Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے گہری تشویش ہے۔

    انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تفصیل سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔سلیوان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے بجائے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی میں اضافے کے بعد یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی پیداوار کے لیے ہے، مگر امریکہ اس دعوے سے مطمئن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا اور اس خدشے کو آج بھی برقرار رکھا ہے۔ جیک سلیوان نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہو گا۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ایران کی جوہری صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے اور اس سے ایران کی دفاعی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔سلیوان نے مزید کہا کہ یہ صورت حال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک معاون قدم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کی کمزور پوزیشن عالمی سطح پر اس کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    جیک سلیوان نے شام میں ایرانی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ شامی صدر بشارالاسد کے زوال سے ایران کی علاقائی پوزیشن کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ اس سے ایران کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کم ہوا ہے، جس کے باعث ایران کی حکمت عملی اور طاقت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس تمام صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے حوالے سے سخت نگرانی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  • راحت فتح علی خان کی ڈھاکہ میں کنسرٹ میں شرکت،مشیر اطلاعات سے ملاقات

    راحت فتح علی خان کی ڈھاکہ میں کنسرٹ میں شرکت،مشیر اطلاعات سے ملاقات

    پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان نے ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ’ایکوز آف ریوولوشن‘ کنسرٹ میں پرفارم کرکے بنگلادیش میں پاکستانی موسیقی کی محافل سجا دیں۔

    اس شاندار کنسرٹ کا مقصد نہ صرف پاکستانی گلوکاری کی مقبولیت کو فروغ دینا تھا بلکہ بنگلادیش میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کے لیے مالی مدد فراہم کرنا تھا۔راحت فتح علی خان اور ان کی ٹیم نے اس کنسرٹ میں بغیر کسی معاوضے کے پرفارم کیا، اور منتظمین سے ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے کسی بھی منافع کو بھی لینے سے گریز کیا۔ اس کے علاوہ، کنسرٹ میں بنگلادیش کے مشہور مقامی بینڈز جیسے آرٹ سیل، چرکٹ، آفٹرمتھ اور سلسیلا نے بھی پرفارم کیا۔ اس کے علاوہ، ریپ آرٹسٹ شیزان اور حنان نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    اس کنسرٹ کا اہتمام کرنے والی تنظیم ’اسپرٹس آف جولائی‘ کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کا مقصد 2023 کے جولائی-اگست میں بنگلادیش میں ہونے والے پرتشدد احتجاج میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کی مدد کرنا تھا۔ منتظمین نے کہا کہ کنسرٹ سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی ’شہدا میموریل فاؤنڈیشن‘ کو عطیہ کی جائے گی، جو متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔کنسرٹ میں شرکت کرنے والے طلبا کے لیے خصوصی رعایتیں بھی دی گئیں تاکہ وہ اس ایونٹ میں شریک ہو سکیں۔ بنگلادیش کے انقلاب میں طلبا کے اہم کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ٹکٹ خریدنے والے طلبا کو 16 فیصد سے 36 فیصد تک خصوصی رعایت دی گئی تھی۔

    کنسرٹ کے ٹکٹس کو تین مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا
    وی آئی پی ٹکٹس کی قیمت 10 ہزار بنگالی ٹکا تھی، لیکن طلبا کے لیے اس میں 16 فیصد رعایت دے کر قیمت 8 ہزار 400 بنگالی ٹکا کر دی گئی۔
    پہلی قطار کے ٹکٹس کی قیمت 45 ہزار بنگالی ٹکا تھی، جس میں 24 فیصد رعایت کے بعد قیمت 3 ہزار 420 بنگالی ٹکا مقرر کی گئی۔
    جنرل ٹکٹ کی قیمت 2500 بنگالی ٹکا تھی، جس میں 36 فیصد رعایت دے کر اسے صرف 1 ہزار 600 بنگالی ٹکا کر دیا گیا۔
    ڈھاکہ کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں خصوصی بوتھ بھی قائم کیے گئے تھے تاکہ طلبا آسانی سے ٹکٹ خرید سکیں۔

    اس سے قبل پاکستانی گلوکار عاطف اسلم بھی بنگلادیش میں اپنے کنسرٹ ’میجیکل نائٹ 2.0‘ میں پرفارم کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی پرفارمنس سے سامعین کا دل جیت لیا۔ عاطف اسلم نے ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں ہونے والے کنسرٹ میں دو گھنٹے زائد پرفارم کیا اور سامعین کی درخواست پر مزید گانے گائے۔ ان کی پرفارمنس کے دوران انہوں نے اپنے مداحوں سے گفتگو کی اور پوسٹرز، تصاویر، اور ٹی شرٹس پر دستخط بھی کیے۔

    یہ دونوں کنسرٹ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستانی فنکار نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے فن کا لوہا منواتے ہیں اور موسیقی کے ذریعے ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔

    راحت فتح علی خان کی بنگلہ دیش کے مشیر اطلاعات ناہید اسلام سے ملاقات
    پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان نے اتوار کے روز بنگلہ دیش کے سیکرٹریٹ میں مشیر اطلاعات و نشریات محمد ناہید اسلام سے ملاقات کی ہے،بنگلہ دیش میں پاکستان کے ثقافتی ورثہ اور موسیقی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے، ناہید اسلام، جو وزارتِ پوسٹس، ٹیلی کمیونیکیشنز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مشیر بھی ہیں، نے راحت فتح علی خان کی صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر اور دنیا بھر کے موسیقی کے دنیا کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ راحت فتح علی خان بنگلہ دیش میں بھی بہت مقبول ہیں اور ان کے مداحوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔مشیر اطلاعات نے گلوکار کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں ہونے والے موسیقی کے کنسرٹ میں شرکت کی۔ ناہید اسلام نے اس موقع پر کہا کہ جولائی میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد بنگلہ دیش میں اس طرح کے ثقافتی پروگرامز کی تنظیم کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں میں ہم آہنگی اور ثقافتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    اس ملاقات کے دوران، راحت فتح علی خان نے بنگلہ دیش کی میلوڈیز اور ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آ کر بہت خوش ہیں اور یہ دعوت دینے پر موجودہ عبوری حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اس ملاقات میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش محمد واصف، وزارتِ پوسٹس و ٹیلی کمیونیکیشنز کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد مشتاق الرحمان، اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سیکرٹری مہبوبا فرجانہ بھی موجود تھے۔

    راحت فتح علی خان نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ بنگلہ دیش کی موسیقی اور ثقافتی ورثے کی عالمی سطح پر ترویج کے لیے تعاون کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی موسیقی کا عالمی منظرنامے پر بڑا مقام ہے اور وہ اسے مزید اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ راحت فتح علی خان کی آواز اور موسیقی کے انداز نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں دلوں کو جیتا ہے، اور ان کی بنگلہ دیش میں موجودگی نے مقامی موسیقی کے شائقین کے لیے ایک یادگار لمحہ پیدا کیا ہے۔

  • بھارتی اداکار کے گھر پر حملہ کرنیوالے 8 طلبا گرفتار

    بھارتی اداکار کے گھر پر حملہ کرنیوالے 8 طلبا گرفتار

    بھارت کی تیلگو فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار، الو ارجن، جنہیں "پشپا” کے کردار کے لیے شہرت حاصل ہے، پر عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبا نے حملہ کر دیا۔

    حملہ آوروں نے کچھ روز قبل، الو ارجن کی فلم پشپا 2 کے پریمیئر کے دوران سینڈھیا تھیٹر میں بھگدڑ کے باعث جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے الو ارجن کے گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، اور گھر کے احاطے میں رکھی گملے توڑ دیے۔ انہوں نے احتجاجاً ٹماٹر بھی پھینکے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر "انصاف ہونا چاہیے” جیسے نعرے درج تھے۔ ان طلبا کا کہنا تھا کہ وہ فلم کی ٹیم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ خاتون کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیں۔

    حملے کی اطلاع ملتے ہی حیدرآباد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران خدشہ ظاہر کیا کہ حملے میں عثمانیہ یونیورسٹی کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے کہ آیا حملہ کسی منظم احتجاج کا حصہ تھا یا یہ ایک ذاتی کارروائی تھی۔اس حملے سے قبل، الو ارجن نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام پوسٹ کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے مداحوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار ذمے داری سے کریں اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا گالی گلوچ سے اجتناب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق ہی ردعمل دیا جائے، اور کسی کو بھی حالات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    الو ارجن نے اپنی طرف سے اس سانحے کے متاثرین کے لیے اقدامات بھی کیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیں گے اور زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات خود برداشت کریں گے۔ تاہم، طلبا کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیے جانے کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ پورے بھارت میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف سپر اسٹار الو ارجن نے متاثرین کے لیے مدد کی پیشکش کی، وہیں طلبا کی جانب سے اس معاملے پر عدالت سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس اس حملے کے محرکات کی جانچ کر رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد اس واقعے کی حقیقت سامنے آ جائے گی۔

  • گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی

    گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی

    گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی.گوادر سے تعلق رکھنے والی زینب سید بخش نے عالمی سطح پر تاریخ رقم کی.

    ریکوڈک مائننگ کمپنی کے انٹرنیشنل گریجویٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (IGDP) 2024 میں زینب کی شمولیت قابل فخر ہے.زینب سعید بخش سول انجینئر ہیں اور اپنے خاندان کی پہلی خاتون ہیں جو اس عالمی معیار کے پروگرام کا حصہ بنی.زینب سید بخش کی کامیابی نے گوادر کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا اور اپنے علاقے اور خاندان کے لیے قابل فخر مثال قائم کی.”انٹرنیشنل گریجویٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (IGDP) ایک غیر معمولی موقع ہے جو علم اور مہارت میں اضافہ کرے گا.

    زینب سعید بخش کا کہنا ہے کہ ریکوڈک پروگرام میں شمولیت سے نہ صرف اپنا خواب پورا کیا بلکہ نئی تاریخ رقم کی.ایسے عالمی مواقع مقامی خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا بہترین ذریعہ ہیں.یہ پروگرام میرے کریئر اور مقامی خواتین کے خواب پورے کرنے کا ذریعہ بنے گا.محنت اور لگن سے دنیا کے کسی بھی کونے میں کامیابی ممکن ہے،

    زینب نے اپنی کامیابی کو خواتین کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا،زینب سید بخش کی کامیابی خواتین کی ترقی کے لیے مشعل راہ بن گئی،زینب سید بخش کی محنت اور عزم نے ان کی کامیابی کو پورے پاکستان کے لیے تاریخی بنا دیا

  • نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    پاکستان کی مشہور ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ مناہل ملک، نے نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دوبارہ سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

    گزشتہ ماہ مناہل ملک کی مبینہ نامناسب ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس کے بعد ان کی شہرت میں کچھ مشکلات آئیں اور انہوں نے سوشل میڈیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا۔ ان ویڈیوز کے پھیلنے کے بعد، مناہل ملک نے اپنے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگوں کے رویوں سے اتنی تنگ آ چکی ہیں کہ وہ اندر سے مر چکی ہیں اور اس صورتحال نے ان کو سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔اس دوران، مناہل ملک نے اپنی ذہنی صحت اور ذاتی زندگی کی اہمیت پر بھی بات کی تھی اور اپنے مداحوں سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے فیصلے کا احترام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو فیصلہ کیا وہ میری ذاتی بہتری کے لیے تھا اور میں چاہتی ہوں کہ اس مشکل وقت میں مجھے اکیلا چھوڑا جائے۔‘‘

    لیکن حالیہ دنوں میں، مناہل ملک نے اپنے انسٹاگرام سٹوری پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر دوبارہ واپس آنے کا اعلان کیا۔ مناہل ملک نے کہا کہ ’’کبھی کبھی انسان کو تھوڑا وقفہ لینا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی اور سمت کا دوبارہ جائزہ لے سکے، لیکن اب میں واپس آ چکی ہوں اور نئی توانائی کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘مجھے امید ہے کہ آپ سب خیر خیریت سے ہوں گے، بہت لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن سب نے بس میری غلطیوں کو دیکھا، یہ نہیں دیکھا کہ میں کیسی انسان ہوں،خیر میری وجہ سے میرے فینز بہت ڈسٹرب تھے کہ مناہل تم کو واپس آنا ہوگا اور میری فیملی بھی کہتی تھی کہ مجھے واپس آنا چاہیے، یہ دُنیا کسی کو جینے نہیں دے گی، بس شریف وہ ہیں جن کے گناہ چھپے ہوئے ہیں،مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہے، مجھے بہت لوگ باتیں کریں گے لیکن اب میں وہ مناہل ہوں جو بہت مضبوط ہے، اس کو کسی کی بکواس باتوں سے اب فرق نہیں پڑتا،

    مناہل ملک کی واپسی کے اعلان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے اور ان کے مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ مناہل ملک نے اپنی واپسی کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ اب اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو زیادہ محتاط اور مثبت انداز میں جاری رکھیں گی۔ان کی واپسی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ سوشل میڈیا کی دنیا میں اتار چڑھاؤ آنا معمول کی بات ہے، اور کئی بار اس میں ایک نئی شروعات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناہل ملک کی یہ واپسی اس بات کا بھی غماز ہے کہ ذاتی زندگی اور ذہنی سکون کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے، اور کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے بعد انسان کو خود کو دوبارہ کھڑا کرنے کا حق حاصل ہے۔

    طیارے میں جوڑےکا "جنسی عمل”فلائٹ کریو نے ویڈیو لیک کر دی

    ٹک ٹاکر مریم فیصل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکر کنول آفتاب کی بھی "نازیبا” ویڈیو لیک

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائی، تحریک انصاف کا رد عمل سامنے آیا ہے

    قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ سویلینز کے خلاف ملٹری کورٹس کے سزاوں کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں،فوجی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے زیر حراست افراد کے خلاف سنائی گئی سزائیں انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔ زیر حراست افراد عام شہری ہیں اور ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا،فوجی عدالتیں قانونی طور پر ریاست کی عدالتی طاقت کی شراکت دار نہیں ہو سکتیں، مسلح افواج ریاست کے انتظامی اختیار کا حصہ ہیں ،ایسی عدالتوں کا قیام عام شہریوں سمیت عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے ،ایسے فیصلوں سے آئین کی بنیادی خصوصیت طاقت کی تقسیم کی نفی ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • توشہ خانہ ٹو کیس  کی سماعت، گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت، گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس 2 کی سماعت کے دوران اہم پیشرفت ہوئی۔

    اسپیشل جج سینٹرل، شاہ رخ ارجمند کی زیر صدارت توشہ خانہ کیس 2 کی سماعت ہوئی۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی، عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔اس کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی ٹیم نے 2 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے، جن میں کابینہ ڈویژن کے افسر ساجد اور اسٹیٹ بینک کے افسر میسم شامل تھے۔ ان گواہان نے توشہ خانہ کے متعلق اہم معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر کیس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوران سماعت وکلاء صفائی نے دونوں گواہان پر جرح مکمل کی۔ جرح کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ اس دوران مزید گواہان کے بیانات اور ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔

    اسٹیٹ بینک کے افسر میسم نے عدالت میں 2018ء سے 2021ء تک فارن ایکسچینج کے ڈالرز اور یورو کے ریکارڈز پیش کیے، جن میں توشہ خانہ کے معاملات سے متعلق اہم معلومات فراہم کی گئیں۔ جبکہ کابینہ ڈویژن کے افسر ساجد نے 2018ء میں وزیر اعظم کا توشہ خانہ سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا۔

    توشہ خانہ کیس 2 میں پی ٹی آئی کی قیادت پر الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے کے بعد انہیں فروخت کیا، جس میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس کیس کی مزید سماعت آئندہ 26 دسمبر کو ہوگی، جس میں مزید گواہان کے بیانات اور ریکارڈ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت متوقع ہے۔

    فواد چوہدری سمیت بھگوڑوں کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان

    وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

  • فواد چوہدری سمیت بھگوڑوں کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان

    فواد چوہدری سمیت بھگوڑوں کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان

    پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے خود کو فواد چوہدری سے لاتعلق کیا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ جو بھگوڑے ہو گے ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے،

    شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ عمران خان نے فواد چوہدری کا نام لے کر کہا ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، جو بھگوڑے ہیں ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، فواد جو باتیں کر رہے عمران خان نے لاتعلقی کرنے کا کہا ہے،آج ہم نے توشہ خانہ کیس میں عدالت کو کہا ہے کہ پہلے دیگر کیسز سنیں، آصف ذرداری اور نواز شریف کے خلاف مقدمات کو نہیں سن رہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات فاسٹ ٹریک پر چل رہے ہیں،القادر ٹرسٹ میں کوئی نقصان نہیں ہوا، پاکستان کو 190 ملین پاونڈ ملے اور بانی پی ٹی آئی کو ملزم بنادیا، جو مسنگ پرسنز مل چکے ہیں ان کو سامنے لائیں،ملزمان کو رہا کریں اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں، اگر حکومت نے سنجیدگی دکھائی تو سول نافرمانی کی کال واپس لے لیں گے،اگر اتوار تک ہماری بات نہ مانی گی تو اوورسیز اتوار سے پیسے نہیں بھیجیں گے، آئی ایم ایف کے ایڈوائزر نے کہا جب بانی پی ٹی آئی کو ہٹایا گیا 12 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 26 ویں آئنی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی طاقت کو ختم کردیا گیا،

    شعیب شاہین کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ، خاص طور پر فواد چودھری، جو عمران خان کا نام استعمال کرکے کہتا پھر رہا ہے کہ وہ انکا بہت ہمدردہو اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے،جو بھگوڑے اس وقت چھوڑ کر گئے تھے، ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہےاور وہ اس وقت عمران خان کا نام استعمال کرکے جس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر عمران خان نے لاتعلقی کا حکم دیا ہے،

    دوسری جانب ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری جو بڑی باتیں کرتے ہیں عمران خان کے حکم کے بعد ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہم اسے ڈس اون کرتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لیے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف اقدامات کی تفصیلات پر بات چیت کی گئی۔

    اجلاس میں شوگر انڈسٹری میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب اور نگرانی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ایف بی آر کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال سے نہ صرف محصولات کی وصولی میں بہتری آئے گی بلکہ ٹیکس نیٹ کو بھی وسعت دی جا سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیکنالوجی کے استعمال سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچے گا اور ٹیکس کے عمل کو زیادہ شفاف بنایا جا سکے گا۔‘‘وزیراعظم نے شوگر انڈسٹری میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب کی اہمیت پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے چینی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے اور قیمتوں میں توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا، ’’ہماری بھرپور کوشش ہے کہ عوام کو سستے داموں چینی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس کے لیے چینی کے اسٹاک کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔‘‘وزیراعظم نے شوگر ملوں میں ٹیکس چوری اور کم ٹیکس دینے والی ملوں کے خلاف سخت اور بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘اجلاس میں وزیراعظم نے ایف بی آر کی ویلیو چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کے کام کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے عمل سے نہ صرف ٹیکس کے نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ ٹیکس کی وصولی میں بھی نمایاں بہتری ہو گی۔‘‘وزیراعظم نے سیمنٹ اور ٹوبیکو انڈسٹری میں بھی ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال پر زور دیا اور اس کے لیے اقدامات جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

    اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت ملک کے محصولات میں بہتری لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ قومی خزانے کی حالت مضبوط ہو سکے اور عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔وزیراعظم کے اس اقدامات سے مجموعی طور پر حکومت کی ٹیکس پالیسی میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو گی جس سے نہ صرف اقتصادی استحکام آئے گا بلکہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی میں بھی مدد ملے گی۔

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ممکنہ شیڈول

  • پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام  امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام پر لگائی گئی پابندیوں اور امریکی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جوناتھن فائنر کے حالیہ بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی پاکستان کی محب وطن شخصیات پر پابندیاں اور قومی سلامتی کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرتا رہا ہے، امریکہ کی جانب سے بھارتی جنگی جنون، کشمیر میں ریاستی جبروظلم اور بھارت میں جوہری مواد کی مسلسل چوری پر تو کبھی کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا، پاکستان کے میزائل پروگرام کے خلاف حالیہ جھوٹے پروپیگنڈے اور پابندیوں کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔

    تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے دو سال پہلے ہی اس خطرے سے آگاہ کر دیا تھا کہ پاکستان کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشیں جاری ہیں، اور آج یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے۔28مئی 2023 کو مینارِ پاکستان گراؤنڈ اور 28 مئی 2024 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں منعقدہ تاریخی تکبیر کانفرنسز کے ذریعے پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے عوامی سطح پر ایٹمی پروگرام کے دفاع کی مہم چلائی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ واضح کرتی ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، ترجمان تابش قیوم نے مزید کہا کہ ایٹمی پروگرام کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے، اور اس ضمن میں ملک گیر تحریک چلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    ہم اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،مرکزی مسلم لیگ
    پاکستان کا میزائل اور ایٹمی پروگرام ہمارے امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،پاکستان کے میزائل پروگرام کے خلاف امریکی پابندیوں پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی پاکستان کی محب وطن شخصیات پر پابندیاں اور قومی سلامتی کے امور میں مداخلت کی کوشش کرتا رہا ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکی پابندیوں اور امریکی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جوناتھن فائنر کے بیان کی شدید مذمت کرتی ہے۔ امریکہ نے بھارتی جنگی جنون، کشمیر میں ریاستی جبروظلم اور ہندوستان میں جوہری مواد کی مسلسل چوری کے خلاف کبھی کوئی اقدامات نہیں کیے۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور پابندیوں کے پیچھے بھارت-اسرائیل گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اس خطرے سے دو سال پہلے آگاہ کیا تھا کہ پاکستان کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اور ابھی وہ بات کھل کر سامنے بھی آ گئی ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے 28 مئی 2023 کو مینارِ پاکستان گراؤنڈ اور 28 مئی 2024 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں تاریخی تکبیر کانفرنس منعقد کیں اور پورے ملک میں عوامی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے دفاع کے لیے مہم چلائی ہم یہ باور کروا دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور ہم اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایٹمی پروگرام کے خلاف کسی بھی اندرونی و بیرونی سازش کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو گی اور اس کیلئے ملک گیر تحریک چلانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ امریکہ میں موجود صیہونی اور بھارتی لابی، ٹرمپ انتظامیہ کو گمراہ کر کے پاک-امریکہ تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت اور پاکستانی کمپنیوں پر پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو گمراہ کرنے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کرنے کیلئے بہت سی اندرون اور بیرونی ملک دشمن قوتیں سرگرم ہیں ۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارتی جارحیت کے مقابلے میں دفاع اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہے، ماضی میں بھی پاکستان کے میزائل پروگرام پر تنقید اور پروپگنڈا کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اور میزائل نہ غیر محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کا ہدف کوئی مخصوص ملک ہے۔ پاکستانی عوام قومی خودمختاری اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ یہ سمجھتی ہے کہ یہ کمزور حکومت کی ناکامی ہے جو دنیا کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ جب وزیر دفاع خود اپنی تاریخ اور شناخت کو مسخ کریں گے تو بیرونی قوتوں سے کیا شکوہ کیا جائے، خواجہ آصف کا سلطان محمود غزنوی کو "لٹیرا” کہنا ہندوستان نوازی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ موصوف بھارت کے وزیر دفاع ہیں

    خواجہ آصف کو وزارت دفاع کے عہدے سے ہٹایا جائے،مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر ممبر سازی مہم کا باقاعدہ آغاز

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    سرکاری ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔رانا جبران

    احتجاج،مزدور طبقے کے مفادات کو مقدم رکھا جائے،رانا جبران