Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • طاہر اشرفی کی خدمات ہر حکومت کیلئے ہوتیں،انکو جواب نہیں دوں گا، کامران مرتضیٰ

    طاہر اشرفی کی خدمات ہر حکومت کیلئے ہوتیں،انکو جواب نہیں دوں گا، کامران مرتضیٰ

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینئر رہنما اور سینیٹر کامران مرتضٰی نے حکومت کے حالیہ اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے ہی بل کے خلاف اجلاس بلا کر صرف تماشا لگایا ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضٰی کا کہنا تھا کہ یہ بل دراصل جے یو آئی کے مطالبے پر لایا گیا تھا لیکن وہ حکومتی بل تھا جس پر حکومت نے خود ہی اعتراضات اٹھا کر اجلاس طلب کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کو کسی بھی قسم کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کیونکہ ان کی خدمات ہر حکومت کے ساتھ جڑی رہتی ہیں۔

    دوسری جانب، چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان الگ قانون سازی کرانا چاہتے ہیں تو وہ حکومت کی فیصلہ سازی سے الگ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلخیاں نہیں چاہتے بلکہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہونا چاہیے۔علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ اگر حکومت کسی بڑی تعداد میں لوگوں کو میدان میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہ مدارس کی طاقت کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کے لاکھوں طلبہ و علماء کا ایک بڑا گروہ اسلام آباد میں موجود ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو وہ بھی اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ریاست سے تصادم نہیں چاہتے بلکہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے میں حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مدارس کی رجسٹریشن کو وزارتِ تعلیم سے وزارتِ صنعت کے تحت منتقل کرنے کی کوشش کرے گی تو وہ اسے مسترد کریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ علما کے خلاف علما کو لایا جا رہا ہے، جو کہ ایک بدقسمتی ہے، کیونکہ مدارس کے طلبہ اور علما کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قافلے اور مظاہرے نہیں چاہتے بلکہ تعلیم کو تعلیم اور سیاست کو سیاست کے میدان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

  • پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات،ٹیسٹ کی سہولت بند

    پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات،ٹیسٹ کی سہولت بند

    : پنجاب کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات اور ٹیسٹوں کی سہولت بند کر دی گئی ہے، جس کے باعث غریب مریض اور ان کے لواحقین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ لاہور کے معروف اسپتالوں جیسے میو اسپتال، سروسز اسپتال، جناح اسپتال، جنرل اسپتال اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت لینے والے مریضوں کی بڑی تعداد دواؤں اور ٹیسٹوں کی عدم فراہمی کے سبب مشکلات میں مبتلا ہو گئی ہے۔

    لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں آئے دن مریضوں کو مفت ادویات اور تشخیصی ٹیسٹوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مریض تو آپریشن اور دیگر ضروری علاج کے لیے اسپتالوں میں انتظار کر رہے ہیں، مگر وسائل کی کمی اور انتظامی مسائل کے باعث اسپتالوں میں علاج کا عمل ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں سرکاری اسپتالوں سے صرف ڈاکٹر کی خدمات مل رہی ہیں، لیکن دوائیاں اور ٹیسٹ کی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔مریضوں کی حالت مزید خراب ہو رہی ہے کیونکہ انہیں ادویات خریدنے کے لیے مہنگے میڈیکل اسٹوروں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ٹیسٹوں کے لیے بھی مریضوں کو پرائیویٹ لیبارٹریوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جو کہ بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔

    ایک مریض کے لواحقین نے بتایا کہ "ہم سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے آئے تھے، لیکن اب ہمیں ادویات اور ٹیسٹ کی فراہمی کا وعدہ تھا، جو اب تک پورا نہیں ہوا۔ اسپتالوں میں بے شمار مریض موجود ہیں، مگر کوئی بھی ہماری مدد کرنے کے لیے تیار نہیں۔”

    میو اسپتال کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر فیصل مقصود نے اس صورتحال کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی رک گئی ہے کیونکہ ٹھیکیدار کو ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ادویات کا سٹاک ختم ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر فیصل مقصود نے مزید کہا کہ "جو ادویات دستیاب ہیں، ان پر شکر ادا کرنا چاہیے، اور مزید فراہمی کے لیے انتظامیہ کو جلد ہی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔”

    پنجاب کے وزیر صحت سلمان رفیق نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "تمام اسپتالوں کا آڈٹ کیا جا رہا ہے، اور حال ہی میں گنگارام اسپتال کے آڈٹ میں 14 کروڑ روپے کا گھپلا سامنے آیا ہے۔ آڈٹ مکمل ہونے کے بعد فنڈز کی فراہمی کا عمل شروع ہو جائے گا، جس سے اسپتالوں میں سہولتوں کی فراہمی بہتر ہو سکے گی۔”

    تاہم، مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومت صرف دعوے کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہمیں صرف وعدے نہیں چاہییں، ہمیں غریب عوام کے لیے صحت کی سہولتوں کا فوری طور پر انتظام کیا جائے تاکہ مریضوں کو علاج کی سہولت مل سکے۔”

    یہ صورتحال پنجاب کے عوام کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جہاں سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں بند ہونے کے سبب غریب مریض اور ان کے لواحقین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

  • عمران خان کے ملٹری ٹرائل سے متعلق قانون فیصلہ کرے گا،خواجہ آصف

    عمران خان کے ملٹری ٹرائل سے متعلق قانون فیصلہ کرے گا،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ملٹری ٹرائل کا فیصلہ قانون کرے گا۔ عمران خان کے دور حکومت میں کئی افراد کا ملٹری ٹرائل ہوا تھا

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے گارڈز نے خود اپنے ہی افراد کو مارا تھا اور اس کا ملبہ پولیس اور رینجرز پر ڈالا جا رہا ہے۔ ان افراد کی کارروائیوں کو چھپایا جا رہا ہے اور حقیقت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔گنڈا پور کی گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے گئے تو انہوں نے فائرنگ کی،ویڈیوز ہیں، سب کچھ سامنے ہے، صحافیوں نے جو کوریج کی وہ بھی ثبوت ہے کہ اس دن کیا ہوا، بندے مرے تو کس نے مارے، کچھ لوگ 12 افراد کے شہید ہونے کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ ان 5 افراد کی شہادت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو رینجرز اور پولیس کے افسران تھے اور جو دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے۔ یہ شہید بھی پاکستان کے شہری ہیں، اور ان کے خون کی قیمت کو نہیں بھولنا چاہیے۔

    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ جب قانون حرکت میں آتا ہے تو اس کا اطلاق سب پر یکساں ہوتا ہے اور جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ریاستی ادارے اور افسران قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔خواجہ آصف نے اس موقع پر پاکستان کی سلامتی کے لئے رینجرز، پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام میں ان کا کردار بے حد اہم ہے۔

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ عمران خان کے دور میں کئی افراد کے ملٹری ٹرائل ہوئے تھے، جنہیں اب مختلف وجوہات کی بنا پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ جو کچھ بھی قانونی طریقے سے ہوا، اس کا جواز تھا، لیکن اگر کوئی فرد قانون سے باہر جا کر کام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔حکومت کا مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے اور اس میں کوئی شخص یا ادارہ استثنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے لئے ہر فرد اور ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ ملک میں امن قائم رہے اور ہر فرد کو انصاف مل سکے۔

  • یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے طلبا کا انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز کا مطالعاتی دورہ

    یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے طلبا کا انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز کا مطالعاتی دورہ

    یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے طلباء و طالبات نے انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز کا مطالعاتی دورہ کیا، جہاں انہیں پولیس ورک اور انویسٹی گیشن کے جدید طریقوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔ اس دورے کا مقصد طلباء کو عملی معلومات فراہم کرنا تھا تاکہ وہ کرائم سائنس، تحقیقات، اور پولیس کی مختلف برانچز کے کام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

    دورے کے دوران ایس ایس پی انویسٹی گیشن، محمد نوید نے طلباء و طالبات کو انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز کی مختلف برانچز اور ان کے کام کے بارے میں بریفننگ دی۔ انہوں نے طلباء کو کرائم رپورٹنگ، انویسٹی گیشن، اور دیگر اہم پولیس ڈپارٹمنٹس کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔دورے کے دوران طلباء کو کرائم رپورٹنگ آفس (سی آر او) کی ورکنگ کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ اس برانچ میں جرائم کی ابتدائی رپورٹنگ، شواہد جمع کرنے اور تحقیقات کے عمل پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے بعد، انسپکٹر محمد یوسف نے طلباء کو کرائم سین (جگہ وقوعہ) اور ڈیڈ ہاؤس کا وزٹ بھی کروایا۔ اس وزٹ کے دوران، طلباء نے کرائم سین کی تحقیقات کے حوالے سے عملی مظاہرہ دیکھا اور اس بات کی اہمیت سمجھی کہ کس طرح تحقیقات کو صحیح طریقے سے انجام دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ ملزمان کو سزا مل سکے اور انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے اس دورے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معلوماتی وزٹ سے طلباء کو پولیس ورک اور انویسٹی گیشن ٹولز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دورے طلباء کے لیے آگاہی کا باعث بنتے ہیں اور ان کی سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں، جس سے وہ مستقبل میں کرائم کی روک تھام اور تحقیقات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    دورے کے اختتام پر طلباء نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید اور ان کی ٹیم کا بہترین تعاون اور ریفریشمنٹ فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ طلباء نے کہا کہ اس طرح کے عملی دوروں سے انہیں نہ صرف پولیس کے کام کا صحیح علم حاصل ہوا بلکہ ان کی ذاتی ترقی میں بھی مدد ملی ہے۔

    یہ مطالعاتی دورہ نہ صرف طلباء کی پولیس کے نظام سے آگاہی میں اضافے کا باعث بنا بلکہ ان کے مستقبل میں کرائم کے خلاف کام کرنے کے عزم کو مزید مستحکم کیا۔

  • قومی اسمبلی اجلاس،وزرا کی عدم موجودگی،پیپلز پارٹی اراکین کا واک آؤٹ

    قومی اسمبلی اجلاس،وزرا کی عدم موجودگی،پیپلز پارٹی اراکین کا واک آؤٹ

    قومی اسمبلی اجلاس ،پی پی پی کے رکن آغا رفیع اللہ اور پی پی پی کے چند ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا

    پی پی پی کے چند ارکان نے وزرا کی عدم موجودگی اور حکومت کی طرف سے درست جوابات نہ دینے کے خلاف واک آوٹ کیا ،ڈپٹی سپیکر نے حکومتی ارکان کو واک آوٹ کرنے والے ارکان کو منانے کا ٹاسک دے دیا، وقفۂ سوالات میں وزراء کے ایوان میں نہ ہونے پر ڈپٹی اسپیکر نے برہمی کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ اگر وزراء کا یہی طریقۂ کار رہا تو ہم وزیرِ اعظم کو آگاہ کریں گے، وزراء کی عدم موجودگی پر حکومتی ارکان بھی سیخ پا ہو گئے،مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی نے کہا کہ وزراء نہیں آتے تو یہ ملک و قوم کا پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہے،پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو وزیرِ اعظم نے فراڈ قرار دیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں ن لیگی رہنما حنیف عباسی ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ پر برہم ہو گئے، حنیف عباسی نے کہا کہ مجھے بات کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی.؟ علی محمد خان کو کیوں اجازت دے دی

    ڈاکٹر بابر اعوان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اعجاز چوہدری کا پروڈکشن آرڈر فوری جاری کیا جائے وہ ایک صوبے کے نمائندہ ہیں اور اُنہیں ڈیڑھ سال سے پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے،

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفۂ سوالات کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان کو ملنے والی رقوم کی تفصیلات پیش کر دی گئی ہیں،وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کے تحت اب تک 24 ارب 70 کروڑ ڈالرز کی رقم موصول ہوئی، اس رقم سے اب تک 43 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں،وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت اس وقت 70 کروڑ ڈالرز سے زائد 8 منصوبے زیرِ تکمیل ہیں، 2 بلوچستان، 2 کے پی اور سندھ، پنجاب اور اسلام آباد میں 1، 1 منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔

    قومی اسمبلی میں سوشل میڈیا پر فیک نیوز کے پھیلاؤ پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کر دیا گیا، نزہت صادق نے کہا کہ یک نیوز ملک و اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں،پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ 86000 سمز بلاک، الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں جلد ترمیم ہوگی،آسیہ ناز تنولی نے کہا کہ فیک نیوز پر فوری اقدامات کریں،

    قومی اسمبلی اجلاس: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ عالیہ کامران کے سوال کے جواب میں وزارت نے کٹ اینڈ پیسٹ کیا ہے۔ اکنامک سروے سے جواب کاپی کیاگیا ہے، کیا وزارت کا یہی کام رہ گیا ہے؟ مہنگائی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے، اپوزیشن لیڈر نے مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ رول آف لاء آئے گا تو انویسٹمنٹ آئے گی، کوئی چین جا رہا ہے کوئی کدھر جارہا ہے، ہم انکی آئیں بائیں شائیں دیکھتے ہیں، اگلا انویسٹر کہتا ہے کہ اپنے ملک میں قانون کی حکمرانی دیکھو۔

  • انٹرنیٹ کی سست روی کیخلاف درخواست،پی ٹی اے کو نوٹس جاری

    انٹرنیٹ کی سست روی کیخلاف درخواست،پی ٹی اے کو نوٹس جاری

    لاہور ہائی کورٹ نے ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے خلاف دائر درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ درخواست کی سماعت جسٹس اقبال چوہدری نے کی

    درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ سست انٹرنیٹ کی رفتار نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سست انٹرنیٹ کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کے معیار میں 198 نمبر پر آ گیا ہے، جو ایک سنگین صورتحال ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ انٹرنیٹ کی رفتار کو فوری طور پر تیز کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم ہوں بلکہ ملک کی عالمی درجہ بندی میں بھی بہتری آئے۔

    عدالت نے درخواست پر ابتدائی طور پر پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس اہم مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس معاملے پر مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی۔سماعت کے دوران جسٹس اقبال چوہدری نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری شہریوں کی بنیادی ضروریات میں رکاوٹ بن چکی ہے اور یہ مسئلہ روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے پی ٹی اے اور دیگر حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر جلد از جلد رپورٹ پیش کریں اور عوامی مفاد میں انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری لانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کی شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، خاص طور پر جب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے افراد یا کاروباری حضرات اس کا سامنا کرتے ہیں۔ سست انٹرنیٹ کی رفتار کے باعث تعلیمی اداروں اور دفاتر میں آن لائن کلاسز اور ورک کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔اب یہ دیکھنا یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے نوٹس کے بعد پی ٹی اے اور دیگر حکام کیا اقدامات کرتے ہیں اور انٹرنیٹ کی سست رفتار کا مسئلہ کب حل ہو پائے گا۔ شہریوں کی امیدیں اس بات پر ہیں کہ عدالت اس اہم مسئلے کا جلد از جلد حل نکالے گی تاکہ ملک میں انٹرنیٹ سروسز کی رفتار میں بہتری آئے اور پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بھی بہتر تبدیلی آئے۔

  • بجلی تقسیم کاجدید نظام، ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 20 کروڑ ڈالر قرض منظور

    بجلی تقسیم کاجدید نظام، ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 20 کروڑ ڈالر قرض منظور

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس قرض کی فراہمی کا مقصد ملک کے توانائی کے شعبے میں انفرا اسٹرکچر کی بہتری اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو مستحکم بنانا ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعلامیے کے مطابق، یہ قرض ڈسکوز (ڈسٹری بیوشن کمپنیز) کی قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دیا جائے گا، جس سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ کاروباری اداروں کو بھی سستے اور معیاری بجلی کی فراہمی کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت، پاکستان کے تین بڑے ڈسکوز: لیسکو، میپکو، اور سیپکو کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری لائی جائے گی، جس سے بجلی کے ترسیلی نقصانات میں کمی اور کاروباروں کے لیے توانائی کی فراہمی میں آسانی ہوگی۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قرض کی مدد سے بجلی کے ترسیلی نقصانات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ، پاکستان کے بجلی کے شعبے کے مجموعی نقصانات میں بھی واضح کمی آئے گی۔ یہ قرض پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگا، کیونکہ ملک میں بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق، اس قرض کے ذریعے 3 لاکھ 32 ہزار ایڈوانس میٹر نصب کیے جائیں گے، جن کی مدد سے ڈسکوز کو اصل وقت میں بجلی کے استعمال اور گرڈ کی کارکردگی کا ڈیٹا فراہم ہوگا۔ اس سے بجلی کی تقسیم کے نظام کی مانیٹرنگ میں مدد ملے گی اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ علاوہ ازیں، اس منصوبے کے تحت تینوں ڈسکوز کی آن لائن ٹرانسفارمر مانیٹرنگ بھی کی جائے گی، جس سے نظام کی مزید بہتری اور نقصانات کی کمی متوقع ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ قرض کی رقم سے سیپکو کے چار 66 کلو واٹ گرڈ اسٹیشنز کو 132 کلو واٹ پر منتقل کیا جائے گا، جس سے بجلی کی ترسیل میں مزید بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ، لیسکو میں 25 گرڈ اسٹیشنز کو جدید بنایا جائے گا، جس سے بجلی کی فراہمی کے نظام میں مزید استحکام اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔

    یہ اقدامات نہ صرف بجلی کے ترسیلی نقصانات میں کمی لائیں گے بلکہ بل کی وصولی میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے توانائی کے شعبے کی مالی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔ اس قرض کے ذریعے پاکستان کو اپنے توانائی کے نظام میں درپیش مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ملک کے معاشی استحکام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

  • پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجی مشق "واریر-VIII” اختتام پذیر

    پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجی مشق "واریر-VIII” اختتام پذیر

    پاکستان آرمی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے درمیان مشترکہ فوجی مشق "واریر-VIII” کا انعقاد 19 نومبر سے 11 دسمبر 2024 تک کیا گیا۔ یہ مشق تین ہفتوں تک جاری رہی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی (کاؤنٹر ٹیررازم) کے شعبے میں کی گئی۔ "واریر-VIII” مشق دونوں ممالک کے درمیان ہر سال ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کا آٹھواں مرحلہ ہے۔

    مشق کا اختتام 10 دسمبر 2024 کو "ڈسٹنگوشڈ وزیٹرز ڈے” کی تقریب کے ساتھ ہوا، جو کہ تِلا فیلڈ فائرنگ رینج پر منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں راولپنڈی کور کے کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز، ے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ چین کے سفیر برائے پاکستان اور چین کے دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔مشق کے دوران دونوں فوجوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عملی طور پر حصہ لیا۔ مختلف حربوں، ہتھیاروں اور ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے دونوں فوجوں نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا۔تقریب میں شریک اہم شخصیات نے مشق کے دوران فوجی دستوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور انتہائی اعلیٰ معیار کی تعریف کی۔ انہوں نے دونوں ممالک کی افواج کی مشترکہ کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اس مشق کے ذریعے دونوں ممالک کے فوجی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں افواج کی تربیت میں اضافہ ہوگا۔

    یہ مشق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان اور چین کی افواج نے گزشتہ برسوں میں کئی مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کیا ہے، جن کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔”واریر-VIII” مشق نے دونوں ممالک کے فوجی تعاون کو ایک نئی جہت دی ہے اور اس سے دونوں افواج کے درمیان مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان "واریر-VIII” مشق کا انعقاد نہ صرف دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز کے خلاف تعاون کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس مشق سے دونوں ممالک کی افواج میں ہم آہنگی اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔

  • کیا فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی ؟جسٹس محمد علی مظہر

    کیا فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی ؟جسٹس محمد علی مظہر

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے مظاہر علی نقوی کی شوکاز نوٹس کیخلاف درخواست خارج کردی

    عدالت نے شوکاز نوٹس کیخلاف عدم پیروی پر درخواست خارج کی،وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ میرا مظاہر علی اکبر نقوی سے رابطہ نہیں ہوسکا۔عدالت موکل سے رابطہ اور ہدایات کیلئے مہلت دیدے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیس میں کوئی نئی چیز نہیں ہے۔شوکاز نوٹس کیخلاف آئے کونسل کا تو فیصلہ آچکا ہے۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مظاہرعلی نقوی کی شوکاز نوٹس کیخلاف درخواست خارج کردی،عدالت نے شوکاز نوٹس کے خلاف درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی۔

    ای وی ایم،سپریم کورٹ کی طرف دیکھنے کے بجائے پارلیمنٹ جائیں، جسٹس جمال مندوخٰیل
    سپریم کورٹ، الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے متفرق درخواست غیر موثر ہونے کے سبب نمٹا دی،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں 2018 کے ضمنی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد پارلیمنٹ میں رپورٹ بھی جمع کرادی گئی ہے، اب معاملے کو پارلیمنٹ نے دیکھنا ہے ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی میں اس معاملے کو اٹھائیں،سپریم کورٹ کی طرف دیکھنے کے بجائے پارلیمنٹ جائیں، کیس ختم ہو چکا، پھر متفرق درخواست پر سماعت کیسے چلتی رہی، آج ہم درستگی کرنا چاہتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں فون ٹیپنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سماعت سات رکنی آئینی بینچ نے کی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2013 سے قانون موجود ہے ،قانون کے مطابق آئی ایس آئی اور ائی بی نوٹیفائیڈ ہیں ،قانون میں فون ٹیپنگ کا طریقہ کار ہے ،عدالتی نگرانی بھی قانون میں ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون کے مطابق تو فون ٹیپنگ کیلئے صرف جج اجازت دے سکتا ہے،کیا کسی جج کو اس مقصد کیلئے نوٹیفائی کیا گیا ہے ؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فون ٹیپنگ کا قانون مبہم ہے جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہمیں رپورٹس یا قانون میں دلچسپی نہیں نتائج چاہیے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جج کی نامزدگی بارے مجھے علم نہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ
    اس مقدمے کا اثر بہت سے زیر التواء مقدمات پر بھی ہوگا ،یہ معاملہ چیف جسٹس کے چیمبر سے شروع ہوا چیف جسٹس کہا ں جائے گا ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون ہر کسی کو ہر فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دیتا ،اے او آر نے کہا کہ اس مقدمے میں درخواست گزار میجر شبر سے رابطہ نہیں ہو رہا ،میجر شبر کے وکیل بھی گزشتہ سال فوت ہو چک،عدالت نے کیس پر ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

  • واٹس ایپ ہیکنگ کی شکایات میں اضافہ،بچاؤ کیسے؟

    واٹس ایپ ہیکنگ کی شکایات میں اضافہ،بچاؤ کیسے؟

    ملک بھر میں واٹس ایپ ہیک ہونے کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے، جس میں اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف علاقوں سے صارفین کی جانب سے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کراچی کے دفتر میں بھی اس سلسلے میں پچاس کے قریب شکایات موصول ہو چکی ہیں۔

    صرف عام شہری نہیں، بلکہ اہم سماجی اور سرکاری شخصیات بھی اس سائبر کرائم کا شکار ہوئی ہیں۔ ان شخصیات میں سپریم کورٹ کے سابق سینئر جج جسٹس وجیہ الدین احمد اور سی پی ایل سی کے سابق چیف احمد چنائے شامل ہیں، جن کے واٹس ایپ اکاؤنٹس حالیہ دنوں میں ہیک کر لیے گئے ہیں۔ ان ہیکنگ واقعات نے سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کراچی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عامر نواز نے بتایا کہ ان کے پاس متعدد شکایات آئیں ہیں جن میں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ہیکنگ واقعات میں فنانشل فراڈز میں ملوث ملزمان شامل ہیں، جو جنوبی پنجاب میں بیٹھ کر یہ وارداتیں کر رہے ہیں۔عامر نواز کے مطابق ملزمان شہریوں کو واٹس ایپ کے ذریعے میسج کرتے ہیں اور ان سے پیسے طلب کرتے ہیں۔ یہ افراد فون کی رابطہ لسٹ میں موجود لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور سادہ لوح شہری ان کی دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پیسے بھیج دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے نے کئی شہریوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو بحال کیا ہے اور اس سلسلے میں ملتان کے سائبر کرائم سرکل سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ ان شکایات پر تحقیقات جاری ہیں۔

    سائبر کرائم حکام نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ان تدابیر میں شامل ہیں:
    اپنا 6 نمبر والا رجسٹریشن کوڈ کسی سے شیئر نہ کریں جو ایس ایم ایس یا ای میل کے ذریعے آتا ہے۔
    ٹو اسٹیپ ویری فکیشن کو فعال کریں تاکہ اکاؤنٹ میں کسی غیر متعلقہ فرد کا دخل نہ ہو سکے۔
    پروفائل فوٹو کی پرائیویسی کو مضبوط بنائیں اور صرف اپنے جاننے والوں کو اسے دیکھنے کی اجازت دیں۔
    اگر کوئی شخص آپ سے پیسے طلب کرے، تو اس سے کال کرکے تصدیق کریں۔
    غیر ضروری اور غیر محفوظ لنک کھولنے سے گریز کریں۔
    حکام نے کہا ہے کہ ان تدابیر کو اختیار کر کے واٹس ایپ کے اکاؤنٹس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور سائبر کرائمز سے بچا جا سکتا ہے۔

    واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ایف آئی اے نے شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنی معلومات کو محفوظ رکھیں تاکہ اس طرح کے فراڈز سے بچا جا سکے۔