Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    پی ٹی آئی کی سیاست میں جاری تضادات نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے، خاص طور پر 26 نومبر کے احتجاج کے بعد، جب بشریٰ بی بی کے بیانیے اور پی ٹی آئی کی قیادت کے بیانات میں واضح اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اس احتجاج کے حوالے سے عوام تذبذب کا شکار ہیں، کیونکہ دونوں طرف سے پیش کردہ بیانیے ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

    بشریٰ بی بی کی اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاجی دھرنے میں شامل ہونے کے بعد، ان کا پہلا بیان منظر عام پر آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکیلی ڈی چوک میں رہ گئی تھیں اور قیادت نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔ اس بیان میں بشریٰ بی بی نے شکایت کی کہ قیادت اور عوام نے ان کا ساتھ نہیں دیا، اور رات ساڑھے بارہ بجے وہ 30 سے 40 کارکنان کے ہمراہ ڈی چوک سے نکل آئیں۔

    تاہم، بشریٰ بی بی کے اس بیان کے برعکس، شواہد بتاتے ہیں کہ وہ 11 بج کر 57 منٹ پر علی امین گنڈاپور کی گاڑی میں فرار ہو گئیں تھیں۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم احتجاج میں شامل تھے اور نہیں بھاگے، یہ تضاد عوام کے لیے سوالات کا سبب بن رہا ہے کہ بشریٰ بی بی کا بیان اور قیادت کے بیانیے میں کس کا بیان سچا ہے؟ کوئی نہ کوئی جھوٹ بول رہا ہے۔بشریٰ بی بی کے بیان نے پی ٹی آئی قیادت کو بھی بے نقاب کیا ہے جو انہیں اکیلا چھوڑ کر فرار ہو گئی تھی،

    ایک اور قابل ذکر پہلو وہ ہے جس میں بشریٰ بی بی نے پٹھان کارڈ استعمال کیا ،بشریٰ بی بی کا بیان میں پٹھانوں کی غیرت کا ذکر کیا اور قوم کو بانٹنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی، ایک اور غیر واضح بیان، شہادت کے بارے میں غیر مبہم بیان۔ بانی پی ٹی آئی کے نام پر شہید ہونے کا بیانیہ، عوام کو گمراہ کرنے کی سازش،شہادت کا رتبہ صرف دین کے لیے، سیاست کے لیے نہیں،

    بشریٰ بی بی کا یہ بیانیہ پی ٹی آئی قیادت کی سیاست کے جال کو بے نقاب کرتا نظر آ رہا ہے، جہاں ایک طرف قیادت اپنے دعوے کر رہی ہے اور دوسری طرف حقیقت میں بشریٰ بی بی کی باتوں میں تضادات ہیں۔ عوام ابھی تک اس تذبذب کا شکار ہیں کہ آخرکار کس کا بیانیہ سچ ہے، اور کس نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی ہے۔اختتاماً, 26 نومبر کا احتجاج ایک نئے سیاسی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی قیادت کے بیانیے میں تضاد سامنے آ رہا ہے۔ سیاست کی پیچیدگیاں اور جھوٹ بولنے کے الزامات عوام کی نظروں میں اہم سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • حکومت سندھ ٹرانسپورٹ  نظام کو  جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حکومت سندھ کی جانب سے پیپلز بس سروس کے 40 اسٹاپس کی تعمیر دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے

    محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے سندھ بھر میں گاڑیوں کی جدید سائٹیفک فٹنس چیکنگ لازمی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے،سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، پیپلز بس سروس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر صہیب شفیق اور دیگر شریک ہوئے، شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز بس سروس کے 100 اسٹاپس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، باقی اسٹاپس کا کام بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے، دو ماہ کے اندر جنوری 2025 تک باقی ماندہ 40 بس اسٹاپس پر بھی کام مکمل کرلیا جائے،حکومت سندھ ٹرانسپورٹ کے نظام کو دنیا سے ہم آہنگ اور جدید بنانے کی خواہاں ہے، پیپلز بس سروس کے جدید ترین بس اسٹاپ جدید، موثر، اور پائیدار نقل و حرکت کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں،جدید بس اسٹاپس مسافروں کے لئے بیٹھنے کی بہترین جگہ اور موسم سے تحفظ فراہم کریں گے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنانا روڈ سیفٹی اور ماحولیاتی تحفظ کا ایک سنگ بنیاد ہے،
    باقاعدگی سے فٹنس چیکنگ حادثات کو ٹالنے اور نقصان دہ اخراج کو روکنے کے لئے اہم ہے،فٹنس چیکنگ کاربن فوٹ پرنٹ میں کمی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے، شرجیل میمن نے گاڑیوں کے فٹنس چیکنگ یقینی بنانے کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو ضروری اور سخت اقدامات کی ہدایات دی اور کہا کہ حادثات کی روک تھام اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ ناگزیر ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کے منتقلی اور ٹیکس ادائگی کے وقت بھی گاڑیوں کی فٹنس کا موثر نظام لایا جائے، ہر ایک سال کے اندر گاڑیوں کی لازمی فٹنس چیکنگ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں، فٹنس قوانین پر عمل نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی،

  • نومئی مقدمہ،صاحبزادہ حامدرضا سمیت دیگر پر فردجرم عائد

    نومئی مقدمہ،صاحبزادہ حامدرضا سمیت دیگر پر فردجرم عائد

    نومئی کو فیصل آباد میں تھانہ سول لائن اور تھانہ غلام محمد آباد میں ہونے والے جلاؤ گھیراو کے مقدمات میں عدالت نے پی ٹی آئی کے 160 کارکنان پر فرد جرم عائد کر دی۔ صاحبزادہ حامد رضا پر بھی نو مئی کے مقدمے میں فردجرم عائد کر دی گئی ہے

    تھانہ غلام محمد آباد میں درج مقدمے میں بھی کارکنان پر فرد جرم عائد کر دی گئی جبکہ تھانہ سول لائن کے دونوں مقدمات میں بھی کارکنان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت، بشمول شبلی فراز اور زرتاج گل، نے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کر لیا ہے۔زرتاج گل سمیت دیگر قیادت کو 14 دسمبر کو دوبارہ عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔ ان کی طلبی کا مقصد ان کی موجودگی کی ضرورت کو پورا کرنا ہے، جیسا کہ ان کے وکیل نے عدالت میں بیان دیا۔

    انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے بعد سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر وہ جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حساس اداروں پر حملہ کرنے کے کیس میں فرد جرم عائد کی گئی ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان تمام مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔حامد رضا نے مزید کہا کہ "ہمارا بائیو میٹرک کر لیا گیا ہے، لیکن یہ نہیں معلوم کہ کس کس کیس میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔” انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں اور سول نافرمانی ایک جمہوری حق ہے۔ "فیصل آباد میں ریاست کی طرف سے ظلم ہو رہا ہے اور ہمارا حق ہے کہ ہم احتجاج کریں۔” "پلیٹ لیٹس اسی کے گرتے ہیں جس کے خون میں کوئی ملاوٹ شامل ہو۔” انہوں نے کہا کہ اگرچہ پانچ کی بجائے سات سال بھی ہوں، بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنے موقف پر قائم ہیں، اور ممکن ہے کہ رانا ثناءاللہ کی پانچ سال والی بات اپنے لیے ہو۔ آئندہ چند دنوں میں حالات بدل سکتے ہیں اور مذاکرات جاری ہیں۔ "بشری بی بی کے شوہر جیل میں ہیں، اور ان کا حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے باہر نکلیں۔”

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

  • سوشل میڈیا پر   شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگینڈا اور شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات درج کر لئے گئے

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگینڈے میں ملوث افراد کیخلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں،حکومت نے سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والوں کیخلاف سخت ایکشن شروع کررکھا ہے،، ریاست اور ریاستی اداروں کیخلاف منفی پروپیگینڈے میں ملوث مزید 13 افراد کیخلاف مقدمات درج کر لئے گئے،جعلی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلانے والے ملزمان میں سلیم اختر، سلمان ناصر ، ساجد حسین، محمد خالد خورشید ،عاصم ایوب اور بابر مظفر شامل ہیں،شیر عظیم خان، مبین شاہ ، علی حیدر، نادرحسین، چودھری ذوالفقار، جمیل مرزا اور محمد باسط ملک پر بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں،ملزمان کا تعلق گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، لیہ ،رحیم یار خان،مظفر گڑھ، ہہاولنگر، گلگت، غذراور ژوب سے ہے،

    اس سے پہلے بھی 19 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں،ان ملزمان کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • آئی پی پیز سے مذاکرات ، ایک اور کمپنی سے حکومتی معاملات طے

    آئی پی پیز سے مذاکرات ، ایک اور کمپنی سے حکومتی معاملات طے

    پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک اور مثبت پیشرفت ہوئی ہے، آئی پی پی کمپنی سیف پاور کمپنی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں پاور پرچیز ایگریمنٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی ہے۔

    وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق سیف پاور کمپنی کے بورڈ نے معاہدے میں تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جس سے کمپنی اور حکومت کے تعلقات میں ایک نئی سمت سامنے آئی ہے۔سیف پاور کمپنی کے بورڈ نے پاور پرچیز ایگریمنٹ کے تحت ٹیرف میں تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد، کمپنی ’ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے‘ ٹیرف معاہدے پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی کو اپنے ٹیرف کے حوالے سے ٹاسک فورس کی تجویز کردہ تبدیلیوں کو تسلیم کرنا ہوگا، جو اس معاہدے کے تحت ہو رہی ہیں۔

    وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق سیف پاور کمپنی نے اس بارے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پانچ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ سیٹلمنٹ اور معاہدوں کا خاتمہ باہمی اتفاق سے کیا گیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں بہتر مالیاتی استحکام کی امید ہے۔ذرائع کے مطابق، 31 دسمبر تک مزید معاہدوں کی توقع کی جارہی ہے، جس سے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بڑھے گا اور ممکنہ طور پر توانائی کے شعبے میں مزید اصلاحات دیکھنے کو ملیں گی۔

    یہ تمام پیشرفت حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے، تاکہ بجلی کے شعبے میں مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور صارفین کو مناسب قیمتوں پر بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

    یہ معاہدہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون اور مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ اس نوعیت کے مزید معاہدے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی کی تحصیل ٹوپی کے علاقے ڈھیرو لار گدون میں فائرنگ کے ایک دردناک واقعے میں تین افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ پرانی دشمنی کے سبب کیا گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ 7 دسمبر 2024 کو صبح کے وقت پیش آیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں گاڑی کے اندر سوار افراد شدید زخمی ہوگئے۔ گاڑی کا رخ ڈھیرو لار گدون کے علاقے کی طرف تھا، جہاں ملزمان نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جو میاں بیوی تھے، جبکہ ان کے ساتھ موجود ایک قریبی رشتہ دار بھی اس فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی زد میں آنے والی بچی، جو تقریباً 8 سے 9 سال کی عمر کی ہے، شدید زخمی ہوگئی، تاہم وہ زندہ بچ گئی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمی بچی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی طبی امداد کی جا رہی ہے۔

    پولیس نے فوراً موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، کیونکہ علاقے میں ماضی میں دونوں فریقوں کے درمیان دشمنی رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کر دی ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔صوابی پولیس کے ڈی ایس پی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی بچی اور جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو ٹوپی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کیے جا رہے ہیں تاکہ اس دہشت گردانہ حملے کے ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق اس واقعے کا تعلق ممکنہ طور پر دونوں فریقوں کے مابین ایک طویل عرصے سے چلتی آرہی دشمنی سے ہے، جو مختلف چھوٹے بڑے تنازعات کی شکل میں کئی مرتبہ سامنے آ چکی تھی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس میں ملزمان نے اپنی پرانی دشمنی کے بدلے فائرنگ کی۔صوابی کے اس علاقے میں اس طرح کے واقعات ایک سنجیدہ مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، خاص طور پر جب یہ دشمنیاں مسلسل بگڑتی جارہی ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی کے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور علاقے میں گشت کو بڑھایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    صوابی کے ضلعی انتظامیہ نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ ضلعی پولیس افسران نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کو یقین دلایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کو تیز کیا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔صوابی کے عوام نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے میں پرانی دشمنیاں اور تنازعات پہلے بھی دیکھنے کو ملے ہیں، لیکن اس نوعیت کی فائرنگ نے عوام میں خوف اور بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور پولیس اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کریں تاکہ ایسے المیے کی دوبارہ تکرار نہ ہو۔

  • بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اکٹھے بیٹھ کر مسائل کا حل نکلے گا،بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج اکٹھے بیٹھ کر ملکی معاملات حل کرنے کی ضرورت ہے،کیوں گولی چلی، کیوں مظاہرین آئے،؟کیونکہ آپ نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا ہوا ہے۔عمران خان نے بھی اپوزیشن کو دیوار سے لگایا۔میرے دور میں جو ہوا اس کا ذمہ دار ہوں۔دھرنا صحیح ہوا یا غلط لیکن گولی نہیں چلی۔کسی کو قتل نہیں کیا۔عمران خان کے دور میں ہم نے بھی مشکل وقت گزارا ،سیاست میں دشمنی اب خونی ہو گئی ہے صدر اور وزیراعظم کی ذمہ داری ہے ،تمام جماعتوں کو بیٹھ کر ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کرنا ہونگے.اسلام آباد میں پٹھانوں کوگرفتارکیاجارہا ہے، ملک میں قانون نام کی چیزنہیں، رات کی تاریکی میں 26ویں آئینی ترمیم کی گئی، یہ سمجھتے ہیں بندوق کےزورپرترقی کرینگے، یہ درست نہیں، ہم نہ حکومت میں نہ اپوزیشن میں ۔ہم ملک کی بات کر رہے ہیں، حکومت بات کرے، ہم اسکے ساتھ ہیں،جو ملک کی بات کرے ہم اس کے ساتھ ہیں۔یہ کسی ایک کے بس کی بات نہیں ہے،

    اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں اگر سسٹم ملنے دے۔ ن لیگ کاووٹ کوعزت دو کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، نوجوان مایوس ہوکرملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ میاں صاحب آٹھ فروری کویہ کہہ دیتے ہم الیکشن ہار گئے ہیں، آج ملک کی سیاست کچھ اور ہوتی، آج بھی فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں، جوملک کے حالات کو بہتر کرسکتے ہیں،جو پارلیمان ساری رات بیٹھ کر بغیر پڑھے ترمیم کردے اس سے کوئی امید نہیں۔مجھے کوئی امید نہیں، جو حکومت یہ کام کرے اس سے بھی مجھےکوئی امید نہیں ہے،ہماری سوچ یہ ہے کہ سب ایک جگہ بیٹھیں، بات ملک کی کریں، آگے بڑھنے کی بات کریں،ہم ہر ایک سے ملنے کو تیار ہیں،حکومت اپوزیشن جنگ میں مصروف ہیں،پورا ملک تماش بین ہے۔جن کو حکومت و اپوزیشن ہونا چاہئے وہ متحارب ہیں، یہ خرابی کو ہم نے دور کرنا ہے، کم از کم چھ آٹھ لوگ ایسے ہوں جو بات کر سکیں، دوری کو ختم کرنے کی کوشش کریں،مہنگائی بڑھ گئی ہے،سٹاک مارکیٹ کا اوپرجانا حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے، لوگ اپنا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں سٹاک خرید رہے ہیں،

    ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے،مفتاح اسماعیل
    دوسری جانب عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت کا کارنامہ یہی ہے کہ ہر چیز مہنگی کر دی گئی ہے،پاکستان میں 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، آج بھی ملک میں لاکھوں بچے بھوکے سوئیں گے، ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے، اس حکومت نے اپنا پورا سال ضائع کر دیا، حکومت نے ایک سال میں صرف اپنی کرسی مضبوط کی ہے،سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان میں ہے۔ڈیڑھ لاکھ سٹاک مارکیٹ میں کام کر رہے انکے لئے اچھی بات ہےلیکن اس سے عوام کو کیا فائدہ، عوام کے پاس تو بل بھرنے، راشن کے پیسے ہونے چاہئے، دوائی کے پیسے ہونے چاہئے، دس سال پہلے جو تین بچوں کی کفالت کرتا تھا کیا آج وہ کر سکتا ہے، اسٹاک مارکیٹ کا اوپر جانا اچھی بات ہے لیکن غربت کتنی ہے، معیشت کی بات کرتے ہوئے غریب عوام کو بھی دیکھنا چاہئے،لوگوں کی آمدن کم ہوئی، عوام غریب ہوئے، تنخواہیں کٹ رہی ہیں،کہیں ایک تنخواہ،کہیں آدھی دی جا رہی، حکومت نے صرف قانون سازی کر کے خود کو مضبوط کیا،عوام کے لئے کچھ نہیں کیا، صوبوں کو وزارتیں نہیں دیں، زراعت پر ٹیکس نہیں لگایا، اپنے خرچے کم نہیں کئے لیکن تنخواہ دار پر ٹیکس حکومت نے لگا دیا، حکومت اپنے ان کارناموں پر خوش ہے کہ زیادہ ٹیکس لے رہے ہیں مہنگی بجلی گیس بیچ رہے ہیں تو اس پر شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہیں.

  • کالے جادو سے سونا ڈبل کرنے کا دعویٰ ، خاتون دوسرے شوہر سمیت گرفتار

    کالے جادو سے سونا ڈبل کرنے کا دعویٰ ، خاتون دوسرے شوہر سمیت گرفتار

    بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک کاروباری شخص، غفور کا قتل ہوا، ایک سال کے بعد حالیہ تحقیقات میں ایک حقیقت سامنے آئی ہے کہ اس قتل کے پیچھے ایک جادوگری کے گروہ کا ہاتھ تھا، جس کا سربراہ ایک عورت شمیما تھی۔ اس گروہ نے غفور کو کالے جادوسے سونا دوگنا کرنے کا جھانسہ دے کر قتل کیا۔ یہ واردات اپریل 2023 میں کیرالہ کے قصارگوڑ علاقے میں ہوئی تھی۔

    پولیس کے مطابق، شمیما جو خود کو جِن کہتی تھی، نے اپنے گروہ کے ساتھ مل کر غفور کو اس کے خاندان کے سونے کی 4.768 کلو مقدار چرانے کے لیے قتل کیا۔ اس گروہ کا مقصد صرف سونا چرانا تھا، اور یہ لوگ لوگوں کو کالے جادو کے نام پر دھوکہ دیتے تھے۔ تحقیقات کے بعد پولیس نے اس قتل کی سازش کو 20 ماہ کے بعد بے نقاب کیا اور شمیما سمیت اس کے چار ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے شمیما کے علاوہ اس کے دوسرے شوہر ابیسے ٹی ایم، آسنفہ پی ایم اور عائشہ اے کو بھی گرفتار کیا ہے، جو سب کے سب ویڈیناگر کے رہائشی ہیں۔

    غفور اپنے خاندان کے ساتھ کیرالہ کے پچاکاڑ علاقے کا رہائشی تھا، 13 اپریل 2023 کو رمضان کے مہینے میں صبح 5:30 بجے اس کی موت واقع ہوئی۔ ان کی لاش اگلے دن گھر کے اندر ملی۔ ان کے اہل خانہ نے اسے قدرتی موت سمجھا اور دفن کر دیا۔غفور دبئی میں 4 سپر مارکیٹوں کا مالک تھا اور اس کے مالی معاملات میں کوئی مشکل نہیں تھی۔لیکن غفور کے اہل خانہ نے اس کے سونے کے بارے میں کچھ عجیب محسوس کیا کیونکہ غفور نے اپنی تمام تر فیملی سے سونا لیا تھا، اور پھر وہ سونا غائب تھا۔ جب اہل خانہ نے اس بارے میں تفتیش شروع کی تو ان کا شک شمیما پر گیا، جو ان کے گاؤں میں رہتی تھی اور غفور کی بیوی کی بیماری کے دوران علاج کے لیے آئی تھی۔

    پولیس تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ شمیما نے غفور کو سونے کو دوگنا کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور جادو کے ذریعے یہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ شمیما نےغفور کو اپنے خاندان کا سونا جمع کرنے کے لیے کہا اور پھر اس سونے کو واپس کرنے کا وعدہ کیا۔ غفور نے اپنا سونا شمیما کے حوالے کر دیا تھا، لیکن جب اس نے اپنا سونا واپس مانگا تو شمیما اور اس کے گروہ نے اسے قتل کر دیا۔13 اپریل کی رات شمیما اور اس کے گروہ نے غفور کے گھر آ کر کالے جادوکا عمل شروع کیا، مگر اسی دوران شمیما کے شوہر ابیسے نے غفور کا قتل کر دیا اور اس کی لاش کو گھر میں چھوڑ کر وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے۔

    پولیس کو تحقیقات کے دوران واٹس ایپ چیٹس ملی تھیں جن میں غفور نے شمیما کو 10 لاکھ روپے اور سونا دیا تھا۔ پولیس نے اس کی تفتیش مزید آگے بڑھائی اور دریافت کیا کہ شمیما اور اس کے گروہ نے غفور کا قتل کیا اور بعد میں سونا مختلف علاقوں میں بیچ دیا۔پولیس نے مزید تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم کیا کہ شمیما نے ایک کاغذی تعویذ بیچنے کا کاروبار بھی شروع کر رکھا تھا، جس کی قیمت 55,000 روپے تھی، اور لوگ اس سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ خود کو جادوگرنی سمجھتی تھی۔پولیس نے اس کے علاوہ ایک اور الزام بھی سامنے لایا کہ شمیما نے چٹانچل کے ایک شخص کے ساتھ کار خریدنے کے لیے فراڈ کیا تھا۔ اس شخص نے گاڑی کے قرض کی اقساط نہیں بھریں، مگر غفور کی موت کے بعد وہ تمام بقایا رقم ادا کر دی گئی۔

    گاؤں کے لوگ شمیما سے خوف زدہ تھے کیونکہ وہ خود کو جِن کی طاقت رکھنے والی بتاتی تھی، اور اس کا گروہ سیاہ جادو کے ذریعے لوگوں کو خوف میں مبتلا کرتا تھا۔ پولیس نے اس کے خلاف قتل اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔کیرالہ پولیس نے اس سنگین واردات کو حل کرنے کے بعد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

  • رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

    رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

    گوجرانوالہ: وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللّٰہ کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ وارنٹ گوجرانوالہ کی جوڈیشل مجسٹریٹ، سدرہ گل نواز کی عدالت سے جاری ہوئے، جنہوں نے رانا ثناء اللّٰہ کو 12 دسمبر تک گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    رانا ثناء اللّٰہ کے خلاف یہ مقدمہ گوجرانوالہ کے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔ یہ کیس 16 اکتوبر 2020 کو پی ڈی ایم کے جلسے کے دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہے۔ ایف آئی آر میں رانا ثناء اللّٰہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کنٹینر ہٹانے اور پولیس اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی۔مقدمے میں دیگر ملزمان، خرم دستگیر، عمران خالد اور سلمان خالد بٹ پہلے ہی بری ہو چکے ہیں، تاہم رانا ثناء اللّٰہ کے معاملے میں پولیس نے تاخیر سے چالان پیش کیا۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں رانا ثناء اللّٰہ کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا، لیکن عدالت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے انہیں طلب کیا تھا۔

    رانا ثناء اللّٰہ کی مسلسل غیر حاضری اور عدالتی طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر عدالت نے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ اب عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ رانا ثناء اللّٰہ کو 12 دسمبر تک گرفتار کر کے پیش کرے۔

  • چیمپئنز ٹرافی، آئی سی سی کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی

    چیمپئنز ٹرافی، آئی سی سی کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی

    آئی سی سی کا اجلاس جو کہ آج چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی اور شیڈول کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا، ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی سی سی کی جانب سے اس اجلاس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے پاکستان کے مطالبات کا جواب اپنی حکومت سے لے کر آئی سی سی کو فراہم نہیں کیا۔پاکستان کی جانب سے چند شرائط پیش کی گئی تھیں جو بھارتی کرکٹ بورڈ سے متعلق ہیں، اور یہ جواب آئی سی سی کو دینے کی ذمہ داری بی سی سی آئی پر تھی۔ لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے آئی سی سی کے اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا۔

    چیمپئنز ٹرافی سے متعلق یہ اجلاس پہلے بھی دو بار ملتوی ہو چکا ہے۔ اجلاس کے التوا کی بڑی وجہ پاکستان کے میزبانی کے حوالے سے سخت مؤقف اور بھارت کی جانب سے مسلسل ہٹ دھرمی رہی ہے۔ پاکستان نے آئی سی سی پر زور دیا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کا معاملہ جلد طے کیا جائے، تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ اس معاملے پر خاموش ہے۔

    اس سے قبل آئی سی سی اجلاس میں پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کے میچز کی میزبانی کا مطالبہ کیا تھا، مگر بھارت کی طرف سے اس پر کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس معاملے پر حکومت کی اجازت یا کسی قسم کا مؤقف سامنے نہ آنے کی وجہ سے اجلاس کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔

    یاد رہے کہ چیمپئنز ٹرافی ایک اہم کرکٹ ٹورنامنٹ ہے جو ہر چار سال بعد منعقد ہوتا ہے، اور اس میں دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ کی میزبانی پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے،آئی سی سی کے اجلاس کی مزید تاریخوں کے اعلان کا ابھی تک کوئی واضح عندیہ نہیں دیا گیا، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دونوں ممالک اس معاملے پر کسی متفقہ حل تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔

    چیمپئنر ٹرافی،آئی سی سی کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی

    چیمپئنز ٹرافی،پی سی بی ہائبرڈ ماڈل پر مشروط آمادگی

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ،معاملات مثبت سمت میں بڑھنے کا امکان

    چیمپئنز ٹرافی، بھارتی سیاستدان بھی پاکستان کے حق میں بول پڑے،مودی پر طنز

    چیمپئنز ٹرافی ،پاکستان نے اپنا مؤقف آئی سی سی کو بتا دیا

    چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے قوم کو مایوس نہیں کریں گے،محسن نقوی