Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ چین، زراعت کے فروغ کے لئے تاریخی اقدام

    وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ چین، زراعت کے فروغ کے لئے تاریخی اقدام

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے دورے چین کا پہلا روز،بیجنگ میں مصروفیت سے بھر پوردن کا آغازہو گیا

    کاشتکاروں اور زراعت کے فروغ کے لئے تاریخی اقدام،وزیر اعلٰی مریم نواز شریف کی کاوش رنگ لے آئی، چینی کمپنی پنجاب میں روبوٹک زرعی آلات مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی، محکمہ زراعت حکومت پنجاب اور اے آئی فورس ٹیک کے درمیان ایم او یو پر دستخط ، وزیر اعلیٰ مریم نواز بھی موجود تھیں،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب میں جدید روبوٹک زرعی مشینری مینوفیکچرنگ کیلئے تعاون کی یقین دہائی کروائی

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی اے آئی فور س ٹیک کے بانی ڈاکٹرہان اور سی ای او سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب میں جدید زرعی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے روبوٹک ٹیکنالوجی سے مزین جدید ترین زرعی آلات کا معائنہ کیا،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نےپنجاب میں ایگریکلچر سیکٹر میں روبوٹیک مشینری اور ٹولز متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ پنجاب میں زراعت کے جدید ٹیکنالوجی اپنا کر کاشتکار کو خوشحال بنانا ہمارا عزم ہے۔ اے آئی فور س ٹیک پنجاب میں روبوٹک زرعی آلات کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گا،وزیر اعلیٰ کی دعوت پر اے آئی فور س ٹیک کا وفد جلد پنجاب کا دورہ کرے گا

    واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی خصوصی دعوت پر گزشتہ روز چین پہنچ گئیں جہاں ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔مریم نواز بیجنگ ایئرپورٹ پہنچیں جہاں استقبال کیلیے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ہوائی اڈے پر گلدستہ پیش کیا گیا اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور ان کی اہلیہ نے بھی خیر مقدم کیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیمونسٹ پارٹی آف چائنا کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ سربراہ چینی وفد نے مریم نواز اور ان کے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی بلندی کی انتہاؤں کی طرف گامزن ہے، چین کے اشتراک سے پنجاب کو اقتصادی اور معاشی بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ مریم نواز چین کا دورہ کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون وزیر اعلیٰ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وفد میں مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری اور دیگر شامل ہیں۔

  • وزیرداخلہ   کی جامعہ اشر فیہ آمد، مولانا فضل رحیم اشرفی سے ملاقات

    وزیرداخلہ کی جامعہ اشر فیہ آمد، مولانا فضل رحیم اشرفی سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وفاق المدارس کے سرپرست اعلیٰ مولانا فضل رحیم اشرفی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وفاقی وزیرداخلہ نے مولانا فضل رحیم اشرفی کی خیریت دریافت کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران وفاقی وزیرداخلہ نے دینی مدارس کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر مولانا فضل رحیم اشرفی نے کہا کہ دینی مدارس کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیشہ مدارس کے مسائل کو مثبت انداز میں حل کرنے کی کوشش کی ہے، اور ہم بھی اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔مولانا فضل رحیم اشرفی نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب میں بھی وفاقی حکومت کی طرز پر مدارس کو محکمہ تعلیم کے تحت ہونا چاہیے تاکہ ان کے معاملات کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت دینی مدارس کے حوالے سے مثبت اقدامات کرے گی اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر مولانا فضل رحیم اشرفی نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کے لیے دعا کی اور ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا بھی کی گئی۔

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیس کی سماعت ہوئی

    چھبیسویں ترمیم کے فیصلے تک فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت موخر کرنے کی درخواست خارج کر دی گئی،سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو 20 ہزار روپے جرمانہ کر دیا،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے فیصلہ کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت روکنے کی درخواست خارج کردی ،دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جیلوں میں پڑے ہیں، اُن کا سوچیں،وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ 26 آئینی درخواستوں کا فیصلہ ہونے تک فوجی عدالتوں کا مقدمہ نہ سنا جائے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئینی بینچ کو تسلیم کرتے ہیں، جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میں عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پھر آپ کمرہ عدالت چھوڑ دیں، جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن نے نامزد کیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا 26 آئینی ترمیم کالعدم ہو چکی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کی طرف سے تاخیری حربے استعمال ہو رہے ہیں،ہر سماعت پر ایسی کوئی نہ کوئی درخواست آ جاتی ہے،اگر 26 ترمیم کالعدم ہوجائے تو عدالت فیصلوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے،

    عدالت نے حفیظ اللہ نیازی کو روسٹرم پر بلایا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے حفیظ اللہ نیازی سے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کیس چلانا چاہتے ہیں،حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میں یہ کیس چلانا چاہتا ہوں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کوئی پیارا زیرحراست نہیں اس لئے تاخیر چاہتے ہیں،اگر عدالت کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں کرتے تو یہاں سے چلے جائیں،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے درخواست خارج کی۔

    انسداد دہشتگردی عدالتوں نے ملزمان کی ملٹری کو حوالگی کیسے دی؟ جسٹس نعیم اختر افغان
    ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، آرمی ایکٹ فوج کے ساتھ کام کرنے والی کمپنیز ملازمین پر بھی لاگو ہے،یا تو پھر یہ شقیں بھی کالعدم کردیں پھر کہیں سویلین کا وہاں ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ وہ توسویلین کی الگ قسم ہوتی ہے ،خواجہ حارث نے کہا کہ جی بالکل، آرمی ایکٹ سویلین کی کیٹیگری کی بات ہی کرتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کا کیس آرمی ایکٹ کی اس شق میں نہیں آتا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کور کمانڈرز جب اپنےگھرکو بطور دفتر استعمال کریں تو کیا اسے دفتر ڈیکلئیر کرتے ہیں؟ یہ بات کتنی درست ہے کہ یہ آئیڈیا بعد میں آیا کور کمانڈر کا گھربھی دفتر تھا، خواجہ حارث نے کہا کہ میں ایسے کسی نوٹیفکیشن کی طرف نہیں جا رہا، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ یہ بتائیں انسداد دہشتگردی عدالتوں نے ملزمان کی ملٹری کو حوالگی کیسے دی؟ کیا اے ٹی سی کورٹس کا وجوہات پر مبنی کوئی آرڈر موجود ہے؟ آپ یہ سوال نوٹ کر لیں بیشک آخر میں اس کا جواب دیں، خواجہ حارث نے کہا کہ فوج اور سیویلنز میں فرق مصنوعی ہے،فوجی اہلکار بھی اتنے سویلنز ہیں جتنے عام شہری،

    فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کا مطلب فوجی عدالتوں کا اختیار تسلیم کرنا ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی
    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کا کیس کل تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے وفاقی فوجی عدالتوں کو مقدمات کا فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کر دی جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کا مطلب فوجی عدالتوں کا اختیار تسلیم کرنا ہوگا،حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میرا بیٹا ڈیڑھ سال سے فوجی تحویل میں ہے، طویل ترین ریمانڈ کیخلاف نہ ہائیکورٹ جا سکتا ہوں، نہ کسی اور عدالت، یا میرے بیٹے کو سزا سنانے دیں یا اُسے جیل بھیجنے کا حکم دے دیں، جسٹس امین الدین خان نے سرزنش کرتے ہوئے جیل میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ ہونے تک سماعت نہ کرنے کی درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ میں 9 مئی کی دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پی ٹی آئی کے سویلین ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کرنے کے خلاف مقدمہ کی سماعت مؤخر کرنے کے لیے ایک متفرق درخواست جمع کرائی گئی تھی،درخواست گزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے استدعا کی تھی کہ پہلے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ جاری کیا جائے۔

  • سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال کر دی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا،عادل بازئی نے رکنیت معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی رکنیت ختم کر دی تھی،عدالت نے حکم امتناع دیتے ہوئے عادل بازئی کو بطور ایم این اے بحال کر دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عادل بازئی آزاد امیدوار منتخب ہونے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے ،آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست خالی دینے کی درخواست دی تھی ،عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر نواز شریف نے سپیکر کو بھجوایا تھا،عادل بازئی نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے ایک ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اس ریفرنس کے تحت قومی اسمبلی نے عادل بازئی کی نشست خالی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔عادل بازئی نے آزاد حیثیت سے حلقہ این اے 262 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کی پالیسی کے تحت حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، انہوں نے حالیہ سیاسی حالات کے دوران پارٹی کی ہدایت کے خلاف 26 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی بجٹ کے بارے میں ووٹ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے ہی دو خطوط الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جس میں عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے شواہد پیش کیے گئے تھے۔

  • پاکستان کی پہلی کاربن مارکیٹ پالیسی، سبز پاکستان کی جانب ایک اہم قدم

    پاکستان کی پہلی کاربن مارکیٹ پالیسی، سبز پاکستان کی جانب ایک اہم قدم

    پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف عالمی سطح پر اپنے عزم کو مزید مستحکم کرتے ہوئے 29ویں کانفرنس آف پارٹیز (COP29) باکو میں اپنی پہلی کاربن مارکیٹ پالیسی کا آغاز کیا۔ اس پالیسی کا مقصد توانائی، زراعت اور جنگلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے تاکہ ماحول دوست ترقی کو ممکن بنایا جا سکے۔

    پاکستان کی نئی کاربن مارکیٹ پالیسی عالمی معیارات کے مطابق تیار کی گئی ہے جس کا مقصد ملک میں شفاف کاربن مارکیٹ کا قیام اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کی کوشش ہے کہ وہ توانائی، زراعت اور جنگلات کے شعبوں میں سبز سرمایہ کاری کو فروغ دے، تاکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ایس آئی ایف سی کی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان میں شفاف کاربن مارکیٹ فریم ورک کا قیام عمل میں آیا ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات کے مطابق ہے۔ یہ فریم ورک پاکستان کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گا جس سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی آئے گی بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی بھی مستحکم ہوگی۔

    کاربن مارکیٹس کاروباروں کو ماحول دوست ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ پاکستان کی کاربن مارکیٹ پالیسی کے ذریعے حکومت نے عالمی سطح پر سبز سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، جس سے ملک کے ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی میں ہم آہنگی پیدا ہو گی۔اس پالیسی کی بدولت، پاکستان میں کاروباروں کو ماحولیاتی خطرات کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے مخصوص اقدامات اٹھانے کی ترغیب ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان ایک اہم سنگ میل عبور کرے گا۔

    پاکستان کی کاربن مارکیٹ: عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک موقع
    پاکستان کی نئی کاربن مارکیٹ پالیسی عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہے۔ ایس آئی ایف سی اور حکومت پاکستان نے عالمی سرمایہ کاروں اور تنظیموں کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان کی کاربن مارکیٹ میں شراکت داری کریں اور ملک میں سبز سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں۔اس پالیسی کی کامیابی پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی کیونکہ اس سے نہ صرف موسمیاتی خطرات میں کمی آئے گی بلکہ اقتصادی ترقی کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔ ایس آئی ایف سی عالمی کاربن مارکیٹ میں ماحولیاتی خطرات کم کرنے اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، اور اس پالیسی کے ذریعے پاکستان اس میدان میں ایک قائدانہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔

    پاکستان کی پہلی کاربن مارکیٹ پالیسی ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملے گا بلکہ اقتصادی ترقی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ اس پالیسی کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں میں شریک ہو گا اور سبز پاکستان کی جانب قدم بڑھائے گا۔

  • نوجوان بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں.وزیراعظم

    نوجوان بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں.وزیراعظم

    نو دسمبر،انسداد کرپشن کا عالمی دن.وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ ہمارے نوجوان بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہماری نوجوان نسل ایک ایسے مستقبل کی مستحق ہے جو کرپشن سے پاک ہو.بدعنوانی عوامی خدمات کی فراہمی کوبری طرح متاثر کرتی ہے.بدعنوانی کی وجہ سے ترقی کیلئے دستیاب وسائل صحیح طور پر استعمال نہیں ہو پاتے.بدعنوانی کی وجہ سے معاشرے میں عدم مساوات عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے.بدعنوانی حکومتوں اور اس کے شہریوں کے درمیان عدم اعتماد کی ایک بڑی وجہ ہے.حکومت ہر سطح پر بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے.بدعنوانی کو بے نقاب کرنے میں میڈیا کا فعال کردار ہے.آئیے ایک ایسے مستقبل کیلئے کام کریں جہاں "احتساب سب کے لیے” بنیاد ہو،

  • ہمیشہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی ،پاکستان

    ہمیشہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی ،پاکستان

    پاکستان کے وزارت خارجہ نے شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان شام کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بغور مانیٹر کر رہا ہے اور اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    پاکستان کا اصولی موقف ہمیشہ شام کی یکجہتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حق میں رہا ہے، اور اس وقت بھی ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان شام میں امن و سکون کی بحالی کی حمایت کرتا ہے اور وہاں موجود پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔

    پاکستانی سفارت خانہ دمشق نے تصدیق کی ہے کہ شام میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کی حالت محفوظ ہے۔ تاہم، وزارت خارجہ نے ان تمام شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ کسی بھی غیر ضروری خطرے سے بچ سکیں۔ سفارت خانہ نے پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

    پاکستانی سفارت خانہ دمشق نے کہا ہے کہ وہ شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ تمام پاکستانیوں کے لیے مدد اور مشورہ فراہم کر رہا ہے۔ اگر کسی پاکستانی شہری کو کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو وہ فوری طور پر سفارت خانہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ فی الحال دمشق کا ہوائی اڈہ بند ہے، جس کی وجہ سے شام سے پاکستانی شہریوں کی واپسی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سفارت خانہ مسلسل مقامی حکام سے رابطے میں ہے اور جیسے ہی دمشق کا ہوائی اڈہ دوبارہ کھلے گا، پاکستانی شہریوں کی واپسی کے انتظامات کیے جائیں گے۔پاکستانی سفارت خانہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وہ شام میں پھنسے ہوئے پاکستانی زائرین سے رابطے میں ہے اور ان کی واپسی کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے۔ سفارت خانہ ان زائرین کی مکمل مدد فراہم کرے گا تاکہ وہ محفوظ طریقے سے پاکستان واپس آ سکیں۔

    پاکستانی شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ حالات کا بغور جائزہ لیں اور اپنے سفر کو موخر کر دیں، جب تک کہ شام کی صورتحال میں استحکام نہ آ جائے۔ وزارت خارجہ نے تمام پاکستانی شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر اپنے قریبی پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانہ سے رابطہ کریں۔وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور ان کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

    پاکستان کی حکومت نے ہمیشہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی ہے اور اس بحران کے دوران بھی شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جیسے ہی صورتحال میں بہتری آتی ہے، پاکستانی شہریوں کی واپسی کے انتظامات کیے جائیں گے۔

  • بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اتوار کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ہزاروں افراد نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی خوشی میں سڑکوں پر جمع ہو کر جشن منایا۔ اس دوران شہر میں مختلف مقامات پر نعرے بازی، دعائیں اور کبھی کبھار فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ اپوزیشن فورسز نے دارالحکومت دمشق میں داخل ہو کر حکومت کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد عوامی جوش و جذبے میں اضافہ ہو گیا۔

    شامی اپوزیشن کے جنگی مبصر رامی عبدالرحمن نے اطلاع دی کہ بشار الاسد نے اتوار کی صبح دمشق سے پرواز کر کے دارالحکومت چھوڑ دیا تھا۔ اس سے قبل، شام کی اپوزیشن فورسز نے اتوار کے دن تک شام کے تیسرے بڑے شہر حمص پر مکمل قبضہ کر لیا تھا۔ حکومت نے اس شہر کو چھوڑ دیا تھا، اور اپوزیشن نے شہر کی مرکزی عمارتوں اور علاقے کو کنٹرول کر لیا۔شام کے عوام اس صورتحال میں ایک نئی امید محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ وہ کئی سالوں سے بشار الاسد کے جابرانہ نظام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

    ایران، جو بشار الاسد کی حکومت کا ایک قریبی اتحادی رہا ہے، نے اس تبدیلی پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ صرف شامی عوام کو کرنا چاہیے، اور اس میں کسی بیرونی طاقت کی مداخلت کو مسترد کیا گیا۔ ایران نے اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شامی عوام کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے گولان ہائٹس کے علاقے میں ایک بفر زون پر قبضہ کر لیا ہے، جو 1974 میں شام کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو کے مطابق، جب شام کے فوجیوں نے اپنی پوزیشنیں چھوڑ دیں، تو اسرائیل نے گولان ہائٹس میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیل نے گولان ہائٹس پر 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور اسے اپنے علاقے کے طور پر تسلیم کر لیا تھا، تاہم عالمی برادری کے بیشتر ممالک اسے ابھی بھی شام کا مقبوضہ علاقہ سمجھتے ہیں۔

    لبنان نے شام کے ساتھ تمام زمینی سرحدوں کو بند کرنے کا اعلان کیا، سوائے ایک گذرگاہ کے جو بیروت کو دمشق سے جوڑتی ہے۔ اسی طرح اردن نے بھی شام کے ساتھ اپنی ایک سرحدی گذرگاہ کو بند کر دیا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے کے ممالک شام میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں سے محتاط ہیں اور وہ ان کی ممکنہ نتائج سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔

    لبنان کے مسناء سرحدی علاقے میں بھی شام جانے والے پناہ گزینوں میں جشن کا ماحول تھا۔ وہاں موجود کچھ لبنانی شہری شامیوں کو مبارکباد دینے کے لیے مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے۔ سامی عبداللطیف، جو حما سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ شام واپس جا رہے تھے، نے کہا کہ اگرچہ شام کا مستقبل ابھی بھی غیر یقینی ہے، لیکن ان کے لیے بشار الاسد کے تحت زندگی گزارنا ناممکن ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "کچھ بھی ہو، بشار سے بہتر ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر حالات میں کچھ انتشار ہو سکتا ہے، لیکن آخرکار سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔مالک مطر، جو دمشق واپس جانے والے ایک شہری ہیں، نے کہا: "ہم نے 14 سال تک آزادی کا انتظار کیا۔ اب جب حکومت ختم ہو چکی ہے، ہم نے آزادی محسوس کی ہے۔ ہم آزاد ہیں اور اپنے ملک کے لیے نیا آغاز کر سکتے ہیں۔”

    مصر میں بھی بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے پر مختلف جذبات سامنے آ رہے ہیں۔ بہت سے مصری شہریوں نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت نے طویل عرصے تک ظلم اور جبر کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ تاہم، کچھ افراد نے شام کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن گروہ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ملک میں ایک اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، جیسا کہ لیبیا، یمن اور سوڈان میں ہو چکا ہے۔

    یورپی یونین کے اعلیٰ ترین سفارتکار کاجا کالاس نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کیا اور اسے ایک "مثبت اور طویل عرصے سے منتظر پیش رفت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شام میں اسد کے حمایتی قوتوں کی طاقت کم ہو چکی ہے، خاص طور پر روس اور ایران کے ساتھ تعلقات میں کمزوری آئی ہے۔

    جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے بھی اس پیشرفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ضروری ہے کہ شام میں امن و امان قائم کیا جائے اور تمام فرقوں اور اقلیتی گروپوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم شام کے نئے حکام کا جائزہ لیں گے کہ وہ کیا اقدامات کرتے ہیں تاکہ تمام شامیوں کو وقار اور خودمختاری کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے۔”

    چین نے شام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امید کرتا ہے کہ شام میں جلد استحکام واپس آئے گا۔ چین نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے شہریوں کو شام سے نکالنے کے لیے مدد فراہم کر رہا ہے اور ان کے لیے محفوظ راستے فراہم کر رہا ہے۔

    شام میں اس وقت سیاسی تبدیلی کی لہریں چل رہی ہیں، جس کا اثر نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے پر پڑ رہا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ہر ایک کی طرف سے شام کے مستقبل کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے، شامی عوام کے لیے یہ ایک نیا آغاز ہو سکتا ہے، اور ان کا مستقبل اب ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

  • اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    کل دمشق کے قریب ایک سنسان منظر تھا، جس میں حیرت اور بے یقینی کا ایک عجیب سا احساس تھا۔ ایک دن پہلے تک، شام اور لبنان کی سرحد پر فوجی، گارڈز، اور شام کی خوفناک انٹیلی جنس سروسز "مخابرات” کے اہلکار گشت کر رہے تھے۔ لیکن اب وہ سب غائب تھے۔ اس شام، وہ سرحد خالی تھی، اور اس کے بجائے ایک گروہ جوان لڑکے "ڈیوٹی فری” سٹور کے باہر کھڑے تھے، ہنسی مذاق کر رہے تھے اور اس لمحے کو دل سے محسوس کر رہے تھے۔

    نیچے ایک ٹینک نظر آ رہا تھا جس کے ساتھ بشار الاسد کا پوسٹر پھٹا ہوا تھا، اور یہ واحد علامت تھی جو اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ شام کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ سڑک پر دمشق کی جانب جانے والی فضا خاموش اور تاریک تھی۔ باغی فورسز کی طرف سے ایک جنگ بندی کا اطلاق ہو چکا تھا، جس کے تحت شام کے مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ یہ لگتا تھا کہ زیادہ تر لوگ اس پر عمل کر رہے تھے۔ شہر کے اوپر نیلے آسمان میں ٹریسر فائر کی لکیریں نظر آ رہی تھیں اور گولیوں کی آوازیں جوش و خروش کے ساتھ گونج رہی تھیں۔ سڑکوں پر کسی بھی چیک پوائنٹس کا کوئی نشان نہیں تھا، لیکن دمشق کے مرکز میں، دو مسلح باغی اپنے علاقے کا گشت کر رہے تھے اور ایک بوڑھے شخص کے ساتھ تصویر بنوا رہے تھے۔

    اسی دوران ایک اور گروپ باغیوں کا آیا، جنہوں نے رہائشیوں سے پوچھا کہ وہ سڑکوں پر کیوں ہیں۔ باغی فورسز کے رہنما ابو محمد الجولانی کی جانب سے ایک سخت ہدایت دی گئی تھی کہ باغی فورسز قانون و انصاف قائم رکھیں اور شامی عوام، خاص طور پر اقلیتی فرقوں کو یہ یقین دلائیں کہ وہ انتقام یا بدلہ نہیں لینا چاہتے۔

    پچپن سالوں بعد، بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ شام کے لیے ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ اس بات کو کبھی حقیقت میں نہیں سمجھ پاتے تھے کہ یہ لمحہ کبھی آئے گا۔ ایک شخص نے بتایا، "ہم اب دنیا کے سب سے خوشحال ملک ہیں۔”

    دمشق میں کرفیو کی وجہ سے شہر میں خاموشی کا ماحول تھا، لیکن لبنان کی سرحد کے دوسری طرف، شامی عوام کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ لوگ جشن منا رہے تھے، آتشبازی کر رہے تھے، اور شامی بغاوت کا پرچم لہرا رہے تھے۔ ایک شخص نے بلند آواز میں کہا، "اس کا مطلب ہے کہ آخرکار آزادی آ گئی ہے!” اور پھر "اللہ اکبر!” (اللہ سب سے بڑا ہے) کا نعرہ بلند کیا۔

    یہ وقت شام کے تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ خوشی اور آزادی کا دور واقعی پائیدار ثابت ہو گا؟ باغیوں اور عوام کے لیے یہ لمحہ امید کا حامل ہے، لیکن شام میں جاری سیاسی، سماجی اور اقتصادی مشکلات اب بھی ایک سنگین چیلنج ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تبدیلی شام میں مستقل امن اور استحکام کی طرف لے جائے گی یا حالات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔

  • روس کا شام میں  فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    روسی سرکاری میڈیا نے اتوار کی رات ایک رپورٹ میں کہا کہ شامی باغیوں کے رہنماؤں نے شام میں روسی فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔ یہ دعویٰ ایک کریملن ذرائع کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ "روسی حکام شامی مسلح اپوزیشن کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، جن کے رہنماؤں نے شام میں روسی فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔” روسی خبررساں ادارے کے مطابق، اس ذرائع نے مزید کہا کہ روس کو امید ہے کہ "شام کے عوام کے مفاد میں سیاسی بات چیت کا تسلسل اور روس اور شام کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی ترقی ہوگی۔”

    شامی مسلح اپوزیشن کے حامیوں نے شام کے مغربی شہر جبلیہ پر قبضہ کر لیا ہے، جو روس کے حمیمیم ایئربیس کے قریب واقع ہے۔ روسی سرکاری میڈیا کے مطابق، عینی شاہدین نے بتایا کہ حمیمیم ایئربیس کے ارد گرد کی صورتحال پرسکون ہے اور باغیوں کے ساتھ کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔دریں اثنا، ماسکو میں شام کے سفارت خانے کی عمارت سے شامی حکومت کا پرچم اُتار لیا گیا اور سفارتی مشن کا نام درج کرنے والی تختی بھی ہٹا دی گئی ،یہ پیشرفت اس وقت ہوئی ہے جب شام میں روسی اور شامی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز اور باغیوں کے درمیان جنگ جاری ہے، اور روسی فوجی حمیمیم ایئربیس کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔