Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے کورٹ مارشل کا خیر مقدم کیا ہے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے مواخذے کا خیرمقدم کرتی ہے،یہ ادارہ جاتی خود شناسی کی طرف ایک اہم قدم ہے، فیض حمید کا کورٹ مارشل ظاہر کرتا ہے کہ مقدس گائے کے تصور کو اب ختم کر دیا گیا ہے، اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے تمام افراد کا احتساب کیا جائے،ان افراد نے اپنے اقدامات سے سرکاری خزانے پر بھی اضافی بوجھ ڈالا ہے، ایسے افراد نے اداروں کی ساکھ کو داغدار کیا، ادارے اور عوام کے درمیان دوری پیدا کی،ان افراد نے نہ صرف اپنے ادارے کے قوانین بلکہ اپنے آئینی مینڈیٹ سے بھی تجاوز کیا ہے، تمام اداروں کے کیلئے ضروری ہے کہ وہ آئینی حدود میں کام کریں، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں رؤف عطا کا کہنا تھا کہ ان افراد کیخلاف کارروائی کا آغاز اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، سپریم کورٹ بار جمہوری اقدار، آئین پرستی، سویلین اور ادارہ جاتی فریم ورک کی بالادستی کی حمایت جاری رکھے گی،

    فیض حمید کیخلاف ٹرائل سبوتاژ کرنے کیلیے سول نافرمانی کی کال دی گئی،طلال چودھری

    فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ جاری ہونا اہم پیشرفت ہے۔مصطفیٰ کمال

    فیض حمید کیخلاف چارج شیٹ،عمران کا بچنا ممکن نہیں، فیصل واوڈا

    فیض حمیدکیخلاف چارج شیٹ،اصل مجرم عمران اور پی ٹی آئی قیادت

    فیض حمید کو چارج شیٹ کر دیا گیا 9 مئی کے الزامات بھی شامل

  • شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر،رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ شام میں حالیہ واقعات کا اصل منصوبہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ کمانڈ روم میں تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شام میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے پیچھے ان دونوں ممالک کا ہاتھ ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے عوام کے مختلف طبقات کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ "شام میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے پیچھے امریکی اور صیہونی حکومتوں کی سازش ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ شام کی ایک پڑوسی حکومت نے اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور ابھی بھی ادا کر رہی ہے، لیکن اصل سازش کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر ہی عائد ہوتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمتی فرنٹ میں طاقت کا اضافہ ہوتا جائے گا، چاہے دشمن جتنی بھی کوششیں کرے۔ "مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہوگی جتنی زیادہ کوششیں کی جائیں گی”، انہوں نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ایران اللہ کی مدد سے مزید طاقتور ہو گا اور اس کے تمام مقاصد کامیاب ہوں گے۔ "امریکہ کا مقصد شام میں کچھ شمالی یا جنوبی علاقوں پر قبضہ کرنا ہے، لیکن وقت ثابت کرے گا کہ ان کا کوئی بھی مقصد کامیاب نہیں ہوگا”،

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق خامنہ ای کا کہنا تھا کہ یقینا یہ جو حملہ آور ہیں ان کے بارے میں میں نے کہا ہے کہ ہر ایک کا اپنا الگ مقصد ہے۔ ان کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ ہیں کچھ شمالی یا جنوبی شام سے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہں، امریکہ علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، ان کے مقاصد یہ ہیں لیکن وقت یہ ثابت کرے گا کہ ان لوگوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہوگا، شام کے مقبوضہ علاقے، شام کے غیرت مند نوجوانوں کے ہاتھوں آزاد ہوں گے ، اس میں شک نہ کریں، یہ ضرور ہوگا امریکہ کے قدم بھی مضبوط نہیں ہوں گے، اللہ کی مدد سے امریکہ کو بھی مزاحمتی فرنٹ کے ذریعے علاقے سے نکال باہر کیا جائے گا۔ امیر المومنین نے فرمایا ہے کہ جو قوم اپنے گھر کے دروازے پر دشمن سے ٹکراتی ہے وہ ذلیل ہو جاتی ہے اس لئے دشمن کو گھر تک نہ پہنچنے دو، اس لئے ہمارے فوجی گئے، ہمارے بڑے بڑے جنرل گئے، ہمارے پیارے شہید سلیمانی اور ان کے ساتھی و دوست گئے۔ ان لوگوں نے نوجوانوں کو عراق میں بھی اور شام میں منظم کیا۔ پہلے عراق میں اور پھر شام میں انہیں منظم کیا، انہیں مسلح کیا ، ان کے نوجوانوں کو، وہ داعش کے سامنے ڈٹ گئے، انہوں نے داعش کی کمر توڑ دی اور اس کے سامنے فاتح رہے، شام و عراق میں ہماری فوجی موجودگی، فوجی مشیروں کی سطح پر رہا ہے اورلیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی فوج وہاں لے جائیں جو ان ملکوں کی فوجوں کا رول ادا کرے،ہمارے فوجی جو کر سکتےہیں، انہوں نے وہ کیا ، ان کا کام مشورے کا تھا، مشورے کا کیا مطلب ؟ مشورہ یعنی سنٹرل و اہم ہیڈکوارٹر بنانا، حکمت عملی تیار کرنا اور ضرورت پڑنے پر میدان جنگ میں جانا، لیکن سب سے اہم کام، وہاں کے نوجوانوں کو منظم کرنا تھا البتہ ہمارے نوجوان بھی، ہمارے رضاکار بھی بڑی بے تابی اور شوق و اصرار کے ساتھ وہاں گئے،مسلح افواج کے اعلی حکام ، مسلح اداروں کے سربراہوں نے مجھے خط لکھا کہ لبنان کے معاملے میں، حزب اللہ کے معاملے میں ہم سے اب برداشت نہیں ہوتا ہمیں جانے کی اجازت دیں۔ آپ لوگ اس جذبے کا اس فوج کے جذبے سے موازنہ کریں جس میں برداشت کی طاقت نہیں اور وہ بھاگ جاتی ہے۔ مزاحمت ہی نہیں کی۔ جب مزاحمت نہیں ہوگی تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا،ہم ان سخت حالات میں بھی تیار تھے ، یہاں میرے پاس حکام آتے تھے اور کہتے تھے کہ شامیوں کے لئے سب کچھ تیار ہے ، ہم نے تیار کر لیا ہے اور ہم جانے کے لئے تیار ہیں لیکن فضائی راستے بند تھے، زمینی راستہ بند تھے، صیہونی حکومت اور امریکہ نے شام کی فضائی حدود بھی بند کر رکھی تھی اور زمینی راستے بھی، ممکن نہیں تھا ۔ یہ ہے معاملہ ،جذبہ، اگر اس ملک کے اندر جذبہ ہوتا اور ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ ہوتا تو دشمن ان کی فضائی حدود نہیں بند کر پاتا ، ان کے زمینی راستے نہیں بند کرپاتا ۔ تو اس صورت میں ان کی مدد کی جا سکتی تھی،شام میں شہید سلیمانی نے کئی ہزار مقامی نوجوانوں کو ٹریننگ دی تھی، انہیں مسلح کیا تھا، انہیں منظم کیا تھا ، انہیں تیار کیا تھا اور وہ ڈٹے رہے ، لیکن بعد میں افسوس کی بات ہے کہ خود اسی ملک کے اعلی فوجی حکام نے اعتراض شروع کر دیا، مسائل پیدا کئے، جو چیز ان کے فائدے میں تھی اسے نظر انداز کر دیا، افسوس کی بات ہے۔ اس کے بعد داعش کا فتنہ ختم ہونے کے بعد کچھ فوجی واپس ہو گئے اور کچھ وہیں رہ گئے ،جب مزاحمت اور ڈٹ جانے کا جذبہ کم ہو جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے ۔ آج شام جن مسائل میں گرفتار ہو رہا ہے جس کے بارے میں خدا ہی جانتا ہے کہ کب تک جاری رہے گا اور کب شام کے نوجوان میدان میں آکر اس کا سلسلہ روکيں گے، وہ سب اس کمزوری کی وجہ سے ہے جو وہاں دکھائی گئی ہے۔اس معاملے کا ایک سبق، دشمن سے غفلت ہے ، ہاں اس واقعہ میں دشمن نے بہت تیزی سے کام کیا لیکن انہيں واقعہ سے قبل ہی سمجھ جانا تھا کہ دشمن یہی کرے گا اور تیزی سے اپنا کام کرے گا۔ہم نے ان کی مدد کی تھی۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں کئی مہینوں سے شام کے حکام کو خبردار کر رہی تھیں، اب مجھے یہ نہيں پتہ کہ یہ سب کچھ اعلی حکام تک پہنچ رہا تھا یا نہيں بس وہی بیچ میں ہی کہیں گم ہو جا رہا تھا لیکن ہماری خفیہ ایجنسیوں نے انہيں بتایا تھا، ستمبر، اکتوبر، نومبر سے ایک کے بعد ایک رپورٹ بھیجی جا رہی تھی،دشمن سے غافل نہيں ہونا چاہیے ، دشمن کو کمزور نہيں سمجھنا چاہیے۔

    دوسری جانب پاکستان نے شام میں اسرائیلی جارحیت اور اس کے غیر قانونی طریقے سے جنوبی حصے پر قبضے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "اسرائیل کی کارروائیاں شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں، اور یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں”۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات نہ صرف ایک غیر مستحکم خطے میں مزید کشیدگی بڑھا رہے ہیں، بلکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور عالمی قوانین کی اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کے حوالے سے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے، جو گولان ہائٹس پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیتی ہے۔

    امریکہ کا شام میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ
    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ نئی حکومت بین الاقوامی معیار پر پورا اترے۔ بلنکن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسے سیاسی عمل کی حمایت کرے جس میں تمام فریقین کی شمولیت ہو۔

    امریکی فوج کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہاز "ہیری ایس ٹرومین” اس ہفتے کے آخر میں مشرق وسطیٰ پہنچے گا۔ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شامی اپوزیشن کی کامیاب کارروائیاں، غزہ میں اسرائیل کا جاری تنازعہ، اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے کہا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے باوجود ایران کمزور نہیں ہوگا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے اراکین کو بتایا کہ "ہم کمزور نہیں ہوں گے، اور کچھ بھی ہمارے ملک کی طاقت کو کم نہیں کرے گا”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی افواج اب شام میں موجود نہیں ہیں۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے شام کے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ جو بھی بشار الاسد کے راستے پر چلے گا، اسے بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسد کو ہوا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنے فوجی آپریشنز کو مزید تیز کرتے ہوئے اسد مخالف گروپوں پر 300 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

    قطر کے سفارت کاروں نے حالیہ دنوں میں شامی اپوزیشن گروپ "ہیتہ التحریر الشام” کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ یہ رابطے اس وقت ہو رہے ہیں جب علاقے کی ریاستیں اس گروپ کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قطری حکومت نے شامی تنازعے میں اپوزیشن کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔

    شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے بڑے شہروں میں خوراک کی قلت ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے،اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے کے مطابق اسد حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق، دیرالزور،حماہ اور بڑے شہروں میں خوراک کی قلت ہے،ادلب اور حلب میں 27 نومبر سے 9 دسمبرکےدرمیان روٹی کی قیمت میں900 فیصد جب کہ مرغی کی قیمت میں 119فیصداضافہ ہوا، قنیطرہ، منبج اور دیر الزور میں خوراک کی تقسیم اور بنیادی ضرورت کی اشیاء تک رسائی شدید متاثر ہے، تبقا میں کم از کم 6 ہزار خاندانوں کو فوری خوراک کی ضرورت ہے،رپورٹ کے مطابق شرح مبادلہ میں انتہائی اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں معاشی عدم استحکام بھی دیکھنے کو ملا جس کےنتیجےمیں دکانیں بند ہیں اور تاجر اجناس ذخیرہ کررہے ہیں۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • چیمپئنز ٹرافی ،بھارتی کرکٹ بورڈ فیوژن فارمولے پر رضا مند،بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    چیمپئنز ٹرافی ،بھارتی کرکٹ بورڈ فیوژن فارمولے پر رضا مند،بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    بھارتی میڈیا نے ایک نیا دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے فیوژن فارمولے کے تحت آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    اس دعوے کے مطابق، بی سی سی آئی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان آئی سی سی ایونٹس کے گروپ میچز کو نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کے لئے اپنا موقف نرم کر لیا ہے، تاہم یہ شرط رکھی ہے کہ اگر پاکستان سیمی فائنل یا فائنل میں پہنچتا ہے، تو اس کو بھارت میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی سی سی آئی نے کہا ہےکہ اگر پاکستان بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ایونٹس کا بائیکاٹ کرتا ہے، تو اسے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت نے اپنی شرائط میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان کو بھارت میں ہونے والے ایونٹس میں حصہ لینے کی صورت میں اپنی پوزیشن کو لچکدار بنانے کی ضرورت ہوگی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے گزشتہ تین سالوں سے بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ایونٹس کے لیے فیوژن ماڈل پیش کیا تھا۔ پی سی بی کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ اگر بھارت پاکستان میں کوئی میچ نہیں کھیلتا تو پاکستان بھی بھارت میں ہونے والے کسی آئی سی سی ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے اور بھارتی ہٹ دھرمی اور کھیلوں میں سیاسی مداخلت کے باعث آئی سی سی نے ابھی تک چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات میں ایک نیا موڑ دکھاتی ہے، جس میں کھیل اور سیاست کا گہرا تعلق واضح ہو رہا ہے۔

    یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا بی سی سی آئی اور پی سی بی کے درمیان اس تنازعہ کا کوئی حتمی حل نکلتا ہے یا دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہو جائیں گے۔ آئی سی سی کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد اس تنازعہ کا حل ممکنہ طور پر سامنے آئے گا۔

    بھارتی اداکارہ کے 14 سالہ بیٹے کی کھیت سے لاش برآمد

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، سیکرٹری داخلہ کا جواب

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ

    کراچی: عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز عالمی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت میں 31 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد سونے کی قیمت 2693 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔

    عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 280500 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2658 روپے کا اضافہ ہوا، اور اس کی قیمت 240484 روپے کی سطح پر جا پہنچی۔اسی دوران، چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 3450 روپے پر پہنچ گئی۔ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 42.86 روپے کے اضافے سے 2957.81 روپے تک جا پہنچی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے، اور اس کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی معیشت اور سیاسی صورتحال بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد لوگوں کو اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے دوبارہ سے دیکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

  • بھارتی اداکارہ کے 14 سالہ بیٹے کی کھیت سے لاش برآمد

    بھارتی اداکارہ کے 14 سالہ بیٹے کی کھیت سے لاش برآمد

    بھارت کے شہر بریلی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں معروف ٹی وی اداکارہ سپنا سنگھ کے 14 سالہ بیٹے ساگر کی لاش کھیتوں سے برآمد ہوئی۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ساگر اپنے ماموں اوم پرکاش کے ساتھ بریلی میں رہائش پذیر تھا، اور اتوار کی صبح اس کی لاش ایک قریبی گاؤں کے کھیتوں سے ملی۔ساگر آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور اس کی موت کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ابھی تک موت کی درست وجہ کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم، اس معاملے کی تفتیش میں کچھ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کے دوران ساگر کے دو دوستوں، انوج اور سنی، کو گرفتار کرلیا ہے۔ ان دونوں نے پولیس کو اپنے بیانات میں اعتراف کیا کہ ساگر کے ساتھ وہ دونوں زیادہ مقدار میں الکوحل اور منشیات لے چکے تھے۔ ان کے مطابق، ساگر نے جب یہ مواد استعمال کیا، تو وہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔ دونوں دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ خوف زدہ ہو گئے اور ساگر کی بے ہوش لاش کو کھیت میں گھسیٹ کر چھوڑ دیا اور پھر وہاں سے فرار ہو گئے۔پولیس کی جانب سے اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس افسوسناک واقعہ کے پیچھے کی حقیقت تک پہنچا جا سکے۔ اس دوران، سپنا سنگھ اور ان کے خاندان کی حالت زار پر سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے، اور ان کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے حکام سے فوری انصاف کی درخواست کی گئی ہے۔

    یہ واقعہ بھارت میں نوجوانوں کے درمیان منشیات کے استعمال اور اس کے سنگین نتائج کی ایک اور یاد دہانی ہے

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، سیکرٹری داخلہ کا جواب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے چائنامیوزیم آمد

  • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    پاکستان کی معیشت میں گزشتہ سال کے دوران قابلِ ذکر بہتری آئی ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے چوتھے سہ ماہی کے سروے کے نتائج میں ہوا ہے۔ اس سروے کے مطابق پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، اور عوام کی اقتصادی حالت پر اعتماد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے چوتھے سہ ماہی کے سروے کے نتائج کے مطابق، پاکستان میں اقتصادی بہتری پر اُمید میں 19 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بدستور تیزی کا رجحان برقرار ہے، اور چوتھی سہ ماہی کے دوران کئی اقتصادی ریکارڈز بھی قائم ہوئے ہیں۔ سروے کے مطابق، پاکستان میں ستمبر 2023 کے بعد اقتصادی حالت کو مضبوط قرار دینے والے افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔2024 میں پاکستان میں مہنگائی ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جس سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی طرح، مقامی معیشت کے حوالے سے 19 فیصد افراد اگلے 6 ماہ میں اقتصادی بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔ پاکستان میں کمزور اقتصادی حالات کا تاثر 9 فیصد کم ہوا ہے، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں معیشت کے حوالے سے پُر امیدی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اس سروے کے ایک اور اہم پہلو میں پاکستان نے ترکیہ کو عالمی صارف اعتماد کے انڈیکس میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ امر پاکستان کی معیشت کے استحکام کی جانب اشارہ کرتا ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر سمجھا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق، پاکستانیوں کی گھریلو خریداری کی صلاحیت میں 6 پوائنٹس کی بہتری آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی افراد کی مالی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ مزید برآں، پاکستانیوں کا مقامی اقتصادی حالات پر اعتماد 20 فیصد بڑھا ہے، جبکہ عدم اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ملازمت کے تحفظ پر اعتماد میں مسلسل استحکام دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو اپنی ملازمتوں کے بارے میں مزید اعتماد حاصل ہو رہا ہے، جو کہ ایک مثبت اقتصادی اشارہ ہے۔

    یہ سروے اپسوس گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کا حصہ ہے، جو ایک عالمی سطح پر اہم سروے مانا جاتا ہے۔ یہ انڈیکس صارفین کے معاشی حالات اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے، اور عالمی سطح پر ممالک کی اقتصادی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس انڈیکس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک مثبت راستے پر گامزن ہے، اور مستقبل میں مزید ترقی کی امید ہے۔

    پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حالیہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے نتائج نے عوام میں پُر امیدی کی لہر پیدا کی ہے۔ معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی، اور عوامی اعتماد میں اضافہ یہ سب اشارے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کی جانب گامزن ہے اور عالمی سطح پر اس کی اقتصادی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔ ان مثبت رجحانات کے جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کی معیشت 2024 اور اس کے بعد مزید ترقی کر سکتی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، سیکرٹری داخلہ کا جواب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے چائنامیوزیم آمد

    تنقید نہیں جمہوری حمایت کرو، پاکستان کا امریکہ سےمطالبہ

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا،  سیکرٹری داخلہ کا جواب

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، سیکرٹری داخلہ کا جواب

    پی ٹی آئی احتجاج ، عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کروا دیا گیا ،سیکرٹری داخلہ کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ عدالت کی ڈائریکشن کے مطابق کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، وزیرداخلہ، سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اور ڈپٹی کمشنر کمیٹی کا حصہ تھے، بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی قیادت سے بار بار رابطہ کیا گیا، پی ٹی آئی چیئرمین کو کہا گیا احتجاج کے لئے نئے قانون کے تحت درخواست دیں،پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے قانون کے مطابق کوئی درخواست نہیں دی گئی، بعد ازاں درخواست دیے بغیر مختص کردہ جگہ پر احتجاج کی بھی پیشکش کی گئی،پی ٹی آئی نے پیشکش مسترد کر کے ڈی چوک کی طرف پیش قدمی جاری رکھی،میں بطور سول سرونٹ عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا،

  • وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز  کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے چائنامیوزیم آمد

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے چائنامیوزیم آمد

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے وفد کے ہمراہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کے تاریخی میوزیم کا دورہ کیا جہاں انہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کے ارتقا کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سی پی سی میوزیم حکام نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں چین کی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو میوزیم میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے 130 سالہ تاریخی سفر کی بصری نمائش دکھائی گئی۔ اس نمائش میں چین کے کمیونسٹ انقلاب کی مختلف اہمیتوں کو اجاگر کیا گیا، جن میں ماوز تنگ کی جدوجہد، برطانوی فوج کے ساتھ جنگ، اور روس کے کمیونسٹ انقلاب کے اثرات شامل ہیں۔سی پی سی میوزیم میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام سے لے کر موجودہ صدر شی جن پنگ کے منصب سنبھالنے تک کی تمام اہم تاریخی واقعات کی عکاسی کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کو خاص طور پر ماوز تنگ کی قیادت میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی جدوجہد اور اس کے عالمی سطح پر اثرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر چین کی ترقی اور خوشحالی کی تاریخ کو ایک غیر معمولی تجربہ قرار دیا اور کہا کہ "چین نے دنیا کی تاریخ کا غیر معمولی معجزہ کر دکھایا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 130 سالہ تاریخ کا عکس سی پی سی میوزیم میں بھرپور طور پر نظر آتا ہے اور اس کا ارتقا نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے لئے اہم ہے۔”

    مریم نواز شریف نے چین کی ترقی کو ایک قابل تقلید ماڈل قرار دیا اور کہا کہ "چین کے عوام نے ترقی اور خوشحالی کے لیے قابل تقلید کاوشیں کیں۔ چین نے ثابت کر دیا کہ اگر قیادت مخلص ہو اور ترقی کا عزم پختہ ہو تو کوئی طاقت ترقی سے نہیں روک سکتی۔”انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "چین کی ترقی اور خوشحالی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔ ہم ترقی کے سفر میں چین سے مل کر آگے بڑھیں گے۔”

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے میوزیم میں چینی قیادت کے مجسموں کا بھی بغور مشاہدہ کیا اور اس پر حیرت و خوشی کا اظہار کیا۔ ان مجسموں میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے اہم رہنماؤں کی مجسمے شامل تھے جنہوں نے چین کے ترقی کے سفر میں کلیدی کردار ادا کیا۔وزیر اعلیٰ نے میوزیم میں رکھی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے، جن میں انہوں نے چین کے تاریخی تجربات کو ایک غیر معمولی اور یادگار تجربہ قرار دیا۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ "چین کے تاریخی اور ثقافتی سفر کا مشاہدہ ایک انمول تجربہ ہے اور اس نے مجھے یہ سکھایا کہ محنت، مخلص قیادت، اور پختہ عزم سے کوئی بھی قوم ترقی کی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔”وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں سی پی سی کی پہلی نیشنل کانگریس کی سائٹ بھی شامل تھی، جہاں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

    میوزیم میں چین اور شنگھائی شہر کی تاریخی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے آغاز سے لے کر اس کے موجودہ مقام تک کی تاریخ کو یکجا کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ان تمام حقائق کو سراہا اور کہا کہ چین نے دنیا کو ایک نیا نظریہ اور ترقی کے لیے ایک نئی راہ دکھائی ہے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ دورہ چین کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے بارے میں ایک اہم موقع تھا جس کے دوران انہوں نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کو جانا اور اس کی ترقی کے ماڈل کو سراہا۔ اس دورے نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات کو روشن کیا۔

  • جناح ہاؤس حملہ کیس، خواتین سمیت 8 کارکنان بے گناہ قرار

    جناح ہاؤس حملہ کیس، خواتین سمیت 8 کارکنان بے گناہ قرار

    انسداددہشت گردی عدالت لاہور:جناح ہاؤس حملہ اور جلاو گھیراؤ کا مقدمہ میں پیشرفت سامنے آئی ہے

    جے آئی ٹی نے تفتیش میں خواتین سمیت 8 پی ٹی آئی کارکنان کو بے گناہ قرار دے دیا ،توصیف خانم، سعدیہ ایوب ، ثروت شاہد ، نادرہ عمر، وحید الرحمان، ساجد پرنس، بلال فرحانہ، فاروق بےگناہ قرار دیئے گئے،بے گناہ قرار پانے پر ملزمان کے وکلاء نے عبوری ضمانت واپس لینے کی استدعا کی ،عدالت نے واپس لینے کی بنیاد ضمانت کی درخواستوں کو خارج کر دیا

    جے آئی ٹی تفتیش میں سید فاظمہ حیدر ٫بینا زیشان ٫ رخسانہ نوید قصور وار قرار پائی،عدالت نے حاجرہ نیازی سمیت دیگر کی عبوری ضمانت میں 15 جنوری تک توسیع کر دی،عدالت نے حاجرہ نیازی کو شامل تفتش ہونے کا حکم دے دیا،حاجرہ نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی بھی عدالت میں بیٹی کے ساتھ پیش ہوئے،خواتین سمیت دیگر عبوری ضمانت کی حاضری کیلئے پیش ہوئے،انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جی منظر علی گل نے سماعت کی،ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڈ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے 200 کارکنوں کو لاہور کیسز میں شامل تفتیش کرنے کی درخواستیں منظور کرلیں۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت نے گرفتار 200 پی ٹی آئی کارکنوں کو لاہور پولیس کے حوالے کرنے کی درخواستیں مسترد جبکہ ان کارکنوں کو لاہور کیسز میں شامل تفتیش کرنے کی درخواستیں منظور کرلیں۔عدالت نے کہا کہ لاہور پولیس صرف اڈیالہ جیل میں ان کارکنوں سے تفتیش کرسکتی ہے۔ لاہور پولیس نے 3 تھانوں میں درج 9 مئی قبل کے مقدمات کی تفتیش درخواستیں دائرکی تھی۔ لاہور پولیس پی ٹی آئی کارکنوں کو تفتیش کے لیے اڈیالہ جیل سے لاہور لے جانا چاہتی تھی۔لاہور پولیس آڈر ملتے ہی آج شام سے تفتیش شروع کردے گی۔ شامل تفتیش کرنے اور حوالگی درخواست میں تحریک انصاف کا کوئی مرکزی رہنما شامل نہیں ہے۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ

    بھارتی اداکارہ کے 14 سالہ بیٹے کی کھیت سے لاش برآمد

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

  • بھارت کو دھچکا،بنگلہ دیش نے انٹرنیٹ فراہمی کا معاہدہ کیا منسوخ

    بھارت کو دھچکا،بنگلہ دیش نے انٹرنیٹ فراہمی کا معاہدہ کیا منسوخ

    ڈھاکا: بنگلادیش کی عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ کیے گئے ایک اہم انٹرنیٹ بینڈوتھ ٹرانزٹ معاہدے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس معاہدے کا مقصد بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو بنگلادیش کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیشی انٹرنیٹ ریگولیٹر نے بھارت کی ان ریاستوں تک بینڈوتھ فراہم کرنے کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر کام کرنے کے منصوبے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بنگلادیشی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن نے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کی وجہ اقتصادی فوائد کی کمی کو قرار دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے ملک کو اقتصادی طور پر کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا تھا، جس کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔

    یہ معاہدہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل رابطوں کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ وہاں کے عوام کو بہتر انٹرنیٹ سروسز فراہم کی جا سکیں۔ تاہم بنگلادیش کے اس فیصلے کے نتیجے میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی میں مشکلات اور سست روی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے ان علاقوں میں ڈیجیٹل ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

    بھارت کی حکومت نے ابھی تک بنگلادیش کے اس فیصلے پر کوئی سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے منسوخ ہونے سے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار متاثر ہو گا، جس کا اثر کاروباری سرگرمیوں، تعلیم اور دیگر سروسز پر پڑ سکتا ہے۔

    دوسری طرف، بنگلادیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد اپنے ملک کی اقتصادی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر حکمت عملی اپنانا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قومی مفادات کو ترجیح دی جائے۔

    یہ معاہدہ 2016 میں بھارت اور بنگلادیش کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت بنگلادیش بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو بینڈوتھ فراہم کرتا تھا تاکہ وہاں کے عوام کو انٹرنیٹ کی بہتر سروسز میسر آ سکیں۔ اس معاہدے کے تحت بھارت بنگلادیش کو اپنے علاقے کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے ٹرانزٹ فیس ادا کرتا تھا۔