Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان واپس پہنچے،چارٹرڈ طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، پاکستان پہنچنے پر وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستانی شہریوں کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو خیریت سے ملک واپس آنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،پاکستانیوں کی باحفاظت واپسی پر لبنان کے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کو باحفاظت وطن واپس لایا جائے.شام سے پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا.شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں. شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیرِاعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی.حکومت نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے میں معلوماتی ڈیسک اور رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کیا.وطن واپسی پر تمام شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے.امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے تک کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور پاکستانی سفارت خانے کا معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہے گا.اللہ کا شکر ہے کہ شام سے طیارہ باحفاظت پاکستان پہنچ چکا ہے.حکومت کا یہ انتظام اس جذبہ کی علامت ہے کہ پاکستانی جہاں بھی مشکل میں ہوں وہ تنہا نہیں.پاکستانی قوم کی خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں.این ڈی ایم اے اور پاکستان کے سفارتخانوں نے انتھک کام کیا،

    شام میں پھنسے تین سو اٹھارہ پاکستانیوں کو بیروت سے چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے لبنانی وزیراعظم سے رابطہ کرکے شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا میں مدد کی اپیل کی تھی جس پر لبنان نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کیے ،ذرائع کے مطابق ان شہریوں کو بذریعہ سڑک شام سے لبنان پہنچایا گیا، جہاں سے آج انہيں خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے پر متعلقہ حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور شام سے مزید پاکستانیوں کے انخلاء کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے پاکستانیوں کے باحفاظت انخلاء پر لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے پرعزم ہے۔

  • نواز شریف کی 1981میں پہنی گئی ٹی شرٹ کی نیلامی کا اعلان

    نواز شریف کی 1981میں پہنی گئی ٹی شرٹ کی نیلامی کا اعلان

    مسلم لیگ ن کے صدر ،سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ٹی شرٹ کی نیلامی 16 دسمبر سے 20 دسمبر تک لاہور میں ہوگی۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی ٹی شرٹ کی نیلامی سلطان پارک مورچہ سٹاپ عمر مارکی نزدشادباغ انڈر پاس رنگ روڈ میں ہو گی، نواز شریف کی ٹی شرٹ کی نیلامی کی تقریب میں ن لیگی رہنما، و کارکنان شریک ہوں گے، نواز شریف کی ٹی شرٹ کی نیلامی کرنے والے ن لیگی جیالے رانا علی نے باغی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کی جس ٹی شرٹ کی نیلامی کی جا رہی ہے، یہ شرٹ 1981 میں نواز شریف نے پہنی تھی، شرٹ کا رنگ بلیو ہے اور بولی کے دوران تصدیق کے لئے نواز شریف کی وہ تصویر بھی رکھی جائے گی جس میں انہوں نے یہ شرٹ پہنی ہوئی ہے تا کہ نیلامی میں حصہ لینے والوں کو تسلی رہے کہ واقعی یہ ٹی شرٹ نواز شریف کی ہی ہے.

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ٹی شرٹ کی نیلامی ایک منفرد اور تاریخی واقعہ بن سکتی ہے جو نہ صرف سیاسی دنیا بلکہ سماجی طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ 16 دسمبر سے 20 دسمبر تک لاہور میں ہونے والی اس نیلامی کا انتظار کیا جا رہا ہے،

    رانا علی کے مطابق اس ٹی شرٹ کی نیلامی کا خیال اس وقت آیا جب نواز شریف کی شخصیت کے حوالے سے لوگوں میں دلچسپی بڑھتی گئی اور ان کے سیاسی ورثے کو مزید تسلیم کیا جانے لگا۔ ٹی شرٹ کو ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ان کی سیاسی جدوجہد اور عزم کو ظاہر کرتی ہے۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف یہ ٹی شرٹ ایک تاریخی اور سیاسی علامت کے طور پر قدر کی حامل سمجھی جا رہی ہے، اور اس کے لیے ممکنہ طور پر بڑی قیمت کی توقع کی جارہی ہے۔ نیلامی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ ٹی شرٹ نہ صرف ایک عادی لباس کے طور پر اہمیت رکھتی ہے بلکہ اس کے ذریعے ایک سیاسی تاریخ کی جھلک بھی ملتی ہے، جس سے یہ اشیاء کی نیلامی کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔رانا علی کا کہنا تھا کہ نواز شریف ہمارے قائد، محسن ہیں ،انہوں نے پاکستان کی فلاح کے لئے اور عوام کے لئے بہت کام کئے، نواز شریف کے کاموں کو اگر نکال دیا جائے تو پیچھے بچتا ہی کیا ہے، ن لیگ کے دور میں ہی پاکستان نے معاشی ترقی کی ہے، ن لیگ نے پاکستان کو ایٹمی طاقت کا حامل بنایا،نواز شریف اسی وجہ سےہمارے دلوں میں بستے ہیں،

    پی ٹی آئی سابق رہنما جاوید بدر کا نواز شریف کو خط،الزام تراشیوں پر مانگی معافی

    نواز شریف کے پوتے حافظ زید حسین کی شادی کی تیاریاں

    24 نومبر کو احتجاج کی کال ملک کو ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے،نواز شریف

    پاکستان میں معیشت بہتر ہورہی ہے،انشااللہ دوبارہ ایشیئن ٹائیگربنے گا،نواز شریف

    وفاق اور پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے پاکستان ٹریک پر واپس آرہا ہے، نواز شریف

    وزیراعظم بننے گئے تھے کیوں نہیں بنے؟ نواز شریف سے صحافی کا سوال

  • عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف  بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ماضی کی کچھ انتہائی سنسنی خیز باتوں کو منظر عام پر لایا ہے

    جاوید بدر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی سرگرمیاں 2013 سے ہی ملک دشمن تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا فوری طور پر فوجی ٹرائل شروع ہونا چاہیے۔جاوید بدر نے انکشاف کیا کہ 2013 میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مدد حاصل کی تھی۔ عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بیان دینے سے روک دیا تھا، جبکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور میٹنگز پر بم دھماکے اور فائرنگ ہو رہی تھی۔جاوید بدر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ "ٹی ٹی پی کے ساتھ میری بات ہوگئی ہے، وہ ہمیں مکمل سپورٹ کریں گے اور صوبے میں کسی اور پارٹی کو کمپین نہیں کرنے دیں گے۔” ان کے مطابق، عمران خان نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان دینے سے روک دیا تھا۔

    جاوید بدر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کی خواہش میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اور انہوں نے اپنے مفادات کے لیے دہشت گرد تنظیموں سے ہاتھ ملایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹی ٹی پی اس وقت ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر رہی تھی، اور عمران خان نے ان سے حمایت حاصل کی۔”عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے اور یہ تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ جاوید بدر کے مطابق، پی ٹی آئی کے ہر احتجاج میں دہشت گرد عناصر شامل ہوتے ہیں، اور عمران خان نے "تبدیلی” کے نام پر ملک کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ڈرون حملوں کو سیاسی بیانیہ بنا کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔

    پنجاب کو معاشی طورپر مستحکم اور ایک عوامی فلاحی صوبہ بنانا چاہتی ہوں،مریم نواز

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ کر دیا گیا

    26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف 12 سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی ،بلوچستان بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے دائر درخواستوں کو بھی نمبر لگا دیا گیا ،بلوچستان بار کونسل کی طرف سے دائر درخواست کو 49/24 اور بلوچستان ہائی کورٹ بار کی درخواست کو 50/24 نمبر لگایا گیا،جماعت اسلامی کی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست کو بھی نمبر لگا دیا گیا،رجسٹرار آفس نے 12 درخواستوں کو نمبر الاٹ کردیا ہے

    چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

    لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت میں خلیل الرحمان قمر کے خلاف ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عدالت نے ملزمہ آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

    نسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے اس کیس کی سماعت کی۔ اس دوران ملزمان کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا، جن میں آمنہ عروج، حسن شاہ اور دیگر 10 ملزمان شامل ہیں۔ عدالت نے ان ملزمان پر فرد جرم عائد کی، جس پر آمنہ عروج اور دیگر ملزمان نے اپنے خلاف عائد الزامات سے انکار کیا۔ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کرنے کے بعد عدالت نے پراسکیوشن کے گواہان کو شہادتیں قلمبند کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔ مزید سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    اس مقدمے میں خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے انہیں ہنی ٹریپ کا شکار بنا کر اغوا کر لیا تھا اور پھر ان سے تاوان کا مطالبہ کیا۔ خلیل الرحمان قمر کی جانب سے ملزمان کے خلاف شدید الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس کیس کی سماعت عوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

    خلیل الرحمان آج کل خبروں میں ہیں، گینگ سے تشدد کا نشانہ بننے سے لے کر نازیبا ویڈیو لیک ہونے تک ہر روز خلیل الرحمان قمر کی دو چار خبریں آ رہی ہیں، ہر خبر میں نئے انکشافات سامنے آ رہے جس میں خلیل الرحمان قمر کا حقیقی کردار بے نقاب ہو رہا ہے،خلیل الرحمان قمر آمنہ عروج کو فون کرتے تھے، خود ملنے گئے، ایک بار نہیں کئی بار ملے، نازیبا ویڈیو بنیں اور وائرل ہو گئیں، مقدمہ درج ہوا تو آمنہ عروج ،حسن شاہ و دیگر کو گرفتار کر لیا گیا خلیل الرحمان قمر بھی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایف آئی اے پہنچ گئے کہ میری ساکھ متاثر ہوئی ہے،خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    خلیل الرحمان قمر کو تھپڑ کس نے مارا،خاتون اینکر سے غیر اخلاقی حرکت

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    نبیل گبول نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت میں آج سے مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے اور فریقین میں ایک بریک تھرو کی صورتحال بن سکتی ہے۔حکومت کی شرط یہ ہے کہ مذاکرات پی ٹی آئی کے وکیلوں سے کیے جائیں گے، پشاور والوں سے نہیں، تاہم پشاور کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں۔ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقین کی طرف سے مذاکرات کے لیے راستے کھلے ہیں لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت سے ابھی تک کوئی مزاکرات شروع نہیں ہوئے ،مزاکرات جب بھی ہوں گے، اوپن ہوں گے ،سب کے سامنے ہوں گے،مزاکرات کیسے ہوں گے اس کی تفصیلا ت میں جائیں ،مزاکرات خفیہ نہیں کریں گے لوگوں کے سامنے ہوگا ،ابھی مزاکرات کے حوالے سے قوائدو ضوابط طے ہورہے ہیں،

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ابھی مزاکرات شروع نہیں ہوئے تاہم.ہم سب کے ساتھ مزاکرات کرنے کو تیار ہیں ،بانی پی ٹی ْآئی نے کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کے نام بھی بتادئیے ہیں، ہم کمیٹی کے ارکان اب مزاکرات کے لئے دستیاب ہیں ،اسپیکر سے مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،اسپیکر سے میں اور عامر ڈوگر نے گزشتہ روز انکی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی تھی ،گزشتہ رات اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے بھی اسپیکر سے تعزیت کرنے گئے تھے

    اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔عرفان صدیقی
    ن لیگی رہنما عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔ پی ٹی آئی ہر جگہ سے بے بس اور لاچارہوگئی تو مذاکرات کیلئے تیارہوگئی۔ سول نافرمانی کی تلوار ہماری گردنوں میں لٹکا کر مذکرات کی طرف نہ آئیں ۔مذاکرات میں شرائط ہوتی ہیں، جیلوں میں ایک لاکھ قیدی کسی نہ کسی جرم میں پڑے، حکومت کیسے قیدی چھوڑ دے، یا تو وہ کہہ دیں کہ ہمارے سارے راستے بند ہو چکے ، عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے ہم مجبور بے بس لاچار ہوچکے ہیں ہم سے بات کرو، پھر بات ہو جائے گی، سول نافرمانی کی تلوار لٹکی ہو گی تو بات نہیں ہو گی، ڈاکوؤں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں تو بات ہو جائے گی

    پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کہتی ہیں کہ ہم ملک کی خاطر مذاکرات کرتے ہیں, ہمیں لوگوں نے وٹ دیا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ظلم بھی ہم پر ہوں اور جھوٹے کیسز میں بھی ہم کورٹس کے چکر لگاتے رہے ، مذاکرات کا کل پہلا دن تھا،عمران خان نے سیاسی کمیٹی بنائی ہے جس کومذاکرات کا مکمل اختیار ہے، مذاکرات میں جو پیشرفت ہو گی شئیر کی جائے گی

    سینیٹر عون عباس کہتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتی تو پھر سول نافرمانی کی تحریک اور ڈی چوک پر دوبارہ احتجاج کی ذمہ دار حکومت وقت ہوگی،

    ایم کیو ایم کی مذاکرات کے لئے کردار کی پیشکش
    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے لئے خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کر دی، ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دنیا میں مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلتا ہے،ہمارے سیاسی بحران سے معاشی بحران جڑا ہو ا ہے، لوگ مہنگائی بے روزگاری کی چکی میں پسے ہوئے ہیں ، مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہئے،فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے ایم کیو ایم کے اراکین اور سیاسی رہنما کردار ادا کرکے نوابزادہ نصراللہ کی یاد تازہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ فریقین مانیں،

    گزشتہ روز بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی تھی، جس میں پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کی تردید کر دی تھی۔

    گزشتہ روز پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایک کمیٹی اس لیے بنائی ہے تاکہ پارٹی کی غلطیوں کو درست کیا جا سکے اور اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانا چاہیے تاکہ اس معاملے کا صحیح سے جائزہ لیا جا سکے۔

    عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ جب مذاکرات ہوں گے تو یہ اوپر کی سطح پر ہوں گے اور ان مذاکرات میں عطا تارڑ کو شریک نہیں کیا جائے گا۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں مذاکرات کے لیے اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی اور حکومت کو اس کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی باتیں تیزی سے گردش کر رہی ہیں، اور دونوں طرف سے اس پر مختلف ردعمل آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، اس وقت تک مذاکرات کی صورت میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی اس معاملے پر کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔

    آئیے ہاتھ بڑھائیے

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

  • افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک منقسم پارٹی بن چکی ہے اور اس کے اندر کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کسی کا قبلہ ایک طرف ہے تو کسی کا قبلہ دوسری طرف ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنما ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہدایات لے رہے ہیں۔ "کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ پارلیمان میں آئیں اور یہاں آ کر سیاست کریں۔”شرمیلا فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما ملک دشمن بن جائیں گے اور مسلح افواج کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ "اگر آپ اپنی مسلح افواج کے خلاف ہوں گے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، کیونکہ ملکی دفاع اور افواج کا وقار ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔”

    شرمیلا فاروقی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاست کو پارلیمنٹ کے اندر کریں اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ پی ٹی آئی میں بے چینی اور انتشار کا ماحول ہے اور پارٹی کے داخلی اختلافات اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    امریکہ میں پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

  • طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    لاہور: طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کیس میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، سیشن کورٹ لاہور نے بالاج ٹیپو کے بھائی امیر فتح ٹیپو کی عبوری ضمانت خارج کر دی ہے۔

    سیشن کورٹ لاہور میں جاوید بٹ کے قتل کے کیس میں ملزمان قیصر بٹ اور امیر فتح ٹیپو کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی۔ اس سماعت کی قیادت ایڈیشنل سیشن جج سرفراز حسین کر رہے تھے، جنہوں نے ملزمان کے وکلا کی جانب سے پیش کی جانے والی دلائل اور درخواستوں کو سنا۔ملزم امیر فتح ٹیپو کے وکیل نے عدالت کے سامنے ایک درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ ان کا موکل بیمار ہے اور اس وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ امیر فتح کو ایک دن کی حاضری معافی دی جائے۔اس درخواست کے جواب میں، عدالت نے ملزم کی طرف سے پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ پر سوالات اٹھائے۔ ملزم کے وکیل کی جانب سے پیش کی جانے والی میڈیکل رپورٹ میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث عدالت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

    عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کی جانب سے حاضری معافی کی درخواست ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے امیر فتح ٹیپو کی عبوری ضمانت کو خارج کر دیا۔

    واضح رہے کہ لاہور تھانہ اچھرہ کی حدود میں طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کا مقدمہ مقتول کے بیٹے حمزہ بٹ کی مدعیت میں درج کر لیا گیا،مقدمہ میں امیر بالاج کے بھائی امیر فتح،قیصر بٹ سمیت دو نامعلوم ملزمان نامزد کئے گئے ہیں،درج مقدمے کے مطابق سائل کی والدہ کو علاج کے لئے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا،میری والدہ ہوش و حواس میں ہیں، نے سوا دو بجے کال کر کے مجھے سارے واقعہ کے بارے میں بتایا،سائل اپنے ملازم راحت کے ہمراہ موقع پر پہنچاسائل کی والدہ نے ملزمان کو دیکھا اور پہچان لیا،والدہ نے بتایا کہ امیر فتح اور قیصر بٹ دونامعلوم موٹر سائیکل سواروں کے پیچھے سوار تھے جنہوں نے گولیاں چلائیں،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے

    واضح رہے کہ لاہور کے علاقے مسلم ٹاؤن میں شوٹرز نے پراڈو جیپ پر فائرنگ کی تھی،شوٹرز کی فائرنگ سے معروف طیفی بٹ کا بہنوئی جاوید بٹ قتل، بیوی زخمی ہو گئی،واقعہ کے بعد شوٹرز فرار ہو گئے، مرنے والے کی شناخت جاوید کے نام سے ہوئی ہے،پولیس کے مطابق مرنے والا طیفی بٹ کا بہنوئی بتایا گیا ہے

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ٹیپو کا بیٹا امیر بالاچ قتل ہوا تھا ،بالاج کا مقدمہ طیفی بٹ کے خلاف درج ہوا تھا ،پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول محمد جاوید بٹ اقبال ٹاؤن کے رہائشی تھے، تحقیقات جاری ہیں،

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس، احسن شاہ کے گھر سے رقم برآمد،ایک اور مبینہ ملزم گرفتار

    امیر بالاج قتل کیس، شوٹر مظفر مالشیا نہیں بلکہ طیفی بٹ کا گن مین تھا

    امیر بالاج کو قتل کرنے والی ٹیم کے سرغنہ کی شناخت

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور موبائیل فوٹیج،ایک اور ملزم سامنے آ گیا

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور حملہ آور گرفتار،تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،اہم پیشرفت،ریکی کرنیوالا دوست گرفتار

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس: نامزد ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابطہ

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،حملہ آور کی لاش ورثا کے حوالے

    ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج قتل،طیفی بٹ مقدمے میں نامزد

  • امریکہ میں پاکستانی سفیر   کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

    امریکہ میں پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

    امریکہ میں پاکستان کے سفیر، رضوان سعید شیخ، نے حالیہ دنوں میں متعدد امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں کیں، جن میں پاک-امریکہ تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

    پاکستانی سفیر نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں بتایا کہ انہوں نے کانگریس کی خاتون رکن، سلِویا آر گارسیا، سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک-امریکہ دوطرفہ تعلقات، بالخصوص ریاست ٹیکساس کے ساتھ معاشی تعلقات کو بڑھانے پر گفتگو کی۔ اس موقع پر تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستانی سفیر نے امریکی کانگریس کی فنانشل سروسز کمیٹی کی رینکنگ ممبر، میکسین واٹرز سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران، انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ سفیر پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ میکسین واٹرز ہمیشہ پاکستان کی عظیم دوست رہی ہیں، اور ان کے ساتھ تعلقات کا فروغ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

    سفیر پاکستان نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ کانگریس مین جان ردرفورڈ کے ساتھ ایک خوشگوار اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں، دونوں رہنماؤں نے ریپبلکن انتظامیہ کے دوران پاک-امریکہ تعلقات پر بات چیت کی۔ سفیر نے کہا کہ رکن کانگریس کی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں گہری دلچسپی کو سراہا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی حمایت پاکستان کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔

    رضوان سعید شیخ نے کانگریس مین رینڈی ویبر کے ساتھ بھی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے درمیان اقتصادی تعلقات بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ رینڈی ویبر پاکستان کے دیرینہ دوست ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مزید بہتر روابط کے لئے اقتصادی تعامل کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں۔

    سفیر پاکستان نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کانگریس مین رابرٹ بی ایڈر ہولٹ سے ملاقات کی خوشی کا اظہار کیا۔ اس ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور پاکستانی سفیر نے رکن کانگریس ایڈر ہولٹ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

    پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کی یہ ملاقاتیں پاک-امریکہ تعلقات کے فروغ اور دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی ایک اہم کوشش ہیں۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین سیاسی و اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنے کے حوالے سے کئی اہم نکات پر بات چیت کی گئی۔