Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت کے مرکزی بینک کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    بھارت کے مرکزی بینک کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    بھارت کے مرکزی بینک کو روسی زبان میں بم سے اڑانے کی دھمکی موصول ہوئی ہے،

    دھمکی جمعرات کی شام ایک ای میل کے ذریعے آئی، جس میں مرکزی بینک کو بم سے اڑانے کی بات کی گئی۔ ممبئی پولیس اسٹیشن میں فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اس دھمکی کے بعد بھارتی حکام نے بینک کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے اور ای میل کا تجزیہ کر کے اس کے اصل محرکات تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب بھارت میں دھمکیوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے اور اسکولوں کو بھی اس نوعیت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

    بھارتی حکام نے 9 دسمبر کو 44 اسکولوں کو موصول ہونے والی گمنام دھمکی آمیز ای میلز کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس اور متعلقہ ادارے مسلسل اسکولوں کی تلاشی لے رہے ہیں اور دھمکیاں دینے والوں کو پکڑنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔

    دھمکیوں کی اس بڑھتی ہوئی لہر نے بھارتی حکام کو پریشان کر دیا ہے، کیونکہ یہ واقعات عام لوگوں کی حفاظت اور عوامی سکونت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی پولیس نے ان دھمکیوں کے پیچھے ممکنہ دہشت گرد گروپوں یا دیگر دشمن عناصر کا ہاتھ ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، ای میل کے ذریعے ملنے والی دھمکیوں کا سراغ لگانے کے لیے سائبر کرائم ماہرین کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔حالات کے پیش نظر بھارت کی سیکیورٹی فورسز اور پولیس حکام مسلسل دھمکیوں کے پیچھے چھپے افراد یا گروپوں کو تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاکہ عوامی مقامات اور اسکولوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    دھمکیوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے نے بھارت میں ایک نئی نوعیت کی بے چینی اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ عوامی سطح پر لوگوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ہیں، اور اسکولوں کے انتظامیہ اور والدین کے لیے یہ وقت بہت زیادہ تشویش کا باعث بن چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھمکیاں کسی بڑی دہشت گردی کی سازش کا حصہ ہو سکتی ہیں، تاہم وہ ابھی تک اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ ان دھمکیوں کے پیچھے کون ہے۔

    دہلی میں 40 سے زائد سکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    مودی کو بم سے اڑانے کی دھمکی،ادارے متحرک

    بندے لاؤ ورنہ گھر جاؤ، بشریٰ بی بی کی گنڈاپور کو دھمکی

    بم کی دھمکیوں کے بعد ایئر انڈیا کی پرواز سے ملی بارودی گولی

  • گھر میں یوپی ایس بیٹری پھٹنے سے پانچ بہنیں زخمی

    گھر میں یوپی ایس بیٹری پھٹنے سے پانچ بہنیں زخمی

    کراچی کے علاقے کیماڑی کچھی پاڑہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں یو پی ایس کی بیٹری پھٹنے سے پانچ بہنیں جھلس گئیں۔

    پولیس کے مطابق، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک گھر میں یو پی ایس کے نظام میں آتشزدگی کے بعد بیٹری دھماکے سے پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں پورا گھر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے ابتدائی طور پر یہ اندازہ لگایا کہ ممکنہ طور پر گیس کے سیلنڈر میں دھماکہ ہوا ہو، لیکن فائر بریگیڈ کے عملے نے آگ پر قابو پانے کے بعد جب گھر کا معائنہ کیا تو سیلنڈر پھٹنے کا کوئی نشان نہیں ملا۔ پولیس کے مطابق آگ کی اصل وجہ یو پی ایس کی بیٹری کا پھٹنا تھا، جس کی وجہ سے پانچ بچیاں زخمی ہو گئیں۔زخمی ہونے والی پانچ بچیوں کی عمریں 3 سال سے 11 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ زخمی بچیوں کی شناخت اس طرح ہوئی: عشاء (3 سال)، علیشا (5 سال)، مناہل (7 سال)، تعبیر (9 سال) اور عائزہ (11 سال)۔ یہ بچیاں شدید جھلس گئی ہیں اور انہیں فوری طور پر سول اسپتال کے برن وارڈ میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق، بچیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ بہتر ہو رہی ہیں۔

    پولیس نے مزید کہا کہ یہ حادثہ ایک تکنیکی خرابی یا غلط استعمال کی وجہ سے پیش آیا ہو سکتا ہے، اور اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔ فائر بریگیڈ کے عملے اور پولیس نے متاثرہ علاقے کا تفصیلی معائنہ کیا اور اس واقعہ کے بعد رہائشیوں کو یو پی ایس کی بیٹری اور دیگر برقی آلات کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

  • عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اے ویزا منظور نہ کروا سکی جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نےسیکرٹری وزارت خارجہ کو فوزیہ صدیقی کو بی ویزا فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عافیہ صدیقی کے امریکہ میں وکیل مسٹر سمتھ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق پاکستان سے امریکہ بھیجا گیا وفد 8 روز کے لیے تھا جو پانچ روز تاخیر سے پہنچا ، پاکستانی وفد کا وقت آج ختم ہوگیا وفد کی واپسی کا وقت آگیا ہے ،ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں امریکہ بھیجا گیا وفد ناکام ثابت ہوا حکومت کی جانب سے معاملے میں وقت ضائع کیا گیا وفد امریکہ میں اہم میٹنگز میں بھی دیر سے پہنچا ۔ فوزیہ صدیقی کا ویزا بھی امریکی ایمبیسی نے منظور نہ کیا ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں حکومت اور وزارت خارجہ کی سستی پر عدالت برہم ہو گئی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ یہاں ہیں،وفد نے کتنے دن وہاں رکنا،مسٹر سمتھ وہاں اکیلے ہیں، سفیر نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کی طرف سے سستی ہے اور وقت پر معاملات درست نہیں،وزارت خارجہ پیرا وائز کمنٹس جمع کرائے اور مکمل رپورٹ دے،کیوں ایسا ہوا اور سفارتخانے نے کیا کیا،

    دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے بعد سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا کہ میری تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے، ڈاکٹر عافیہ بچوں، والدہ، بہن کو یاد کر رہی تھیں ، انکا کہنا تھا کہ عافیہ نے کہا کہ مجھے رہا کروا جائے، سینیٹر طلحہ کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں، لوکل کمیونٹی کو بھی ساتھ ملایا ہےتا کہ کیس میں مدد کریں، ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جانے والا صدر بہت سے لوگوں کو رہا کر دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی درخواست بھی امریکی صدر کی ٹیبل پر آئے،

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    سندھ اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل نے شام میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بنانے کے لیے حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    اسرائیل کی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے کمزور ہونے اور شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے لیے اسرائیلی فضائیہ اپنی تیاریوں میں تیزی لا رہی ہے ،اسرائیلی اخبار کے مطابق، اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اسرائیل مزید اقدامات کرے گا۔ فوجی حکام نے کہا کہ اسرائیل ایران کے جوہری منصوبے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ایران کو ایک جوہری بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھا رہا ہے اور اسے روکنے کے لیے اسرائیل کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ نے شام میں فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے شام میں مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، جن میں شام کے فضائی دفاعی نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ایران کے حامیوں، خاص طور پر لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ ایران ایک جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ایران کو اس پروگرام میں کامیابی حاصل ہوئی تو اس سے پورے خطے کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ایران کی جوہری صلاحیت کو روکنا اسرائیل کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اسرائیل نے بارہا یہ کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں ناکام رہی تو اسرائیل کو خود ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوٹریش نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حملوں کو فوراً روک دے اور شام سے باہر نکل جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور بے قابو بنا سکتی ہیں اور اس کے انسانی بحران کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔دوسری جانب، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اسرائیل کے دفاعی اقدامات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے جو اقدامات درکار ہوں، وہ اٹھانے کا حق ہے، اور امریکہ اسرائیل کے اس حق کی حمایت کرتا ہے۔

    اسرائیل کی ممکنہ حملے کی شدت کا انحصار ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت اور اسرائیل کی عسکری حکمت عملی پر ہوگا۔ اسرائیل نے پہلے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے ہیں، اور حالیہ دنوں میں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی فضائیہ کے مطابق، اس بار ایران کے جوہری تنصیبات پر براہ راست حملے کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ برسوں میں کئی بار بڑھ چکی ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا عندیہ دیتا رہتا ہے۔ ایران بھی اسرائیل کے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دے چکا ہے اور بارہا اسرائیل کو دھمکی دے چکا ہے کہ وہ اس کی جوہری صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب دے گا۔

    اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، تو اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری میں اس حملے پر شدید ردعمل آ سکتا ہے، اور اس سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود سیاسی اور فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے اس صورتحال میں مداخلت کر سکتے ہیں تاکہ تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

  • چولستان کینال منصوبہ  چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کینال منصوبہ چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کے دل میں ایک خواب بسا ہوا ہے، ایک ایسا عہد جو اس خشک صحراء میں زندگی کی نئی لہر دوڑانے کا ہے۔ لیکن چولستان کینال منصوبہ، جو تبدیلی کی ایک بڑی امید بن کر ابھرا ہے، اب ایک تنازعہ کا شکار ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس منصوبے سے کم دریا کے علاقے (لوئر ریپیئرین) کے پانی کی فراہمی متاثر ہو گی؟ لیکن کیا اس خواب کو شک و شبہات کی نظر ہو کر روکا جا سکتا ہے؟

    چولستان کینال منصوبہ دریائے ستلج سے پانی موڑ کر چولستان کے 452,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا۔ اس منصوبے کا تخمینہ لاگت 211 ارب روپے ہے اور یہ چولستان کی مزید ترقی کے لیے ایک عظیم تر منصوبے "گریٹر چولستان اسکیم” کا سنگ بنیاد بھی ہے، جس کے تحت اگلے مرحلے میں تقریباً دوگنا رقبہ سیراب کیا جائے گا۔پاکستان کا 1991 کا واٹر اپورٹمنٹ ایکورڈ صوبوں کو اپنی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدت اختیار کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، ہر سال ہمارے دریاؤں میں اوسطاً 141 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی بہتا ہے، لیکن اس میں سے 26 ملین ایکڑ فٹ (MAF) — جو کہ چار دیمیر بھاشا ڈیموں کو بھرنے کے لیے کافی ہے، ہر سال سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، جو ساحلی علاقوں کو نمکین پانی کے داخلے سے بچانے کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔

    چولستان کینال منصوبہ سندھ اور پنجاب میں سرپلس پانی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے بجائے زیر استعمال پانی کو زمین کی پیداوار بڑھانے کے لیے موڑ کر چولستان کی سرزمین کو زرخیز بنانے کی کوشش کرے گا۔ سیلابی موسم میں سندھ کو 45% اور پنجاب کو 12% اضافی پانی ملتا ہے۔ یہ صورتحال سندھ میں پانی کے ضیاع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ سندھ میں ہر سال 18 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔

    پنجاب کے پاس 47 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی ہے، جو 8 ملین ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے، جبکہ سندھ میں 40 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی 3.21 ملین ایکڑ اراضی تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ چولستان کینال، جو صرف 0.59 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی پنجاب کے حصے سے لے گا، اس توازن کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ کم استعمال ہونے والے پانی کو پیداواری اراضی میں تبدیل کرے گا۔

    گرین پاکستان انیشیٹیو چولستان کینال منصوبے کا تکمیل کار ہے، جو بنجر زمینوں کو زرخیز کھیتوں میں تبدیل کرنے، غذائی تحفظ کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون پر مبنی زراعت کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے۔ زمین کے متنوع ماڈلز اور کسانوں کے لیے تخصیص شدہ ایگری مالز کی فراہمی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسانوں کو درکار وسائل اور مدد مل سکے۔

    چولستان کینال اور گرین پاکستان انیشیٹیو کا مجموعہ ایک خوبصورت اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی تخلیق کرے گا، جو خشک صحراء کو سرسبز و شاداب زمینوں میں تبدیل کر کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا وعدہ کرتا ہے۔چولستان کینال منصوبہ نہ صرف چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا بلکہ پورے پاکستان کے زرعی منظرنامے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی بہتر تقسیم، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ماحولیات کی بہتری کے لیے ایک روشن مثال بنے گا، جو ایک خوشحال اور پائیدار پاکستان کی طرف ایک قدم اور بڑھائے گا۔

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    صحرائے چولستان میں انڈس تہذیب کا قدیم شہر دریافت

    آرمی چیف کی ہدایت پرچولستان میں امدادی کیمپ قائم

    وطن پرجان قربان کرنےوالوں کواہل وطن کی جانیں عزیز: چولستان میں فری میڈیکل کیمپ ، خدمت انسانیت جاری

  • پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی

    حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی 66 فیصد آبادی غربت اور مالی مشکلات کے سبب وٹامنز، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ عالمی ادارہ برائے خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی اس رپورٹ میں ملک بھر کے مختلف صوبوں میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں غذائی تحفظ اور غذائیت کے مسائل کو اجاگر کیا جائے اور سماجی تحفظ کے پروگرامز جیسے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی میں درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جائے۔ اس رپورٹ نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ کیسے یہ پروگرام غذائیت کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی اوسطاً 66 فیصد آبادی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے والی خوراک کی خریداری کے لئے مالی طور پر مستحکم نہیں ہے۔ صوبہ بلوچستان میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں دیہی علاقوں میں 84 فیصد اور شہری علاقوں میں 78 فیصد افراد غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اسی طرح، سندھ کے دیہی علاقوں میں 76 فیصد، شہری علاقوں میں 60 فیصد، پنجاب کے دیہی علاقوں میں 68 فیصد، شہری علاقوں میں 63 فیصد، اور خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں 59 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 67 فیصد افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انسانی جسم کی بنیادی ضروریات پوری کرنے والی اور بھرپور غذائیت والی خوراک کے یومیہ اخراجات فی کس 18 سے 32 روپے ہیں۔ اگرچہ قومی سطح پر 5 فیصد افراد ہی اس سطح کے اخراجات کرنے سے قاصر ہیں، تاہم غذائیت سے بھرپور خوراک کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں، جو کہ 67 سے 78 روپے فی کس روزانہ تک پہنچ جاتی ہیں۔ایک خاندان جس میں 6 افراد شامل ہوں، کم از کم 14 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرنے کے قابل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اس کے علاوہ، اگر خاندان میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، یا بڑھتے ہوئے بچے شامل ہوں، تو ان کی غذائیت کی ضروریات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے اقدامات کو خواتین اور بچوں میں غذائیت کی کمی کو دور کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے انہیں خوراک کی بہتر خریداری کی سہولت مل سکتی ہے۔یہ رپورٹ پاکستان میں غذائیت کی کمی کے سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے پروگرامز کو مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ ملک کی بڑی تعداد کو ضروری غذائی اجزاء کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور عالمی ادارے مشترکہ طور پر اقدامات کریں تو غربت اور غذائیت کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور پاکستان میں صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر مقدمات کی سماعت موخر

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت ہوئی

    آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر تمام مقدمات کی سماعت موخر کر دی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آج صرف فوجی عدالتوں والا مقدمہ ہی سنا جائے گا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں،کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے ہر شخص کو اس کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلے بتائیں عدالتی فیصلے میں دفعات کالعدم کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کوبھی مدنظر رکھیں کہ آرمی ایکٹ 1973کے آئین سے پہلے بنا تھا، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خرابیاں ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں میرے الفاظ قانونی نوعیت کے نہیں تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں،فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کورکمانڈر ہائوس کا ہی ہے،اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں،تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائوں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کا کیا ہوگا؟نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا کہ عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی،

    سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کو فیصلے سنانے کی اجازت دے دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی، آئینی بینچ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے۔جن ملزمان کو سزائوں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے،

    فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی آئینی بنچ نے 26 ویں ترمیم کا کیس جنوری کے دوسرے ہفتے میں سننے کا عندیہ دے دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے فوجی عدالتوں کا کیس ختم ہوا تو 26 ویں ترمیم کا کیس دوسرے ہفتے سنیں گے،

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

  • شہداء  کے لواحقین کی  بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    پاکستانی فوج کے سربراہ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، کی خصوصی ہدایت پر شہداء اور ان کے لواحقین کی بہبود کے لیے "مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہداء کے ورثاء کے ساتھ فوری اور براہ راست رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ ان کی فلاح و بہبود کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔

    گریف کونسلنگ سیل میں خصوصی مددگار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو پاکستان فوج کے افسران اور ماہرین نفسیات پر مشتمل ہیں۔ یہ ٹیمیں شہادت کے بعد شہید کے خاندان کے افراد سے تعزیت کے لیے ان کے آبائی علاقے میں جاتی ہیں۔ اس دوران ماہر نفسیات شہید کے لواحقین سے تفصیلی ملاقات کرتے ہوئے ان کے ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کی تشخیص کرتے ہیں۔گریف کونسلنگ سیل کی ٹیم شہداء کے ورثاء کی معاشی، سماجی، رہائشی اور تعلیمی ضروریات کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتی ہے اور ان کے حل کے لیے اقدامات تجویز کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، شہداء کے ورثاء کو ان کی مراعات اور سہولیات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ ان کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہداء کے خاندان کو مراعات اور سہولیات کے حصول میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

    آرمی چیف کی جانب سے شہداء کی قبروں پر پھولوں کے گلدستے رکھے جاتے ہیں اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مددگار ٹیم میں شامل ماہر نفسیات، شہداء کے غمزدہ خاندانوں میں موجود ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے علاج میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طریقے سے نہ صرف شہداء کے ورثاء کی فلاح کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے نئی امید اور حوصلہ بھی دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ شہید کی زندگی کا کوئی مداوا نہیں، تاہم گریف کونسلنگ سیل کی مددگار ٹیمیں شہداء کے لواحقین کے لیے زندگی گزارنے میں نئی امید پیدا کرتی ہیں۔ یہ اقدام ایک عملی مظاہرہ ہے کہ شہداء کے ورثاء کی فلاح و بہبود کے لیے فوج اپنے فرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر رہی ہے۔ شہداء نہ صرف قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں بلکہ ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام شہداء کے لواحقین کی مدد کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ پاکستانی فوج کی شہداء کے خاندانوں کے لیے ایک اور عظیم پیشکش ہے۔

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

  • پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی زرعی آلات کی تیاری اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ اس معاہدے پر پنجاب حکومت اور چین کی معروف کمپنی "اے آئی فورس ٹیک” کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے ہیں۔

    ایس آئی ایف سی کے تعاون سے اس معاہدے کا مقصد پاکستان کی زرعی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانا ہے۔ پاکستان چین کی زرعی مہارت سے فائدہ اٹھا کر اپنے زرعی شعبے میں پیداوار میں اضافہ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے چین کی "اے آئی فورس ٹیک” کمپنی کے ساتھ کئے جانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹک ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی زرعی ترقی کو ایک نیا رخ دینا ہے اور اقتصادی ترقی کے عمل میں انقلاب لانا ہے۔پنجاب حکومت کا یہ عزم ہے کہ زرعی ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں کو متعارف کرا کے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جائے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا، بلکہ کسانوں کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس معاہدے کے موقع پر زرعی شعبے میں جدید کاری کے لیے ایک اور اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا اور زرعی شعبے کے 1,000 ماہرین کو چین بھیجا جائے گا تاکہ وہ وہاں زرعی ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کی تعلیم حاصل کریں۔

    چین کے شہر ژیآن میں زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمی معیار کی سہولتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کو وہاں کی جدید زرعی ترقی سے استفادہ حاصل ہو سکے۔ یہ تعاون پاکستان کو عالمی سطح پر زرعی ٹیکنالوجی کے بہترین طریقوں سے آشنا کرے گا اور پاکستان کے کسانوں کو جدید آلات اور طریقوں کا استعمال سکھایا جائے گا۔

    اس معاہدے میں ایس آئی ایف سی کی اہمیت بھی نمایاں ہے کیونکہ اس کے تعاون سے پاکستان اور چین کی زرعی شراکت داری میں ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ ایس آئی ایف سی کی مدد سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن ہو گا، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب آ سکتا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان اس معاہدے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

  • وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس  کی پیشکش

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے دورہ چین کا چوتھا روز.وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شنگھائی کے ڈسٹرکٹ لونگ گانگ میں ہواوے ٹیکنالوجیز آمد ہوئی ہے،

    ہواوے ٹیکنالوجیز میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کا پرتپاک استقبال کیا گیا.ہواوے کے تعاون سے لاہور کو پاکستان کا پہلا جدید ترین سمارٹ سٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ہواوے کو پاکستان بالخصوص پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت دی،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس قائم کرنے پر تعاون کی پیشکش کی،مریم نواز نے ہواوے کو پنجاب میں اسمبلینگ اور مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے پر تعاون کی یقین دہانی کروائی، مریم نواز نے ہواوے کو پنجاب ریٹیل آفس اور آفٹر سیل سروس سنٹر قائم کرنے کی بھی پیشکش کی،

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے گورنمنٹ افیئرز کے صد وانگ چینگ ڈونگ سے ملاقات ہوئی،لاہور کو ماڈرن ڈیجیٹل سٹی بنانے کیلئے مختلف تجاویز اور سفارشات پر گفتگو، لاہور آنے کی دعوت دی گئی، ملاقات کے دوران ای کامرس، ایکو سسٹم پروڈکشن، ہیلتھ اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن پر تبادلہ خیال کیا گیا،ہواوے کے صدرمسٹر وانگ چینگ ڈونگ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز اور وفد کو تفصیلی بریفنگ دی گئی،ہواوے کے پاکستان میں بالخصوص پنجاب میں جاری پراجیکٹس سے آگاہ کیا.وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ہواوے کے ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر میں پراجیکٹس سے متعلق آگاہ کیا.وزیر اعلیٰ مریم نواز نےہواوے کے ہیلتھ اور ایجوکیشن پراجیکٹس میں اظہاردلچسپی کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے مختلف شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ڈیجیٹل پنجاب کے ویژن کو ہواوے کے اشتراک کار سے عملی شکل دیں گے.ٹیلی کمیونیکیشن ،ڈیجیٹائزیشن کے امور میں ہواوے کی مہارت سے استفادہ چاہتے ہیں.پنجاب کی پہلی مکمل اے آئی یونیورسٹی میں ہواوے کی پروفیشنل سکل سے استفادہ کرینگے.ہواوے نوازشریف آئی ٹی سٹی میں کیپسٹی بلڈنگ ، آئی ٹی ریسرچ میں معاونت کرے.پنجاب کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی جدت سے متعارف کرانا چاہتے ہیں.ہواوے ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ میں پنجاب کی معاونت کرے.لاہور میں پہلا سیف سٹی پراجیکٹ ہواوے کے اشتراک سے قائم ہوا،

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    کراچی: گھر کے اندر جعلی شراب بنانے کا کارخانہ پکڑا گیا