمی

    لاہور کے نواحی علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں فائرنگ کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں معروف پاکستانی گلوکارہ نصیبو لال کے شوہر نوید بلوچ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب نوید بلوچ اور دیگر افراد کے درمیان لڑائی جھگڑا ہو رہا تھا۔

    پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ شاہدرہ ٹاؤن کے علاقے میں لڑائی جھگڑے کے دوران نوید بلوچ نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ زخمی شخص کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اُس کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے نوید بلوچ کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس میں فائرنگ کرنے کے الزام میں نوید بلوچ کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزم نوید بلوچ اور دیگر افراد کے درمیان جھگڑا جاری تھا اور اس دوران فائرنگ کی گئی جس سے ایک شخص زخمی ہو گیا۔ پولیس نے فائرنگ کے واقعے کی تفصیلات جانچنا شروع کر دی ہیں۔پولیس کے مطابق نصیبو لال بھی رات بھر تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں موجود رہیں اور واقعے کے حوالے سے ابتدائی معلومات حاصل کیں۔ تاہم، گلوکارہ کی طرف سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی رسمی بیان سامنے نہیں آیا۔

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    بھارتی میڈ یا کا نیا شوشہ، اداکارہ ریکھا کو ہم جنس پرست قرار دیدیا

    اداکارہ نرگس پر شوہر کا تشدد کیس،ملزم کی ضمانت میں توسیع

  • بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کی اہلیہ، برطانوی نژاد اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

    ترک اور عرب میڈیا کے مطابق اسماء الاسد اس وقت ماسکو میں خوش نہیں ہیں اور وہ لندن واپس جانا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے، جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کی درخواست کے ساتھ ساتھ ماسکو چھوڑنے کی خصوصی اجازت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ ان کی درخواست پر روسی حکام غور کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسماء کے پاس برطانیہ اور شام کی دوہری شہریت ہے، اور وہ لندن میں شامی والدین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 2000 میں شام گئی اور اسی سال 25 سال کی عمر میں بشار الاسد سے شادی کی تھی۔

    اگرچہ روس نے بشار الاسد کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کر لی ہے، لیکن وہ اب بھی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو ماسکو چھوڑنے یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ روسی حکام نے بشار الاسد کی جائیداد اور رقم بھی ضبط کر لی ہے، جس میں 270 کلو سونا، 2 بلین ڈالر اور ماسکو میں 18 اپارٹمنٹس شامل ہیں۔سعودی اور ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد کو روس میں سیاسی پناہ نہیں دی گئی ہے اور ان کی درخواست کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مہر الاسد اور اس کا خاندان اس وقت روس میں نظر بند ہیں۔

    یہ پیش رفت اس بات کا غماز ہے کہ بشار الاسد اور ان کے خاندان کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ روس میں سیاسی پناہ کی درخواستیں اور ان کے ساتھ جڑے مسائل عالمی سطح پر اس بات کا اشارہ ہیں کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت اور ان کے خاندان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسماء الاسد کی طرف سے طلاق کی درخواست نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی نیت رکھتی ہیں، جس سے مزید سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

  • پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کی جانب سے آذربائیجان، ایران، عراق، اور سعودی عرب کے راستے یورپ اور مغربی ممالک شہریوں‌کو بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    گزشتہ دنوں یونان میں کشتی ڈوبنے کے واقعات میں متعدد پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کا پتہ چلا، جس نے ان افراد کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ آذربائیجان پاکستانی انسانی اسمگلروں کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ آذربائیجان کے وزٹ ویزے کی قیمت صرف 26 ڈالر (تقریباً 7206 پاکستانی روپے) ہے اور یہ آن لائن دستیاب ہوتا ہے۔ اس ویزے کے لیے کسی پاکستانی شہری کو بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ یا دیگر اضافی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پاکستانی اور مقامی ٹریول ایجنٹس کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جو غیر قانونی اسمگلنگ کی سرگرمیاں چلاتا ہے۔ یہ ایجنٹ پاکستانی شہریوں کو باآسانی آذربائیجان کا وزٹ ویزہ دلاتے ہیں اور وہاں پہنچنے کے بعد، یہ افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے مزید سہولتیں حاصل کرتے ہیں۔

    آذربائیجان کے راستے یورپ کی طرف غیر قانونی سفر
    آذربائیجان کے وزٹ ویزے کے ذریعے یورپ جانے کا طریقہ کار کچھ یوں ہے: پاکستانی شہری آذربائیجان پہنچ کر ایجنٹوں سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر مختلف ممالک کی طرف غیر قانونی طور پر سفر کرتے ہیں، جہاں سے یورپ پہنچنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ آذربائیجان میں پہنچنے کے بعد اکثر افراد ایجنٹوں کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات یا ویزے حاصل کرتے ہیں، جس سے انہیں یورپ پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔

    سعودی عرب، ایران اور عراق کے راستے اسمگلنگ
    اسی طرح سعودی عرب میں عمرہ ویزے پر پہنچ کر وہاں موجود ایجنٹوں سے جعلی ویزے یا پاسپورٹ حاصل کر کے اگلے سفر کی تیاری کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب سے ایسے درجنوں افراد کو پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا ہے جو عمرہ ویزے پر سعودی عرب گئے تھے اور وہاں سے آگے غیر قانونی طور پر سفر کرنا چاہتے تھے۔
    ایران اور عراق کے راستے بھی پاکستانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے لیے اہم ہیں۔ ایران میں زمینی یا بحری راستوں سے پہنچ کر پاکستانی یا مقامی ایجنٹس کے ذریعے جعلی دستاویزات حاصل کی جاتی ہیں، اور پھر یہ افراد یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح عراق میں بھی انسانی اسمگلنگ کا ایک نیٹ ورک سرگرم ہے، جہاں پاکستانی شہری مختلف طریقوں سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کا نیٹ ورک صرف آذربائیجان، ایران، سعودی عرب اور عراق تک محدود نہیں بلکہ ترکی، ملائیشیا، تھائی لینڈ، مراکش، جارجیا اور دیگر ممالک میں بھی پاکستانی اسمگلرز موجود ہیں۔ ان ممالک میں مختلف طریقوں سے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک پہنچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

    پاکستان کی حکومت کی جانب سے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر ایس او پیز (معیاری آپریٹنگ پروسیجرز) موجود نہیں ہیں۔ 2005 میں آخری بار وزارت داخلہ نے امیگریشن پالیسی جاری کی تھی، جس کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی یا اپ ڈیٹ نہیں کی گئی۔ نتیجتاً، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک نے آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور ہزاروں افراد غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی اسمگلنگ کے اس پیچیدہ نیٹ ورک کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان کو فوری طور پر نئی پالیسی تیار کرنے اور انٹرنیشنل لیول پر کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، پاکستانی شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ انسانی اسمگلروں کے جال میں نہ پھنسیں اور غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوششوں میں جان کی بازی نہ ہاریں۔یونان میں کشتی ڈوبنے کی حالیہ واردات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کے شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کی کوشش میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    کراچی ، انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل

  • پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیوں کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات آج ہوئے

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی پہلی نشست اختتام پذیر ہو گئی ،سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی،آئندہ اجلاس دو جنوری کو ہوگا۔فریقین آئندہ نشست میں اپنا موقف پیش کریں گے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ با ت چیت جمہوریت کا حسن، حکومت اور اپوزیشن کا مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینا خوش آئند ہے۔ عوام کو منتخب نمائندوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔۔ملک کی موجودہ صورتحال ہم آہنگی کے فروغ کی متقاضی ہے،

    دوران اجلاس اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت جب مذاکرات کی بات کرتی ہےدوسری طرف سے ٹوئٹ آ جاتا ہے،اسد قیصر نے کہا کہ ہم متفق ہیں اپنی کور کمیٹی میں اس ایشو پر تفصیلی بات کی ہے ، اس عمل کی مذمت کرتے ہیں،حکومت اور اپوزیشن نےمذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،کمیٹی کا اجلاس آئندہ 2جنوری کو ہوگا ،آئندہ اجلاس میں اپوزیشن مطالبات کی فہرست پیش کریگی

    مذاکراتی اجلاس میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش
    حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے اجلاس کی پہلی نشست کااعلامیہ جاری کر دیا گیا،حکومت اور اپوزیشن کی مذکراتی کمیٹیوں کا اعلامیہ سینیٹرعرفان صدیقی نے پڑھ کرسنایا.اعلامیہ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی.نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،راناثنااللہ ،نویدقمر،فاروق ستارشریک ہوئے.دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات کو مثبت عمل قراردیا.اپوزیشن کمیٹی نے ابتدائی مطالبات کا خاکہ پیش کیا.آئندہ اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی تحریری طور پر مطالبات پیش کرے گی.اجلاس میں دہشت گردی کی جنگ میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا.اپوزیشن کی جانب سے اسدقیصر،حامدرضااور علامہ ناصرعباس شریک ہوئے.دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نےا سپیکرایاز صادق سے اظہارتشکر کیا،مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہواہے،

    قبل ازیں حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں میں مذاکرات ہوئے،سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی ،اپوزیشن کی جانب سے اسد قیصر ،صاحب زادہ حامد رضا علامہ ناصر عباس اجلاس میں شریک ہیں،

    اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ہوا، اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،رانا ثناء اللہ،خالد مقبول صدیقی،اسحاق ڈار، فاروق ستار،عرفان صدیقی و دیگر شامل تھے،حکومتی کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ بڑے دل اور کھلے دماغ کیساتھ اچھی توقعات لیکر مذاکرات کیلئے جارہے ہیں،

    علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں،صاحبزادہ حامد رضا بھی پہنچ گئے اور کہا کہ پی ٹی آئی کھلے دل کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرے گی لیکن ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ہمارے دو مطالبات ہیں ایک نو مئی اور 26 نومبر کی جوڈیشل انکوائری اور دوسرا قیدیوں کی رہائی،اگر پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو بتائیں کیا ریاستی اداروں کی مرضی کے بغیر ایسا ہوسکتا تھا؟

    آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ، نیت چیک کریں گے، عمر ایوب
    اپوزیشن لیڈر عمرایوب کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہے، نیت چیک کریں گے، پانی کا درجہ حرارت چیک کریں، پھر کچھ کہا جا سکتا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے پی اچھی طرح صوبے کے معاملات سنبھال رہے ہیں،پارٹی میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، نام نہاد یا فارم 47 جو بھی ہیں، مذاکرات ان سے ہی کرنے ہیں، فارم 47 حکومت کا رویہ دیکھ کر مذاکرات کا فیصلہ کریں گے، 5 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی، اس دن مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اسی دن حکومت نے مجھے گرفتار کیا تھا،

    ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں،عارف علوی
    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے 190ملین پاؤنڈ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت ہوگی۔سرکاری گواہ تسلیم کرچکے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی تعلق نہیں ،سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ میرے دُکھ درد بہت طویل ہیں، ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں، سیاست ہی ملک کو بچائے گی.

    اتوار کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان اور سینیٹرعرفان صدیقی شامل ہیں،حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے،کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، علیم خان اور چوہدری سالک حسین شامل ہوں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، علی امین خان گنڈا پور اور صاحبزادہ حامد رضا مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    ٹرین میں سوئی ہوئی خاتون کو ایک شخص نے زندہ جلا دیا

    پولیس کا آپریشن”لٹیری دلہن”شوہروں پر الزامات لگا کر لوٹنے والی دلہن گرفتار

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

  • تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ عبداللہ حمید گل

    تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ عبداللہ حمید گل

    جنرل حمید گل (ر) کے صاحبزادے اور چئیرمین تحریک جوانان پاکستان عبداللہ حمید گل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دھوکے کے علاوہ اور کیا دے سکتی ہے

    365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں عبداللہ حمید گل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کیا دے سکتی ہے حکومت کو، تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ قوم کو دھوکہ، کشمیریوں کو دھوکہ، 1 کروڑ نوکریوں کا دھوکہ، 50 لاکھ گھروں کا دھوکہ،پی ٹی آئی ایک دفعہ پھر دھوکہ دینے کیلئے تیار بیٹھی ہے، یہ ہمیشہ یوٹرن لیتے ہیں، یوٹرک تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے ،کیا قرآن میں یوٹرن ہے نفی، اسکا مطلب ہے کہ یوٹرن جھوٹے کی نشانی ، پاکستان کبھی بھی کمزور نہیں ہوا، پاکستان عالم اسلام میں اولین کردار ادا کر رہا ہے، ہمارا کردار اب بڑھ رہا ہے کیونکہ ہم اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں، پاکستان ہمیشہ سے لیڈر تھا، عالم اسلام کے اندر، دنیا کے اندر پاکستان کا ممتاز مقام ہے، دنیا کے فیصلوں‌کو مرکز و محور پاکستان تھا اور رہے گا، کون تھا جو اس میں رخنہ ڈال رہا تھا اس پر بات کی جائے، جو بھنگڑے ڈال رہے تھے کہ پاکستان میں پابندیاں لگ گئیں، ان پابندیوں میں بھی پاکستان نے دفاعی کام کیا، میزائل بنائے،پاکستان پر اب براہ راست جنگ مسلط نہیں کی جا سکتی تھی، اسلئے اندرونی طور پر پاکستان کے اندر لوگوں کو بھڑکایا گیا، سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا، لوگوں کے ذہنوں کو بدلا گیا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری جب دوستی ہوتی تھی تو بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا،اور کہا کہ لقمان کیا میں یوٹرن لیتا ہوں،جس پر میں نے کہا کہ نہیں، عمران نے کہا ٹی وی پر کیوں نہیں کہتے،جس پر میں نے کہا کہ یو آرآن راؤنڈ اباؤٹ ،تم تو ایک ہی جگہ گول گھومے جا رہے ہو،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    اسلام آباد احتساب عدالت ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی ،وکیل خالد چوہدری نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں آج فیصلہ آئیگا،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیصلہ تو آج نہیں آئیگا،چھٹیاں آرہی ہیں اور ہائیکورٹ کا کورس بھی ہے،دس منٹ تک تاریخ معلوم کر لیجئے گا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبر کو سینٹرل جیل اڈیالہ میں فیصلہ محفوظ کیا تھاجو آج سنایا جانا تھا تاہم آج نہیں سنایا گیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے فیصلے کا معاملہ ، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر کر دیا ،کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،نیب کے پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے کچھ دیر بعد محفوظ فیصلے کی نئی تاریخ مقرر کر دی، احتساب عدالت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر 6 جنوری کو اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنائے گی،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • 12 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی،مجرم کو عمر قید کی سزا

    12 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی،مجرم کو عمر قید کی سزا

    لاہور کی سیشن عدالت نے بارہ سالہ بچی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانے بنانے والے مجرم کو دو بار عمر قید کی سزا سنادی ہے

    ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی قمر نے جرم ثابت ہونے پر مقدمے کا فیصلہ سنایا، مجرم کے خلاف تھانہ ہنجروال پولیس نے 2013 میں مقدمہ درج کیا تھا۔ مجرم پر 12سالہ بچی کو گھر سے اغوا کرکے زیادتی کرنے کا الزام تھا۔دوران سماعت سرکاری وکیل عائشہ طفیل نے دلائل دیے،عدالت نے کیس کا فیصلہ سنایا ، عدالت نے مجرم کو دو بار عمر قید کی سزا سنائی، عدالت نے مجرم کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کی بھی سزا سنائی

  • بیٹے نےجان کا نظرانہ دے کر سر فخر سے بلند کیا ،والد سلیم شہید

    بیٹے نےجان کا نظرانہ دے کر سر فخر سے بلند کیا ،والد سلیم شہید

    مادر وطن کے دفاع کی خاطر پاک فوج کے جوان اپنے خون کی قر بانی دیتے چلے آرہے ہیں.ان شہداء میں سپاہی محمد سلیم شہید بھی شامل ہیں، جنہوں نے کوئٹہ کے قریب مچھ کے مقام پر دہشت گردوں سے مقابلے میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا.

    سپاہی محمد سلیم شہید کے لواحقین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا.سپاہی محمد سلیم شہید کے والد نے بیٹے کی شہادت کے موقعے پر کہا:”سلیم بہت ذہین اور اچھا بچہ تھا, ہمیشہ عزم کرتا تھا کہ ملک کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لیے اپنی جان قربان کرنی ہے”مجھے فخر ہے اپنے بیٹے پر کہ پاکستان کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا،
    سلیم کی کمی ہر وقت ستاتی ہے اللہ پاک اس کے درجے بلند کرے اور اس کی شہادت کو قبول کرے ،وہ جب بھی چھٹی آتا تھا تو ہمارا بہت خیال رکھتا تھا، اس بار بھی وہ 20 دن کی چھٹی گزار کے کوئٹہ گیا اور وہاں پہنچ کر ہمیں کال کی کہ میں پہنچ گیا ہوں، اسی رات کو کوئٹہ کے قریب مچھ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جہاں سلیم ڈیوٹی پر تھا، اگلے دن ہمیں اطلاع ملی کہ وہ شہید ہو گیا،میں پوری قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے ملک کے لیے ویسا ہی قربانی کا جذبہ رکھیں جیسا سلیم کا تھا، سلیم نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر کے پورے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے،

    سپاہی محمد سلیم شہید کی والدہ نے بیٹے کی شہادت کے موقعے پر کہا کہ "مجھے اپنے بیٹے سلیم کی شہادت پر فخر ہے”سلیم کی شہادت پر دل انتہائی غمگین ہے کیونکہ میں اس کی ماں ہوں، مگر میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں، اللہ کی شکر گزار ہوں کہ میرے بیٹے کو شہادت کا رتبہ حاصل ہوا، سلیم ہم سب سے بہت محبت کرتا تھا، بہن بھائیوں، چھوٹے بچوں اور خاندان کے ہر فرد کے ساتھ وہ ہمیشہ اخلاق اور محبت سے پیش آتا تھا، جس وقت سلیم کی شہادت کی خبر ملی، وہ انتہائی مشکل لمحہ تھا، مگر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے بیٹے کو شہادت کا رتبہ دیا، رات کو سوتے وقت میں ہمیشہ پاکستانی فوج اور پاکستان کے لیے دعا گو ہوتی ہوں کہ اللہ ان کا حافظ و ناصر ہو،

    سپاہی محمد سلیم شہید کے بھا ئی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بھائی، بھائی کا مضبوط سہارا ہوتا ہے، اور ہم دونوں میں بہت محبت تھی، ہم نے ساتھ پڑھا اور ساتھ کھیلا ” میں کھیتوں میں کام کر رہا تھا جب مجھے فون آیا کہ سلیم شہید ہو گیا، وہ لمحہ دل پہ بہت بھاری تھا، مگر مجھے فخر بھی محسوس ہوا کہ میرا بھائی شہادت کا بلند مرتبہ حاصل کر چکا ہے، اس کی کمی ہر جگہ ہر وقت محسوس ہوتی ہے لیکن مجھے اپنے بھائی کی شہادت پر فخر ہے، خدا اسکے درجات بلند کرے، ہمارے فوجی بھائی جو سرحدوں اور پاکستان بھر میں ڈیوٹی پر ہیں، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایمانداری سے اپنے فرض کو پورا کریں اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں،

    خوارج کی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام، 16 جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 7 خوارج ہلاک،ایک جوان شہید

  • ہم ٹی وی میں درید قریشی کی جگہ نئے سی ای او آنے کو تیار

    ہم ٹی وی میں درید قریشی کی جگہ نئے سی ای او آنے کو تیار

    پاکستان کے معروف ،سینئر صحافی، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انکشاف کیا ہے کہ ہم ٹی وی میں درید قریشی کے بعد نئے سی ای او آ رہے ہیں،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ہم ٹی وی کے سی ای او درید قریشی کے بارے میں نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہم ٹی وی چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں درید قریشی نے ٹیلی ویژن انڈسٹری کو ایک جدید کاروباری نقطہ نظر سے چلایا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ٹی وی کو ایک کارپوریٹ ہاؤس کی طرح چلایا جا سکتا ہے۔درید قریشی نے ٹی وی انڈسٹری میں شفافیت لاتے ہوئے کاروبار کو قانونی طور پر مستحکم کیا اور کمپنی کے لیے اضافی آمدنی کے نئے ذرائع تخلیق کیے۔درید قریشی کا فیصلہ کمپنی سے دستبردار ہونے کا ایک سنگ میل ہے، کیونکہ اس سے ہم ٹی وی میں آئندہ کچھ بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ تاہم اس دوران کمپنی کی ساخت میں کچھ معمولی تبدیلیاں کی جائیں گی، لیکن یہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی۔

    مبشر لقمان نے مزید بتایا کہ ہم ٹی وی نے اپنے نئے سی ای او کا انتخاب کر لیا ہے، جو جلد ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔ اطلاعات کے مطابق، نئے سی ای اوکا تقرر جولائی 2025 تک مکمل ہو جائے گا اور وہ اس دوران درید قریشی کی جگہ کمپنی کی قیادت سنبھالیں گے۔

    درید قریشی کے استعفے اور نئے سی ای اوکی تقرری کے اعلان کے بعد ہم ٹی وی میں نئی تبدیلیوں کا امکان ہے، جو کمپنی کو مزید مستحکم اور کامیاب بنانے کی جانب ایک قدم اور آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی نااہلی،چینل مالک خودمتحرک،اہم ہدایات

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب