Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • روس اور ایران دونوں  اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    روس اور ایران دونوں اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "بشار الاسد اپنے ملک سے بھاگ گئے ہیں اور اس موقع پر روس کی قیادت میں ولادی میر پوتن نے ان کی حفاظت کی تھی۔” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "بشار الاسد نے شامی صدر کے طور پر استعفیٰ دینے کے بعد شام چھوڑا۔” ان کا یہ بیان روسی حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد آیا کہ بشار الاسد صدارت سے مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے روسی فوج کی طاقت کمزور ہوئی ہے اور اب وہ شام میں بشار الاسد کی حفاظت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔” ان کا کہنا تھا کہ "روس اور ایران دونوں ہی اس وقت اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ہیں، اور ان دونوں ممالک کی شام میں موجودگی کی اہمیت بھی ختم ہو گئی ہے۔”ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "یوکرین کی جنگ نے روس کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اب اپنے پڑوسی ملک کی جنگ میں شامل ہو کر اپنا اثر و رسوخ شام میں برقرار نہیں رکھ سکتا۔” روسی فوجیوں کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی تعداد کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ "یوکرین میں جنگ کے دوران چھ لاکھ روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جس کا اثر روس کی شام میں موجودگی پر بھی پڑا ہے۔”

    ٹرمپ نے اس موقع پر یوکرین کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ "روس کی موجودہ کمزوری کے پیش نظر فوری طور پر یوکرین میں جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پوتن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ چین بھی اس معاملے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔”

    دوسری جانب پاکستان کی سینئر سفارتکار سفیر ملیحہ لودھی نے باغیوں کے دمشق پر قبضے کو "سیاسی زلزلہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دمشق پر باغیوں کا قبضہ شام کے اندرونی حالات میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، اور اس سے پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔”

  • عمران خان کی سول نافرمانی کی کال،پی ٹی آئی کور کمیٹی میں اختلافات

    عمران خان کی سول نافرمانی کی کال،پی ٹی آئی کور کمیٹی میں اختلافات

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارٹی کے اندرونی اختلافات دیکھنے کو ملے۔ اجلاس میں عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی تجویز پر پی ٹی آئی کے رہنما آپس میں متفق نہ ہو سکے، جس کے نتیجے میں پارٹی کے اندر اس معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آئے۔

    تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس بیرسٹر گوہر کی صدارت میں ہوا،،اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، بیرسٹر علی ظفر نے بانی تحریک انصاف کے پیغام سے کورکمیٹی کو آگاہ کیا، بیرسٹر علی ظفر نے بانی تحریک انصاف کا پیغام کور کمیٹی کو دے دیا،اجلاس میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی محمد خان نے پارٹی کے بانی عمران خان کی سول نافرمانی کی تحریک کی مخالفت کی۔ علی محمد خان نے واضح طور پر کہا کہ ابھی اس تحریک کو شروع نہ کیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ عمران خان کو اس تحریک کے آغاز سے پہلے منایا جائے تاکہ ان کی جانب سے اس فیصلے پر دوبارہ غور کیا جا سکے۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت تحریک کے آغاز سے متعلق تمام پہلوؤں پر نظر ثانی کرنی چاہیے، کیونکہ اس طرح کی تحریک کے اثرات ملک کی معیشت اور عوام پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اس وقت ترسیلات زر روکنے کا فیصلہ ملک کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اور ہمیں اس معاملے پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

    اجلاس میں شریک پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ نے کہا کہ اگر عمران خان نے ترسیلات زر روکنے کی کال دی تو بیرون ملک مقیم پاکستانی اس پر لبیک کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ ایک اہم پیغام ہوگا اور وہ بانی تحریک انصاف کی ہدایت پر آفیشل چینلز سے ترسیلات زر نہیں بھیجیں گے۔ عالیہ حمزہ کے مطابق اس اقدام سے بیرون ملک پاکستانیوں کا ملک کے ساتھ تعلق مزید مضبوط ہوگا، لیکن اس کے اثرات ملکی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

    اجلاس میں پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی عمران خان کی سول نافرمانی تحریک کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بانی تحریک انصاف نے ترسیلات زر روکنے کا پیغام دیا ہے تو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اس طرح کی تحریک سے ملک میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اگر پارٹی کے بانی نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

    پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سول نافرمانی تحریک کے حوالے سے پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ اس اجلاس میں اختلافات کے باوجود، پارٹی کے کچھ رہنما اس بات پر متفق نظر آئے کہ عمران خان کے فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے، اور اس حوالے سے مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے نتائج سے واضح ہے کہ پارٹی میں سول نافرمانی کی تحریک کے حوالے سے اب تک ایک مؤثر موقف قائم نہیں ہو سکا۔ کچھ رہنما اس تحریک کے حامی ہیں، جب کہ دیگر اس کی ممکنہ منفی اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کب ختم ہوں گے اور عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی آئندہ کس سمت میں پیش قدمی کرے گی۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • پی ٹی آئی امن واستحکام نہیں، افراتفری کو ترجیح دیتی ہے، شازیہ مری

    پی ٹی آئی امن واستحکام نہیں، افراتفری کو ترجیح دیتی ہے، شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ گورنرکے پی کے کی اے پی سی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی بصیرت کا تسلسل ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول سیاسی ہم آہنگی کیلے نیشنل اسمبلی کے فلور سے پی ٹی آئی کو عوام مسائل پر کام کرنے کی صلاح دی، امن وامان کی بدترین صورتحال کا سیاسی حل اور پختونخوا کے عوام کو درپیش مشکلات کا فوری حل ضروری ہے، سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمہ سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے،کےپی کے کی عوام کی بدقسمتی ہےوہاں بارہ سال سے ایسی پارٹی کی حکومت ہے جس نے صوبہ میں عوامی ہم آہنگی، سیاسی استحکام اور انتہاپسندی پر کام نہیں کیا، پی ٹی آئی والے پختون خواہ کے عوام کو اپنی انتہا پسندانہ سیاست کو عملی جامہ پہنانے میں استعمال کررہے ہیں، گورنر کی اے پی سی میں مدعو کیے جانے کے باوجود پی ٹی آئی نے شرکت اورتعاون کرنے سے بھی انکار کیا،گورنر خیبرپختونخواہ کی اےپی سی میں امن کےلیےقابل عمل تجاویز سامنےآئیں،خیبرپختونخواہ میں امن کےخواہاں سب جماعتیں اےپی سی میں شریک تھیں ،،پی ٹی آئی کا اےپی سی میں نہ آنا دہشتگردوں،امن دشمنوں کی سپورٹ کرنےکےمترادف ہے،بدقسمتی سےچیف سیکریٹری خیبرپختونخواہ وزیراعلی کےدباؤ پر اےپی سی میں نہیں آئے،کے پی کے حکومت این ایف سی میں ڈویزیبل پول سے دہشتگردی کے خاتمہ کیلے ایک فیصد حصہ لیتی ہے پر خیر پختوانخواہُکی عوام کو امن میسر نہیں،خیبرپختونخواہ حکومت کو اپنےعوام اور امن سےکوئی دلچسپی نہیں،پی ٹی آئی بدامنی کی ذمہ دار اور امن کی کوششوں کا بائیکاٹ کیا، پی ٹی آئی امن واستحکام نہیں، افراتفری کو ترجیح دیتی ہے،پی ٹی آئی نےخیبرپختونخواہ کو عسکریت پسندوں کےحوالےکردیاہے، وفاقی حکومت اےپی سی کی سفارشات کی روشنی میں خینرپختونخواہ میں امن کےلیےاقدامات کرے،پختونخوا کے عوام اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں،

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،گنڈاپور،شبلی فراز سمیت 25 ملزمان کے وارنٹ

    جی ایچ کیو حملہ کیس،گنڈاپور،شبلی فراز سمیت 25 ملزمان کے وارنٹ

    انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں 25 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے

    عدالت نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، شبلی فراز، کنول شوزب، راشد حفیظ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرد یئے، عدالت نے کرنل شبیر، عمر تنویر بٹ، شہریار آفریدی،زین قریشی،میجر طاہر صادق،عظیم اللہ خان، فہد مسعود،محمد جاوید،ذاکراللہ، کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے،عدالت نےسی پی او راولپنڈی کو وارنٹ گرفتاری پر تعمیل کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ملزمان کو 10 دسمبر کو گرفتار کر کے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا،وارنٹ گرفتاری انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ کی جانب سے جاری کیئے گئے ہیں،ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری عدم حاضری کی بناء پر جاری کیئے گئے ہیں

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،مجموعی طور پر 100 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • مودی کو بم سے اڑانے کی دھمکی،ادارے متحرک

    مودی کو بم سے اڑانے کی دھمکی،ادارے متحرک

    بھارتی وزیراعظم مودی کو دھمکی کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو گئے ہیں

    ممبئی پولیس نے ہفتہ کے روز ایک اہم اطلاع حاصل کی ہے، جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ دھمکی آمیز پیغام راجستھان کے اجمیر سے ایک رجسٹرڈ نمبر سے بھیجا گیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے اور اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو ایجنٹس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بم دھماکہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس پیغام میں دھمکی دی گئی تھی کہ مودی کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیغام بھیجنے والا شخص ممکنہ طور پر ذہنی طور پر غیر مستحکم یا شراب کے نشے میں ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    اس دھمکی کے بعد، پولیس نے انڈین جسٹس کوڈ کی مناسب دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب، ممبئی ٹریفک پولیس کو گزشتہ 10 دنوں کے دوران سلمان خان کو جان سے مارنے کی دھمکی والے دو پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جمعہ، 7 دسمبر 2024 کو بھیجے گئے ایک حالیہ پیغام میں کہا گیا تھا: "اگر سلمان خان اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو انہیں راجستھان کے بشنوئی برادری کے مندر میں جا کر معافی مانگنی ہوگی، یا پھر 5 کروڑ روپے دینا ہوں گے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ بشنوئی گینگ ابھی بھی سرگرم ہے۔”

    اس دھمکی کے پیچھے بشنوئی گینگ کے ملوث ہونے کے شبہات بھی ہیں۔ سلمان خان کو پہلے بھی لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس گینگ کے ارکان پہلے بھی سلمان خان کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں، جن میں اپریل 2024 میں اداکار کے باندرہ میں واقع گھر کے باہر فائرنگ کی واردات شامل ہے۔ لارنس بشنوئی خود قتل اور بھتہ خوری کے کیسز میں احمد آباد کی سابرمتی جیل میں قید ہیں۔

    اداکار سلمان خان کی سیکیورٹی میں اضافے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا، "یہ دھمکی بہت سنجیدہ نہیں لگتی، لیکن ہم کسی بھی قسم کی دھمکی کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔” پولیس نے سائبر ماہرین کے ساتھ مل کر پیغام بھیجنے والے کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افسر نے مزید کہا، "ہم یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ پیغام واقعی بشنوئی گینگ سے جڑا ہوا تھا یا یہ صرف مذاق کا حصہ تھا۔”

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • فورسز کے خیبرپختونخوا میں 3 مختلف آپریشن، 6 جوان شہید، 22 خارجی ہلاک

    فورسز کے خیبرپختونخوا میں 3 مختلف آپریشن، 6 جوان شہید، 22 خارجی ہلاک

    فورسز کے خیبرپختونخوا میں 3 مختلف آپریشن، 6 جوان شہید، 22 خارجی ہلاک ہو گئے،

    6 اور 7 دسمبر 2024 کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف تین مختلف کارروائیوں میں 22 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور متعدد دہشت گردوں کو مار ڈالا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ٹانک ضلع کے علاقے گُل امام میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں خوارج کی موجودگی کی اطلاعات ملنے پر فورسز نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 9 خوارج مارے گئے، جبکہ 6 خوارج زخمی ہو گئے۔ اس آپریشن کے دوران فورسز نے علاقے میں موجود دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

    دوسری کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مزید 10 خوارج کو کامیابی سے ہلاک کیا۔ یہ آپریشن بھی خوارج کے خلاف تھا جو علاقے میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ اس کامیاب آپریشن نے علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔

    تیسری کارروائی تھل ضلع میں کی گئی، جہاں خوارج نے سیکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور 3 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ تاہم، اس دوران ہونے والی شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 بہادر پاکستانی سپاہیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ بہادر جوان اس لڑائی میں شجاعت سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے، جنہوں نے اپنے وطن کے لیے جان کی قربانی دی۔

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان کامیاب آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف اپنے عزم کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے۔ فورسز کی جانب سے علاقے میں دیگر دہشت گردوں کی موجودگی کے حؤالہ سے آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی بھی خوارج کو محفوظ پناہ گزینی کا موقع نہ ملے اور دہشت گردی کی لعنت کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی اور خوارج کی موجودگی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، اور ان کے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہماری قوم کے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ یہ قربانیاں نہ صرف ہمارے سپاہیوں کی بہادری کا غماز ہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ہمارے عزم کی گواہی بھی دیتی ہیں۔

  • نامعلوم شرپسندوں نے تاریخی قلات مونومنٹ کو آگ لگا دی

    نامعلوم شرپسندوں نے تاریخی قلات مونومنٹ کو آگ لگا دی

    قلات: بلوچستان کے علاقے قلات میں نامعلوم شرپسندوں نے تاریخی قلات مونومنٹ کو نذر آتش کر دیا۔ یہ واقعہ گزشتہ رات پیش آیا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق قلات مونومنٹ سی اینڈ ڈبلیو (کمیونیکیشن اینڈ ورکس) کے تحت چند برس قبل تاریخی قلعہ (مِیری) کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔

    قلات مونومنٹ ایک اہم تاریخی مقام تھا، جسے سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے تاریخی ورثے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ مونومنٹ میں قلات کی تاریخ اور اس کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اس وقت پیش آنے والے اس افسوسناک واقعہ سے یہ مقام جزوی طور پر متاثر ہوا ہے۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی ہے اور شرپسندوں کی تلاش کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق، یہ واقعہ شہر کے امن و امان کو خراب کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، تاہم اس بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    قلات کے مقامی افراد اور مختلف سماجی تنظیموں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ تاریخی ورثہ کی حفاظت کی جا سکے۔بلوچستان میں اس قسم کے واقعات کا تسلسل تشویش کا باعث بن رہا ہے، جس سے مقامی عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو مل کر اس واقعے کے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مدارس رجسٹریشن پر سیدھی نہیں ہوتی تو کل لائحہ عمل دیں گے،

    نوشہرہ میں‌مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے اتفاق ہوا تھا کہ مدارس جس صوبے میں چاہیں رجسٹر ہو سکتے ہیں، اب ایوان صدر سے اعتراض آ رہے ہیں، آصف زرداری خود لاہور اجلاس میں موجود تھے جب بلاول کے ساتھ اس پر اتفاق ہوا تھا،اب ان کے اعتراض کو میں ہاتھ لگانا تو کیا چمٹے سے بھی پکڑنے کو تیار نہیں ہوں ،میرے مدرسے کا طالب علم کالج یونیورسٹی کے نصاب کا امتحان دیتا ہے، اسکی شرح نکالی جائے کہ ہمارا کتنا نوجوان عصری علوم حاصل کر رہا ہے، ہماری شرح بہت زیادہ ہے، اگر بیٹے کے لئے انگریزی پڑھانا مفید سمجھتا ہوں تو امت کے بچوں کے لئے کیوں مفید نہیں سمجھوں گا، کیا دارالعلوم دیوبند نے عصری علوم کا کبھی انکار کیا، تاریخ بھی تو پڑھیے گا، مدرسہ کیوں وجود میں آیا، جو مدرسہ برصغیر میں ہے وہ 1857 سے پہلے کیوں برصغیر میں نہ تھا، اس پر سوچنا چاہیے، اسلام ،علما ہر جگہ ہیں، آج بھی کہنا چاہتا ہوں میری بیوروکریسی جتنی بھی خوش نما، خوبصورت اور معصوم الفاظ میں ہمدردی کے الفاظ استعمال کریں کہ مدارس کو مین سٹریم میں لانا چاہتے ہیں، فضلا کو روزگار دلانا چاہتے ہیں ،یہ وہ زہر ہیں جو آپ ہمیں دینا چاہ رہے، ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں، یہ الیکشن دھاندلی کا الیکشن ہے اور یہ حکومت قانونی اور آئینی نہیں ہے، بس ایک زبردستی والی حکومت ہے، اگر خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی آئےگی تو ہم اس کا حصہ نہیں ہونگے،مدارس کو رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں لیکن ریاست سے تصادم نہیں چاہتے ،دینی مدارس کو حکومت کے اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں ،

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

  • میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ میں بشریٰ بی بی کے ساتھ فل ٹائم تھا،آخر تک تھااور ان کو وہاں سے لے کر آنا، سب کچھ میں نے کیا، اب اُس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں ان کی کوئی رائے ہے، تو وہ ان کی ذاتی رائے ہے،وہی جواب دے سکتی ہیں

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ہماری تو تاریخ ہے پانی پت پر کتنے حملے ہوئے تھے ابھی تو ہم نے پانچ کئے ہیں ابھی تو بہت رہتے ہیں انشااللہ فتح کریں گے اسطرح نہیں مانیں گے تو فتح کرکے دکھائیں گے، پانی پت کے برابر آ چکے ،سومنات کی طرف بڑھیں گے،ہم مذاکرات کرنے کی بات ملک کے لئے کر رہے ہیں، آئین نے ہمیں احتجاج کا حق دیا ہے، مذاکرات کرنے ہیں تو کر لیں،نہیں کرنے تو بھی ہم احتجاج کر رہے ہیں،ایک ایسا شخص، جس کی پارٹی نے بلوچستان اور سندھ میں ہماری پارٹی پر پابندی کی قراردادیں منظور کروائیں، اور گولیاں چلانے کے احکامات دینے میں بھی ان کی پارٹی شامل تھی، میں ایسے شخص کی اے پی سی میں جاؤں گا ،ایسا نہیں ہو سکتا، ایسی پارٹی اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے،یہ فارغ ہے، کوٹ ،ٹائی پہنے اور فوٹو نکلوائے بس،جتنی سختی کر لیں ہم اب بہت آگے بڑھ چکے ہیں.اس پیپلز پارٹی نے 1977 میں لاہور کے اندر وہی بھٹو، جسے ہم شہید کہتے ہیں، کرسی کے لیے لوگوں کو مروایا، ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن نے جو کیا، وہ بھی سب کے سامنے ہے اوران انہوں نے مل کر جو حرکت کی ہے، اس کا حساب لیا جائے گا،یہ نفرت پیدا کروا رہے ہیں،کیا چاہتے ہیں کہ لوگ اپنا حق نہ مانگیں، مینڈیٹ چور ہیں یہ غیر آئینی اقدامات کر رہے ہیں،

    قبل ازیں گومل میڈیکل کالج کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ملک کو ایسی قیادت دیں جو اس ملک کو عظیم بنائے، دور دراز علاقوں میں ہیلتھ یونٹ کو فعال بنائیں گے، امن و امان کی صورتِ حال اور دور ہونے سے لوگ ڈیوٹی کرنے نہیں جاتے،جن لوگوں نے تاریخ رقم کی انہوں نے کچھ غیر معمولی کام کیا، آپ بھی وہی لوگ بنیں اور پسماندہ علاقوں میں جا کر خدمت کریں،مجھے خوشی ہے کہ چانسلر کی حیثیت سے موجود ہوں، اگر آپ کا ماضی ٹھیک نہیں ہے تو آپ اپنے حال کو ٹھیک کر لیں، جب دماغ سے سوچیں گے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • سیلز ٹیکس کی چوری سے  کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔وزیر خزانہ

    سیلز ٹیکس کی چوری سے کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس کی چوری سے ملک میں کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔

    کراچی میں اوورسیز چیمبرز آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی مفید پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں بہتر زرِ مبادلہ کما رہی ہیں اور یہ کمپنیاں عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے گزشتہ سال 2.2 ارب ڈالر کا منافع بیرون ملک بھیجا ہے۔وزیر خزانہ نے ان کمپنیوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی ایکسپورٹ بڑھائیں، کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر کو معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ "پرائیویٹ سیکٹر نے ہی معیشت کو لیڈ کرنا ہے،”

    محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے "میڈ ان پاکستان” مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال میں 35 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر کا امکان ہے، جو کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اچھا اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس لگانے کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور اس سلسلے میں 900 سے زائد جعلی پیٹرول پمپس کو سیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ ملک کے خزانے کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سیلز ٹیکس چوری سے ملکی کاروباری ماڈلز میں استحکام نہیں آ سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس چوری کے باعث گزشتہ 6 برسوں میں حکومت کو 6 ٹریلین روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیلز ٹیکس کی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو معیشت کی ترقی متاثر ہو گی۔  اداروں کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ یہ قومی معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی اس گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت معیشت کی مضبوطی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، بشمول کاروباری ماحول میں اصلاحات، سیلز ٹیکس چوری کے خلاف کریک ڈاؤن، اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل