Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لیہ: ریاست مخالف پوسٹ کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج

    لیہ: ریاست مخالف پوسٹ کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج

    پولیس تھانہ کروڑ کی ٹیم نے ایک اہم کارروائی کے دوران ریاست مخالف اور سکیورٹی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز پوسٹس شیئر کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

    تھانہ کروڑ کی سیکیورٹی ٹیم کے اہلکار، کنسٹیبل نیاز احمد اور شوکت حسین نے اپنی ڈیوٹی کے دوران فیس بک پر ایک اشتعال انگیز پوسٹ کا سراغ لگایا جس میں ریاست اور سکیورٹی اداروں کے خلاف مواد موجود تھا۔پولیس رپورٹ کے مطابق، فیس بک پر پوسٹ کرنے والا شخص شیخ زاکر احمد، جو کہ شیخ محمد فردوس کا بیٹا ہے اور ضلع لیہ کے علاقے چک نمبر 100 بی کا رہائشی ہے، ریاست مخالف مواد شیئر کر رہا تھا۔ ان پوسٹس میں سکیورٹی فورسز کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی تھی، جو کہ ملکی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ فرد کے فیس بک اکاؤنٹ کی تحقیقات کی اور اس سے متعلق تمام مواد کے اسکرین شاٹس حاصل کیے۔ اس کے بعد، 16 ایم پی او اور 124 اے پی پی سی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملزم شیخ زاکر احمد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ جب سیکیورٹی کانسٹیبل نیاز احمد اور شوکت حسین نے فیس بک پر شیخ زاکر احمد کے اکاؤنٹ کو چیک کیا تو اس میں ریاست مخالف مواد اور اشتعال انگیز پوسٹس کی بڑی تعداد پائی گئی۔ ان پوسٹس میں لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے کارروائی کی گئی تاکہ اس غیر قانونی عمل کو روکا جا سکے۔پولیس نے اس حوالے سے ابتدائی رپورٹ درج کی اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مذکورہ شخص کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی مواد میں سکیورٹی اداروں کے خلاف مواد کا اشتعال انگیز انداز میں پرچار کیا جا رہا تھا، جس سے عوام میں انتشار اور بدامنی پھیلنے کا خدشہ تھا۔

    تھانہ کروڑ کے ایس ایچ او نے اس مقدمے کی مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے اور مقدمے کی نقل انویسٹیگیشن آفیسر کے حوالے کی جا چکی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مکمل تحقیقات کے بعد ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ اس کے جرم کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔پولیس نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایسے مواد کی نشاندہی کریں جو ریاست یا سکیورٹی اداروں کے خلاف ہو اور کسی بھی ایسے غیر قانونی عمل کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔تھانہ کروڑ کی جانب سے عوام کو یقین دلایا گیا ہے کہ ملکی امن و امان کے لیے ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز  کے اعزاز میں بیجنگ میں خصوصی ظہرانہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اعزاز میں بیجنگ میں خصوصی ظہرانہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے اعزاز میں بیجنگ میں خصوصی ظہرانہ دیا گیا

    کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ حکام نے وفد کاپرتپاک خیر مقدم کیا،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کی نائب منسٹر سن ہائی ین (Ms. Sun Haiyan)اور دیگرحکام سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا، جامع شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے پاک چین تعلقات کے فروغ کیلئے جڑواں صوبوں اور شہروں کی تجویز پیش کر دی،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب میں چینی سرمایہ کاری کیلئے بھرپور تعاون کی پیشکش کی اور کہا کہ موسیماتی تبدیلی، ویسٹ مینجمنٹ، ایگریکلچر اور یوتھ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں چین کے تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔ چین کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کیلئے پختہ عزم رکھتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان گہری دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دو طرفہ تعلقات کے استحکام میں کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کا کردار فراموش نہیں کرسکتے۔

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

  • ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اسرائیلی حملوں اور گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کے قبضے کی توسیع کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے۔

    تہران کی جانب سے "جارحیت کو روکنے” اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانے کا یہ مطالبہ اس کے بعد سامنے آیا جب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے شام کی سرزمین میں ایک "سیکیورٹی زون” قائم کرنے کا حکم دیا ہے، جو اقوام متحدہ کے مطابق 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا گولان کی بلندیوں میں اقدام "مقبوضہ رژیم کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ رویے کی علامت ہے اور یہ تمام بین الاقوامی قانونی اصولوں اور ضوابط کی بے حرمتی ہے۔”

    اسرائیل نے 1967 میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اسے باقاعدہ طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ یہ خطہ شام کی سرزمین تھا جسے اسرائیل نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کھلا جنگی تصادم ہو سکتا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب 7 اکتوبر 2023 کو ایران کے حامی گروپ حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • ایف آئی اے کو ایف بی آئی کی طرز پر جدید ترین ادارہ بنانا چاہتے ہیں،محسن نقوی

    ایف آئی اے کو ایف بی آئی کی طرز پر جدید ترین ادارہ بنانا چاہتے ہیں،محسن نقوی

    وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکہ کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں پاک، امریکہ تعلقات سمیت دو طرفہ تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، قائم مقام امریکی سفیر نے اسلام آباد میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا، اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو ایف بی آئی کی طرز پر جدید ترین ادارہ بنانا چاہتے ہیں.ایف آئی اے کوجدیدادارہ بنانے کیلئے امریکی تعاون کا خیر مقدم کریں گے. امریکہ ایف آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں تعاون فراہم کرے گا، ملاقات میں اتفاق کیا گیا،امریکہ نیشنل فرانزک ایجنسی کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال کرنے میں بھی معاونت فراہم کرے گا.

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اداروں کی استعدادکار بڑھانے میں امریکی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے. دہشتگردی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے فورسز کو جدید آلات کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے.سول آرمڈ فورسز کو جدید آلات اور سازوسامان سے لیس کرنا اولین ترجیح ہے.پاکستان اور امریکہ کے مابین بہترین تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں.قانونی دستاویزات کے حامل کسی بھی غیر ملکی کو اسلام آباد سے نہیں نکالا جا رہا. غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو اسلام آباد میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،

    نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے پر پاکستانی حکام کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں،نیٹلی بیکر نے وزیر داخلہ کو پولیس افسران کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی.ملاقات میں پاکستان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے انعقاد پر بھی گفتگو کی گئی، نیٹلی بیکر نے چیمپئنز ٹرافی کے پاکستان میں انعقاد کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اس موقع پر کنٹری ڈائریکٹر آئی این ایل لائن نیلسن بھی ملاقات میں موجود تھے

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ملکی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے ،شرجیل میمن

  • آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

    آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے کیمبرین پٹرول میں طلائی تمغہ جیتنے والی پاک فوج کی ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ٹیم کے ارکان کو شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

    کیمبرین پٹرول کی مشق 4 سے 13 اکتوبر 2024 تک برطانیہ میں منعقد ہوئی تھی اور اسے عالمی سطح پر سب سے مشکل ترین فوجی مشقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس سال کی مشق میں 143 ممالک کی افواج کی ٹیموں نے حصہ لیا، اور پاک فوج کے دستے نے ایک بار پھر اپنی بے مثال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی بار طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ اس فتح نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی افواج کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ "کیمبرین پٹرول میں جیت نہ صرف پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جذبے کی علامت ہے، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ذریعے ہماری افواج نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔”آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مزید کہا کہ "پاک فوج کے جوانوں نے اپنی قربانیوں اور محنت سے دنیا کو یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پاکستان کی افواج نہ صرف مضبوط ہیں بلکہ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بے نظیر ہے۔”

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کیمبرین پٹرول میں جیتنے والی ٹیم کے ارکان کو ان کی محنت اور عزم کے لئے شاباش دی اور ان کی کامیابی کو قوم کے لیے ایک عظیم اعزاز قرار دیا۔

    کیمبرین پٹرول ایک انتہائی دشوار گزار فوجی مشق ہے جس میں دنیا بھر کی افواج اپنی جسمانی، ذہنی، اور تکنیکی صلاحیتوں کا امتحان لیتی ہیں۔ یہ مشق برطانیہ کے دیہی علاقوں میں منعقد کی جاتی ہے اور افواج کے درمیان سخت مقابلے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس میں حصہ لینے والے دستوں کو جنگی ماحول میں مختلف مشکل ترین حالات سے نمٹنا پڑتا ہے، جس کے دوران ان کی فنی مہارت، جسمانی طاقت، اور ٹیم ورک کا سختی سے امتحان لیا جاتا ہے۔پاکستانی فوج کا یہ کامیابی کا تسلسل پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کی دنیا بھر میں پہچان بن چکا ہے، اور یہ ملک کی دفاعی قوت کی ایک اور بڑی مثال ہے۔

  • کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

    کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ حکومت نے کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اس بات کا انکشاف کیا کہ سندھ حکومت نے اس منصوبے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی سے حیدر آباد اور پھر حیدر آباد سے سکھر تک بلٹ ٹرین یا سپیڈ ٹرین چلانے کے منصوبے پر بات چیت ہو رہی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف صوبے کے اندرونی روابط میں بہتری آئے گی بلکہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں بھی انقلاب آئے گا۔

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ اگرچہ کئی منصوبوں پر سوالات اُٹھائے گئے ہیں، جیسے پنک بسوں اور پنک ٹیکسی منصوبے، لیکن سندھ حکومت نے ان منصوبوں کو شروع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب پنک ٹیکسی منصوبہ بھی تکمیل کے قریب ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ کراچی میں گرین لائن چل رہی ہے، اورنج لائن مکمل ہو چکی ہے، اور ریڈ اور یلو لائن پر کام جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر توجہ دی ہے اور تمام تر چیلنجز کے باوجود ان منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر بلٹ ٹرین یا اسپیڈ ٹرین کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ کراچی اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں کے درمیان فاصلے کو کم کرے گا اور لوگوں کو تیز اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کرے گا۔

    اس بلٹ ٹرین منصوبے کے کامیاب ہونے کی صورت میں سندھ میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ترقی ہو گی بلکہ یہ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا، جو کہ صوبے کی معیشت کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ملکی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے ،شرجیل میمن

  • مستحکم اور خوشحال پاکستان کیلے عوام کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے،شازیہ مری

    مستحکم اور خوشحال پاکستان کیلے عوام کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی رہنما،رکن قومی اسمبلی، پارٹی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ اس کے فروغ اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ 1948 ء کا اقوام ِمتحدہ کا انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ مذہبی اور معاشرتی حقوق کا عکاس ہے، پاکستان کا آئین بھی تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ،جمہوریت، امن، آزادی اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مستحکم اور خوشحال پاکستان کیلے عوام کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، 1973ع کے آئین میں شہید بھٹو کے دئیے گئے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، اپنے دور اقتدار میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان میں انقلابی اقدام اٹھائے، پیپلزپارٹی ہمیشہ مزدوروں، کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی ضامن رہی ہے، انسانی حقوق کے عالمی دن پر مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہیے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے،

  • انسانی حقوق کے تحفظ کی قانون سازی کیلئے  اقدامات اٹھائے،وزیراعظم

    انسانی حقوق کے تحفظ کی قانون سازی کیلئے اقدامات اٹھائے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 1948 میں اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی منشور کو اپنانے کے بعد ، ہر برس 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام عالم کو یاد دلاتا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور اقدار کے تحفظ کی پاسداری کریں۔ تاہم، یہاں میں اس بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ اقوام متحدہ کی طرف سے انسانی حقوق کے اعلامیے کو اپنانے سے بہت پہلے ہمارے مقدس مذہب اسلام نے انسانی اقدار و حقوق کے اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس سال انسانی حقوق کے عالمی دن کا موضوع "ہمارے حقوق، ہمارا مستقبل، ابھی” ہماری روزمرہ کی زندگی میں انسانی حقوق کی اہمیت اور مطابقت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ہے۔ ہمارے لیے یہ بات اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کی گئی قانون سازی، پالیسی اور اقدامات کو عالمی طور پر سراہا گیا ہے ۔ حکومت پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظ کی قانون سازی کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں، خصوصاً معاشرے کے نسبتاً کمزور طبقات بشمول خواتین، بچے، بزرگ شہری، ٹرانس جینڈر افراد، اقلیتوں اور معذور افراد کے بنیادی حقوق، جو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 8-28 میں درج ہیں-انسانی حقوق کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک خود مختار قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، قومی کمیشن برائے اسٹیٹس آف ویمن، اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال قائم کیے گئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ 2024 میں، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو عالمی اتحاد برائے قومی انسانی حقوق کے اداروں نے A-Status NHRI کے طور پر تسلیم کیا ہے، جو پیرس اصولوں کے مطابق ہے۔ یہ پاکستان میں انسانی حقوق کو برقرار رکھنے میں کمیشن کی کوششوں کا عکاس ہے۔ اسی طرح، قانونی قومی کمیشن برائے اقلیتی برادری نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری کوششوں کو مزید تقویت دی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آج جبکہ ہم انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہے ہیں تو ہمیں فلسطینی عوام کی حالت زار کو نہیں بھولنا چاہیے جنہیں غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کا سامنا ہے۔ دنیا کو اپنے دور کے سنگین ترین انسانی المیوں پر آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں اور اسرائیل سے فلسطین کے عوام کی جاری نسل کشی کو فوری طور پر بند کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کی اس وقت تک اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب تک وہ حق خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔ حکومت پاکستان ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کی حمایت کرتی ہے۔ میں اپنے تمام شہریوں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، میڈیا، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، این جی اوز اور سول سوسائٹی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور ایک مزید جامع اور مساوی معاشرے کی تعمیر کے لیے ہاتھ بٹائیں جہاں ہر فرد کے انسانی حقوق کا تحفظ اور احترام ہو۔

  • شامی باغیوں کا فوجی اہلکاروں کے لئے عام معافی کا اعلان

    شامی باغیوں کا فوجی اہلکاروں کے لئے عام معافی کا اعلان

    دمشق: شامی باغیوں نے بشار الاسد کی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے شامی سرکاری فوج کے اہلکاروں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، باغیوں نے شامی اپوزیشن تحریک کے اہم رہنما محمد البشیر کو عبوری انتظامیہ کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

    باغیوں کی جانب سے کیے گئے اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ وہ شامی فوج کے اہلکاروں کو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ اپنی خدمات جاری رکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ جنگی جرائم میں ملوث نہ ہوں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیتے ہوں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی شامی وزیرِ اعظم غازی الجلالی کو بھی پُرامن انتقال اقتدار کے عمل میں تعاون کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ غازی الجلالی کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بیرون ملک تعینات شامی سفیروں کو اپنے کام کو جاری رکھنے کی ہدایت دیں۔

    دمشق میں اس دوران زوردار دھماکے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق، دھماکے میں شامی فوج کی اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس دھماکے کی شدت سے پورا شہر دہل گیا اور کئی اہم فوجی تنصیبات تباہ ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ حملہ باغیوں کی جانب سے کیا گیا ہے، لیکن اس کی ذمہ داری کسی گروہ نے ابھی تک قبول نہیں کی۔

    دوسری جانب، یورپ کے مختلف ممالک نے شامی پناہ گزینوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریا اور یونان نے شامی پناہ گزینوں کی درخواستوں پر کام روک دیا ہے۔ ان ممالک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ شام میں جاری سیاسی بے چینی اور جنگ کے سبب مزید پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس فیصلے نے شامی پناہ گزینوں کے لیے ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے، اور ہزاروں افراد مزید مشکل میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

    دمشق میں حالات میں کشیدگی کے باوجود شہر کی سڑکوں پر ہلچل بڑھ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، دمشق آنے والی سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی عوام نئی حکومت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا پھر اپنے روزمرہ کے معاملات نمٹانے کے لیے باہر نکل رہے ہیں۔یہ تمام تبدیلیاں شامی سیاسی منظرنامے میں بڑی ہلچل پیدا کر رہی ہیں۔ باغیوں کی جانب سے عام معافی کا اعلان، نئے عبوری انتظامیہ کا قیام اور عالمی سطح پر شامی پناہ گزینوں کے لیے ہونے والی مشکلات، سب اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ شام میں آنے والے دنوں میں مزید سیاسی اتھل پتھل ہو سکتی ہے۔ شامی عوام اور عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ یہ تبدیلیاں کس سمت میں جاتی ہیں اور اس کا شام کے اندرونی حالات پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

  • شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    اس ہفتے شام بھر میں لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا، درجنوں افراد اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے جنہیں بشار الاسد کی ظالمانہ آمریت کے تحت زبردستی غائب کر دیا گیا تھا۔

    شام کے مشہور "سیڈنایا” جیل کا رخ کرنے والی بھیڑ، جسے بے گناہ افراد کی غیر قانونی حراست، تشدد اور قتل کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس بات کی گواہ ہے کہ اس جیل نے کئی سالوں سے نہ صرف معصوم افراد کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے، بلکہ یہ وہ جگہ بھی ہے جہاں سے واپس آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ دمشق کے شمال میں واقع اس جیل تک جانے کے لیے لوگوں نے میلوں طویل راستہ طے کیا، اور بعض افراد نے گاڑیاں چھوڑ کر اس پہاڑی راستے کو پیدل طے کیا، جہاں خار دار تاروں اور نگرانی کے ٹاورز کے ذریعے جیل کی حفاظت کی جاتی ہے۔

    بشار الاسد کی شان و شوکت، اس کے خاندان کی عیش و عشرت اور اس کے اقتدار کے جاہ و جلال کے حوالے سے کئی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں، لیکن اسی کے جیلوں نے شام کے عوام کے لیے 50 سالہ حکمرانی کے دوران انسانیت سوز مظالم کی ایک طویل داستان رقم کی ہے۔سیڈنایا جیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جیل 1970 کی دہائی سے ہی اسدی حکومت کے مخالفین کے لیے ایک "بلیک ہول” کی طرح تھی، جہاں جسے چاہا غائب کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، 2011 سے 2015 تک 13,000 افراد کو پھانسی دی گئی۔ اسی جیل کو "سلار ہاؤس” یعنی گوشت کا منڈا کہا جاتا تھا، کیونکہ یہاں پر ہونے والی درندگی اور قتل عام نے اسے بدنام کر دیا۔

    سیریا کے باغیوں کے دمشق پر تیز حملے کے دوران یہ جیل ان اولین مقامات میں سے تھا جس پر ان کی توجہ مرکوز تھی۔ اس کے بعد جب باغی جنگجووں نے اتوار کو بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا اور انہیں روس فرار ہونے پر مجبور کر دیا، تو سیڈنایا جیل سے قیدیوں کی رہائی کی تصاویر منظر عام پر آئیں۔ اس کے بعد شام کے عوام نے سوشل میڈیا پر اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش کے لیے اپیلیں شروع کر دیں۔پیر کو جب خبر رساں ادارے سی این این کی ٹیم سیڈنایا پہنچی تو باہر اور اندر لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ "اللہ اکبر” کے نعرے اور خوشی کے گولیوں کی آوازوں سے فضا گونج رہی تھی۔

    ایک خاتون، مایسون لبوت، جو کہ جنوبی شام کے شہر درعا سے آئی تھی، جو عرب بہار کے آغاز میں حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز بن گیا تھا، نے بتایا کہ وہ اپنے تین بھائیوں اور داماد کی تلاش میں ہیں۔ مایسون نے کہا، "جیل کے سرخ حصے میں وہ لوگ دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔ وہاں ہوا کی کمی ہے کیونکہ وینٹیلیشن کام نہیں کر رہا، اور آخرکار وہ سب مر جائیں گے۔ اللہ کے لیے ان کی مدد کریں۔”

    یہ وہ افواہیں تھیں جنہوں نے پیر کے دن لوگوں کو جیل کی طرف دھکیل دیا تھا کہ کہیں جیل کی گہرائیوں میں ایک زیرِ زمین حصے میں درجنوں، یا ہزاروں لاپتہ شامی قیدیوں کی قسمت کا پتہ نہیں چل سکا۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ زیرِ زمین حصہ موجود بھی ہے یا نہیں، جس سے خوف اور بے چینی مزید بڑھ گئی ہے کہ ان لاپتہ افراد کا کبھی سراغ نہ مل سکے۔

    شامی شہری دفاع کے رضاکار ادارے "وائٹ ہیلمٹس” نے پیر کو سیڈنایا جیل میں خصوصی ٹیمیں بھیج کر کنکریٹ کی دیواروں میں سوراخ کیے۔ باغی جنگجوؤں نے لوگوں کو خاموش رہنے کی درخواست کی تاکہ جیل کے اندر قید ممکنہ افراد کی آوازیں باہر سنی جا سکیں۔ ایک خاموشی چھا گئی اور کچھ لوگ دعا کے لیے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے، لیکن جیل کے اندر کوئی نیا راستہ نہیں ملا۔”وائٹ ہیلمٹس” نے بعد میں ایک بیان جاری کیا کہ ان کو "خفیہ سیل یا زیرِ زمین تہہ خانوں کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا” اور نہ ہی "جیل کی اندرون حصوں میں کوئی چھپی ہوئی جگہیں دریافت ہوئیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں قید افراد کے بارے میں مزید تلاش کا عمل ختم ہو چکا ہے اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔

    "سیڈنایا جیل میں قید افراد اور غائب شدگان کے لیے تنظیم نے بتایا کہ اتوار دوپہر تک تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا اور جیل میں زیرِ زمین حصوں میں قید افراد کے بارے میں دعوے "بے بنیاد” اور "غلط” تھے۔سیڈنایا جیل کے سابق قیدی، مونیئر الفقیر، نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس جیل میں ایک زیرِ زمین سیل کی سطح ضرور ہے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ اس سے نیچے مزید تہہ خانے موجود ہوں۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ دمشق کی آزادی کے بعد تقریباً 3,000 قیدیوں کو رہا کیا گیا۔پیر کے دن جیل میں تلاش کرنے والے خاندانوں کی مایوسی اور اذیت، ان کے ہاتھوں میں جیل کے بے شمار دستاویزات اور موبائل فون کی ٹارچ لائٹس، اس بات کا مظہر ہیں کہ کئی سالوں تک اپنے عزیزوں کا کچھ پتہ نہ چلنے کی اذیت کیا ہوتی ہے۔

    ایک خاتون نے 12 سال پہلے کی اپنے بھائی کی تصویر دکھائی، جس کا کوئی پتا نہیں چلا۔ اس کا کہنا تھا کہ اب وہ 42 سال کا ہو چکا ہو گا اور اس کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن سے وہ کبھی نہیں ملا۔ "ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر چکا ہے، اللہ ہی جانے”، سوہیل حماوی، 61 سالہ، جو کہ 30 سال سے زائد عرصہ مختلف جیلوں میں قید رہ چکے تھے، بالاخر پیر کو شمالی لبنان کے اپنے گاؤں چیکا واپس پہنچے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ ایک بہت خوبصورت احساس ہے، واقعی بہت خوبصورت۔”

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی