Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عدالت کا کتا مار مہم فوری روکنے کا حکم

    عدالت کا کتا مار مہم فوری روکنے کا حکم

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پنجاب بھر میں جاری کتا مار مہم کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 دسمبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔

    یہ حکم جسٹس جواد حسن کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے جاری کیا۔ عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ پنجاب حکومت کو کتے مارنے کی مہم فوری طور پر روکنی ہوگی۔کتوں کو مارنے کے خلاف درخواست اینیمل پروٹیکشن ایکٹیوسٹ انیلہ عمیر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ کتوں کو گولی مارنا یا زہر دینا نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ یہ قانون کے بھی خلاف ہے۔ انیلہ عمیر نے عدالت میں استدعا کی کہ ریاستی ادارے جانوروں کے تحفظ کے لیے ایک جامع قومی پالیسی تیار کریں تاکہ اس قسم کی غیر انسانی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ کتے مارنے کی مہم شہریوں کی شکایات کے بعد شروع کی گئی تھی، جنہوں نے سڑکوں پر بھٹکنے والے کتوں کے باعث خطرات محسوس کیے تھے۔عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل پر غور کرنے کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کیے اور کتا مار مہم کو فی الحال روکنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فریقین کو 24 دسمبر تک جواب دینے کی مہلت دی ہے، جس کے بعد اس کیس کی مزید سماعت کی جائے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر بلوچستان کی ملاقات

    علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے گورنر بلوچستان  کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر بلوچستان کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں بلوچستان کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات کے دوران کہا کہ "بلوچستان کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں تاکہ وہ ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔” وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مستقبل روشن ہے اور صوبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں خصوصی دلچسپی لینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کوششوں سے بلوچستان میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، جس سے صوبے کے عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔

    آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "وزیراعظم کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے توانائی کے مسائل کے حل کے لیے 23 ارب روپے کا پیکج فراہم کرنا ایک بڑا اقدام ہے، جس سے آزاد کشمیر کے عوام کو نمایاں ریلیف ملے گا۔”اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ غلام قادر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کی کوششوں کا مقصد آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے، اور ہم اس میں آپ کا مکمل ساتھ دیں گے تاکہ وہاں کے عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے۔” ملاقات کے دوران بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور دونوں صوبوں کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

    علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    فیصل واوڈا،بیرسٹر گوہر کی "مسکراتے ” ہوئے ملاقات

    کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

  • علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    وفاقی وزیر برائے نجکاری، عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پرائیویٹائزیشن کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اداروں کی نجکاری کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس میں نجکاری کے عمل کو مزید تیز کرنے اور اس کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد نجکاری کے عمل کو شفافیت کے ساتھ اور جلد از جلد مکمل کرنا ہے تاکہ عوامی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے پرائیویٹائزیشن کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ "نجکاری کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام فیصلے مکمل شفافیت اور معیار کے مطابق ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ عزم ہے کہ تمام پرائیویٹائزیشن منصوبوں میں مالیاتی شفافیت کو اہمیت دی جائے اور ان منصوبوں میں بہترین عالمی معیار کی پیروی کی جائے۔

    اجلاس میں مختلف اداروں کی نجکاری کے حوالے سے فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس عمل کی تیز رفتار تکمیل کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی جلد تقرری کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت عوامی مفاد میں نجکاری کے عمل کو ترجیح دے گی، اور اس کے نتیجے میں عوامی اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جنہوں نے نجکاری کے عمل کو بہتر بنانے اور شفافیت کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر عبدالعلیم خان نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی، اور اس کا مقصد صرف اور صرف معیشت کی ترقی اور عوامی اداروں کی بہتری ہے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس عمل کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نجکاری کے تمام منصوبے شفاف، مؤثر اور جلد از جلد مکمل ہوں۔

    فیصل واوڈا،بیرسٹر گوہر کی "مسکراتے ” ہوئے ملاقات

    کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

  • فیصل واوڈا،بیرسٹر گوہر کی "مسکراتے ” ہوئے ملاقات

    فیصل واوڈا،بیرسٹر گوہر کی "مسکراتے ” ہوئے ملاقات

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیٹر فیصل واوڈا کا پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک غیر متوقع آمنا سامنا ہوگیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایک مختصر مگر اہم ملاقات کی صورت میں ہوئی، جس میں دونوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیرسٹر گوہر علی خان اور فیصل واوڈا پارلیمنٹ ہاؤس میں آمنے سامنے آ گئے، اس دوران دونوں نے مصافحہ ملایا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے، صحافی بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھے، ملاقات کے دوران صحافیوں نے سینیٹر فیصل واوڈا سے سوال کیا، "ابھی آپ کے بارے میں سوال ہوا ہے، اس پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟”فیصل واوڈا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "میرے اور میرے بھائی کو مشکل میں نہ ڈالا کریں۔” اسی دوران فیصل واوڈا نے بیرسٹر گوہر علی خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ اچھے انسان ہیں۔”

    یہ ملاقات پی ٹی آئی کے اندر مختلف قیادتوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر ایک مثبت تاثر قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا مظاہرہ کیا اور سیاسی معاملات پر مفاہمت کے پیغامات دیے۔

    کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

    تحریک انتشار گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ،ثبوت کہاں ہیں،عطا تارڑ

  • کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    افغان دارالحکومت کابل میں وزارت مہاجرین کی عمارت میں ایک زوردار دھماکے کے نتیجے میں افغان وزیر برائے مہاجرین اور حقانی نیٹ ورک کے سینئر رہنما خلیل الرحمان حقانی جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبد المتین قانع نے دھماکے کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ اس دھماکے میں خلیل الرحمان حقانی سمیت کئی افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ کابل کے علاقے میں وزارت مہاجرین کی عمارت کے اندر ہوا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور اس کے پیچھے موجود عوامل کے بارے میں تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔

    خلیل الرحمان حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے ایک اہم رہنما تھے، افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد 2021 میں وزیر برائے مہاجرین بنے تھے۔ وہ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چچا اور حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بھائی تھے۔ جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی نے بھی اپنے چچا خلیل الرحمان حقانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔دھماکے کے بعد افغان حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کے پیچھے کون سا گروہ یا فرد ملوث ہے۔ افغان طالبان کے حکومتی ادارے اور سیکیورٹی فورسز اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مزید تفصیلات کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

    خیال رہے کہ خلیل الرحمان حقانی افغان طالبان کے ایک اہم رہنما تھے اور ان کا شمار حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ ارکان میں ہوتا تھا۔ ان کی ہلاکت افغان طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے، کیونکہ وہ نہ صرف حکومت میں اہم وزیر تھے بلکہ ان کا تعلق حقانی نیٹ ورک کی قیادت سے بھی تھا، جو افغانستان میں طویل عرصے سے سرگرم رہا ہے۔یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال حساس ہے اور عالمی برادری کی طرف سے طالبان حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس دھماکے کے اثرات افغان حکومت اور طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، فیض حمید پر فردجرم عائد ہوئی، کون کون کٹہرے میں آئے، نواز شریف کو بم سے اڑانے کی سازش،سول نافرمانی کی کال،کیا ہے عمران خان کی اگلی چال،کال کوٹھڑی یا پھانسی کا پھندہ،ڈو اور ڈائی کا وقت آ چکا ہے،

    مبشر لقمان آفیشل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس شدت سے پی ٹی آئی ٹرمپ کا صدارتی منصب سنبھالنے کا انتظار کر رہی تھی، اسی طرح پاکستان میں اسی شدت سے فیض حمید کے کورٹ مارشل بارے بڑی خبر کا انتظار کر رہے تھے، جنرل عاصم منیر کی تعیناتی سے لے کر اب تک پی ٹی آئی ہر میچ ہارتی آئی ہے، یہ میچ بھی پی ٹی آئی ہار گئی، آرمی چیف نے خود احتسابی کا وعدہ پورا کیا،طاقتور ترین جنرل فیض حمید پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، دو الزامات ہیں، کرپشن والے معاملے کی بات ثابت شدہ ہے، ٹاپ سٹی ہاؤسنگ کے مالک کا بیان ریکارڈ پر ہے،جنرل فیض حمید کو کلین چٹ ثاقب نثار نے دی تھی، ریاستی مفادات کو ٹھیس پہنچانے، سیاسی مقاصد کے لئے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات معمولی نہیں، کورٹ مارشل میں تب تک فرد جرم عائد نہیں ہوتی جب تک ناقابل تردید شواہد حاصل نہ کر لئے جائیں، اب صرف ضابطے کی کاروائی کی جائے گی اور پھر سزا سنائی جائے گی،کرپشن پر تو قید کی سزا کافی ہے، ریاست کے خلاف بغاوت کی سزاپھانسی ہے، حالات بتا رہے ہیں کہ فیض حمید کو پھانسی اور عمر قید کی سزائیں اکٹھی سنائی جائیں گی،مشکل یہ ہے کہ پھانسی کا پھندہ ایک،گردنیں دو، بچے گا کون،فیض حمید یا عمران خان

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس دن فیض حمید کو تحویل میں لیے جانے کی خبر آئی تھی اسی دن انتشاری ٹولے اور عمران خان نے کہہ دیا تھا کہ فیض حمید جانے اور فوج جانے،ہمارا فیض حمید سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، فیض حمید پر عمران خان نے کوئی یوٹرن نہیں لیا، جو مؤقف اپنایا تھا آج بھی وہی دوہرا رہے ہیں، فیض حمید کیخلاف کاروائی آگے بڑھے گی تو عمران خان کے لئے اس موقف پر کھڑا رہنا مشکل ہو جائے گا،عمران خان کا سارا نیٹ ورک ابتدائی تحقیقات کے دوران ہی بے نقاب ہو گیا تھا، فیض حمید جن شخصیات کے ذریعے انتشاری ٹولے سے رابطے میں تھے وہ رابطہ کار بھی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں، فیض حمید نے اپنی گردن بچانی ہے تو کسی اور کی گردن پیش کرنی ہو گی،نو مئی کے بعد مراد سعید کی ویڈیو ریکارڈ پر ہیں جس میں وہ اکسا رہا ہے کہ جگہیں دکھا دی ہیں جائیں حملے کریں، یہی کام 26 نومبر کو کیا گیا، نومئی کو مراد سعید اور 26نومبر کو یہ ذمہ داری پنکی پیرنی کو سونپی گئی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید نے وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں، فوج بھی ایک وکیل دے گی، عمران خان کو زعم ہے کہ وہ شکست تسلیم نہیں کرتا،لیکن اب عمران خان ہار گیا، اس کا غرور خاک میں مل گیا، سائفر لہرایا منہ کی کھائی، آزادی کے جھوٹے خواب کی تعبیر پورے قوم نے بھگتی، نومئی کو فوج میں بغاوت برپا کرنے کی مذموم کوشش کی ناکامی سے دوچار ہوا، جلسوں سے ملک کو انتشار میں دھکیلنے کی کوشش کی، ناکام ہوا، فائنل کال کی کال دی تو پنکی سمیت سب دم دبا کر بھاگ گئے،یہ فتنہ پہلے بھی ناکام ہوا تھا پھر بھی ناکام ہو گا، فیض حمید اسے نومئی کا ماسٹر مائنڈ ثابت کر ے گا،پھندا ایک ہے گردنیں دو ہیں، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے گھر جاتی امرا کے باہر کسی نے مشتبہ ڈیوائس پھینکی، وہ شخص پکڑا گیا، اس بم نما ڈیوائس سے باردو نہیں ملا لیکن معاملہ کچھ بھی ہو سکتا ہے، فسادی ٹولہ کچھ بھی کر سکتا ہے، انہی کی دھمکیوں کی وجہ سے اے این پی کو انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں ملا، مولانا فضل الرحمان گھر تک محدود ہو گئے تھے، نواز شریف کے گھر کے باہر سے ڈیوائس کا ملنا پیغام،دھمکی ہو سکتی ہے، اسکو سنجیدہ لیا جائے، ورنہ ذرا سی غفلت کسی سانحے سے دوچار نہ کر دے

    فیض حمید کیخلاف ٹرائل سبوتاژ کرنے کیلیے سول نافرمانی کی کال دی گئی،طلال چودھری

    فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ جاری ہونا اہم پیشرفت ہے۔مصطفیٰ کمال

    فیض حمید کیخلاف چارج شیٹ،عمران کا بچنا ممکن نہیں، فیصل واوڈا

    فیض حمیدکیخلاف چارج شیٹ،اصل مجرم عمران اور پی ٹی آئی قیادت

    فیض حمید کو چارج شیٹ کر دیا گیا 9 مئی کے الزامات بھی شامل

  • تحریک انتشار گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ،ثبوت کہاں ہیں،عطا تارڑ

    تحریک انتشار گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ،ثبوت کہاں ہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نےبیرسٹر گوہر کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ 9 مئی کو دھول اڑانے والے آج دھول بٹھانے کی باتیں کر رہے ہیں،

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انتشار گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ہے، گولی چلی ہے تو ثبوت سامنے کیوں نہیں لاتے؟ دوڑ کیوں لگائی؟ ،موقع سے بھاگنے والے بہانے بنا رہے ہیں، غلیلوں، بنٹوں، پتھروں، سٹن گنز اور آتشیں اسلحہ سے لیس شرپسندوں نے 26 نومبر کو وفاق پر چڑھائی کی،پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو شہید اور زخمی کیا، اس نقصان کا مداوا کون کرے گا؟شہید جوانوں کا خون کس کے ہاتھوں پر تلاش کریں، تحریک انصاف کے پاس گولی چلنے کا کوئی ایک ثبوت ہے تو سامنے لائے، پرتشدد سیاست اور پرتشدد احتجاج پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے،اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں، الزامات لگا کر ان سے منہ مت پھیریں، سانحہ 9 مئی کے تمام ثبوت موجود ہیں، تحریک انصاف کی پوری قیادت سانحہ 9 مئی میں ملوث ہے،

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

  • آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    جرمنی میں شامی پناہ گزینوں کی خوشیاں اس وقت زائل ہو گئیں جب اتوار کو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے گرنے پر شامی پناہ گزینوں کے جشن کے بعد جرمن سیاستدانوں نے انہیں واپس اپنے وطن بھیجنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔

    اتوار کے دن، جب جرمنی کے مختلف شہروں میں شامی پناہ گزین جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، تو جرمنی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کی رہنما ایلس ویڈل نے اعلان کیا کہ جو لوگ "آزاد شام” کا جشن مناتے ہیں، انہیں اب یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا، "ایسے افراد کو فوراً شام واپس جانا چاہیے۔”

    دوسری جانب، جرمن وزیر اور قدامت پسند سیاستدان ینس اسپان نے کہا کہ جو شامی واپس جانا چاہتے ہیں، انہیں جرمنی خصوصی پرواز فراہم کرے گا اور 1,000 یوروز (تقریباً 824 برطانوی پاؤنڈ) کا ابتدائی فنڈ بھی دیا جائے گا۔یہ خیالات صرف دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے نہیں بلکہ بائیں بازو کی سیاستدانوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی تعداد اور ان کے جرمنی میں قیام کی قانونی حیثیت
    2015 میں، جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے شامی جنگ سے متاثر افراد کے لیے جرمنی کے دروازے کھول دیے تھے، جس کی وجہ سے ملک میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مرکل کے اس فیصلے کو اس وقت سراہا گیا تھا، لیکن آج یہ پناہ گزینوں کے مستقبل کے حوالے سے تنازعے کا باعث بن چکا ہے۔ جرمنی میں اس وقت تقریباً 975,000 شامی پناہ گزین موجود ہیں، جو یورپ میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔

    اتوار کو شام میں ایک نیا موڑ آیا جب اسلام پسند گروپ "حیات تحریر الشام” نے دمشق پر قبضہ کر لیا، اور اس کے اگلے ہی دن شامی صدر بشار الاسد روس کی جانب فرار ہو گئے۔ اس تبدیلی کے بعد جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کی پناہ گزینی کی درخواستوں پر فیصلہ روک دیا، اور اس صورتحال کے واضح ہونے تک ان کی درخواستوں پر مزید فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔جرمنی کے وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ یہ فیصلہ صحیح ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اتار چڑھاؤ کی حالت میں شامی پناہ گزینوں کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائی کرنا "غیر سنجیدہ” ہوگا۔

    شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجویزوں نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ انیس مدامانی، جو 2015 میں جرمنی آئے تھے اور اب برلن میں مقیم ہیں، نے کہا، "میں اس خیال کو انتہائی برا سمجھتا ہوں۔ شام میں ابھی بھی حالات اتنے خطرناک ہیں جتنے پہلے تھے۔ برلن اب میرا دوسرا گھر بن چکا ہے، اور میں یہاں رہنا چاہوں گا۔”شامی پناہ گزینوں کی واپسی یا ان کے قیام کا معاملہ اب جرمنی میں ایک سنگین سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس پر مختلف جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے، اور ملک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر یہ مسئلہ ایک بڑا انتخابی موضوع بن سکتا ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی جرمنی میں موجودگی اور ان کے مستقبل کے بارے میں مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات آ رہے ہیں۔ جرمنی کے کئی سیاستدان، خواہ وہ دائیں بازو سے ہوں یا بائیں بازو سے، یہ سمجھتے ہیں کہ اب شام میں حالات بدل چکے ہیں، اور شامی پناہ گزینوں کا جرمنی میں قیام غیر قانونی ہے۔ لیکن شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجاویز کو قبول کرنا آسان نہیں ہے، اور یہ معاملہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    پاکستان کی معروف سیاستدان اور پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کوالالمپور میں "اسٹرٹیجک ویژن گروپ رشیا اسلامک ورلڈ کے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا،

    اجلاس میں اس موقع پر ملائشیا کے وزیرِ اعظم ، تاتارستان کے صدر اور دیگر اہم عالمی شخصیات بھی موجود تھیں۔سحرکامران نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ "یہ وقت ہے کہ ہم عالمی سطح پر روس اور اسلامی دنیا کے درمیان پائیدار اور مضبوط تعلقات کو فروغ دیں تاکہ دونوں طرف کے عوام کو امن، استحکام اور خوشحالی حاصل ہو۔ عالمی سیاست میں نئے چیلنجز اور مواقع سامنے آ رہے ہیں، اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔”انہوں نے اس موقع پر فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی قبضے کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: "ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے متحد ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔” سحرکامران نے اجلاس کے شرکاء کی توجہ اس بات پر دلائی کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف فلسطینیوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    اجلاس میں روس اور اسلامی دنیا کے درمیان مشترکہ مسائل پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی۔ اسٹرٹیجک ویژن گروپ نے عالمی سطح پر مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مختلف بین الاقوامی مسائل بشمول دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی، اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ایک گروپ فوٹوگرافی کی گئی جس میں سحر کامران، وزیرِ اعظم ملائشیا، تاتارستان کے صدر، اور دیگر شرکاء شامل تھے۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

    حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

    تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے معاملے میں اس لیے شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہیں،ہ بشریٰ بی بی کا توشہ خانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ بشریٰ بی بی ہمیشہ سے پارٹی کے ساتھ ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیرسٹر گوہر سے جب صحافی نے سوال کیا کہ کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آج سے مذاکرات شروع ہو رہے ہیں تو بیرسٹر گوہر نے اس کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات آج سے شروع نہیں ہو رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ مذاکرات کا آغاز ہو تاکہ سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکے اور کسی معقول نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی طریقے سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اور پی ٹی آئی ہمیشہ سے اس بات کی حامی رہی ہے کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

    قبل ازیں بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ زیادتی کی گئی انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ایسا جاری رہا تو انہیں دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا جمہوریت کا حصہ ہے، پی ٹی آئی کے مظاہرین کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا اور اگر فائرنگ ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہونی چاہیے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس ملک میں پہلے بھی متعدد تحقیقاتی کمیشن بنے مگر کوئی عملی نتائج نہیں نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایوان اپنے ارکان اور ان کے بچوں کا تحفظ نہیں کر سکا، اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیق کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ظلم جب بڑھتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے۔ انہوں نے شام کے ایک قیدی کا ذکر کیا جس نے بتایا کہ وہ 39 سال بعد جیل سے باہر آیا ہے اور شام کے حکمران نے ملک سے فرار ہونے کے دوران 2 ارب ڈالر ساتھ لے گئے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمیں دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے، اس ایوان کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے اپنے خطاب میں 26 نومبر کے واقعے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں پر گولیاں کیوں چلائی گئیں؟ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے اور اس بات کا مظاہرہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور حامیوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جا رہا ہے۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور نے آخر وقت تک بشریٰ بی بی کے ساتھ کھڑے رہنے کے باوجود، ان پر بھی تشدد کیا گیا، انہیں مارا گیا، زخمی کیا گیا اور مقدمات بھی ان کے خلاف درج کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے غریب ارکان پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین بانی پی ٹی آئی کو مجرم کہہ کر صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں کا موڈ خراب کرتے ہیں، حالانکہ حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم کیا ہے اور ان کی املاک کو لوٹا ہے۔

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    چیمپئنز ٹرافی ،بھارتی کرکٹ بورڈ فیوژن فارمولے پر رضا مند،بھارتی میڈیا کا دعویٰ