Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پولیو ورکرز پر حملہ  کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    پولیو ورکرز پر حملہ کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کی عدالت نے پولیو ورکرز کی ٹیم پر حملے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے تمام ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو 10، 10 ہزار روپے کے عوض ضمانت فراہم کی، جبکہ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کر دیا۔

    عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے 4 خواتین سمیت 6 ملزمان کو پیش کیا۔ ملزمان کے خلاف انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے کی پاداش میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمان کے خلاف درج مقدمے کی دفعات قابلِ ضمانت ہیں، اس لیے ضمانت دی جاتی ہے۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے پولیو ٹیم کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے منع کیا تھا، جس پر خواتین نے غصے میں آ کر پولیو ورکرز پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق، حملے کے دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں کی وردیاں بھی پھاڑ دیں۔

    پولیس حکام نے مزید بتایا کہ واقعہ 19 دسمبر 2024 کو کراچی کے علاقے کورنگی میں پیش آیا، جب انسدادِ پولیو کی ٹیم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے پہنچی۔ وہاں موجود فیملی نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا اور پولیو ٹیم پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے بیلچوں سے پولیو ٹیم کو مارا، جس کے نتیجے میں انسدادِ پولیو ٹیم کے 2 ورکرز اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس نے اس واقعے میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کیا، جن میں 4 خواتین شامل ہیں، جن کے نام ثمینہ، ماہ جبین، آمنہ، اقراء، عمران اور سفیان ہیں۔ پولیس نے اس حوالے سے کورنگی تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

    عدالت نے تفتیشی افسر سے 14 دنوں کے اندر کیس کا چالان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزمان کی ضمانت منظور ہونے کے باوجود کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کا عمل جاری رہے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل، پولیو ورکرز اور ٹیموں پر مختلف علاقوں میں حملے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے انسدادِ پولیو مہم میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اس اہم مہم کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

  • آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا  ممکنہ شیڈول

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ممکنہ شیڈول

    پاکستان میں 2025 میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ممکنہ شیڈول منظر عام پر آ چکا ہے، جس کے مطابق ایونٹ کا آغاز 19 فروری سے ہوگا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ایونٹ کے پہلے میچ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی مقابلہ 23 فروری کو ہوگا، تاہم یہ میچ کسی نیوٹرل وینیو پر کھیلا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، اس نیوٹرل وینیو کا زیادہ امکان دبئی کا ہے، جہاں گزشتہ سالوں میں متعدد بین الاقوامی میچز ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے میچ ہمیشہ شائقین کے لیے ایک بڑا کرکٹ ایونٹ ہوتا ہے اور اس بار بھی اس میچ کے لیے شائقین کی بھرپور توقعات ہیں۔چیمپیئنز ٹرافی کے میچز لاہور، کراچی ، راولپنڈی اور نیوٹرل وینیو پر کھیلے جائیں گے،چیمپینز ٹرافی کا پہلا میچ 19 فروری کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کراچی مین کھیلا جائے گا

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے آغاز سے قبل چھ دن کا سپورٹ پریڈ رکھا جائے گا جس میں ٹیموں کی آمد، پریکٹس سیشنز، میڈیا کے ساتھ تعامل اور دیگر تیاریوں کے مراحل شامل ہوں گے۔ یہ سپورٹ پریڈ 12 سے 18 فروری تک جاری رہے گا۔ اس دوران ٹیموں کو اپنے میچز کے لیے تیاری کرنے کا موقع ملے گا۔

    اس ایونٹ کے لیے نیوٹرل وینیو کے انتخاب پر گزشتہ کئی ہفتوں سے بات چیت جاری تھی، تاہم اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں اور دبئی کو اس ایونٹ کا نیوٹرل وینیو منتخب کیا جا چکا ہے۔ اس کا باضابطہ اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ایک اہم کرکٹ ایونٹ ہے جو دنیا بھر میں کروڑوں کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ عالمی سطح پر کرکٹ کی سب سے بہترین ٹیموں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لاتا ہے، اور اس میں شرکت کرنے والی تمام ٹیمیں اس بات کے لیے پرعزم ہوتی ہیں کہ وہ بہترین کھیل پیش کریں۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس ایونٹ کے لیے بھرپور تیاری کر رہا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    24 دسمبر کو مہاجرکلچر ڈے،ایم کیو ایم کی عوام کو شرکت کی دعوت

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، زین قریشی سمیت مزید 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس،مزید تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی.

    فرد جرم زین قریشی،راجہ ناصر محفوظ،راجہ شہباز پر عائد کی گئی،زین قریشی پیش نہ ہوئے وکیل کے ذریعے فرد جرم عائد ہوئی،جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اور فیصل چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا، ملزم زین قریشی عدالت پیش نہیں ہوئے،سماعت کے دوران مزید 3 ملزمان زین قریشی، راجہ ناصر محفوظ اور راجہ شہباز ٹائیگر پر فردِ جرم عائد کر دی ہے،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید 3 ملزمان پر فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مجموعی طور پر 116 ملزمان پر فرد جرم عائد ہو گئی،پراسیکیوشن نے ملزمان بلال، اعجاز، عاصم اور شہیر سکندر کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی استدعا کر دی،عدالت نے سی سی ٹی وی کے حصول کے لئے عمران خان اور فواد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

  • 24 دسمبر کو مہاجرکلچر ڈے،ایم کیو ایم کی عوام کو شرکت کی دعوت

    24 دسمبر کو مہاجرکلچر ڈے،ایم کیو ایم کی عوام کو شرکت کی دعوت

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان کیا اور اس دن کی تقریبات میں شریک ہونے کے لیے تمام شہریوں کو دعوت دی۔

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی میں آ کر مختلف قومیتوں کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور مل جل کر رہنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کراچی شہر نے کبھی کسی زبان یا قوم کے خلاف بات نہیں کی۔ ایم کیو ایم کا آغاز ہی اس پیغام کے ساتھ ہوا تھا کہ ہم آپ کو اور آپ ہمیں تسلیم کریں۔” 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے منایا جائے گا اور ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان، عوام اور تمام شہریوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ دن مہاجر کمیونٹی کی ثقافت، تاریخ اور قربانیوں کو اجاگر کرنے کا دن ہو گا۔آپ ہمیں تسلیم کریں، ہم آپ کو تسلیم کریں گے، 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے پر سب کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ پہلی بار گورنر سندھ کوخیال آیا کہ مہاجر کلچر ڈے بھی منانا چاہیے، اگر گورنر سندھ نے اس بار احسن اقدام اٹھایا ہے تو ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی خالد مقبول صدیقی کے اعلان کی حمایت کی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ گزشتہ تین سالوں سے گورنر ہاؤس میں سندھی کلچر ڈے منایا جا رہا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ گورنر سندھ نے مہاجر کلچر ڈے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فاروق ستار نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا، "اگر گورنر سندھ نے اس بار یہ احسن قدم اٹھایا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”فاروق ستار نے کہا کہ "مہاجر کلچر بانیان پاکستان کی ثقافت کا حصہ ہے، جنہوں نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور جانوں کی قربانیاں دیں۔” انہوں نے کراچی کو مختلف ثقافتوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب کراچی کی ثقافت مختلف ثقافتوں کا امتزاج ہو گی۔ "ہمیں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہے اور ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام کرنا ہے۔”

    خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار نے واضح کیا کہ 24 دسمبر کو ہونے والے مہاجر کلچر ڈے کا مقصد مہاجر کمیونٹی کی ثقافتی وراثت، قربانیوں اور ان کے ملک کے لیے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن کراچی اور پاکستان کے تمام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش ہے تاکہ مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی اور محبت کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے عوام کو دعوت دی کہ وہ اس دن کی تقریبات میں شرکت کریں اور مہاجر کلچر کے حوالے سے اپنی سوچ کو وسیع کریں۔

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

  • سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے سانحہ 9 مئی کے 25 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ یہ سزائیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے تحت دی گئیں، جس میں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، سزائیں سننے کے بعد تمام ملزمان کو ان کے قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ مجرموں کو ان کے حقوق دینے کے لیے قانونی عمل کی ہر سطح پر پابندی کی گئی، جس سے ان کے حقوق کی پامالی کا کوئی سوال نہیں اٹھتا۔

    سانحہ 9 مئی میں ملوث ملزمان نے اپنے اعترافی بیانات میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان بیانات میں انہوں نے عمران خان کی فوج مخالف تقریروں اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اکسانے کی مذمت کی اور ان عوامل کو 9 مئی کے واقعات کے پیچھے ذمے دار ٹھہرایا۔مجرموں کے مطابق، عمران خان اور ان کے دیگر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے فوجی اداروں اور ملک کی افواج کے بارے میں کی جانے والی اشتعال انگیز تقاریر نے حالات کو بگاڑ دیا اور عوامی سطح پر عدم استحکام کی صورت پیدا کی۔ ان رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی باتوں نے لوگوں کو اُکسانے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے آمادہ کیا، جو بالآخر 9 مئی کے سانحے کا سبب بنیں۔ 9 مئی کا سانحہ نہ صرف پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، بلکہ یہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ سیاسی اور فوجی اداروں میں ہم آہنگی اور ایک دوسرے کا احترام قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    نومئی، سزا یافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث پی ٹی آئی کے شرپسند جان محمد خان کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اپنے اقرار جرم میں مجرم جان محمد خان نے اعتراف کیا کہ وہ جناح ہاؤس پر حملے میں ملوث تھا اور اس نے ملٹری یونیفارم کی شرٹ پہن کر ویڈیو بنائی اور پھرشرٹ کو جلا دیا۔

    پی ٹی آئی شدت پسند شان علی کو بھی 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مجرم علی شان نے اقرار جرم میں کہا کہ عمران خان کی آرمی مخالف تقاریر سے میری ذہن سازی ہوئی۔ جب عمران خان کی گرفتاری ہوئی تو سیاسی رہنماؤں کے ورغلانے پر میں نے جناح ہاؤس پر حملہ کیا۔میں نے جناح ہاؤس میں جا کر توڑ پھوڑ کی۔

    پی ٹی آئی کے شرپسند بابر جمال خان کو ایم ایم عالم بیس میانوالی پر حملے میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مجرم بابر جمال خان نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ میں میانوالی بیس پر حملے میں ملوث تھا اور میں اپنا جرم قبول کرتا ہوں۔

    پی ٹی آئی شر پسند داؤد خان کو جناح ہاؤس حملے میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، مجرم داؤد خان نے بھی اپنے اعتراف جرم میں بتایا کہ میں نے یاسمین راشد اور حسان نیازی کے اُکسانے پر جناح ہاؤس پر حملہ کیا۔ تقاریر کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں فوج کیخلاف نفرت پیدا کی گئی، میں اپنا جرم قبول کرتا ہوں ۔

    پی ٹی آئی کے ایک اور شرپسند محمد حاشر کو 6 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ میں نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملہ کیا اور انقلاب کے نام پر لوگوں کو اکسایا اور ویڈیوز بنائیں۔ جناح ہاؤس پر حملے کی منصوبہ بندی پہلے سرزمین پارک میں یاسمین راشد کی قیادت میں کی گئی۔

    مجرم فہیم حیدر کو بھی 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے جناح ہاؤس حملے کے لیے میری ذہن سازی کی۔

    مجرم محمد عاشق خان کو 4 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ 9 مئی کو ہمیں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جناح ہاؤس پر حملے کے لیے اکسایا گیا۔ میں جناح ہاؤس میں داخلے ہوا اور وہاں کے سامان کو اٹھا کر ویڈیو بنوائی۔ ہمیں زمان پارک میں فوج کیخلاف حملے کے لیے ٹریننگ ملتی رہی۔

    مجرم محمد بلاول کو 2 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ ‘9 مئی کو پی ٹی آئی قیادت کے اکسانے پر میں نے جناح ہاؤس حملے میں حصہ لیا اور توڑ پھوڑ کی۔ پی ٹی آئی قیادت بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد کی تقاریر سے میری ذہن سازی ہوئی۔

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی ہے، مگر ریاست کو مکمل انصاف تب ملے گا جب 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے اس سنگین واقعے کے بعد وہ تمام افراد جو اس منصوبے میں ملوث تھے، انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔جاوید لطیف نے 9 مئی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منظم سازش تھی جس میں متعدد افراد نے نہ صرف ملک کی جڑوں کو ہلا دیا بلکہ ریاست کی طاقت کو بھی چیلنج کیا۔ "ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بجائے، ان کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو کبھی بھی نرم رویہ نہیں اپنانا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی جماعت یا ادارے سے تعلق رکھتے ہوں۔

    جاوید لطیف نے مزید کہا کہ "ریاست نے آخرکار فیصلہ کیا ہے کہ ان عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا، اور یہ اقدام ریاست کے استحکام اور عوام کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔” جاوید لطیف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو انصاف ملنے تک حکومت اپنی تمام تر طاقت اور وسائل کو اس معاملے میں استعمال کرے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے ہر سطح پر قانون کی بالادستی ضروری ہے اور قانون کی نظر میں کوئی بھی فرد یا گروہ بالاتر نہیں ہو سکتا۔ "یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تمام توانائیاں ملک کی تقدیر کو بہتر بنانے میں صرف کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ملک کے دشمنوں کے خلاف سازش کرنے میں کامیاب نہ ہو۔”

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • آئس کریم کے نام پر دھوکا،والز اور اومور کو کروڑوں کا جرمانہ

    آئس کریم کے نام پر دھوکا،والز اور اومور کو کروڑوں کا جرمانہ

    اسلام آباد: پاکستان کے کمپٹیشن کمیشن نے دو معروف کمپنیوں پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے جنہوں نے اپنی "فروزن ڈیزرٹس” کو آئس کریم کے نام سے مارکیٹ کیا۔

    ان کمپنیوں میں سے ایک عالمی سطح پر مشہور "والز” کا بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی اور دوسری "او مور” بنانے والی کمپنی شامل ہیں۔ دونوں کمپنیوں پر 75-75 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں کیونکہ انہوں نے جھوٹے طریقے سے "آئس کریم” کے طور پر اشتہار دیا تھا۔ اس کے علاوہ، ملٹی نیشنل کمپنی پر 20 ملین روپے کا اضافی جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی مصنوعات کو دودھ پر مبنی آئس کریمز سے زیادہ صحت مند ظاہر کرنے کے لیے جھوٹے موازنوں کا استعمال کیا تھا۔

    یہ کارروائی پاکستان فروٹ جوس کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی شکایت پر کی گئی، جو "ہائیکو” آئس کریم تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے الزام عائد کیا تھا کہ دونوں کمپنیاں ٹی وی اشتہارات اور سوشل میڈیا پر آئس کریم کے طور پر پیش کر کے صارفین کو گمراہ کر رہی ہیں، جس سے مارکیٹ میں غیر منصفانہ مقابلہ پیدا ہو رہا تھا۔

    کمیشن کے مطابق، یہ دونوں کمپنیاں اپنی مصنوعات کو آئس کریم کے طور پر فروخت کر رہی تھیں حالانکہ ان میں دودھ کی مقدار بہت کم تھی اور ان میں دیگر اجزا جیسے ویجیٹیبل آئل اور فیٹس شامل تھے جو آئس کریم کی مخصوص ساخت کے مطابق نہیں ہیں۔کمپٹیشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایک کمپنی پر 95 ملین روپے اور دوسری کمپنی پر 75 ملین روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ عوامی فریب سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ صارفین کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔کمپٹیشن کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے لائی کہ دونوں کمپنیوں نے اپنے پروڈکٹس کی مارکیٹنگ میں شفافیت کا فقدان رکھا اور انہیں "آئس کریم” کے طور پر پیش کیا، حالانکہ ان کی مصنوعات میں دودھ کی مقدار کم اور دیگر اجزا شامل تھے جو آئس کریم کی تعریف کے مطابق نہیں آتے۔

    کمیشن کے مطابق، فوڈ کوالٹی اسٹینڈرز کے تحت آئس کریم صرف دودھ اور دیگر ڈیری پراڈکٹس سے تیار کی جاتی ہے، جبکہ فروزن ڈیزرٹس میں ویجیٹیبل آئل اور دیگر فیٹس کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ آئس کریم کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔کمپٹیشن کمیشن نے فیصلہ کیا کہ دونوں کمپنیوں کو اپنی مصنوعات پر "فروزن ڈیزرٹ” اور اس میں استعمال ہونے والے اجزا کا واضح طور پر ڈسکلیمر فراہم کرنا چاہیے تاکہ صارفین کو مکمل معلومات مل سکیں اور وہ گمراہ نہ ہوں۔کمیشن نے یہ بھی کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے آئس کریم کے نام پر فروزن ڈیزرٹس کی فروخت کے ذریعے مارکیٹ میں دھوکہ دہی کا رجحان پیدا ہو رہا تھا، جو کہ نہ صرف صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مارکیٹ کی شفافیت پر بھی اثر انداز ہو رہا تھا۔کمپٹیشن کمیشن نے اس موقع پر کمپنیوں کو متنبہ کیا کہ وہ آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کریں اور قانون کے مطابق اپنے پراڈکٹس کی مارکیٹنگ کریں۔

    پاکستان میں فوڈ کوالٹی اسٹینڈرز کی پابندی ضروری ہے تاکہ صارفین کو صحت مند اور معیاری مصنوعات فراہم کی جا سکیں۔ آئس کریم کی تیاری میں دودھ اور ڈیری پروڈکٹس کا استعمال ضروری ہے، جبکہ فروزن ڈیزرٹس میں دیگر اجزا، جیسے کہ ویجیٹیبل آئل، استعمال کیے جاتے ہیں جو آئس کریم کی ساخت اور معیار سے مختلف ہوتے ہیں۔اس اقدام سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ کمپٹیشن کمیشن پاکستان میں مارکیٹ کی شفافیت کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ صارفین کو معیاری اور درست مصنوعات فراہم کی جا سکیں۔

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

  • عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی نکلا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کرنے والے امریکی معاون خصوصی کے اکاؤنٹ کا حقیقت میں جعلی ہونا سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اکاؤنٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی رچرڈ گرنیل کا ہے، تاہم تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق اس اکاؤنٹ میں کئی دھوکہ دہی کی علامات پائی گئی ہیں۔یہ اکاؤنٹ، جو ٹویٹر پر "رچرڈ گرنیل” کے نام سے چل رہا تھا، کے فالورز کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ لیکن جب اس اکاؤنٹ کی تاریخ کو چیک کیا گیا تو یہ انتہائی حیران کن بات سامنے آئی کہ یہ اکاؤنٹ 2009 میں بنایا گیا تھا، مگر اس اکاؤنٹ کی فعال ٹویٹس کا آغاز نومبر 2024 سے ہوتا ہے۔ پروفائل پر موجود تصاویر کی تاریخ بھی عجیب ہے؛ اکاؤنٹ میں 7 تصاویر اپلوڈ کی گئی ہیں، جن میں سے پہلی تصویر 18 نومبر 2024 کو اپلوڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹ کے تمام پچھلے ٹویٹس اور میڈیا مواد کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق اس اکاؤنٹ کی تمام سرگرمیاں نومبر 2024 سے شروع ہوئی ہیں، حالانکہ اس کا بننا 2009 میں ہوا تھا۔ اس میں جو ابتدائی ٹویٹس اور میڈیا مواد تھے، وہ مکمل طور پر حذف کیے جا چکے ہیں

    اس اکاؤنٹ کی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 10 نومبر 2024 تک یہ اکاؤنٹ پاکستان تحریک انصاف کا ایک فین پیج تھا، تاہم 12 نومبر 2024 کو اس کے پچھلے ٹویٹس ڈیلیٹ کیے گئے، اور 15 نومبر 2024 سے اس اکاؤنٹ کا نام تبدیل کرکے رچرڈ گرنیل رکھ دیا گیا۔جب اس اکاؤنٹ کی مزید تفصیلات پر نظر ڈالی گئی، تو پتہ چلا کہ اس میں موجود پہلی ٹویٹ 9 نومبر 2024 کو کی گئی تھی۔ اس سے قبل اس اکاؤنٹ سے کوئی بھی ٹویٹ نہیں کی گئی تھی، اور نہ ہی اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن کیمپین کے حوالے سے کوئی مواد تھا، جو کہ ایک سنجیدہ علامت ہے کہ اس اکاؤنٹ کا سابقہ استعمال کچھ اور تھا۔

    جب اس اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے یہ کوشش کی گئی کہ آیا رچرڈ گرنیل نے کسی اور پلیٹ فارم پر عمران خان کے حق میں کوئی بیان دیا ہے، تو اس بات کا پتا چلا کہ انہوں نے کسی بھی آڈیو، ویڈیو، یا تحریری بیان میں عمران خان کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے باوجود اس اکاؤنٹ پر عمران خان کے حق میں مسلسل ٹویٹس کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ، جب ڈونلڈ ٹرمپ کی فالوونگ لسٹ کا جائزہ لیا گیا، تو یہ واضح ہوا کہ ٹرمپ نے اس جعلی اکاؤنٹ کو فالو نہیں کیا ہے، حالانکہ انہوں نے اپنے دیگر مصدقہ اور قریبی ٹویٹر اکاؤنٹس کو فالو کیا ہوا ہے۔

    جہاں تک اس اکاؤنٹ پر بلو ٹک کے نشان کی بات ہے، تو یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ٹویٹر اب سبسکرپشن فیس کے ذریعے کسی بھی اکاؤنٹ کو بلو ٹک دے دیتا ہے، اس لئے یہ کسی اکاؤنٹ کی تصدیق کا قابل اعتماد معیار نہیں رہا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹویٹر پر کسی معروف شخصیت کے نام پر جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہوں۔ اس سے قبل بھی متعدد جعلی اکاؤنٹس سامنے آ چکے ہیں جن کا ان شخصیات سے کوئی تعلق نہیں تھا، جن کے نام پر یہ اکاؤنٹس بنائے گئے تھے۔

    اس معاملے پر معروف صحافی شمع جنیجو نے بھی اس اکاؤنٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پوری قوم بے چارے رچرڈ گرینیل کو گ* کہہ کے گالیاں دے رہی ہے اور وہ اکاؤنٹ پیچھے سے کوئی یُوتھیا یا جبران الیاس چلا رہا ہے ،ہم سب یہ کیوں بھول گئے کہ یہ پیسے دے کے پُرانے اکاؤنٹ خریدتے ہیں، اُس کے سارے پچھلے ٹویٹ ڈیلیٹ کرتے ہیں، فیک فالوورز خریدتے ہیں، اور پھر پُوری دنیا کو بے وقوف بناتے ہیں
    لیکن ایک بات بھول جاتے ہیں،ان کا ہر جعلی یا خریدا ہُوا اکاؤنٹ اگلے کی بے عزتی یا ٹرول کرتا ہے اور یہیں سے انہیں پکڑنا چاہئیے تھا

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1870198988626178498

    یہ تمام انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رچرڈ گرنیل کا نام استعمال کرتے ہوئے ایک جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد عمران خان کے حوالے سے بے بنیاد اور جعلی معلومات پھیلانا تھا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کی موجودگی اور ان کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے کا ایک بڑا خطرہ ہے۔

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ، سینٹرل سلیکشن بورڈ کا فیصلہ کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سینٹرل سلیکشن بورڈ کا فیصلہ کالعدم قرار

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ایک افسر کو گریڈ 20 سے 21 میں ترقی نہ دینے کے سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالت نے درخواست گزار محمد طاہر حسن کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ آئندہ اجلاس میں درخواست گزار کی ترقی کو سول سرونٹس پروموشن رولز کے تحت زیر غور لائے۔عدالت نے کہا کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کو ایسی انٹیلی جنس رپورٹس کو اہمیت نہیں دینی چاہیے جن میں افسر کو محکمانہ سطح پر اپنے دفاع کا موقع نہ دیا گیا ہو۔ یہ فیصلہ ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی سربراہی میں سنایا گیا۔

    فیصلے میں عدالت نے مزید کہا کہ اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا گیا کہ قابل وزیراعظم اس نوعیت کی لاپرواہی کو کیسے ہونے دیں گے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ حکومت بیوروکریسی کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انٹیلی جنس رپورٹس کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتی ہے؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ان حالات میں وزیراعظم بیوروکریسی سے حکومت کی خدمت کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟عدالت نے یہ واضح کیا کہ سول سرونٹس پروموشن رولز کے تحت افسران کی ترقی کا فیصلہ مکمل طور پر شفاف اور باقاعدہ طریقے سے ہونا چاہیے، اور یہ نہیں ہو سکتا کہ افسران کی ترقی انٹیلی جنس رپورٹس یا دیگر غیر مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر روکی جائے۔

    عدالت کے حکم کے مطابق، سینٹرل سلیکشن بورڈ کی آئندہ میٹنگ میں درخواست گزار محمد طاہر حسن کی ترقی کو دوبارہ زیر غور لایا جائے گا اور اس معاملے کو سول سرونٹس پروموشن رولز کے مطابق حل کیا جائے گا۔

  • واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑنے کہا ہے کہ آج یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ 9 مئی کو ہونے والے واقعات کے پیچھے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا ہاتھ تھا اور اس کے تمام ساتھی اس منصوبہ بندی میں شامل تھے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ 9 مئی کا واقعہ سیاسی دہشت گردی کی بدترین مثال تھا جس میں ملک کے اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سزائیں اس المناک واقعے کے حوالے سے دی گئی ہیں، وہ ملک دشمنوں کو واضح پیغام دے رہی ہیں۔ ان سزاؤں کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو اور آئندہ کے لیے یہ ایک مثال قائم ہو کہ کوئی بھی شخص ایسی مکروہ حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کا دوبارہ تدارک کیا جا سکے۔انہوں نے کہا، "یہ فیصلے نہ صرف قانون کی بالا دستی کو قائم کرتے ہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی دیتے ہیں کہ ہم ملک میں امن، استحکام اور آئین کی بالادستی کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔”

    نومئی، سارے ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں گے تو ہم مل کر جشن منائیں گے، عطا تارڑ
    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں جو وعدے کیے تھے اس کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ریکارڈ ترقی یافتہ کاموں کا وعدہ کیا تھا وہ پوراہوگا، آپ لوگوں نے الیکشن میں ساتھ دیا احسان بھولنے والے نہیں ، الیکشن میں جو وعدے کیے تھے اس کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں ،ملک میں معیشت ترقی کررہی ہے ، مہنگائی کم ہورہی ہے ،جس نے چوری کی تھی وی آج بھگت رہا ہے پھر بھی ملک دشمنی سے باز نہیں آتا، جنہوں نے 9 مئی کو حملے کیے انہیں آج سزا سنائی گئی ہے ، اس سے پہلے کبھی فوجی تنصیبات پر حملے نہیں ہوئے تھے ، 9 مئی ایک سیاہ دن تھا، آج انصاف پر مجھے خوشی ہے، اِس خوشی کے دن اپنے بھائیوں کے درمیان کھڑا ہوں، جب سارے ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں گے تو ہم مل کر جشن منائیں گے،

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں نے پرتشدد مظاہروں اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں کئی اہم سرکاری اور عسکری اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس میں فوجی املاک اور عدلیہ کے حوالے سے بھی توہین آمیز واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کے نتیجے میں ملک بھر میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کی گئیں۔آج فوجی عدالتوں نے 25 ملزمان کو سزا سنائی ہے،

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل