Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آسٹریلیا،ایئر لائن کا ملازم شیمپو میں منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار

    آسٹریلیا،ایئر لائن کا ملازم شیمپو میں منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار

    آسٹریلیا میں ایک ایئر لائن کے ملازم کو اُس وقت گرفتار کر لیا گیا جب پولیس نے جنوبی افریقہ سے آنے والی ایک بین الاقوامی پرواز میں اُس کے سامان میں چھپائی گئی منشیات کو برآمد کیا۔

    یہ واقعہ 7 دسمبر 2024 کو سڈنی ایئرپورٹ پر پیش آیا، جب مذکورہ ملازم اپنی پرواز کی ڈیوٹی کے بعد ایئرپورٹ پہنچا۔ پولیس نے بتایا کہ اس شخص کے سامان میں تین شیمپو کی بوتلیں اور ایک پانی کی بوتل رکھی ہوئی تھی، جن میں 4.1 لیٹر گاما بیوٹیرولیکٹون چھپایا گیا تھا۔

    گاما بیوٹیرولیکٹون کیا ہے؟
    گاما بیوٹیرولیکٹون (GBL) ایک طاقتور غیر قانونی مادہ ہے جسے "مائع ایکسٹسی” یا "کومی ان آ بوتل” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک نشہ آور مادہ ہے جو ایک مختصر مقدار میں ہی پینے سے ہوش کا کھو جانا، یادداشت کا ضیاع اور دیگر صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ GBL کو عام طور پر نشہ آور دواؤں میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ انسانوں کے لئے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

    آسٹریلین پولیس کے مطابق، ملزم نے ایئر لائن کے ملازم کی حیثیت سے اپنے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور منشیات کو ایک ملک سے دوسرے ملک اسمگل کرنے کی کوشش کی۔ ایئرپورٹ پر جب اس کی بیگ کی تلاشی لی گئی، تو اس میں تین شیمپو کی بوتلیں اور ایک پانی کی بوتل ملی جن میں گاما بیوٹیرولیکٹون چھپایا گیا تھا۔آسٹریلین وفاقی پولیس کے مطابق، ملزم کو "ایک سرحدی کنٹرول والی منشیات کی تجارتی مقدار کی اسمگلنگ” کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا یہ عمل ایک سنگین جرم تھا اور یہ اُس نے اپنی ملازمت کی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر کیا۔

    ملزم کا تعلق سڈنی کے نیوٹاؤن علاقے سے ہے، اور اُس پر الزام ہے کہ وہ جنوبی افریقہ سے سڈنی پہنچا تھا۔ اس کی گرفتاری کے بعد اُسے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں وہ فروری 2025 میں دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا منتظر ہے۔ اس وقت ملزم کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

    آسٹریلین پولیس کے ایک اعلیٰ افسر، ایکٹنگ سپرنٹنڈنٹ ڈوم اسٹیفن سن نے اس گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ، "ہم اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ جو لوگ ہمارے ملک میں غیر قانونی اور خطرناک منشیات کی اسمگلنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُنہیں گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔” اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ایک اور مثال ہے کہ کیسے کچھ افراد اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر خطرناک مادوں کو اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ کی کوشش کی گئی ہو۔ پچھلے کچھ برسوں میں کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں مختلف افراد نے جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا جانے والی پروازوں کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کی۔ 2023 میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا تھا جس میں 500 ملین رینڈ مالیت کی کوکین جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا پہنچائی گئی تھی۔ اس واقعہ کے دوران پانچ افراد کو آسٹریلیا میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان افراد کے خلاف ایک سالہ تفتیش کے بعد کارروائی کی گئی تھی جس کا نام "آپریشن لوسیان” رکھا گیا تھا۔ اسی طرح 2019 میں بھی جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا جانے والی پروازوں میں منشیات کی اسمگلنگ کے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ان کیسز میں زیادہ تر اسمگلنگ کا طریقہ یہی تھا کہ ایئر لائن کے عملے یا بیگج ہینڈلرز کو اس عمل میں شامل کیا جاتا تھا۔

    آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ میں منظم جرائم کے گروہ ملوث ہیں، جو دونوں ملکوں کے مقامی جرائم پیشہ گروپوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان گروپوں کی جانب سے منشیات کی اسمگلنگ کی کوششیں بار بار سامنے آئی ہیں، اور ان کی روک تھام کے لیے پولیس اور سرکاری ادارے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔جنوبی افریقہ کی طرف سے آنے والی فلائٹس میں منشیات کی اسمگلنگ کی کوششیں اور ان کے پیچھے موجود منظم جرائم کے نیٹ ورک نے حکام کو پریشان کر رکھا ہے۔ ان منظم گروپوں کے ذریعے نہ صرف منشیات اسمگل کی جاتی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگر جرائم بھی منسلک ہیں جن میں منی لانڈرنگ، انسانی اسمگلنگ، اور دوسرے سنگین جرائم شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    نومئی مقدمہ،تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ، شاہ محمود قریشی ،دیگر پر فردجرم عائد

    رنگ گورا نہ ہونے پر شہری عدالت جا پہنچا،کریم کمپنی کو جرمانہ

  • سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیس میں 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں ملٹری کورٹس کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 میں آرمی قوانین کا ذکر ان کے ڈسپلن سےمتعلق ہے، حضرت عمرؓ نے سخت ڈسپلن کی وجہ سےہی فوج کو باقی عوام سے الگ رکھا، فوج کا ڈسپلن آج بھی قائم ہے اور اللہ اسے قائم ہی رکھے، فوج کو ہی بارڈرز سنبھال کر ملک کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ فوجی کو قتل کرنے والے کا مقدمہ عام عدالت میں چلتا ہے، فوجی تنصیبات پر حملہ بھی تو انسداددہشتگردی ایکٹ کےتحت ہی جرم ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ذاتی عناد پر فوجی کاقتل الگ اور بلوچستان طرز پر فوج پر حملہ الگ چیزیں ہیں،جسٹس مظہر علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس میں جن رولز کے تحت ٹرائل ہوتا ہے اس کی تفصیل فراہم کریں۔جسٹس مسرت ہلالی نے حکومتی وکیل کو 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیل دینے کی ہدایت کر دی،بعد ازاں آئینی بینچ نے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ،عمران خان کی 9 مئی کی جوڈیشیل تحقیقات کی درخواست منظور

    سپریم کورٹ،عمران خان کو خیبر پختونخوا منتقلی کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

  • نومئی مقدمہ،تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ، شاہ محمود قریشی ،دیگر پر فردجرم عائد

    نومئی مقدمہ،تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ، شاہ محمود قریشی ،دیگر پر فردجرم عائد

    اے ٹی سی لاہور تھانہ شاد مان جلاؤ گھیراؤ سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے شاہ محمود قریشی ،یاسمین راشد ،میاں محمود الرشید اوردیگر پرفردجرم عائد کردی ،اے ٹی سی لاہور نے گواہان کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا، جج مناظر علی گل کی زیر نگرانی کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی گئی، دوران سماعت عدالت نے فرد جرم پڑھ کر ملزمان کو سنائی، سماعت گواہوں کو طلب کرتے ہوئے 19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے

    اس کے علاوہ، عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کیس اور دیگر مقدمات کی کارروائی کو 23 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔ ان مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

    قبل ازیں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید پر فرد جرم عائد کر رکھی ہے،

    رنگ گورا نہ ہونے پر شہری عدالت جا پہنچا،کریم کمپنی کو جرمانہ

    شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا

    شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا

  • رنگ گورا نہ ہونے پر شہری عدالت جا پہنچا،کریم کمپنی کو جرمانہ

    رنگ گورا نہ ہونے پر شہری عدالت جا پہنچا،کریم کمپنی کو جرمانہ

    بھارت میں ایک صارف کی شکایت پر عدالت نے ایک مشہور رنگ گورا کرنے والی کریم کی کمپنی پر 15 لاکھ بھارتی روپے جرمانہ عائد کردیا۔ یہ فیصلہ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد سنایا گیا، جس میں عدالت نے کمپنی کو گمراہ کن اشتہارات دینے اور صارفین کو دھوکہ دینے کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا۔

    2013 میں شاہ رخ خان کا ایک اشتہار نشر ہوا تھا جس میں وہ ایک معروف کمپنی کی کریم "فئیر اینڈ ہینڈسم” کے استعمال کو اجاگر کر رہے تھے، اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کے استعمال سے رنگت صاف اور خوبصورت ہو جائے گی۔ نئی دہلی کے رہائشی جین نکھل نے یہ اشتہار دیکھا اور کمپنی کی اس کریم کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔نکھل نے کمپنی کے دیے گئے وقت (3 ہفتوں) تک کریم کو باقاعدگی سے استعمال کیا لیکن اس کے رنگ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تین ہفتے گزرنے کے بعد، نکھل نے کمپنی کے خلاف کنزیومر کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ نکھل کا موقف تھا کہ کمپنی نے اپنے اشتہار میں جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور اس کی کریم رنگت میں کوئی بہتری نہیں لا سکی۔

    عدالتی کارروائی کے دوران کمپنی نے مختلف قانونی جواز پیش کیے لیکن عدالت نے کمپنی کے اشتہارات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ کمپنی جانتی تھی کہ اس کی کریم کے استعمال سے وہ نتائج نہیں ملیں گے جو اشتہار میں دعویٰ کیے گئے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اشتہار میں کریم کے استعمال کے بارے میں نامکمل ہدایات فراہم کی گئی تھیں اور صارفین کو واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کیا خاص طریقہ کار ضروری ہے۔عدالت نے کمپنی پر 15 لاکھ بھارتی روپے کا جرمانہ عائد کیا اور کہا کہ اس میں سے 14 لاکھ 50 ہزار دہلی کنزیومر ویلفیئر فنڈ میں جمع کیے جائیں گے، جبکہ باقی 50 ہزار روپے نکھل کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔ مزید برآں، عدالت نے نکھل کو قانونی مقدمے کی کارروائی پر 10 ہزار روپے کے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔

    شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا

    شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا

    صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

  • شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا

    شیر خوار بچوں کو اغوا کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا

    لاہور ،چوہنگ کے علاقے میں شیر خوار بچوں کو اغواء کر کےخرید و فروخت کرنے والے گروہ پکڑا گیا۔

    گروہ سے ایک 3 دن کا بچہ اور ایک 16 روز کی بچی برآمد ہوئی ہے،ملزمان میں شہناز،ثنا، مشاعل،محمد رمضان، محمد شہباز، محمد شہباز، مطیع الرحمن، محمد یعقوب ۔انعام عباس، فاطمہ، کنزہ، زنیب اور معراج بی بی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق ایک ملزم انعام عباس موقع سے فرار ہو گیا۔خواتین ملزمان نے ابتدائی تفتیش بچوں کو خریدو فروخت کرنے کا اعتراف کیا۔ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،ملزمان نے شیر خوار بچوں کو کہا ں سے اغواء کیا تفتیش جاری ہے

    درج مقدمے میں کہا گیا کہ ایس آئی معہ ہمرا تھانہ چوہنگ لاہور ہمرائیاں بابر 7917 ، صدیق 6223، امداد حسین 12327 / C بسواری سرکاری گاڑی نمبری 1161 / LEG جس کا ڈرائیور اسلم 5111/D بسلسلہ گشت و تلاش ٹھو کر چوک موجود ہو ں کہ بذریعہ ایمر جنسی 15 کال موصول ہوئی کہ پی ایس او پٹرول پمپ نزد ڈائیووٹر مینل ٹھو کر چوک کے پاس کچھ مرد اور عور تیں موجود ہیں جنکے پاس ایک پر دن کا بچہ اور ایک 16/17 کی بچی ہے اور وہ ان دونوں بچوں کو فروخت کر رہے ہیں اطلاع پر معہ ہمرائیاں لیڈی کانسٹیبل سحرش 15456/PSO LC پمپ ٹھو کر پہنچا وہاں پر کالر آصف ملاقی ہوا اور بتلایا کہ یہ دونوں خواتین جنکے نام شهبانہ بی بی زوجہ محمد شہباز ،ثناء زوجہ بلال معلوم ہوئے بچی کو مسماۃ مشاعل زوجہ مطیع الرحمان کی سربراہی میں دیگر گینگ جن میں محمد رمضان عاشق ولد محمد عاشق،محمد شہباز ولد اللہ دتہ، محمد شہزاد ولد محمد سرور،مطیع الرحمان ولد صدرالدین ،محمد یعقوب ولد چراغدین ،انعام عباس ولد نا معلوم،فاطمه دختر ظهیر، کنزه بی بی زوجہ اللہ دتہ زینب بی بی زوجہ محمد سلیم، معراج بی بی زوجہ سرور کے ہمراہ بچوں کی خرید و فروخت کرنے کیلیے یہاں موجود ہیں جسکی نشاندہی پر درج بالا 5 کس مرد اور 7 کس خواتین کو با امداد ہمرائیاں قابو کیا گیا جبکہ انعام عباس ولد نا معلوم مفرور ہو گیا جسکی بابت گرفتار شدگان نے بتلا یا دریافت پر تمام مردوزن درج بالا فعل کی بابت کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے مزید دریافت پر ثناء زوجہ بلال نے بتلایا کہ میں نے اپنی بچی 5 لاکھ میں اور شبانہ بی بی نے بتلایا کہ میں نے اپنے بچے کو مبلغ 7 لاکھ میں مسماۃ مشاعل کو فروخت کرنے تھے جبکہ مشاعل نے بتلایا کہ میں نے یہ دونوں بچے آگے مبلغ 23 لاکھ میں فروخت کرنے تھے دونوں بچوں (بچہ اور بچی) کو حوالہ چائیلڈ پروٹیکشن بیورو کیا گیا ہے ملزمان مذکوران بالا نے دو کس شیر خوار بچوں کو اغواء اور خرید و فروخت کر کے ارتکاب جرم کیا،

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    cime

  • پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے اور میڈیکل سٹی کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ شہر میں صحت کی سہولتیں مزید بہتر ہو سکیں۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بہترین ممالک میں شامل ہے جہاں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر طرح کا موسم، قدرتی وسائل، اور مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے کئی مواقع ہیں جن سے دنیا بھر کے سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سندھ حکومت تھر پارکر میں کوئلہ نکالنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے 200 سال تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، تھر پارکر میں کوئلہ کی وسیع مقدار کا موجود ہونا پاکستان کے توانائی کے بحران کے حل کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔شرجیل میمن نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ملک میں کئی کامیاب منصوبوں کی بنیاد رکھی ہے، جنہیں نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے منصوبے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک نمونہ بنے ہیں، اور ان منصوبوں کی کامیابی نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چین کے سرمایہ کار مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، جن میں میڈیکل سٹی کے منصوبے کا قیام بھی شامل ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ یہ میڈیکل سٹی کراچی کے شہریوں کو عالمی معیار کی صحت کی سہولتیں فراہم کرے گا، اور اس منصوبے کی تکمیل سے شہر میں صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مختلف منصوبوں کے ذریعے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید تقویت ملے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ کی یہ تمام کاوشیں سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں اور ان کا مقصد ترقی کی راہوں پر مزید تیزی سے آگے بڑھنا ہے۔

    کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    کیا کوئی شخص گولیاں، شاٹ گن لے کر مظاہرے میں شریک ہوتا ہے؟ شرجیل میمن

    عظمیٰ بخاری پہلے زمینی حقائق معلوم کریں پھر بیان دیں،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    شرجیل میمن سے یو اے ای کے قونصل جنرل کی ملاقات

  • صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے میڈیا نمائندوں کے سوالات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔

    بشریٰ بی بی ضمانت منسوخی کیس میں عدالت پیش ہوئی،اس دوران صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات پوچھے گئے، جن میں بشریٰ بی بی کی حالیہ سرگرمیوں، عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے سوالات شامل تھے، لیکن انہوں نے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور چپ چاپ عدالت کے احاطے سے روانہ ہو گئیں۔صحافیوں نے بشریٰ بی بی سے ان کے موقف کے بارے میں سوالات پوچھے، صحافیوں نے سوال کیا کہ ڈی چوک جانے کا کس کا فیصلہ تھا،آپ کا یا علی امین گنڈا پور کا، ایک اور سوال کیا گیا کہ ڈی چوک میں کیا ہوا تھا، ایک اور صحافی نے بشریٰ بی بی سے سوال کیا کہ سنا ہے آپ سیاست میں آنا چاہتی ہیں، تاہم بشریٰ بی بی نے مکمل خاموشی اختیار کی اور صحافیوں کے سوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کی جانب سے اس رویے کو دیکھتے ہوئے کئی افراد نے ان کے جوابدہ نہ ہونے اور عوام کے سوالات سے گریز پر سوالات اٹھا دیے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا اس طرح صحافیوں سے بات نہ کرنے کا مطلب ہے کہ وہ عوامی سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جو لوگ عوام کو جوابدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا اصل چہرہ اب سامنے آ رہا ہے، جہاں نہ شفافیت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کا عمل، ڈی چوک کارکنان کو لانے اور اکسانے کے لئے تو بشریٰ بی بی مسلسل خطابات کرتی رہیں، اسلامی ٹچ دیتی رہیں تا ہم صحافیوں کے سامنے منہ نہ کھول سکیں، ایسے لگتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے چپ کا روزہ رکھ لیا، عوامی حلقوں میں بشریٰ بی بی کی خاموشی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اگر وہ عوام کے سامنے آئیں تو ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

    26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،عظمیٰ بخاری
    بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جوابات نہ دینے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ بشریٰ بی بی آج اچھے بچوں کی طرح خاموش ہیں، 26 نومبر کو جو جھانسی کی رانی بن رہی تھی آج منہ چھپائی کر رہی تھی، بشریٰ بیگم اپنی بہن اور ترجمان کے ذریعے ساری پارٹی کو چارج شیٹ کرنے کے بعد آج خود چپ ہو گئیں، 24 اور 26 نومبر کو جوشیلے خطاب کرنے والی بشریٰ بی بی آج اپنا انقلابی بھاشن پشاور چھوڑ آئیں، 26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،بشریٰ بی بی میڈیا کو بتاتیں ڈی چوک سے بھاگنے کا پلان ان کا تھا یا گنڈاپور کا تھا؟ آج قوم کو بتاتیں ڈی چوک سے دوڑ کیوں لگائی، بے چاری نے پہلا انقلاب لیڈ کیا وہ بھی گلے پڑ گیا، بشریٰ بی بی کی غیر سیاسی سوچ اور غیر سیاسی فیصلوں نے ان کی پارٹی کو تقسیم کیا ہے، پی ٹی آئی کا ’انقلاب فروم ہوم‘ مہینے میں ایک بار انگڑائی لیتا ہے، جیسے ہی ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے انقلاب دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    عمران ‏خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

  • توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشری بی بی پر جیل ٹرائل کے دوران فرد جرم عائد کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا،توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کر دی،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 18 دسمبر کوطلب کرلئے

    عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے، بشریٰ رہائی کے بعد بنی گالہ سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچ چکی ہے

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

  • خواتین سے زیادتی، ہراسگی مقدمات،   کوتاہی برداشت نہیں،ایس ایس پی  محمد نوید

    خواتین سے زیادتی، ہراسگی مقدمات، کوتاہی برداشت نہیں،ایس ایس پی محمد نوید

    لاہور: ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی زیر صدارت پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا،

    کرائم میٹنگ میں شہر کے تمام سرکل ڈی ایس پیز، ایس ایس او آئی یو انچارجز اور تفتیشی افسران نے شرکت کی۔ اس اہم میٹنگ کا مقصد شہر میں ہونے والے سنگین جرائم کی تفتیش کی رفتار کو بہتر بنانا اور پینڈنگ مقدمات کی پراگرس رپورٹ کا جائزہ لینا تھا۔میٹنگ کے دوران، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے تمام تفتیشی افسران سے پینڈنگ اور زیر التواء مقدمات کی تفصیل دریافت کی اور ان کی پراگرس رپورٹ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مقدمات کی بروقت تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ایس ایس پی محمد نوید نے متعدد انچارجز اور تفتیشی افسران کی ناقص کارکردگی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے دو روز کی مہلت دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر افسران نے اپنی کارکردگی میں بہتری نہ لائی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

    میٹنگ کے دوران خواتین کے خلاف زیادتی اور تشدد کے واقعات کی رپورٹ پر ایس ایس پی نے ایس ایس او آئی یو افسران کو سخت ہدایات دیں کہ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھا کریں اور مقدمات کی تفتیش میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کو کسی صورت میں رعایت نہیں دی جائے گی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسران کو اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان ملزمان کو پکڑنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جا سکے۔ایس ایس پی نے چالانی تناسب میں بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل کو استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط چالان مرتب کر کے گناہگار کو سزا دلوانا ان کی اولین ترجیح ہے۔محمد نوید نے اس بات پر زور دیا کہ میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتا ہرگز نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کے تمام افسران کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ اپنی تمام تفتیشی کارروائیوں میں قانون اور میرٹ کو ترجیح دیں۔ایس ایس پی محمد نوید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور پولیس عوام الناس کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سے زیادتی، ظلم و تشدد اور ہراسگی کے تمام واقعات کی مذمت کی جاتی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    بابر اعظم شادی کا جھانسا دے کر زنا کرتا رہا ،لاہور ہائیکورٹ میں خاتون پیش

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے پرویز خٹک کی ملاقات

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

  • بابر اعظم شادی کا جھانسا دے کر زنا کرتا رہا ،لاہور ہائیکورٹ میں خاتون پیش

    بابر اعظم شادی کا جھانسا دے کر زنا کرتا رہا ،لاہور ہائیکورٹ میں خاتون پیش

    لاہور ہائیکورٹ ، مبینہ ہراسگی پر بابر اعظم پر اندارج مقدمے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وکیل بابر اعظم کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے فائل جسٹس اسجد جاوید گھرال کو بھیجے کی سفارش کر دی، عدالتی حکم پر مبینہ ہراسگی کی شکار خاتون عدالت کے روبرو پیش ہو گئی، عدالت نے بابراعظم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2021 کی درخواست ہے، ہر مرتبہ آپ کیس ملتوی کرنے کی درخواست دائر کرتے ہیں،وکیل خاتون نے کہا کہ یہ زنا کا کیس ہے، کرکٹ بابر اعظم شادی کا جھانسا دے کر زنا کرتا رہا ہے، کرکٹر بابر اعظم نے خاتون کا 12 لاکھ روپیہ بھی دینا ہے،

    بابر اعظم کےجونیئر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سینئر وکیل بیرسٹر حارث عظمت موجود نہیں ہیں، کیس کو ملتوی کیا جائے، عدالت نے بابراعظم کے جونیئر وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے 2021 سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے، آپ عدالت میں آتے ہی نہیں ہیں،جسٹس وحید خان نے کرکٹر بابر اعظم کی درخواست پر سماعت کی عدالت نے بابر اعظم پر خلاف اندراج مقدمہ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے

    واضح رہے کہ خاتون حامیزہ کی طرف سے لاہور کی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بابر اعظم کے خلاف مقدمے کی درخواست پر بابر اعظم کے والد، بھائی، ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس اے اور دیگر افراد ہراساں کر رہے ہیں۔ بابر اعظم کا خاندان مقدمے کی درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔قبل ازیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کیخلاف اندراج مقدمہ کے لیے ہامزہ نے سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا،عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جس کو بابراعظم نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھ

    بابراعظم شادی کا جھانسہ دے کر10 سال تک زیادتی کرتا رہا:میں نے بابرکی خاطربڑی قربانیاں دیں :حامزہ نے سارےپردے فاش کردیے

    بابراعظم کس طرح حامزہ کوبلیک میل کرتے رہے:پردے میں ہونے والی گفتگو،رازونیاز کی باتیں سامنے آگئیں

    بابراعظم کی حامیزہ کے ساتھ جنسی زیادتی،بلیک میلنگ:پی سی بی”مٹّی پاو”کہہ کرمظلوم کی بجائےظالم کے ساتھ کھڑی ہوگئی

    بابر اعظم پر الزام لگانیوالی خاتون مدد طلب کرنے کہاں پہنچ گئی؟

    واضح رہے کہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حامیزہ نے بابر اعظم پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بابر مجھے کورٹ میرج کے بہانے گھر سے بھگاکر لے گیا اور مختلف جگہوں پر کرائے کے مکانوں پر رکھتا رہا۔حامیزہ نامی لڑکی نے دعویٰ کیا کہ میرے ساتھ زیادتی کرنے والا کوئی عام شخص نہیں بلکہ بابر اعظم ہے  بابر اعظم سے میرا تعلق اس وقت کا ہے جب بابر کرکٹ نے کرکٹ کی دنیا میں قدم نہیں رکھا تھا اور بابر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔