Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کے لئے اقدامات تیز کئے جائیں،وزیراعظم

    شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کے لئے اقدامات تیز کئے جائیں،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی،جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد سیف سٹی کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے اور سیف سٹی کیمروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے،اسلام آباد جیل کی عمارت اگلے سال مارچ تک مکمل کر لی جائے گی،

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، مشیر وزیر اعظم رانا ثناؤاللہ، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ انتشار پھیلا کر تیزی سے مستحکم ہوتی معیشت کو سبوتاژ کرنے کی سازش کرے،اسلام آباد میں گزشتہ دنوں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ ، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کے لئے اقدامات تیز کئے جائیں،اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کے دوران کوئی بے گناہ اور معصوم شہری گرفتار نہ ہو،وزیراعظم شہباز شریف نے انتشار اور فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی کا عمل مؤثر بنانے اور ان کے خلاف ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ فساد پھیلانے والوں کے خلاف قائم کی گئی ٹاسک فورس کو ہر ممکن وسائل فراہم کئے جائیں،وزیراعظم نے وفاقی پراسیکیوشن سروس کو وزارت قانون کے تحت لانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے اسلام آباد جیل کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے اور اس حوالے سے فنڈز فوری جاری کرنے کی ہدایت کی،

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • ٹرمپ کا امریکی شہریت کا پیدائشی حق ختم کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا امریکی شہریت کا پیدائشی حق ختم کرنے کا اعلان

    امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "میٹ دی پریس” کے پروگرام میں کرسٹن ویلکر کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ "آپ کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے” اور یہ کہ وہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام افراد کو بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، بشمول ان امریکی شہریوں کے جن کے اہل خانہ یہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

    ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ آئین کے 14ویں ترمیم میں دی گئی پیدائشی شہریت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے، جس سے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو دی جانے والی شہریت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ پیدائشی شہریت کو ختم کرنے کے لیے ایگزیکٹو ایکشن کے ذریعے کوشش کریں گے، جس کا فوری طور پر قانونی چیلنج سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو "مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اسے ختم کرنا ہوگا”۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت صرف امریکہ تک محدود ہے اور اس طرح کی شہریت دینے والا امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے۔ تاہم، لائبریری آف کانگریس کے مطابق دنیا کے 30 سے زائد ممالک میں پیدائشی شہریت دی جاتی ہے، جن میں کینیڈا اور برازیل بھی شامل ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنے ماس (بے دخلی) منصوبے کو مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم مجرمانہ افراد سے شروع ہوگا، اور پھر دیگر افراد کی بے دخلی کی طرف بڑھا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "ہمیں اپنے ملک سے مجرموں کو نکالنا ہوگا۔ یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن ہمیں قوانین، ضوابط اور قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔”ٹرمپ نے کہا کہ جن افراد نے غیر قانونی طور پر امریکہ میں قدم رکھا، وہ امریکہ کے عوام کے لیے ناانصافی ہیں، جنہوں نے قانونی طریقے سے امریکہ میں آنے کا انتظار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مجرموں سے شروع کریں گے، اور پھر دوسروں کے ساتھ دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔”

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم خاندانوں کو بھی بے دخل کریں گے، اور یہ عمل اسی طرح ہو گا جیسے ان کے پہلے دور حکومت میں خاندانوں کو سرحد پر علیحدہ کرنے کی پالیسی تھی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ "ہم خاندانوں کو الگ نہیں کریں گے، بلکہ ہم پورے خاندان کو انسانیت کے ساتھ اپنے ملک واپس بھیجیں گے۔”انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر کسی غیر قانونی طور پر مقیم فرد کا خاندان امریکہ میں قانونی طور پر مقیم ہے، تو خاندان کو ایک آپشن دیا جائے گا: یا تو وہ فرد ملک سے باہر جائے گا یا پورا خاندان واپس جائے گا۔

    ٹرمپ نے ڈریمرز پروگرام کے تحت آنے والے غیر قانونی تارکین وطن) کے بارے میں نرم موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ "ڈریمرز وہ لوگ ہیں جو بہت کم عمر میں یہاں آئے اور اب وہ وسط العمر افراد ہیں۔ وہ اپنے ملک کی زبان تک نہیں بولتے، ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہے۔”انہوں نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ایک ایسا منصوبہ تیار کرنے پر کام کریں گے جس کے تحت ڈریمرز کو امریکہ میں رہنے کا حق دیا جا سکے۔

    ٹرمپ کے یہ بیانات اور ان کے غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں سخت موقف کے باوجود، ان کی پالیسیوں پر عملی طور پر ایک بڑی قانونی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ پیدائشی شہریت کے خاتمے سے لے کر خاندانوں کی بے دخلی تک کے تمام اقدامات کو امریکی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔امریکی حدود پر غیر قانونی تارکین وطن کے آنے میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے، حالانکہ حالیہ مہینوں میں انتظامیہ کی جانب سے اس پر کچھ قابو پایا گیا ہے۔ ٹرمپ کے انتخابات جیتنے کے بعد ان کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران پیش کردہ سخت امیگریشن پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • بشریٰ بی بی جیل سے روانہ،وارنٹ منسوخ،فردجرم عائد نہ ہو سکی

    بشریٰ بی بی جیل سے روانہ،وارنٹ منسوخ،فردجرم عائد نہ ہو سکی

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس،190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی

    ملزمان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،بشری بی بی عدالت پیش ہوگئی وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے گئے،ملزمان کی استدعا پر ایف آئی اے دریافت کی رپورٹ کی نقول فراہم کر دی گئی،کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی،پراسیکیوشن کی جانب سے وکلاء صفائی کو گواہوں کے 161 کے بیانات کی نقول فراہم کردی گئیں,بیرسٹر سلمان صفدرنے کہا کہ 23 گواہوں کے 161 کے بیان آج فراہم کیے گئے،بیانات ملنے کے بعد فرد جرم کے لیے سات دن کا وقت ہوتا ہے، پراسیکیوشن ٹیم نےعمران خان اور بشری بی بی پر آج ہی فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کا گزشتہ سماعتوں کا کنڈکٹ عدالت کے سامنے ہےدوبارہ عدالت نہیں آئیں گی، بیرسٹرسلمان صفدر نے کہابشری بی بی ملک سے باہر نہیں تھی ضمانتیں لینے کے لیے عدالتوں میں پیش ہو رہی تھی۔

    بشری بی بی نے خود روسٹرم پر جا کر عدالت کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی یقین دہانی کروائی اور کہاجب سزا ہوئی تھی تو خود چل کر جیل آئی تھی،طبیعت ناسازی اور متعدد مقدمات میں ضمانت لینے کے باعث عدالت پیش نہیں ہو سکی تھی،آج بھی عدالت میں پیش ہوئی ہوں آئندہ سماعت پر بھی عدالت آؤں گی۔بشریٰ بی بی نے کہا وہ کوئی گواہ پیش نہیں کرنا چاہتیں، عمران خان نے اپنے گواہ پیش کرنے متعلق عدالت کو آگاہ کیا،

    کیس کی سماعتوں کے بعد بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئی،بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں اپنے شوہر عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی ہے، بشریٰ بی بی خیبر پختونخوا جائیں گی اور وہیں قیام کریں گی،24 نومبر کےاحتجاج کے بعدبشریٰ بی بی کی یہ عمران خان سےایک اہم ملاقات بھی تھی،کیس معمول سےہٹ کرکئی گھنٹے تک طویل چلتا رہا،عمران خان اوربشریٰ بی بی کی طویل نشست ہوئی،بشریٰ بی بی نے عمران خان کو احتجاج سے متعلق آگاہ کیا۔

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور  کی ملاقات

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور کی ملاقات

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور سردار احمد شکیب کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا، باہمی فائدہ مند تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا،نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق بھی ملاقات میں موجود تھے،پاکستان کے دفتر خارجہ میں افغانستان کے ناظم الامور سردار احمد شکیب نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے مابین دیرینہ اور گہرے تعلقات پر بات چیت کی اور دونوں ممالک کے مفاد میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ملاقات کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون اور ترقی کے امکانات بے پناہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان کی استحکام اور خوشحالی کے لئے بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔

    افغانستان کے ناظم الامورسردار احمد شکیب نے بھی دونوں ممالک کے مابین تعاون کی اہمیت پر بات کی اور افغانستان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افغانستان کے عوام کے لئے پاکستان کی حمایت اور تعاون کی تعریف کی۔اس ملاقات میں افغانستان کے خصوصی نمائندے، سفیر محمد صادق بھی شریک تھے، جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے مزید اقدامات کی اہمیت پر بات کی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری تعاون کو مزید فروغ دینے اور دوطرفہ تعلقات کو نئے افق تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    دمشق کے نواحی علاقے میں واقع سیڈنایا ملٹری جیل سے قیدیوں کی رہائی کے بعد شامی حکام اور امدادی تنظیموں کی جانب سے گمشدہ قیدیوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ اس جیل کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے "انسانی ذبح خانہ” کا لقب دیا تھا، اور اب اس جیل کے ان قیدیوں کی بازیابی کے لیے جنگجوؤں کی جانب سے کی جانے والی کارروائی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا جیل میں مزید افراد کو چھپایا گیا تھا۔

    سیرین سول ڈیفنس نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں تاکہ جیل کے ممکنہ خفیہ کمروں یا تہہ خانوں کو تلاش کیا جا سکے جہاں مزید قیدیوں کو چھپایا گیا ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ جیل کی گہرائیوں میں ہزاروں مزید قیدی موجود ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے دمشق کے نواحی علاقے کے گورنریٹ کی طرف سے ایک فیس بک پوسٹ میں جیل کے کارکنوں سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ جیل کے مزید بند دروازوں تک پہنچنے کے لیے دروازوں کے کوڈ فراہم کریں۔ اس پوسٹ نے یہ امید پیدا کی کہ جیل میں گہرے اور پوشیدہ حصوں میں قیدی موجود ہو سکتے ہیں۔

    دریں اثنا، سیڈنایا جیل میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم، ایسوسی ایشن آف ڈیٹینیز اینڈ دی میسنگ ان سیڈنایا پرزن ، نے ان قیاس آرائیوں کو "غلط” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام قیدی اتوار کی دوپہر تک رہا ہو چکے تھے۔ تنظیم کے مطابق، جیل کے تمام قیدیوں کو رہا کرنے کا عمل مکمل ہو چکا تھا اور اب مزید کسی قیدی کی موجودگی کا کوئی امکان نہیں۔منیر الفقیری، جو خود بھی سیڈنایا جیل کے قیدی رہ چکے ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ جیل میں ایک زیر زمین سطح پر قیدیوں کے کمروں کا ایک حصہ موجود تھا، لیکن ان کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ جیل کی گہرائی میں کوئی اور پوشیدہ سیل ہو۔الفقیری نے مزید بتایا کہ جب باغیوں نے سیڈنایا جیل کو ہفتے کے دوران اپنے قبضے میں لیا، تو وہاں کی سیکیورٹی کیمروں نے کچھ افراد کو جیل کے کمروں میں دکھایا جن تک باغیوں کی پہلی رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی کیونکہ یہ کمرے مضبوط دروازوں کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔ تاہم، ضروری سامان ملنے کے بعد ان قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔الفقیری نے اندازہ لگایا کہ تقریباً 3,000 قیدیوں کو رہائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک سفید ہیلمٹس کی ٹیمیں مزید ممکنہ قیدخانوں کی تلاش میں مصروف ہیں، لیکن ابھی تک کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    سیڈنایا جیل نے اپنے قیام سے لے کر اب تک عالمی سطح پر شہرت حاصل کی ہے، خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس کی جیل میں کیے جانے والے بدترین سلوک پر تنقید کی گئی ہے۔ جیل کو "انسانی ذبح خانہ” کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جہاں قیدیوں کو تشویش ناک حالت میں رکھا جاتا تھا اور انہیں جسمانی اذیتیں دی جاتی تھیں۔اب جبکہ جیل کے قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے، شامی شہریوں اور عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا مزید قیدیوں کو بچایا جا سکے گا اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

  • تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    شامی عوام نے بشار الاسد کے محلوں میں لوٹ مار کی، جب وہ روس فرار ہو گئے۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں باغی اور شہری بشار الاسد کے سابقہ محلوں کا دورہ کرتے نظر آئے، اور اس موقع پر شامی ڈکٹیٹر کی عیش و آرام کی زندگی کا کھلا راز سامنے آیا۔

    ایک ویڈیو میں بچے بشار الاسد کے "الروضا” صدارتی محل میں داخل ہوتے ہوئے دکھائی دیے، جب کہ مرد اس محل سے فرنیچر نکال کر باہر آ رہے تھے۔ ایک مسلح شخص کو محل میں رائفل کے ساتھ دیکھا گیا۔ ایک خاتون دمشق کے "المالکی” محلے میں واقع ایک گھر کا دورہ کرتی نظر آئیں، جسے "صدارتی محل” کہا گیا۔اس گھر کی کچن میں صنعتی فریزر اور پیزا اوون جیسے جدید آلات موجود تھے۔ کچن میں ابھی بھی پھل، سبزیاں اور مچھلی رکھی ہوئی تھی، جو اس بات کا غماز تھا کہ شام میں جہاں جنگی حکمت عملی کے طور پر بھوک کو ہتھیار بنایا گیا اور تقریباً 13 ملین لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں، وہیں بشار الاسد کی ذاتی زندگی میں ایسی فراوانی تھی۔

    کچن میں موجود ایک نوٹ بک میں "بیگم صاحبہ” اور "جناب” کے لیے مخصوص کھانے کے مینو اور ترجیحات کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ایک نوٹ میں لکھا تھا، "بیگم صاحبہ کے لیے کھانا: انہیں اسپینج پسند نہیں – ہم دوبارہ اسے نہیں پکائیں گے۔

    یہ لوٹ مار اس وقت ہوئی جب بشار الاسد اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ملک سے فرار ہو گئے اور روس کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کے محلوں کی لوٹ مار ایک علامت بن گئی ہے کہ کس طرح شامی عوام نے اس طویل جنگ کے دوران اپنے حکمران کی عیش و عشرت کی زندگی اور ان کے استحصال کے خلاف ردعمل ظاہر کیا ہے۔یہ واقعہ شامی بحران کی سنگینی کو بھی مزید اجاگر کرتا ہے جہاں ایک طرف عوام نے حکومتی ظلم و ستم اور اقتصادی بدحالی کا سامنا کیا، دوسری طرف حکمران طبقہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا تھا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق شام میں 13 ملین سے زائد افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور یہ حالت جنگ کے دوران بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس دوران بشار الاسد کے محلوں میں موجود خوشحال زندگی کی تصاویر نے دنیا کو ایک نئی حقیقت سے آگاہ کیا ہے۔شامی عوام کی یہ لوٹ مار اس بات کی غماز ہے کہ ایک آمرانہ حکومت کے خلاف عوامی ردعمل آخرکار سامنے آ گیا ہے، جس نے طویل جنگ اور اقتصادی بحران کی تباہ کاریوں کو شدید تر کر دیا۔

    شامی عوام نے اتوار کے روز بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی خوشی میں سڑکوں پر جشن منایا۔ سابق صدر بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد روس فرار ہو گئے، جس کے بعد شامی عوام نے ان کی پانچ دہائیوں پر محیط آمرانہ حکومت کا اختتام دیکھ کر آزادی کا جشن منایا۔شامی اپوزیشن کے جنگجو ٹینکوں پر سوار ہو کر سڑکوں پر نکلے اور خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کی۔ دمشق کے شہریوں نے بھی آزادی کا جشن منایا اور امن کے نشان دکھا کر اس سیاسی تبدیلی کا خیرمقدم کیا۔ یہ حیرت انگیز سیاسی تبدیلی اس وقت آئی جب ملک کو 2011 سے جاری خونریز خانہ جنگی کا سامنا تھا۔دنیا بھر میں شامی کمیونٹیز اس تاریخی موقع پر جشن منارہی ہیں۔ سڈنی سے لے کر اسٹاک ہوم تک، شامی باشندے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ شامی مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد جرمنی میں مقیم ہے، جہاں اتوار کو سینکڑوں افراد نے برلن کی سڑکوں پر احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ کئی افراد نے بشار الاسد کی تصویر پر سرخ کراس کے نشان کے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔

    محمد حمزالی مام، جو کئی سالوں تک شامی حکومت کے ظلم و جبر کا سامنا کر چکے ہیں، نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم نے کئی سال پہلے امید کو کھو دیا تھا، مگر اب امید واپس آ چکی ہے۔ ہم جو بھی حالات ہوں، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم بہت خوش ہیں، یہ اور کچھ نہیں بلکہ ہماری زندگی کا بہترین لمحہ ہے۔”

    سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بھی سینکڑوں شامیوں نے ایک بڑی عوامی جگہ پر جمع ہو کر شامی اپوزیشن کے سبز، سرخ، سیاہ اور سفید رنگوں کے جھنڈے لہرا کر جشن منایا۔ اسی طرح ڈبلن اور لندن میں بھی شامی کمیونٹیز نے آزادی کے اس موقع کو یادگار بنایا۔

    برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں مقیم 19 سالہ طالب علم محمد حاجی محمود نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ خبر ناقابل یقین ہے کہ بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹایا گیا ہے۔ اب شام آزاد ہو چکا ہے، اور ہمارا وقت آ چکا ہے۔ ہم اسے دوبارہ تعمیر کریں گے اور ایک نیا ملک بنائیں گے۔”

    ترکی کے شہر میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ شامی مہاجرین کی بڑی تعداد جو ترکی میں مقیم ہے، نے خوشی کا اظہار کیا۔ گازیانتیپ میں مقیم شامی شہری مجدیت زین نے اے ایف پی کو بتایا، "لوگ بہت خوش ہیں، نہ صرف یہاں بلکہ شام میں اور بیرونِ ملک بھی۔ ہم ظلم سے نجات پا چکے ہیں، ہم بہت خوش ہیں۔ اللہ تمام آمروں کو بشار الاسد کی طرح گرا دے۔”ترکی، جو شام کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے، میں تقریباً 3.1 ملین شامی پناہ گزین مقیم ہیں۔ اس وقت یہ صورتحال شامی عوام کے لیے ایک نیا آغاز اور آزادی کی نوید بن کر ابھری ہے۔

    یہ سیاسی تبدیلی نہ صرف شام کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی بازگشت دنیا بھر میں سنی جا رہی ہے، جہاں شامی عوام نے اپنی آزادی کے حق میں آواز اٹھائی اور اس ظلم و جبر کے خاتمے کا جشن منایا۔

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

  • اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    اتوار کے روز جب شام کے باغیوں نے دمشق پر قبضہ کیا، اسرائیل نے اپنے فوجی دستوں کو حکم دیا کہ وہ اس بفر زون کو قبضے میں لے لیں جو اسرائیلی مقبوضہ گولان ہائٹس کو شام کے باقی حصے سے جدا کرتا ہے۔پیر کے روز سی این این کی ٹیمیں اسرائیل کی جانب سے بفر زون میں داخل ہوئی تھیں، جہاں انہوں نے بکتر بند گاڑیاں اور فوجیوں کو ان گاڑیوں کے قریب کھڑا دیکھا۔

    اتوار کے روز گولان ہائٹس کے دورے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا: "میں نے وزیر دفاع کے ساتھ اور کابینہ کی مکمل حمایت کے ساتھ، کل اسرائیلی دفاعی افواج کو بفر زون اور اس کے قریب غالب پوزیشنوں پر قبضہ کرنے کا حکم دیا ہے… ہم کسی بھی دشمن قوت کو اپنی سرحد پر قدم جمانے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

    یہ بفر زون، جو 1974 میں قائم کیا گیا تھا، شام کے اندر ایک غیر فوجی علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے امن دستوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ اسرائیل نے 1967 میں گولان ہائٹس پر قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اسے اسرائیل کے حصے کے طور پر ضم کر لیا تھا۔

    اسرائیل کی فوج نے پیر کو یہ بھی کہا کہ اس نے شام میں "اسٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام، کیمیائی ہتھیاروں کی باقیات اور طویل فاصلے کی میزائلوں اور راکٹوں” کو نشانہ بنایا ہے تاکہ وہ انتہا پسند گروپوں کے ہاتھوں میں نہ آئیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گِدیون ساآر نے پیر کو ایک میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج نے "سرحد کے قریب اسٹریٹجک علاقوں پر عارضی اور مخصوص کنٹرول” بھی سنبھال لیا ہے تاکہ 7 اکتوبر کے حملے جیسے کسی واقعے سے بچا جا سکے۔ساآر نے کہا: "شام میں ایرانی قبضہ ختم ہو چکا ہے۔ بشار الاسد نے طویل عرصے تک اپنے لوگوں کی بجائے غیر ملکی افواج پر انحصار کیا تھا اور اس کی حکمرانی کا خاتمہ غیر متوقع نہیں ہونا چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "ایران یہ سوچتا تھا کہ وہ پورے خطے کو کنٹرول کر سکے گا، لیکن اس کی یہ آرزو حقیقت کی چٹانوں سے ٹکرا کر ناکام ہو چکی ہے۔”ساآر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام میں اقلیتی گروپوں جیسے کردوں، دروزوں، عیسائیوں اور علویوں کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ علوی ہی اسد حکومت کی بنیاد تھے۔

    شام کے مستقبل کے حوالے سے ساآر نے کہا کہ ایک دہائی قبل انہوں نے کہا تھا کہ "یہ سوچنا کہ شام ایک ملک کے طور پر اپنی تمام سرزمین پر مؤثر حکمرانی اور خودمختاری برقرار رکھے گا، غیر حقیقت پسندانہ ہے۔””منطقی طور پر، ہمیں شام میں مختلف اقلیتی گروپوں کے لیے خودمختاری کی کوشش کرنی چاہیے، شاید ایک وفاقی ڈھانچے کے تحت۔”

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

  • ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کے باغیوں کا پرچم پیر کے روز روس کے دارالحکومت موسکو میں شام کے سفارتخانے پر لہرایا گیا، یہ اس وقت ہوا جب باغی فورسز نے اتوار کو دمشق کا کنٹرول حاصل کیا۔

    روس شام کا سب سے وفادار اتحادی رہا ہے اور شامی صدر بشار الاسد اپنی حکومت کے زوال کے بعد فوری طور پر روس فرار ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسد اتوار کے روز اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد روس کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔روس کے سفارتی سروسز نے سی این این کو بتایا کہ شام کا سفارت خانہ اب بھی آپریشنل ہے، حالانکہ حکومت کا زوال اور ملک میں بغاوت کے بعد حالات غیر معمولی طور پر بدل چکے ہیں۔

    اسد حکومت کے خاتمے کے بعد، دمشق کی سڑکوں پر خوشی کا سماں تھا۔ شہری سڑکوں پر نکل آئے، باغی جنگجو ٹینکوں پر سوار ہو کر مارچ کرتے رہے اور خوشی کے طور پر ہوائی فائرنگ کرتے رہے۔ اس دوران مقامی باشندے بھی خوشی میں شامل ہوئے اور امن کے نشان کے طور پر انگلیوں کے اشارے دکھاتے ہوئے اس تاریخی موڑ کا جشن مناتے نظر آئے۔شام میں 2011 سے جاری خانہ جنگی کے دوران، لاکھوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں اور پورا ملک تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔ باغیوں کی جیت کو اس بحران کے خاتمے کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم یہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر روس اور ایران جیسے اہم اتحادیوں کی مداخلت کے پیش نظر۔

    دمشق میں باغی فورسز کی جیت نے شام میں ایک نیا باب کھول دیا ہے، اور اب عالمی برادری کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ ملک کی سیاسی صورتحال کیسے مزید ترقی کرتی ہے اور اس کی معیشت اور امن کی حالت کس طرح بحال ہو سکتی ہے۔

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

    دوسری جانب کریملن نے پیر کو بشار الاسد کی موجودگی پر خاموشی اختیار کی اور اس بارے میں کسی بھی قسم کی وضاحت دینے سے گریز کیا کہ آیا روس نے شام کے برطرف صدر کو پناہ دی ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم اس وقت بشار الاسد کی موجودگی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔” تاہم، انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ آیا روس نے واقعی الاسد کو پناہ دی ہے۔جب پیسکوف سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا پناہ دینے کا فیصلہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کیا تھا، تو ان کا جواب تھا، "یقیناً، ایسی فیصلے ریاستی سربراہ کے بغیر نہیں کیے جا سکتے۔ یہ ان کا فیصلہ ہے۔ لیکن اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہا جا سکتا۔”ایک روسی سرکاری ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ بشار الاسد اور ان کے اہل خانہ نے ماسکو پہنچنے کے بعد روس میں پناہ حاصل کی ہے، اور ریاستی میڈیا نے اسے "انسانی وجوہات” کے تحت قرار دیا ہے۔پیسکوف سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ آیا پوتن اور بشار الاسد کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ "صدر کے سرکاری شیڈول میں ایسی کوئی ملاقات شامل نہیں ہے” اور اس بات سے گریز کیا کہ ان کی آخری ملاقات کب ہوئی تھی۔

    کریملن نے شام میں اپنی فوجی اڈوں کے حوالے سے چیلنجز کا اعتراف کیا، اور کہا کہ "اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ جو سیکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں، ان سے رابطہ کیا جائے۔”جب پیسکوف سے یہ پوچھا گیا کہ کیا روس شام میں اپنے فوجی اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو انہوں نے کہا کہ "ابھی اس بارے میں بات کرنا بہت جلدی ہے،” اور مزید کہا کہ "وہ لوگ جنہیں اقتدار ملے گا، ان کے ساتھ اس پر سنجیدہ بات چیت کی ضرورت ہوگی۔”پیسکوف نے شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف اپنے ہی فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حمایت میں تیزی سے کمی آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "جو کچھ ہوا وہ شاید دنیا کو حیران کن لگا، اور ہم اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔”

  • حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ہے،

    مدارس رجسٹریشن پر علما اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بل پر تمام جماعتیں متفق ہوئیں، بل سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس ہوا،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ وفاق اور تنظیمات المدارس کا اجلاس 17 دسمبر کو بلایا ہے،ہم صرف مدارس بورڈ نہیں بلکہ ہر مدرسے اور طالب علم کا تحفظ چاہتے ہیں، ہم مدارس کی رجسٹریشن چاہتے ہیں یہ ہمیں کہیں اور دھکیل رہے ہیں، ہم مدارس کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ ڈمی حکومت ہے ،پی ڈی ایم حکومت نے دینی مدارس کے بل پر اتفاق رائے کیا تھا ، ہم ریاست سے تصادم نہیں چاہتے، مدارس کو ایک ایکٹ کیساتھ منسلک کیا جارہا ہے، کے پی کے میں امن و امان تباہ ہو چکا ہے، لوگوں کا قتل عام ہورہا ہے،حکمران ملک بچانے کیلئے فکر مند ہو جائیں، علما کے مقابلے میں علما کو لایا جارہا ہے،ہم ریاست کیساتھ تصادم نہیں چاہتے، ہمیں حکومت کی کوئی تجویز قبول نہیں، جو علما اسلام آباد جمع ہو ئے ہم ان کا بھی احترام کرتے ہیں، یہ علما کو تقسیم کرنےکی سازش ہے، 2019میں دیا گیا نظام صرف ایک معاہدہ ہے، ہم قانون کی بات کر رہے ہیں حکومت اس کو سیاسی اکھاڑا نہ بنائے، اس وقت تک ہمیں حکومت کی کوئی تجاویز قبول نہیں،

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

    مدارس پر تنقید کر کے اصل حقائق نہیں چھپائے جا سکتے۔ترجمان جے یو آئی

    دینی مدارس کے طلبہ عصری تعلیم میں بھی بازی لے گئے

    مدارس،مساجد کی رجسٹریشن کا بل،جے یو آئی سینیٹر کا قائمہ کمیٹی سے واک آؤٹ

    بین المدارس کھیلوں کے مقابلے،ضلع مہمند کے کھلاڑیوں نے جیت اپنے نام کر دی

  • ملک میں چور بازاری کے سوا ایف آئی اے کا کام کیا ؟قائمہ کمیٹی اراکین برہم

    ملک میں چور بازاری کے سوا ایف آئی اے کا کام کیا ؟قائمہ کمیٹی اراکین برہم

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اراکین نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے جرائم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس چیئرمین خرم نواز کی سربراہی میں ہوا جس میں لاپتا افراد کا معاملہ زیر بحث آیا جب کہ اس دوران چیئرمین کمیٹی اور ممبران ایف آئی اے حکام پر برہم ہوگئے،چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے کہا کہ ایف آئی اے نے جرائم کا بازار گرم کر رکھا ہے، کیا داخلہ کمیٹی کے پاس اتھارٹی ہےکہ ایف آئی اے سے جرائم کا حساب لے سکے، جا کر ڈی جی ایف آئی اے کو بتا دیں کہ یہ نہیں چلے گا۔

    ممبر داخلہ کمیٹی چوہدری نصیر نے کہا کہ میرے ضلع سے ایک شخص ڈیڑھ سال سے لاپتا ہے، 2 کروڑ روپے مانگے جارہے ہیں اور ڈیمانڈ کرنے والا ایران میں بیٹھا ہے، ایف آئی اے نےکہا ڈی جی سے رابطہ کریں لیکن کیاعام آدمی ڈی جی ایف آئی اے سے رابطہ کرسکتا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ملک میں چور بازاری کے سوا ایف آئی اے کا کام کیا ہے،کمیٹی ممبر حنیف عباسی نےکہا کہ پہلے نبیل گبول پھر میں نے اور آج چوہدری نصیر نے ایف آئی اے کے کنڈکٹ پر سوال اٹھایا ہے، ایف آئی اے والوں کو داخلہ کمیٹی میں بلا کر ہماری توہین نہ ہی کیا کریں،رکن اسمبلی نبیل گبول نے کہا کہ کمیٹی کی کسی بات کی بیوروکریسی کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    چیئرمین خرم نواز نے کہا کہ ایف آئی کے ڈی جی یا ڈائریکٹرکا ذاتی کیس ہو تو ہائیکورٹ سے ضمانت کے باوجود دوسرا کیس بنالیتے ہیں،بعد ازاں کمیٹی نے 14 ماہ سے لاپتا گجرات کے شہری کو ایک ہفتےمیں بازیاب کراکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں زرتاج گل نے سوالات کئے اور کہا کہ کس نے گولی چلانے کا حکم دیا، اموات اور زخمیوں کی مکمل تفصیلات دی جائیں، مطیع اللہ جان کو کیوں گرفتار کیا گیا،زرتاج گل وزیر نے سوال کیا وزیر داخلہ بتائیں کہ کس نے حکم دیا کہ 25 اور 26 نومبر کو شہریوں پر سیدھی فائرنگ کی جائے؟ وزیر داخلہ بتائیں کہ کتنے افراد کی اموات ہوئیں اور کتنے زخمی ہوئے؟وزیر داخلہ بتائیں کہ مطیع اللہ جان کو پمز اسپتال کے باہر سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کیوں گرفتار کیا؟ وزیر داخلہ بتائیں کہ اسلام آباد سے 1100 پشتونوں کو لسانی بنیاد پر کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟وزیر داخلہ بتائیں کہ صحافیوں کو ان کی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے پر دھمکایا کیوں جا رہا ہے؟